ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پیر اور جمعرات کے روز اعمال پیش کیے جاتے ہیں ، لہذا میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں پیش کیا جائے کہ میں روزے سے ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے ابوذر ! جب تم مہینے میں تین روزے رکھو تو تیرہ ، چودہ ، اور پندرہ کا روزہ رکھو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ماہ کے شروع میں تین روزے رکھا کرتے تھے اور آپ کم ہی جمعہ کے دن روزہ چھوڑا کرتے تھے ۔ ترمذی ، نسائی اور ابوداؤد نے تین دن تک روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی و ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی ماہ ہفتہ ، اتوار اور پیر کا روزہ رکھتے تو دوسرے ماہ منگل ، بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے حکم فرمایا کرتے تھے کہ میں ہر ماہ تین روزے رکھوں ، ان کی ابتدا پیر سے ہو یا جمعرات سے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
مسلم قرشی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا یا آپ سے ہمیشہ روزہ رکھنے کے متعلق مسئلہ دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک تیرے گھر والوں کا تجھ پر حق ہے ، رمضان اور اس کے ساتھ والے ماہ اور ہر بدھ ، جمعرات کا روزہ رکھا کر ، (اگر تم نے ایسے کر لیا) تو تم نے (حکماً) زمانہ بھر کے روزے رکھے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ (نو ذوالحجہ) کے دن میدان عرفات میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن بسر اپنی بہن صماء سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھو الا ّ یہ کہ اس روز اور کوئی ایسا روزہ آ جائے جو تم پر فرض کیا گیا ہے ، اگر تم میں سے کوئی انگور کا چھلکا یا کسی درخت کی لکڑی کے ماسوا کچھ نہ پائے تو اسے ہی چبا لے ۔‘‘ (تاکہ صرف ہفتہ کا روزہ ثابت نہ ہو) ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص راہ جہاد میں ایک روزہ رکھتا ہے تو اللہ اس کے اور جہنم کے مابین زمین و آسمان کی مسافت جتنی ایک خندق بنا دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عامر بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سردی میں روزہ ٹھنڈی غنیمت ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث مرسل ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو یوم عاشورا کا روزہ رکھتے ہوئے پایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ے ان سے دریافت کیا :’’ یہ کون سا دن ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، یہ ایک عظیم دن ہے ، اللہ نے اس روز موسی ٰ ؑ اور ان کی قوم کو نجات دی جبکہ فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا تو موسی ٰ ؑ نے شکر کے طور پر اس دن کا روزہ رکھا تو ہم بھی اس روز کا روزہ رکھتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہم تمہاری نسبت موسی ٰ ؑ کے زیادہ حق دار ہیں ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس روز کا روزہ رکھا اور اس کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ تر ہفتہ اور اتوار کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ یہ دونوں مشرکین کے ایام عید ہیں ، لہذا میں ان کی مخالفت کرنا پسند کرتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن لذاۃ ، رواہ احمد ۔
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوم عاشورا کا روزہ رکھنے کا ہمیں حکم فرمایا کرتے تھے ، اس کی ہمیں ترغیب دیا کرتے تھے اور اس کے متعلق ہمیں نصیحت فرمایا کرتے تھے ، جب رمضان فرض کیا گیا تو آپ نے اس کے متعلق ہمیں حکم فرمایا نہ منع کیا اور نہ ہی ہمیں اس کے متعلق نصیحت فرمائی ۔ رواہ مسلم ۔
حفصہ ؓ بیان کرتی ہیں ، چار امور ہیں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ترک نہیں کیا کرتے تھے : یوم عاشورا کا روزہ ، ذوالحجہ کے دس روزے ، ہر ماہ تین روزے اور فجر سے پہلے دو رکعتیں ۔ سندہ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضر و سفر میں ایام بیض (تیرہ ، چودہ اور پندرہ تاریخ) کا روزہ نہیں چھوڑتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے ، آپ سے عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! آپ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک پیر اور جمعرات کے روز اللہ باہم قطع تعلق کرنے والے دو آدمیوں کے سوا ہر مسلمان کو بخش دیتا ہے اور وہ فرماتا ہے : ان دونوں کو چھوڑ دو حتیٰ کہ وہ دونوں صلح کر لیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر ایک روزہ رکھتا ہے تو اللہ اسے جہنم سے اس قدر دور فرما دیتا ہے جیسے ایک اڑنے والا کوا بچپن کی عمر سے اڑنا شروع کرے اور بوڑھا ہونے تک اڑتا رہے حتیٰ کہ وہ فوت ہو جائے ۔‘‘ (وہ ساری زندگی میں جتنا فاصلہ طے کرتا ہے اللہ اس شخص کو اتنی مسافت جہنم سے دور کر دیتا ہے) ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Hadith 2075
sahih
وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنْ سَلَمَةَ بن قيس
Urdu
امام بیہقی نے اسے سلمہ بن قیس سے شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔