ثابت بنانی ؒ بیان کرتے ہیں ، انس بن مالک ؓ سے دریافت کیا گیا ، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں روزہ دار کے پچھنے لگانے کو نا پسند کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں ، صرف کمزوری کے پیش نظر ۔ رواہ البخاری ۔
امام بخاری ؒ سے معلق روایت ہے ، انہوں نے کہا : ابن عمر ؓ روزہ کی حالت میں پچھنے لگوایا کرتے تھے ، پھر اسے ترک کر دیا ، پھر آپ رات کے وقت پچھنے لگواتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
عطا ؒ بیان کرتے ہیں ، اگر کلی کرے ، پھر منہ کے پانی کو گرا دے تو پھر اگر وہ اپنا تھوک اور جو پانی اس کے منہ میں باقی رہ گیا تھا نگل لے تو اس کے لیے مضر نہیں ، البتہ وہ گوند نہ چبائے ، اگر وہ گوند کا لعاب نگل لے تو میں نہیں کہتا کہ وہ روزہ توڑ لے گا ، لیکن اسے اس سے روکا جائے گا ۔ امام بخاری نے اسے ترجمعہ الباب میں روایت کیا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ بہت زیادہ روزے رکھا کرتے تھے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا : کیا میں دوران سفر روزہ رکھ لیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم چاہو تو روزہ رکھو اور اگر تم چاہو تو نہ رکھو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے سولہ رمضان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں جہاد کیا ، ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا ، روزہ دار نے روزہ نہ رکھنے والے کو معیوب سمجھا نہ افطار کرنے والے نے روزہ دار کو معیوب سمجھا ۔ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں تھے کہ آپ نے ہجوم اور ایک آدمی دیکھا جس پر سایہ کیا ہوا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے کیا ہوا ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : روزہ دار ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک سفر تھے ، ہم میں سے کچھ روزے سے تھے اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا ، ایک سخت گرم دن میں ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو روزہ دار تو (نڈھال ہو کر) گر پڑے ، جبکہ جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے خیمے لگائے اور سواریوں کو پانی پلایا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آج روزہ نہ رکھنے والے اجر لے گئے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ نے روزہ رکھا ، حتیٰ کہ آپ مقام عسفان پر پہنچے تو آپ نے پانی منگایا اور اسے ہاتھ سے بلند کیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں ، پس آپ نے روزہ افطار کر لیا حتیٰ کہ آپ مکہ پہنچ گئے اور یہ رمضان کا واقعہ ہے ، ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوران سفر) روزہ رکھا بھی ہے اور افطار بھی کیا ہے ، جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے ۔ متفق علیہ ۔
صحیح مسلم میں جابر ؓ سے مروی روایت میں ہے کہ آپ نے عصر کے بعد (پانی) پیا ۔ رواہ مسلم ۔
انس بن مالک کعبی ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے مسافر سے نصف نماز ساقط فرما دی جبکہ مسافر ، دودھ پلانے والی اور حاملہ خاتون سے روزہ ساقط فرما دیا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
سلمہ بن محبق ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس سواری ہو جو شکم سیری کے مقام پر اسے پہنچا دے وہ روزے رکھے جہاں بھی وہ رمضان کو پا لے ۔‘‘ ضعیف
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ نے روزہ رکھا ، حتیٰ کہ آپ مقام کراع الغمیم پر پہنچے ، صحابہ کرام ؓ نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا ، پھر آپ نے پانی کا پیالہ منگوایا ، اسے بلند کیا حتیٰ کہ صحابہ کرام نے اسے دیکھ لیا ، پھر آپ نے اسے نوش فرمایا ، اس کے بعد آپ کو بتایا گیا کہ بعض لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے (ابھی تک افطار نہیں کیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ نافرمان ہیں ، وہ نافرمان ہیں ۔ ‘‘ رواہ مسلم ۔
عبدالرحمن بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دوران سفر رمضان کا روزہ رکھنے والا ، حالتِ قیام میں روزہ نہ رکھنے والے کی طرح ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں دوران سفر روزہ رکھنے کی قوت رکھتا ہوں ، تو کیا (دوران سفر روزہ رکھنے پر) مجھے گناہ ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ اللہ عزوجل کی طرف سے ایک رخصت ہے ، جس نے اسے لے لیا تو اس نے اچھا کیا اور جو شخص روزہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، مجھ پر رمضان کے روزے ہوتے تو میں صرف شعبان میں ان کی قضا دے سکتی تھی ۔ یحیی بن سعید بیان کرتے ہیں ، ان کی مراد یہ ہے کہ (قضا میں تاخیر) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مشغولیت کی وجہ سے تھی ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کسی عورت کے لیے ، اپنے خاوند کے پاس ہوتے ہوئے اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں ، اور وہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو اس کے گھر میں آنے کی اجازت نہ دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
معاذہ عدویہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عائشہ ؓ سے عرض کیا : حائضہ کا کیا معاملہ ہے کہ وہ روزہ کی قضا دیتی ہے اور نماز کی قضا نہیں دیتی ؟ عائشہ ؓ نے فرمایا : ہم بھی اس سے دوچار ہوتی تھیں تو ہمیں روزے کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا جبکہ نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کا وارث روزے رکھے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
نافع ؒ ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ ماہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : درست بات یہ ہے کہ یہ عبداللہ بن عمر ؓ پر موقوف ہے ۔ ضعیف ۔
امام مالک ؒ فرماتے ہیں ، انہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ابن عمر ؓ سے مسئلہ دریافت کیا گیا تھا ، کیا کوئی شخص کسی دوسرے کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے یا کوئی کسی دوسرے شخص کی طرف سے نماز پڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا :’’ کوئی کسی کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے نہ کوئی کسی کی طرف سے نماز پڑھ سکتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔