Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) was ordered to prostrate on seven bony parts and not to tuck up his clothes or hair.
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے بیان کیا ، انہوں نے طاؤس سے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ، آپ نے فرمایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم تھا کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کریں اور بال اور کپڑے نہ سمیٹیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "I have been ordered to prostrate on seven (bones) and not to tuck up the hair or garment."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح نے ، عمرو بن دینار سے بیان کیا ، انہوں نے طاؤس سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات ہڈیوں پر اس طرح سجدہ کا حکم ہوا ہے کہ نہ بال سمیٹوں اور نہ کپڑے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) used to say frequently in his bowing and prostrations "Subhanaka l-lahumma Rabbana wa bihamdika, Allahumma ghfir li" (Exalted [from unbecoming attributes] Are you O Allah our Lord, and by Your praise [do I exalt you]. O Allah! Forgive me). In this way [??] he was acting on what was explained to him in the Holy Qur'an.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے ، سفیان ثوری سے ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے منصور بن معتمر نے مسلم بن صبیح سے بیان کیا ، انہوں نے مسروق سے ، ان سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ اور رکوع میں اکثر یہ پڑھا کرتے تھے ۔ «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك ، اللهم اغفر لي» ( اس دعا کو پڑھ کر ) آپ قرآن کے حکم پر عمل کرتے تھے ۔
Narrated Abu Qilaba reports that Hadrat Malik bin Huwairith رضی اللہ عنہ said to his companion:
"Shall I show you how Allah's Messenger (ﷺ) used to offer his prayers?" And it was not the time for any of the compulsory congregational prayers. So he stood up (for the prayer) bowed and said the Takbir, then he raised his head and remained standing for a while and then prostrated and raised his head for a while (sat up for a while). He prayed like our Sheikh `Amr Ibn Salama. Ayyub said, "The latter used to do a thing which I did not see the people doing i.e., he used to sit between the third and the fourth Rak`a. Malik bin Huwairith said, "We came to the Prophet (after embracing Islam) and stayed with him. He said to us, 'When you go back to your families, pray such and such a prayer at such and such a time, pray such and such a prayer at such and such a time, and when there is the time for the prayer then only of you should pronounce the Adhan for the prayer and the oldest of you should lead the prayer."
ہم سے ابو النعمان محمد بن فضل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے ایوب سختیانی سے بیان کیا ، انہوں نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے ، کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ
میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیوں نہ سکھا دوں ۔ ابوقلابہ نے کہا یہ نماز کا وقت نہیں تھا ( مگر آپ ہمیں سکھانے کے لیے ) کھڑے ہوئے ۔ پھر رکوع کیا اور تکبیر کہی پھر سر اٹھایا اور تھوڑی دیر کھڑے رہے ۔ پھر سجدہ کیا اور تھوڑی دیر کے لیے سجدہ سے سر اٹھایا اور پھر سجدہ کیا اور سجدہ سے تھوڑی دیر کے لیے سر اٹھایا ۔ انہوں نے ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی طرح نماز پڑھی ایوب سختیانی نے کہا کہ وہ عمرو بن سلمہ نماز میں ایک ایسی چیز کیا کرتے تھے کہ دوسرے لوگوں کو اس طرح کرتے میں نے نہیں دیکھا ۔ آپ تیسری یا چوتھی رکعت پر ( سجدہ سے فارغ ہو کر کھڑے ہونے سے پہلے ) بیٹھتے تھے ۔ ( یعنی جلسہ استراحت کرتے تھے ) ۔( پھر نماز سکھلانے کے بعدمالک بن حویرث نے بیان کیا کہ )ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ٹھہرے رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( بہتر ہے ) تم اپنے گھروں کو واپس جاؤ ۔ دیکھو یہ نماز فلاں وقت اور یہ نماز فلاں وقت پڑھنا ۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو ایک شخص تم میں سے اذان دے اور جو تم میں بڑا ہو وہ نماز پڑھائے ۔
Narrated Al-Bara' رضی اللہ عنہ :
The time taken by the Prophet (ﷺ) in prostrations, bowing, and the sitting interval between the two prostrations was about the same.
ہم سے محمد بن عبد الرحیم صاعقہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابو احمد محمد بن عبداللہ زبیری نے کہا کہ ہم سے مسعر بن کدام نے حکم عتیبہ کوفی سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ ، رکوع اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی مقدار تقریباً برابر ہوتی تھی ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
"I will leave no stone unturned in making you offer the prayer as I have seen the Prophet (ﷺ) making us offer it." Anas رضی اللہ عنہ used to do a thing which I have not seen you doing. He used to stand after the bowing for such a long time that one would think that he had forgotten (the prostrations) and he used to sit in-between the prostrations so long that one would think that he had forgotten the second prostration.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے ثابت سے بیان کیا ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے فرمایا کہ
میں نے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا تھا بالکل اسی طرح تم لوگوں کو نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا ہوں ۔ ثابت نے بیان کیا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک ایسا عمل کرتے تھے جسے میں تمہیں کرتے نہیں دیکھتا ۔ جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں اور اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھتے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Be straight in the prostrations and none of you should put his forearms on the ground (in the prostration) like a dog."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سجدہ میں اعتدال کو ملحوظ رکھو اور اپنے بازو کتوں کی طرح نہ پھیلایا کرو ۔
Narrated Malik bin Huwairith Al-Laithi رضی اللہ عنہ :
I saw the Prophet (ﷺ) praying and in the odd rak`at, he used to sit for a moment before getting up.
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشیم نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہمیں خالد حذاء نے خبر دی ، ابوقلابہ سے ، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے مالک بن حویرث لیثی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہ اٹھتے جب تک تھوڑی دیر بیٹھ نہ لیتے ۔
Narrated Abu Qilaba:
"Malik bin Huwairith رضی اللہ عنہ came to us and led us in the prayer in this mosque of ours and said, 'I lead you in prayer but I do not want to offer the prayer but just to show you how Allah's Apostle performed his prayers."Ayyub said that asked Abu Qilaba, "How was the prayer of Malik bin Huwairith?" He replied, "Like the prayer of this Sheikh of ours-- i.e. `Amr bin Salima." That Sheikh used to pronounce the Takbir perfectly and when he raised his head from the second prostration he would sit for a while and then support himself on the ground and get up.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا ، انہوں نے ایوب سختیانی سے ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے بیان کیا کہ
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں تشریف لائے اور آپ نے ہماری اس مسجد میں نماز پڑھائی ۔ آپ نے فرمایا کہ میں نماز پڑھا رہا ہوں لیکن میری نیت کسی فرض کی ادائیگی نہیں ہے بلکہ میں صرف تم کو یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ نبی کریم کس طرح نماز پڑھا کرتے تھے ۔ ایوب سختیانی نے بیان کیا کہ میں نے ابوقلابہ سے پوچھا کہ مالک رضی اللہ عنہ کس طرح نماز پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی طرح ۔ ایوب نے بیان کیا کہ شیخ تمام تکبیرات کہتے تھے اور جب دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو تھوڑی دیر بیٹھتے اور زمین کا سہارا لے کر پھر اٹھتے ۔
Narrated Sa`id bin Al-Harith:
Abu Sa`id رضی اللہ عنہ led us in the prayer and said the Takbir aloud on arising from the prostration, and on prostrating, on rising again, and on getting up from the second rak`a. Abu Sa`id said, "I saw the Prophet doing the same."
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے فلج بن سلیمان نے ، انہوں نے سعید بن حارث سے ، انہوں نے کہا کہ
ہمیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور جب انہوں نے سجدہ سے سر اٹھایا تو پکار کر تکبیر کہی پھر جب سجدہ کیا تو ایسا ہی کیا پھر سجدہ سے سر اٹھایا تو بھی ایسا ہی کیا اسی طرح جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوئے اس وقت بھی آپ نے بلند آواز سے تکبیر کہی اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ۔
Narrated Mutarrif:
`Imran رضی اللہ عنہما and I prayed behind `Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ and he said Takbir on prostrating, on rising and on getting up after the two rak`at (i.e. after the second rak`a). When the prayer was finished, `Imran took me by the hand and said, "He (`Ali) has prayed the prayer of Muhammad" (or said, "He made us remember the prayer of Muhammad).
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے غیلان بن جریر نے بیان کیا ، انہوں نے مطرف بن عبداللہ سے ، انہوں نے کہا کہ
میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز پڑھی ۔ آپ نے جب سجدہ کیا ، سجدہ سے سر اٹھایا دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوئے تو ہر مرتبہ تکبیر کہی ۔ جب آپ نے سلام پھیر دیا تو عمران بن حصین نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ انہوں نے واقعی ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھائی ہے یا یہ کہا کہ مجھے انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی ۔
Narrated `Abdullah bin `Abdullah:
I saw `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما crossing his legs while sitting in the prayer and I, a mere youngster in those days, did the same. Ibn `Umar رضی اللہ عنہما forbade me to do so, and said, "The proper way is to keep the right foot propped up and bend the left in the prayer." I said questioningly, "But you are doing so (crossing the legs)." He said, "My feet cannot bear my weight."
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم کے واسطے سے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن عبداللہ سے انہوں نے خبر دی کہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو وہ ہمیشہ دیکھتے کہ آپ نماز میں چارزانو بیٹھتے ہیں میں ابھی نوعمر تھا میں نے بھی اسی طرح کرنا شروع کر دیا لیکن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے روکا اور فرمایا کہ نماز میں سنت یہ ہے کہ ( تشہد میں ) دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور بایاں پھیلادے میں نے کہا کہ آپ تو اسی ( میری ) طرح کرتے ہیں آپ بولے کہ ( کمزوری کی وجہ سے ) میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اٹھا پاتے ۔
Narrated Muhammad bin `Amr bin `Ata':
I was sitting with some of the companions of Allah's Messenger (ﷺ) and we were discussing about the way of praying of the Prophet. Abu Humaid As-Sa`idi said, "I remember the prayer of Allah's Messenger (ﷺ) better than any one of you. I saw him raising both his hands up to the level of the shoulders on saying the Takbir; and on bowing he placed his hands on both knees and bent his back straight, then he stood up straight from bowing till all the vertebrate took their normal positions. In prostrations, he placed both his hands on the ground with the forearms away from the ground and away from his body, and his toes were facing the Qibla. On sitting In the second rak`a he sat on his left foot and propped up the right one; and in the last rak`a he pushed his left foot forward and kept the other foot propped up and sat over the buttocks."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، انہوں نے خالد سے بیان کیا ، ان سے سعید نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیا ( دوسری سند ) اور کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا ، اور ان سے یزید بن ابی حبیب اور یزید بن محمد نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیا کہ
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر ہونے لگا تو ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تم سب سے زیادہ یاد ہے میں نے آپ کو دیکھا کہ جب آپ تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک لے جاتے ، جب آپ رکوع کرتے تو گھٹنوں کو اپنے ہاتھوں سے پوری طرح پکڑ لیتے اور پیٹھ کو جھکا دیتے ۔ پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس طرح سیدھے کھڑے ہو جاتے کہ تمام جوڑ سیدھے ہو جاتے ۔ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ اپنے ہاتھوں کو ( زمین پر ) اس طرح رکھتے کہ نہ بالکل پھیلے ہوئے ہوتے اور نہ سمٹے ہوئے ۔ پاؤں کی انگلیوں کے منہ قبلہ کی طرف رکھتے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور جب آخری رکعت میں بیٹھتے بائیں پاؤں کو آگے کر لیتے اور دائیں کو کھڑا کر دیتے پھر مقعد پر بیٹھتے ۔ لیث نے یزید بن ابی حبیب سے اور یزید بن محمد بن حلحلہ سے سنا اور محمد بن حلحلہ نے ابن عطاء سے ، اور ابوصالح نے لیث سے «كل فقار مكانه» نقل کیا ہے اور ابن مبارک نے یحییٰ بن ایوب سے بیان کیا انھوں نے کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا کہ محمد بن عمرو بن حلحلہ نے ان سے حدیث میں «كل فقار» بیان کیا ۔
Narrated `Abdullah bin Buhaina who was the member of the tribe of Azd Shanu'ah an the ally of bani `Abd-e-Manaf:
Once the Prophet (ﷺ) led us in the Zuhr prayer and stood up after the second rak`a and did not sit down. The people stood up with him. When the prayer was about to end and the people were waiting for him to say the Taslim, he said Takbir while sitting and prostrated twice before saying the Taslim and then he said the Taslim."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی ، انہوں نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے بیان کیا جو مولی بن عبدالمطلب ( یا مولی ربیعہ بن حارث ) تھے ، کہ عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ جو صحابی رسول اور بنی عبد مناف کے حلیف قبیلہ ازدشنوہ سے تعلق رکھتے تھے ، نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں پر بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہو گئے ، چنانچہ سارے لوگ بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے ، جب نماز ختم ہونے والی تھی اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے ، پھر سلام پھیرا ۔
Narrated `Abdullah bin Malik bin Buhaina رضی اللہ عنہ :
Once Allah's Messenger (ﷺ) led us in the Zuhr prayer and got up (after the prostrations of the second rak`a) although he should have sat (for the Tashahhud). So at the end of the prayer, he prostrated twice while sitting (prostrations of Sahu).
قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے بکر بن مضر نے جعفر بن ربیعہ سے بیان کیا ، انہوں نے اعرج سے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ نے ، کہا کہ
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر پڑھائی ۔ آپ کو چاہیے تھا بیٹھنا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( بھول کر ) کھڑے ہو گئے پھر نماز کے آخر میں بیٹھے ہی بیٹھے دو سجدے کئے ۔
Narrated Shaqiq bin Salama:
`Abdullah said, "Whenever we prayed behind the Prophet (ﷺ) we used to recite (in sitting) 'Peace be on Gabriel, Michael, peace be on so and so. Once Allah's Messenger (ﷺ) looked back at us and said, 'Allah Himself is As-Salam (Peace), and if anyone of you prays then he should say, at-Tahiyatu li l-lahi wa ssalawatu wa t-taiyibat. As-salamu `alalika aiyuha n-Nabiyu wa rahmatu l-lahi wa barakatuh. Assalamu `alaina wa `ala `ibadi l-lahi s-salihin. (All the compliments, prayers and good things are due to Allah; peace be on you, O Prophet, and Allah's mercy and blessings [be on you]. Peace be on us an on the pious subjects of Allah). (If you say that, it will reach all the subjects in the heaven and the earth). Ash-hadu al-la ilaha illa l-lah, wa ash-hadu anna Muhammadan `Abduhu wa Rasuluh. (I testify that there is no Deity [worthy of worship] but Allah, and I testify that Muhammad is His slave and His Apostle).
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اعمش نے شقیق بن سلمہ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ
جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو کہتے ( ترجمہ ) سلام ہو جبرائیل اور میکائیل پر سلام ہو فلاں اور فلاں پر ( اللہ پر سلام ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اللہ تو خود ” سلام “ ہے ۔ ( تم اللہ کو کیا سلام کرتے ہو ) اس لیے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو یہ کہے «التحيات لله ، والصلوات والطيبات ، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» تمام آداب بندگی ، تمام عبادات اور تمام بہترین تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ۔ آپ پر سلام ہو اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہم پر سلام اور اللہ کے تمام صالح بندوں پر سلام ۔ جب تم یہ کہو گے تو تمہارا سلام آسمان و زمین میں جہاں کوئی اللہ کا نیک بندہ ہے اس کو پہنچ جائے گا ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ۔
Narrated `Aisha (the wife of the Prophet) رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) used to invoke Allah in the prayer saying "Allahumma inni a`udhu bika min `adhabi l-qabr, wa a`udhu bika min fitnati l-masihi d-dajjal, wa a`udhu bika min fitnati l-mahya wa fitnati l-mamat. Allahumma inni a`udhu bika mina l-ma'thami wa l-maghram. (O Allah, I seek refuge with You from the punishment of the grave, from the afflictions of the imposter- Messiah, and from the afflictions of life and death. O Allah, I seek refuge with You from sins and from debt)." Somebody said to him, "Why do you so frequently seek refuge with Allah from being in debt?" The Prophet (ﷺ) replied, "A person in debt tells lies whenever he speaks, and breaks promises whenever he makes (them)." `Aisha رضی اللہ عنہا also narrated: I heard Allah's Messenger (ﷺ) in his prayer seeking refuge with Allah from the afflictions of Ad-Dajjal.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہمیں عروہ بن زبیر نے خبر دی ، انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا پڑھتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال ، وأعوذ بك من فتنة المحيا وفتنة الممات ، اللهم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم» اے اللہ قبر کے عذاب سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ زندگی کے اور موت کے فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ دجال کے فتنہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہوں سے اور قرض سے ۔ کسی ( یعنی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ) نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو قرض سے بہت ہی زیادہ پناہ مانگتے ہیں ! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی مقروض ہو جائے تو وہ جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلاف ہو جاتا ہے۔اور اسی سند کے ساتھ زہری سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے سنا ۔
Narrated Abu Bakr As-Siddiq رضی اللہ عنہ :
I asked Allah's Messenger (ﷺ) to teach me an invocation so that I may invoke Allah with it in my prayer. He told me to say, "Allahumma inni zalumtu nafsi zulman kathiran, Wala yaghfiru dh-dhunuba illa anta, fa ghfir li maghfiratan min `indika, wa r-hamni, innaka anta l-ghafuru r-rahim (O Allah! I have done great injustice to myself and none except You forgives sins, so bestow on me a forgiveness from You, and Have Mercy on me, You are the Forgiver, the Merciful).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے یزید بن ابی حبیب سے بیان کیا ، ان سے ابو الخیر مرثد بن عبداللہ نے ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے ، ان سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئیے جسے میں نماز میں پڑھا کروں ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھا کرو «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت ، فاغفر لي مغفرة من عندك ، وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ ! میں نے اپنی جان پر ( گناہ کر کے ) بہت زیادہ ظلم کیا پس گناہوں کو تیرے سوا کوئی دوسرا معاف کرنے والا نہیں ۔ مجھے اپنے پاس سے بھرپور مغفرت عطا فرما اور مجھ پر رحم کر کہ مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا بیشک وشبہ تو ہی ہے ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
When we prayed with the Prophet (ﷺ) we used to say, "Peace be on Allah from His slaves and peace be on so and so." The Prophet (ﷺ) said, "Don't say As-Salam be on Allah, for He Himself is As-Salam, but say, at-tahiyatu li l-lahi wa s-salawatu wa t-taiyibat. As-salamu `alaika aiyuha n-Nabiyu wa rahmatu l-lahi wa barakatuh. As-salamu `alaina wa `ala `ibadi l-lahi s-salihin. (If you say this then it will reach all the slaves in heaven or between heaven and earth). Ash-hadu al la-ilaha illa l-lah, wa ash-hadu anna Muhammadan `Abduhu wa Rasuluh.' Then select the invocation you like best and recite it." (See Hadith No. 794, 795 & 796).
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے اعمش سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے شقیق نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ، انہوں نے فرمایا کہ
( پہلے ) جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم ( قعدہ میں ) یہ کہا کرتے تھے کہ اس کے بندوں کی طرف سے اللہ پر سلام ہو اور فلاں پر اور فلاں پر سلام ہو ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ ” اللہ پر سلام ہو “ کیونکہ اللہ تو خود سلام ہے ۔ بلکہ یہ کہو «التحيات لله ، والصلوات والطيبات ، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» آداب بندگان اور تمام عبادات اور تمام پاکیزہ خیراتیں اللہ ہی کے لیے ہیں آپ پر اے نبی سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ کے صالح بندوں پر سلام ہو اور جب تم یہ کہو گے تو آسمان پر خدا کے تمام بندوں کو پہنچے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان اور زمین کے درمیان تمام بندوں کو پہنچے گا «أشهد أن لا إله إلا الله ، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ اس کے بعد دعا کا اختیار ہے جو اسے پسند ہو کرے ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
I saw Allah's Messenger (ﷺ) prostrating in mud and water and saw the mark of mud on his forehead.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو آپ نے بتلایا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ۔ مٹی کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر صاف ظاہر تھا ۔