Narrated Abu Musa Al-Ash`ari:
We were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) (during Hajj). whenever we reached any valley we used to say: "None has the right to be worshipped but Allah, and Allah is Greater," and our voices used to rise, so the Prophet (ﷺ) said, "O people! Be merciful to yourselves (i.e. don't raise your voice), for you are not calling a deaf or an absent one, but One Who is with you, no doubt He is All-Hearer, ever Near (to all things). He is blessed. His name and his greatness are very great.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عاصم نے ، ان سے ابوعثمان نے ، ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ
ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ جب ہم کسی وادی میں اترتے تو لا الہ الا اﷲ اور اﷲاکبر کہتے اور ہماری آواز بلند ہو جاتی اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اے لوگو ! اپنی جانوں پر رحم کھاؤ ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب خدا کو نہیں پکار رہے ہو ۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہی ہے ۔ بیشک وہ سننے والا اور تم سے بہت قریب ہے ۔ برکتوں والا ہے ۔ اس کا نام اور اس کی عظمت بہت ہی بڑی ہے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
Whenever we went up a place we would say, "Allahu--Akbar (i.e. Allah is Greater)", and whenever we went down a place we would say, "Subhan Allah."
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
جب ہم ( کسی بلندی پر ) چڑھتے ، تو اللہ اکبر کہتے اور جب ( کسی نشیب میں ) اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
Whenever we went up a place we would say Takbir, and whenever we went down we would say, "Subhan Allah."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن عدی نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے حصین نے ، ان سے سالم نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
جب ہم بلندی پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے اور نشیب میں اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
When the Prophet (ﷺ) would return from a Hajj or `Umrah and I (Salim bin Abdullah) think perhaps he said: Ghazva (Holy war) and he says: Whenever he (ﷺ) would climb and ascent, he would utter "اللہ اکبر " thrice, then he (ﷺ) would say: There is no worthy of worship saves Allah , He is alone and has got no partner: His is the kingdom and all praise as well, and He has power over everything (Omnipotent). We are those who have returned to our Allah after repenting, worshipping, prostrating themselves, and praising our Lord, His promise is true and He helped His bondsman and He alone defeated the troops. Hadrat Sualih says that he asked (from Hadrat Salim bin Abdullah): Did Hadrat Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما not say, إِنْ شَاءَ اللَّهُ? He replied: No.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا ، ان سے صالح بن کیسان نے ، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حج یا عمرہ سے واپس ہوتے جہاں تک میں سمجھتا ہوں یوں کہا جب آپ جہاد سے لوٹتے ، تو جب بھی آپ کسی بلندی پر چڑھتے یا ( نشیب سے ) کنکریلے میدان میں آتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے ۔ پھر فرماتے ، اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ ملک اس کا ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے ۔ ہم واپس ہو رہے ہیں توبہ کرتے ہوئے ، عبادت کرتے ہوئے ۔ اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے اور اس کی حمد پڑھتے ہوئے ، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا ( کفار کی ) تمام جماعتوں کو شکست دے دی ۔ صالح نے کہا کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے پوچھا کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے لفظ آئبون کے بعد انشاءاللہ نہیں کہا تھا تو انہوں نے بتایا کہ نہیں ۔
Narrated Ibrahim Abu Isma`il As-Saksaki:
I heard Abu Burda who accompanied Yazid bin Abi Kabsha on a journey. Yazid used to observe fasting on journeys. Abu Burda said to him, "I heard Abu Musa رضی اللہ عنہ several times saying that Allah's Apostle said, 'When a slave falls ill or travels, then he will get reward similar to that he gets for good deeds practiced at home when in good health."
ہم سے مطربن فضل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عوام بن حوشب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم ابواسماعیل سکسکی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ
میں نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے سنا ، وہ اور یزید بن ابی کبشہ ایک سفر میں ساتھ تھے اور یزید سفر کی حالت میں بھی روزہ رکھا کرتے تھے ۔ ابوبردہ نے کہا کہ میں نے ( اپنے والد ) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بارہا سنا ۔ و وہ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اس کے لیے ان تمام عبادات کا ثواب لکھا جاتا ہے جنہیں اقامت یا صحت کے وقت یہ کیا کرتا تھا ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
On the day of the battle of the Trench, the Prophet (ﷺ) wanted somebody from amongst the people to volunteer to be a reconnoitre. Az-Zubair رضی اللہ عنہ volunteered. He demanded the same again and Az-Zubair رضی اللہ عنہ volunteered again. Then he repeated the same demand (thrice) and AzZubair رضی اللہ عنہ volunteered once more. The Prophet (ﷺ) then said, " Every prophet has a disciple and my disciple is Az-Zubair رضی اللہ عنہ ." Sufyan says: "Hawari" means a helper.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ، کہا کہ ہم سے محمد بن منکدر نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ۔ وہ بیان کرتے تھے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک کام کے لیے ) غزوہ خندق کے موقع پر صحابہ کو پکارا ، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے کہا کہ میں حاضر ہوں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو پکارا ، اور اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے کو پیش کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پکارا اور پھر زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں ۔ سفیان نے کہا کہ حواری کے معنی معاون مددگار کے ہیں ( یا وفادار محرم راز کو حواری کہا گیا ہے ) ۔
Narrated Ibn' `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "If the people knew what I know about traveling alone, then nobody would travel alone at night."
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ( دوسری سند ) ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عاصم بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنا میں جانتا ہوں ، اگر لوگوں کو بھی اکیلے سفر ( کی برائیوں ) کے متعلق اتنا علم ہوتا تو کوئی سوار رات میں اکیلا سفر نہ کرتا ۔
Narrated Hisham's father:
Usama bin Zaid رضی اللہ عنہما was asked at what pace the Prophet (ﷺ) rode during Hajjat-ul-Wada` has slipped my mind. He (Hadrat Osamah bin Zaid) said:"He rode at a medium pace, but when he came upon an open way he would go at full pace." نَصَّ means high speed that is more than ''عَنَق'' (medium speed).
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے بیان کیا ، انہیں ان کے والد نے خبر دی ، انہوں نے بیان کیا کہ
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوداع کے سفر کی رفتار کے متعلق پوچھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس کس چال پر چلتے ، یحییٰ نے کہا عروہ نے یہ بھی کہا تھا ( کہ میں سن رہا تھا ) لیکن میں اس کا کہنا بھول گیا ۔ غرض اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپ ذرا تیز چلتے جب فراخ جگہ پاتے تو سواری کو دوڑا دیتے ۔ نص اونٹ کی چال جو عنق سے تیز ہوتی ہے ۔
Narrated Aslam:
While I was in the company of `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما on the way to Mecca, he received the news of the severe illness of Safiya bint Abi Ubaid (i.e. his wife), so he proceeded at greater speed, and when the twilight disappeared, he dismounted and offered the Maghrib and `Isha 'prayers together and said, " I saw the Prophet (ﷺ) delaying the Maghrib prayer to offer it along with the `Isha' when he was in a hurry on a journey."
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ، کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے خبر دی ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ
میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا ، اتنے میں ان کو صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا ( ان کی بیوی ) کے متعلق سخت بیماری کی خبر ملی ۔ چنانچہ آپ نے تیز چلنا شروع کر دیا اور جب ( سورج غروب ہونے کے بعد ) شفق ڈوب گئی تو آپ سواری سے اترے اور مغرب اور عشاء کی نماز ملا کر پڑھی ، پھر کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ تیزی کے ساتھ سفر کرنا چاہتے تو مغرب میں تاخیر کر کے دونوں نمازیں ( مغرب اور عشاء ) ایک ساتھ ادا فرماتے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Journey is a piece of torture, for it disturbs one's sleep, eating and drinking. So, when you fulfill your job, you should hurry up to your family."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابوبکر کے مولیٰ سمی نے ، انہیں ابوصالح نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، سفر کیا ہے گویا عذاب کا ایک ٹکڑا ہے ، آدمی کی نیند ، کھانے پینے سب میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے ۔ اس لیے جب مسافر اپنا کام پورا کر لے تو اسے جلدی گھر واپس آ جانا چاہئے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
`Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ gave a horse to be ridden in Allah's Cause and then he found it being sold. He intended to purchase it. So, he consulted Allah's Messenger (ﷺ) who said, "Don't buy it and don't take back your gift of charity."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کے راستے میں سواری کے لیے دے دیا تھا ، پھر انہوں نے دیکھا کہ وہی گھوڑا فروخت ہو رہا ہے ۔ انہوں نے چاہا کہ اسے خرید لیں ۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا کہ اب تم اسے نہ خریدو ، اور اپنے صدقہ کو واپس نہ پھیرو ۔
Narrated `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ :
"I gave a horse to be ridden in Allah's Cause and the person who got it intended to sell it or neglected it. So, I wanted to buy it as I thought he would sell it cheap. I consulted the Prophet (ﷺ) who said, "Do not buy it even if for one Dirham, because he who takes back his gift is like a dog swallowing its vomit."
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا ہم سے مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ، ان سے زید بن اسلم نے ، ان سے ان کے والد نے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے کہ
میں نے اللہ کے راستے میں ایک گھوڑا سواری کے لیے دیا ، اور جسے دیا تھا وہ اسے بیچنے لگا ۔ یا ( آپ نے یہ فرمایا تھا کہ ) اس نے اسے بالکل کمزور کر دیا تھا ۔ اس لیے میرا ارادہ ہوا کہ میں اسے واپس خرید لوں ، مجھے یہ خیال تھا کہ وہ شخص سستے داموں پر اسے بیچ دے گا ۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ گھوڑا تمہیں ایک درہم میں مل جائے پھر بھی اسے نہ خریدنا ۔ کیونکہ اپنے ہی صدقہ کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کو خود ہی چاٹتا ہے ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr رضی اللہ عنہما :
A man came to the Prophet (ﷺ) asking his permission to take part in Jihad. The Prophet (ﷺ) asked him, "Are your parents alive?" He replied in the affirmative. The Prophet (ﷺ) said to him, "Then exert yourself in their service."
ہم سے آدم بن ابی ا یاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے کہا ، ہم سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابوالعباس ( شاعر ہونے کے ساتھ ) روایت حدیث میں بھی ثقہ اور قابل اعتماد تھے ، انہوں نے بیان کیا کہ
ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی ۔ آپ نے ان سے دریافت فرمایا ، کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر انہیں میں جہاد کرو ۔ ( یعنی ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرو ) ۔
Narrated Abu Bashir Al-Ansari رضی اللہ عنہ :
He was in the company of Allah's Messenger (ﷺ) on some of his journeys. (The sub-narrator `Abdullah adds, "I think that Abu Bashir also said, 'And the people were at their sleeping places.") Allah's Apostle sent a messenger ordering: "There shall not remain any necklace of string or any other kind of necklace round the necks of camels except it is cut off."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن ابی بکر نے ‘ انہیں عباد بن تمیم نے اورانہین ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ
وہ ایک سفر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ عبداللہ ( بن ابی بکر بن حزم راوی حدیث ) نے کہا کہ میرا خیال ہے ابوبشیر نے کہا کہ لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک قاصد ( زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ) یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ جس شخص کے اونٹ کی گردن میں تانت کا گنڈا ہو یا یوں فرمایا کہ گنڈا ( ہار ) ہو وہ اسے کاٹ ڈالے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
He heard the Prophet (ﷺ) saying, "It is not permissible for a man to be alone with a woman, and no lady should travel except with a Muhram (i.e. her husband or a person whom she cannot marry in any case for ever; e.g. her father, brother, etc.)." Then a man got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have enlisted in the army for such-and-such Ghazwa and my wife is proceeding for Hajj." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Go, and perform the Hajj with your wife."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے ‘ ان سے ابو معبد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مرد کسی ( غیر محرم ) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے اور کوئی عورت اس وقت تک سفر نہ کرے جب تک اس کے ساتھ کوئی اس کا محرم نہ ہو ۔ اتنے میں ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا ‘ یا رسول اللہ ! میں نے فلاں جہاد میں اپنا نام لکھوا دیا ہے اور ادھر میری بیوی حج کے لئے جا رہی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تو بھی جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر ۔
Narrated `Ali رضی اللہ عنہ .
"Allah's Messenger (ﷺ) sent me, Az-Zubair and Al-Miqdad somewhere saying, 'Proceed till you reach Rawdat Khakh. There you will find a lady with a letter. Take the letter from her.' " So, we set out and our horses ran at full pace till we got at Ar-Rawda where we found the lady and said (to her). "Take out the letter." She replied, "I have no letter with me." We said, "Either you take out the letter or else we will take off your clothes." So, she took it out of her braid. We brought the letter to Allah's Messenger (ﷺ) and it contained a statement from Hatib bin Abi Balta a to some of the Meccan pagans informing them of some of the intentions of Allah's Messenger (ﷺ). Then Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Hatib! What is this?" Hatib replied, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Don't hasten to give your judgment about me. I was a man closely connected with the Quraish, but I did not belong to this tribe, while the other emigrants with you, had their relatives in Mecca who would protect their dependents and property . So, I wanted to recompense for my lacking blood relation to them by doing them a favor so that they might protect my dependents. I did this neither because of disbelief not apostasy nor out of preferring Kufr (disbelief) to Islam." Allah's Messenger (ﷺ), said, "Hatib has told you the truth." `Umar said, O Allah's Apostle! Allow me to chop off the head of this hypocrite." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Hatib participated in the battle of Badr, and who knows, perhaps Allah has already looked at the Badr warriors and said, 'Do whatever you like, for I have forgiven you." Hadart Sufyan said: What a nice chain this Hadith has!
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ سفیان نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے دو مرتبہ سنی تھی ۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے حسن بن محمد نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے عبیداللہ بن ابی رافع نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ بیان کرتے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور زبیر اور مقداد بن اسود ( رضی اللہ عنہم ) کو ایک مہم پر بھیجا اور آپ نے فرمایا کہ جب تم لوگ روضہ خاخ ( جو مدینہ سے بارہ میل کے فاصلہ پر ایک جگہ کا نام ہے ) پر پہنچ جاؤ تو وہاں ایک بڑھیا عورت تمہیں اونٹ پر سوار ملے گی اور اس کے پاس ایک خط ہو گا ‘ تم لوگ اس سے وہ خط لے لینا ۔ ہم روانہ ہوئے اور ہمارے گھوڑے ہمیں تیزی کے ساتھ لئے جا رہے تھے ۔ آخر ہم روضہ خاخ پر پہنچ گئے اور وہاں واقعی ایک بوڑھی عورت موجود تھی جو اونٹ پر سوار تھی ۔ ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال ۔ اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ۔ لیکن جب ہم نے اسے دھمکی دی کہ اگر تو نے خط نہ نکالا تو تمہارے کپڑے ہم خود اتار دیں گے ۔ اس پر اس نے اپنی گندھی ہوئی چوٹی کے اندر سے خط نکال کر دیا ‘ اور ہم اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے ‘ اس کا مضمون یہ تھا ‘ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین مکہ کے چند آدمیوں کی طرف ‘ اس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض بھیدوں کی خبر دی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے حاطب ! یہ کیا واقعہ ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے بارے میں عجلت سے کام نہ لیجئے ۔ میری حیثیت ( مکہ میں ) یہ تھی کہ قریش کے ساتھ میں نے رہنا سہنا اختیار کر لیا تھا ‘ ان سے رشتہ ناتہ میرا کچھ بھی نہ تھا ۔ آپ کے ساتھ جو دوسرے مہاجرین ہیں ان کی تو مکہ میں سب کی رشتہ داری ہے اور مکہ والے اسی وجہ سے ان کے عزیزوں کی اور ان کے مالوں کی حفاظت و حمایت کریں گے مگر مکہ والوں کے ساتھ میرا کوئی نسبی تعلق نہیں ہے ‘ اس لئے میں نے سوچا کہ ان پر کوئی احسان کر دوں جس سے اثر لے کر وہ میرے بھی عزیزوں کی مکہ میں حفاظت کریں ۔ میں نے یہ کام کفر یا ارتداد کی وجہ سے ہرگز نہیں کیا ہے اور نہ اسلام کے بعد کفر سے خوش ہو کر ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا کہ حاطب نے سچ کہا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ! اجازت دیجئیے میں اس منافق کا سر اڑا دوں ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ نہیں ‘ یہ بدر کی لڑائی میں ( مسلمانوں کے ساتھ مل کر ) لڑے ہیں اور تمہیں معلوم نہیں ‘ اللہ تعالیٰ مجاہدین بدر کے احوال ( موت تک کے ) پہلے ہی سے جانتا تھا ‘ اور وہ خود ہی فرما چکا ہے کہ ” تم جو چاہو کرو میں تمہیں معاف کر چکا ہوں “ ۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ حدیث کی یہ سند بھی کتنی عمدہ ہے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ :
When it was the day (of the battle) of Badr, prisoners of war were brought including Al-Abbas رضی اللہ عنہ who was undressed. The Prophet (ﷺ) looked for a shirt for him. It was found that the shirt of `Abdullah bin Ubai would do, so the Prophet (ﷺ) let him wear it. That was the reason why the Prophet (ﷺ) took off and gave his own shirt to `Abdullah. (The narrator adds, "He had done the Prophet (ﷺ) some favor for which the Prophet liked to reward him.")
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے ‘ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ
بدر کی لڑائی سے قیدی ( مشرکین مکہ ) لائے گئے ۔ جن میں حضرت عباس ( رضی اللہ عنہ ) بھی تھے ۔ ان کے بدن پر کوئی کپڑا نہیں تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے قمیص تلاش کروائی ۔ ( وہ لمبے قد کے تھے ) اس لئے عبداللہ بن ابی ( منافق ) کی قمیص ہی ان کے بدن پر آ سکی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ قمیص پہنا دی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عبداللہ بن ابی کی موت کے بعد ) اپنی قمیص اتار کر اسے پہنائی تھی ۔ ابن عیینہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اس کا احسان تھا ‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اسے ادا کر دیں ۔
Narrated Sahl رضی اللہ عنہ :
On the day (of the battle) of Khaibar the Prophet (ﷺ) said, "Tomorrow I will give the flag to somebody who will be given victory (by Allah) and who loves Allah and His Apostle and is loved by Allah and His Apostle." So, the people wondered all that night as to who would receive the flag and in the morning everyone hoped that he would be that person. Allah's Messenger (ﷺ) asked, "Where is `Ali رضی اللہ عنہ ?" He was told that `Ali رضی اللہ عنہ was suffering from eye-trouble, so he applied saliva to his eyes and invoked Allah to cure him. He at once got cured as if he had no ailment. The Prophet (ﷺ) gave him the flag. `Ali رضی اللہ عنہ said, "Should I fight them till they become like us (i.e. Muslim)?" The Prophet (ﷺ) said, "Go to them patiently and calmly till you enter the land. Then, invite them to Islam, and inform them what is enjoined upon them, for, by Allah, if Allah gives guidance to somebody through you, it is better for you than possessing red camels."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن بن محمد بن عبداللہ بن عبدالقاری نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحازم مسلمہ ابن دینار نے بیان کیا ‘ انہیں سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی لڑائی کے دن فرمایا ‘ کل میں ایسے شخص کے ہاتھ میں اسلامی جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اسلامی فتح حاصل ہو گی ‘ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور جس سے اللہ اور اس کا رسول بھی محبت رکھتے ہیں ۔ رات بھر سب صحابہ کے ذہن میں یہی خیال رہا کہ دیکھئیے کہ کسے جھنڈا ملتا ہے ۔ جب صبح ہوئی تو ہر شخص امیدوار تھا ‘ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ علی کہاں ہیں ؟ عرض کیا گیا کہ ان کی آنکھوں میں درد ہو گیا ہے ۔ آنحضرت نے اپنا مبارک تھوک ان کی آنکھوں میں لگا دیا ۔ اور اس سے انہیں صحت ہو گئی ‘ کسی قسم کی بھی تکلیف باقی نہ رہی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کو جھنڈا عطا فرمایا ۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا میں ان لوگوں سے اس وقت تک نہ لڑوں جب تک یہ ہمارے ہی جیسے یعنی مسلمان نہ ہو جائیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ یوں ہی چلا جا ۔ جب ان کی سرحد میں اترے تو انہیں اسلام کی دعوت دینا اور انہیں بتانا کہ ( اسلام کے ناطے ) ان پر کون کون سے کام ضروری ہیں ۔ خدا کی قسم ! اگر تمہارے ذریعہ اللہ ایک شخص کو بھی مسلمان کر دے تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Allah wonders at those people who will enter Paradise in chains."
ہم سے محمد بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ کہا ہم شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ ایسے لوگوں پر اللہ کو تعجب ہو گا ‘ جو جنت میں بیڑیوں سمیت داخل ہوں گے ( یعنی مسلمانوں نے کافروں کو پکڑ کر بیڑیوں میں قید کر دیا پھر وہ مسلمان ہو گئے تو اللہ تعالیٰ ان کو اسلام کی وجہ سے جنت میں داخل کر دے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر تعجب کریں گے کہ یہ لوگ اپنے کفر کی وجہ سے پابہ زنجیر ہوئے اور اسلام لا کر جنت میں داخل ہو گئے )۔
Narrated Abu Burda's father:
The Prophet (ﷺ) said, "Three persons will get their reward twice. (One is) a person who has a slave girl and he educates her properly and teaches her good manners properly (without violence) and then manumits and marries her. Such a person will get a double reward. (Another is) a believer from the people of the scriptures who has been a true believer and then he believes in the Prophet (ﷺ) (Muhammad). Such a person will get a double reward. (The third is) a slave who observes Allah's Rights and Obligations and is sincere to his master." Slave who discharges his his duties to all Allah and is also a well-wisher of his master. Hadrat Shabi says: I have told you this Hadith with out any charge whereas people journeyed to Madina (Munawwarah) for a Hadith brriefer than it.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے صالح بن حی ابوحسن نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے شعبی سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ مجھ سے ابوبردہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے اپنے والد ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ تین طرح کے آدمی ایسے ہیں جنہیں دوگنا ثواب ملتا ہے ۔ اول وہ شخص جس کی لونڈی ہو ‘ وہ اسے تعلیم دے اور تعلیم دینے میں اچھا طریقہ اختیار کرے ‘ اسے ادب سکھائے اور اس میں اچھے طریقے سے کام لے ‘ پھر اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اسے دہرا اجر ملے گا ۔ دوسرا وہ مومن جو اہل کتاب میں سے ہو کہ پہلے ( اپنے نبی پر ایمان لایا تھا ‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لایا تو اسے بھی دہرا اجر ملے گا ‘ تیسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کی بھی ادائیگی کرتا ہے اور اپنے آقا کے ساتھ بھی بھلائی کرتا ہے ۔ اس کے بعد شعبی ( راوی حدیث ) نے کہا کہ میں نے تمہیں یہ حدیث بلا کسی محنت و مشقت کے دے دی ہے ۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب اس سے بھی کم حدیث کے لئے مدینہ منورہ تک کا سفر کرنا پڑتا تھا ۔