Virtues and Merits of the Prophet (PBUH) and his Companions
كتاب المناقب
Chapter 62
Narrated `Adi bin Hatim رضی اللہ عنہ :
While I was in the city of the Prophet, a man came and complained to him (the Prophet, ) of destitution and poverty. Then another man came and complained of robbery (by highwaymen). The Prophet said, "Adi! Have you been to Al-Hira?" I said, "I haven't been to it, but I was informed about it." He said, "If you should live for a long time, you will certainly see that a lady in a Howdah traveling from Al-Hira will (safely reach Mecca and) perform the Tawaf of the Ka`ba, fearing none but Allah." I said to myself, "What will happen to the robbers of the tribe of Tai who have spread evil through out the country?" The Prophet (ﷺ) further said. "If you should live long, the treasures of Khosrau will be opened (and taken as spoils)." I asked, "You mean Khosrau, son of Hurmuz?" He said, "Khosrau, son of Hurmuz; and if you should live long, you will see that one will carry a handful of gold or silver and go out looking for a person to accept it from him, but will find none to accept it from him. And any of you, when meeting Allah, will meet Him without needing an interpreter between him and Allah to interpret for him, and Allah will say to him: 'Didn't I send a messenger to teach you?' He will say: 'Yes.' Allah will say: 'Didn't I give you wealth and do you favors?' He will say: 'Yes.' Then he will look to his right and see nothing but Hell, and look to his left and see nothing but Hell." `Adi رضی اللہ عنہ further said: I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Save yourself from the (Hell) Fire even with half a date (to be given in charity) and if you do not find a half date, then with a good pleasant word." `Adi رضی اللہ عنہ added: (later on) I saw a lady in a Howdah traveling from Al-Hira till she performed the Tawaf of the Ka`ba, fearing none but Allah. And I was one of those who opened (conquered) the treasures of Khosrau, son of Hurmuz. If you should live long, you will see what the Prophet (ﷺ) Abu-l-Qasim had said: 'A person will come out with a handful of gold etc. Abdullah bin Muhammad, Abu Asim, Saddaam bin Bashir, Abu Mujahid report that Mohil bin Khaleefah narrated us Hadith that he heard from Hadrat Adi رضی اللہ عنہ that he was in the company of the prophet (ﷺ).
مجھ سے محمد بن حکم نے بیان کیا ، کہا ہم کو نضر نے خبر دی ، کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی ، کہا ہم کو سعد طائی نے خبر دی ، انہیں محل بن خلیفہ نے خبر دی ، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک صاحب آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فقر و فاقہ کی شکایت کی ، پھر دوسرے صاحب آئے اور راستوں کی بدامنی کی شکایت کی ، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، عدی ! تم نے مقام حیرہ دیکھا ہے ؟ ( جو کوفہ کے پاس ایک بستی ہے ) میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا تو نہیں ، البتہ اس کا نام میں نے سنا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تمہاری زندگی کچھ اور لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ہودج میں ایک عورت اکیلی حیرہ سے سفر کرے گی اور ( مکہ پہنچ کر ) کعبہ کا طواف کرے گی اور اللہ کے سوا اسے کسی کا بھی خوف نہ ہو گا ۔ میں نے ( حیرت سے ) اپنے دل میں کہا ، پھر قبیلہ طے کے ان ڈاکوؤں کا کیا ہو گا جنہوں نے شہروں کو تباہ کر دیا ہے اور فساد کی آگ سلگار کھی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم کچھ اور دنوں تک زندہ رہے تو کسریٰ کے خزانے ( تم پر ) کھولے جائیں گے ۔ میں ( حیرت میں ) بول پڑا کسریٰ بن ہرمز ( ایران کا بادشاہ ) کسریٰ آپ نے فرمایا : ہاں کسریٰ بن ہرمز ! اور اگر تم کچھ دنوں تک اور زندہ رہے تو یہ بھی دیکھو گے کہ ایک شخص اپنے ہاتھ میں سونا چاندی بھر کر نکلے گا ، اسے کسی ایسے آدمی کی تلاش ہو گی ( جو اس کی زکوٰۃ ) قبول کر لے لیکن اسے کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے قبول کر لے ، اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا جو دن مقرر ہے اس وقت تم میں سے ہر کوئی اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ درمیان میں کوئی ترجمان نہ ہو گا ( بلکہ پروردگار اس سے بلاواسطہ باتیں کرے گا ) اللہ تعالیٰ اس سے دریافت کرے گا ۔ کیا میں نے تمہارے پاس رسول نہیں بھیجے تھے جنہوں نے تم تک میرا پیغام پہنچا دیا ہو ؟ وہ عرض کرے گا بیشک تو نے بھیجا تھا ۔ اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا کیا میں نے مال اور اولاد تمہیں نہیں دی تھی ؟ کیا میں نے ان کے ذریعہ تمہیں فضیلت نہیں دی تھی ؟ وہ جواب دے گا بیشک تو نے دیا تھا ۔ پھر وہ اپنی داہنی طرف دیکھے گا تو سوا جہنم کے اسے اور کچھ نظر نہ آئے گا پھر وہ بائیں طرف دیکھے گا تو ادھر بھی جہنم کے سوا اور کچھ نظر نہیں آئے گا ، عدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے کہ جہنم سے ڈرو ، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہو ۔ اگر کسی کو کھجور کا ایک ٹکڑا بھی میسر نہ آ سکے تو ( کسی سے ) ایک اچھا کلمہ ہی کہہ دے ۔ حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ہودج میں بیٹھی ہوئی ایک اکیلی عورت کو تو خود دیکھ لیا کہ حیرہ سے سفر کے لیے نکلی اور ( مکہ پہنچ کر ) اس نے کعبہ کا طواف کیا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی سے ( ڈاکو وغیرہ ) کا ( راستے میں ) خوف نہیں تھا اور مجاہدین کی اس جماعت میں تو میں خود شریک تھا جس نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کئے ۔ اور اگر تم لوگ کچھ دنوں اور زندہ رہے تو وہ بھی دیکھ لو گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص اپنے ہاتھ میں ( زکوٰۃ کا سونا چاندی ) بھر کر نکلے گا ( لیکن اسے لینے والا کوئی نہیں ملے گا ) مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، کہا ہم کو سعد ان بن بشر نے خبر دی ، ان سے ابو مجاہد نے بیان کیا ، ان سے محل بن خلیفہ نے بیان کیا ، اور انہوں نے عدی رضی اللہ عنہ سنے سنا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا ، پھر یہی حدیث نقل کی جو اوپر مذکور ہوئی ۔
Narrated `Uqba bin `Amr رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) once came out and offered the funeral prayer for the martyrs of Uhud, and proceeded to the pulpit and said, "I shall be your predecessor and a witness on you, and I am really looking at my sacred Fount now, and no doubt, I have been given the keys of the treasures of the world. By Allah, I am not afraid that you will worship others along with Allah, but I am afraid that you will envy and fight one another for worldly fortunes."
مجھ سے سعید بن شرحبیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے یزید بن حبیب نے ، ان سے ابوالخیر نے ، ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مدینہ سے باہر نکلے اور شہداء احد پر نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھتے ہیں اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں ( حوض کوثر پر ) تم سے پہلے پہنچوں گا اور قیامت کے دن تمہارے لیے میر سامان بنوں گا ۔ میں تم پر گواہی دوں گا اور اللہ کی قسم میں اپنے حوض کوثر کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں ، مجھے روئے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں اور قسم اللہ کی مجھے تمہارے بارے میں یہ خوف نہیں کہ تم شرک کرنے لگو گے ۔ میں تو اس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا داری میں پڑ کر ایک دوسرے سے رشک و حسد نہ کرنے لگو ۔
Narrated Usama رضی اللہ عنہ :
Once the Prophet (ﷺ) stood on one of the high buildings (of Medina) and said, "Do you see what I see? I see affliction pouring among your hours like raindrops."
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مدینہ کے ایک بلند ٹیلہ پر چڑھے اور فرمایا ، جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں کیا تمہیں بھی نظر آ رہا ہے ؟ میں فتنوں کو دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں میں وہ اس طرح گر رہے ہیں جیسے بارش کی بوندیں گرا کرتیں ہیں ۔
Narrated Zainab bint Jahsh رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) came to her in a state of fear saying, "None has the right to be worshiped but Allah! Woe to the Arabs because of evil that has come near. Today a hole has been made in the wall of Gog and Magog as large as this." pointing with two of his fingers making a circle. Zainab said, "I said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we be destroyed though amongst us there are pious people? ' He said, 'Yes, if evil increases."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، کہا کہ مجھ سے عروہ بن زبیرنے بیان کیا ، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے بیان کیا ، ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم کو زینب بنت ابی جحش رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ
ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے تو آپ بہت پریشان نظر آ رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ، عرب کے لیے تباہی اس شر سے آئے گی جس کے واقع ہونے کا زمانہ قریب آ گیا ہے ۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا شگاف پیدا ہو گیا ہے اور آپ نے انگلیوں سے حلقہ بنا کر اس کی وضاحت کی ۔ ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم میں نیک لوگ ہوں گے پھر بھی ہم ہلاک کر دیئے جائیں گے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جب خباثتیں بڑھ جائیں گی ( تو ایسا ہو گا ) ۔
Um Salama رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) woke up and said, "Glorified be Allah: What great (how many) treasures have been sent down, and what great (how many ) afflictions have been sent down!"
اور زہری سے روایت ہے ، ان سے ہندبنت الحارث نے بیان کیا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا : سبحان اللہ ! کیسے کیسے خزانے اترے ہیں ( جو مسلمانوں کو ملیں گے ) اور کیا کیا فتنے و فساد اترے ہیں ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
"I notice that you like sheep and you keep them; so take care of them and their food, for I have heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'A time will come upon the people when the best of a Muslim's property will be sheep, which he will take to the tops of mountains and to the places of rain-falls to run away with his religion in order to save it from afflictions.' "
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ بن ماجشون نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے ، ان سے ان کے والد نے کہا ، ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں بکریوں سے بہت محبت ہے اور تم انہیں پالتے ہو تو تم ان کی نگہداشت اچھی کیا کرو اور ان کی ناک کی صفائی کا بھی خیال رکھا کرو ۔ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ مسلمان کا سب سے عمدہ مال اس کی بکریاں ہوں گی جنہیں لے کر وہ پہاڑ کی چوٹیوں پر چڑھ جائے گا یا ( آپ نے سعف الجبال کے لفظ فرمائے ) وہ بارش گرنے کی جگہ میں چلا جائے گا ۔ اس طرح وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے بھاگتا پھرے گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "There will be afflictions (and at the time) the sitting person will be better than the standing one, and the standing one will be better than the walking, and the walking will be better than the running. And whoever will look towards those afflictions, they will overtake him, and whoever will find a refuge or a shelter, should take refuge in it." The same narration is reported by Abu Bakr رضی اللہ عنہ , with the addition, "(The Prophet (ﷺ) said), 'Among the prayers there is a prayer the missing of which will be to one like losing one's family and property."
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے صالح بن کیسان نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، فتنوں کا دور جب آئے گا تو اس میں بیٹھنے والا کھڑا رہنے والے سے بہتر ہو گا ، کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑ نے والے سے بہتر ہو گا جو اس میں جھانکے گا فتنہ بھی اسے اچک لے گا اور اس وقت جسے جہاں بھی پناہ مل جائے بس وہیں پناہ پکڑ لے تاکہ اپنے دین کو فتنوں سے بچا سکے ۔اور ابن شہاب سے روایت ہے ، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن مطیع بن اسود نے اور ان سے نوفل بن معاویہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اسی حدیث کی طرح البتہ ابوبکر ( راوی حدیث ) نے اس روایت میں اتنا اور زیادہ بیان کیا کہ نمازوں میں ایک نماز ایسی ہے کہ جس سے وہ چھوٹ جائے گویا اس کا گھربار سب برباد ہو گئے ۔ ( اور وہ عصر کی نماز ہے ) ۔
Narrated Ibn Mas`ud رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "Soon others will be preferred to you, and there will be things which you will not like." The companions of the Prophet (ﷺ) asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What do you order us to do (in this case)? " He said, "(I order you) to give the rights that are on you and to ask your rights from Allah."
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں زید بن وہب نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں تم پر دوسروں کو مقدم کیا جائے گا اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی جن کو تم برا سمجھو گے ، لوگوں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! اس وقت ہمیں آپ کیا حکم فرماتے ہیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو حقوق تم پر دوسروں کے واجب ہوں انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق اللہ ہی سے مانگنا ۔ ( یعنی صبر کرنا اور اپنا حق لینے کے لیے خلیفہ اور حاکم وقت سے بغاوت نہ کرنا ) ۔
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "This branch from Quraish will ruin the people." The companions of the Prophet (ﷺ) asked, "What do you order us to do (then)?" He said, "I would suggest that the people keep away from them.'' Muhmood said: Abu Dawood narrated us the Hadith that Shobah informed us with reference to Abu Tayyah, (he says that) hehas heard the same from Abu Zurah.
مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابومعمر اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابوالتیاح نے ، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اس قبیلہ قریش کے بعض آدمی لوگوں کو ہلاک و برباد کر دیں گے ۔ صحابہ نے عرض کیا : ایسے وقت کے لیے آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کاش لوگ ان سے بس الگ ہی رہتے ۔ محمود بن غیلان نے بیان کیا کہ ہم سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں ابوالتیاح نے ، انہوں نے ابوزرعہ سے سنا ۔
Narrated Sa`id Al-Umawi:
I was with Marwan and Abu Huraira رضی اللہ عنہ and heard Abu Huraira رضی اللہ عنہ saying, "I heard the trustworthy, truly inspired one (i.e. the Prophet (ﷺ) ) saying, 'The destruction of my followers will be brought about by the hands of some youngsters from Quraish." Marwan asked, "Youngsters?" Abu Huraira رضی اللہ عنہ said, "If you wish, I would name them: They are the children of so-and-so and the children of so-and-so."
مجھ سے احمد محمد مکی نے بیان کیا ، کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید اموی نے بیان کیا ، ان سے ان کے دادا نے بیان کیا کہ
میں مروان بن حکم اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، اس وقت میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ میں نے سچوں کے سچے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ فرما رہے تھے کہ میری امت کی بربادی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں پر ہو گی ۔ مروان نے پوچھا : نوجوان لڑکوں کے ہاتھ پر ؟ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں ان کے نام بھی لے دوں کہ وہ بنی فلاں اور بنی فلاں ہوں گے ۔
Narrated Hudhaifa bin Al-Yaman رضی اللہ عنہ :
The people used to ask Allah's Messenger (ﷺ) about good, but I used to ask him about evil for fear that it might overtake me. Once I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We were in ignorance and in evil and Allah has bestowed upon us the present good; will there by any evil after this good?" He said, "Yes." I asked, "Will there be good after that evil?" He said, "Yes, but it would be tained with Dakhan (i.e. Little evil)." I asked, "What will its Dakhan be?" He said, "There will be some people who will lead (people) according to principles other than my tradition. You will see their actions and disapprove of them." I said, "Will there by any evil after that good?" He said, "Yes, there will be some people who will invite others to the doors of Hell, and whoever accepts their invitation to it will be thrown in it (by them)." I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Describe those people to us." He said, "They will belong to us and speak our language" I asked, "What do you order me to do if such a thing should take place in my life?" He said, "Adhere to the group of Muslims and their Chief." I asked, "If there is neither a group (of Muslims) nor a chief (what shall I do)?" He said, "Keep away from all those different sects, even if you had to bite (i.e. eat) the root of a tree, till you meet Allah while you are still in that state."
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابن جابر نے ، کہا کہ مجھ سے بسر بن عبیداللہ حضرمی نے ، کہا کہ مجھ سے ابوادریس خولانی نے بیان کیا ، انہوں نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ
دوسرے صحابہ کرام تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کیا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا اس خوف سے کہ کہیں میں ان میں نہ پھنس جاؤں ۔ تو میں نے ایک مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، یا رسول اللہ ! ہم جاہلیت اور شر کے زمانے میں تھے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خیر و برکت ( اسلام کی ) عطا فرمائی ، اب کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا کوئی زمانہ آئے گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ، میں نے سوال کیا ، اور اس شر کے بعد پھر خیر کا کوئی زمانہ آئے گا ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں ، لیکن اس خیر پر کچھ دھواں ہو گا ۔ میں نے عرض کیا وہ دھواں کیا ہو گا ؟ آپ نے جواب دیا کہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو میری سنت اور طریقے کے علاوہ دوسرے طریقے اختیار کریں گے ۔ ان میں کوئی بات اچھی ہو گی کوئی بری ۔ میں نے سوال کیا : کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا کوئی زمانہ آئے گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ، جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے ، جوان کی بات قبول کرے گا اسے وہ جہنم میں جھونک دیں گے ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ان کے اوصاف بھی بیان فرما دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ ہماری ہی قوم و مذہب کے ہوں گے ۔ ہماری ہی زبان بولیں گے ۔ میں نے عرض کیا ، پھر اگر میں ان لوگوں کا زمانہ پاؤں تو میرے لیے آپ کا حکم کیا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑنا ، میں نے عرض کیا اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو ۔ آپ نے فرمایا : پھر ان تمام فرقوں سے اپنے کو الگ رکھنا ۔ اگرچہ تجھے اس کے لیے کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے ، یہاں تک کہ تیری موت آ جائے اور تو اسی حالت پر ہو ( تو یہ تیرے حق میں ان کی صحبت میں رہنے سے بہتر ہو گا ) ۔
Narrated Hudhaifa رضی اللہ عنہ :
My companions learned (something about) good (through asking the Prophet) while I learned (something about) evil.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا مجھ سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا مجھ سے قیس نے بیان کیا ، ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میرے ساتھیوں نے ( یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم نے ) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھلائی کے حالات سیکھے اور میں نے برائی کے حالات دریافت کئے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The Day of (Judgment) will not be established till there is a war between two groups whose claims (or religion) will be the same."
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا مجھے ابوسلمہ نے خبر دی اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دو جماعتیں ( مسلمانوں کی ) آپس میں جنگ نہ کر لیں اور دونوں کا دعویٰ ایک ہو گا ( کہ وہ حق پر ہیں ) ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The Hour will not be established till there is a war between two groups among whom there will be a great number of casualties, though the claims (or religion) of both of them will be one and the same. And the Hour will not be established till there appear about thirty liars, all of whom will be claiming to be the messengers of Allah. "
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں ہمام نے اور انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دو جماعتیں آپس میں جنگ نہ کر لیں ۔ دونوں میں بڑی بھاری جنگ ہو گی ۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تقریباً تیس جھوٹے دجال پیدا نہ ہو لیں ۔ ان میں ہر ایک کا یہی گمان ہو گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
While we were with Allah's Messenger (ﷺ) who was distributing (i.e. some property), there came Dhu-l- Khuwaisira, a man from the tribe of Bani Tamim and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Do Justice." The Prophet said, "Woe to you! Who could do justice if I did not? I would be a desperate loser if I did not do justice." `Umar رضی اللہ عنہ said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Allow me to chop his head off." The Prophet (ﷺ) said, "Leave him, for he has companions who pray and fast in such a way that you will consider your fasting negligible in comparison to theirs. They recite Qur'an but it does not go beyond their throats (i.e. they do not act on it) and they will desert Islam as an arrow goes through a victim's body, so that the hunter, on looking at the arrow's blade, would see nothing on it; he would look at its Risaf and see nothing: he would look at its Na,di and see nothing, and he would look at its Qudhadh ( 1 ) and see nothing (neither meat nor blood), for the arrow has been too fast even for the blood and excretions to smear. The sign by which they will be recognized is that among them there will be a black man, one of whose arms will resemble a woman's breast or a lump of meat moving loosely. Those people will appear when there will be differences amongst the people." I testify that I heard this narration from Allah's Messenger (ﷺ) and I testify that `Ali bin Abi Talib fought with such people, and I was in his company. He ordered that the man (described by the Prophet (ﷺ) ) should be looked for. The man was brought and I looked at him and noticed that he looked exactly as the Prophet (ﷺ) had described him.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے اور آپ ( جنگ حنین کا مال غنیمت ) تقسیم فرما رہے تھے اتنے میں بنی تمیم کا ایک شخص ذوالخویصرہ نامی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ ! انصاف سے کام لیجئے ۔ یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : افسوس ! اگر میں ہی انصاف نہ کروں تو دنیا میں پھر کون انصاف کرے گا ۔ اگر میں ظالم ہو جاؤں تب تو میری بھی تباہی اور بربادی ہو جائے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا حضور ! اس کے بارے میں مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن مار دوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو ۔ اس کے جوڑ کے کچھ لوگ پیدا ہوں گے کہ تم اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابل ناچیز سمجھو گے ۔ وہ قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن وہ ان کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا ۔ یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے زوردار تیر جانور سے پار ہو جاتا ہے ۔ اس تیر کے پھل کو اگر دیکھا جائے تو اس میں کوئی چیز ( خون وغیرہ ) نظر نہ آئے گی پھر اس کے پٹھے کو اگر دیکھا جائے تو چھڑ میں اس کے پھل کے داخل ہونے کی جگہ سے اوپر جو لگایا جاتا ہے تو وہاں بھی کچھ نہ ملے گا ۔ اس کے نفی ( نفی تیر میں لگائی جانے والی لکڑی کو کہتے ہیں ) کو دیکھا جائے تو وہاں بھی کچھ نشان نہیں ملے گا ۔ اسی طرح اگر اس کے پر کو دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا ۔ حالانکہ گندگی اور خون سے وہ تیر گزرا ہے ۔ ان کی علامت ایک کالا شخص ہو گا ۔ اس کا ایک بازو عورت کے پستان کی طرح ( اٹھا ہوا ) ہو گا یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہو گا اور حرکت کر رہا ہو گا ۔ یہ لوگ مسلمانوں کے بہترین گروہ سے بغاوت کریں گے ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی تھی ( یعنی خوارج سے ) اس وقت میں بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ۔ اور انہوں نے اس شخص کو تلاش کرایا ( جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گروہ کی علامت کے طور پر بتلایا تھا ) آخر وہ لایا گیا ۔ میں نے اسے دیکھا تو اس کا پورا حلیہ بالکل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کئے ہوئے اوصاف کے مطابق تھا ۔
Narrated `Ali رضی اللہ عنہ :
I relate the traditions of Allah's Messenger (ﷺ) to you for I would rather fall from the sky than attribute something to him falsely. But when I tell you a thing which is between you and me, then no doubt, war is guile. I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "In the last days of this world there will appear some young foolish people who will use (in their claim) the best speech of all people (i.e. the Qur'an) and they will abandon Islam as an arrow going through the game. Their belief will not go beyond their throats (i.e. they will have practically no belief), so wherever you meet them, kill them, for he who kills them shall get a reward on the Day of Resurrection."
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی انہیں اعمش نے ، انہیں خیثمہ نے ، ان سے سوید بن غفلہ نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا ،
جب تم سے کوئی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے میں بیان کروں تو یہ سمجھو کہ میرے لیے آسمان سے گر جانا اس سے بہتر ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی جھوٹ باندھوں البتہ جب میں اپنی طرف سے کوئی بات تم سے کہوں تو لڑائی تو تدبیر اور فریب ہی کا نام ہے ( اس میں کوئی بات بنا کر کہوں تو ممکن ہے ) دیکھو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرماتے تھے کہ آخر زمانہ میں کچھ لوگ ایسے پیداہوں گے جو چھوٹے چھوٹے دانتوں والے ، کم عقل اور بیوقوف ہوں گے ۔ باتیں وہ کہیں گے جو دنیا کی بہترین بات ہو گی ۔ لیکن اسلام سے اس طرح صاف نکل چکے ہوں گے جیسے تیر جانور کے پار نکل جاتا ہے ۔ ان کا ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو ، کیونکہ ان کے قتل سے قاتل کو قیامت کے دن ثواب ملے گا ۔
Narrated Khabbab bin Al-Arat رضی اللہ عنہ :
We complained to Allah's Messenger (ﷺ) (of the persecution inflicted on us by the infidels) while he was sitting in the shade of the Ka`ba, leaning over his Burd (i.e. covering sheet). We said to him, "Would you seek help for us? Would you pray to Allah for us?" He said, "Among the nations before you a (believing) man would be put in a ditch that was dug for him, and a saw would be put over his head and he would be cut into two pieces; yet that (torture) would not make him give up his religion. His body would be combed with iron combs that would remove his flesh from the bones and nerves, yet that would not make him abandon his religion. By Allah, this religion (i.e. Islam) will prevail till a traveler from Sana (in Yemen) to Hadrarmaut will fear none but Allah, or a wolf as regards his sheep, but you (people) are hasty.
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل نے ، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا ، ان سے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی ۔ آپ اس وقت اپنی ایک چادر پر ٹیک دیئے کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ہم نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے مدد کیوں نہیں طلب فرماتے ۔ ہمارے لیے اللہ سے دعا کیوں نہیں مانگتے ( ہم کافروں کی ایذادہی سے تنگ آ چکے ہیں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ( ایمان لانے کی سزا میں ) تم سے پہلی امتوں کے لوگوں کے لیے گڑھا کھودا جاتا اور انہیں اس میں ڈال دیا جاتا ۔ پھر ان کے سر پر آرا رکھ کر ان کے دو ٹکڑے کر دیئے جاتے پھر بھی وہ اپنے دین سے نہ پھرتے ۔ لوہے کے کنگھے ان کے گوشت میں دھنسا کر ان کی ہڈیوں اور پٹھوں پر پھیرے جاتے پھر بھی وہ اپنا ایمان نہ چھوڑتے ، ۔ اللہ کی قسم یہ امر ( اسلام ) بھی کمال کو پہنچے گا اور ایک زمانہ آئے گا کہ ایک سوار مقام صنعاء سے حضرموت تک سفر کرے گا ( لیکن راستوں کے پرامن ہونے کی وجہ سے اسے اللہ کے سوا اور کسی کا ڈر نہیں ہو گا ۔ یا صرف بھیڑئیے کا خوف ہو گا کہ کہیں اس کی بکریوں کو نہ کھا جائے لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) noticed the absence of Thabit bin Qais رضی اللہ عنہ . A man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I shall bring you his news." So he went to him and saw him sitting in his house drooping his head (sadly). He asked Thabit, "What's the matter?" Thabit replied, "An evil situation: A man used to raise his voice over the voice of the Prophet (ﷺ) and so all his good deeds have been annulled and he is from the people of Hell." The man went back and told the Prophet (ﷺ) that Thabit رضی اللہ عنہ had said so-and-so. (The sub-narrator, Musa bin Anas said, "The man went to Thabit again with glad tidings)." The Prophet (ﷺ) said to him, "Go and say to Thabit: 'You are not from the people of Fire, but from the people of Paradise."
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا ، انہیں موسیٰ بن انس نے خبر دی اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نہیں ملے تو ایک صحابی نے کہا ، یا رسول اللہ ! میں آپ کے لیے ان کی خبر لاتا ہوں ۔ چنانچہ وہ ان کے یہاں آئے تو دیکھا کہ اپنے گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہیں ، انہوں نے پوچھا کہ کیا حال ہے ؟ انہوں نے کہا کہ برا حال ہے ۔ ان کی عادت تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اونچی آواز میں بولا کرتے تھے ۔ انہوں نے کہا اسی لیے میرا عمل غارت ہو گیا اور میں دوزخیوں میں ہو گیا ہوں ۔ وہ صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اطلاع دی کہ ثابت رضی اللہ عنہ یوں کہہ رہے ہیں ۔ موسیٰ بن انس نے بیان کیا ، لیکن دوسری مرتبہ وہی صحابی ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بڑی خوشخبری لے کر واپس ہوئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ ثابت کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ اہل جہنم میں سے نہیں ہیں بلکہ وہ اہل جنت میں سے ہیں ۔
Narrated Al-Bara' bin `Azib رضی اللہ عنہ :
A man recited Surat-al-Kahf (in his prayer) and in the house there was a (riding) animal which got frightened and started jumping. The man finished his prayer with Taslim, but behold! A mist or a cloud hovered over him. He informed the Prophet (ﷺ) of that and the Prophet (ﷺ) said, "O so-and-so! Recite, for this (mist or cloud) was a sign of peace descending for the recitation of Qur'an."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ان سے ابواسحٰق نے اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ
ایک صحابی ( اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ) نے ( نماز میں ) سورۃ الکہف کی تلاوت کی ، اسی گھر میں گھوڑا بندھا ہوا تھا ۔ گھوڑے نے اچھلنا کودنا شروع کر دیا ۔ ( اسید نے ادھر خیال نہ کیا اس کو خدا کے سپرد کیا ) اس کے بعد جب انہوں نے سلام پھیرا تو دیکھا کہ بادل کے ایک ٹکڑے نے ان کے سارے گھر پر سایہ کر رکھا ہے ۔ اس واقعہ کا ذکر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ قرآن پڑھتا ہی رہ کیونکہ یہ سکینہ ہے جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی یا ( اس کے بجائے راوی نے )تنزلت للقرآن کے الفاظ کہے ۔
Narrated Al-Bara' bin `Azib رضی اللہ عنہ :
Abu Bakr رضی اللہ عنہ came to my father who was at home and purchased a saddle from him. He said to `Azib. "Tell your son to carry it with me." So I carried it with him and my father followed us so as to take the price (of the saddle). My father said, "O Abu Bakr رضی اللہ عنہ ! Tell me what happened to you on your night journey with Allah's Messenger (ﷺ) (during Migration)." He said, "Yes, we travelled the whole night and also the next day till midday. when nobody could be seen on the way ( because of the severe heat) . Then there appeared a long rock having shade beneath it, and the sunshine had not come to it yet. So we dismounted there and I levelled a place and covered it with an animal hide or dry grass for the Prophet (ﷺ) to sleep on (for a while). I then said, 'Sleep, O Allah's Messenger (ﷺ), and I will guard you.' So he slept and I went out to guard him. Suddenly I saw a shepherd coming with his sheep to that rock with the same intention we had when we came to it. I asked (him). 'To whom do you belong, O boy?' He replied, 'I belong to a man from Medina or Mecca.' I said, 'Do your sheep have milk?' He said, 'Yes.' I said, 'Will you milk for us?' He said, 'Yes.' He caught hold of a sheep and I asked him to clean its teat from dust, hairs and dirt. (The sub-narrator said that he saw Al-Bara' striking one of his hands with the other, demonstrating how the shepherd removed the dust.) The shepherd milked a little milk in a wooden container and I had a leather container which I carried for the Prophet (ﷺ) to drink and perform the ablution from. I went to the Prophet, hating to wake him up, but when I reached there, the Prophet (ﷺ) had already awakened; so I poured water over the middle part of the milk container, till the milk was cold. Then I said, 'Drink, O Allah's Messenger (ﷺ)!' He drank till I was pleased. Then he asked, 'Has the time for our departure come?' I said, 'Yes.' So we departed after midday. Suraqa bin Malik followed us and I said, 'We have been discovered, O Allah's Messenger (ﷺ)!' He said, Don't grieve for Allah is with us.' The Prophet (ﷺ) invoked evil on him (i.e. Suraqa) and so the legs of his horse sank into the earth up to its belly. (The subnarrator, Zuhair is not sure whether Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "(It sank) into solid earth.") Suraqa said, 'I see that you have invoked evil on me. Please invoke good on me, and by Allah, I will cause those who are seeking after you to return.' The Prophet (ﷺ) invoked good on him and he was saved. Then, whenever he met somebody on the way, he would say, 'I have looked for him here in vain.' So he caused whomever he met to return. Thus Suraqa fulfilled his promise."
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے احمد بن یزید بن ابراہیم ابوالحسن حرانی نے ، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے ، کہا ہم سے ابواسحٰق نے بیان کیا اورا نہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے والد کے پاس ان کے گھر آئے اور ان سے ایک پالان خریدا ۔ پھر انہوں نے میرے والد سے کہا کہ اپنے بیٹے کے ذریعہ اسے میرے ساتھ بھیج دو ، حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چنانچہ میں اس کجاوے کو اٹھا کر آپ کے ساتھ چلا اور میرے والد اس کی قیمت کے روپے پرکھوانے لگے ۔ میرے والد نے ان سے پوچھا اے ابوبکر ! مجھے وہ واقعہ سناؤ جب تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار ثور سے ہجرت کی تھی تو آپ دونوں نے وہ وقت کیسے گزارا تھا ؟ اس پر انہوں نے بیان کیا کہ جی ہاں ، رات بھر تو ہم چلتے رہے اور دوسرے دن صبح کو بھی لیکن جب دوپہر کا وقت ہوا اور راستہ بالکل سنسان پڑ گیا کہ کوئی بھی آدمی گزرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا تھا تو ہمیں ایک لمبی چٹان دکھائی دی ، اس کے سائے میں دھوپ نہیں تھی ۔ ہم وہاں اتر گئے اور میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک جگہ اپنے ہاتھ سے ٹھیک کر دی اور ایک چادر وہاں بچھا دی ، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ یہاں آرام فرمائیں میں نگرانی کروں گا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور میں چاروں طرف حالات دیکھنے کے لیے نکلا ۔ اتفاق سے مجھے ایک چرواہا ملا ۔ وہ بھی اپنی بکریوں کے ریوڑ کو اسی چٹان کے سائے میں لانا چاہتا تھا جس کے تلے میں نے وہاں پڑاو ڈالا تھا ۔ وہی اس کا بھی ارادہ تھا ، میں نے اس سے پوچھا کہ تو کس قبیلے سے ہے ؟ اس نے بتایا کہ مدینہ یا ( راوی نے کہا کہ ) مکہ کے فلاں شخص سے ، میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تیری بکریوں سے دودھ مل سکتا ہے ؟ اس نے کہا کہ ہاں ۔ میں نے پوچھا کیا ہمارے لیے تو دودھ نکال سکتا ہے ؟ اس نے کہا کہ ہاں ۔ چنانچہ وہ ایک بکری پکڑ کے لایا ۔ میں نے اس سے کہا کہ پہلے تھن کو مٹی ، بال اور دوسری گندگیوں سے صاف کر لے ۔ ابواسحٰق راوی نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مار کر تھن کو جھاڑ نے کی صورت بیان کی ۔ اس نے لکڑی کے ایک پیالے میں دودھ نکالا ۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن اپنے ساتھ رکھ لیا تھا ۔ آپ اس سے پانی پیا کرتے تھے اور وضو بھی کر لیتے تھے ۔ پھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( آپ سو رہے تھے ) میں آپ کو جگانا پسند نہیں کرتا تھا ۔ لیکن بعد میں جب میں آیا تو آپ بیدار ہو چکے تھے ۔ میں نے پہلے دودھ کے برتن پر پانی بہایا جب اس کے نیچے کا حصہ ٹھنڈا ہو گیا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! دودھ پی لیجئے ، انہوں نے بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا جس سے مجھے خوشی حاصل ہوئی ۔ پھر آپ نے فرمایا کیا ابھی کوچ کرنے کا وقت نہیں آیا ؟ میں نے عرض کیا کہ آ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا جب سورج ڈھل گیا تو ہم نے کوچ کیا ۔ بعد میں سراقہ بن مالک ہمارا پیچھا کرتا ہوا یہیں پہنچا ۔ میں نے کہا : حضور ! اب تو یہ ہمارے قریب ہی پہنچ گیا ہے ۔ آپ نے فرمایا : غم نہ کرو ۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔ آپ نے پھر اس کے لیے بددعا کی اور اس کا گھوڑا اسے لیے ہوئے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا ۔ میرا خیال ہے کہ زمین بڑی سخت تھی ۔ یہ شک ( راوی حدیث ) زہیر کو تھا ۔ سراقہ نے کہا : میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں نے میرے لیے بددعا کی ہے ۔ اگر اب آپ لوگ میرے لیے ( اس مصیبت سے نجات کی ) دعا کر دیں تو اللہ کی قسم میں آپ لوگوں کی تلاش میں آنے والے تمام لوگوں کو واپس لوٹا دوں گا ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دعا کی تو وہ نجات پا گیا ۔ پھر تو جو بھی اسے راستے میں ملتا اس سے وہ کہتا تھا کہ میں بہت تلاش کر چکا ہوں ۔ قطعی طور پر وہ ادھر نہیں ہیں ۔ اس طرح جو بھی ملتا اسے وہ واپس اپنے ساتھ لے جاتا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کیا ۔