Narrated Ibn `Abbas:
One night I slept at the house of my aunt Maimuna رضی اللہ عنہا and the Prophet (ﷺ) slept (too). He got up (for prayer) in the last hours of the night and performed a light ablution from a hanging leather skin. (`Amr, the sub-narrator described that the ablution was very light). Then he stood up for prayer and I got up too and performed the ablution in the same way and joined him on his left side. He pulled me to the right and prayed as much as Allah will. Then he lay down and slept and I heard his breath sounds till the Mu'adh-dhin came to him to inform him about the (Fajr) prayer. He left with him for the prayer and prayed without repeating the ablution. (Sufyan the sub-narrator said: We said to `Amr, "Some people say, 'The eyes of the Prophet (ﷺ) sleep but his heart never sleeps.' " `Amr said, "'Ubai bin `Umar said, 'The dreams of the Prophets are Divine Inspirations. Then he recited, '(O my son), I have seen in dream that I was slaughtering you (offering you in sacrifice).") (37.102)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے بیان کیا ، کہا کہ مجھے کریب نے خبر دی ابن عباس سے ، انہوں نے بیان کیا کہ
ایک رات میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں سویا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں سو گئے ۔ پھر رات کا ایک حصہ جب گزر گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ایک لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا سا وضو کیا ۔ عمرو ( راوی حدیث نے ) اس وضو کو بہت ہی ہلکا بتلایا ( یعنی اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت کم پانی استعمال فرمایا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اس کے بعد میں نے بھی اٹھ کر اسی طرح وضو کیا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے داہنی طرف پھیر دیا پھر اللہ تعالیٰ نے جتنا چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ رہے پھر سو گئے ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے ۔ آخر مؤذن نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ نماز کے لیے تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی مگر ( نیا ) وضو نہیں کیا سفیان نے کہا ۔ ہم نے عمرو بن دینار سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ( سوتے وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( صرف ) آنکھیں سوتی تھیں لیکن دل نہیں سوتا تھا ۔ عمرو بن دینار نے جواب دیا کہ میں نے عبید بن عمیر سے سنا وہ کہتے تھے کہ انبیاء کا خواب بھی وحی ہوتا ہے پھر عبید نے اس آیت کی تلاوت کی «إني أرى في المنام أني أذبحك» ( ترجمہ ) میں نے خواب دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
My grandmother Mulaika رضی اللہ عنہا invited Allah's Messenger (ﷺ) for a meal which she had prepared specially for him. He ate some of it and said, "Get up. I shall lead you in the prayer." I brought a mat that had become black owing to excessive use and I sprinkled water on it. Allah's Messenger (ﷺ) stood on it and prayed two rak`at; and the orphan was with me (in the first row), and the old lady stood behind us.
ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے بیان کیا ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
( ان کی ماں ) اسحاق کی دادی ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا جسے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بطور ضیافت تیار کیا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا پھر فرمایا کہ چلو میں تمہیں نماز پڑھا دوں ۔ ہمارے یہاں ایک بوریا تھا جو پرانا ہونے کی وجہ سے سیاہ ہو گیا تھا ۔ میں نے اسے پانی سے صاف کیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ( پیچھے ) میرے ساتھ یتیم لڑکا ( ضمیرہ بن سعد ) کھڑا ہوا ۔ میری بوڑھی دادی ( ملیکہ ام سلیم ) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Once I came riding a she-ass and I, then, had just attained the age of puberty. Allah's Messenger (ﷺ) was leading the people in prayer at Mina facing no wall. I passed in front of the row and let loose the sheass for grazing and joined the row and no one objected to my deed.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ، آپ نے فرمایا کہ
میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا ۔ ابھی میں جوانی کے قریب تھا ( لیکن بالغ نہ تھا ) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دیوار وغیرہ ( آڑ ) نہ تھی ۔ میں صف کے ایک حصے کے آگے سے گزر کر اترا ۔ گدھی چرنے کے لیے چھوڑ دی اور خود صف میں شامل ہو گیا ۔ کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا ( حالانکہ میں نابالغ تھا ) ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) delayed the 'Isha' prayer. Urwa (with another chain) reports that Hadrat Aisha said: Once Allah's Messenger (ﷺ) delayed the `Isha' prayer till `Umar informed him that the women and children had slept. Then Allah's Messenger (ﷺ) came out and said: "None from amongst the dwellers of earth have prayed this prayer except you." In those days none but the people of Medina prayed.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء میں دیر کی اور عیاش نے ہم سے عبد الاعلیٰ سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے معمر نے زہری سے بیان کیا ، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں ایک مرتبہ دیر کی ۔ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آواز دی کہ عورتیں اور بچے سو گئے ۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور فرمایا کہ ( اس وقت ) روئے زمین پر تمہارے سوا اور کوئی اس نماز کو نہیں پڑھتا ، اس زمانہ میں مدینہ والوں کے سوا اور کوئی نماز نہیں پڑھتا تھا ۔
Narrated A person asked Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
"Have you ever presented yourself at the (`Id) prayer with Allah's Apostle (ﷺ) ?" He replied, "Yes." And had it not been for my kinship (position) with the Prophet (ﷺ) it would not have been possible for me to do so (for he was too young). The Prophet (ﷺ) went to the mark near the house of Kathir bin As-Salt and delivered a sermon. He then went towards the women. He advised and reminded them and asked them to give alms. So the woman would bring her hand near her neck and take off her necklace and put it in the garment of Bilal رضی اللہ عنہما . Then the Prophet (ﷺ) and Bilal رضی اللہ عنہما came to the house."
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا اور ان سے ایک شخص نے یہ پوچھا تھا کہ
کیا تم نے ( عورتوں کا ) نکلنا عید کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں دیکھا ہے اگر میں آپ کا رشتہ دار عزیز نہ ہوتا تو کبھی نہ دیکھتا ( یعنی میری کم سنی اور قرابت کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو اپنے ساتھ رکھتے تھے ) کثیر بن صلت کے مکان کے پاس جو نشان ہے پہلے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سنایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس تشریف لائے اور انہیں بھی وعظ و نصیحت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خیرات کرنے کے لیے کہا ، چنانچہ عورتوں نے اپنے چھلے اور انگوٹھیاں اتار اتار کر بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنی شروع کر دیے ۔ آخر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ گھر تشریف لائے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Once Allah's Messenger (ﷺ) delayed the `Isha' prayer till `Umar رضی اللہ عنہ informed him that the women and children had slept. The Prophet (ﷺ) came out and said, "None except you from amongst the dwellers of earth is waiting for this prayer." In those days, there was no prayer except in Medina and they used to pray the `Isha' prayer between the disappearance of the twilight and the first third of the night.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عشاء کی نماز میں اتنی دیر کی کہ عمر رضی اللہ عنہ کو کہنا پڑا کہ عورتیں اور بچے سو گئے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حجرے سے ) تشریف لائے اور فرمایا کہ دیکھو روئے زمین پر اس نماز کا ( اس وقت ) تمہارے سوا اور کوئی انتظار نہیں کر رہا ہے ۔ ان دنوں مدینہ کے سوا اور کہیں نماز نہیں پڑھی جاتی تھی اور لوگ عشاء کی نماز شفق ڈوبنے کے بعد سے رات کی پہلی تہائی گزرنے تک پڑھا کرتے تھے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "If your women ask permission to go to the mosque at night, allow them."
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے حنظلہ بن ابی سفیان سے بیان کیا ، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر نے ، ان سے ان کے باپ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری بیویاں تم سے رات میں مسجد آنے کی اجازت مانگیں تو تم لوگ انہیں اس کی اجازت دے دیا کرو ۔ عبیداللہ کے ساتھ اس حدیث کو شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کیا ، انہوں نے مجاہد سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
Narrated: Hadrat Hind bint Harith:
Um Salama (the wife of the Prophet) رضی اللہ عنہا In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) the women used to get up when they finished their compulsory prayers with Taslim. The Prophet (ﷺ) and the men would stay on at their places as long as Allah will. When the Prophet (ﷺ) got up, the men would then get up.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہمیں یونس بن یزید نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ مجھے ہند بنت حارث نے خبر دی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں فرض نماز سے سلام پھیرنے کے فوراً بعد ( باہر آنے کے لیے ) اٹھ جاتی تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مرد نماز کے بعد اپنی جگہ بیٹھے رہتے ۔ جب تک اللہ کو منظور ہوتا ۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تو دوسرے مرد بھی کھڑے ہو جاتے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
When Allah's Messenger (ﷺ) finished the Fajr prayer, the women would leave covered in their sheets and were not recognized owing to the darkness.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے بیان کیا ، ( دوسری سند ) اور ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہیں امام مالک رحمہ اللہ نے یحییٰ بن سعید انصاری سے خبر دی ، انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے ، ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ لیتے پھر عورتیں چادریں لپیٹ کر ( اپنے گھروں کو ) واپس ہو جاتی تھیں ۔ اندھیرے سے ان کی پہچان نہ ہو سکتی ۔
Narrated `Abu Qatada:
"Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whenever I stand for prayer, I want to prolong it but on hearing the cries of a child, I would shorten it as I dislike to put its mother in trouble."
ہم سے محمد بن مسکین نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے بشر بن بکر نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں امام اوزاعی نے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ انصاری نے ، ان سے ان کے والد ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں ، میرا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز لمبی کروں لیکن کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز کو مختصر کر دیتا ہوں کہ مجھے اس کی ماں کو تکلیف دینا برا معلوم ہوتا ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Had Allah's Messenger (ﷺ) known what the women were doing, he would have forbidden them from going to the mosque as the women of Bani Israel had been forbidden. Yahya bin Sa`id (a sub-narrator) asked `Amra (another sub-narrator), "Were the women of Bani Israel forbidden?" She replied "Yes."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے یحییٰ بن سعید سے خبر دی ، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے ، ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ، انہوں نے فرمایا کہ
آج عورتوں میں جو نئی باتیں پیدا ہو گئی ہیں اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ لیتے تو ان کو مسجد میں آنے سے روک دیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا ۔ میں نے پوچھا کہ کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں ۔
Narrated Um Salama رضی اللہ عنہا :
Whenever Allah's Messenger (ﷺ) completed the prayer with Taslim, the women used to get up immediately and Allah's Messenger (ﷺ) would remain at his place for someone before getting up. (The sub-narrator (Az- Zuhri) said, "We think, and Allah knows better, that he did so, so that the women might leave before men could get in touch with them).
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے زہری سے بیان کیا ، ان سے ہند بنت حارث نے بیان کیا ، اس سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ، انہوں نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرتے ہی عورتیں جانے کے لیے اٹھ جاتی تھیں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے کھٹرے نہ ہوتے ۔ زہری نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں ، آگے اللہ جانے ، یہ اس لیے تھا تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے نکل جائیں ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) prayed in the house of Um Sulaim; and I, along with an orphan stood behind him while Um Sulaim رضی اللہ عنہا (stood) behind us.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے ، ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میری ماں ) ام سلیم کے گھر میں نماز پڑھائی ۔ میں اور یتیم مل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے تھیں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) used to offer the Fajr prayer when it was still dark and the believing women used to return (after finishing their prayer) and nobody could recognize them owing to darkness, or they could not recognize one another.
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے فلیح بن سلیمان نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے بیان کیا ، ان سے اس کے باپ ( قاسم بن محمد بن ابی بکر ) نے ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز منہ اندھیرے پڑھتے تھے ۔ مسلمانوں کی عورتیں جب ( نماز پڑھ کر ) واپس ہوتیں تو اندھیرے کی وجہ سے ان کی پہچان نہ ہوتی یا وہ ایک دوسری کو نہ پہچان سکتیں ۔
Narrated The father of Salim bin `Abdullah:
"The Prophet (ﷺ) said, 'If the wife of any one of you asks permission (to go to the mosque) do not forbid her."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، ان سے معمر نے ، ان سے زہری نے ، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر نے ، ان سے ان کے باپ نے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کی بیوی ( نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آنے کی ) اس سے اجازت مانگے تو شوہر کو چاہیے کہ اس کو نہ روکے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) prayed in the house of Um Sulaim; and I, along with an orphan stood behind him while Um Sulaim رضی اللہ عنہا (stood) behind us.
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے ، ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میری ماں ) ام سلیم کے گھر میں نماز پڑھائی ۔ میں اور یتیم مل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے تھیں ۔
Narrated Umm Salama رضی اللہ عنہا :
Whenever Allah's Messenger (ﷺ) completed the Salat with Taslim, the women used to get up immediately and Allah's Messenger (ﷺ) would remain at his place for sometime before getting up. The subnarrator (Az-Zuhri) said, "We think, and Allah knows better, that he did so, so that the women might leave before the men could catch up with them."
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے زہری سے بیان کیا ، ان سے ہند بنت حارث نے بیان کیا ، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ، انہوں نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرتے ہی عورتیں جانے کے لیے اٹھ جاتی تھیں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے کھڑے نہ ہوتے ۔ زہری نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں ، آگے اللہ جانے ، یہ اس لیے تھا تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے نکل جائیں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) in his prayer seeking refuge with Allah from the afflictions of Ad-Dajjal.
اور اسی سند کے ساتھ زہری سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے سنا ۔
Ibn Shihab wrote that he had heard it from Hind bint Al-Harith Al-Firasiya from Um Salama, the wife of the Prophet (Hind was from the companions of Um Salama) who said, "When the Prophet (ﷺ) finished the prayer with Taslim, the women would depart and enter their houses before Allah's Messenger (ﷺ) departed."
اور ابوسعید بن ابی مریم نے کہا کہ ہمیں نافع بن یزید نے خبر دی انہوں نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا کہ ابن شہاب زہری نے انہیں لکھ بھیجا کہ مجھ سے ہند بنت حارث فراسیہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ( ہندان کی صحبت میں رہتی تھیں ) انہوں نے فرمایا کہ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو عورتیں لوٹ کر جانے لگتیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اٹھنے سے پہلے اپنے گھروں میں داخل ہو چکی ہوتیں ۔