Virtues and Merits of the Prophet (PBUH) and his Companions
كتاب المناقب
Chapter 62
Narrated Jubair bin Mut`im رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "I have five names: I am Muhammad and Ahmad; I am Al-Mahi through whom Allah will eliminate infidelity; I am Al-Hashir who will be the first to be resurrected, the people being resurrected there after; and I am also Al-`Aqib (i.e. There will be no prophet after me).
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے معن نے کہا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے محمد بن جیبر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد ( جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میرے پانچ نام ہیں ۔ میں محمد ، احمد اور ماحی ہوں ( یعنی مٹانے والا ہوں ) کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں کہ تمام انسانوں کا ( قیامت کے دن ) میرے بعد حشر ہو گا اور میں ” عاقب “ ہوں یعنی خاتم النبین ہوں ۔ میرے بعد کوئی نیا پیغمبر دنیا میں نہیں آئے گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Doesn't it astonish you how Allah protects me from the Quraish's abusing and cursing? They abuse Mudhammam and curse Mudhammam while I am Muhammad (and not Mudhammam).
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے ابوالزناد نے ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تمہیں تعجب نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے قریش کی گالیوں اور لعنت ملامت کو کس طرح دور کرتا ہے ۔ مجھے وہ مذمم کہہ کر برا کہتے ، اس پر لعنت کرتے ہیں ۔ حالانکہ میں تو محمد ہوں ۔ ( صلی اللہ علیہ وسلم )
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "My similitude in comparison with the other prophets is that of a man who has built a house completely and excellently except for a place of one brick. When the people enter the house, they admire its beauty and say: 'But for the place of this brick (how splendid the house will be)!"
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید بن میناء نے بیان کیا اور ان سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میری اور دوسرے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسی کسی شخص نے کوئی گھر بنایا ، اسے خوب آراستہ پیراستہ کر کے مکمل کر دیا ۔ صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی ۔ لوگ اس گھر میں داخل ہوتے اور تعجب کرتے اور کہتے کاش یہ ایک اینٹ کی جگہ خالی نہ رہتی تو کیسا اچھا مکمل گھر ہوتا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "My similitude in comparison with the other prophets before me, is that of a man who has built a house nicely and beautifully, except for a place of one brick in a corner. The people go about it and wonder at its beauty, but say: 'Would that this brick be put in its place!' So I am that brick, and I am the last of the Prophets."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن دینار نے ، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے کے تمام انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک گھر بنایا اور اس میں ہر طرح کی زینت پیدا کی لیکن ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹ گئی ۔ اب تمام لوگ آتے ہیں اور مکان کو چاروں طرف سے گھوم کر دیکھتے ہیں اور تعجب میں پڑ جاتے ہیں لیکن یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہاں پر ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی ؟ تو میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) died when he was sixty three years old. Ibn-e-Shihab said: Saeed bin Al-Mosayyab has told me the same.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ترسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی اور ابن شہاب نے کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے اسی طرح بیان کیا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
While the Prophet (ﷺ) was in the market, a man called (somebody), "O Abu-l-Qasim!' The Prophet (ﷺ) turned to him and said "Name yourselves after me but do not call yourselves by my Kuniya."
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے حمید نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تھے کہ ایک صاحب کی آواز آئی ۔ یا اباالقاسم ! آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے ( معلوم ہوا کہ انہوں نے کسی اور کو پکارا ہے ) اس پر آپ نے فرمایا : میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت مت رکھو ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Name yourselves after me, but do not call yourselves by my Kuniya."
ہم سے محمد بن کثیرنے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں منصور نے ، انہیں سالم بن ابی الجعد نے اور انہیںحضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میرے نام پر نام رکھا کرو لیکن میری کنیت نہ رکھا کرو ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Abu-l-Qasim صلی اللہ علیہ وسلم said, "Name yourselves after me, but do not call yourselves by my Kuniya."
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے ابن سیرین نے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ نے بیان کیا کہ
ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھاکرو ۔
Narrated Al-Ju'aid bin `Abdur Rahman:
I saw As-Sa'ib bin Yazid رضی اللہ عنہ when he was ninety-four years old, quite strong and of straight figure. He said, "I know that I enjoyed my hearing and seeing powers only because of the invocation of Allah's Apostle . My aunt took me to him and said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! My nephew is sick; will you invoke Allah for him?' So he invoked (Allah) for me."
مجھ سے اسحٰق بن راہویہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو فضل بن موسیٰ نے خبر دی ، انہیں جعد بن عبدالرحمٰن نے کہ
میں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کو چورانوے سال کی عمر میں دیکھا کہ خاصے قوی و توانا تھے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ میرے کانوں اور آنکھوں سے جو میں نفع حاصل کر رہا ہوں وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت ہے ۔ میری خالہ مجھے ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں لے گئیں ۔ اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ میرا بھانجا بیمار ہے ، آپ اس کے لیے دعا فرما دیں ۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ نے میرے لیے دعا فرمائی ۔
Narrated As- Scab bin Yazid رضی اللہ عنہ :
My aunt took me to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My nephew is sick"' The Prophet (ﷺ) passed his hands over my head and blessed me. Then he performed ablution and I drank the remaining water, and standing behind him. A saw the seal in between his shoulders." Ibn-e-Obaidullah says: "الْحُجْلَةُ" means the whiteness that is between the two eyes of horse. Ibrahim bin Hamza says: The exact word is زِرِّ الْحَجَلَةِ .
ہم سے محمدبن عبیداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے جعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور انہوں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئیں اور انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرا بھانجا بیمار ہو گیا ہے ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر دست مبارک پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی ۔ اس کے بعد آپ نے وضو کیا تو میں نے آپ کے وضو کا پانی پیا ، پھر آپ کی پیٹھ کی طرف جاکے کھڑا ہو گیا اور میں نے مہر نبوت کو آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان دیکھا ۔ محمد بن عبیداللہ نے کہا کہحجلہ ، حجل الفرس سے مشتق ہے جو گھوڑے کی اس سفیدی کو کہتے ہیں جو اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں ہوتی ہے ۔ ابراہیم بن حمزہ نے کہا : مثل رزالحجلۃ یعنی رائے مہملہپہلے پھر زائے معجمہ ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ صحیح یہ ہے کہ رائے مہملہ پہلے ہے ۔
Narrated `Uqba bin Al-Harith:
(Once) Abu Bakr رضی اللہ عنہ offered the `Asr prayer and then went out walking and saw Al-Hasan playing with the boys. He lifted him on to his shoulders and said, " Let my parents be sacrificed for your sake! (You) resemble the Prophet (ﷺ) and not `Ali," while `Ali was smiling.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، ان سے عمر بن سعید بن ابی حسین نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عقبہ بن حارث نے کہ
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر مسجد سے باہر نکلے تو دیکھا کہ حضرت حسن بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا اور فرمایا : میرے باپ تم پر قربان ہوں تم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شباہت ہے ۔ علی کی نہیں ۔ یہ سن کر حضرت علی ہنس رہے تھے ( خوش ہو رہے تھے ) ۔
Narrated Abu Juhaifa رضی اللہ عنہ :
I saw the Prophet, and Al-Hasan رضی اللہ عنہ resembled him.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا ہم سے زبیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا اور ان سے ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا تھا ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ میں آپ کی پوری شباہت موجود تھی ۔
Narrated Abii Juhaifa رضی اللہ عنہ :
I heard saying, "I saw the Prophet, and Al-Hasan bin `Ali رضی اللہ عنہ resembled him." I said to Abu- Juhaifa رضی اللہ عنہ , "Describe him for me." He said, "He was white and his beard was black with some white hair. He promised to give us 13 young she-camels, but he expired before we could get them."
مجھ سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن فضیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ وہ بیان کرتے تھے کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ، حسن بن علی رضی اللہ عنہ میں آپ کی شباہت پوری طرح موجود تھی ۔ اسماعیل بن ابی خالد نے کہا ، میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بیان کریں ۔ انہوں نے کہا آپ سفید رنگ کے تھے ، کچھ بال سفید ہو گئے تھے اور آپ نے ہمیں تیرہ اونٹنیوں کے دیئے جانے کا حکم کیا تھا ۔ لیکن ابھی ہم نے ان اونٹنیوں کو اپنے قبضہ میں بھی نہیں لیا تھا کہ آپ کی وفات ہو گئی ۔
Narrated Wahb Abu Juhaifa As-Sawwai رضی اللہ عنہ :
I saw the Prophet (ﷺ) and saw some white hair below his lower lip above the chin.
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ، ان سے ابواسحٰق نے ، ان سے وہب نے ، ان سے ابوجحیفہ سوائی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ۔ آپ کے نچلے ہونٹ مبارک کے نیچے ٹھوڑی کے کچھ بال سفید تھے ۔
Narrated Hariz bin `Uthman:
That he asked `Abdullah bin Busr رضی اللہ عنہ (i.e. the companion of the Prophet), "Did you see the Prophet (ﷺ) when he was old?" He said, "He had a few white hairs between the lower lip and the chin."
ہم سے عصام بن خالد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حریز بن عثمان نے بیان کیا
اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ آپ کی ٹھوڑی کے چند بال سفید ہو گئے تھے ۔
Narrated Rabi`a bin Abi `Abdur-Rahman:
I heard Anas bin Malik رضی اللہ عنہ describing the Prophet (ﷺ) saying, "He was of medium height amongst the people, neither tall nor short; he had a rosy color, neither absolutely white nor deep brown; his hair was neither completely curly nor quite lank. Divine Inspiration was revealed to him when he was forty years old. He stayed ten years in Mecca receiving the Divine Inspiration, and stayed in Medina for ten more years. When he expired, he had scarcely twenty white hairs in his head and beard." Rabi`a said, "I saw some of his hairs and it was red. When I asked about that, I was told that it turned red because of scent. "
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا ، ان سے خالد نے ، ان سے سعید بن ابی ہلال نے ، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف مبارکہ بیان کرتے ہوئے بتلایا کہ آپ درمیانہ قد کے تھے ۔ نہ بہت لمبے اور نہ چھوٹے قد والے ۔ رنگ کھلتا ہوا تھا ( سرخ و سفید ) نہ خالی سفید تھے اور نہ بالکل گندم گوں ۔ آپ کے بال نہ بالکل مڑے ہوئے سخت قسم کے تھے اور نہ سیدھے لٹکے ہوئے ہی تھے ۔ نزول وحی کے وقت آپ کی عمر چالیس سال تھی ۔ مکہ میں آپ نے دس سال تک قیام فرمایا اور اس پورے عرصہ میں آپ پر وحی نازل ہوتی رہی اور مدینہ میں بھی آپ کا قیام دس سال تک رہا ۔ آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں ہوئے تھے ۔ ربیعہ ( راوی حدیث ) نے بیان کیا کہ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال دیکھا تو وہ لال تھا میں نے اس کے متعلق پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ خوشبو لگاتے لگاتے لال ہو گیا ہے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) was neither very tall nor short, neither absolutely white nor deep brown. His hair was neither curly nor lank. Allah sent him (as an Apostle) when he was forty years old. Afterwards he resided in Mecca for ten years and in Medina for ten more years. When Allah took him unto Him, there was scarcely twenty white hairs in his head and beard.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو مالک بن انس نے خبر دی ، انہیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بہت لمبے تھے اور نہ چھوٹے قد کے ، نہ بالکل سفید تھے اور نہ گندمی رنگ کے ۔ نہ آپ کے بال بہت زیادہ گھونگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت دی اور آپ نے مکہ میں دس سال تک قیام کیا اور مدینہ میں دس سال تک قیام کیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی تو آپ کے سر اور داڑھی کے بیس بال بھی سفید نہیں تھے ۔
Narrated Al-Bara رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) was the handsomest of all the people, and had the best appearance. He was neither very tall nor short.
ہم سے ابوعبداللہ احمد بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے ابواسحٰق نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا ، آپ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن و جمال میں بھی سب سے بڑھ کر تھے اور جسمانی ساخت میں بھی سب سے بہتر تھے ۔ آپ کا قد نہ بہت لمبا تھا اور نہ چھوٹا ( بلکہ درمیانہ قد تھا ) ۔
Narrated Qatada:
I asked Anas رضی اللہ عنہ , "Did the Prophet (ﷺ) use to dye (his) hair?" He said, "No, for there were only a few white hairs on his temples."
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے کہ
میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خضاب بھی استعمال فرمایا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ آپ نے کبھی خضاب نہیں لگایا ۔ صرف آپ کی دو نوں کنپٹیوں پر ( سر میں ) چند بال سفید تھے ۔
Narrated Al-Bara رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) was of moderate height having broad shoulders (long) hair reaching his ear-lobes. Once I saw him in a red cloak and I had never seen a more handsome than him." Yousuf bin Abu Ishaq reports from his father: His hair reached his shoulders.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابواسحٰق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد کے تھے ۔ آپ کا سینہ بہت کشادہ اور کھلا ہوا تھا ۔ آپ کے ( سر کے ) بال کانوں کی لو تک لٹکتے رہتے تھے ۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ ایک سرخ جوڑے میں دیکھا ۔ میں نے آپ سے بڑھ کر حسین کسی کو نہیں دیکھا تھا ۔ یوسف بن ابی اسحٰق نے اپنے والد کے واسطہ سے ” الی منکبیہ “ بیان کیا ( بجائے لفظ ” شحمۃ اذنیہ ) یعنی آپ کے بال مونڈھوں تک پہنچتے تھے ۔