Narrated Ibn'`Umar رضی اللہ عنہما :
When the Prophet (ﷺ) put his feet in the stirrup and the she-camel got up carrying him he would start reciting Talbiya at the mosque of Dhul-Hulaifa.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنا پائے مبارک غرز ( رکاب ) میں ڈالا اور اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی اٹھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ذوالحلیفہ کے پاس لبیک کہا ( احرام باندھا ) ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) met them (i.e. the people) while he was riding an unsaddled horse with his sword slung over his shoulder.
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر جس پر زین نہیں تھی ، سوار ہو کر صحابہ سے آگے نکل گئے تھے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں تلوار لٹک رہی تھی ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Once the people of Medina were frightened, so the Prophet (ﷺ) rode a horse belonging to Abu Talha and it ran slowly, or was of narrow paces. When he returned, he said, "I found your (i.e. Abu Talha's) horse very fast. After that the horse could not be surpassed in running..'
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک مرتبہ ( رات میں ) اہل مدینہ کو دشمن کا خطرہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے ( مندوب ) پر سوار ہوئے ، گھوڑا سست رفتار تھا یا ( راوی نے یوں کہا کہ ) اس کی رفتار میں سستی تھی ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو فرمایا کہ ہم نے تو تمہارے اس گھوڑے کو دریا پایا ( یہ بڑا ہی تیز رفتار ہے ) چنانچہ اس کے بعد کوئی گھوڑا اس سے آگے نہیں نکل سکتا تھا ۔
Narrated (`Abdullah) bin `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) arranged for a horse race amongst the horses that had been made lean to take place between Al-Hafya'' and Thaniyat Al-Wada` (i.e. names of two places) and the horses which had not been mad.? lean from Ath-Thaniyat to the mosque of Bani Zuraiq. I was also amongst those who took part in that horse race. Sufyan, a sub-narrator, said, "The distance between Al-Hafya and Thaniya Al- Wada` is five or six miles; and between Thaniya and the mosque of Bani Zuraiq is one mile."
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کئے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک کرائی تھی اور جو گھوڑے تیار نہیں کئے گئے تھے ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے مسجد زریق تک کرائی تھی ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ گھوڑ دوڑ میں شریک ہونے والوں میں میں بھی تھا ۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ نے بیان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک پانچ میل کا فاصلہ ہے اور ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق صرف ایک میل کے فاصلے پر ہے ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) arranged for a horse race of the horses which had not been made lean; the area of the race was from Ath-Thaniya to the mosque of Bani Zuraiq. (The sub-narrator said, "`Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما was amongst those who participated in that horse race."). Abu Abd Allah said that Amda (in the hadith) means limit and extreme (in the Holy Qur'an) "Fatal Alaihim al-Amd" which has the same meaning.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی تھی جنہیں تیار نہیں کیا گیا تھا اور دوڑ کی حد ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق رکھی تھی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اس میں شرکت کی تھی ۔ ابوعبداللہ نے کہا کہ امدا ( حدیث میں ) حد اور انتہا کے معنی میں ہے ( قرآن مجید میں ہے ) » فطال علیہم الامد « جو اسی معنی میں ہے ۔
Narrated Abu 'Is-haq from Musa bin `Uqba from Nafi from Ibn `Umar رضی اللہ عنہما who said:
"Allah's Messenger (ﷺ) arranged a horse race amongst the horses that had been made lean, letting them start from Al-Hafya' and their limit (distance of running) was up to Thaniyat-al-Wada`. I asked Musa, 'What was the distance between the two places?' Musa replied, 'Six or seven miles. He arranged a race of the horses which had not been made lean sending them from Thaniyat-al-Wada`, and their limit was up to the mosque of Bani Zuraiq.' I asked, 'What was the distance between those two places?' He replied 'One mile or so.' Ibn `Umar رضی اللہ عنہما was amongst those who participated in that horse race."
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسحاق نے ، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی جنہیں تیار کیا گیا تھا ۔ یہ دوڑ مقام حفیاء سے شروع کرائی اور ثنیۃ الوداع اس کی آخری حد تھی ( ابواسحاق راوی نے بیان کیا کہ ) میں نے ابوموسیٰ سے پوچھا اس کا فاصلہ کتنا تھا ؟ تو انہوں نے بتایا کہ چھ یا سات میل اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی بھی دوڑ کرائی جنہیں تیار نہیں کیا گیا تھا ۔ ایسے گھوڑوں کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے شروع ہوئی اور حد مسجد بنی زریق تھی ۔ میں نے پوچھا اس میں کتنا فاصلہ تھا ؟ انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک میل ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی دوڑ میں شرکت کرنے والوں میں تھے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The she camel of the Prophet (ﷺ) was called Al-Adba.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے حمید نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام عضباء تھا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) had a she camel called Al Adba which could not be excelled in a race. (Humaid, a subnarrator said, "Or could hardly be excelled.") Once a bedouin came riding a camel below six years of age which surpasses it (i.e. Al-`Adba') in the race. The Muslims felt it so much that the Prophet (ﷺ) noticed their distress. He then said, "It is Allah's Law that He brings down whatever rises high in the world." A fragment out of a lenthy Hadith has been mentioned here, which has been reported by Musa from Hammad, Thabit, Hadrat Anas رضی اللہ عنہ and the prophet (ﷺ).
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا ، ان سے حمید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا ۔ کوئی اونٹنی اس سے آگے نہیں بڑھتی تھی یا حمید نے یوں کہا وہ پیچھے رہ جانے کے قریب نہ ہوتی پھر ایک دیہاتی ایک نوجوان ایک قوی اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی سے ان کا اونٹ آگے نکل گیا ۔ مسلمانوں پر یہ بڑا شاق گزرا لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ برحق ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی بلند ہوتی ہے ( کبھی کبھی ) اسے وہ گراتا بھی ہے ۔ موسیٰ نے حماد سے اس کی روایت طول کے ساتھ کی ہے ، حماد نے ثابت سے ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
Narrated `Amr bin Al-Harith رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) did not leave anything behind him after his death except a white mule, his arms and a piece of land which he left to be given in charity.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وفات کے بعد ) سوا اپنے سفید خچر کے ، اپنے ہتھیار اور اس زمین کے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیرات کر دی تھی اور کوئی چیز نہیں چھوڑی تھی ۔
Narrated Al-Bara رضی اللہ عنہ :
A man asked him. "O Abu '`Umara! Did you flee on the day (of the battle) of Hunain?" He replied, "No, by Allah, the Prophet (ﷺ) did not flee but the hasty people fled and the people of the Tribe of Hawazin attacked them with arrows, while the Prophet (ﷺ) was riding his white mule and Abu Sufyan bin Al-Harith was holding its reins, and the Prophet (ﷺ) was saying, 'I am the Prophet (ﷺ) in truth, I am the son of `Abdul Muttalib.' "
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہ
ان سے ایک شخص نے پوچھا اے ابوعمارہ ! کیا آپ لوگوں نے ( مسلمانوں کے لشکر نے ) حنین کی لڑائی میں پیٹھ پھیر لی تھی ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں خدا گواہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی البتہ جلد باز لوگ ( میدان سے ) بھاگ پڑے تھے ( اور وہ لوٹ میں لگ گئے تھے ) قبیلہ ہوازن نے ان پر تیر برسانے شروع کر دئیے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن حارث اس کی لگام تھامے ہوئے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میں نبی ہوں جس میں جھوٹ کا کوئی دخل نہیں ۔ میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا the mother of the faithful believers:
I requested the Prophet (ﷺ) permit me to participate in Jihad, but he said, "Your Jihad is the performance of Hajj." Abdullah bin Waleed said: Sufyan narrated this Hadith to us from Moaviyah. (He said) Qabeesah, (he said) Sufyan has narrated us this Hadith from Moaviyah.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، انہیں معاویہ ابن اسحاق نے ، انہیں عائشہ بنت طلحہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا جہاد حج ہے ۔ اور عبداللہ بن ولید نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا اور ان سے معاویہ نے یہی حدیث نقل کی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا the mother of the faithful believers:
The Prophet (ﷺ) was asked by his wives about the Jihad and he replied, "The best Jihad (for you) is (the performance of) Hajj."
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا اور ان سے معاویہ نے یہی حدیث اور ابوسفیان نے حبیب بن ابی عمرہ سے یہی روایت کی جو عائشہ بنت طلحہ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سے ہے ( اس میں ہے کہ )
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے جہاد کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج بہت ہی عمدہ جہاد ہے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) went to the daughter of Milhan and reclined there (and slept) and then (woke up) smiling. She asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What makes you smile?" He replied, (I dreamt that) some people amongst my followers were sailing on the green sea in Allah's Cause, resembling kings on thrones." She said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to make me one of them." He said, "O Allah! Let her be one of them." Then he (slept again and woke up and) smiled. She asked him the same question and he gave the same reply. She said, "Invoke Allah to make me one of them." He replied, ''You will be amongst the first group of them; you will not be amongst the last." Later on she married 'Ubada bin As-Samit رضی اللہ عنہ and then she sailed on the sea with bint Qaraza, Mu'awiya's wife (for Jihad). On her return, she mounted her riding animal, which threw her down breaking her neck, and she died on falling down.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے ، ہم سے ابواسحاق نے ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن انصاری نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان کے یہاں تشریف لے گئے اور ان کے یہاں تکیہ لگا کر سو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اٹھے تو ) مسکرا رہے تھے ۔ ام حرام نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں ہنس رہے تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں ( جہاد کے لیے ) سبز سمندر پر سوار ہو رہے ہیں ان کی مثال ( دنیا یا آخرت میں ) تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی سی ہے ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ ! انہیں بھی ان لوگوں میں سے کر دے پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے اور ( اٹھے ) تو مسکرا رہے تھے ۔ انہوں نے اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلی ہی وجہ بتائی ۔ انہوں نے پھر عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کر دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لشکر میں شریک ہو گی اور یہ کہ بعد والوں میں تمہاری شرکت نہیں ہے ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آپ نے ( ام حرام نے ) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کر لیا اور بنت قرظ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کے ساتھ انہوں نے دریا کا سفر کیا ۔ پھر جب واپس ہوئیں اور اپنی سواری پر چڑھیں تو اس نے ان کی گردن توڑ ڈالی ۔ وہ اس سواری سے گر گئیں اور ( اسی میں ) ان کی وفات ہوئی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Whenever the Prophet (ﷺ) intended to proceed on a journey, he used to draw lots amongst his wives and would take the one upon whom the lot fell. Once, before setting out for Jihad, he drew lots amongst us and the lot came to me; so I went with the Prophet; and that happened after the revelation of the Verse Hijab (i.e. veiling).
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے ، انہوں نے کہا ہم سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا ، کہا میں نے ابن شہاب زہری سے سنا ، کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر ، سعید بن مسیب ، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سنی ،
ان چاروں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث مجھ سے تھوڑی تھوڑی بیان کی ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے جانا چاہتے ( جہاد کے لیے ) تو اپنی ازواج میں قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکل آتا انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ لے جاتے تھے ۔ ایک غزوہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی تو اس مرتبہ میرا نام آیا اور میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئی ، یہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
On the day (of the battle) of Uhad when (some) people retreated and left the Prophet, I saw `Aisha bint Abu Bakr and Um Sulaim رضی اللہ عنہا , with their robes tucked up so that the bangles around their ankles were visible hurrying with their water skins (in another narration it is said, "carrying the water skins on their backs"). Then they would pour the water in the mouths of the people, and return to fill the water skins again and came back again to pour water in the mouths of the people.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
احد کی لڑائی کے موقع پر مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جدا ہو گئے تھے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ بنت ابی بکر اور ام سلیم رضی اللہ عنہا ( انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ) کو دیکھا کہ یہ اپنے ازار سمیٹے ہوئے تھیں اور ( تیز چلنے کی وجہ سے ) پانی کے مشکیزے چھلکاتی ہوئی لیے جا رہی تھیں اور ابو معمر کے علاوہ جعفر بن مہران نے بیان کیا کہ مشکیزے کو اپنی پشت پر ادھر سے ادھر جلدی جلدی لیے پھرتی تھیں اور قوم کو اس میں سے پانی پلاتی تھیں ، پھر واپس آتی تھیں اور مشکیزوں کو بھر کر لے جاتی تھیں اور قوم کو پانی پلاتی تھیں ، میں ان کے پاؤں کی پازیبیں دیکھ رہا تھا ۔
Narrated Tha`laba bin Abi Malik:
`Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ distributed some garments amongst the women of Medina. One good garment remained, and one of those present with him said, "O chief of the believers! Give this garment to your wife, the (grand) daughter of Allah's Messenger (ﷺ)." They meant Um Kulthum رضی اللہ عنہ , the daughter of `Ali. `Umar رضی اللہ عنہ said, Um Salit رضی اللہ عنہا has more right (to have it)." Um Salit رضی اللہ عنہا was amongst those Ansari women who had given the pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ).' `Umar رضی اللہ عنہ said, "She (i.e. Um Salit رضی اللہ عنہا) used to carry the water skins for us on the day of Uhud." Imam Abu Abdullah Bukhari said: Here " تَزْفِرُ " means they would stich.
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مباک نے خبر دی ، کہا ہم کو یونس نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، ان سے ثعلبہ بن ابی مالک نے کہا کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی خواتین میں کچھ چادریں تقسیم کیں ۔ ایک نئی چادر بچ گئی تو بعض حضرات نے جو آپ کے پاس ہی تھے کہا یا امیرالمؤمنین ! یہ چادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی کو دے دیجئیے ، جو آپ کے گھر میں ہیں ۔ ان کی مراد ( آپ کی بیوی ) ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ سے تھی لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ام سلیط رضی اللہ عنہا اس کی زیادہ مستحق ہیں ۔ یہ ام سلیط رضی اللہ عنہا ان انصاری خواتین میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ احد کی لڑائی کے موقع پر ہمارے لیے مشکیزے ( پانی کے ) اٹھا کر لاتی تھیں ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا ( حدیث میں ) لفظ تزفر کا معنی یہ ہے کہ سیتی تھی ۔
Narrated Ar-Rubayyi 'bint Mu'auwidh رضی اللہ عنہا :
We were in the company of the Prophet (ﷺ) providing the wounded with water and treating them and bringing the killed to Medina (from the battle field) .
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد بن ذکوان نے بیان کیا ، ان سے ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( غزوہ میں ) شریک ہوتے تھے ، مسلمان فوجیوں کو پانی پلاتیں تھیں زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور جو لوگ شہید ہو جاتے انہیں مدینہ اٹھا کر لاتیں تھیں ۔
Narrated Ar-Rabi'bint Mu'auwidh رضی اللہ عنہا :
We used to take part in holy battles with the Prophet (ﷺ) by providing the people with water and serving them and bringing the killed and the wounded back to Medina.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا ، ان سے خالد بن ذکوان نے اور ان سے ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتیں تھیں مجاہد مسلمانوں کو پانی پلاتیں ، ان کی خدمت کرتیں اور زخمیوں اور شہیدوں کو اٹھا کر مدینہ لے جاتیں تھیں ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
Abu 'Amir رضی اللہ عنہ was hit with an arrow in his knee, so I went to him and he asked me to remove the arrow. When I removed it, the water started dribbling from it. Then I went to the Prophet (ﷺ) and told him about it. He said, "O Allah! Forgive `Ubaid Abu 'Amir."
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے یزید بن عبداللہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ابوعامر رضی اللہ عنہ کے گھٹنے میں تیر لگا تو میں ان کے پاس پہنچا ۔ انہوں نے فرمایا کہ اس تیر کو کھینچ کر نکال لو میں نے کھینچ لیا تو اس سے خون بہنے لگا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حادثہ کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کے لیے ) دعا فرمائی کہ اے اللہ ! عبید ابوعامر کی مغفرت فرما ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) was vigilant one night and when he reached Medina, he said, "Would that a pious man from my companions guard me tonight!" Suddenly we heard the clatter of arms. He said, "Who is that? " He (The new comer) replied, " I am Sa`d bin Abi Waqqas and have come to guard you." So, the Prophet (ﷺ) slept (that night).
ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا ، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی ، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید نے خبر دی ، کہا ہم کو عبداللہ بن ربیعہ بن عامر نے خبر دی ، کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، آپ بیان کرتی تھیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک رات ) بیداری میں گزاری ، مدینہ پہنچنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کاش ! میرے اصحاب میں سے کوئی نیک مرد ایسا ہوتا جو رات بھر ہمارا پہرہ دیتا ! ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ہم نے ہتھیار کی جھنکار سنی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ کون صاحب ہیں ؟ ( آنے والے نے ) کہا میں ہوں سعد بن ابی وقاص ، آپ کا پہرہ دینے کے لیے حاضر ہوا ہوں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے ۔ ان کے لیے دعا فرمائی اور آپ سو گئے ۔