Narrator Ka`b bin Malik رضی اللہ عنہ :
"Scarcely did Allah's Messenger (ﷺ) set out for a journey on a day other than Thursday."
یونس سے روایت ہے ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے خبر دی کہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ کم ایسا ہوتا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں جمعرات کے سوا اور کسی دن نکلیں ۔
Narrated Ka`b bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) set out on Thursday for the Ghazwa of Tabuk and he used to prefer to set out (i.e. travel) on Thursdays.
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا ، انہیں معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے اور انہیں ان کے والد حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے جمعرات کے دن نکلے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے دن سفر کرنا پسند فرماتے تھے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) offered a four-rak`at Zuhr prayer at Medina and then offered a two rak`at `Asr prayer at Dhul-Hulaifa and I heard the companions of the Prophet (ﷺ) reciting Talbiya aloud (for Hajj and `Umra) altogether.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے ، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت پڑھی پھر عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھی اور میں نے سنا کہ صحابہ حج اور عمرہ دونوں کا لبیک ایک ساتھ پکار رہے تھے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
We set out in the company of Allah's Messenger (ﷺ) five days before the end of Dhul Qa'da intending to perform Hajj only. When we approached Mecca Allah's Messenger (ﷺ) ordered those who did not have the Hadi (i.e. an animal for sacrifice) with them, to perform the Tawaf around the Ka`ba, and between Safa and Marwa and then finish their Ihram. Beef was brought to us on the day of (i.e. the days of slaughtering) and I asked, "What is this?" Somebody said, Allah's Messenger (ﷺ) has slaughtered (a cow) on behalf of his wives." Yahya says: When I narrated this Hadith to Hadrat Qasim bin Muhammad, he said: By Allah She has narrated this Hadith to you in a right way.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا امام مالک سے ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
مدینہ سے ( حجۃ الوداع کے لیے ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم اس وقت نکلے جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے ۔ ہفتہ کے دن ہمارا مقصد حج کے سوا اور کچھ بھی نہ تھا ۔ جب ہم مکہ سے قریب ہوئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو جب وہ بیت اللہ کے طواف اور صفا اور مروہ کی سعی سے فارغ ہو جائے تو احرام کھول دے ۔ ( پھر حج کے لیے بعد میں احرام باندھے ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ دسویں ذی الحجہ کو ہمارے یہاں گائے کا گوشت آیا ، میں نے پوچھا کہ گوشت کیسا ہے ؟ تو بتایا گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے جو گائے قربانی کی ہے یہ اسی کا گوشت ہے ۔ یحییٰ نے بیان کیا کہ میں نے اس کے بعد اس حدیث کا ذکر قاسم بن محمد سے کیا تو انہوں نے بتایا کہ قسم اللہ کی ! عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے تم سے یہ حدیث ٹھیک ٹھیک بیان کی ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Once the Prophet (ﷺ) set out in the month of Ramadan. He observed fasting till he reached a place called Kadid where he broke his fast. Sufyan, Zuhri, Obadullah reports this complete Hadith from Hadrat Ibn-e-Abbas رضی اللہ عنہما .
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا مجھ سے زہری نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( فتح مکہ کے لیے مدینہ سے ) رمضان میں نکلے اور روزے سے تھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام کدید پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کیا ۔ سفیان نے کہا کہ زہری نے بیان کیا ، انہیں عبداللہ نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پھر یہی حدیث بیان کی ۔
Narrated Abu Hurairah (رضی اللہ عنہ):
Allah's Messenger (ﷺ) sent us on military expedition telling us, "If you find such and such persons (he named two men from Quraish), burn them fire." Then we came to bid him farewell, when we wanted to set out, he said: "Previously I ordered you to burn so-and-so and so-and-so with fire, but as punishment with fire is done by none except Allah, if you capture them, kill them, (instead)."
اور عبداللہ بن وہب نے کہا کہ مجھ کو عمرو بن حارث نے خبر دی ، انہیں بکیر نے ، انہیں سلیمان بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک فوج میں بھیجا اور ہدایت فرمائی کہ اگر فلاں فلاں دو قریشی ( ہبابن اسود اور نافع بن عبد عمر ) جن کا آپ نے نام لیا تم کو مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہونے کی اجازت کے لیے حاضر ہوئے ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں پہلے ہدایت کی تھی کہ فلاں فلاں قریشی اگر تمہیں مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا ۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ آگ کی سزا دینا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے سزاوار نہیں ہے ۔ اس لیے اگر وہ تمہیں مل جائیں تو انہیں قتل کر دینا ۔ ( آگ میں نہ جلانا ) ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The 'Prophet said, "It is obligatory for one to listen to and obey (the ruler's orders) unless these orders involve one disobedience (to Allah); but if an act of disobedience (to Allah) is imposed, he should not listen to or obey it."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ۔ ( دوسری سند ) اور مجھ سے محمد بن صباح نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے ، ان سے نافع نے ، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( خلیفہ وقت کے احکام ) سننا اور انہیں بجا لانا ( ہر مسلمان کے لیے ) واجب ہے ، جب تک کہ گناہ کا حکم نہ دیا جائے ۔ اگر گناہ کا حکم دیا جائے تو پھر نہ اسے سننا چاہئے اور نہ اس پر عمل کرنا چاہئے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) saying, "We are the last but will be the foremost to enter Paradise)." The Prophet added, "He who obeys me, obeys Allah, and he who disobeys me, disobeys Allah. He who obeys the chief, obeys me, and he who disobeys the chief, disobeys me. The Imam is like a shelter for whose safety the Muslims should fight and where they should seek protection. If the Imam orders people with righteousness and rules justly, then he will be rewarded for that, and if he does the opposite, he will be responsible for that."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ہم لوگ دنیا میں سب سے پیچھے آئے لیکن ( آخرت میں جنت میں سب سے آگے ہوں گے ) ۔ اور اسی سند کے ساتھ روایت ہے کہ جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی ، اس نے میری نافرمانی کی ۔ امام کی مثال ڈھال جیسی ہے کہ اس کے پیچھے رہ کر اس کی آڑ میں ( یعنی اس کے ساتھ ہو کر ) جنگ کی جاتی ہے ۔ اور اسی کے ذریعہ ( دشمن کے حملہ سے ) بچا جاتا ہے ، پس اگر امام تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے کا حکم دے اور انصاف کرے اس کا ثواب اسے ملے گا ، لیکن اگر بیانصافی کرے گا تو اس کا وبال اس پر ہو گا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
When we reached (Hudaibiya) in the next year (of the treaty of Hudaibiya), not even two men amongst us agreed unanimously as to which was the tree under which we had given the pledge of allegiance, and that was out of Allah's Mercy. (The sub narrator asked Naf'i, "For what did the Prophet (ﷺ) take their pledge of allegiance, was it for death?" Naf'i replied "No, but he took their pledge of allegiance for patience.")
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
( صلح حدیبیہ کے بعد ) جب ہم دوسرے سال پھر آئے ، تو ہم میں سے ( جنہوں نے صلح حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ) دو شخص بھی اس درخت کی نشان دہی پر متفق نہیں ہو سکے ۔ جس کے نیچے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی اور یہ صرف اللہ کی رحمت تھی ۔ جویریہ نے کہا ، میں نے نافع سے پوچھا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے کس بات پر بیعت کی تھی ، کیا موت پر لی تھی ؟ فرمایا کہ نہیں ، بلکہ صبر و استقامت پر بیعت لی تھی ۔
Narrated `Abdullah bin Zaid رضی اللہ عنہ :
that in the time (of the battle) of Al-Harra a person came to him and said, "Ibn Hanzala is taking the pledge of allegiance from the people for death." He said, "I will never give a pledge of allegiance for such a thing to anyone after Allah's Messenger (ﷺ)."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا ، کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ نے ، ان سے عباد بن تمیم نے اور ان سے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
حرہ کی لڑائی کے زمانہ میں ایک صاحب ان کے پاس آئے اور کہا کہ عبداللہ بن حنظلہ لوگوں سے ( یزید کے خلاف ) موت پر بیعت لے رہے ہیں ۔ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب میں موت پر کسی سے بیعت نہیں کروں گا ۔
Narrated Salama:
"I gave the Pledge of allegiance (Al-Ridwan) to Allah's Messenger (ﷺ) and then I moved to the shade of a tree. When the number of people around the Prophet (ﷺ) diminished, he said, 'O Ibn Al-Akwa` ! Will you not give to me the pledge of Allegiance?' I replied, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! I have already given to you the pledge of Allegiance.' He said, 'Do it again.' So I gave the pledge of allegiance for the second time." I asked 'O Abu Muslim! For what did you give he pledge of Allegiance on that day?" He replied, "We gave the pledge of Allegiance for death."
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ، اور ان سے سلمہ بن الاکوع نے بیان کیا
( حدیبیہ کے موقع پر ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ۔ پھر ایک درخت کے سائے میں آ کر کھڑا ہو گیا ۔ جب لوگوں کا ہجوم کم ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا ، ابن الاکوع کیا بیعت نہیں کرو گے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! میں تو بیعت کر چکا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، دوبارہ اور بھی ! چنانچہ میں نے دوبارہ بیعت کی ( یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ ) میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، ابومسلم اس دن آپ حضرات نے کس بات پر بیعت کی تھی ؟ کہا کہ موت پر ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
On the day (of the battle) of the Trench, the Ansar were saying, "We are those who have sworn allegiance to Muhammad for Jihaid (for ever) as long as we live." The Prophet (ﷺ) replied to them, "O Allah! There is no life except the life of the Hereafter. So honor the Ansar and emigrants with Your Generosity."
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ۔ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے حمید نے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ آپ بیان کرتے تھے کہ
انصار خندق کھودتے ہوئے ( غزوہ خندق کے موقع پر ) کہتے تھے ۔ ” ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جہاد پر بیعت کی ہے ہمیشہ کے لیے ، جب تک ہمارے جسم میں جان ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جواب دیا کہ اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا کوئی زندگی نہیں، پس انصار اور مہاجرین کو اپنی سخاوت کے ساتھ عزت عطا فرما۔
Narrated Mujashi رضی اللہ عنہ :
My brother and I came to the Prophet (ﷺ) and I requested him to take the pledge of allegiance from us for migration. He said, "Migration has passed away with its people." I asked, "For what will you take the pledge of allegiance from us then?" He said, "I will take (the pledge) for Islam and Jihad."
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے محمد بن فضیل سے سنا ، انہوں نے عاصم سے ، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے ، اور ان سے مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں اپنے بھائی کے ساتھ ( فتح مکہ کے بعد ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور عرض کیا کہ ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت تو ( مکہ کے فتح ہونے کے بعد ، وہاں سے ) ہجرت کر کے آنے والوں پر ختم ہو گئی ۔ میں نے عرض کیا ، پھر آپ ہم سے کس بات پر بیعت لیں گے ؟ آپ نے فرمایا کہ اسلام اور جہاد پر ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
Today a man came to me and asked me a question which I did not know how to answer. He said, "Tell me, if a wealthy active man, well-equipped with arms, goes out on military expeditions with our chiefs, and orders us to do such things as we cannot do (should we obey him?)" I replied, "By Allah, I do not know what to reply you, except that we, were in the company of the Prophet (ﷺ) and he used to order us to do a thing once only till we finished it. And no doubt, everyone among you will remain in a good state as long as he obeys Allah. If one is in doubt as to the legality of something, he should ask somebody who would satisfy him, but soon will come a time when you will not find such a man. By Him, except Whom none has the right to be worshipped. I see that the example of what has passed of this life (to what remains thereof) is like a pond whose fresh water has been used up and nothing remains but muddy water."
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میرے پاس ایک شخص آیا ، اور ایسی بات پوچھی کہ میری کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ اس کا جواب کیا دوں ۔ اس نے پوچھا ، مجھے یہ مسئلہ بتائیے کہ ایک شخص بہت ہی خوش اور ہتھیار بند ہو کر ہمارے امیروں کے ساتھ جہاد کے لیے جاتا ہے ۔ پھر وہ امیر ہمیں ایسی چیزوں کا مکلف قرار دیتے ہیں کہ ہم ان کی طاقت نہیں رکھتے ۔ میں نے کہا ، اللہ کی قسم ! میری کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ تمہاری بات کا جواب کیا دوں ، البتہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی معاملہ میں صرف ایک مرتبہ حکم کی ضرورت پیش آتی تھی اور ہم فوراً ہی اسے بجا لاتے تھے ، یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ تم لوگوں میں اس وقت تک خیر رہے گی جب تک تم اللہ سے ڈرتے رہو گے ، اور اگر تمہارے دل میں کسی معاملہ میں شبہ پیدا ہو جائے ( کہ کیا چاہئے یا نہیں ) تو کسی عالم سے اس کے متعلق پوچھ لو تاکہ تشفی ہو جائے ، وہ دور بھی آنے والا ہے کہ کوئی ایسا آدمی بھی ( جو صحیح صحیح مسئلے بتا دے ) تمہیں نہیں ملے گا ۔ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! جتنی دنیا باقی رہ گئی ہے وہ وادی کے اس پانی کی طرح ہے جس کا صاف اور اچھا حصہ تو پیا جا چکا ہے اور گدلا حصہ باقی رہ گیا ہے ۔
Narrated Salim Abu An-Nadr:
`Abdullah bin Abi `Aufa رضی اللہ عنہما wrote him (i.e. `Umar) a letter that contained the following: Once Allah's Messenger (ﷺ) (during a holy battle), waited till the sun had declined and then he got up among the people and said, "O people! Do not wish to face the enemy (in a battle) and ask Allah to save you (from calamities) but if you should face the enemy, then be patient and let it be known to you that Paradise is under the shades of swords." He then said,, "O Allah! The Revealer of the (Holy) Book, the Mover of the clouds, and Defeater of Al-Ahzab (i.e. the clans of infidels), defeat them infidels and bestow victory upon us."
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسحاق فزاری نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، ان سے عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابی النضر نے ، ( سالم ان کے منشی تھے ) بیان کیا کہ
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے انہیں خط لکھا اور میں نے اسے پڑھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعض دنوں میں جن میں آپ جنگ کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی شروع کرتے ) ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا لوگو ! دشمن کے ساتھ جنگ کی خواہش اور تمنا دل میں نہ رکھا کرو ، بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو ، البتہ جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو ہی جائے تو پھر صبر و استقامت کا ثبوت دو ، یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی ، اے اللہ ! کتاب کے نازل کرنے والے ، بادل بھیجنے والے ، احزاب ( دشمن کے دستوں ) کو شکست دینے والے ، انہیں شکست دے اور ان کے مقابلے میں ہماری مدد کر ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
I participated in a Ghazwa along with Allah's Messenger (ﷺ) The Prophet (ﷺ) met me (on the way) while I was riding a camel of ours used for irrigation and it had got so tired that it could hardly walk. The Prophet (ﷺ) asked me, "What is wrong with the camel?" I replied, "It has got tired." So. Allah's Messenger (ﷺ) came from behind it and rebuked it and prayed for it so it started surpassing the other camels and going ahead of them. Then he asked me, "How do you find your camel (now)?" I replied, "I find it quite well, now as it has received your blessings." He said, "Will you sell it to me?" I felt shy (to refuse his offer) though it was the only camel for irrigation we had. So, I said, "Yes." He said, "Sell it to me then." I sold it to him on the condition that I should keep on riding it till I reached Medina. Then I said, "O Allah's Apostle! I am a bridegroom," and requested him to allow me to go home. He allowed me, and I set out for Medina before the people till I reached Medina, where I met my uncle, who asked me about the camel and I informed him all about it and he blamed me for that. When I took the permission of Allah's Messenger (ﷺ) he asked me whether I had married a virgin or a matron and I replied that I had married a matron. He said, "Why hadn't you married a virgin who would have played with you, and you would have played with her?" I replied, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My father died (or was martyred) and I have some young sisters, so I felt it not proper that I should marry a young girl like them who would neither teach them manners nor serve them. So, I have married a matron so that she may serve them and teach them manners." When Allah's Messenger (ﷺ) arrived in Medina, I took the camel to him the next morning and he gave me its price and gave me the camel itself as well. Hadrat Mogheerah said: It is excellent to do so in business and we do not see any harm in it.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم کو جریر نے خبر دی ، انہیں مغیرہ نے ، انہیں شعبی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ ( جنگ تبوک ) میں شریک تھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے سے آ کر میرے پاس تشریف لائے ۔ میں اپنے پانی لادنے والے ایک اونٹ پر سوار تھا ۔ چونکہ وہ تھک چکا تھا ، اس لیے آہستہ آہستہ چل رہا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ جابر ! تمہارے اونٹ کو کیا ہو گیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ تھک گیا ہے ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے گئے اور اسے ڈانٹا اور اس کے لیے دعا کی ۔ پھر تو وہ برابر دوسرے اونٹوں کے آگے آگے چلتا رہا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، اپنے اونٹ کے متعلق کیا خیال ہے ؟ میں نے کہا کہ اب اچھا ہے ۔ آپ کی برکت سے ایسا ہو گیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کیا اسے بیچو گے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ میں شرمندہ ہو گیا ، کیونکہ ہمارے پاس پانی لانے کو اس کے سوا اور کوئی اونٹ نہیں رہا تھا ۔ مگر میں نے عرض کیا ، جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر بیچ دے ۔ چنانچہ میں نے وہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیچ دیا اور یہ طے پایا کہ مدینہ تک میں اسی پر سوار ہو کر جاؤں گا ۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! میری شادی ابھی نئی ہوئی ہے ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( آگے بڑھ کر اپنے گھر جانے کی ) اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت عنایت فرما دی ۔ اس لیے میں سب سے پہلے مدینہ پہنچ آیا ۔ جب ماموں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے اونٹ کے متعلق پوچھا ۔ جو معاملہ میں کر چکا تھا اس کی انہیں اطلاع دی ۔ تو انہوں نے مجھے برا بھلا کہا ۔ ( ایک اونٹ تھا تیرے پاس وہ بھی بیچ ڈالا اب پانی کس پر لائے گا ) جب میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی تھی تو آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا تھا کہ کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے ؟ میں نے عرض کیا تھا بیوہ سے اس پر آپ نے فرمایا تھا کہ باکرہ سے کیوں نہ کی ، وہ بھی تمہارے ساتھ کھیلتی اور تم بھی اس کے ساتھ کھیلتے ۔ ( کیونکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بھی ابھی کنوارے تھے ) میں نے کہا یا رسول اللہ ! میرے باپ کی وفات ہو گئی ہے یا ( یہ کہا کہ ) وہ ( احد ) میں شہید ہو چکے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں ۔ اس لیے مجھے اچھا نہیں معلوم ہوا کہ انہیں جیسی کسی لڑکی کو بیاہ کے لاوں ، جو نہ انہیں ادب سکھا سکے نہ ان کی نگرانی کر سکے ۔ اس لیے میں نے بیوہ سے شادی کی تاکہ وہ ان کی نگرانی کرے اور انہیں ادب سکھائے ۔ انہوں نے بیان کیا ، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو صبح کے وقت میں اسی اونٹ پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس اونٹ کی قیمت عطا فرمائی اور پھر وہ اونٹ بھی واپس کر دیا ۔ مغیرہ راوی رحمہ اللہ نے کہا کہ ہمارے نزدیک بیع میں یہ شرط لگانا اچھا ہے کچھ برا نہیں ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Once there was a feeling of fright at Medina, so Allah's Messenger (ﷺ) rode a horse belonging to Abu Talha رضی اللہ عنہ and (on his return) he said, "We have not seen anything (fearful), but we found this horse very fast."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ان سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
مدینہ میں ایک دفعہ کچھ دہشت پھیل گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر سوار ہو کر ( حالات معلوم کرنے کے لیے سب سے آگے تھے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے تو کوئی بات نہیں دیکھی ۔ البتہ اس گھوڑے کو ہم نے دوڑنے میں دریا کی روانی جیسا تیز پایا ہے ۔ ( باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے ) ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Once the people got frightened, so Allah's Messenger (ﷺ) rode a slow horse belonging to Abu Talha رضی اللہ عنہ , and he set out all alone, making the horse gallop. Then the people rode, making their horses gallop after him. On his return he said, "Don't be afraid (there is nothing to be afraid of) (and I have found) this horse a very fast one." That horse was never excelled in running hence forward. (Qastalani Vol. 5)
ہم سے فضل بن سہل نے بیان کیا ، کہا ہم سے حسین بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا ، ان سے محمد نے ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
( مدینہ میں ) لوگوں میں دہشت پھیل گئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر جو بہت سست تھا ، سوا ر ہوئے اور تنہا ایڑ لگاتے ہوئے آگے بڑھے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے پیچھے سوار ہو کر نکلے ۔ اس کے بعد واپسی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خوفزدہ ہونے کی کوئی بات نہیں ہے ، البتہ یہ گھوڑا دریا ہے ۔ اس دن کے بعد پھر وہ گھوڑا ( دوڑ وغیرہ کے موقع پر ) کبھی پیچھے نہیں رہا ۔
Narrated `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ :
I gave a horse to be used in Allah's Cause, but later on I saw it being sold. I asked the Prophet (ﷺ) whether I could buy it. He said, "Don't buy it and don't take back your gift of charity."
ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے مالک بن انس سے سنا ، انہوں نے زید بن اسلم سے پوچھا تھا اور زید نے کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا تھا ، وہ بیان کرتے تھے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا
میں نے اللہ کے راستے میں ( جہاد کے لیے ) اپنا ایک گھوڑا ایک شخص کو سواری کے لیے دے دیا تھا ۔ پھر میں نے دیکھا کہ ( بازار میں ) وہی گھوڑا بک رہا ہے ۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں اسے خرید سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس گھوڑے کو تم نہ خریدو اور اپنا صدقہ ( خواہ خرید کر ہی ہو ) واپس نہ لو ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
`Umar رضی اللہ عنہ gave a horse to be used in Allah's Cause, but later on he found it being sold. So, he intended to buy it and asked Allah's Messenger (ﷺ) who said, "Don't buy it and don't take back your gift of charity."
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے نافع نے ، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کے راستے میں اپنا ایک گھوڑا سواری کے لیے دے دیا تھا ۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ وہی گھوڑا بک رہا ہے ۔ اپنے گھوڑے کو انہوں نے خریدنا چاہا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا ، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے نہ خریدو ۔ اور اس طرح اپنے صدقہ کو واپس نہ لو ۔