انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب شب قدر ہوتی ہے تو جبریل ؑ فرشتوں کی جماعت میں تشریف لاتے ہیں تو وہ اللہ عزوجل کے ذکر میں مصروف ہر کھڑے بیٹھے شخص پر رحمت بھیجتے ہیں ، جب ان کی عید کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے اپنے فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے : میرے فرشتو ! اس مزدور کی کیا جزا ہونی چاہیے جو اپنا کام پورا کرتا ہے ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، پروردگار ! اس کی جزا یہ ہے کہ اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے فرشتو ! میرے بندوں اور میری لونڈیوں نے میری طرف سے ان پر عائد فریضے کو پورا کر دیا پھر وہ دعائیں پکارتے ہوئے نکلے ہیں ، مجھے میری عزت و جلال ، میرے کرم و علو اور اپنے بلند مقام کی قسم ! میں ان کی دعائیں قبول کروں گا ، وہ فرماتا ہے : واپس چلے جاؤ ، میں نے تمہیں بخش دیا اور تمہاری خطاؤں کو نیکیوں میں بدل دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ اس حال میں واپس آتے ہیں کہ ان کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ۔‘‘ اسنادہ موضوع ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ نے انہیں فوت کر لیا ، پھر آپ کی وفات کے بعد ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیر و بھلائی میں سب سے زیادہ سخی تھے ، اور جب رمضان میں جبریل ؑ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت بڑھ جاتی ، وہ رمضان کی ہر رات آپ سے ملاقات کرتے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں قرآن سنایا کرتے تھے ، جب جبریل آپ سے ملاقات کرتے تو آپ خیر و بھلائی اور سخاوت کرنے میں کھلی ہوا (تیز رفتار آندھی) سے بھی بڑھ کر ہوتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر سال ایک مرتبہ قرآن سنایا جاتا تھا ، اور جس سال آپ کی جان قبض کی گئی اس سال دو مرتبہ سنایا گیا ، اور آپ ہر سال دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے لیکن جس سال آپ کی جان قبض کی گئی اس سال آپ نے بیس روز اعتکاف فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف فرمایا کرتے تو آپ اپنا سر مبارک میرے قریب کر دیتے جبکہ آپ مسجد میں ہوتے تھے ، میں آپ کے کنگھی کر دیتی اور آپ صرف انسانی حاجت کے تحت ہی گھر میں تشریف لایا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا ، میں نے دور جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کروں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنی نذر پوری کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے آخری دس دن میں اعتکاف کیا کرتے تھے ، لیکن آپ نے ایک سال اعتکاف نہ کیا تو پھر آئندہ سال آپ نے بیس روز کا اعتکاف کیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Hadith 2103
sahih
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي بن كَعْب
Urdu
امام ابوداؤد اور ابن ماجہ نے اسے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف کرنے کا ارادہ فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر ادا کرتے اور پھر اپنے اعتکاف کی جگہ میں تشریف لے جاتے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالت اعتکاف میں مریض کی عیادت کر لیا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے حال میں چلتے جاتے اور رکے بغیر اس کا حال دریافت کر لیتے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، اعتکاف کرنے والے کے لیے مسنون یہی ہے کہ وہ کسی مریض کی عیادت کرے نہ جنازے میں شرکت کرے ، عورت سے جماع کرے نہ اسے گلے لگائے اور کسی بہت ہی ضروری کام کے علاوہ اعتکاف کی جگہ سے باہر نہ نکلے نیز روزے کے بغیر اعتکاف ہے نہ جامع مسجد کے بغیر ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
عبداللہ بن عمر ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ اعتکاف فرماتے تو توبہ کے ستون کے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بستر بچھا دیا جاتا یا چار پائی لگا دی جاتی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعتکاف کرنے والے کے بارے میں فرمایا :’’ وہ گناہوں سے رکا رہتا ہے اور تمام نیکیاں کرنے والے کی طرح اسے نیکیوں کا ثواب ملتا رہتاہے ۔‘‘ (جن کو وہ پہلے کای کرتا تھا ) اسنادہ ضعیف ۔