عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو کسی لشکر کا امیر بنا کر بھیجا ، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتا تو قراءت کے آخر میں سورۂ اخلاص پڑھتا ، جب وہ واپس آئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا :’’ اس سے پوچھو کے وہ ایسے کیوں کرتا تھا ؟‘‘ انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا : کیونکہ وہ رحمان کی صفت ہے ، اور میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے بتا دو کہ اللہ اسے پسند فرماتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں سورۂ اخلاص سے محبت کرتا ہوں ، آپ نے فرمایا :’’ بے شک تمہاری اس سے محبت ہی تمہیں جنت میں لے جائے گی ۔‘‘ ترمذی ۔ اور امام بخاری نے اس کا مفہوم بیان کیا ہے ۔ رواہ البخاری و الترمذی ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آج رات ایسی آیات نازل ہوئیں کہ ان جیسی پہلے نہیں دیکھی گئیں ، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بستر پر آرام کرتے تو آپ ہر رات اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے کرتے ، پھر سورۂ اخلاص ، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھ کر ہاتھوں پر پھونک مارتے ، پھر جہاں تک ممکن ہوتا انہیں اپنے جسم پر پھیرتے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سر ، چہرے اور اپنے جسم کے اگلے حصے پر ہاتھ پھیرتے اور آپ تین مرتبہ ایسا کرتے ۔ متفق علیہ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معراج سے متعلق ابن مسعود ؓ سے مروی حدیث ، ہم ان شاء اللہ تعالیٰ باب المعراج میں ذکر کریں گے ۔
عبدالرحمن بن عوف ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تین چیزیں روز قیامت عرش کے نیچے ہوں گی ، قرآن بندوں کی طرف سے جھگڑا کرے گا ، اس کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ، اور امانت بھی ، جبکہ رحم آواز دے گا ، سن لو ! جس نے مجھے ملایا ، اللہ اسے ملائے اور جس نے مجھے قطع کیا اللہ اسے قطع کرے ۔‘‘ امام بغوی ؒ نے اسے شرح السنہ میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حامل و عاملِ قرآن سے کہا جائے گا : پڑھتا جا اور چڑھتا جا ، اور ویسے ترتیل سے پڑھ جیسے تو دنیا میں ترتیل کے ساتھ پڑھا کرتا تھا ، اور تو جہاں آخری آیت پڑھے گا وہیں تیری منزل ہو گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کے پیٹ (دل) میں قرآن کا کچھ حصہ نہ ہو وہ بے آباد گھر کی طرح ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ رب تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : قرآن نے جس شخص کو میرے ذکر اور مجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھا ہو میں اسے اس سے بہتر عطا کرتا ہوں جو سوال کرنے والوں کو دیا جاتا ہے ، اور اللہ کے کلام کو دیگر کلاموں پر ایسے ہی برتری حاصل ہے جیسے اللہ کو اپنی مخلوق پر برتری حاصل ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ، بیہقی فی شعب الایمان ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قرآن کریم کا ایک حرف پڑھتا ہے تو اسے اس کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے ، اور نیکی دس گنا بڑھ جاتی ہے ، میں نہیں کہتا کہ (الم) ایک حرف ہے ، بلکہ الف ایک حرف ہے ، لام ایک حرف ہے ، میم ایک حرف ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ سند کے لحاظ سے غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
حارث اعور ؒ بیان کرتے ہیں ، میں مسجد سے گزرا تو لوگ باتوں میں مشغول تھے ، میں علی ؓ کے پاس گیا اور انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایا : کیا انہوں نے ایسے کیا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ، انہوں نے فرمایا : سن لو ! بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سن لو ! عنقریب فتنے پیدا ہوں گے ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ان سے بچنے کا کیا طریقہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی کتاب ، اس میں سابقہ قوموں کے احوال اور مستقبل کے اخبار اور تمہارے مسائل کا حل ہے ، وہ فیصلہ کن ہے ، بے فائدہ نہیں ، جس نے ازراہ تکبر اسے ترک کر دیا ، اللہ نے اسے ہلاک کر ڈالا ، جس نے اس کے علاوہ کسی اور چیز سے ہدایت تلاش کرنے کی کوشش کی تو اللہ نے اسے گمراہ کر دیا ، وہ اللہ کی مضبوط رسی (یعنی وسیلہ) ہے ، وہ ذکر حکیم اور صراط مستقیم ہے ، اس کی وجہ سے خواہیش ٹیڑھی ہوتی ہیں نہ زبانیں اختلاط و التباس کا شکار ہوتی ہیں اور نہ علما اس سے سیر ہوتے ہیں ، کثرت تکرار سے وہ پرانی ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے عجائب ختم ہوتے ہیں ، وہ ایسی کتاب ہے کہ جسے سن کر جن بے ساختہ پکار اٹھے کہ ’’ہم نے عجب قرآن سنا ہے جو رشد و بھلائی کی طرف راہنمائی کرتی ہے لہذا ہم اس پر ایمان لے آئے ۔‘‘ جس نے اس کے حوالے سے کہا ، اس نے سچ کہا ، جس نے اس کے مطابق عمل کیا وہ اجر پا گیا ، جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے عدل کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا وہ صراط مستقیم کی طرف ہدایت پا گیا ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : اس حدیث کی سند مجہول ہے اور حارث پر کلام کیا گیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
معاذ جہنی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے قرآن پڑھا اور اس کے مطابق عمل کیا تو روز قیامت اس کے والدین کو ایک تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی تمہارے دنیا کے گھروں میں چمکنے والے سورج کی روشنی سے زیادہ اچھی ہو گی ، تمہارا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے اس کے مطابق عمل کیا ہو ! ‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اگر قرآن کو چمڑے میں رکھ کر آگ میں ڈال دیا جائے تو وہ جلے گا نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس نے قرآن پڑھا ، اسے یاد کیا اور اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام جانا تو اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کے اہل خانہ کے ان دس افراد کے بارے میں اس کی سفارش قبول فرمائے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی تھی ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور حفص بن سلیمان راوی قوی نہیں ، وہ حدیث میں ضعیف سمجھا جاتا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا :’’ تم نماز میں کیسے قراءت کرتے ہو ؟‘‘ انہوں نے سورۂ فاتحہ پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اس جیسی سورت تورات و انجیل میں اتری ہے نہ زبور و قرآن (یعنی باقی قرآن) میں ، وہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔‘‘ ترمذی اور امام دارمی نے ((ماانزلت)) کے الفاظ سے حدیث بیان کی ہے اور انہوں نے ابی بن کعب کا ذکر نہیں کیا ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قرآن سیکھو اور اسے پڑھو ، کیونکہ قرآن سیکھنے والا ، اسے پڑھنے اور اس کا اہتمام کرنے والا کستوری سے بھری ہوئی تھیلی کی مانند ہے جس کی خوشبو ہر جگہ پھیل جاتی ہے ، اور جس نے اسے سیکھا لیکن سویا رہا حالانکہ وہ حافظ ہے تو وہ کستوری کی بند تھیلی کی طرح ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص سورۂ مومن کی پہلی آیات (الیہ المصیر) تک اور آیۃ الکرسی صبح کے وقت پڑھتا ہے تو وہ ان کے سبب شام تک محفوظ رہے گا ۔ اور جو شخص شام کے وقت انہیں پڑھے گا تو وہ ان کی وجہ سے صبح ہونے تک محفوظ رہے گا ۔‘‘ ترمذی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی ، اس سے دو آیتیں اتار کر سورۂ بقرہ کو مکمل کیا گیا ، اور جس گھر میں انہیں تین رات پڑھا جائے تو شیطان اس (گھر) کے قریب نہیں آتا ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص سورۂ کہف کی پہلی تین آیتیں پڑھتا ہے وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ضعیف ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر چیز کا دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورۂ یٰسین ہے ، جو شخص ایک مرتبہ سورۂ یٰسین پڑھتا ہے تو اس کی قراءت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس مرتبہ قرآن پڑھنے کا ثواب لکھ دیتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے ہزار برس پہلے سورۂ طہ اور سورۂ یٰسین کی تلاوت فرمائی ، جب فرشتوں نے قرآن سنا تو انہوں نے کہا : اس امت کے لیے خوشخبری ہو جس پر یہ اتارا جائے گا ، ان مبارک دلوں کے لیے خوشخبری ہو جو اسے یاد کریں گے ، اور اسے پڑھنے والی زبان کے لیے خوشخبری ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ۔