Back to Sahih Bukhari

Fighting for the Cause of Allah (Jihaad)

كتاب الجهاد والسير

Chapter 57

Hadith 2845
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، قَالَ وَذَكَرَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ قَالَ أَتَى أَنَسٌ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ وَقَدْ حَسَرَ عَنْ فَخِذَيْهِ وَهْوَ يَتَحَنَّطُ فَقَالَ يَا عَمِّ مَا يَحْبِسُكَ أَنْ لاَ تَجِيءَ قَالَ الآنَ يَا ابْنَ أَخِي‏.‏ وَجَعَلَ يَتَحَنَّطُ، يَعْنِي مِنَ الْحَنُوطِ، ثُمَّ جَاءَ فَجَلَسَ، فَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ انْكِشَافًا مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ هَكَذَا عَنْ وُجُوهِنَا حَتَّى نُضَارِبَ الْقَوْمَ، مَا هَكَذَا كُنَّا نَفْعَلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، بِئْسَ مَا عَوَّدْتُمْ أَقْرَانَكُمْ‏.‏ رَوَاهُ حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ‏.‏
English

Narrated Once Musa bin Anas while describing the battle of Yamama, said:

"Anas bin Malik رضی اللہ عنہ went to Thabit bin Qais رضی اللہ عنہ , who had lifted his clothes from his thighs and was applying Hunut to his body. Anas رضی اللہ عنہ asked, 'O Uncle! What is holding you back (from the battle)?' He replied, 'O my nephew! I am coming just now,' and went on perfuming himself with Hunut, then he came and sat (in the row). Anas رضی اللہ عنہ then mentioned that the people fled from the battle-field. On that Thabit said, 'Clear the way for me to fight the enemy. We would never do so (i.e. flee) in the company of Allah's Messenger (ﷺ). How bad the habits you have acquired from your enemies!". Hammad has narrated it from Thabit and he from Hadrat Anas رضی اللہ عنہ .

Urdu

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن عون نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن انس نے بیان کیا جنگ یمامہ کا وہ ذکر کر رہے تھے ‘ بیان کیا کہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے ‘ انہوں نے اپنی ران کھول رکھی تھی اور خوشبو لگا رہے تھے ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا چچا اب تک آپ جنگ میں کیوں تشریف نہیں لائے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ بیٹے ابھی آتا ہوں اور وہ پھر خوشبو لگانے لگے پھر ( کفن پہن کر تشریف لائے اور بیٹھ گئے ) مراد صف میں شرکت سے ہے ) انس رضی اللہ عنہ نے گفتگو کرتے ہوئے مسلمانوں کی طرف سے کچھ کمزوری کے آثار کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے سامنے سے ہٹ جاؤ تاکہ ہم کافروں سے دست بدست لڑیں ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم ایسا کبھی نہیں کرتے تھے ۔ ( یعنی پہلی صف کے لوگ ڈٹ کر لڑتے تھے کمزوری کا ہرگز مظاہرہ نہیں ہونے دیتے تھے ) تم نے اپنے دشمنوں کو بہت بری چیز کا عادی بنا دیا ہے ( تم جنگ کے موقع پر پیچھے ہٹ گئے ) وہ حملہ کرنے لگے ۔ اس حدیث کو حماد نے ثابت سے اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ۔

Hadith 2846
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَوْمَ الأَحْزَابِ ‏"‏‏.‏ قَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ ‏"‏‏.‏ قَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Who will bring me the information about the enemy on the day (of the battle) of Al-Ahzab (i.e. Clans)?" Az-Zubair رضی اللہ عنہ said, "I will." The Prophet (ﷺ) said again, "Who will bring me the information about the enemy?" Az-Zubair said again, "I will." The Prophet (ﷺ) said, "Every prophet had a disciple and my disciple is Az-Zubair. "

Urdu

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا اور ان سے جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خندق کے دن فرمایا دشمن کے لشکر کی خبر میرے پاس کون لا سکتا ہے ؟ ( دشمن سے مراد یہاں بنوقریظہ تھے ) زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پھر پوچھا دشمن کے لشکر کی خبریں کون لا سکے گا ؟ اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ( سچے مددگار ) ہوتے ہیں اور میرے حواری ( زبیر ) ہیں ۔

Hadith 2847
Sahih
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَدَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ ـ قَالَ صَدَقَةُ أَظُنُّهُ ـ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَ النَّاسَ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ :

When the Prophet (ﷺ) called the people (Sadqa, a sub-narrator, said, 'Most probably that happened on the day of Al-Khandaq) Az-Zubair رضی اللہ عنہ responded to the call (i.e. to act as a reconnoiter). The Prophet) called the people again and Az-Zubair رضی اللہ عنہ responded to the call. The Prophet (ﷺ) then said, "Every prophet had a disciple and my disciple is Zubair bin Al-`Awwam رضی اللہ عنہ."

Urdu

ہم سے صدقہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ابن منکدر نے بیان کیا ‘ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ( بنی قریظہ کی طرف خبر لانے کے لئے ) دعوت دی ۔ صدقہ ( امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد ) نے کہا کہ میرا خیال ہے یہ غزوہ خندق کا واقعہ ہے ۔ تو زبیر رضی اللہ عنہ نے اس پر لبیک کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور زبیر رضی اللہ عنہ نے لبیک کہا پھر تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے لبیک کہا ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں ( رضی اللہ عنہ ) ۔

Hadith 2848
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ انْصَرَفْتُ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَ لَنَا أَنَا وَصَاحِبٌ لِي ‏ "‏ أَذِّنَا وَأَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Malik bin Al-Huwairith رضی اللہ عنہ :

On my departure from the Prophet (ﷺ) he said to me and to a friend of mine, "You two, pronounce the Adhan and the Iqama for the prayer and let the elder of you lead the prayer."

Urdu

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابو شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے خالد حذاء نے ‘ ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے وطن کے لئے واپس لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ایک میں تھا اور دوسرے میرے ساتھی ‘ ( ہر نماز کے وقت ) اذان پکارنا اور اقامت کہنا اور تم دونوں میں جو بڑا ہو وہ نماز پڑھائے ۔

Hadith 2849
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "Good will remain (as a permanent quality) in the foreheads of horses till the Day of Resurrection."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت وابستہ رہے گی ( کیونکہ اس سے جہاد میں کام لیا جاتا رہے گا ) ۔

Hadith 2850
Sahih
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، وَابْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْجَعْدِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏ قَالَ سُلَيْمَانُ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ‏.‏
English

Narrated Urwa bin Ja'd رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Good will remain (as a permanent quality) in the foreheads of horses till the Day of Resurrection." Sulaiman also reported it from Shobah, Hadrat Urwah bin Abu Al-Ja'd رضی اللہ عنہ . Musaddad corroborated him from Hoshaim, Husain, Shabi and Urwah bin Abi Al-Ja'd.

Urdu

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے حصین اور ابن ابی السفر نے ، ان سے شعبی نے اور ان سے عروہ بن جعد رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت بندھی رہے گی ۔ سلیمان نے شعبہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ ان سے عروہ بن ابی الجعد رضی اللہ عنہ نے اس روایت کی متابعت ( جس میں بجائے ابن الجعد کے ابن ابی الجعد ہے ) مسدد نے ہشیم سے کی ، ان سے حصین نے ، ان سے شعبی نے اور ان سے عروہ ابن ابی الجعد نے ۔

Hadith 2851
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) (ﷺ) said, "There is a blessing in the fore-heads of horses."

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑے کی پیشانی میں برکت بندھی ہوئی ہے ۔

Hadith 2852
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Urwa Al-Bariqi رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Good will remain (as a permanent quality) in the foreheads of horses (for Jihad) till the Day of Resurrection, for they bring about either a reward (in the Hereafter) or (war) booty (in this world)."

Urdu

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا ، کہا ہم سے عامر نے ، کہا ہم سے عروہ بارقی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیر و برکت قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ بندھی رہے گی یعنی آخرت میں ثواب اور دنیا میں مال غنیمت ملتا رہے گا ۔

Hadith 2853
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا بِوَعْدِهِ، فَإِنَّ شِبَعَهُ وَرِيَّهُ وَرَوْثَهُ وَبَوْلَهُ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "If somebody keeps a horse in Allah's Cause motivated by his faith in Allah and his belief in His Promise, then he will be rewarded on the Day of Resurrection for what the horse has eaten or drunk and for its dung and urine."

Urdu

ہم سے علی بن حفص نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا ، کہا مجھ کو طلحہ بن ابی سعید نے خبر دی ، کہا کہ میں نے سعید مقبری سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ پر ایمان کے ساتھ اور اس کے وعدہ ثواب کو جانتے ہوئے اللہ کے راستے میں ( جہاد کے لیے ) گھوڑا پالا تو اس گھوڑے کا کھانا ، پینا اور اس کا پیشاب و لید سب قیامت کے دن اس کی ترازو میں ہو گا اور سب پر اس کو ثواب ملے گا ۔

Hadith 2854
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَتَخَلَّفَ أَبُو قَتَادَةَ مَعَ بَعْضِ أَصْحَابِهِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَهْوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَوْا حِمَارًا وَحْشِيًّا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ، فَلَمَّا رَأَوْهُ تَرَكُوهُ حَتَّى رَآهُ أَبُو قَتَادَةَ، فَرَكِبَ فَرَسًا لَهُ يُقَالُ لَهُ الْجَرَادَةُ، فَسَأَلَهُمْ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا، فَتَنَاوَلَهُ فَحَمَلَ فَعَقَرَهُ، ثُمَّ أَكَلَ فَأَكَلُوا، فَنَدِمُوا فَلَمَّا أَدْرَكُوهُ قَالَ ‏ "‏ هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَىْءٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَعَنَا رِجْلُهُ، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَكَلَهَا‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin Abi Qatada:

(from his father) Abu Qatada رضی اللہ عنہ went out (on a journey) with Allah's Messenger (ﷺ) but he was left behind with some of his companions who were in the state of Ihram. He himself was not in the state of Ihram. They saw an opener before he could see it. When they saw the opener, they did not speak anything till Abu Qatada رضی اللہ عنہ saw it. So, he rode over his horse called Al-Jarada and requested them to give him his lash, but they refused. So, he himself took it and then attacked the opener and slaughtered it. He ate of its meat and his companions ate, too, but they regretted their eating. When they met the Prophet (they asked him about it) and he asked, "Have you some of its meat (left) with you?" Abu Qatada رضی اللہ عنہ replied, "Yes, we have its leg with us." So, the Prophet (ﷺ) took and ate it.

Urdu

ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا ، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے ، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے باپ نے کہ

وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) نکلے ۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے تھے ۔ ان کے دوسرے تمام ساتھی تو محرم تھے لیکن انہوں نے خود احرام نہیں باندھا تھا ۔ ان کے ساتھیوں نے ایک گورخر دیکھا ۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے اس پر نظر پڑنے سے پہلے ان حضرات کی نظر اگرچہ اس پر پڑی تھی لیکن انہوں نے اسے چھوڑ دیا تھا لیکن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اسے دیکھتے ہی اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے ، ان کے گھوڑے کا نام جرادہ تھا ، اس کے بعد انہوں نے ساتھیوں سے کہا کہ کوئی ان کا کوڑا اٹھا کر انہیں دیدے ( جسے لیے بغیر وہ سوار ہو گئے تھے ) ان لوگوں نے اس سے انکار کیا ( محرم ہونے کی وجہ سے ) اس لیے انہوں نے خود ہی لے لیا اور گورخر پر حملہ کر کے اس کی کونچیں کاٹ دیں انہوں نے خود بھی اس کا گوشت کھایا اور دوسرے ساتھیوں نے بھی کھایا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ جب یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا اس کا گوشت تمہارے پاس بچا ہوا باقی ہے ؟ ابوقتادہ نے کہا کہ ہاں اس کی ایک ران ہمارے ساتھ باقی ہے ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہ گوشت کھایا ۔

Hadith 2855
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أُبَىُّ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَائِطِنَا فَرَسٌ يُقَالُ لَهُ اللُّحَيْفُ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَقَالَ بَعْضُهُمُ اللُّخَيْفُ
English

Narrated Sahl رضی اللہ عنہ :

In our garden there was a horse belonging to the Prophet (ﷺ) called Al-Luhaif or Al-Lakhif.

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ بن جعفر نے بیان کیا ، کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابی بن عباس بن سہل نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ان کے دادا ( سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ ) سے بیان کیا کہ

ہمارے باغ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گھوڑا رہتا تھا جس کا نام اللحیف یا الخیف کہتے تھا ۔

Hadith 2856
Sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ يَحْيَى بْنَ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ، فَقَالَ ‏"‏ يَا مُعَاذُ، هَلْ تَدْرِي حَقَّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يُعَذِّبَ مَنْ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلاَ أُبَشِّرُ بِهِ النَّاسَ قَالَ ‏"‏ لاَ تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Mu`adh رضی اللہ عنہ :

I was a companion rider of the Prophet (ﷺ) on a donkey called 'Ufair. The Prophet (ﷺ) asked, "O Mu`adh! Do you know what Allah's right on His slaves is, and what the right of His slaves on Him is?" I replied, "Allah and His Apostle know better." He said, "Allah's right on His slaves is that they should worship Him (Alone) and should not worship any besides Him. And slave's right on Allah is that He should not punish him who worships none besides Him." I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Should I not inform the people of this good news?" He said, "Do not inform them of it, lest they should depend on it (absolutely).

Urdu

ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے یحییٰ بن آدم سے سنا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوالحوص نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے ، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس گدھے پر سوار تھے ، میں اس پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ۔ اس گدھے کا نام عفیر تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے ؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے عذاب نہ دے ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا میں اس کی لوگوں کو بشارت نہ دے دوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو ورنہ وہ خالی اعتماد کر بیٹھیں گے ۔ ( اور نیک اعمال سے غافل ہو جائیں گے ) ۔

Hadith 2857
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرَسًا لَنَا يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

Once there was a feeling of fright in Medina, so the Prophet (ﷺ) borrowed a horse belonging to us called Mandub (and he rode away on it). (When the Prophet (ﷺ) returned) he said, "I have not seen anything of fright and I found it (i.e. this horse) very fast."

Urdu

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ میں نے قتادہ سے سنا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا

( ایک رات ) مدینہ میں کچھ خطرہ سا محسوس ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا ( ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا جو آپ کے عزیز تھے ) گھوڑا منگوایا ، گھوڑے کا نام مندوب تھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خطرہ تو ہم نے کوئی نہیں دیکھا البتہ اس گھوڑے کو ہم نے سمندر پایا ہے ۔

Hadith 2858
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلاَثَةٍ فِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :

I heard the Prophet (ﷺ) saying. "Evil omen is in three things: The horse, the woman and the house."

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ نحوست صرف تین چیزوں میں ہوتی ہے ۔ گھوڑے میں ، عورت میں اور گھر میں ۔

Hadith 2859
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنْ كَانَ فِي شَىْءٍ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالْمَسْكَنِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Sahl bin Sa`d Saidi رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said "If there is any evil omen in anything, then it is in the woman, the horse and the house."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، انہوں نے امام مالک سے روایت کیا ، انہوں نے ابوحازم بن دینار سے ، انہوں نے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نحوست اگر ہوتی تو وہ گھوڑے ، عورت اور مکان میں ہوتی ۔

Hadith 2860
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْخَيْلُ لِثَلاَثَةٍ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَطَالَ فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ، فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٍ، وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ أَرْوَاثُهَا وَآثَارُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ، وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَهَا كَانَ ذَلِكَ حَسَنَاتٍ لَهُ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِئَاءً وَنِوَاءً لأَهْلِ الإِسْلاَمِ فَهْىَ وِزْرٌ عَلَى ذَلِكَ ‏"‏‏.‏ وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحُمُرِ، فَقَالَ ‏"‏ مَا أُنْزِلَ عَلَىَّ فِيهَا إِلاَّ هَذِهِ الآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ ‏{‏فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ‏}‏‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, " Horses are kept for one of three purposes; for some people they are a source of reward, for some others they are a means of shelter and for some others they are a source of sins. The one for whom they are a source of reward, is he who keeps a horse for Allah's Cause (i.e. Jihad) tying it with a long tether on a meadow or in a garden with the result that whatever it eats from the area of the meadow or the garden where it is tied will be counted as good deeds for his benefit, and if it should break its rope and jump over one or two hillocks then all its dung and its foot marks will be written as good deeds for him; and if it passes by a river and drinks water from it even though he had no intention of watering it, even then he will get the reward for its drinking. As for the man for whom horses are a source of sins, he is the one who keeps a horse for the sake of pride and pretense and showing enmity for Muslims: such a horse will be a source of sins for him. When Allah's Messenger (ﷺ) was asked about donkeys, he replied, "Nothing has been revealed to me about them except this unique, comprehensive Verse: "Then anyone who does an atom's (or a small ant's) weight of good shall see it; And anyone who does an atom's (or a small ant's) weight of evil, shall see it.' (101.7-8)

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے ، ان سے زید بن اسلم نے ، ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑے کے مالک تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں ۔ بعض لوگوں کے لیے وہ باعث اجر و ثواب ہیں ، بعضوں کے لیے وہ صرف پردہ ہیں اور بعضوں کے لیے وبال جان ہیں ۔ جس کے لیے گھوڑا اجر و ثواب کا باعث ہے یہ وہ شخص ہے جو اللہ کے راستے میں جہاد کی نیت سے اسے پالتا ہے پھر جہاں خوب چری ہوتی ہے یا ( یہ فرمایا کہ ) کسی شاداب جگہ اس کی رسی کو خوب لمبی کر کے باندھتا ہے ( تاکہ چاروں طرف چر سکے ) تو گھوڑا اس کی چری کی جگہ سے یا اس شاداب جگہ سے اپنی رسی میں بندھا ہوا جو کچھ بھی کھاتا پیتا ہے مالک کو اس کی وجہ سے نیکیاں ملتی ہیں اور اگر وہ گھوڑا اپنی رسی تڑا کر ایک زغن یا دو زغن لگائے تو اس کی لید اور اس کے قدموں کے نشانوں میں بھی مالک کے لیے نیکیاں ہیں اور اگر وہ گھوڑا نہر سے گزرے اور اس میں سے پانی پی لے تو اگرچہ مالک نے پانی پلانے کا ارادہ نہ کیا ہو پھر بھی اس سے اسے نیکیاں ملتی ہیں ، دوسرا شخص وہ ہے جو گھوڑے کو فخر ، دکھاوے اور اہل اسلام کی دشمنی میں باندھتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال جان ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر اس جامع اور منفرد آیت کے سوا ان کے متعلق اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ” جو کوئی ایک ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا اور جو کوئی ذرہ برابر برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا “ ۔

Hadith 2861
Sahih
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ، قَالَ أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ، فَقُلْتُ لَهُ حَدِّثْنِي بِمَا، سَمِعْتَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَافَرْتُ مَعَهُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ـ قَالَ أَبُو عَقِيلٍ لاَ أَدْرِي غَزْوَةً أَوْ عُمْرَةً ـ فَلَمَّا أَنْ أَقْبَلْنَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِهِ فَلْيُعَجِّلْ ‏"‏‏.‏ قَالَ جَابِرٌ فَأَقْبَلْنَا وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ لِي أَرْمَكَ لَيْسَ فِيهِ شِيَةٌ، وَالنَّاسُ خَلْفِي، فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ قَامَ عَلَىَّ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا جَابِرُ اسْتَمْسِكْ ‏"‏‏.‏ فَضَرَبَهُ بِسَوْطِهِ ضَرْبَةً، فَوَثَبَ الْبَعِيرُ مَكَانَهُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَتَبِيعُ الْجَمَلَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَدَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَسْجِدَ فِي طَوَائِفِ أَصْحَابِهِ، فَدَخَلْتُ إِلَيْهِ، وَعَقَلْتُ الْجَمَلَ فِي نَاحِيَةِ الْبَلاَطِ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ هَذَا جَمَلُكَ‏.‏ فَخَرَجَ، فَجَعَلَ يُطِيفُ بِالْجَمَلِ وَيَقُولُ ‏"‏ الْجَمَلُ جَمَلُنَا ‏"‏‏.‏ فَبَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَوَاقٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ ‏"‏ أَعْطُوهَا جَابِرًا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اسْتَوْفَيْتَ الثَّمَنَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ الثَّمَنُ وَالْجَمَلُ لَكَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Muslim from Abu `Aqil from Abu Al-Mutawakkil An-Naji:

I called on Jabir bin `Abdullah Al-Ansari رضی اللہ عنہما and said to him, "Relate to me what you have heard from Allah's Messenger (ﷺ) ." He said, "I accompanied him on one of the journeys." (Abu `Aqil said, "I do not know whether that journey was for the purpose of Jihad or `Umra.") "When we were returning," Jabir رضی اللہ عنہ continued, "the Prophet (ﷺ) said, 'Whoever wants to return earlier to his family, should hurry up.' We set off and I was on a black red tainted camel having no defect, and the people were behind me. While I was in that state the camel stopped suddenly (because of exhaustion). On that the Prophet (ﷺ) said to me, 'O Jabir, wait!' Then he hit it once with his lash and it started moving on a fast pace. He then said, 'Will you sell the camel?' I replied in the affirmative when we reached Medina, and the Prophet (ﷺ) went to the Mosque along with his companions. I, too, went to him after tying the camel on the pavement at the Mosque gate. Then I said to him, 'This is your camel.' He came out and started examining the camel and saying, 'The camel is ours.' Then the Prophet (ﷺ) sent some Awaq (i.e. an amount) of gold saying, 'Give it to Jabir.' Then he asked, 'Have you taken the full price (of the camel)?' I replied in the affirmative. He said, 'Both the price and the camel are for you.' ''

Urdu

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوعقیل و بشر بن عقبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوالمتوکل ناجی ( علی بن داود ) نے بیان کیا ، انہوں نے کہا

میں جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے ، ان میں سے مجھ سے بھی کوئی حدیث بیان کیجئے ۔ انہوں نے بیان فرمایا کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا ۔ ابوعقیل راوی نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں ( یہ سفر ) جہاد کے لیے تھا یا عمرہ کے لیے ( واپس ہوتے ہوئے ) جب ( مدینہ منورہ ) دکھائی دینے لگا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے گھر جلدی جانا چاہے وہ جا سکتا ہے ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم آگے بڑھے ۔ میں اپنے ایک سیاہی مائل سرخ اونٹ بے داغ پر سوار تھا دوسرے لوگ میرے پیچھے رہ گئے ، میں اسی طرح چل رہا تھا کہ اونٹ رک گیا ( تھک کر ) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر ! اپنا اونٹ تھام لے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کوڑے سے اونٹ کو مارا ، اونٹ کود کر چل نکلا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ اونٹ بیچو گے ؟ میں نے کہا ہاں ! جب مدینہ پہنچے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مسجدنبوی میں داخل ہوئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور ” بلاط “ کے ایک کونے میں میں نے اونٹ کو باندھ دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اونٹ ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور اونٹ کو گھمانے لگے اور فرمایا کہ اونٹ تو ہمارا ہی ہے ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند اوقیہ سونا مجھے دلوایا اور دریافت فرمایا تم کو قیمت پوری مل گئی ۔ میں نے عرض کیا جی ہاں ۔ پھر آپ نے فرمایا اب قیمت اور اونٹ ( دونوں ہی ) تمہارے ہیں ۔

Hadith 2862
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ، فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرَسًا لأَبِي طَلْحَةَ، يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ فَرَكِبَهُ، وَقَالَ ‏ "‏ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

There was a feeling of fright in Medina, so the Prophet (ﷺ) borrowed a horse called Mandub belonging 'to Abu Talha and mounted it. (On his return), he said, "I did not see anything of fright and I found this horse very fast."

Urdu

ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں قتادہ نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ

مدینہ میں ( ایک رات ) کچھ خوف اور گھبراہٹ ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک گھوڑا مانگ لیا ۔ اس گھوڑے کا نام ” مندوب “ تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور واپس آ کر فرمایا کہ خوف کی تو کوئی بات ہم نے نہیں دیکھی البتہ یہ گھوڑا کیا ہے دریا ہے ! ۔

Hadith 2863
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِصَاحِبِهِ سَهْمًا‏.‏ وَقَالَ مَالِكٌ يُسْهَمُ لِلْخَيْلِ وَالْبَرَاذِينِ مِنْهَا لِقَوْلِهِ ‏{‏وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا‏}‏ وَلاَ يُسْهَمُ لأَكْثَرَ مِنْ فَرَسٍ‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) fixed two shares for the horse and one share for its rider (from the war booty).

Urdu

ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ابواسامہ سے ، انہوں نے عبیداللہ عمری سے ، انہوں نے نافع سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت سے ) گھوڑے کے دو حصے لگائے تھے اور اس کے مالک کا ایک حصہ ۔

Hadith 2864
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ،‏.‏ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَفِرَّ، إِنَّ هَوَازِنَ كَانُوا قَوْمًا رُمَاةً، وَإِنَّا لَمَّا لَقِينَاهُمْ حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ فَانْهَزَمُوا، فَأَقْبَلَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الْغَنَائِمِ وَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ، فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَفِرَّ، فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ وَإِنَّهُ لَعَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ آخِذٌ بِلِجَامِهَا، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu 'Is-haq:

Somebody asked Al-Bar-a bin `Azib رضی اللہ عنہ , "Did you flee deserting Allah's Messenger (ﷺ) during the battle of Hunain?" Al-Bara رضی اللہ عنہ replied, "But Allah's Messenger (ﷺ) did not flee. The people of the Tribe of Hawazin were good archers. When we met them, we attacked them, and they fled. When the Muslims started collecting the war booty, the pagans faced us with arrows, but Allah's Messenger (ﷺ) did not flee. No doubt, I saw him on his white mule and Abu Sufyan was holding its reins and the Prophet (ﷺ) was saying, 'I am the Prophet (ﷺ) in truth: I am the son of `Abdul Muttalib رضی اللہ عنہ .' "

Urdu

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سہل بن یوسف نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ان سے ابواسحاق نے کہ

ایک شخص نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا حنین کی لڑائی میں آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے ؟ براء رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرار نہیں ہوئے تھے ۔ ہوازن کے لوگ ( جن سے اس لڑائی میں مقابلہ تھا ) بڑے تیرانداز تھے ، جب ہمارا ان سے سامنا ہوا تو شروع میں ہم نے حملہ کر کے انہیں شکست دے دی ، پھر مسلمان مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے اور دشمن نے تیروں کی ہم پر بارش شروع کر دی پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے ۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے ، ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اس کی لگام تھامے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ شعر فرما رہے تھے کہ ” میں نبی ہوں اس میں جھوٹ کا کوئی دخل نہیں ، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں “ ۔