Back to Mishkat Al-Masabih

Fasting

كتاب الصوم

Chapter 7

Hadith 2016
sahih
وَعَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: كُنْتُمْ تَكْرَهُونَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا إِلَّا مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
Urdu

ثابت بنانی ؒ بیان کرتے ہیں ، انس بن مالک ؓ سے دریافت کیا گیا ، تم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں روزہ دار کے پچھنے لگانے کو نا پسند کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں ، صرف کمزوری کے پیش نظر ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 2017
sahih
وَعَنِ الْبُخَارِيِّ تَعْلِيقًا قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ تَرَكَهُ فَكَانَ يَحْتَجِمُ بِاللَّيْلِ
Urdu

امام بخاری ؒ سے معلق روایت ہے ، انہوں نے کہا : ابن عمر ؓ روزہ کی حالت میں پچھنے لگوایا کرتے تھے ، پھر اسے ترک کر دیا ، پھر آپ رات کے وقت پچھنے لگواتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 2018
sahih
وَعَن عَطاء قَالَ: إِن مضمض ثُمَّ أَفْرَغَ مَا فِي فِيهِ مِنَ الْمَاءِ لَا يضيره أَنْ يَزْدَرِدَ رِيقَهُ وَمَا بَقِيَ فِي فِيهِ وَلَا يَمْضُغُ الْعِلْكَ فَإِنِ ازْدَرَدَ رِيقَ الْعِلْكَ لَا أَقُولُ: إِنَّهُ يُفْطِرُ وَلَكِنْ يُنْهَى عَنْهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ بَابٍ
Urdu

عطا ؒ بیان کرتے ہیں ، اگر کلی کرے ، پھر منہ کے پانی کو گرا دے تو پھر اگر وہ اپنا تھوک اور جو پانی اس کے منہ میں باقی رہ گیا تھا نگل لے تو اس کے لیے مضر نہیں ، البتہ وہ گوند نہ چبائے ، اگر وہ گوند کا لعاب نگل لے تو میں نہیں کہتا کہ وہ روزہ توڑ لے گا ، لیکن اسے اس سے روکا جائے گا ۔ امام بخاری نے اسے ترجمعہ الباب میں روایت کیا ہے ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 2019
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصُومُ فِي السَّفَرِ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ. فَقَالَ: «إِنْ شِئْتَ فَصم وَإِن شِئْت فَأفْطر»
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ بہت زیادہ روزے رکھا کرتے تھے ، انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا : کیا میں دوران سفر روزہ رکھ لیا کروں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم چاہو تو روزہ رکھو اور اگر تم چاہو تو نہ رکھو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2020
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسِتَّ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے سولہ رمضان کو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں جہاد کیا ، ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا ، روزہ دار نے روزہ نہ رکھنے والے کو معیوب سمجھا نہ افطار کرنے والے نے روزہ دار کو معیوب سمجھا ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 2021
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالُوا: صَائِمٌ. فَقَالَ: «لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ»
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر میں تھے کہ آپ نے ہجوم اور ایک آدمی دیکھا جس پر سایہ کیا ہوا ہے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے کیا ہوا ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : روزہ دار ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2022
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فِي وم حَارٍّ فَسَقَطَ الصَّوَّامُونَ وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ فَضَرَبُوا الْأَبْنِيَةَ وَسَقَوُا الرِّكَابَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ»
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ شریک سفر تھے ، ہم میں سے کچھ روزے سے تھے اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا ، ایک سخت گرم دن میں ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو روزہ دار تو (نڈھال ہو کر) گر پڑے ، جبکہ جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے خیمے لگائے اور سواریوں کو پانی پلایا ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آج روزہ نہ رکھنے والے اجر لے گئے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2023
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ لِيَرَاهُ النَّاسُ فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ. فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ. فَمن شَاءَ صَامَ وَمن شَاءَ أفطر
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ نے روزہ رکھا ، حتیٰ کہ آپ مقام عسفان پر پہنچے تو آپ نے پانی منگایا اور اسے ہاتھ سے بلند کیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں ، پس آپ نے روزہ افطار کر لیا حتیٰ کہ آپ مکہ پہنچ گئے اور یہ رمضان کا واقعہ ہے ، ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (دوران سفر) روزہ رکھا بھی ہے اور افطار بھی کیا ہے ، جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 2024
sahih
وَفِي رِوَايَة لمُسلم عَن جَابر رَضِي الله عَنهُ أَنه شرب بعد الْعَصْر
Urdu

صحیح مسلم میں جابر ؓ سے مروی روایت میں ہے کہ آپ نے عصر کے بعد (پانی) پیا ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 2025
sahih
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْكَعْبِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمَ عَنِ الْمُسَافِرِ وَعَنِ الْمُرْضِعِ وَالْحُبْلَى» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
Urdu

انس بن مالک کعبی ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے مسافر سے نصف نماز ساقط فرما دی جبکہ مسافر ، دودھ پلانے والی اور حاملہ خاتون سے روزہ ساقط فرما دیا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔

Hadith 2026
sahih
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ حَمُولَةٌ تَأْوِي إِلَى شِبْعٍ فَلْيَصُمْ رَمَضَانَ من حَيْثُ أدْركهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

سلمہ بن محبق ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس سواری ہو جو شکم سیری کے مقام پر اسے پہنچا دے وہ روزے رکھے جہاں بھی وہ رمضان کو پا لے ۔‘‘ ضعیف

Hadith 2027
sahih
عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَرَفَعَهُ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ. فَقَالَ: «أُولَئِكَ الْعُصَاةُ أُولَئِكَ الْعُصَاةُ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ نے روزہ رکھا ، حتیٰ کہ آپ مقام کراع الغمیم پر پہنچے ، صحابہ کرام ؓ نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا ، پھر آپ نے پانی کا پیالہ منگوایا ، اسے بلند کیا حتیٰ کہ صحابہ کرام نے اسے دیکھ لیا ، پھر آپ نے اسے نوش فرمایا ، اس کے بعد آپ کو بتایا گیا کہ بعض لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے (ابھی تک افطار نہیں کیا) تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ نافرمان ہیں ، وہ نافرمان ہیں ۔ ‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2028
sahih
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَائِمُ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
Urdu

عبدالرحمن بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دوران سفر رمضان کا روزہ رکھنے والا ، حالتِ قیام میں روزہ نہ رکھنے والے کی طرح ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 2029
sahih
وَعَن حَمْزَة بن عَمْرو السّلمِيّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟ قَالَ: «هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں دوران سفر روزہ رکھنے کی قوت رکھتا ہوں ، تو کیا (دوران سفر روزہ رکھنے پر) مجھے گناہ ہو گا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ اللہ عزوجل کی طرف سے ایک رخصت ہے ، جس نے اسے لے لیا تو اس نے اچھا کیا اور جو شخص روزہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2030
sahih
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ. قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: تَعْنِي الشّغل من النَّبِي أَو بِالنَّبِيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، مجھ پر رمضان کے روزے ہوتے تو میں صرف شعبان میں ان کی قضا دے سکتی تھی ۔ یحیی بن سعید بیان کرتے ہیں ، ان کی مراد یہ ہے کہ (قضا میں تاخیر) نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مشغولیت کی وجہ سے تھی ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 2031
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَصُومَ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَلَا تَأْذَنَ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کسی عورت کے لیے ، اپنے خاوند کے پاس ہوتے ہوئے اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں ، اور وہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو اس کے گھر میں آنے کی اجازت نہ دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2032
sahih
وَعَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ لِعَائِشَةَ: مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
Urdu

معاذہ عدویہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عائشہ ؓ سے عرض کیا : حائضہ کا کیا معاملہ ہے کہ وہ روزہ کی قضا دیتی ہے اور نماز کی قضا نہیں دیتی ؟ عائشہ ؓ نے فرمایا : ہم بھی اس سے دوچار ہوتی تھیں تو ہمیں روزے کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا جبکہ نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 2033
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صَوْمٌ صَامَ عَنْهُ وليه»
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کا وارث روزے رکھے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2034
sahih
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: وَالصَّحِيحُ أَنه مَوْقُوف على ابْن عمر
Urdu

نافع ؒ ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ ماہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : درست بات یہ ہے کہ یہ عبداللہ بن عمر ؓ پر موقوف ہے ۔ ضعیف ۔

Hadith 2035
sahih
عَنْ مَالِكٍ بَلَغَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُسْأَلُ: هَلْ يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ أَوْ يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ؟ فَيَقُولُ: لَا يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ. وَلَا يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أحد. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ
Urdu

امام مالک ؒ فرماتے ہیں ، انہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ابن عمر ؓ سے مسئلہ دریافت کیا گیا تھا ، کیا کوئی شخص کسی دوسرے کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے یا کوئی کسی دوسرے شخص کی طرف سے نماز پڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا :’’ کوئی کسی کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے نہ کوئی کسی کی طرف سے نماز پڑھ سکتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔