Back to Sahih Bukhari

Call to Prayers (Adhaan) (Sufa-Tu-Salat)

كتاب الأذان (صفة الصلوة)

Chapter 11

Hadith 755
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ شَكَا أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ فَعَزَلَهُ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَمَّارًا، فَشَكَوْا حَتَّى ذَكَرُوا أَنَّهُ لاَ يُحْسِنُ يُصَلِّي، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ هَؤُلاَءِ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ لاَ تُحْسِنُ تُصَلِّي قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَمَّا أَنَا وَاللَّهِ فَإِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أَخْرِمُ عَنْهَا، أُصَلِّي صَلاَةَ الْعِشَاءِ فَأَرْكُدُ فِي الأُولَيَيْنِ وَأُخِفُّ فِي الأُخْرَيَيْنِ‏.‏ قَالَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ‏.‏ فَأَرْسَلَ مَعَهُ رَجُلاً أَوْ رِجَالاً إِلَى الْكُوفَةِ، فَسَأَلَ عَنْهُ أَهْلَ الْكُوفَةِ، وَلَمْ يَدَعْ مَسْجِدًا إِلاَّ سَأَلَ عَنْهُ، وَيُثْنُونَ مَعْرُوفًا، حَتَّى دَخَلَ مَسْجِدًا لِبَنِي عَبْسٍ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ أُسَامَةُ بْنُ قَتَادَةَ يُكْنَى أَبَا سَعْدَةَ قَالَ أَمَّا إِذْ نَشَدْتَنَا فَإِنَّ سَعْدًا كَانَ لاَ يَسِيرُ بِالسَّرِيَّةِ، وَلاَ يَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ، وَلاَ يَعْدِلُ فِي الْقَضِيَّةِ‏.‏ قَالَ سَعْدٌ أَمَا وَاللَّهِ لأَدْعُوَنَّ بِثَلاَثٍ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هَذَا كَاذِبًا، قَامَ رِيَاءً وَسُمْعَةً فَأَطِلْ عُمْرَهُ، وَأَطِلْ فَقْرَهُ، وَعَرِّضْهُ بِالْفِتَنِ، وَكَانَ بَعْدُ إِذَا سُئِلَ يَقُولُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَفْتُونٌ، أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعْدٍ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ فَأَنَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ قَدْ سَقَطَ حَاجِبَاهُ عَلَى عَيْنَيْهِ مِنَ الْكِبَرِ، وَإِنَّهُ لَيَتَعَرَّضُ لِلْجَوَارِي فِي الطُّرُقِ يَغْمِزُهُنَّ‏.‏
English

Narrated Jabir bin Samura رضی اللہ عنہ :

The People of Kufa complained against Sa`d to `Umar رضی اللہ عنہ and the latter dismissed him and appointed `Ammar as their chief . They lodged many complaints against Sa`d and even they alleged that he did not pray properly. `Umar sent for him and said, "O Aba 'Is-haq! These people claim that you do not pray properly." Abu 'Is-haq said, "By Allah, I used to pray with them a prayer similar to that of Allah's Apostle and I never reduced anything of it. I used to prolong the first two rak`at of `Isha prayer and shorten the last two rak`at." `Umar said, "O Aba 'Is-haq, this was what I thought about you." And then he sent one or more persons with him to Kufa so as to ask the people about him. So they went there and did not leave any mosque without asking about him. All the people praised him till they came to the mosque of the tribe of Bani `Abs; one of the men called Usama bin Qatada with a surname of Aba Sa`da stood up and said, "As you have put us under an oath; I am bound to tell you that Sa`d never went himself with the army and never distributed (the war booty) equally and never did justice in legal verdicts." (On hearing it) Sa`d said, "I pray to Allah for three things: O Allah! If this slave of yours is a liar and got up for showing off, give him a long life, increase his poverty and put him to trials." (And so it happened). Later on when that person was asked how he was, he used to reply that he was an old man in trial as the result of Sa`d's curse. `Abdul Malik, the sub narrator, said that he had seen him afterwards and his eyebrows were overhanging his eyes owing to old age and he used to tease and assault the small girls in the way.

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالملک بن عمیر نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ، کہا کہ

اہل کوفہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے شکایت کی ۔ اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو مغزول کر کے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا حاکم بنایا ، تو کوفہ والوں نے سعد کے متعلق یہاں تک کہہ دیا کہ وہ تو اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھا سکتے ۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بلا بھیجا ۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ اے ابواسحاق ! ان کوفہ والوں کا خیال ہے کہ تم اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے ہو ۔ اس پر آپ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میں تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح نماز پڑھاتا تھا ، اس میں کوتاہی نہیں کرتا عشاء کی نماز پڑھاتا تو اس کی دو پہلی رکعات میں ( قرآت ) لمبی کرتا اور دوسری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے ابواسحاق ! مجھ کو تم سے امید بھی یہی تھی ۔ پھر آپ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک یا کئی آدمیوں کو کوفہ بھیجا ۔ قاصد نے ہر ہر مسجد میں جا کر ان کے متعلق پوچھا ۔ سب نے آپ کی تعریف کی لیکن جب مسجد بنی عبس میں گئے ۔ تو ایک شخص جس کا نام اسامہ بن قتادہ اور کنیت ابوسعدہ تھی کھڑا ہوا ۔ اس نے کہا کہ جب آپ نے خدا کا واسطہ دے کر پوچھا ہے تو ( سنیے کہ ) سعد نہ فوج کے ساتھ خود جہاد کرتے تھے ، نہ مال غنیمت کی تقسیم صحیح کرتے تھے اور نہ فیصلے میں عدل و انصاف کرتے تھے ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ( یہ سن کر ) فرمایا کہ خدا کی قسم میں ( تمہاری اس بات پر ) تین دعائیں کرتا ہوں ۔ اے اللہ ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف ریا و نمود کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمردراز کر اور اسے خوب محتاج بنا اور اسے فتنوں میں مبتلا کر ۔ اس کے بعد ( وہ شخص اس درجہ بدحال ہوا کہ ) جب اس سے پوچھا جاتا تو کہتا کہ ایک بوڑھا اور پریشان حال ہوں مجھے سعد رضی اللہ عنہ کی بددعا لگ گئی ۔ عبدالملک نے بیان کیا کہ میں نے اسے دیکھا اس کی بھویں بڑھاپے کی وجہ سے آنکھوں پر آ گئی تھی ۔ لیکن اب بھی راستوں میں وہ لڑکیوں کو چھیڑتا ۔

Hadith 756
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated 'Ubada bin As-Samit رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever does not recite Al-Fatiha in his prayer, his prayer is invalid."

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا محمود بن ربیع سے ، انھوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس شخص نے سورۃ الفاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی ۔

Hadith 757
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ وَقَالَ ‏"‏ ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‏"‏‏.‏ فَرَجَعَ يُصَلِّي كَمَا صَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‏"‏ ثَلاَثًا‏.‏ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَهُ فَعَلِّمْنِي‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، وَافْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) entered the mosque and a person followed him. The man prayed and went to the Prophet and greeted him. The Prophet (ﷺ) returned the greeting and said to him, "Go back and pray, for you have not prayed." The man went back prayed in the same way as before, returned and greeted the Prophet who said, "Go back and pray, for you have not prayed." This happened thrice. The man said, "By Him Who sent you with the Truth, I cannot offer the prayer in a better way than this. Please, teach me how to pray." The Prophet (ﷺ) said, "When you stand for Prayer say Takbir and then recite from the Holy Qur'an (of what you know by heart) and then bow till you feel at ease. Then raise your head and stand up straight, then prostrate till you feel at ease during your prostration, then sit with calmness till you feel at ease (do not hurry) and do the same in all your prayers.

Urdu

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ عمری سے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید مقبری نے اپنے باپ ابوسعید مقبری سے بیان کیا ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اس کے بعد ایک اور شخص آیا ۔ اس نے نماز پڑھی ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ۔ آپ نے سلام کا جواب دے کر فرمایا کہ واپس جاؤ اور پھر نماز پڑھ ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی ۔ وہ شخص واپس گیا اور پہلے کی طرح نماز پڑھی اور پھر آ کر سلام کیا ۔ لیکن آپ نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ واپس جا اور دوبارہ نماز پڑھ ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی ۔ آپ نے اس طرح تین مرتبہ کیا ۔ آخر اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ۔ میں اس کے علاوہ اور کوئی اچھا طریقہ نہیں جانتا ، اس لیے آپ مجھے نماز سکھا دیجئیے ۔ آپ نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے کھڑا ہو تو پہلے تکبیر تحریمہ کہہ ۔ پھر آسانی کے ساتھ جتنا قرآن تجھ کو یاد ہو اس کی تلاوت کر ۔ اس کے بعد رکوع کر ، اچھی طرح سے رکوع ہو لے تو پھر سر اٹھا کر پوری طرح کھڑا ہو جا ۔ اس کے بعد سجدہ کر پورے اطمینان کے ساتھ ۔ پھر سر اٹھا اور اچھی طرح بیٹھ جا ۔ اسی طرح اپنی تمام نماز پوری کر ۔

Hadith 758
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ سَعْدٌ كُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَتَىِ الْعَشِيِّ لاَ أَخْرِمُ عَنْهَا، أَرْكُدُ فِي الأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ‏.‏
English

Narrated Jabir bin Samura:

Sa`d said, "I used to pray with them a prayer similar to that of Allah's Messenger (ﷺ) (the prayer of Zuhr and `Asr) reducing nothing from them. I used to prolong the first two rak`at and shorten the last two rak`at." `Umar said to Sa`d "This was what we thought about you."

Urdu

ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے عبدالملک بن عمیر سے بیان کیا ، انھوں نے جابر بن سمرہ سے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا

میں ان ( کوفہ والوں ) کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھاتا تھا ۔ ظہر اور عصر کی دونوں نمازیں ، کسی قسم کا نقص ان میں نہیں چھوڑتا تھا ۔ پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھتا اور دوسری دو رکعتیں ہلکی ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھ کو تم سے امید بھی یہی تھی ۔

Hadith 759
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ، يُطَوِّلُ فِي الأُولَى، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَيُسْمِعُ الآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ، وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الأُولَى، وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin Abi Qatada رضی اللہ عنہ reports that his father said:

"The Prophet (ﷺ) in Zuhr prayers used to recite Al-Fatiha along with two other Suras in the first two rak`at: a long one in the first rak`a and a shorter (Sura) in the second, and at times the verses were audible. In the `Asr prayer the Prophet (ﷺ) used to recite Al-Fatiha and two more Suras in the first two rak`at and used to prolong the first rak`a. And he used to prolong the first rak`a of the Fajr prayer and shorten the second.

Urdu

ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے شیبان نے بیان کیا ، انھوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا ، انھوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انھوں نے اپنے باپ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ الفاتحہ اور ہر رکعت میں ایک ایک سورت پڑھتے تھے ، ان میں بھی قرآت کرتے تھے لیکن آخری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتے تھے کبھی کبھی ہم کو بھی کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے ۔ عصر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الفاتحہ اور سورتیں پڑھتے تھے ، اس کی بھی پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھتے ۔ اسی طرح صبح کی نماز کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری ہلکی ۔

Hadith 760
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ سَأَلْنَا خَبَّابًا أَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قُلْنَا بِأَىِّ شَىْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ قَالَ بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ‏.‏
English

Narrated Khabbab:

Did the Prophet (ﷺ) used to recite the Qur'an in the Zuhr and the `Asr prayers? He replied in the affirmative. We said, "How did you come to know that?" He said, "From the movement of his beard."

Urdu

ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا کہ کہا ہم سے میرے والد نے ، انھوں نے کہا کہ ہم سے سلیمان بن مہران اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عمارہ بن عمیر نے بیان کیا ابومعمر عبداللہ بن مخبرہ سے ، کہا کہ ہم نے خباب بن ارت سے پوچھا

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآت کیا کرتے تھے ؟ تو انھوں نے بتلایا کہ ہاں ، ہم نے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس طرح معلوم ہوتا تھا ؟ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کے ہلنے سے ۔

Hadith 761
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ قُلْتُ لِخَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ أَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ قُلْتُ بِأَىِّ شَىْءٍ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ قِرَاءَتَهُ قَالَ بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ‏.‏
English

Narrated Abu Ma`mar report that I asked Hadrat Khabbab bin Arat:

Did the Prophet (ﷺ) used to recite the Qur'an in the Zuhr and the `Asr prayers. He replied in the affirmative. I said, "How did you come to know that?" He replied, "From the movement of his beard."

Urdu

ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے اعمش سے ، انھوں نے عمارہ بن عمیر سے ، انھوں نے ابومعمر سے کہ میں نے خباب بن الارت سے پوچھا کہ

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نمازوں میں قرآت کیا کرتے تھے ؟ تو انھوں نے کہا کہ ہاں ! میں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کرنے کو آپ لوگ کس طرح معلوم کر لیتے تھے ؟ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کے ہلنے سے ۔

Hadith 762
Sahih
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَةٍ سُورَةٍ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin Abi Qatada رضی اللہ عنہ reports that his father said :

"The Prophet (ﷺ) used to recite Al-Fatiha along with another Sura in the first two rak`at of the Zuhr and the `Asr prayers and at times a verse or so was audible to us."

Urdu

ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ، انھوں نے ہشام دستوائی سے ، انھوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انھوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انھوں نے اپنے باپ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی دو رکعات میں سورۃ الفاتحہ اور ایک ایک سورۃ پڑھتے تھے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی کوئی آیت ہمیں سنا بھی دیا کرتے ۔

Hadith 763
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ ‏{‏وَالْمُرْسَلاَتِ عُرْفًا‏}‏ فَقَالَتْ يَا بُنَىَّ وَاللَّهِ لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةَ، إِنَّهَا لآخِرُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

(My mother) Umu-l-Fadl heard me reciting "Wal Mursalati `Urfan" (77) and said, "O my son! By Allah, your recitation made me remember that it was the last Sura I heard from Allah's Messenger (ﷺ). He recited it in the Maghrib prayer. "

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابن شہاب سے خبر دی ، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے بیان کیا ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ

ام فضل رضی اللہ عنہا ( ان کی ماں ) نے انہیں «والمرسلات عرفا» پڑھتے ہوئے سنا ۔ پھر کہا کہ اے بیٹے ! تم نے اس سورت کی تلاوت کر کے مجھے یاد دلایا ۔ میں آخر عمر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں یہی سورت پڑھتے ہوئے سنتی تھی ۔

Hadith 764
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مَا لَكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارٍ، وَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِطُولِ الطُّولَيَيْنِ
English

Narrated Marwan bin Al-Hakam:

Zaid bin Thabit said to me, "Why do you recite very short Suras in the Maghrib prayer while I heard the Prophet (ﷺ) reciting the longer of the two long Suras?"

Urdu

ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا ، انھوں نے عبدالملک ابن جریج سے ، انھوں نے ابن ابی ملیکہ ( زہیر بن عبداللہ ) سے ، انھوں نے عروہ بن زبیر سے ، انھوں نے مروان بن حکم سے ، اس نے کہا

زید بن ثابت نے مجھے ٹوکا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم مغرب میں چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھتے ہو ۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو لمبی سورتوں میں سے ایک سورت پڑھتے ہوئے سنا ۔

Hadith 765
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ‏.‏
English

Narrated Jubair bin Mut`im that his father said:

"I heard Allah's Messenger (ﷺ) reciting "at-Tur" (52) in the Maghrib prayer."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابن شہاب سے خبر دی ، انھوں نے محمد بن جبیر بن مطعم سے ، انھوں نے اپنے باپ ( جبیر بن مطعم ) سے ، انھوں نے بیان کیا کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ الطور پڑھتے ہوئے سنا تھا ۔

Hadith 766
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ ‏{‏إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ‏}‏ فَسَجَدَ فَقُلْتُ لَهُ قَالَ سَجَدْتُ خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم فَلاَ أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ‏.‏
English

Narrated Abu Rafi`:

I offered the `Isha' prayer behind Abu Huraira and he recited, "Idha s-samaa'u n-shaqqat" (84) and prostrated. On my inquiring, he said, "I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet) (when he recited that Sura) and I will go on doing it till I meet him."

Urdu

ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا اپنے باپ سے ، انھوں نے بکر بن عبداللہ سے ، انھوں نے ابورافع سے ، انھوں نے بیان کیا کہ

میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی ۔ اس میں آپ نے «إذا السماء انشقت‏» پڑھی اور سجدہ ( تلاوت ) کیا ۔ میں نے ان سے اس کے متعلق معلوم کیا تو بتلایا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھی ( اس آیت میں تلاوت کا ) سجدہ کیا ہے اور زندگی بھر میں اس میں سجدہ کروں گا ، یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاؤں ۔

Hadith 767
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي سَفَرٍ فَقَرَأَ فِي الْعِشَاءِ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ‏.‏
English

Narrated Al-Bara:

The Prophet (ﷺ) was on a journey and recited in one of the first two rak`at of the `Isha' prayer "Wa t-teeni wa z-zaitun." (95)

Urdu

ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا عدی بن ثابت سے ، انھوں نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب سے سنا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے کہ عشاء کی دو پہلی رکعات میں سے کسی ایک رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «والتين والزيتون‏» پڑھی ۔

Hadith 768
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنِي التَّيْمِيُّ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ ‏{‏إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ‏}‏ فَسَجَدَ فَقُلْتُ مَا هَذِهِ قَالَ سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم فَلاَ أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ‏.‏
English

Narrated Abu Rafi`:

I prayed the `Isha' prayer with Abu Huraira رضی اللہ عنہ and he recited, "Idha s-samaa'u n-shaqqat" (84) and prostrated. I said, "What is that?" He said, "I prostrated behind Abul-Qasim, (the Prophet) (when he recited that Sura) and I will go on doing it till I meet him."

Urdu

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے تیمی نے ابوبکر سے ، انھوں نے ابورافع سے ، انھوں نے کہا کہ

میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء پڑھی ، آپ نے «إذا السماء انشقت‏» اور سجدہ کیا ۔ اس پر میں نے کہا کہ یہ سجدہ کیسا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ اس سورت میں میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ کیا تھا ۔ اس لیے میں بھی ہمیشہ اس میں سجدہ کروں گا ، یہاں تک کہ آپ سے مل جاؤں ۔

Hadith 769
Sahih
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، سَمِعَ الْبَرَاءَ، رضى الله عنه قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ ‏{‏وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ‏}‏ فِي الْعِشَاءِ، وَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا مِنْهُ أَوْ قِرَاءَةً‏.‏
English

Narrated Al-Bara:

I heard the Prophet (ﷺ) reciting wa t-teeni wa z-zaitun" (95) in the `Isha' prayer, and I never heard a sweeter voice or a better way of recitation than that of the Prophet.

Urdu

ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے مسعر بن کدام نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ مجھ سے عدی بن ثابت نے کہا ۔ انھوں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا ، انھوں نے بیان کیا کہ

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عشاء میں «والتين والزيتون‏» پڑھتے سنا ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی آواز یا اچھی قرآت والا کسی کو نہیں پایا ۔

Hadith 770
Sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ لَقَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى الصَّلاَةِ‏.‏ قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ، وَلاَ آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ صَدَقْتَ، ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ، أَوْ ظَنِّي بِكَ‏.‏
English

Narrated Jabir bin Samura:

`Umar رضی اللہ عنہ said to Sa`d, "The people complained against you in everything, even in prayer." Sa`d replied, "Really I used to prolong the first two rak`at and shorten the last two and I will never shorten the prayer in which I follow Allah's Messenger (ﷺ)." `Umar said, "You are telling the truth and that is what I think about you."

Urdu

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ابوعون محمد بن عبداللہ ثقفی سے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ میں نے جابر بن سمرہ سے سنا ، انھوں نے بیان کیا کہ

امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کی شکایت کوفہ والوں نے تمام ہی باتوں میں کی ہے ، یہاں تک کہ نماز میں بھی ۔ انھوں نے کہا کہ میرا عمل تو یہ ہے کہ پہلی دو رکعات میں قرآت لمبی کرتا ہوں اور دوسری دو میں مختصر جس طرح میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تھی اس میں کسی قسم کی کمی نہیں کرتا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سچ کہتے ہو ۔ تم سے امید بھی اسی کی ہے ۔

Hadith 771
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلاَمَةَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي، عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ، فَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ وَيَرْجِعُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، وَلاَ يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَلاَ يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا، وَلاَ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَعْرِفُ جَلِيسَهُ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَوْ إِحْدَاهُمَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ‏.‏
English

Narrated Saiyar bin Salama:

My father and I went to Abu Barza-al-Aslami رضی اللہ عنہ to ask him about the stated times for the prayers. He replied, "The Prophet (ﷺ) used to offer the Zuhr prayer when the sun just declined from its highest position at noon; the `Asr at a time when if a man went to the farthest place in Medina (after praying) he would find the sun still hot (bright). (The sub narrator said: I have forgotten what Abu Barza said about the Maghrib prayer). The Prophet (ﷺ) never found any harm in delaying the `Isha' prayer to the first third of the night and he never liked to sleep before it and to talk after it. He used to offer the morning prayer at a time when after finishing it one could recognize the person sitting beside him and used to recite between 60 to 100 verses in one or both the rak`at."

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سیار ابن سلامہ نے بیان کیا ، انھوں نے بیان کیا کہ

میں اپنے باپ کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی صحابی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ۔ ہم نے آپ سے نماز کے وقتوں کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر پڑھتے تھے ۔ عصر جب پڑھتے تو مدینہ کے انتہائی کنارہ تک ایک شخص چلا جاتا ۔ لیکن سورج اب بھی باقی رہتا ۔ مغرب کے متعلق جو کچھ آپ نے کہا وہ مجھے یاد نہیں رہا اور عشاء کے لیے تہائی رات تک دیر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے اور آپ اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند کرتے تھے ۔ جب نماز صبح سے فارغ ہوتے تو ہر شخص اپنے قریب بیٹھے ہوئے کو پہچان سکتا تھا ۔ آپ دونوں رکعات میں یا ایک میں ساٹھ سے لے کر سو تک آیتیں پڑھتے ۔

Hadith 772
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ فِي كُلِّ صَلاَةٍ يُقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَنَّا أَخْفَيْنَا عَنْكُمْ، وَإِنْ لَمْ تَزِدْ عَلَى أُمِّ الْقُرْآنِ أَجْزَأَتْ، وَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Qur'an is recited in every prayer and in those prayers in which Allah's Messenger (ﷺ) recited aloud for us, we recite aloud in the same prayers for you; and the prayers in which the Prophet (ﷺ) recited quietly, we recite quietly. If you recite "Al-Fatiha" only it is sufficient but if you recite something else in addition, it is better.

Urdu

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں عبدالملک ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ فرماتے تھے کہ

ہر نماز میں قرآن مجید کی تلاوت کی جائے گی ۔ جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قرآن سنایا تھا ہم بھی تمہیں ان میں سنائیں گے اور جن نمازوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ قرآت کی ہم بھی ان میں آہستہ ہی قرآت کریں گے اور اگر سورۃ الفاتحہ ہی پڑھو جب بھی کافی ہے ، لیکن اگر زیادہ پڑھ لو تو اور بہتر ہے ۔

Hadith 773
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ، فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ‏.‏ فَقَالُوا مَا لَكُمْ فَقَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ‏.‏ قَالُوا مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ شَىْءٌ حَدَثَ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ فَانْصَرَفَ أُولَئِكَ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ بِنَخْلَةَ، عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهْوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلاَةَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ فَقَالُوا هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ‏.‏ فَهُنَالِكَ حِينَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ وَقَالُوا يَا قَوْمَنَا ‏{‏إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا * يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا‏}‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏قُلْ أُوحِيَ إِلَىَّ‏}‏ وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) set out with the intention of going to Suq `Ukaz (market of `Ukaz) along with some of his companions. At the same time, a barrier was put between the devils and the news of heaven. Fire commenced to be thrown at them. The Devils went to their people, who asked them, "What is wrong with you?" They said, "A barrier has been placed between us and the news of heaven. And fire has been thrown at us." They said, "The thing which has put a barrier between you and the news of heaven must be something which has happened recently. Go eastward and westward and see what has put a barrier between you and the news of heaven." Those who went towards Tuhama came across the Prophet at a place called Nakhla and it was on the way to Suq `Ukaz and the Prophet (ﷺ) was offering the Fajr prayer with his companions. When they heard the Qur'an they listened to it and said, "By Allah, this is the thing which has put a barrier between us and the news of heaven." They went to their people and said, "O our people; verily we have heard a wonderful recital (Qur'an) which shows the true path; we believed in it and would not ascribe partners to our Lord." Allah revealed the following verses to his Prophet (Sura 'Jinn') (72): "Say: It has been revealed to me." And what was revealed to him was the conversation of the Jinns.

Urdu

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے ابوبشر سے بیان کیا ، انہوں نے سعید بن جبیر سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ، انہوں نے کہا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف گئے ۔ ان دنوں شیاطین کو آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگارے ( شہاب ثاقب ) پھینکے جانے لگے تھے ۔ تو وہ شیاطین اپنی قوم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بات کیا ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا ہے اور ( جب ہم آسمان کی طرف جاتے ہیں تو ) ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں ۔ شیاطین نے کہا کہ آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کی کوئی نئی وجہ ہوئی ہے ۔ اس لیے تم مشرق و مغرب میں ہر طرف پھیل جاؤ اور اس سبب کو معلوم کرو جو تمہیں آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کا سبب ہوا ہے ۔ وجہ معلوم کرنے کے لیے نکلے ہوئے شیاطین تہامہ کی طرف گئے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عکاظ کے بازار کو جاتے ہوئے مقام نخلہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ نماز فجر پڑھ رہے تھے ۔ جب قرآن مجید انہوں نے سنا تو غور سے اس کی طرف کان لگا دئیے ۔ پھر کہا ۔ خدا کی قسم یہی ہے جو آسمان کی خبریں سننے سے روکنے کا باعث بنا ہے ۔ پھر وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور کہا قوم کے لوگو ! ہم نے حیرت انگیز قرآن سنا جو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے ۔ اس لیے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی «قل أوحي إلى‏» ( آپ کہیئے کہ مجھے وحی کے ذریعہ بتایا گیا ہے ) اور آپ پر جنوں کی گفتگو وحی کی گئی تھی ۔

Hadith 774
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُمِرَ وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ ، وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ . وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَؤُمُّهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَكَانَ كُلَّمَا افْتَتَحَ سُورَةً يَقْرَأُ بِهَا لَهُمْ فِي الصَّلاَةِ مِمَّا يَقْرَأُ بِهِ افْتَتَحَ بِ ـ ‏{‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ‏}‏ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا، ثُمَّ يَقْرَأُ سُورَةً أُخْرَى مَعَهَا، وَكَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَكَلَّمَهُ أَصْحَابُهُ فَقَالُوا إِنَّكَ تَفْتَتِحُ بِهَذِهِ السُّورَةِ، ثُمَّ لاَ تَرَى أَنَّهَا تُجْزِئُكَ حَتَّى تَقْرَأَ بِأُخْرَى، فَإِمَّا أَنْ تَقْرَأَ بِهَا وَإِمَّا أَنْ تَدَعَهَا وَتَقْرَأَ بِأُخْرَى‏.‏ فَقَالَ مَا أَنَا بِتَارِكِهَا، إِنْ أَحْبَبْتُمْ أَنْ أَؤُمَّكُمْ بِذَلِكَ فَعَلْتُ، وَإِنْ كَرِهْتُمْ تَرَكْتُكُمْ‏.‏ وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْ أَفْضَلِهِمْ، وَكَرِهُوا أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ، فَلَمَّا أَتَاهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ فَقَالَ ‏"‏ يَا فُلاَنُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَفْعَلَ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ أَصْحَابُكَ وَمَا يَحْمِلُكَ عَلَى لُزُومِ هَذِهِ السُّورَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ إِنِّي أُحِبُّهَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas:

The Prophet (ﷺ) recited aloud in the prayers in which he was ordered to do so and quietly in the prayers in which he was ordered to do so. And your Lord is not forgetful. Verily there was a good example for you in the ways of the Prophet. Anas said: Hadrat Anas رضی اللہ عنہ One of the Ansar used to lead the Ansar in Salat in the Quba' mosque and it was his habit to recite Qul Huwal-lahu Ahad whenever he wanted to recite something in Salat. When he finished that Surah, he would recite another one with it. He followed the same procedure in each Rak'a. His companions discussed this with him and said, "You recite this Surah and do not consider it sufficient and then you recite another. So would you recite it alone or leave it and recite some other." He said, "I will never leave it and if you want me to be your Imam on this condition then it is all right ; otherwise I will leave you." They knew that he was the best amongst them and they did not like someone else to lead them in Salat. When the Prophet (ﷺ) went to them as usual, they informed him about it. The Prophet (ﷺ) addressed him and said, "O so-and-so, what forbids you from doing what your companions ask you to do ? Why do you read this Surah particularly in every Rak'a ?" He repiled, "I love this Surah." The Prophet (ﷺ) said, "Your love for this Surah will make you enter Paradise."

Urdu

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے عکرمہ سے بیان کیا ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ، آپ نے بتلایا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جن نمازوں میں بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے کا حکم ہوا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں بلند آواز سے پڑھا اور جن میں آہستہ سے پڑھنے کا حکم ہوا تھا ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے پڑھا اور تیرا رب بھولنے والا نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے ۔ عبیداللہ بن عمر نے ثابت رضی اللہ عنہ سے انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ انصار میں سے ایک شخص ( کلثوم بن ہدم ) قباء کی مسجد میں لوگوں کی امامت کیا کرتا تھا ۔ وہ جب بھی کوئی سورۃ ( سورۃ الفاتحہ کے بعد ) شروع کرتا تو پہلے «قل هو الله أحد‏» پڑھ لیتا ۔ پھر کوئی دوسری سورۃ پڑھتا ۔ ہر رکعت میں اس کا یہی عمل تھا ۔ اس کے ساتھیوں نے اس سلسلے میں اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ تم پہلے یہ سورۃ پڑھتے ہو اور صرف اسی کو کافی خیال نہیں کرتے بلکہ دوسری سورۃ بھی ( اس کے ساتھ ) ضرور پڑھتے ہو ۔ یا تو تمہیں صرف اسی کو پڑھنا چاہئے ورنہ اسے چھوڑ دینا چاہئے اور بجائے اس کے کوئی دوسری سورۃ پڑھنی چاہئے ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اسے نہیں چھوڑ سکتا اب اگر تمہیں پسند ہے کہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں تو برابر پڑھتا رہوں گا ورنہ میں نماز پڑھانا چھوڑ دوں گا ۔ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ ان سب سے افضل ہیں اس لیے وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے علاوہ کوئی اور شخص نماز پڑھائے ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان لوگوں نے آپ کو واقعہ کی خبر دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا کر پوچھا کہ اے فلاں ! تمہارے ساتھی جس طرح کہتے ہیں اس پر عمل کرنے سے تم کو کون سی رکاوٹ ہے اور ہر رکعت میں اس سورۃ کو ضروری قرار دے لینے کا سبب کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ حضور ! میں اس سورۃ سے محبت رکھتا ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سورۃ کی محبت تمہیں جنت میں لے جائے گی ۔