Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Were it not for the fear that it would be difficult for my followers, I would not have remained behind any Sariya, (army-unit) but I don't have riding camels and have no other means of conveyance to carry them on, and it is hard for me that my companions should remain behind me. No doubt I wish I could fight in Allah's Cause and be martyred and come to life again to be martyred and come to life once more."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا ، کہا مجھ سے ابوصالح نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ بیان کرتے تھے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میری امت پر یہ امر مشکل نہ گزرتا تو میں کسی سریہ ( یعنی مجاہدین کا ایک چھوٹا سا دستہ جس کی تعداد زیادہ سے زیادہ چالیس ہو ) کی شرکت بھی نہ چھوڑتا ۔ لیکن میرے پاس سواری کے اتنے اونٹ نہیں ہیں کہ میں ان کو سوار کر کے ساتھ لے چلوں اور یہ مجھ پر بہت مشکل ہے کہ میرے ساتھی مجھ سے پیچھے رہ جائیں ۔ میری تو یہ خوشی ہے کہ اللہ کے راستے میں میں جہاد کروں ، اور شہید کیا جاؤں ۔ پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر شہید کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں ۔
Narrated Yali:
I participated in the Ghazwa of Tabuk along with Allah's Messenger (ﷺ) and I gave a young camel to be ridden in Jihad and that was, to me, one of my best deeds. Then I employed a laborer who quarrelled with another person. One of them bit the hand of the other and the latter drew his hand from the mouth of the former pulling out his front tooth. Then the former instituted a suit against the latter before the Prophet who rejected that suit saying, "Do you expect him to put out his hand for you to snap as a male camel snaps (vegetation)?"
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے ، ان سے ابن جریج نے ، ان سے عطاء نے ، ان سے صفوان بن یعلیٰ نے اور ان سے ان کے والد ( یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ
میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک تھا اور ایک جوان اونٹ میں نے سواری کے لیے دیا تھا ، میرے خیال میں میرا یہ عمل ، تمام دوسرے اعمال کے مقابلے میں سب سے زیادہ قابل بھروسہ تھا ۔ ( کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو گا ) میں نے ایک مزدور بھی اپنے ساتھ لے لیا تھا ۔ پھر وہ مزدور ایک شخص ( خود یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ ) سے لڑ پڑا اور ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ میں دانت سے کاٹ لیا ۔ دوسرے نے جھٹ جو اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کے آگے کا دانت ٹوٹ گیا ۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فریادی ہوا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کھینچنے والے پر کوئی تاوان نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ کیا تمہارے منہ میں وہ اپنا ہاتھ یوں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے چبا جاؤ جیسے اونٹ چباتا ہے ۔
Narrated Tha`laba bin Abi Malik Al-Qurazi:
When Qais bin Sa`d Al-Ansari رضی اللہ عنہ , who used to carry the flag of the Prophet, intended to perform Hajj, he combed his hair.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عقیل نے خبر دی ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انہیں ثعلبہ بن ابی مالک قرظی نے خبر دی کہ
قیس بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے ، جو جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علمبردار تھے ، جب حج کا ارادہ کیا تو ( احرام باندھنے سے پہلے ) کنگھی کی ۔
Narrated Salama bin Al-Akwa رضی اللہ عنہ :
Ali رضی اللہ عنہ remained behind the Prophet (ﷺ) during the battle of Khaibar as he way suffering from some eye trouble but then he said, "How should I stay behind Allah's Messenger (ﷺ)?" So, he set out till he joined the Prophet. On the eve of the day of the conquest of Khaibar, Allah's Messenger (ﷺ) said, "(No doubt) I will give the flag or, tomorrow, a man whom Allah and His Apostle love or who loves Allah and His apostle will take the flag. Allah will bestow victory upon him." Suddenly 'Ali رضی اللہ عنہ joined us though we were not expecting him. The people said, "Here is 'Ali. "So, Allah's Messenger (ﷺ) gave the flag to him and Allah bestowed victory upon him.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
غزوہ خیبر کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں آئے تھے ۔ ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی ۔ پھر انہوں نے کہا کہ کیا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہوں گا ؟ چنانچہ وہ نکلے اور آنحضرت سے جا ملے ۔ اس رات کی شام کو جس کی صبح کو خیبر فتح ہوا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اسلامی پرچم اس شخص کو دوں گا یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) کل اسلامی پرچم اس شخص کے ہاتھ میں ہو گا جسے اللہ اور اس کے رسول اپنا محبوب رکھتے ہیں ۔ یا آپ نے یہ فرمایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ۔ اور اللہ اس شخص کے ہاتھ پر فتح فرمائے گا ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آ گئے ۔ حالانکہ ان کے آنے کی ہمیں کوئی امید نہ تھی ۔ ( کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے ) لوگوں نے کہا کہ یہ علی رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا انہیں کو دیا ۔ اور اللہ نے انہیں کے ہاتھ پر فتح فرمائی ۔
Narrated Nafi bin Jubair:
I heard Al Abbas رضی اللہ عنہ telling Az-Zubair رضی اللہ عنہ , "The Prophet (ﷺ) ordered you to fix the flag here."
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا کہ
میں نے سنا کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے کہ کیا یہاں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو پرچم نصب کرنے کا حکم فرمایا تھا ؟
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "I have been sent with the shortest expressions bearing the widest meanings, and I have been made victorious with terror (cast in the hearts of the enemy), and while I was sleeping, the keys of the treasures of the world were brought to me and put in my hand." Abu Huraira رضی اللہ عنہ added: Allah's Messenger (ﷺ) has left the world and now you, people, are bringing out those treasures (i.e. the Prophet did not benefit by them).
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ مجھے جامع کلام ( جس کی عبارت مختصر اور فصیح و بلیغ ہو اور معنی بہت وسیع ہوں ) دے کر بھیجا گیا ہے اور رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے ۔ میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لائی گئیں اور میرے ہاتھ پر رکھ دی گئیں ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ( اپنے رب کے پاس ) جا چکے ۔ اور ( جن خزانوں کی وہ کنجیاں تھیں ) انہیں اب تم نکال رہے ہو ۔
Narrated Abu Sufyan رضی اللہ عنہ :
"Heraclius sent for me when I was in 'llya' (i.e. Jerusalem). Then he asked for the letter of Allah's Messenger (ﷺ) and when he had finished its reading there was a great hue and cry around him and the voices grew louder and we were asked to quit the place. When we were turned out, I said to my companions, 'The cause of Ibn Abi Kabsha has become conspicuous as the King of Bani Al- Asfar is afraid of him.' "
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے ، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک جب شاہ روم ہرقل کو ملا تو ) اس نے اپنا آدمی انہیں تلاش کرنے کے لیے بھیجا ۔ یہ لوگ اس وقت ایلیاء میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ آخر ( طویل گفتگو کے بعد ) اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک منگوایا ۔ جب وہ پڑھا جا چکا تو اس کے دربار میں ہنگامہ برپا ہو گیا ( چاروں طرف سے ) آواز بلند ہونے لگی ۔ اور ہمیں باہر نکال دیا گیا ۔ جب ہم باہر کر دئیے گئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابن ابی کبشہ ( مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے ) کا معاملہ تو اب بہت آگے بڑھ چکا ہے ۔ یہ ملک بنی اصفر ( قیصر روم ) بھی ان سے ڈرنے لگا ہے ۔
Narrated Asma رضی اللہ عنہا :
I prepared the journey-food for Allah's Messenger (ﷺ) in Abu Bakr's house when he intended to emigrate to Medina. I could not find anything to tie the food-container and the water skin with. So, I said to Abu Bakr رضی اللہ عنہ , "By Allah, I do not find anything to tie (these things) with except my waist belt." He said, "Cut it into two pieces and tie the water-skin with one piece and the food-container with the other (the subnarrator added, "She did accordingly and that was the reason for calling her Dhatun-Nitaqain (i.e. twobelted woman)).
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے بیان کیا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی ، نیز مجھ سے فاطمہ نے بھی بیان کیا ، اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی ہجرت کا ارادہ کیا تو میں نے ( والد ماجد حضرت ) ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آپ کے لیے سفر کا ناشتہ تیار کیا تھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب آپ کے ناشتے اور پانی کو باندھنے کے لیے کوئی چیز نہیں ملی ، تو میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بجز میرے کمربند کے اور کوئی چیز اسے باندھنے کے لیے نہیں ہے ۔ تو انہوں نے فرمایا کہ پھر اسی کے دو ٹکڑے کر لو ۔ ایک سے ناشتہ باند ھ دینا اور دوسرے سے پانی ، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا ، اور اسی وجہ سے میرا نام ’ ذات النطاقین “ ( دو کمربندوں والی ) پڑ گیا ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah:
During the life-time of the Prophet (ﷺ) we used to take the meat of sacrificed animals (as journey food) to Medina. (See Hadith No. 474 Vol. 7)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو سفیان نے خبر دی ، ان سے عمرو نے بیان کیا ، کہا مجھ کو عطاء نے خبر دی ، انہوں نے جابر بن عبداللہ سے سنا آپ نے بیان کیا کہ
ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کا گوشت بطور توشہ مدینہ لے جایا کرتے تھے ( یہ لے جانا بطور توشہ ہوا کرتا تھا ، اس سے آپ کا مطلب ثابت ہوا )
Narrated Suwaid bin An-Nu`man:
He informed that he set out on a journey with the Prophet (ﷺ) during the year of Khaibar (campaign till they reached a place called As-Sahba', the lower part of Khaibar. They offered the `Asr prayer (there) and the Prophet asked for the food. Nothing but Sawiq was brought to the Prophet. So, they chewed it and ate it and drank water. After that the Prophet (ﷺ) got up, washed his mouth, and they too washed their mouths and then offered the prayer.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے بشیر بن یسار نے خبر دی اور انہیں سوید بن نعمان نے خبر دی کہ
خیبر کی جنگ کے موقع پر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے تھے ۔ جب لشکر مقام صہباء پر پہنچا جو خیبر کا نشیبی علاقہ ہے تو لوگوں نے عصر کی نماز پڑھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا منگوایا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی اور ہم نے وہی ستو کھایا اور پیا ۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے کلی کی ۔ ہم نے بھی کلی کی اور نماز پڑھی ۔
Narrated Salama رضی اللہ عنہ :
Once the journey-food of the people ran short and they were in great need. So, they came to the Prophet to take his permission for slaughtering their camels, and he permitted them. Then `Umar رضی اللہ عنہ met them and they informed him about it. He said, "What will sustain you after your camels (are finished)?" Then `Umar رضی اللہ عنہ went to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What will sustain them after their camels (are finished)?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Make an announcement amongst the people that they should bring all their remaining food (to me)." (They brought it and) the Prophet (ﷺ) invoked Allah and asked for His Blessings for it. Then he asked them to bring their food utensils and the people started filling their food utensils with their hands till they were satisfied. Allah's Messenger (ﷺ) then said, "I testify that None has the right to be worshipped but Allah, and I am His Apostle. "
ہم سے بشر بن مرحوم نے بیان کیا ، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
جب لوگوں کے پاس زادراہ ختم ہونے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوگ اپنے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت لینے حاضر ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی ۔ اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی ۔ اس اجازت کی اطلاع انہیں بھی ان لوگوں نے دی ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے سن کر کہا ، ان اونٹوں کے بعد پھر تمہارے پاس باقی کیا رہ جائے گا ( کیونکہ انہیں پر سوار ہو کر اتنی دور دراز کی مسافت بھی تو طے کرنی تھی ) اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ، یا رسول اللہ ! لوگ اگر اپنے اونٹ بھی ذبح کر دیں گے ۔ تو پھر اس کے بعد ان کے پاس باقی کیا رہ جائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر لوگوں میں اعلان کر دو کہ ( اونٹوں کو ذبح کرنے کے بجائے ) اپنا بچا کچھا توشہ لے کر یہاں آ جائیں ۔ ( سب لوگوں نے جو کچھ بھی ان کے پاس کھانے کی چیز باقی بچ گئی تھی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کر رکھ دی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اور اس میں برکت ہوئی ۔ پھر سب کو ان کے برتنوں کے ساتھ آپ نے بلایا ۔ سب نے بھربھر کر اس میں سے لیا ۔ اور جب سب لوگ فارغ ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ :
"We set out, and we were three-hundred men carrying our journey-food on our shoulders. Then we began to eat a single date each per day." A man asked (Jabir رضی اللہ عنہ), "O Abu `Abdullah! How could a person be satisfied with a single date?" Jabir replied, "We realized the value of that one date when we could not even have that much till we reached the sea-shore, when all of a sudden we saw a huge fish cast by the sea. So, we ate of it as much as we wished for eighteen days."
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی ، انہیں ہشام نے ، انہیں وہب بن کیسان نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم ( ایک غزوہ پر ) نکلے ۔ ہماری تعداد تین سو تھی ، ہم اپنا راشن اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے ۔ آخر ہمارا توشہ جب ( تقریباً ) ختم ہو گیا ، تو ایک شخص کو روزانہ صرف ایک کھجور کھانے کو ملنے لگی ۔ ایک شاگرد نے پوچھا ، اے ابوعبداللہ ! ( جابر رضی اللہ عنہ ) ایک کھجور سے بھلا ایک آدمی کا کیا بنتا ہو گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کی قدر ہمیں اس وقت معلوم ہوئی جب ایک کھجور بھی باقی نہیں رہ گئی تھی ۔ اس کے بعد ہم دریا پر آئے تو ایک ایسی مچھلی ملی جسے دریا نے باہر پھینک دیا تھا ۔ اور ہم اٹھارہ دن تک خوب جی بھر کر اسی کو کھاتے رہے ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
She said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Your companions are returning with the reward of both Hajj and `Umra, while I am returning with (the reward of) Hajj only." He said to her, "Go, and let `Abdur- Rahman رضی اللہ عنہ (i.e. your brother) make you sit behind him (on the animal)." So, he ordered `Abdur Rahman رضی اللہ عنہ to let her perform `Umra from Al-Tan`im. Then the Prophet (ﷺ) waited for her at the higher region of Mecca till she returned.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عثمان بن اسود نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
انہوں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! آپ کے اصحاب حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس جا رہے ہیں اور میں صرف حج کر پائی ہوں ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ ( عمرہ کر آو ) عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ ( عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ) تمہیں اپنی سواری کے پیچھے بٹھا لیں گے ۔ چنانچہ آپ نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تنعیم سے ( احرام باندھ کر ) عائشہ رضی اللہ عنہا کو عمرہ کرا لائیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عرصہ میں مکہ کے بالائی علاقہ پر ان کا انتظار کیا ۔ یہاں تک کہ وہ آ گئیں ۔
Narrated `Abdur-Rahman bin Abi Bakr As-Siddiq رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) ordered me to let `Aisha رضی اللہ عنہا sit behind me (on the animal) and to let her perform `Umra from at-Tan`im.
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے ، ان سے عمرو بن اوس نے اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ اپنی سواری پر اپنے پیچھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بٹھا کر لے جاؤں اور تنعیم سے ( احرام باندھ کر ) انہیں عمرہ کرا لاوں ۔
Narrated Anas:
I was riding behind Abu Talha (on the same) riding animal and (the Prophet's companions) were reciting Talbiya aloud for both Hajj and `Umra.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ۔ تمام صحابہ حج اور عمرہ دونوں ہی کے لیے ایک ساتھ لبیک کہہ رہے تھے ۔
Narrated `Urwa from Usama bin Zaid رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) rode a donkey on which there was a saddle covered by a velvet sheet and let Usama رضی اللہ عنہما ride behind him (on the donkey).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوصفوان نے بیان کیا ، ان سے یونس بن یزید نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے ، ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر اس کی پالان رکھ کر سوار ہوئے ۔ جس پر ایک چادر بچھی ہوئی تھی اور اسامہ رضی اللہ عنہ کو آپ نے اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا ۔
Narrated Nafi` from `Abdullah رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) came to Mecca through its higher region on the day of the Conquest (of Mecca) riding his she-camel on which Usama رضی اللہ عنہ was riding behind him. Bilal رضی اللہ عنہ and `Uthman bin Talha رضی اللہ عنہ , one of the servants of the Ka`ba, were also accompanying him till he made his camel kneel in the mosque and ordered the latter to bring the key of the Ka`ba. He opened the door of the Ka`ba and Allah's Messenger (ﷺ) entered in the company of Usama, Bilal رضی اللہ عنہ and `Uthman رضی اللہ عنہ , and stayed in it for a long period. When he came out, the people rushed to it, and `Abdullah bin `Umar was the first to enter it and found Bilal standing behind the door. He asked Bilal رضی اللہ عنہ , "Where did the Prophet (ﷺ) offer his prayer?" He pointed to the place where he had offered his prayer. `Abdullah رضی اللہ عنہما said, "I forgot to ask him how many rak`at he had performed."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ، انہیں نافع نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
فتح مکہ کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے بالائی علاقے سے اپنی سواری پر تشریف لائے ۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کو آپ نے اپنی سواری پر پیچھے بٹھا دیا تھا اور آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی جو کعبہ کے کلید بردار تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدالحرام میں اپنی سواری بٹھا دی اور عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بیت اللہ الحرام کی کنجی لائیں ۔ انہوں نے کعبہ کا دروازہ کھول دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہو گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسامہ ، بلال اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے ۔ آپ کافی دیر تک اندر ٹھہرے رہے ۔ اور جب باہر تشریف لائے تو صحابہ نے ( اندر جانے کے لیے ) ایک دوسرے سے آگے ہونے کی کوشش کی سب سے پہلے اندر داخل ہونے والے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے ۔ انہوں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے کے پیچھے کھڑا پایا اور ان سے پوچھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی ہے ؟ انہوں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے یہ پوچھنا یاد نہیں رہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "There is a (compulsory) Sadaqa (charity) to be given for every joint of the human body (as a sign of gratitude to Allah) everyday the sun rises. To judge justly between two persons is regarded as Sadaqa, and to help a man concerning his riding animal by helping him to ride it or by lifting his luggage on to it, is also regarded as Sadaqa, and (saying) a good word is also Sadaqa, and every step taken on one's way to offer the compulsory prayer (in the mosque) is also Sadaqa and to remove a harmful thing from the way is also Sadaqa."
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہوتا ہے ۔ ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے ۔ پھر اگر وہ انسانوں کے درمیان انصاف کرے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور کسی کو سواری کے معاملے میں اگر مدد پہنچائے ، اس طرح پر کہ اسے اس پر سوار کرائے یا اس کا سامان اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور اچھی بات منہ سے نکالنا بھی ایک صدقہ ہے اور ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور اگر کوئی راستے سے کسی تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دے تو وہ بھی ایک صدقہ ہے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) forbade the people to travel to a hostile country carrying (copies of) the Qur'an.
سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے علاقے میں قرآن مجید لے کر جانے سے منع فرمایا تھا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) reached Khaibar in the morning, while the people were coming out carrying their spades over their shoulders. When they saw him they said, "This is Muhammad and his army! Muhammad and his army!" So, they took refuge in the fort. The Prophet (ﷺ) raised both his hands and said, "Allahu Akbar, Khaibar is ruined, for when we approach a nation (i.e. enemy to fight) then miserable is the morning of the warned ones." Then we found some donkeys which we (killed and) cooked: The announcer of the Prophet (ﷺ) announced: "Allah and His Apostle forbid you to eat donkey's meat." So, all the pots including their contents were turned upside down. Ali bin Modini corroborated this Hadith from Sufyan that the prophet (ﷺ) raised his hands.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے ، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں داخل تھے ۔ اتنے میں وہاں کے رہنے والے ( یہودی ) پھاوڑے اپنی گردنوں پر لیے ہوئے نکلے ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ( مع آپ کے لشکر کے ) دیکھا تو چلا اٹھے کہ یہ محمد لشکر کے ساتھ ( آ گئے ) محمد لشکر کے ساتھ ، محمد لشکر کے ساتھ ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چنانچہ وہ سب بھاگ کر قلعہ میں پناہ گزیں ہو گئے ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور نعرہ تکبیر بلند فرمایا ، ساتھ ہی ارشاد ہوا کہ خیبر تو تباہ ہو چکا ۔ کہ جب کسی قوم کے آنگن میں ہم اتر آتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے ۔ اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم کو گدھے مل گئے ، اور ہم نے انہیں ذبح کر کے پکانا شروع کر دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ پکارا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھے کے گوشت سے منع کرتے ہیں ۔ چنانچہ ہانڈیوں میں جو کچھ تھا سب الٹ دیا گیا ۔ اس روایت کی متابعت علی نے سفیان سے کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تھے ۔