Back to Sahih Bukhari

Virtues and Merits of the Prophet (PBUH) and his Companions

كتاب المناقب

Chapter 62

Hadith 3511
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَهْوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏ "‏ أَلاَ إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا ـ يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ ـ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :

I heard Allah's Messenger (ﷺ) on the pulpit saying, "Verily, afflictions (will start) from here," pointing towards the east, "whence the side of the head of Satan comes out."

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ منبر پر فرما رہے تھے ، آگاہ ہو جاؤ اس طرف سے فساد پھوٹے گا ۔ آپ نے مشرق کی طرف اشارہ کر کے یہ جملہ فرمایا ، جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے ۔

Hadith 3512
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قُرَيْشٌ وَالأَنْصَارُ وَجُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ، لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "The tribes of Quraish, Al-Ansar, Juhaina, Muzaina, Aslam, Ghifar and Ashja' are my helpers, and they have no protector (i.e. Master) except Allah and His Apostle."

Urdu

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے سعد بن ابراہیم نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قریش ، انصار ، جہینہ ، مزینہ ، اسلم ، غفار اور اشجع میرے خیرخواہ ہیں ، اور اللہ اور اس کے رسول کے سوا اور کوئی ان کا حمایتی نہیں ۔

Hadith 3513
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ غُرَيْرٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏ "‏ غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :

While Allah's Messenger (ﷺ) was on the pulpit, he said, "May Allah forgive the tribe of Ghifar! And may Allah save the tribe of Aslam! The tribe of `Usaiya have disobeyed Allah and His Apostle."

Urdu

ہم سے محمد بن غریر زہری نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے صالح نے ، ان سے نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا ، قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرما دی اور قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا اور قبیلہ عصیہ نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔

Hadith 3514
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "May Allah save the tribe of Aslam, and may Allah forgive the tribe of Ghifar!"

Urdu

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی ، انہیں ایوب نے ، انہیں محمد نے ، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ

قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا اور قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرما دی ۔

Hadith 3515
Sahih
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،‏.‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ جُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي أَسَدٍ، وَمِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ وَمِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ خَابُوا وَخَسِرُوا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هُمْ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَمِنْ بَنِي أَسَدٍ، وَمِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ، وَمِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Bakra رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Do you think that the tribes of Juhaina, Muzaina, Aslam and Ghifar are better than the tribes of Bani Tamim, Bani Asad, Bani `Abdullah bin Ghatafan and Bani Amir bin Sasaa?" A man said, "They were unsuccessful and losers." The Prophet (ﷺ) added, "(Yes), they are better than the tribes of Bani Tamim, Bani Asad, Bani `Abdullah bin Ghatafan and Bani Amir bin Sasaa."

Urdu

ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ، ان سے عبدالملک بن عمیرنے ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بتاو کیا جہینہ ، مزینہ ، اسلم اور غفار کے قبیلے بنی تمیم ، بنی اسد ، بنی عبداللہ بن غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ کے مقابلے میں بہتر ہیں ؟ ایک شخص ( اقرع بن حابس ) نے کہا کہ وہ تو تباہ و برباد ہوئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یہ چاروں قبیلے بنوتمیم ، بنو اسد ، بنو عبداللہ بن غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ کے قبیلوں سے بہتر ہیں ۔

Hadith 3516
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّمَا بَايَعَكَ سُرَّاقُ الْحَجِيجِ مِنْ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ ـ وَأَحْسِبُهُ وَجُهَيْنَةَ ابْنُ أَبِي يَعْقُوبَ شَكَّ ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ ـ وَأَحْسِبُهُ ـ وَجُهَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَامِرٍ وَأَسَدٍ وَغَطَفَانَ، خَابُوا وَخَسِرُوا ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُمْ لَخَيْرٌ مِنْهُمْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Bakra:

Al-Aqra' bin Habis رضی اللہ عنہ said to the Prophet (ﷺ) "Nobody gave you the pledge of allegiance but the robbers of the pilgrims (i.e. those who used to rob the pilgrims) from the tribes of Aslam, Ghifar, Muzaina." (Ibn Abi Ya'qub is in doubt whether Al-Aqra' added. 'And Juhaina.') The Prophet (ﷺ) said, "Don't you think that the tribes of Aslam, Ghifar, Muzaina (and also perhaps) Juhaina are better than the tribes of Bani Tamim, Bani Amir, Asad, and Ghatafan?" Somebody said, "They were unsuccessful and losers!" The Prophet said, "Yes, by Him in Whose Hands my life is, they (i.e. the former) are better than they (i.e. the latter).

Urdu

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن ابی یعقوب نے بیان کیا ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے سنا ، انہوں نے اپنے والد سے کہ

اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ سے ان لوگوں نے بیعت کی ہے کہ جو حاجیوں کا سامان چرایا کرتے تھے یعنی اسلم اور غفار اور مزینہ کے لوگ ، محمد بن ابی یعقوب نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں عبدالرحمٰن نے جہینہ کا بھی ذکر کیا ، شعبہ نے کہا کہ یہ شک محمد بن ابی یعقوب کو ہوا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بتلاو اسلم ، غفار ، مزینہ ، اور میں سمجھتا ہوں کہ جہینہ کو بھی کہا یہ چاروں قبیلے بنی تمیم ، بنی عامر اور اسد اور غطفان سے بہتر نہیں ہیں ؟ کیا یہ ( مؤخرالذکر ) خراب اور برباد نہیں ہوئے ؟ اقرع نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یہ ان سے بہتر ہیں ۔

Hadith 3517
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "The hour will not be established unless a man from the tribe of Qahtan appears, driving the people with his stick (ruling them with violence and oppression)."

Urdu

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ، ان سے ثور بن زید نے ، ان سے ابولغیث نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ قبیلہ قحطان میں ایک ایسا شخص پیدا نہیں ہو گا جو لوگوں پر اپنی لاٹھی کے زور سے حکومت کرے گا ۔

Hadith 3518
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ ثَابَ مَعَهُ نَاسٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ حَتَّى كَثُرُوا، وَكَانَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلٌ لَعَّابٌ فَكَسَعَ أَنْصَارِيًّا، فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ غَضَبًا شَدِيدًا، حَتَّى تَدَاعَوْا، وَقَالَ الأَنْصَارِيُّ يَا لَلأَنْصَارِ‏.‏ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ‏.‏ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا بَالُ دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُهُمْ ‏"‏‏.‏ فَأُخْبِرَ بِكَسْعَةِ الْمُهَاجِرِيِّ الأَنْصَارِيَّ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ دَعُوهَا فَإِنَّهَا خَبِيثَةٌ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ أَقَدْ تَدَاعَوْا عَلَيْنَا، لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَلاَ نَقْتُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْخَبِيثَ لِعَبْدِ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّهُ كَانَ يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :

We were in the company of the Prophet (ﷺ) in a Ghazwa. A large number of emigrants joined him and among the emigrants there was a person who used to play jokes (or play with spears); so he (jokingly) stroked an Ansari man on the hip. The Ans-ari got so angry that both of them called their people. The Ansari said, "Help, O Ansar!" And the emigrant said "Help, O emigrants!" The Prophet (ﷺ) came out and said, "What is wrong with the people (as they are calling) this call of the period of Ignorance? "Then he said, "What is the matter with them?" So he was told about the stroke of the emigrant to the Ansari. The Prophet (ﷺ) said, "Stop this (i.e. appeal for help) for it is an evil call. "Abdullah bin Ubai bin Salul (a hypocrite) said, "The emigrants have called and (gathered against us); so when we return to Medina, surely, the more honorable people will expel therefrom the meaner," Upon that `Umar رضی اللہ عنہ said, "O Allah's Prophet! Shall we not kill this evil person (i.e. `Abdullah bin Ubai bin Salul) ?" The Prophet) said, "(No), lest the people should say that Muhammad used to kill his companions."

Urdu

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی ، کہا ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک تھے ، مہاجرین بڑی تعداد میں آپ کے پاس جمع ہو گئے ۔ وجہ یہ ہوئی کہ مہاجرین میں ایک صاحب تھے بڑے دل لگی کرنے والے ، انہوں نے ایک انصاری کے سرین پر ضرب لگائی ، انصاری بہت سخت غصہ ہوا ، اس نے اپنی برادری والوں کو مدد کے لیے پکارا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ان لوگوں نے یعنی انصاری نے کہا : اے قبائل انصار ! مدد کو پہنچو ! اور مہاجر نے کہا : اے مہاجرین ! مدد کو پہنچو ! یہ غل سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( خیمہ سے ) باہر تشریف لائے اور فرمایا : کیا بات ہے ؟ یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے ؟ آپ کے صورت حال دریافت کرنے پر مہاجر صحابی کے انصاری صحابی کو مار دینے کا واقعہ بیان کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ایسی جاہلیت کی ناپاک باتیں چھوڑ دو اور عبداللہ بن ابی سلول ( منافق ) نے کہا کہ یہ مہاجرین اب ہمارے خلاف اپنی قوم والوں کی دہائی دینے لگے ۔ مدینہ پہنچ کر ہم سمجھ لیں گے ، عزت دار ذلیل کو یقیناً نکال باہر کر دے گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اس ناپاک پلید عبداللہ بن ابی کو قتل کیوں نہ کر دیں ؟ لیکن آپ نے فرمایا : ایسا نہ ہونا چاہیے کہ لوگ کہیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے لوگوں کو قتل کر دیا کرتے ہیں ۔

Hadith 3519
Sahih
حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah (bin Mas`ud) رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Who-ever slaps his face or tears the bosom of his dress, or calls the calls of the Period of Ignorance, is not from us."

Urdu

ہم سے ثابت بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے عبداللہ بن مرہ نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ، اور سفیان نے زبید سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ( نوحہ کرتے ہوئے ) اپنے رخسار پیٹے ، گریبان پھاڑ ڈالے ، اور جاہلیت کی پکار پکارے ۔

Hadith 3520
Sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ عَمْرُو بْنُ لُحَىِّ بْنِ قَمَعَةَ بْنِ خِنْدِفَ أَبُو خُزَاعَةَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "`Amr bin Luhai bin Qam'a bin Khindif was the father of Khuza`a.'

Urdu

مجھ سے اسحٰق بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا ، کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی ، انہیں ابوحصین نے ، انہیں ابوصالح نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، عمرو بن لحیی بن قمعہ بن خندف قبیلہ خزاعہ کا باپ تھا ۔

Hadith 3521
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ الْبَحِيرَةُ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ وَلاَ يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَالسَّائِبَةُ الَّتِي كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لآلِهَتِهِمْ فَلاَ يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَىْءٌ‏.‏ قَالَ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرِ بْنِ لُحَىٍّ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab:

Al-Bahira was an animal whose milk was spared for the idols and other dieties, and so nobody was allowed to milk it. As-Saiba was an animal which they (i.e infidels) used to set free in the names of their gods so that it would not be used for carrying anything. Abu Huraira رضی اللہ عنہ said, "The Prophet (ﷺ) said, 'I saw `Amr bin 'Amir bin Luhai Al-Khuza`i dragging his intestines in the (Hell) Fire, for he was the first man who started the custom of releasing animals (for the sake of false gods).' "

Urdu

ہم سے ابولیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

بحیرہ وہ اونٹنی جس کے دودھ کی ممانعت ہوتی تھی ۔ کیونکہ وہ بتوں کے لیے وقف ہوتی تھی ۔ اس لیے کوئی بھی شخص اس کا دودھ نہیں دوھتا تھا اور سائبہ اسے کہتے جس کو وہ اپنے معبودوں کے لیے چھوڑ دیتے اور ان پر کوئی بوجھ نہ لادتا اور نہ کوئی سواری کرتا ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں نے عمرو بن عامر بن لحی خزاعی کو دیکھا کہ جہنم میں وہ اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا اوریہی عمرو وہ پہلا شخص ہے جس نے سائبہ کی رسم نکالی ۔

Hadith 3522
Sahih
حَدَّثَنَا زَيْدٌ ـ هُوَ ابْنُ أَخْزَمَ ـ قَالَ أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنِي مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الْقَصِيرُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسِ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِإِسْلاَمِ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ كُنْتُ رَجُلاً مِنْ غِفَارٍ، فَبَلَغَنَا أَنَّ رَجُلاً قَدْ خَرَجَ بِمَكَّةَ، يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَقُلْتُ لأَخِي انْطَلِقْ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ كَلِّمْهُ وَأْتِنِي بِخَبَرِهِ‏.‏ فَانْطَلَقَ فَلَقِيَهُ، ثُمَّ رَجَعَ فَقُلْتُ مَا عِنْدَكَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلاً يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ وَيَنْهَى عَنِ الشَّرِّ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ لَمْ تَشْفِنِي مِنَ الْخَبَرِ‏.‏ فَأَخَذْتُ جِرَابًا وَعَصًا، ثُمَّ أَقْبَلْتُ إِلَى مَكَّةَ فَجَعَلْتُ لاَ أَعْرِفُهُ، وَأَكْرَهُ أَنْ أَسْأَلَ عَنْهُ، وَأَشْرَبُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ وَأَكُونُ فِي الْمَسْجِدِ‏.‏ قَالَ فَمَرَّ بِي عَلِيٌّ فَقَالَ كَأَنَّ الرَّجُلَ غَرِيبٌ‏.‏ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ فَانْطَلِقْ إِلَى الْمَنْزِلِ‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ لاَ يَسْأَلُنِي عَنْ شَىْءٍ، وَلاَ أُخْبِرُهُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ لأَسْأَلَ عَنْهُ، وَلَيْسَ أَحَدٌ يُخْبِرُنِي عَنْهُ بِشَىْءٍ‏.‏ قَالَ فَمَرَّ بِي عَلِيٌّ فَقَالَ أَمَا نَالَ لِلرَّجُلِ يَعْرِفُ مَنْزِلَهُ بَعْدُ قَالَ قُلْتُ لاَ‏.‏ قَالَ انْطَلِقْ مَعِي‏.‏ قَالَ فَقَالَ مَا أَمْرُكَ وَمَا أَقْدَمَكَ هَذِهِ الْبَلْدَةَ قَالَ قُلْتُ لَهُ إِنْ كَتَمْتَ عَلَىَّ أَخْبَرْتُكَ‏.‏ قَالَ فَإِنِّي أَفْعَلُ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لَهُ بَلَغَنَا أَنَّهُ قَدْ خَرَجَ هَا هُنَا رَجُلٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَأَرْسَلْتُ أَخِي لِيُكَلِّمَهُ فَرَجَعَ وَلَمْ يَشْفِنِي مِنَ الْخَبَرِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَلْقَاهُ‏.‏ فَقَالَ لَهُ أَمَا إِنَّكَ قَدْ رَشَدْتَ، هَذَا وَجْهِي إِلَيْهِ، فَاتَّبِعْنِي، ادْخُلْ حَيْثُ أَدْخُلُ، فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ أَحَدًا أَخَافُهُ عَلَيْكَ، قُمْتُ إِلَى الْحَائِطِ، كَأَنِّي أُصْلِحُ نَعْلِي، وَامْضِ أَنْتَ، فَمَضَى وَمَضَيْتُ مَعَهُ، حَتَّى دَخَلَ وَدَخَلْتُ مَعَهُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لَهُ اعْرِضْ عَلَىَّ الإِسْلاَمَ‏.‏ فَعَرَضَهُ فَأَسْلَمْتُ مَكَانِي، فَقَالَ لِي ‏ "‏ يَا أَبَا ذَرٍّ اكْتُمْ هَذَا الأَمْرَ، وَارْجِعْ إِلَى بَلَدِكَ، فَإِذَا بَلَغَكَ ظُهُورُنَا فَأَقْبِلْ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لأَصْرُخَنَّ بِهَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ‏.‏ فَجَاءَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَقُرَيْشٌ فِيهِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ‏.‏ فَقَالُوا قُومُوا إِلَى هَذَا الصَّابِئِ‏.‏ فَقَامُوا فَضُرِبْتُ لأَمُوتَ فَأَدْرَكَنِي الْعَبَّاسُ، فَأَكَبَّ عَلَىَّ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ وَيْلَكُمْ تَقْتُلُونَ رَجُلاً مِنْ غِفَارَ، وَمَتْجَرُكُمْ وَمَمَرُّكُمْ عَلَى غِفَارَ‏.‏ فَأَقْلَعُوا عَنِّي، فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحْتُ الْغَدَ رَجَعْتُ فَقُلْتُ مِثْلَ مَا قُلْتُ بِالأَمْسِ، فَقَالُوا قُومُوا إِلَى هَذَا الصَّابِئِ‏.‏ فَصُنِعَ ‏{‏بِي‏}‏ مِثْلَ مَا صُنِعَ بِالأَمْسِ وَأَدْرَكَنِي الْعَبَّاسُ فَأَكَبَّ عَلَىَّ، وَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ بِالأَمْسِ‏.‏ قَالَ فَكَانَ هَذَا أَوَّلَ إِسْلاَمِ أَبِي ذَرٍّ رَحِمَهُ اللَّهُ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

"Shall I tell you the story of Abu Dhar's conversion to Islam?" We said, "Yes." He said, "Abu Dhar رضی اللہ عنہ said: I was a man from the tribe of Ghifar. We heard that a man had appeared in Mecca, claiming to be a Prophet. ! said to my brother, 'Go to that man and talk to him and bring me his news.' He set out, met him and returned. I asked him, 'What is the news with you?' He said, 'By Allah, I saw a man enjoining what is good and forbidding what is evil.' I said to him, 'You have not satisfied me with this little information.' So, I took a water skin and a stick and proceeded towards Mecca. Neither did I know him (i.e. the Prophet (ﷺ) ), nor did I like to ask anyone about him. I Kept on drinking Zam zam water and staying in the Mosque. Then `Ali رضی اللہ عنہ passed by me and said, 'It seems you are a stranger?' I said, 'Yes.' He proceeded to his house and I accompanied him. Neither did he ask me anything, nor did I tell him anything. Next morning I went to the Mosque to ask about the Prophet but no-one told me anything about him. `Ali رضی اللہ عنہ passed by me again and asked, 'Hasn't the man recognized his dwelling place yet' I said, 'No.' He said, 'Come along with me.' He asked me, 'What is your business? What has brought you to this town?' I said to him, 'If you keep my secret, I will tell you.' He said, 'I will do,' I said to him, 'We have heard that a person has appeared here, claiming to be a Prophet. I sent my brother to speak to him and when he returned, he did not bring a satisfactory report; so I thought of meeting him personally.' `Ali رضی اللہ عنہ said (to Abu Dhar), 'You have reached your goal; I am going to him just now, so follow me, and wherever I enter, enter after me. If I should see someone who may cause you trouble, I will stand near a wall pretending to mend my shoes (as a warning), and you should go away then.' `Ali رضی اللہ عنہ proceeded and I accompanied him till he entered a place, and I entered with him to the Prophet (ﷺ) to whom I said, 'Present (the principles of) Islam to me.' When he did, I embraced Islam 'immediately. He said to me, 'O Abu Dhar! Keep your conversion as a secret and return to your town; and when you hear of our victory, return to us. ' I said, 'By H him Who has sent you with the Truth, I will announce my conversion to Islam publicly amongst them (i.e. the infidels),' Abu Dhar went to the Mosque, where some people from Quraish were present, and said, 'O folk of Quraish ! I testify that None has the right to be worshipped except Allah, and I (also) testify that Muhammad is Allah's Slave and His Apostle.' (Hearing that) the Quraishi men said, 'Get at this Sabi (i.e. Muslim) !' They got up and beat me nearly to death. Al `Abbas رضی اللہ عنہما saw me and threw himself over me to protect me. He then faced them and said, 'Woe to you! You want to kill a man from the tribe of Ghifar, although your trade and your communications are through the territory of Ghifar?' They therefore left me. The next morning I returned (to the Mosque) and said the same as I have said on the previous day. They again said, 'Get at this Sabi!' I was treated in the same way as on the previous day, and again Al-Abbas رضی اللہ عنہما found me and threw himself over me to protect me and told them the same as he had said the day before.' So, that was the conversion of Abu Dhar رضی اللہ عنہ (may Allah be Merciful to him) to Islam."

Urdu

ہم سے زید نے جو اخزم کے بیٹے ہیں ، یبان کیا ، کہا ہم سے ابوقتیبہ سلم بن قتیبہ نے بیان کیا ، ان سے مثنیٰ بن سعید قصیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوجمرہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ

کیا میں ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا واقعہ تمہیں سناؤں ؟ ہم نے عرض کیا ضرور سنائیے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے بتلایا ۔ میرا تعلق قبیلہ غفار سے تھا ۔ ہمارے یہاں یہ خبر پہنچی تھی کہ مکہ میں ایک شخص پیدا ہوئے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہیں ( پہلے تو ) میں نے اپنے بھائی سے کہا کہ اس شخص کے پاس مکہ جا ، اس سے گفتگو کر اور پھر اس کے سارے حالات آ کر مجھے بتا ۔ چنانچہ میرے بھائی خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور واپس آ گئے ۔ میں نے پوچھا کہ کیا خبر لائے ؟ انہوں نے کہا ، اللہ کی قسم ! میں نے ایسے شخص کو دیکھا ہے جو اچھے کاموں کے لیے کہتا ہے اور برے کاموں سے منع کرتا ہے ۔ میں نے کہا کہ تمہاری باتوں سے تو میری تشفی نہیں ہوئی ۔ اب میں نے توشے کا تھیلا اور چھڑی اٹھائی اور مکہ آ گیا ۔ وہاں میں کسی کو پہچانتا نہیں تھا اور آپ کے متعلق کسی سے پوچھتے ہوئے بھی ڈر لگتا تھا ۔ میں ( صرف ) زمزم کا پانی پی لیا کرتا تھا ، اور مسجدالحرام میں ٹھہرا ہوا تھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ علی رضی اللہ عنہ میرے سامنے سے گزرے اور بولے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس شہر میں مسافر ہیں ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کہا : جی ہاں ۔ بیان کیا کہ تو پھر میرے گھر چلو ۔ پھر وہ مجھے اپنے گھر ساتھ لے گئے ۔ بیان کیا کہ میں آپ کے ساتھ ساتھ گیا ۔ نہ انہوں نے کوئی بات پوچھی اور نہ میں نے کچھ کہا ۔ صبح ہوئی تو میں پھر مسجدالحرام میں آ گیا تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کسی سے پوچھوں لیکن آپ کے بارے میں کوئی بتانے والا نہیں تھا ۔ بیان کیا کہ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے سامنے سے گزرے اور بولے کہ کیا ابھی تک آپ اپنے ٹھکانے کو نہیں پا سکے ہیں ؟ بیان کیا ، میں نے کہا کہ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اچھا پھر میرے ساتھ آئیے ، انہوں نے بیان کیا کہ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا ۔ آپ کا مطلب کیا ہے ۔ آپ اس شہر میں کیوں آئے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کہا : آپ اگر ظاہر نہ کریں تو میں آپ کو اپنے معاملے کے بارے میں بتاؤں ۔ انہوں نے کہا کہ میں ایسا ہی کروں گا ۔ تب میں نے ان سے کہا ۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہاں کوئی شخص پیدا ہوئے ہیں جو نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ میں نے پہلے اپنے بھائی کو ان سے بات کرنے کے لیے بھیجا تھا ۔ لیکن جب وہ واپس ہوئے تو انہوں نے مجھے کوئی تشفی بخش اطلاعات نہیں دیں ۔ اس لیے میں اس ارادہ سے آیا ہوں کہ ان سے خود ملاقات کروں ۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ نے اچھا راستہ پایا کہ مجھ سے مل گئے ۔ میں انہیں کے پاس جا رہا ہوں ۔ آپ میرے پیچھے پیچھے چلیں ۔ جہاں میں داخل ہوں آپ بھی داخل ہو جائیں ۔ اگر میں کسی ایسے آدمی کو دیکھوں گا جس سے آپ کے بارے میں مجھے خطرہ ہو گا تو میں کسی دیوار کے پاس کھڑا ہو جاؤں گا ، گویا کہ میں اپنا جوتا ٹھیک کر رہا ہوں ۔ اس وقت آپ آگے بڑھ جائیں چنانچہ وہ چلے اور میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا اور آخر میں وہ ایک مکان کے اندر گئے اور میں بھی ان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اندر داخل ہو گیا ۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اسلام کے اصول و ارکان مجھے سمجھا دیجئیے ۔ آپ نے میرے سامنے ان کی وضاحت فرمائی اور میں مسلمان ہو گیا ۔ پھر آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! اس معاملے کو ابھی پوشیدہ رکھنا اور اپنے شہر کو چلے جانا ۔ پھر جب تمہیں ہمارے غلبہ کا حال معلوم ہو جائے تب یہاں دوبارہ آنا ۔ میں نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں تو ان سب کے سامنے اسلام کے کلمہ کا اعلان کروں گا ۔ چنانچہ وہ مسجدالحرام میں آئے ۔ قریش کے لوگ وہاں موجود تھے اور کہا ، اے قریش کی جماعت ! ( سنو ) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) قریشیوں نے کہا کہ اس بددین کی خبر لو ۔ چنانچہ وہ میری طرف لپکے اور مجھے اتنا مارا کہ میں مرنے کے قریب ہو گیا ۔ اتنے میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ آ گئے اور مجھ پر گر کر مجھے اپنے جسم سے چھپا لیا اور قریشیوں کی طرف متوجہ ہو کر انہوں کہا ۔ ارے نادانو ! قبیلہ غفار کے آدمی کو قتل کرتے ہو ۔ غفار سے تو تمہاری تجارت بھی ہے اور تمہارے قافلے بھی اس طرف سے گزرتے ہیں ۔ اس پر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا ۔ پھر جب دوسری صبح ہوئی تو پھر میں مسجدالحرام میں آیا اور جو کچھ میں نے کل پکارا تھا اسی کو پھر دہرایا ۔ قریشیوں نے پھر کہا : پکڑو اس بددین کو ۔ جو کچھ انہوں نے میرے ساتھ کل کیا تھا وہی آج بھی کیا ۔ اتفاق سے پھر عباس بن عبدالمطلب آ گئے اور مجھ پر گر کر مجھے اپنے جسم سے انہوں نے چھپا لیا اور جیسا ا نہوں نے قریشیوں سے کل کہا تھا ویسا ہی آج بھی کہا ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کی ابتداء اس طرح سے ہوئی تھی ۔

Hadith 3523
Sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَشَىْءٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ ـ أَوْ قَالَ شَىْءٌ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ مُزَيْنَةَ ـ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ ـ أَوْ قَالَ ـ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وَتَمِيمٍ وَهَوَازِنَ وَغَطَفَانَ‏.‏
English

Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, (The people of) Aslam, Ghifar and some people of Muzaina and Juhaina or said (some people of Juhaina or Muzaina) are better with Allah or said (on the Day of resurrection) than the tribe of Asad, Tamim, Hawazin and Ghatafan.

Urdu

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے محمد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قبیلہ اسلم ، غفار اور مزینہ اور جہنیہ کے کچھ لوگ یا انہوں نے بیان کیا کہ مزینہ کے کچھ لوگ یا ( بیان کیا کہ ) جہینہ کے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یا بیان کیا کہ قیامت کے دن قبیلہ اسد ، تمیم ، ہوازن اور غطفان سے بہتر ہوں گے ۔

Hadith 3524
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ إِذَا سَرَّكَ أَنْ تَعْلَمَ جَهْلَ الْعَرَبِ فَاقْرَأْ مَا فَوْقَ الثَّلاَثِينَ وَمِائَةٍ فِي سُورَةِ الأَنْعَامِ ‏{‏قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلاَدَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ‏}‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

If you wish to know about the ignorance of the Arabs, refer to Surat-al-Anam after Verse No. 130:-- Indeed lost are those who have killed their children From folly without knowledge and have forbidden that which Allah has provided for them, inventing a lie against Allah. They have indeed gone astray and were not guided.' (6.14)

Urdu

ہم سے ابولنعمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے بشر نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ

اگر تم کو عرب کی جہالت معلوم کرنا اچھا لگے تو سورۃ الانعام میں ایک سو تیس آیتوں کے بعد یہ آیتیں پڑھ لو ” یقیناً وہ لوگ تباہ ہوئے جنہوں نے اپنی اولاد کو نادانی سے مارڈالا “ سے لے کر ” وہ گمراہ ہیں ، راہ پانے والے نہیں “ تک ۔

Hadith 3525
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ‏}‏ جَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُنَادِي ‏"‏ يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَدِيٍّ لِبُطُونِ قُرَيْشٍ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

When the Verse:-- 'And warn your tribe of near kindred.' (26.214) was revealed, the Prophet (ﷺ) started calling (the 'Arab tribes), "O Bani Fihr, O Bani `Adi" mentioning first the various branch tribes of Quraish.

Urdu

ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے ، کہا ان سے عمرو بن مرہ نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

جب ( سورۃ الشعراء کی ) یہ آیت اتری ” اے پیغمبر ! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا “ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے مختلف قبیلوں کو بلایا ” اے بنی فہر ! اے بنی عدی ! جو قریش کے خاندان تھے ۔

Hadith 3526
Sahih
وَقَالَ لَنَا قَبِيصَةُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ‏}‏ جَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدْعُوهُمْ قَبَائِلَ قَبَائِلَ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

When the Verse:-- 'And warn your tribe of near kindred' (26.214). was revealed, the Prophet (ﷺ) started calling every tribe by its name.

Urdu

( حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے ) کہا کہ ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، انہیں سفیان نے خبر دی ، انہیں حبیب بن ابی ثابت نے ، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

جب یہ آیت ” اور آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے “ اتری تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ الگ قبائل کو دعوت دی ۔

Hadith 3527
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ، يَا أُمَّ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، اشْتَرِيَا أَنْفُسَكُمَا مِنَ اللَّهِ، لاَ أَمْلِكُ لَكُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، سَلاَنِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "O Bani `Abd Munaf! Buy yourselves from Allah; O Bani `Abdul-Muttalib! Buy yourselves from Allah; O mother of Az-Zubair bin Al-Awwam, the aunt of Allah's Messenger (ﷺ), and O Fatima bint Muhammad! Buy yourselves from Allah, for I cannot defend you before Allah. You (both) can ask me from my property as much as you like. "

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا ہم کو ابوالزناد نے خبر دی ، انہیں اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عبدمناف کے بیٹو ! اپنی جانوں کو اللہ سے خرید لو ( یعنی نیک کام کر کے انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لو ) اے عبدالمطلب کے بیٹو ! اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو ، اے زبیر بن عوام کی والدہ ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ، اے فاطمہ بنت محمد ! تم دونوں اپنی جانوں کو اللہ سے بچا لو ۔ میں تمہارے لیے اللہ کی بارگاہ میں کچھ اختیار نہیں رکھتا ۔ تم دونوں میرے مال میں جتنا چاہو مانگ سکتی ہو ۔

Hadith 3528
Sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الأَنْصَارَ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ، إِلاَّ ابْنُ أُخْتٍ لَنَا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) sent for the Ansar (and when they came), he asked, 'Is there any stranger amongst you?" They said, "No except the son of our sister." Allah's Messenger (ﷺ) said, "The son of the sister of some people belongs to them."

Urdu

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو خاص طور سے ایک مرتبہ بلایا ، پھر ان سے پوچھا کیا تم لوگوں میں کوئی ایسا شخص بھی رہتا ہے جس کا تعلق تمہارے قبیلے سے نہ ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ صرف ہمارا ایک بھانجا ایسا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ بھانجا بھی اسی قوم میں داخل ہوتا ہے ۔

Hadith 3529, 3530
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَكَشَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ ‏"‏ دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ، وَتِلْكَ الأَيَّامُ أَيَّامُ مِنًى ‏"‏‏. وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتُرُنِي، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ، وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ فَزَجَرَهُمْ ‏{‏عُمَرُ‏}‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ دَعْهُمْ أَمْنًا بَنِي أَرْفَدَةَ ‏"‏‏.‏ يَعْنِي مِنَ الأَمْنِ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

During the Mina days, Abu Bakr رضی اللہ عنہ came to her, while there where two girls with her, beating drums, and the Prophet (ﷺ) was (lying) covering himself with his garment. Abu Bakr رضی اللہ عنہ rebuked the two girls, but the Prophet (ﷺ) uncovered his face and said, "O Abu Bakr! Leave them, for these are the days of Id (festival)." Those days were the days of Mina. `Aisha added, "I was being screened by the Prophet (ﷺ) while I was watching the Ethiopians playing in the Mosque. `Umar rebuked them, but the Prophet (ﷺ) said, "Leave them, O Bani Arfida! Play. (for) you are safe."

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ

ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ( انصار کی ) دو لڑکیاں دف بجا کر گارہی تھیں ۔ یہ حج کے ایام منیٰ کا واقعہ ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روئے مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے لیٹے ہوئے تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا : ابوبکر ! انہیں چھوڑد و ، یہ عید کے دن ہیں ، یہ منیٰ میں ٹھہرنے کے دن تھے ۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو پردہ میں رکھے ہوئے ہیں اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جو نیزوں کا کھیل مسجد میں کر رہے تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہیں چھوڑ دو ، بنی ارفدہ تم بے فکر ہو کر کھیلو ۔

Hadith 3531
Sahih
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ ‏ "‏ كَيْفَ بِنَسَبِي ‏"‏‏.‏ فَقَالَ حَسَّانُ لأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ‏.‏ وَعَنْ أَبِيهِ قَالَ ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ لاَ تَسُبُّهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Once Hassan bin Thabit رضی اللہ عنہ asked the permission of the Prophet (ﷺ) to lampoon (i.e. compose satirical poetry defaming) the infidels. The Prophet (ﷺ) said, "What about the fact that I have common descent with them?" Hassan رضی اللہ عنہ replied, "I shall take you out of them as a hair is taken out of dough." Narrated `Urwa: I started abusing Hassan رضی اللہ عنہ in front of `Aisha رضی اللہ عنہا , whereupon she said. "Don't abuse him, for he used to defend the Prophet (with his poetry).

Urdu

مجھ سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین ( قریش ) کی ہجو کرنے کی اجازت چاہی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں بھی تو ان ہی کے خاندان سے ہوں ۔ اس پر حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں آپ کو ( شعر میں ) اس طرح صاف نکال لے جاؤں گا جیسے آٹے میں سے بال نکال لیا جاتا ہے اور ( ہشام نے ) اپنے والد سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں میں حسان رضی اللہ عنہ کو برا کہنے لگا تو انہوں نے فرمایا ، انہیں برا نہ کہو ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدافعت کیا کرتے تھے ۔