ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حافظ قرآن ، بندھے ہوئے اونٹوں کے مالک کی طرح ہے ، اگر وہ اس کا خیال رکھے گا تو اسے روکے رکھے گا اور اگر اسے چھوڑ دے گا تو وہ چلے جائیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جندب بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قرآن اس وقت تک پڑھو جب تک تمہارے دل اس پر متوجہ ہوں ، اور جب تمہارے خیالات منتشر ہو جائیں تو پھر اسے پڑھنا چھوڑ دو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
قتادہ بیان کرتے ہیں ، انس ؓ سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : وہ مد کے ساتھ تھی ، پھر انہوں نے (بسم اللہ الرحمن الرحیم) پڑھی ، اور (بسم اللہ) اور (الرحمن) اور (الرحیم) کو مد کے ساتھ پڑھا (یعنی لمبا کر کے پڑھا) ۔ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے اتنی توجہ سے کسی چیز کو نہیں سنا جتنا اس نے نبی کو ترنم کے ساتھ قرآن پڑھتے ہوئے توجہ سے سنا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے اتنی توجہ سے کسی چیز کو نہیں سنا جتنا اس نے اپنے نبی کو خوش الحانی کے ساتھ با آواز بلند قرآن پڑھتے ہوئے سنا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص خوش الحانی سے قرآن نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ مجھے قرآن سناؤ ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، میں آپ کو قرآن سناؤں ، جبکہ وہ آپ پر نازل کیا گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں اپنے علاوہ کسی اور سے اسے سننا چاہتا ہوں ۔‘‘ میں نے سورۃ النساء تلاوت کی حتیٰ کہ جب میں اس آیت (فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاء شَهِيْدًا ) پر پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اب بس کرو ۔‘‘ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا :’’ اللہ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ نے میرا نام لیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، میرا رب العالمین کے ہاں ذکر کیا گیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ (یہ سن کر) ان کی آنکھوں میں (خوشی کے) آنسو بہنے لگے ۔ اور ایک روایت میں ہے :’’ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں سورۃ البینہ سناؤں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، میرا نام لے کر (آپ کو بتایا ہے) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ پس وہ رونے لگے ۔ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن لے کر دشمن کی سر زمین (دار الحرب) کی طرف سفر کرنے سے منع فرمایا ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے :’’ قرآن لے کر سفر نہ کرو ، کیونکہ اگر دشمن (یعنی کافر) اسے پا لے تو مجھے (اس کی بے حرمتی کا) اندیشہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مہاجرین کی ایک کمروز جماعت کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، اور ان میں سے بعض (عام لباس کی وجہ سے) برہنہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے پیچھے چھپے ہوئے تھے اور قاری ہمیں قرآن سنا رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آ کر کھڑے ہو گئے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے تو قاری خاموش ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کیا اور پھر فرمایا :’’ تم کیا کر رہے تھے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ہم بغور قرآن کریم سن رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے میری امت میں ایسے افراد بنا دیے جن کے پاس ٹھہرنے کا مجھے حکم دیا گیا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے وسط میں بیٹھ گئے تاکہ آپ ہم سب کو برابر شرف بخش سکیں ، پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ فرمایا تو انہوں نے حلقہ بنا لیا اور وہ سب آپ کے سامنے آ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مہاجرین کی جماعت فقراء ! تمہیں قیامت کے روز مکمل نور کی خوشخبری ہو ، تم مال دار لوگوں سے نصف سال پہلے ، اور وہ پانچ سو سال ہے ، جنت میں جاؤ گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنی آوازوں کے ذریعے قرآن کو مزین کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
سعد بن عبادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قرآن پڑھتا ہو لیکن پھر وہ اسے بھول جائے تو وہ روز قیامت حالت کوڑھ میں اللہ سے ملاقات کرے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص تین دن سے کم مدت میں قرآن ختم کرتا ہے تو وہ قرآن فہمی سے محروم رہتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ، علانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے ، جبکہ آہستہ قرآن پڑھنے والا چھپا کر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
صہیب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس شخص کا قرآن پر ایمان نہیں جو اس کی حرام کردہ اشیاء کو حلال جانتا ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ امام ترمذی ؒ کہتے ہیں : اس حدیث کی اسناد قوی نہیں ۔ اسنادہ ضعیف ۔
لیث بن سعد ، ابن ابی ملیکہ سے ، وہ یعلی بن مملک سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام سلمہ ؓ سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت واضح اور حرف حرف (یعنی الگ الگ) تھی ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
ابن جریج ، ابن ابی ملیکہ سے اور وہ ام سلمہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قراءت ٹھہر ٹھہر کر کیا کرتے تھے ، آپ (الحمد للہ رب العالمین) پڑھتے ، پھر وقف فرماتے پھر (الرحمن الرحیم) پڑھتے پھر وقف فرماتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : اس کی سند متصل نہیں ، کیونکہ لیث نے یہ حدیث ابن ابی ملیکہ عن یعلی بن مملک عن ام سلمہ ؓ کی سند سے روایت کی ہے ، اور لیث کی حدیث زیادہ صحیح ہے ۔ سندہ ضعیف ۔
جابر بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم قرآن پڑھ رہے تھے اور ہم میں اعرابی اور عجمی بھی تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پڑھو ، سب ٹھیک ہے ۔ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو اسے اس طرح (مبالغہ کے ساتھ) درست کریں گے جیسے تیر درست کیا جاتا ہے ۔ وہ دنیا میں ہی جزا چاہیں گے اور اسے آخرت تک مؤخر نہیں کریں گے ۔‘‘ (یعنی وہ طلب دنیا کے لیے پڑھیں گے) اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و البیھقی ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قرآن ، عربی لہجے اور عربی آواز سے پڑھا کرو اور اہل عشق اور یہود و نصاریٰ کے لہجوں سے بچو ، اور میرے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو نغمے اور نوحے کی طرح آواز دہرا دہرا کر قرآن پڑھیں گے ، اور وہ (قرآن کا پڑھنا) ان کے حلق سے نیچے (دل تک) نہیں اترے گا ۔ ان کے اور ان لوگوں کے دل ، جو ان کی حالت پر فریفتہ ہوں گے ، فتنہ سے دوچار ہوں گے ۔‘‘ بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور رزین نے اسے اپنی کتاب میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف منکر ۔
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اپنی آوازوں سے قرآن کو حسین بناؤ ، کیونکہ اچھی آواز ، قرآن کے حسن میں اضافہ کرتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔