Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The 'Prophet was the best and the bravest amongst the people. Once the people of Medina got terrified at night, so they went in the direction of the noise (that terrified them). The Prophet (ﷺ) met them (on his way back) after he had found out the truth. He was riding an unsaddled horse belonging to Abu Talha رضی اللہ عنہ and a sword was hanging by his neck, and he was saying, "Don't be afraid! Don't be afraid!" He further said, "I found it (i.e. the horse) very fast," or said, "This horse is very fast." (Qastala-ni)
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوب صورت اور سب سے زیادہ بہادر تھے ۔ ایک رات مدینہ پر ( ایک آواز سن کر ) بڑا خوف چھا گیا تھا ، سب لوگ اس آواز کی طرف بڑھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آگے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی واقعہ کی تحقیق کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر سوار تھے جس کی پشت ننگی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن سے تلوار لٹک رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ ڈرو مت ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے تو گھوڑے کو سمندر کی طرح تیز پایا ہے یا ( یہ فرمایا کہ گھوڑا جیسے سمندر ہے ۔
Narrated Abu Umama:
Some people conquered many countries and their swords were decorated neither with gold nor silver, but they were decorated with leather, lead and iron.
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو اوزاعی نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ میں نے سلیمان بن حبیب سے سنا ، کہا میں نے ابوامامہ باہلی سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ
ایک قوم ( صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ) نے بہت سی فتوحات کیں اور ان کی تلواروں کی آرائش سونے چاندی سے نہیں ہوئی تھی بلکہ اونٹ کی پشت کا چمڑہ ، سیسہ اور لوہا ان کی تلواروں کے زیور تھے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
He proceeded in the company of Allah's Messenger (ﷺ) towards Najd to participate in a Ghazwa. (Holybattle) When Allah's Messenger (ﷺ) returned, he too returned with him. Midday came upon them while they were in a valley having many thorny trees. Allah's Messenger (ﷺ) and the people dismounted and dispersed to rest in the shade of the trees. Allah's Messenger (ﷺ) rested under a tree and hung his sword on it. We all took a nap and suddenly we heard Allah's Messenger (ﷺ) calling us. (We woke up) to see a bedouin with him. The Prophet (ﷺ) said, "This bedouin took out my sword while I was sleeping and when I woke up, I found the unsheathed sword in his hand and he challenged me saying, 'Who will save you from me?' I said thrice, 'Allah.' The Prophet (ﷺ) did not punish him but sat down.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا مجھ سے سنان بن ابی سنان الدولی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کے اطراف میں ایک غزوہ میں شریک تھے ۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد سے واپس ہوئے تو آپ کے ساتھ یہ بھی واپس ہوئے ۔ راستے میں قیلولہ کا وقت ایک ایسی وادی میں ہوا جس میں ببول کے درخت بکثرت تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وادی میں پڑاو کیا اور صحابہ پوری وادی میں ( درخت کے سائے کے لیے ) پھیل گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک ببول کے نیچے قیام فرمایا اور اپنی تلوار درخت پر لٹکادی ۔ ہم سب سو گئے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پکارنے کی آواز سنائی دی ، دیکھا گیا تو ایک بدوی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے غفلت میں میری ہی تلوار مجھ پر کھینچ لی تھی اور میں سویا ہوا تھا ، جب بیدار ہوا تو ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی ۔ اس نے کہا مجھ سے تمہیں کون بچائے گا ؟ میں نے کہا کہ اللہ ! تین مرتبہ ( میں نے اسی طرح کہا اور تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر گئی ) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی کو کوئی سزا نہیں دی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے ۔ ( پھر وہ خود متاثر ہو کر اسلام لائے ) ۔
Narrated Sahl رضی اللہ عنہ :
That he was asked about the wound of the Prophet (ﷺ) on the day (of the battle) of Uhud. He said, "The face of the Prophet (ﷺ) as wounded and one of his front teeth as broken and the helmet over his head was smashed. Fatima رضی اللہ عنہا washed of the blood while `Ali رضی اللہ عنہ held water. When she saw that bleeding was increasing continuously, she burnt a mat (of date-palm leaves) till it turned into ashes which she put over the wound and thus the bleeding ceased."
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے ،
ان سے احد کی لڑائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے بتلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر زخم آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے تھے اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرمبارک پر ٹوٹ گئی تھی ۔ ( جس سے سر پر زخم آئے تھے ) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا خون دھو رہی تھیں اور علی رضی اللہ عنہ پانی ڈال رہے تھے ۔ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خون برابر بڑھتا ہی جا رہا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی جلائی اور اس کی راکھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں پر لگا دیا جس سے خون بہنا بند ہو گیا ۔
Narrated `Amr bin Al-Harith رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) did not leave behind him after his death, anything except his arms, his white mule, and a piece of land at Khaibar which he left to be given in charity .
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے ، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وفات کے بعد ) اپنے ہتھیار ایک سفید خچر اور ایک قطعہ اراضی جسے آپ پہلے ہی صدقہ کر چکے تھے کے سوا اور کوئی چیز نہیں چھوڑی تھی ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
He participated in a Ghazwa (Holy-Battle) in the company of Allah's Messenger (ﷺ). Midday came upon them while they were in a valley having many thorny trees. The people dispersed to rest in the shade of the trees. The Prophet (ﷺ) rested under a tree, hung his sword on it, and then slept. Then he woke up to find near to him, a man whose presence he had not noticed before. The Prophet (ﷺ) said, "This (man) took my sword (out of its scabbard) and said, 'Who will save you from me.' I replied, 'Allah.' So, he put the sword back into its scabbard, and you see him sitting here." Anyhow, the Prophet (ﷺ) did not punish him. (See Hadith No. 158)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، ان سے سنان بن ابی سنان اور ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان دونوں حضرات کو جابر رضی اللہ عنہ نے خبر دی ۔ اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہیں ابراہیم بن سعد نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے خبر دی ، انہیں سنان بن ابی سنان الدولی نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لڑائی میں شریک تھے ۔ ایک ایسے جنگل میں جہاں ببول کے درخت بکثرت تھے ۔ قیلولہ کا وقت ہو گیا ، تمام صحابہ سائے کی تلاش میں ( پوری وادی میں متفرق درختوں کے نیچے ) پھیل گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک درخت کے نیچے قیام فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار ( درخت کے تنے سے ) لٹکا دی تھی اور سو گئے تھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اجنبی موجود تھا ۔ اس اجنبی نے کہا کہ اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ؟ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی اور جب صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے میری ہی تلوار مجھ پر کھینچ لی تھی اور مجھ سے کہنے لگا تھا کہ اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکے گا ؟ میں نے کہا اللہ ( اس پر وہ شخص خود ہی دہشت زدہ ہو گیا ) اور تلوار نیام میں کر لی ، اب یہ بیٹھا ہوا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہیں دی تھی ۔
Narrated Abu Qatada رضی اللہ عنہ :
He was in the company of Allah's Messenger (ﷺ) and when they had covered a portion of the road to Mecca, he and some of the companions lagged behind. The latter were in a state of Ihram, while he was not. He saw an onager and rode his horse and requested his companions to give him his lash but they refused. Then he asked them to give him his spear but they refused, so he took it himself, attacked the onager, and killed it. Some of the companions of the Prophet (ﷺ) ate of it while some others refused to eat. When they caught up with Allah's Messenger (ﷺ) they asked him about that, and he said, "That was a meal Allah fed you with." A Hadith similar to that of Abu Nadr has also been reported from Zaid bin Aslam, Ataa bin Yasaar, Abu Qatada about an onager. (It also says: ) He (ﷺ) said: Do you have any left-over meat of it with you?
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں عمر بن عبیداللہ کے مولیٰ ابوالنضر نے اور انہیں ابوقتادہ انصاری کے مولیٰ نافع نے اور انہیں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ
آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) مکہ کے راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے ، لشکر سے پیچھے رہ گئے ۔ خود قتادہ رضی اللہ عنہ نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا ۔ پھر انہوں نے ایک گورخر دیکھا اور اپنے گھوڑے پر ( شکار کرنے کی نیت سے ) سوار ہو گئے ، اس کے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں سے ( احرام باندھے ہوئے تھے ) کہا کہ کوڑا اٹھا دیں انہوں نے اس سے انکار کیا ، پھر انہوں نے اپنا نیزہ مانگا اس کے دینے سے انہوں نے انکار کیا ، آخر انہوں نے خود اسے اٹھایا اور گورخر پر جھپٹ پڑے اور اسے مار لیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے بعض نے تو اس گورخر کا گوشت کھایا اور بعض نے اس کے کھانے سے ( احرام کے عذر کی بنا پر ) انکار کیا ۔ پھر جب یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو اس کے متعلق مسئلہ پوچھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو ایک کھانے کی چیز تھی جو اللہ نے تمہیں عطا کی ۔ اور زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے گورخر کے ( شکار سے ) متعلق ابوالنضر ہی کی حدیث کی طرح ( البتہ اس روایت میں یہ زائد ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اس کا کچھ بچا ہوا گوشت ابھی تمہارے پاس موجود ہے ؟
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) , while in a tent (on the day of the battle of Badr) said, "O Allah! I ask you the fulfillment of Your Covenant and Promise. O Allah! If You wish (to destroy the believers) You will never be worshipped after today." Abu Bakr رضی اللہ عنہ caught him by the hand and said, "This is sufficient, O Allah's Apostle! You have asked Allah pressingly." The Prophet (ﷺ) was clad in his armor at that time. He went out, saying to me: "There multitude will be put to flight and they will show their backs. Nay, but the Hour is their appointed time (for their full recompense) and that Hour will be more grievous and more bitter (than their worldly failure)." (54.45-46) Khalid said that was on the day of the battle of Badr.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( بدر کے دن ) دعا فرما رہے تھے ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خیمہ میں تشریف فرما تھے ، کہ اے اللہ ! میں تیرے عہد اور تیرے وعدے کا واسطہ دے کر فریاد کرتا ہوں ۔ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے گی ۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کیا بس کیجئے اے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے حضور میں دعا کی حد کر دی ہے ۔ آنحضرت اس وقت زرہ پہنے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو زبان مبارک پر یہ آیت تھی ( ترجمہ ) ” جماعت ( مشرکین ) جلد ہی شکست کھا کر بھاگ جائے گی اور پیٹھ دکھانا اختیار کرے گی اور قیامت کے دن کا ان سے وعدہ ہے اور قیامت کا دن بڑا ہی بھیانک اور تلخ ہو گا “ اور وہیب نے بیان کیا ، ان سے خالد نے بیان کیا کہ بدر کے دن کا ( یہ واقعہ ہے ) ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) died while his (iron) armor was mortgaged to a Jew for thirty Sas of barley. Yala said: A' mash narrated Hadith to us that the armour was made of iron. Moalla said: Abdul Wahid narrated a Hadith it to him and said: He was clad in an iron armour.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں ابراہیم نے ، انہیں اسود نے اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے بدلے میں رہن رکھی ہوئی تھی ۔ اور یعلیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا کہ لوہے کی زرہ ( تھی ) اور معلیٰ نے بیان کیا ، ان سے عبدالواحد نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوہے کی ایک زرہ رہن رکھی تھی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The example of a miser and the one who gives in charity, is like the example of two men wearing iron cloaks so tightly that their arms are raised forcibly towards their collar-bones. So, whenever a charitable person wants to give in charity, his cloak spreads over his body so much so that it wipes out his traces, but whenever the miser wants to give in charity, the rings (of the iron cloak) come closer to each other and press over his body, and his hands gets connected to his collarbones. Abu Huraira رضی اللہ عنہ heard the Prophet (ﷺ) saying. "The miser then tries to widen it but in vain."
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن طاوس نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخیل ( جو زکوٰۃ نہیں دیتا ) اور زکوٰۃ دینے والے ( سخی ) کی مثال دو آدمیوں جیسی ہے ، دونوں لوہے کے کرتے ( زرہ ) پہنے ہوئے ہیں ، دونوں کے ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے ہیں زکوٰۃ دینے والا ( سخی ) جب بھی زکوٰۃ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کرتہ اتنا کشادہ ہو جاتا ہے کہ زمین پر چلتے میں گھسٹتا جاتا ہے لیکن جب بخیل صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ایک ایک حلقہ اس کے بدن پر تنگ ہو جاتا ہے اور اس طرح سکڑ جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن سے جڑ جاتے ہیں ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ پھر بخیل اسے ڈھیلا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ڈھیلا نہیں ہوتا ۔
Narrated Al-Mughira bin Shu`ba رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) went out to answer the call of nature and on his return I brought some water to him. He performed the ablution while he was wearing a Sha'mi cloak. He rinsed his mouth and washed his nose by putting water in it and then blowing it out, and washed his face. Then he tried to take out his hands through his sleeves but they were tight, so he took them out from underneath, washed them and passed wet hands over his head and over his leather socks.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابوالضحیٰ مسلم نے ، جو صبیح کے صاحبزاے ہیں ، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لیے تشریف لے گئے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو میں پانی لے کر خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم شامی جبہ پہنے ہوئے تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرہ پاک کو دھویا ۔ اس کے بعد ( ہاتھ دھونے کے لیے ) آستین چڑھانے کی کوشش کی لیکن آستین تنگ تھی اس لیے ہاتھوں کو نیچے سے نکالا پھر انہیں دھویا اور سر کا مسح کیا اور دونوں موزوں ہر دو کا بھی مسح کیا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) allowed `Abdur-Rahman bin `Auf and Az-Zubair رضی اللہ عنہما to wear silken shirts because they had a skin disease causing itching.
ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر رضی اللہ عنہما کو خارش کے مرض کی وجہ سے ریشمی کرتہ پہننے کی اجازت دے دی تھی ، جو ان دونوں کو لاحق ہو گئی تھی جو اس مرض میں مفید ہے ۔
Narrated Anas:
`Abdur Rahman bin `Auf and Az-Zubair رضی اللہ عنہما complained to the Prophet, i.e. about the lice (that caused itching) so he allowed them to wear silken clothes. I saw them wearing such clothes in a holy battle.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے ، دوسری سند ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ان سے قتادۃ نے ان سے انس نے کہ
عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ریشمی کپڑے کے استعمال کی اجازت دے دی ، پھر میں نے جہاد میں انہیں ریشمی کپڑا پہنے ہوئے دیکھا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) allowed `Abdur-Rahman bin `Auf and Az-Zubair bin Al-`Awwam رضی اللہ عنہما to wear silk.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، انہیں قتادہ نے خبر دی اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت دے دی تھی ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
(Wearing of silk) was allowed to them (i.e. `AbdurRahman and Az-Zubair) because of the itching they suffered from.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ
( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) رخصت دی تھی یا ( یہ بیان کیا کہ ) رخصت دی گئی تھی ، ان دونوں حضرات کو خارش کی وجہ سے جو ان کو لاحق ہو گئی تھی ۔
Narrated Jafar bin Umaiya's father said:
I saw the Prophet (ﷺ) eating of a shoulder (of a sheep) by cutting from it and then he was called to prayer and he prayed without repeating his ablution. There is an addition in Hdrat Abdul Yamam, Shoaib and Zuhri's report: (When he was requested for leading the prayer), he (ﷺ) put down the knife.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے جعفر بن عمرو بن امیہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شانے کا گوشت ( چھری سے ) کاٹ کر کھا رہے تھے ، پھر نماز کے لیے اذان ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا ۔ ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی اور انہیں زہری نے ( اس روایت میں ) یہ زیادتی بھی موجود ہے کہ ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے بلائے گئے تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری ڈال دی ۔
Narrated 'Umair bin Al-Aswad Al-Anasi:
He went to 'Ubada bin As-Samit while he was staying in his house at the sea-shore of Hims with (his wife) Um Haram رضی اللہ عنہا . 'Umair said. Um Haram رضی اللہ عنہا informed us that she heard the Prophet (ﷺ) saying, "Paradise is granted to the first batch of my followers who will undertake a naval expedition." Um Haram رضی اللہ عنہا added, I said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Will I be amongst them?' He replied, 'You are amongst them.' The Prophet (ﷺ) then said, 'The first army amongst' my followers who will invade Caesar's City will be forgiven their sins.' I asked, 'Will I be one of them, O Allah's Messenger (ﷺ)?' He replied in the negative."
ہم سے اسحاق بن یزید دمشقی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ثوربن یزید نے بیان کیا ، ان سے خالد بن معدان نے اور ان سے عمیر بن اسودعنسی نے بیان کیا کہ
وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ کا قیام ساحل حمص پر اپنے ہی ایک مکان میں تھا اور آپ کے ساتھ ( آپ کی بیوی ) ام حرام رضی اللہ عنہا بھی تھیں ۔ عمیر نے بیان کیا کہ ہم سے ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میری امت کا سب سے پہلا لشکر جو دریائی سفر کر کے جہاد کے لیے جائے گا ، اس نے ( اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت ) واجب کر لی ۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے کہا تھا یا رسول اللہ ! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں گی ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں ، تم بھی ان کے ساتھ ہو گی ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلا لشکر میری امت کا جو قیصر ( رومیوں کے بادشاہ ) کے شہر ( قسطنطنیہ ) پر چڑھائی کرے گا ان کی مغفرت ہو گی ۔ میں نے کہا میں بھی ان کے ساتھ ہوں گی یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "You (i.e. Muslims) will fight with the Jews until some of them will hide behind stones. The stones will (betray them) saying, 'O `Abdullah (i.e. slave of Allah)! There is a Jew hiding behind me; so kill him.'"
ہم سے اسحاق بن محمد فروی نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( ایک دور آئے گا جب ) تم یہودیوں سے جنگ کرو گے ۔ ( اور وہ شکست کھا کر بھاگتے پھریں گے ) کوئی یہودی اگر پتھر کے پیچھے چھپ جائے گا تو وہ پتھر بھی بول اٹھے گا کہ ” اے اللہ کے بندے ! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا بیٹھا ہے اسے قتل کر ڈال ۔ “
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The Hour will not be established until you fight with the Jews, and the stone behind which a Jew will be hiding will say. "O Muslim! There is a Jew hiding behind me, so kill him."
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو جریر نے خبر دی عمارہ بن قعقاع سے ، انہیں ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک یہودی سے تمہاری جنگ نہ ہولے گی اور وہ پتھر بھی اس وقت ( اللہ تعالیٰ کے حکم سے ) بول اٹھیں گے جس کے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہو گا کہ اے مسلمان ! یہ یہودی میری آڑ لے کر چھپا ہوا ہے اسے قتل کر ڈالو ۔
Narrated `Amr bin Taghlib رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "One of the portents of the Hour is that you will fight with people wearing shoes made of hair; and one of the portents of the Hour is that you will fight with broad-faced people whose faces will look like shields coated with leather."
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، ان سے جریر بن حازم نے بیان کیا ، کہا میں نے حسن سے سنا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، کہا کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کی جوتیاں پہنے ہوں گے ( یا ان کے بال بہت لمبے ہوں گے ) اور قیامت کی ایک نشانی یہ ہے کہ ان لوگوں سے لڑو گے جن کے منہ چوڑے چوڑے ہوں گے گویا ڈھالیں ہیں چمڑا جمی ہوئی ( یعنی بہت موٹے منہ والے ہوں گے ) ۔