Back to Mishkat Al-Masabih

The Excellent Qualities of the Qur'an

كتاب فضائل القرآن

Chapter 8

Hadith 2189
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ»
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حافظ قرآن ، بندھے ہوئے اونٹوں کے مالک کی طرح ہے ، اگر وہ اس کا خیال رکھے گا تو اسے روکے رکھے گا اور اگر اسے چھوڑ دے گا تو وہ چلے جائیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2190
sahih
وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «اقرؤوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقومُوا عَنهُ»
Urdu

جندب بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قرآن اس وقت تک پڑھو جب تک تمہارے دل اس پر متوجہ ہوں ، اور جب تمہارے خیالات منتشر ہو جائیں تو پھر اسے پڑھنا چھوڑ دو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2191
sahih
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَت مدا مَدًّا ثُمَّ قَرَأَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَمُدُّ بِبَسْمِ اللَّهِ وَيَمُدُّ بِالرَّحْمَنِ وَيَمُدُّ بِالرَّحِيمِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

قتادہ بیان کرتے ہیں ، انس ؓ سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراءت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : وہ مد کے ساتھ تھی ، پھر انہوں نے (بسم اللہ الرحمن الرحیم) پڑھی ، اور (بسم اللہ) اور (الرحمن) اور (الرحیم) کو مد کے ساتھ پڑھا (یعنی لمبا کر کے پڑھا) ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 2192
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے اتنی توجہ سے کسی چیز کو نہیں سنا جتنا اس نے نبی کو ترنم کے ساتھ قرآن پڑھتے ہوئے توجہ سے سنا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2193
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسِنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے اتنی توجہ سے کسی چیز کو نہیں سنا جتنا اس نے اپنے نبی کو خوش الحانی کے ساتھ با آواز بلند قرآن پڑھتے ہوئے سنا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2194
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص خوش الحانی سے قرآن نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 2195
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «اقْرَأْ عَلَيَّ» . قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: «إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي» . فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى أَتَيْتُ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ (فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدا) قَالَ: «حَسْبُكَ الْآنَ» . فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ
Urdu

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تھے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا :’’ مجھے قرآن سناؤ ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، میں آپ کو قرآن سناؤں ، جبکہ وہ آپ پر نازل کیا گیا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں اپنے علاوہ کسی اور سے اسے سننا چاہتا ہوں ۔‘‘ میں نے سورۃ النساء تلاوت کی حتیٰ کہ جب میں اس آیت (فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاء شَهِيْدًا ) پر پہنچا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اب بس کرو ۔‘‘ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 2196
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: «إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ» قَالَ: آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . قَالَ: وَقَدْ ذُكِرْتُ عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ. وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ (لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا) قَالَ: وَسَمَّانِي؟ قَالَ: «نَعَمْ» . فَبَكَى
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا :’’ اللہ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ نے میرا نام لیا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، میرا رب العالمین کے ہاں ذکر کیا گیا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ (یہ سن کر) ان کی آنکھوں میں (خوشی کے) آنسو بہنے لگے ۔ اور ایک روایت میں ہے :’’ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں سورۃ البینہ سناؤں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، میرا نام لے کر (آپ کو بتایا ہے) ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ پس وہ رونے لگے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 2197
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِن يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «لَا تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ فَإِنِّي لَا آمن أَن يَنَالهُ الْعَدو»
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قرآن لے کر دشمن کی سر زمین (دار الحرب) کی طرف سفر کرنے سے منع فرمایا ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے :’’ قرآن لے کر سفر نہ کرو ، کیونکہ اگر دشمن (یعنی کافر) اسے پا لے تو مجھے (اس کی بے حرمتی کا) اندیشہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2198
sahih
عَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: جَلَست فِي عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَإِنَّ بَعْضَهُمْ لِيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ وَقَارِئٌ يَقْرَأُ عَلَيْنَا إِذْ جَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عَلَيْنَا فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكَتَ الْقَارِئُ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟» قُلْنَا: كُنَّا نَسْتَمِعُ إِلَى كتاب الله قَالَ فَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ» . قَالَ فَجَلَسَ وَسَطَنَا لِيَعْدِلَ بِنَفْسِهِ فِينَا ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا فَتَحَلَّقُوا وَبَرَزَتْ وُجُوهُهُمْ لَهُ فَقَالَ: «أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَاءِ النَّاسِ بِنصْف يَوْم وَذَاكَ خَمْسمِائَة سنة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مہاجرین کی ایک کمروز جماعت کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، اور ان میں سے بعض (عام لباس کی وجہ سے) برہنہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے پیچھے چھپے ہوئے تھے اور قاری ہمیں قرآن سنا رہا تھا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور آ کر کھڑے ہو گئے ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو گئے تو قاری خاموش ہو گیا ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام کیا اور پھر فرمایا :’’ تم کیا کر رہے تھے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ہم بغور قرآن کریم سن رہے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے میری امت میں ایسے افراد بنا دیے جن کے پاس ٹھہرنے کا مجھے حکم دیا گیا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے وسط میں بیٹھ گئے تاکہ آپ ہم سب کو برابر شرف بخش سکیں ، پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ فرمایا تو انہوں نے حلقہ بنا لیا اور وہ سب آپ کے سامنے آ گئے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مہاجرین کی جماعت فقراء ! تمہیں قیامت کے روز مکمل نور کی خوشخبری ہو ، تم مال دار لوگوں سے نصف سال پہلے ، اور وہ پانچ سو سال ہے ، جنت میں جاؤ گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔

Hadith 2199
sahih
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
Urdu

براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنی آوازوں کے ذریعے قرآن کو مزین کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 2200
sahih
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مَا من امْرِئٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثُمَّ يَنْسَاهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ والدارمي
Urdu

سعد بن عبادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قرآن پڑھتا ہو لیکن پھر وہ اسے بھول جائے تو وہ روز قیامت حالت کوڑھ میں اللہ سے ملاقات کرے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔

Hadith 2201
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَمْ يَفْقَهْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاث» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد والدارمي
Urdu

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص تین دن سے کم مدت میں قرآن ختم کرتا ہے تو وہ قرآن فہمی سے محروم رہتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔

Hadith 2202
sahih
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كالجاهر بِالصَّدَقَةِ ولامسر بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
Urdu

عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ، علانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے ، جبکہ آہستہ قرآن پڑھنے والا چھپا کر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 2203
sahih
وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيّ
Urdu

صہیب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس شخص کا قرآن پر ایمان نہیں جو اس کی حرام کردہ اشیاء کو حلال جانتا ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ امام ترمذی ؒ کہتے ہیں : اس حدیث کی اسناد قوی نہیں ۔ اسنادہ ضعیف ۔

Hadith 2204
sahih
وَعَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مليكَة عَنْ يَعْلَى بْنِ مُمَلَّكٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
Urdu

لیث بن سعد ، ابن ابی ملیکہ سے ، وہ یعلی بن مملک سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام سلمہ ؓ سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراءت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراءت واضح اور حرف حرف (یعنی الگ الگ) تھی ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 2205
sahih
وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ثُمَّ يَقِفُ ثُمَّ يَقُولُ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ثُمَّ يَقِفُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ اللَّيْثَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَحَدِيثُ اللَّيْث أصح
Urdu

ابن جریج ، ابن ابی ملیکہ سے اور وہ ام سلمہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی قراءت ٹھہر ٹھہر کر کیا کرتے تھے ، آپ (الحمد للہ رب العالمین) پڑھتے ، پھر وقف فرماتے پھر (الرحمن الرحیم) پڑھتے پھر وقف فرماتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : اس کی سند متصل نہیں ، کیونکہ لیث نے یہ حدیث ابن ابی ملیکہ عن یعلی بن مملک عن ام سلمہ ؓ کی سند سے روایت کی ہے ، اور لیث کی حدیث زیادہ صحیح ہے ۔ سندہ ضعیف ۔

Hadith 2206
sahih
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَفينَا الْأَعرَابِي والأعجمي قَالَ: «اقرؤوا فَكُلٌّ حَسَنٌ وَسَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
Urdu

جابر بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم قرآن پڑھ رہے تھے اور ہم میں اعرابی اور عجمی بھی تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پڑھو ، سب ٹھیک ہے ۔ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو اسے اس طرح (مبالغہ کے ساتھ) درست کریں گے جیسے تیر درست کیا جاتا ہے ۔ وہ دنیا میں ہی جزا چاہیں گے اور اسے آخرت تک مؤخر نہیں کریں گے ۔‘‘ (یعنی وہ طلب دنیا کے لیے پڑھیں گے) اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و البیھقی ۔

Hadith 2207
sahih
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «اقرؤوا الْقُرْآنَ بِلُحُونِ الْعَرَبِ وَأَصْوَاتِهَا وَإِيَّاكُمْ وَلُحُونَ أَهْلِ الْعِشْق وَلُحُون أهل الْكِتَابَيْنِ وسيجي بعدِي قوم يرجعُونَ بِالْقُرْآنِ ترجع الْغِنَاءِ وَالنَّوْحِ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ مَفْتُونَهٌ قُلُوبُهُمْ وَقُلُوبُ الَّذِينَ يُعْجِبُهُمْ شَأْنُهُمْ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
Urdu

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قرآن ، عربی لہجے اور عربی آواز سے پڑھا کرو اور اہل عشق اور یہود و نصاریٰ کے لہجوں سے بچو ، اور میرے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو نغمے اور نوحے کی طرح آواز دہرا دہرا کر قرآن پڑھیں گے ، اور وہ (قرآن کا پڑھنا) ان کے حلق سے نیچے (دل تک) نہیں اترے گا ۔ ان کے اور ان لوگوں کے دل ، جو ان کی حالت پر فریفتہ ہوں گے ، فتنہ سے دوچار ہوں گے ۔‘‘ بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور رزین نے اسے اپنی کتاب میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف منکر ۔

Hadith 2208
sahih
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «حَسِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ فَإِنَّ الصَّوْتَ الْحَسَنَ يُزِيدُ الْقُرْآنَ حُسْنًا» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
Urdu

براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اپنی آوازوں سے قرآن کو حسین بناؤ ، کیونکہ اچھی آواز ، قرآن کے حسن میں اضافہ کرتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔