Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
When the Prophet (ﷺ) said, "Sami`a l-lahu liman hamidah," (Allah heard those who sent praises to Him), he would say, "Rabbana wa laka l-hamd." On bowing and raising his head from it the Prophet (ﷺ) used to say Takbir. He also used to say Takbir on rising after the two prostrations. (See Hadith No. 656).
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، انہوں نے سعید مقبری سے بیان کیا ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تو اس کے بعد «اللهم ربنا ولك الحمد» بھی کہتے ۔ اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے اور سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے ۔ دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم «الله أكبر» کہا کرتے تھے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When the Imam says, "Sami`a l-lahu liman hamidah," you should say, "Allahumma Rabbana laka l-hamd." And if the saying of any one of you coincides with that of the angels, all his past sins will be forgiven."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے سمی سے خبر دی ، انہوں نے ابوصالح ذکوان کے واسطے سے بیان کیا ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا ولك الحمد» کہو ۔ کیونکہ جس کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے کے ساتھ ہو گا ، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
"No doubt, my Salat is similar to that of the Prophet (ﷺ)." Abu Hurairah رضی اللہ عنہ used to recite Qunut after saying Sami' Allahu liman hamida in the last Rak'a of the Zuhr, Isha and Fajr Prayers. He would ask Allah's Forgiveness for the true believers and curse the disbelievers.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا ، انہوں نے ہشام دستوائی سے ، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے کہا کہ
لو میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے قریب قریب کر دوں گا ۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، ظہر ، عشاء اور صبح کی آخری رکعات میں قنوت پڑھا کرتے تھے ۔ «سمع الله لمن حمده» کے بعد ۔ یعنی مومنین کے حق میں دعا کرتے اور کفار پر لعنت بھیجتے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The qunut [supplication before going down for prostration] used to be recited in the Maghrib and the Fajr prayers.
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ، انہوں نے خالد بن حذاء سے بیان کیا ، انہوں نے ابوقلابہ ( عبداللہ بن زید ) سے ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ
آپ نے فرمایا کہ دعا قنوت فجر اور مغرب کی نمازوں میں پڑھی جاتی ہے ۔
Narrated Rifa`a bin Rafi` Az-Zuraqi:
One day we were praying behind the Prophet. When he raised his head from bowing, he said, "Sami`a l-lahu liman hamidah." A man behind him said, "Rabbana wa laka l-hamdu, hamdan kathiran taiyiban mubarakan fihi" (O our Lord! All the praises are for You, many good and blessed praises). When the Prophet completed the prayer, he asked, "Who has said these words?" The man replied, "I." The Prophet said, "I saw over thirty angels competing to write it first." Prophet rose (from bowing) and stood straight till all the vertebrae of his spinal column came to a natural position.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نعیم بن عبداللہ مجمر سے ، انہوں نے علی بن یحییٰ بن خلاد زرقی سے ، انہوں نے اپنے باپ سے ، انہوں نے رفاعہ بن رافع زرقی سے ، انہوں نے کہا کہ
ہم ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے ۔ جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده » کہتے ۔ ایک شخص نے پیچھے سے کہا «ربنا ولك الحمد ، حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر دریافت فرمایا کہ کس نے یہ کلمات کہے ہیں ، اس شخص نے جواب دیا کہ میں نے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا کہ ان کلمات کو لکھنے میں وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتے تھے ۔ ( اس سے ان کلمات کی فضیلت ثابت ہوئی ) ۔
Narrated Thabit:
Anas رضی اللہ عنہ used to demonstrate to us the prayer of the Prophet (ﷺ) and while demonstrating, he used to raise his head from bowing and stand so long that we would say that he had forgotten (the prostration).
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ثابت بنانی سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ بتلاتے تھے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ ہم سوچنے لگتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں ۔
Narrated Al-Bara' رضی اللہ عنہ :
The bowing, the prostrations, the period of standing after bowing and the interval between the two prostrations of the Prophet (ﷺ) used to be equal in duration .
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حکم سے بیان کیا ، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے ، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے کہا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع ، سجدہ ، رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور دونوں سجدوں کے درمیان کا بیٹھنا تقریباً برابر ہوتا تھا ۔
Narrated Abu Qilaba:
"Malik bin Huwairith رضی اللہ عنہ used to demonstrate to us the prayer of the Prophet (ﷺ) at times other than that of the compulsory prayers. So (once) he stood up for prayer and performed a perfect Qiyam (standing and reciting from the Holy Qur'an) and then bowed and performed bowing perfectly; then he raised his head and stood straight for a while." Abu Qilaba added, "Malik bin Huwairith رضی اللہ عنہ in that demonstration prayed like this Sheikh of ours, Abu Yazid." Abu, Yazid used to sit (for a while) on raising his head from the second prostration before getting up.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، انہوں نے ایوب سختیانی سے ، انہوں نے ابوقلابہ سے کہ
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمیں ( نماز پڑھ کر ) دکھلاتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے اور یہ نماز کا وقت نہیں تھا ۔ چنانچہ آپ ( ایک مرتبہ ) کھڑے ہوئے اور پوری طرح کھڑے رہے ۔ پھر جب رکوع کیا اور پوری طمانیت کے ساتھ سر اٹھایا تب بھی تھوڑی دیر سیدھے کھڑے رہے ۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ مالک رضی اللہ عنہ نے ہمارے اس شیخ ابویزید کی طرح نماز پڑھائی ۔ ابویزید جب دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو پہلے اچھی طرح بیٹھ لیتے پھر کھڑے ہوتے ۔
Narrated Abu Bakr bin `Abdur Rahman Ibn Harith bin Hisham and Abu Salama bin `Abdur Rahman:
Abu Huraira used to say Takbir in all the prayers, compulsory and optional -- in the month of Ramadan or other months. He used to say Takbir on standing for prayer and on bowing; then he would say, "Sami`a l-lahu liman hamidah," and before prostrating he would say "Rabbana wa laka lhamd." Then he would say Takbir on prostrating and on raising his head from the prostration, then another Takbir on prostrating (for the second time), and on raising his head from the prostration. He also would say the Takbir on standing from the second rak`a. He used to do the same in every rak`a till he completed the prayer. On completion of the prayer, he would say, "By Him in Whose Hands my soul is! No doubt my prayer is closer to that of Allah's Messenger (ﷺ) than yours, and this was His prayer till he left this world."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے کہا کہ مجھ کو ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تمام نمازوں میں تکبیر کہا کرتے تھے ۔ خواہ فرض ہوں یا نہ ہوں ۔ رمضان کا مہینہ ہو یا کوئی اور مہینہ ہو ، چنانچہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے ، رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے ۔ پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے اور اس کے بعد «ربنا ولك الحمد» سجدہ سے پہلے ، پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو «الله أكبر» کہتے ۔ پھر سجدہ سے سر اٹھاتے تو «الله أكبر» کہتے ۔ پھر دوسرا سجدہ کرتے وقت «الله أكبر» کہتے ۔ اسی طرح سجدہ سے سر اٹھاتے تو «الله أكبر» کہتے ۔ دو رکعات کے بعد قعدہ اولیٰ کرنے کے بعد جب کھڑے ہوتے تب بھی تکبیر کہتے اور آپ ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہونے تک ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرماتے کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم میں سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ ہوں ۔ اور آپ اسی طرح نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
"When Allah's Messenger (ﷺ) raised his head from (bowing) he used to say "Sami`a l-lahu liman hamidah, Rabbana wa laka l-hamd." He Would invoke Allah for some people by naming them"O Allah! Save Al-Walid bin Al-Walid and Salama bin Hisham and `Aiyash bin Abi Rabi`a and the weak and the helpless people among the faithful believers O Allah! Be hard on the tribe of Mudar and let them suffer from famine years like that of the time of Joseph." In those days the Eastern section of the tribe of Mudar was against the Prophet.
ابوبکر اور ابوسلمہ دونوں نے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سرمبارک ( رکوع سے ) اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده ، ربنا ولك الحمد» کہہ کر چند لوگوں کے لیے دعائیں کرتے اور نام لے لے کر فرماتے ۔ یا اللہ ولید بن ولید ، سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ابی ربیعہ اور تمام کمزور مسلمانوں کو ( کفار سے ) نجات دے ۔ اے اللہ ! قبیلہ مضر کے لوگوں کو سختی کے ساتھ کچل دے اور ان پر قحط مسلط کر جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں آیا تھا ۔ ان دنوں پورب والے قبیلہ مضر کے لوگ مخالفین میں تھے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) fell from a horse and the right side of his body was injured. We went to inquire about his health meanwhile it was time for the prayer and he led the prayer sitting and we also prayed while sitting. On completion of the prayer he said, "The Imam is to be followed; say Takbir when he says it; bow when he bows; rise when he rises and when he says "Sami`a l-lahu liman hamidah," say, "Rabbana wa laka l-hamd", and prostrate if he prostrates." Sufyan narrated the same from Ma`mar. Ibn Juraij said that his (the Prophet's) right leg had been injured.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے باربار زہری سے یہ بیان کیا کہ انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے زمین پر گر گئے ۔ سفیان نے اکثر ( بجائے عن فرس کے ) من فرس کہا ۔ اس گرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عیادت کی غرض سے حاضر ہوئے ۔ اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی ۔ ہم بھی بیٹھ گئے ۔ سفیان نے ایک مرتبہ کہا کہ ہم نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھی ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ۔ اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو ۔ جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ۔ جب سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو ۔ ( سفیان نے اپنے شاگرد علی بن مدینی سے پوچھا کہ ) کیا معمر نے بھی اسی طرح حدیث بیان کی تھی ۔ ( علی کہتے ہیں کہ ) میں نے کہا جی ہاں ۔ اس پر سفیان بولے کہ معمر کو حدیث یاد تھی ۔ زہری نے یوں کہا «ولك الحمد» ۔ سفیان نے یہ بھی کہا کہ مجھے یاد ہے کہ زہری نے یوں کہا آپ کا دایاں بازو چھل گیا تھا ۔ جب ہم زہری کے پاس سے نکلے ابن جریج نے کہا میں زہری کے پاس موجود تھا تو انہوں نے یوں کہا کہ آپ کی داہنی پنڈلی چھل گئی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we see our Lord on the Day of Resurrection?" He replied, "Do you have any doubt in seeing the full moon on a clear (not cloudy) night?" They replied, "No, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "Do you have any doubt in seeing the sun when there are no clouds?" They replied in the negative. He said, "You will see Allah (your Lord) in the same way. On the Day of Resurrection, people will be gathered and He will order the people to follow what they used to worship. So some of them will follow the sun, some will follow the moon, and some will follow other deities; and only this nation (Muslims) will be left with its hypocrites. Allah will come to them and say, 'I am Your Lord.' They will say, 'We shall stay in this place till our Lord comes to us and when our Lord will come, we will recognize Him. Then Allah will come to them again and say, 'I am your Lord.' They will say, 'You are our Lord.' Allah will call them, and As-Sirat (a bridge) will be laid across Hell and I (Muhammad) shall be the first amongst the Apostles to cross it with my followers. Nobody except the Apostles will then be able to speak and they will be saying then, 'O Allah! Save us. O Allah Save us.' There will be hooks like the thorns of Sa'dan [??] in Hell. Have you seen the thorns of Sa'dan [??]?" The people said, "Yes." He said, "These hooks will be like the thorns of Sa'dan [??] but nobody except Allah knows their greatness in size and these will entangle the people according to their deeds; some of them will fall and stay in Hell forever; others will receive punishment (torn into small pieces) and will get out of Hell, till when Allah intends mercy on whomever He likes amongst the people of Hell, He will order the angels to take out of Hell those who worshipped none but Him alone. The angels will take them out by recognizing them from the traces of prostrations, for Allah has forbidden the (Hell) fire to eat away those traces. So they will come out of the Fire, it will eat away from the whole of the human body except the marks of the prostrations. At that time they will come out of the Fire as mere skeletons. The Water of Life will be poured on them and as a result they will grow like the seeds growing on the bank of flowing water. Then when Allah had finished from the Judgments amongst his creations, one man will be left between Hell and Paradise and he will be the last man from the people of Hell to enter paradise. He will be facing Hell, and will say, 'O Allah! Turn my face from the fire as its wind has dried me and its steam has burnt me.' Allah will ask him, "Will you ask for anything more in case this favor is granted to you?' He will say, "No by Your (Honor) Power!" And he will give to his Lord (Allah) what he will of the pledges and the covenants. Allah will then turn his face from the Fire. When he will face Paradise and will see its charm, he will remain quiet as long as Allah will. He then will say, 'O my Lord! Let me go to the gate of Paradise.' Allah will ask him, 'Didn't you give pledges and make covenants (to the effect) that you would not ask for anything more than what you requested at first?' He will say, 'O my Lord! Do not make me the most wretched, amongst Your creatures.' Allah will say, 'If this request is granted, will you then ask for anything else?' He will say, 'No! By Your Power! I shall not ask for anything else.' Then he will give to his Lord what He will of the pledges and the covenants. Allah will then let him go to the gate of Paradise. On reaching then and seeing its life, charm, and pleasure, he will remain quiet as long as Allah wills and then will say, 'O my Lord ! Let me enter Paradise.' Allah will say, May Allah be merciful unto you, O son of Adam! How treacherous you are! Haven't you made covenants and given pledges that you will not ask for anything more that what you have been given?' He will say, 'O my Lord! Do not make me the most wretched amongst Your creatures.' So Allah will laugh and allow him to enter Paradise and will ask him to request as much as he likes. He will do so till all his desires have been fulfilled . Then Allah will say, 'Request more of such and such things.' Allah will remind him and when all his desires and wishes; have been fulfilled, Allah will say "All this is granted to you and a similar amount besides." Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ , said to Abu Huraira رضی اللہ عنہ , 'Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah said, 'That is for you and ten times more like it.' "Abu Huraira رضی اللہ عنہ said, "I do not remember from Allah's Messenger (ﷺ) except (his saying), 'All this is granted to you and a similar amount besides." Abu Sa`id رضی اللہ عنہ said, "I heard him saying, 'That is for you and ten times more the like of it."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن مسیب اور عطاء بن یزید لیثی نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ
لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت میں دیکھ سکیں گے ؟ آپ نے ( جواب کے لیے ) پوچھا ، کیا تمہیں چودھویں رات کے چاند کے دیکھنے میں جب کہ اس کے قریب کہیں بادل بھی نہ ہو شبہ ہوتا ہے ؟ لوگ بولے ہرگز نہیں یا رسول اللہ ! پھر آپ نے پوچھا اور کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں جب کہ اس کے قریب کہیں بادل بھی نہ ہو شبہ ہوتا ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ ! پھر آپ نے فرمایا کہ رب العزت کو تم اسی طرح دیکھو گے ۔ لوگ قیامت کے دن جمع کئے جائیں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو جسے پوجتا تھا وہ اس کے ساتھ ہو جائے ۔ چنانچہ بہت سے لوگ سورج کے پیچھے ہو لیں گے ، بہت سے چاند کے اور بہت سے بتوں کے ساتھ ہو لیں گے ۔ یہ امت باقی رہ جائے گی ۔ اس میں منافقین بھی ہوں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک نئی صورت میں آئے گا اور ان سے کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں ۔ وہ منافقین کہیں گے کہ ہم یہیں اپنے رب کے آنے تک کھڑے رہیں گے ۔ جب ہمارا رب آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے ۔ پھر اللہ عزوجل ان کے پاس ( ایسی صورت میں جسے وہ پہچان لیں ) آئے گا اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں ۔ وہ بھی کہیں گے کہ بیشک تو ہمارا رب ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ بلائے گا ۔ پل صراط جہنم کے بیچوں بیچ رکھا جائے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اپنی امت کے ساتھ اس سے گزرنے والا سب سے پہلا رسول ہوں گا ۔ اس روز سوا انبیاء کے کوئی بھی بات نہ کر سکے گا اور انبیاء بھی صرف یہ کہیں گے ۔ اے اللہ ! مجھے محفوظ رکھیو ! اے اللہ ! مجھے محفوظ رکھیو ! اور جہنم میں سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکس ہوں گے ۔ سعدان کے کانٹے تو تم نے دیکھے ہوں گے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہا ہاں ! ( آپ نے فرمایا ) تو وہ سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے ۔ البتہ ان کے طول و عرض کو سوا اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا ۔ یہ آنکس لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق کھینچ لیں گے ۔ بہت سے لوگ اپنے عمل کی وجہ سے ہلاک ہوں گے ۔ بہت سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ۔ پھر ان کی نجات ہو گی ۔ جہنمیوں میں سے اللہ تعالیٰ جس پر رحم فرمانا چاہے گا تو ملائکہ کو حکم دے گا کہ جو خالص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرتے تھے انہیں باہر نکال لو ۔ چنانچہ ان کو وہ باہر نکالیں گے اور موحدوں کو سجدے کے آثار سے پہچانیں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم پر سجدہ کے آثار کا جلانا حرام کر دیا ہے ۔ چنانچہ یہ جب جہنم سے نکالے جائیں گے تو اثر سجدہ کے سوا ان کے جسم کے تمام ہی حصوں کو آگ جلا چکی ہو گی ۔ جب جہنم سے باہر ہوں گے تو بالکل جل چکے ہوں گے ۔ اس لیے ان پر آب حیات ڈالا جائے گا ۔ جس سے وہ اس طرح ابھر آئیں گے ۔ جیسے سیلاب کے کوڑے کرکٹ پر سیلاب کے تھمنے کے بعد سبزہ ابھر آتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا ۔ لیکن ایک شخص جنت اور دوزخ کے درمیان اب بھی باقی رہ جائے گا ۔ یہ جنت میں داخل ہونے والا آخری دوزخی شخص ہو گا ۔ اس کا منہ دوزخ کی طرف ہو گا ۔ اس لیے کہے گا کہ اے میرے رب ! میرے منہ کو دوزخ کی طرف سے پھیر دے ۔ کیونکہ اس کی بدبو مجھ کو مارے ڈالتی ہے اور اس کی چمک مجھے جلائے دیتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اگر تیری یہ تمنا پوری کر دوں تو تو دوبارہ کوئی نیا سوال تو نہیں کرے گا ؟ بندہ کہے گا نہیں تیری بزرگی کی قسم ! اور جیسے جیسے اللہ چاہے گا وہ قول و قرار کرے گا ۔ آخر اللہ تعالیٰ جہنم کی طرف سے اس کا منہ پھیر دے گا ۔ جب وہ جنت کی طرف منہ کرے گا اور اس کی شادابی نظروں کے سامنے آئی تو اللہ نے جتنی دیر چاہا وہ چپ رہے گا ۔ لیکن پھر بول پڑے گا اے اللہ ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب پہنچا دے ۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا تو نے عہد و پیمان نہیں باندھا تھا کہ اس ایک سوال کے سوا اور کوئی سوال تو نہیں کرے گا ۔ بندہ کہے گا اے میرے رب ! مجھے تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بدنصیب نہ ہونا چاہئے ۔ اللہ رب العزت فرمائے گا کہ پھر کیا ضمانت ہے کہ اگر تیری یہ تمنا پوری کر دی گئی تو دوسرا کوئی سوال تو نہیں کرے گا ۔ بندہ کہے گا نہیں تیری عزت کی قسم اب دوسرا سوال کوئی تجھ سے نہیں کروں گا ۔ چنانچہ اپنے رب سے ہر طرح عہد و پیمان باندھے گا اور جنت کے دروازے تک پہنچا دیا جائے گا ۔ دروازہ پر پہنچ کر جب جنت کی پنہائی ، تازگی اور مسرتوں کو دیکھے گا تو جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ بندہ چپ رہے گا ۔ لیکن آخر بول پڑے گا کہ اے اللہ ! مجھے جنت کے اندر پہنچا دے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ۔ افسوس اے ابن آدم ! تو ایسا دغاباز کیوں بن گیا ؟ کیا ( ابھی ) تو نے عہد و پیمان نہیں باندھا تھا کہ جو کچھ مجھے دیا گیا ، اس سے زیادہ اور کچھ نہ مانگوں گا ۔ بندہ کہے گا اے رب ! مجھے اپنی سب سے زیادہ بدنصیب مخلوق نہ بنا ۔ اللہ پاک ہنس دے گا اور اسے جنت میں بھی داخلہ کی اجازت عطا فرما دے گا اور پھر فرمائے گا مانگ کیا ہے تیری تمنا ۔ چنانچہ وہ اپنی تمنائیں ( اللہ تعالیٰ کے سامنے ) رکھے گا اور جب تمام تمنائیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ فلاں چیز اور مانگو ، فلاں چیز کا مزید سوال کرو ۔ خود اللہ پاک ہی یاددہانی کرائے گا ۔ اور جب وہ تمام تمنائیں پوری ہو جائیں گی تو فرمائے گا کہ تمہیں یہ سب اور اتنی ہی اور دی گئیں ۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اور اس سے دس گنا اور زیادہ تمہیں دی گئیں ۔ اس پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی بات صرف مجھے یاد ہے کہ تمہیں یہ تمنائیں اور اتنی ہی اور دی گئیں ۔ لیکن حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کو یہ کہتے سنا تھا کہ یہ اور اس کی دس گنا تمنائیں تجھ کو دی گئیں ۔
Narrated `Abdullah bin Malik bin Buhaina:
When the Prophet (ﷺ) used to offer prayer he used to keep arms away (from the body) so that the whiteness of his armpits was visible. Laith said: Jaafar bin Rabiah narrated the Hadith to me in the same way.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے بکر بن مضر نے جعفر بن ربیعہ سے بیان کیا ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہرمز سے ، انہوں نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے سجدے میں اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر پھیلا دیتے کہ بغل کی سفیدی ظاہر ہو جاتی تھی ۔ لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے بھی جعفر بن ربیعہ نے اسی طرح حدیث بیان کی ۔
Narrated Hudhaifa رضی اللہ عنہ :
"I saw a person not performing his bowing and prostrations perfectly. When he completed the prayer, I told him that he had not prayed." Abu Wail said, I think that Hudhaifa added (i.e. said to the man), "If you died, you would have died on a tradition other than that of the Prophet Muhammad (ﷺ)."
ہم سے صلت بن محمد بصریٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے واصل سے بیان کیا ، انہوں نے ابووائل سے ، انہوں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہ
انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور سجدہ پوری طرح نہیں کرتا تھا ۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ تو نے نماز ہی نہیں پڑھی ۔ ابووائل نے کہا کہ مجھے یاد آتا ہے کہ حذیفہ نے یہ فرمایا کہ اگر تم مر گئے تو تمہاری موت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق پر نہیں ہو گی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) was ordered (by Allah) to prostrate on seven parts and not to tuck up the clothes or hair (while praying). Those parts are: the forehead (along with the tip of nose), both hands, both knees, and (toes of) both feet.
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے بیان کیا ، انہوں نے طاؤس سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ، آپ نے بتلایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کا حکم دیا گیا ۔ اس طرح کہ نہ بالوں کو اپنے سمیٹتے نہ کپڑے کو ( وہ سات اعضاء یہ ہیں ) پیشانی ( مع ناک ) دونوں ہاتھ ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "We have been ordered to prostrates on seven bones and not to tuck up the clothes or hair."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے ، انہوں نے عمرو سے ، انہوں نے طاؤس سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں سات اعضاء پر اس طرح سجدہ کا حکم ہوا ہے کہ ہم نہ بال سمیٹیں نہ کپڑے ۔
Narrated Al-Bara' bin `Azib رضی اللہ عنہ (He was not a liar) :
We used to pray behind the Prophet (ﷺ) and when he said, "Sami`a l-lahu liman hamidah", none of us would bend his back (to go for prostration) till the Prophet (ﷺ) had placed his, forehead on the ground.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسرائیل نے ابواسحاق سے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے ، انہوں نے کہا کہ ہم سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، وہ جھوٹ نہیں بول سکتے تھے ۔ آپ نے فرمایا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھتے تھے ۔ جب آپ «سمع الله لمن حمده» کہتے ( یعنی رکوع سے سر اٹھاتے ) تو ہم میں سے کوئی اس وقت تک اپنی پیٹھ نہ جھکاتا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ دیتے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "I have been ordered to prostrate on seven bones i.e. on the forehead along with the tip of the nose and the Prophet (ﷺ) pointed towards his nose, both hands, both knees and the toes of both feet and not to gather the clothes or the hair."
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن طاؤس سے ، انہوں نے اپنے باپ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے ۔ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر ۔ اس طرح کہ ہم نہ کپڑے سمیٹیں نہ بال ۔
Narrated Abu Salama:
Once I went to Abu- Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ and asked him, "Won't you come with us to the date-palm trees to have a talk?" So Abu Sa`id went out and I asked him, "Tell me what you heard from the Prophet (ﷺ) about the Night of Qadr." Abu Sa`id replied, "Once Allah's Messenger (ﷺ) performed I`tikaf (seclusion) on the first ten days of the month of Ramadan and we did the same with him. Gabriel came to him and said, 'The night you are looking for is ahead of you.' So the Prophet (ﷺ) performed the I`tikaf in the middle (second) ten days of the month of Ramadan and we too performed I`tikaf with him. Gabriel came to him and said, 'The night which you are looking for is ahead of you.' In the morning of the 20th of Ramadan the Prophet (ﷺ) delivered a sermon saying, 'Whoever has performed I`tikaf with me should continue it. I have been shown the Night of "Qadr", but have forgotten its date, but it is in the odd nights of the last ten nights. I saw in my dream that I was prostrating in mud and water.' In those days the roof of the mosque was made of branches of date-palm trees. At that time the sky was clear and no cloud was visible, but suddenly a cloud came and it rained. The Prophet (ﷺ) led us in the prayer and I saw the traces of mud on the forehead and on the nose of Allah's Messenger (ﷺ). So it was the confirmation of that dream."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا ، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں نے عرض کی کہ فلاں نخلستان میں کیوں نہ چلیں سیر بھی کریں گے اور کچھ باتیں بھی کریں گے ۔ چنانچہ آپ تشریف لے چلے ۔ ابوسلمہ نے بیان کیا کہ میں نے راہ میں کہا کہ شب قدر سے متعلق آپ نے اگر کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو اسے بیان کیجئے ۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا اور ہم بھی آپ کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھ گئے ، لیکن جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ آپ جس کی تلاش میں ہیں ( شب قدر ) وہ آگے ہے ۔ چنانچہ آپ نے دوسرے عشرے میں بھی اعتکاف کیا اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی ۔ جبرائیل علیہ السلام دوبارہ آئے اور فرمایا کہ آپ جس کی تلاش میں ہیں وہ ( رات ) آگے ہے ۔ پھر آپ نے بیسویں رمضان کی صبح کو خطبہ دیا ۔ آپ نے فرمایا کہ جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ دوبارہ کرے ۔ کیونکہ شب قدر مجھے معلوم ہو گئی لیکن میں بھول گیا اور وہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہے اور میں نے خود کو کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا ۔ مسجد کی چھت کھجور کی ڈالیوں کی تھی ۔ مطلع بالکل صاف تھا کہ اتنے میں ایک پتلا سا بادل کا ٹکڑا آیا اور برسنے لگا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو نماز پڑھائی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر کیچڑ کا اثر دیکھا ۔ آپ کا خواب سچا ہو گیا ۔
Narrated Sahl bin Sa`d:
The people used to pray with the Prophet (ﷺ) tying their Izars around their necks because of their small sizes and the women were directed that they should not raise their heads from the prostrations till the men had sat straight.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں سفیان نے ابوحازم سلمہ بن دینار کے واسطے سے خبر دی ، انہوں نے سہل بن سعد سے ، انہوں نے کہا کہ
کچھ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے انہیں گردنوں سے باندھ کر نماز پڑھتے تھے اور عورتوں سے کہہ دیا گیا تھا کہ جب تک مرد اچھی طرح بیٹھ نہ جائیں تم اپنے سروں کو ( سجدہ سے ) نہ اٹھاؤ ۔