ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص رات کے وقت سورت حٰم الدخان کی تلاوت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، عمر بن ابی خثعم راوی کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ، اور محمد یعنی امام بخاری ؒ نے فرمایا : وہ منکر الحدیث ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص شب جمعہ کو سورۂ دخان کی تلاوت کرتا ہے تو اسے بخش دیا جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، نیز ہشام ابوالمقدام راوی کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمسونے سے پہلے مسبحات (سورۂ الاسراء ، الحدید ، الحشر ، الصّف ، الجمعہ ، التغابن اور الاعلی) کی تلاوت کیا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ ان میں ایک آیت ہے جو کہ ہزار آیات سے بہتر ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قرآن میں تیس آیات کی ایک سورت ہے اس نے ایک آدمی کے بارے میں سفارش کی حتیٰ کہ اسے بخش دیا گیا اور وہ سورۃ الملک ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی نے کسی قبر کی جگہ پر اپنا خیمہ نصب کیا جبکہ انہیں پتہ نہیں تھا وہ قبر ہے ، اس میں ایک انسان سورۃ الملک پڑھ رہا تھا حتیٰ کہ اس نے اسے مکمل کیا ، پس وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس کے متعلق بتایا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ مانعہ ‘‘ اور ’’ منجیہ ‘‘ ہے اسے اللہ کے عذاب سے بچائے گی ۔‘‘ ترمذی اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سورۃ السجدہ اور سورۃ الملک پڑھے بغیر نہیں سوتے تھے ۔ احمد ، ترمذی ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ شرح السنہ میں بھی اسی طرح ہے ۔ جبکہ مصابیح میں ہے کہ یہ غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ۔
Hadith 2156
sahih
وَعَن ابْن عَبَّاس وَأنس بن مَالك رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِذا زلزلت) تعدل نصف الْقُرْآن (قل هُوَ الله أحد) تعدل ثلث الْقُرْآن و (قل يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ) تَعْدِلُ رُبْعَ الْقُرْآنِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu
ابن عباس ؓ اور انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سورۃ الزلزال نصف قرآن کے برابر ہے ، سورۃ الاخلاص تہائی قرآن کے برابرہے اور سورۃ الکافرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
معقل بن یسار ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ ((اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم)) اور سورۃ الحشر کی آخری تین آیات پڑھتا ہے تو اللہ اس کے لے ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیتا ہے ، جو شام تک اس کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں ، اور اگر وہ اسی روز فوت ہو جائے تو وہ شہادت کی موت مرتا ہے ، اور جو شخص شام کے وقت انہیں پڑھتا ہے تو اسے بھی یہی منزلت و فضیلت حاصل ہو جاتی ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
انس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ہر روز دو سو مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھتا ہے تو قرض کے سوا اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، دارمی اور ان کی روایت میں پچاس مرتبہ کا ذکر ہے ، اور انہوں نے ((الا ان یکون علیہ دین)) کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
انس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں :’’ جو شخص اپنے بستر پر سونے کا ارادہ کرے اور اپنے دائیں پہلو پر لیٹ کر سو مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھ کر سو جائے تو روز قیامت رب اسے فرمائے گا : میرے بندے ! اپنی دائیں جانب سے جنت میں داخل ہو جاؤ ۔‘‘ ترمذی اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو سورۂ اخلاص پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا :’’ واجب ہو گئی ۔‘‘ میں نے عرض کیا : کیا واجب ہو گئی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ مالک و الترمذی و النسائی ۔
فروہ بن نوفل ؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیں کہ جب میں بستر پر لیٹوں تو اسے پڑھ لیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سورۃ الکافرون پڑھا کرو کیونکہ وہ شرک سے براءت (اور توحید کا اعلان) ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں جحفہ اور ابواء کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہا تھا کہ اچانک آندھی اور شدید تاریکی ہم پر چھا گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے ذریعے پناہ طلب کرنے لگے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے :’’ عقبہ ! ان دونوں (سورتوں) کے ذریعے پناہ طلب کرو ، کسی پناہ طلب کرنے والے نے ان دونوں جیسی پناہ نہیں پائی ۔‘‘ سندہ ضعیف ۔
عبداللہ بن خبیب ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم برسات میں ایک شدید تاریک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکلے تو ہم نے آپ کو پا لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کہو ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، میں کیا کہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم صبح و شام تین مرتبہ سورۂ اخلاص اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھا کرو ، وہ تمہیں ہر چیز کے لیے کافی ہو جائیں گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا میں سورۂ ہود پڑھوں یا سورۂ یوسف ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم اللہ کے ہاں سورۃ الفلق سے بلیغ تر کوئی چیز نہیں پڑھ سکو گے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و النسائی و الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قرآن کے معانی بیان کرو اور اس کے ’’ غرائب ‘‘ کی اتباع کرو ، اس کے ’’ غرائب ‘‘ اس کے فرائض و حدود ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دوران نماز قراءت قرآن ، نماز کے علاوہ قراءت قرآن سے افضل ہے ، اور نماز کے علاوہ قراءت قرآن ، تسبیح و تکبیر سے افضل ہے ، اور تسبیح (سبحان اللہ کہنا) صدقہ سے افضل ہے ، صدقہ روزہ سے افضل ہے جبکہ روزہ جہنم سے ڈھال ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ۔
عثمان بن عبداللہ بن اوس ثقفی اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آدمی کا زبانی قرآن پڑھنا ہزار درجے رکھتا ہے ، جبکہ اس کا قرآن کریم سے دیکھ کر پڑھنا زبانی پڑھنے سے دو ہزار درجے رکھتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ دل زنگ آلودہو جاتے ہیں جس طرح لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہو جاتا ہے ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ان کی چمک کس طرح آتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ موت کو کثرت سے یاد کرنا اور قرآن کی تلاوت کرنا ۔‘‘ بیہقی نے چاروں احادیث کو شعب الایمان میں ذکر کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔