Back to Sahih Bukhari

Virtues and Merits of the Prophet (PBUH) and his Companions

كتاب المناقب

Chapter 62

Hadith 3552
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سُئِلَ الْبَرَاءُ أَكَانَ وَجْهُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ السَّيْفِ قَالَ لاَ بَلْ مِثْلَ الْقَمَرِ‏.‏
English

Narrated Abu 'Is-haq:

Al-Bara' رضی اللہ عنہ was asked, "Was the face of the Prophet (as bright) as a sword?" He said, "No, but (as bright) as a moon."

Urdu

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ، ان سے ابواسحٰق نے بیان کیا کہ

کسی نے براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ تلوار کی طرح ( لمبا پتلا ) تھا ؟ انہوں نے کہا نہیں ، چہرہ مبارک چاند کی طرح ( گول اور خوبصورت ) تھا ۔

Hadith 3553
Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَعْوَرُ، بِالْمَصِّيصَةِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْهَاجِرَةِ إِلَى الْبَطْحَاءِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ‏.‏ ‏{‏قَالَ شُعْبَةُ‏}‏ وَزَادَ فِيهِ عَوْنٌ عَنْ أَبِيهِ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ كَانَ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْمَرْأَةُ، وَقَامَ النَّاسُ فَجَعَلُوا يَأْخُذُونَ يَدَيْهِ، فَيَمْسَحُونَ بِهَا وُجُوهَهُمْ، قَالَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَوَضَعْتُهَا عَلَى وَجْهِي، فَإِذَا هِيَ أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْيَبُ رَائِحَةً مِنَ الْمِسْكِ‏.‏
English

Narrated Abu Juhaifa رضی اللہ عنہ :

Once Allah's Messenger (ﷺ) went to Al-Batha' at noon, performed the ablution and offered' a two rak`at Zuhr prayer and a two-rak`at `Asr prayer while a spearheaded stick was planted before him and the passersby were passing in front of it. (After the prayer), the people got up and held the hands of the Prophet and passed them on their faces. I also took his hand and kept it on my face and noticed that it was colder than ice, and its smell was nicer than musk.

Urdu

ہم سے ابوعلی حسن بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم سے حجاج بن محمد الاعور نے مصیصہ ( شہر میں ) بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے حکم نے بیان کیا کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت سفر کے ارادہ سے نکلے ۔ بطحاء نامی جگہ پر پہنچ کر آپ نے وضو کیا اور ظہر کی نماز دو رکعت ( قصر ) پڑھی پھر عصر کی بھی دو رکعت ( قصر ) پڑھی ۔ آپ کے سامنے ایک چھوٹا سا نیزہ ( بطور سترہ ) گڑا ہوا تھا ۔ عون نے اپنے والد سے اس روایت میں یہ زیادہ کیا ہے کہ ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نیزہ کے آگے سے آنے جانے والے آ جا رہے تھے ۔ پھر صحابہ آپ کے پاس آ گئے اور آپ کے مبارک ہاتھوں کو تھام کر اپنے چہروں پر پھیرنے لگے ۔ ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے بھی آپ کے دست مبارک کو اپنے چہرے پر رکھا ۔ اس وقت وہ برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے بھی زیادہ خوشبودار تھا ۔

Hadith 3554
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَجْوَدَ النَّاسِ، وَأَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ، حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ فَلَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) was the most generous of all the people, and he used to become more generous in Ramadan when Gabriel met him. Gabriel used to meet him every night during Ramadan to revise the Qur'an with him. Allah's Messenger (ﷺ) then used to be more generous than the fast wind.

Urdu

ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو یونس نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں جب آپ سے جبرائیل علیہ السلام کی ملاقات ہوتی تو آپ کی سخاوت اور بھی بڑھ جایا کرتی تھی ۔ جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپ سے ملاقات کے لیے تشریف لاتے اور آپ کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے ۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر و بھلائی کے معاملے میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے ۔

Hadith 3555
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، فَقَالَ ‏ "‏ أَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ الْمُدْلِجِيُّ لِزَيْدٍ وَأُسَامَةَ ـ وَرَأَى أَقْدَامَهُمَا ـ إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الأَقْدَامِ مِنْ بَعْضٍ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Allah's Messenger (ﷺ) came to her in a happy mood with his features glittering with joy, and said, "Have you not heard what the Qaif has said about Zaid and Us-ama? He saw their feet and remarked. These belong to each other." (i.e. They are father and son.)

Urdu

ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی ، انہیں عروہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں بہت ہی خوش خوش داخل ہوئے ، خوشی اور مسرت سے پیشانی کی لکیریں چمک رہی تھیں ۔ پھر آپ نے فرمایا : عائشہ ! تم نے سنا نہیں مجزز مدلجی نے زید و اسامہ کے صرف قدم دیکھ کر کیا بات کہی ؟ اس نے کہا کہ ایک کے پاؤں دوسرے کے پاؤں سے ملتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔

Hadith 3556
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ تَبُوكَ، قَالَ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ مِنَ السُّرُورِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ، حَتَّى كَأَنَّهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ، وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ مِنْهُ‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin Ka`b رضی اللہ عنہ :

I heard Ka`b bin Malik talking after his failure to join (the Ghazwa of) Tabuk. He said, "When I greeted Allah's Messenger (ﷺ) whose face was glittering with happiness, for whenever Allah's Messenger (ﷺ) was happy, his face used to glitter, as if it was a piece of the moon, and we used to recognize it (i.e. his happiness) from his face."

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے اور ان سے عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ،

آپ غزوہ تبوک میں اپنے پیچھے رہ جانے کا واقعہ بیان کر رہے تھے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے ( توبہ قبول ہونے کے بعد ) حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو چہرہ مبارک مسرت و خوشی سے چمک رہا تھا ۔ جب بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات پر مسرور ہوتے تو چہرہ مبارک چمک اٹھتا ، ایسا معلوم ہوتا جیسے چاند کا ٹکڑا ہو اور آپ کی خوشی کو ہم اسی سے پہچان جاتے تھے ۔

Hadith 3557
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ بُعِثْتُ مِنْ خَيْرِ قُرُونِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا، حَتَّى كُنْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "I have been sent (as an Apostle) in the best of all the generations of Adam's offspring since their Creation."

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے ، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ( حضرت آدم سے لے کر ) برابر آدمیوں کے بہتر قرنوں میں ہوتا آیا ہوں ( یعنی شریف اور پاکیزہ نسلوں میں ) یہاں تک کہ وہ قرن آیا جس میں میں پیدا ہوا ۔

Hadith 3558
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسْدِلُ شَعَرَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ فَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ رُءُوسَهُمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَىْءٍ، ثُمَّ فَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) used to let his hair hang down while the infidels used to part their hair. The people of the Scriptures were used to letting their hair hang down and Allah's Messenger (ﷺ) liked to follow the people of the Scriptures in the matters about which he was not instructed otherwise. Then Allah's Messenger (ﷺ) parted his hair.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( سر کے آگے کے بالوں کو پیشانی پر ) پڑا رہنے دیتے تھے اور مشرکین کی یہ عادت تھی کہ وہ آگے کے سر کے بال دو حصوں میں تقسیم کر لیتے تھے ( پیشانی پر پڑا نہیں رہنے دیتے تھے ) اور اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ ) سرکے آگے کے بال پیشانی پر پڑا رہنے دیتے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات میں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم آپ کو نہ ملا ہوتا ۔ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے ( اور حکم نازل ہونے کے بعد وحی پر عمل کرتے تھے ) پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی سر میں مانگ نکالنے لگے ۔

Hadith 3559
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا وَكَانَ يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلاَقًا ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin `Amr رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) never used bad language neither a "Fahish nor a Mutafahish. He used to say "The best amongst you are those who have the best manners and character." (See Hadith No. 56 (B) Vol. 8)

Urdu

ہم سے عبدان نے بیان کیا ، ان سے ابوحمزہ نے ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابووائل نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدزبان اور لڑنے جھگڑنے والے نہیں تھے ۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں ( جو لوگوں سے کشادہ پیشانی سے پیش آئے )

Hadith 3560
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلاَّ أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا، مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِنَفْسِهِ، إِلاَّ أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ بِهَا‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Whenever Allah's Messenger (ﷺ) was given the choice of one of two matters, he would choose the easier of the two, as long as it was not sinful to do so, but if it was sinful to do so, he would not approach it. Allah's Messenger (ﷺ) never took revenge (over anybody) for his own sake but (he did) only when Allah's Legal Bindings were outraged in which case he would take revenge for Allah's Sake.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی دو چیزوں میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے لیے کہا گیا تو آپ نے ہمیشہ اسی کو اختیار فرمایا جس میں آپ کو زیادہ آسانی معلوم ہوئی بشرطیکہ اس میں کوئی گناہ نہ ہو ۔ کیونکہ اگر اس میں گناہ کا کوئی شائبہ بھی ہوتا تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور رہتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے بد لہ نہیں لیا ۔ لیکن اگر اللہ کی حرمت کو کوئی توڑ تا تو آپ اس سے ضرور بدلہ لیتے تھے ۔

Hadith 3561
Sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَا مَسِسْتُ حَرِيرًا وَلاَ دِيبَاجًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَلاَ شَمِمْتُ رِيحًا قَطُّ أَوْ عَرْفًا قَطُّ أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ أَوْ عَرْفِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

I have never touched silk or Dibaj (i.e. thick silk) softer than the palm of the Prophet (ﷺ) nor have I smelt a perfume nicer than the sweat of the Prophet.

Urdu

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم و نازک کوئی حریر و دیباج میرے ہاتھوں نے کبھی چھوا اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے زیادہ بہتر اور پاکیزہ کوئی خوشبو یا عطر سونگھا ۔

Hadith 3562
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا.حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَابْنُ، مَهْدِيٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، مِثْلَهُ وَإِذَا كَرِهَ شَيْئًا عُرِفَ فِي وَجْهِهِ‏.‏
English

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) was shier than a veiled virgin girl. A similar Hadith (i e. No. 762) with this addition: And if he (i.e. the Prophet) disliked something, the sign of aversion would appear on his face.

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ان سے قتادہ نے ، ان سے عبداللہ ابن ابی عتبہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نشیں کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرمیلے تھے ۔اسی طرح کی حدیث (نمبر 762) اس اضافے کے ساتھ: اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو ناپسند کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نفرت کے آثار ظاہر ہوتے۔

Hadith 3563
Sahih
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَا عَابَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا قَطُّ، إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ، وَإِلاَّ تَرَكَهُ‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) never criticized any food (presented him), but he would eat it if he liked it; otherwise, he would leave it (without expressing his dislike).

Urdu

مجھ علی بن جعد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا ، اگر آپ کو مرغوب ہوتا تو کھاتے ورنہ چھوڑ دیتے ۔

Hadith 3564
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَسْدِيِّ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَجَدَ فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى نَرَى إِبْطَيْهِ‏.‏ قَالَ وَقَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا بَكْرٌ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin Malik bin Buhaina Al-Asdi رضی اللہ عنہ :

When the Prophet (ﷺ) prostrated, he used to keep his arms so widely apart that we used to see his armpits. (The sub-narrator, Ibn Bukair said, "The whiteness of his armpits.")

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے بکربن مضر نے بیان کیا ، ان سے جعفر بن ربیعہ نے ، ان سے اعرج نے ، ان سے عبداللہ بن مالک بن بحینہ اسدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو دونوں ہاتھ پیٹ سے الگ رکھتے یہاں تک کہ آپ کی بغلیں ہم لوگ دیکھ لیتے ، ابن بکیر نے بکر سے روایت کی اس میں یوں ہے ، یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی ۔

Hadith 3565
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ لاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَىْءٍ مِنْ دُعَائِهِ، إِلاَّ فِي الاِسْتِسْقَاءِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ‏.‏ وَقَالَ أَبُو مُوسَى دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) did not use to raise his hands in his invocations except in the Istisqa (i.e. invoking Allah for the rain) in which he used to raise his hands so high that one could see the whiteness of his armpits. (Note: It may be that Anas did not see the prophet (as) raising his hands but it has been narrated that the Prophet (as) used to raise his hands for invocations other than Istisqa. See Hadith No. 612 Vol. 5. and Hadith No. 807 & 808 Vol 2.)

Urdu

ہم سے عبدالاعلی بن حماد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سعید نے بیان کیا ، انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا استسقاء کے سوا اور کسی دعا میں ( زیادہ اونچا ) ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے ۔ اس دعا میں آپ اتنا اونچا ہاتھ اٹھاتے کہ بغل مبارک کی سفیدی دکھائی دیتی تھی ۔

Hadith 3566
Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَوْنَ بْنَ أَبِي جُحَيْفَةَ، ذَكَرَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ دُفِعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ بِالأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ كَانَ بِالْهَاجِرَةِ، خَرَجَ بِلاَلٌ فَنَادَى بِالصَّلاَةِ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ فَضْلَ وَضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَوَقَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ يَأْخُذُونَ مِنْهُ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ الْعَنَزَةَ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ سَاقَيْهِ فَرَكَزَ الْعَنَزَةَ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ‏.‏
English

Narrated Abu Juhaifa رضی اللہ عنہ :

By chance I went to the Prophet (ﷺ) at noon while he was at Al-Abtah (resting) in a tent. Bilal رضی اللہ عنہ came out (of the tent) and pronounced the Adhan for the prayer, and entering again, he brought out the water which was left after Allah's Messenger (ﷺ) had performed the ablution. The people rushed to take some of the water. Bilal again went in and brought out a spear-headed stick, and then Allah's Messenger (ﷺ) came out. As if I were now looking at the whiteness of his leg. Bilal رضی اللہ عنہ fixed the stick and the Prophet (ﷺ) offered a two-rak`at Zuhr prayer and a two-rak`at `Asr prayer, while women and donkeys were passing in front of the Prophet (beyond the stick) .

Urdu

ہم سے حسن بن صباح بزار نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ، کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے عون بن ابی جحیفہ سے سنا ، وہ اپنے والد ( ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ ) سے نقل کرتے تھے کہ

میں سفر کے ارادہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ابطح میں ( محصب میں ) خیمہ کے اندر تشریف رکھتے تھے ۔ کڑی دوپہر کا وقت تھا ۔ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ نے باہر نکل کر نماز کے لئے اذان دی اور اندر آ گئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی نکالا تو لوگ اسے لینے کے لیے ٹوٹ پڑے ۔ پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ایک نیزہ نکالا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، گویا آپ کی پنڈلیوں کی چمک اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے ۔ بلال رضی اللہ عنہ نے ( سترہ کے لیے ) نیزہ گاڑ دیا ۔ آپ نے ظہر اور عصر کی دو دو رکعت قصر نماز پڑھائی ، گدھے اور عورتیں آپ کے سامنے سے گزر رہی تھیں ۔

Hadith 3567, 3568
Sahih
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ لأَحْصَاهُ‏. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ أَلاَ يُعْجِبُكَ أَبُو فُلاَنٍ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، يُسْمِعُنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أُسَبِّحُ فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي، وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

The Prophet (ﷺ) used to talk so clearly that if somebody wanted to count the number of his words, he could do so. Narrated `Urwa bin Az-Zubair: `Aisha رضی اللہ عنہا said (to me), "Don't you wonder at Abu so-and-so who came and sat by my dwelling and started relating the traditions of Allah's Messenger (ﷺ) intending to let me hear that, while I was performing an optional prayer. He left before I finished my optional prayer. Had I found him still there. I would have said to him, 'Allah's Messenger (ﷺ) never talked so quickly and vaguely as you do.' "

Urdu

مجھ سے حسن بن صباح بزار نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ٹھہر ٹھہر کر باتیں کرتے کہ اگر کوئی شخص ( آپ کے الفاظ ) گن لینا چاہتا تو گن سکتا تھا ۔ اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیرنے خبر دی اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) پر تمہیں تعجب نہیں ہوا ۔ وہ آئے اور میرے حجرہ کے ایک کونے میں بیٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مجھے سنانے کے لیے بیان کرنے لگے ۔ میں اس وقت نماز پڑھ رہی تھی ۔ پھر وہ میری نماز ختم ہونے سے پہلے ہی اٹھ کر چلے گئے ۔ اگر وہ مجھے مل جاتے تو میں ان کی خبر لیتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح یوں جلدی جلدی باتیں نہیں کیا کرتے تھے ۔

Hadith 3569
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ قَالَتْ مَا كَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلاَ غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاَثًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ قَالَ ‏ "‏ تَنَامُ عَيْنِي وَلاَ يَنَامُ قَلْبِي ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

"How was the prayer of Allah's Messenger (ﷺ) in the month of Ramadan?" She replied, "He used not to pray more than eleven rak`at whether in Ramadan or in any other month. He used to offer four rak`at, let alone their beauty and length, and then four rak`at, let alone their beauty and length. Afterwards he would offer three rak`at. I said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Do you go to bed before offering the witr prayer?' He said, 'My eyes sleep, but my heart does not sleep."'

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے سعید مقبری نے ، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ

رمضان شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ( تہجد یا تراویح ) کی کیا کیفیت ہوتی تھی ؟ انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رمضان مبارک یا دوسرے کسی بھی مہینے میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ( ان ہی کو تہجد کہو یا تراویح ) پہلے آپ چار رکعت پڑھتے ، وہ رکعتیں کتنی لمبی ہوتی تھیں ۔ کتنی اس میں خوبی ہوتی تھیں اس کے بارے میں نہ پوچھو ۔ پھر آپ چار رکعتیں پڑھتے ۔ یہ چاروں بھی کتنی لمبی ہوتیں اور ان میں کتنی خوبی ہوتی ۔ اس کے متعلق نہ پوچھو ۔ پھر آپ تین رکعت وتر پڑھتے ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے کیوں سو جاتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل بیدار رہتا ہے ۔

Hadith 3570
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُنَا عَنْ لَيْلَةِ، أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ جَاءَ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ، وَهُوَ نَائِمٌ فِي مَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَقَالَ أَوَّلُهُمْ أَيُّهُمْ هُوَ فَقَالَ أَوْسَطُهُمْ هُوَ خَيْرُهُمْ وَقَالَ آخِرُهُمْ خُذُوا خَيْرَهُمْ‏.‏ فَكَانَتْ تِلْكَ، فَلَمْ يَرَهُمْ حَتَّى جَاءُوا لَيْلَةً أُخْرَى، فِيمَا يَرَى قَلْبُهُ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نَائِمَةٌ عَيْنَاهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ وَكَذَلِكَ الأَنْبِيَاءُ تَنَامُ أَعْيُنُهُمْ وَلاَ تَنَامُ قُلُوبُهُمْ، فَتَوَلاَّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ عَرَجَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

The night when the Prophet (ﷺ) was made to travel from the Ka`ba Mosque. Three persons (i.e. angels) came to the Prophet (ﷺ) before he was divinely inspired was an Aspostle), while he was sleeping in Al Masjid-ul-Haram. The first (of the three angels) said, "Which of them is he?" The second said, "He is the best of them." That was all that happened then, and he did not see them till they came at another night and he perceived their presence with his heart, for the eyes of the Prophet (ﷺ) were closed when he was asleep, but his heart was not asleep (not unconscious). This is characteristic of all the prophets: Their eyes sleep but their hearts do not sleep. Then Gabriel took charge of the Prophet (ﷺ) and ascended along with him to the Heaven.

Urdu

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی ( عبدالحمید ) نے بیان کیا ، ان سے سلیمان بن بلال نے ، ان سے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا

وہ مسجدالحرام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کا واقعہ بیان کر رہے تھے کہ ( معراج سے پہلے ) تین فرشتے آئے ۔ یہ آپ پر وحی نازل ہونے سے بھی پہلے کا واقعہ ہے ۔ اس وقت آپ مسجدالحرام میں ( دو آدمیوں حضرت حمزہ اور جعفر بن ابی طالب کے درمیان ) سو رہے تھے ۔ ایک فرشتے نے پوچھا : وہ کون ہیں ؟ ( جن کو لے جانے کا حکم ہے ) دوسرے نے کہا کہ وہ درمیان والے ہیں ۔ وہی سب سے بہتر ہیں ۔ تیسرے نے کہا کہ پھر جو سب سے بہتر ہیں انہیں ساتھ لے چلو ۔ اس رات صرف اتنا ہی واقعہ ہو کر رہ گیا ۔ پھر آپ نے انہیں نہیں دیکھا ۔ لیکن فرشتے ایک اور رات میں آئے ۔ آپ دل کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور آپ کی آنکھیں سوتی تھیں پر دل نہیں سوتا تھا ، اور تمام انبیاء کی یہی کیفیت ہوتی ہے کہ جب ان کی آنکھیں سوتی ہیں تو دل اس وقت بھی بیدار ہوتا ہے ۔ غرض کہ پھر جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو اپنے ساتھ لیا اور آسمان پر چڑھا لے گئے ۔

Hadith 3571
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ، سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي مَسِيرٍ، فَأَدْلَجُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ وَجْهُ الصُّبْحِ عَرَّسُوا فَغَلَبَتْهُمْ أَعْيُنُهُمْ حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ لاَ يُوقَظُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَنَامِهِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، فَاسْتَيْقَظَ عُمَرُ فَقَعَدَ أَبُو بَكْرٍ عِنْدَ رَأْسِهِ فَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ، حَتَّى اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَنَزَلَ وَصَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ‏"‏ يَا فُلاَنُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا ‏"‏‏.‏ قَالَ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ‏.‏ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ، ثُمَّ صَلَّى وَجَعَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَكُوبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ، فَقُلْنَا لَهَا أَيْنَ الْمَاءُ فَقَالَتْ إِنَّهُ لاَ مَاءَ‏.‏ فَقُلْنَا كَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ قَالَتْ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ‏.‏ فَقُلْنَا انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَتْ وَمَا رَسُولُ اللَّهِ فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمْرِهَا حَتَّى اسْتَقْبَلْنَا بِهَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، فَحَدَّثَتْهُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَتْنَا غَيْرَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا مُؤْتِمَةٌ، فَأَمَرَ بِمَزَادَتَيْهَا فَمَسَحَ فِي الْعَزْلاَوَيْنِ، فَشَرِبْنَا عِطَاشًا أَرْبَعِينَ رَجُلاً حَتَّى رَوِينَا، فَمَلأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ نَسْقِ بَعِيرًا وَهْىَ تَكَادُ تَنِضُّ مِنَ الْمِلْءِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَاتُوا مَا عِنْدَكُمْ ‏"‏‏.‏ فَجُمِعَ لَهَا مِنَ الْكِسَرِ وَالتَّمْرِ، حَتَّى أَتَتْ أَهْلَهَا قَالَتْ لَقِيتُ أَسْحَرَ النَّاسِ، أَوْ هُوَ نَبِيٌّ كَمَا زَعَمُوا، فَهَدَى اللَّهُ ذَاكَ الصِّرْمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا‏.‏
English

Narrated `Imran bin Husain رضی اللہ عنہما :

That they were with the Prophet (ﷺ) on a journey. They travelled the whole night, and when dawn approached, they took a rest and sleep overwhelmed them till the sun rose high in the sky. The first to get up was Abu Bakr رضی اللہ عنہ . Allah's Messenger (ﷺ)s used not to be awakened from his sleep, but he would wake up by himself. `Umar رضی اللہ عنہ woke up and then Abu Bakr رضی اللہ عنہ sat by the side of the Prophet's head and started saying: Allahu-Akbar raising his voice till the Prophet (ﷺ) woke up, (and after traveling for a while) he dismounted and led us in the morning prayer. A man amongst the people failed to join us in the prayer. When the Prophet (ﷺ) had finished the prayer, he asked (the man), "O so-and-so! What prevented you from offering the prayer with us?" He replied, "I am Junub," Alllah's Apostle ordered him to perform Tayammam with clean earth. The man then offered the prayer. Allah's Messenger (ﷺ) ordered me and a few others to go ahead of him. We had become very thirsty. While we were on our way (looking for water), we came across a lady (riding an animal), hanging her legs between two water-skins. We asked her, "Where can we get water?" She replied, "Oh ! There is no water." We asked, "how far is your house from the water?" She replied, "A distance of a day and a night travel." We said, "Come on to Allah's Messenger (ﷺ), "She asked, "What is Allah's Messenger (ﷺ) ?" So we brought her to Allah's Messenger (ﷺ) against her will, and she told him what she had told us before and added that she was the mother of orphans. So the Prophet (ﷺ) ordered that her two water-skins be brought and he rubbed the mouths of the water-skins. As we were thirsty, we drank till we quenched our thirst and we were forty men. We also filled all our water skins and other utensils with water, but we did not water the camels. The water skin was so full that it was almost about to burst. The Prophet (ﷺ) then said, "Bring what (foodstuff) you have." So some dates and pieces of bread were collected for the lady, and when she went to her people, she said, "I have met either the greatest magician or a prophet as the people claim." So Allah guided the people of that village through that lady. She embraced Islam and they all embraced Islam.

Urdu

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلم بن زریر نے بیان کیا ، انہوں نے ابورجاء سے سنا کہ ہم سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، رات بھر سب لوگ چلتے رہے جب صبح کا وقت قریب ہوا تو پڑاو کیا ( چونکہ ہم تھکے ہوئے تھے ) اس لیے سب لوگ اتنی گہری نیند سو گئے کہ سورج پوری طرح نکل آیا ۔ سب سے پہلے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جاگے ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ، جب آپ سوتے ہوتے تو جگاتے نہیں تھے تاآنکہ آپ خود ہی جاگتے ، پھر عمر رضی اللہ عنہ بھی جاگ گئے ۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے سرمبارک کے قریب بیٹھ گئے اور بلند آواز سے اللہ اکبر کہنے لگے ۔ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی جاگ گئے اور وہاں سے کوچ کا حکم دے دیا ۔ ( پھر کچھ فاصلے پر تشریف لائے ) اور یہاں آپ اترے اور آپ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی ۔ ایک شخص ہم سے دور کونے میں بیٹھا رہا ۔ اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے اس سے فرمایا : اے فلاں ! ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے تجھے کس چیز نے روکا ؟ اس نے عرض کیا کہ مجھے غسل کی حاجت ہو گئی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ پاک مٹی سے تیمم کر لو ( پھر اس نے بھی تیمم کے بعد ) نماز پڑھی ۔ حضرت عمر ان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند سواروں کے ساتھ آگے بھیج دیا ۔ ( تاکہ پانی تلاش کریں کیونکہ ) ہمیں سخت پیاس لگی ہوئی تھی ، اب ہم اسی حالت میں چل رہے تھے کہ ہمیں ایک عورت ملی جو دو مشکوں کے درمیان ( سواری پر ) اپنے پاؤں لٹکائے ہوئے جا رہی تھی ۔ ہم نے اس سے کہا کہ پانی کہاں ملتا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ یہاں پانی نہیں ہے ۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ تمہارے گھر سے پانی کتنے فاصلے پر ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ایک دن ایک رات کا فاصلہ ہے ، ہم نے اس سے کہا کہ اچھا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلو ، وہ بولی رسول اللہ کے کیا معنی ہیں ؟ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، آخر ہم اسے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے ، اس نے آپ سے بھی وہی کہا جو ہم سے کہہ چکی تھی ۔ ہاں اتنا اور کہا کہ وہ یتیم بچوں کی ماں ہے ( اس لیے واجب الرحم ہے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کے دونوں مشکیزوں کو اتارا گیا اور آپ نے ان کے دہانوں پر دست مبارک پھیرا ۔ ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے اس میں سے خوب سیراب ہو کر پیا اور اپنے تمام مشکیزے اور بالٹیاں بھی بھر لیں صرف ہم نے اونٹوں کو پانی نہیں پلایا ، اس کے باوجود اس کی مشکیں پانی سے اتنی بھری ہوئی تھیں کہ معلوم ہو تاتھا ابھی بہہ پڑیں گی ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے ( کھانے کی چیزوں میں سے ) میرے پاس لاؤ ۔ چنانچہ اس عورت کے لیے روٹی کے ٹکڑے اور کھجوریں لا کر جمع کر دیں گئیں ۔ پھر جب وہ اپنے قبیلے میں آئی تو اپنے آدمیوں سے اس نے کہا کہ آج میں سب سے بڑے جادوگر سے مل کر آئی ہوں یا پھر جیسا کہ ( اس کے ماننے والے ) لوگ کہتے ہیں ، وہ واقعی نبی ہے ۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس کے قبیلے کو اسی عورت کی وجہ سے ہدایت دی ، وہ خود بھی اسلام لائی اور تمام قبیلے والوں نے بھی اسلام قبول کر لیا ۔

Hadith 3572
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِإِنَاءٍ وَهْوَ بِالزَّوْرَاءِ، فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ قُلْتُ لأَنَسٍ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ ثَلاَثَمِائَةٍ، أَوْ زُهَاءَ ثَلاَثِمِائَةٍ‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

A bowl of water was brought to the Prophet (ﷺ) while he was at Az-Zawra. He placed his hand in it and the water started flowing among his fingers. All the people performed ablution (with that water). Qatada asked Anas, "How many people were you?" Anas رضی اللہ عنہ replied, "Three hundred or nearly three hundred."

Urdu

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے سعید بن ابی عروبہ نے ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن حاضر کیا گیا ( پانی کا ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ( مدینہ کے نزدیک ) مقام زوراء میں تشریف رکھتے تھے ، آپ نے اس برتن میں ہاتھ رکھا تو اس میں سے پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹنے لگا اور اسی پانی سے پوری جماعت نے وضو کیا ۔ قتادہ نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تین سو رہے ہوں گے یا تین سو کے قریب رہے ہوں گے ۔