ایفع بن عبدالکلاعی ؒ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! قرآن میں سب سے عظیم سورت کون سی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سورۃ الاخلاص ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : تو پھر قرآن میں سب سے عظیم آیت کون سی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آیۃ الکرسی ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! آپ کون سی آیت پسند فرماتے ہیں کہ وہ آپ کو اور آپ کی امت کو مل جائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سورۂ بقرہ کا آخری حصہ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اس کی رحمت کے خزانوں میں سے ہے جو اس نے اس امت کو عطا فرمائی ہے ، اور وہ دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں پر مشتمل ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں ، جو شخص رات کے کسی حصہ میں سورۂ آل عمران کا آخری حصہ پڑھتا ہے ، اس کے لیے رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
مکحول بیان کرتے ہیں ، جو شخص جمعہ کے روز سورۂ آل عمران پڑھتا ہے تو رات تک فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
جبیر بن نفیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے سورۂ بقرہ کا اختتام دو آیتوں سے فرمایا ہے ، وہ مجھے عرش کے نیچے اس خزانے سے عطا کی گئی ہیں ، پس انہیں سیکھو اور انہیں اپنی خواتین کو سکھاؤ کیونکہ وہ باعث رحمت ، باعث تقرب اور دعا ہیں ۔‘‘ اسے دارمی نے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص جمعہ کے روز سورۃ الکہف پڑھتا ہے تو اس کے لیے دو جمعوں کی درمیانی مدت کے لیے نور چمکتا رہتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ البیھقی ۔
خالد بن معدان ؒ بیان کرتے ہیں ، منجیہ ، (عذاب قبر و حشر سے بچانے والی سورت) جو کہ سورۃ السجدہ ہے ، پڑھا کرو ، کیونکہ مجھے خبر ملی ہے کہ ایک آدمی صرف اسے ہی پڑھا کرتا تھا جبکہ وہ بہت گناہ گار تھا ، پس اس (سورت) نے اس پر اپنے پَر بچھا دیے اور عرض کیا ، رب جی ! اسے بخش دو ، کیونکہ وہ مجھے کثرت سے پڑھا کرتا تھا ، رب تعالیٰ نے اس کے متعلق اس کی سفارش قبول فرما لی ، اور فرمایا :’’ اس کی ہر غلطی کے بدلے اس کے لیے نیکی لکھ دو اور اس کا درجہ بلند کر دو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔ اور انہوں (خالد بن معدان) نے یہ بھی کہا :’’ وہ اپنے پڑھنے والے کے متعلق قبر میں جھگڑا کرے گی اور کہے گی : اے اللہ ! اگر میں تیری کتاب میں سے ہوں تو پھر اس کے متعلق میری سفارش قبول فرما ، اور اگر میں تیری کتاب میں سے نہیں ہوں تو پھر مجھے اس سے ختم فرما دے ، اور وہ پرندے کی طرح ہو گی اور اس پر اپنے پر پھیلا دے گی ، وہ اس کی سفارش کرے گی اور اسے عذاب قبر سے بچا لے گی ۔‘‘ اور انہوں (خالد بن معدان) نے سورۃ الملک کے متعلق بھی اسی طرح بیان کیا ہے ، اور وہ ان دونوں سورتوں کو پڑھے بغیر نہیں سویا کرتے تھے ، اور طاؤس ؒ بیان کرتے ہیں ان دونوں سورتوں کو قرآن کی ہر سورت پر ساٹھ نیکیوں سے فضیلت دی گئی ہے ۔
عطاء بن ابی رباح ؒ بیان کرتے ہیں ، مجھے خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص دن کے پہلے حصے میں سورۂ یٰسین پڑھتا ہے تو اس کی تمام ضروریات پوری کر دی جاتی ہیں ۔‘‘ امام دارمی نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
معقل بن یسار مزنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر سورۂ یٰسین پڑھتا ہے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ، اسے اپنے قریب المرگ افراد کے پاس پڑھا کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے اور قرآن کی چوٹی سورۃ البقرہ ہے ، اور ہر چیز کا ایک مغز ہوتا ہے اور قرآن کا مغز مفصل سورتیں (سورۃ الحجرات سے الناس تک) ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ہر چیز کا حسن و جمال ہوتا ہے جبکہ قرآن کا حسن و جمال سورۃ الرحمن ہے ۔‘‘ اسنادہ موضوع ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ہر رات سورۃ الواقعہ پڑھتا ہے تو وہ کبھی فاقے کا شکار نہیں ہو گا ۔ اور ابن مسعود ؓ اپنی بیٹیوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ ہر رات اسے پڑھا کریں ۔ امام بیہقی نے ان دونوں کو شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Hadith 2182
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم يجب هَذِهِ السُّورَةَ (سَبِّحِ اسْمِ رَبِّكَ الْأَعْلَى) رَوَاهُ أَحْمد
Urdu
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سورت ، سورۃ الاعلی کو پسند کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے پڑھائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ الرٰٓ والی سورتوں (یونس ، ھود ، یوسف ، ابراہیم ، الحجر) میں سے تین سورتیں پڑھو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میں عمر رسیدہ ہو گیا ہوں ، میرا دل سخت ہو گیا ہے اور میری زبان موٹی ہو گئی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حٰم والی سورتوں (المومن ، الفصلت ، الشوری ، الزخرف ، الدخان ، الجاشیہ ، الاحقاف) میں سے تین سورتیں پڑھو ۔‘‘ اس نے پھر وہی عرض کیا ، اس آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے کوئی جامع سورت پڑھائیں ، تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سورۃ الزلزال پوری پڑھائی تو اس آدمی نے عرض کیا ، اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ، میں اس پر کبھی بھی اضافہ نہ کروں گا ، پھر وہ آدمی واپس چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا :’’ وہ آدمی فلاح پا گیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم میں سے کوئی ہر روز ہزار آیت پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہر روز ہزار آیت کون پڑھ سکتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم میں سے کوئی سورۃ التکاثر نہیں پڑھ سکتا ؟‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
سعید بن مسیب ؒ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرسل روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص دس مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھتا ہے تو اس کے بدلہ میں اس کے لیے جنت میں ایک محل بنا دیا جاتا ہے ، جو شخص بیس مرتبہ پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت میں دو محل بنا دیے جاتے ہیں اور جو شخص تیس مرتبہ پڑھتا ہے تو اس کے لیے اس کے بدلہ میں جنت میں تین محل بنا دیے جاتے ہیں ۔‘‘ عمر بن خطاب ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! تب تو ہم اپنے محل زیادہ کر لیں گے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اس سے بھی زیادہ کشائش و فراخی والا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
حسن بصری ؒ سے مرسل روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص رات میں سو آیات تلاوت کرتا ہے تو اس رات قرآن اس سے جھگڑا نہیں کرتا ، جو شخص رات میں دو سو آیات پڑھتا ہے تو اس کے لیے رات بھر کا قیام لکھ دیا جاتا ہے ، اور جو شخص رات میں پانچ سو سے ہزار آیات تلاوت کرتا ہے تو صبح کے وقت اس کے لیے ڈھیروں اجر ہو گا ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ڈھیروں سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا :’’ بارہ ہزار ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
ابوموسی اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قرآن کی خبر گیری کرتے رہو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے ! وہ (قرآن سینوں سے) نکل جانے میں ، اس اونٹ کے نکل جانے سے بھی زیادہ تیز ہے جس کی رسی کھل چکی ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کسی کے لیے یہ کہنا بہت ہی برا ہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا ہوں ، بلکہ (یوں کہے) مجھے بھلا دی گئی ہے ، قرآن یاد کرتے رہا کرو کیونکہ وہ آدمیوں کے سینوں سے نکل جانے میں کھلے ہوئے اونٹوں سے بھی زیادہ تیز ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور امام مسلم نے : ((بعقلھا)) کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے ۔ متفق علیہ ۔