Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The wife of Thabit bin Qais رضی اللہ عنہcame to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I do not blame Thabit for defects in his character or his religion, but I, being a Muslim, dislike to behave in un-Islamic manner (if I remain with him)." On that Allah's Messenger (ﷺ) said (to her), "Will you give back the garden which your husband has given you (as Mahr)?" She said, "Yes." Then the Prophet (ﷺ) said to Thabit, "O Thabit! Accept your garden, and divorce her once."
ہم سے ازہر بن جمیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے ان کے اخلاق اور دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں ہے ۔ البتہ میں اسلام میں کفر کو پسند نہیں کرتی ۔ ( کیونکہ ان کے ساتھ رہ کر ان کے حقوق زوجیت کو نہیں ادا کر سکتی ) اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ، کیا تم ان کا باغ ( جو انہوں نے مہر میں دیا تھا ) واپس کر سکتی ہو ؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ثابت رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا کہ باغ قبول کر لو اور انہیں طلاق دے دو ۔
Narrated sister of `Abdullah bin Ubai :
The Prophet (ﷺ) said to Thabit's wife, "Will you return his garden?" She said, "Yes," and returned it, and (then) the Prophet ordered Thabit to divorce her. Ikrimah reports from the prophet ﷺ: Divorce her.
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا ، ان سے خالد حذاء نے ، ان سے عکرمہ نے کہ عبداللہ بن ابی ( منافق ) کی بہن جمیلہ رضی اللہ عنہا ( جوابی کی بیٹی تھی ) نے یہ بیان کیا
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا تھا کہ کیا تم ان ( ثابت رضی اللہ عنہ ) کا باغ واپس کر دو گی ؟ انہوں نے عرض کیا ہاں کر دوں گی ۔ چنانچہ انہوں نے باغ واپس کر دیا اور انہوں نے ان کے شوہر کو حکم دیا کہ انہیں طلاق دے دیں ۔ اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا کہ ان سے خالد نے ، ان سے عکرمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ( اس روایت میں بیان کیا کہ ) ان کے شوہر ( ثابت رضی اللہ عنہ ) نے انہیں طلاق دے دی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The wife of Thabit bin Qais رضی اللہ عنہ came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I do not blame Thabit for any defects in his character or his religion, but I cannot endure to live with him." On that Allah's Messenger (ﷺ) said, "Will you return his garden to him?" She said, "Yes."
اور ابن ابی تمیمہ سے روایت ہے ، ان سے عکرمہ نے ، ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ، انہوں نے بیان کیا کہ
ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ثابت کے دین اور ان کے اخلاق کی وجہ سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن میں ان کے ساتھ گزارہ نہیں کر سکتی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا پھر کیا تم ان کا باغ واپس کر سکتی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The wife of Thabit bin Qais bin Shammas رضی اللہ عنہ came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I do not blame Thabit رضی اللہ عنہ for any defects in his character or his religion, but I am afraid that I (being a Muslim) may become unthankful for Allah's Blessings." On that, Allah's Messenger (ﷺ) said (to her), 'Will you return his garden to him?" She said, "Yes." So she returned his garden to him and the Prophet (ﷺ) told him to divorce her.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن مبارک مخری نے کہا ، کہا ہم سے قراد ابو نوح نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ثابت رضی اللہ عنہ کے دین اور ان کے اخلاق سے مجھے کوئی شکایت نہیں لیکن مجھے خطرہ ہے ( کہ میں ثابت رضی اللہ عنہ کی ناشکری میں نہ پھنس جاؤں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان سے دریافت فرمایا کیا تم ان کا باغ ( جو انہوں نے مہر میں دیا تھا ) واپس کر سکتی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ۔ چنانچہ انہوں نے وہ باغ واپس کر دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے سے جدا کر دیا ۔
Narrated `Ikrima:
that Jamila... Then he related the whole ,Hadith, (i.e. 199).
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، ان سے حماد بن یزید نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے ان سے عکرمہ نے
یہی قصہ ( مرسلاً ) نقل کیا اور اس میں خاتون کا نام جمیلہ آیا ہے ۔
Narrated Al-Miswar bin Makhrama رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Banu Al-Mughira have asked my leave to let `Ali رضی اللہ عنہ marry their daughter, but I give no leave to this effect."
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے کہ بنی مغیرہ نے اس کی اجازت مانگی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے وہ اپنی بیٹی کا نکاح کر لیں لیکن میں انہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا ۔
Narrated `Aisha (the wife of the Prophet) رضی اللہ عنہا :
Three traditions were established concerning situations in which Barra رضی اللہ عنہا was involved: When she was manumitted, she was given the option to keep her husband or leave him; Allah's Messenger (ﷺ) said, "The wala is for the one who manumits, Once Allah's Messenger (ﷺ) entered the house while some meat was being cooked in a pot, but only bread and some soup of the house were placed before, him. He said, "Don't I see the pot containing meat?" They said, "Yes, but that meat was given to Barira in charity (by someone), and you do not eat what it given in charity."The Prophet (ﷺ) said "That meat is alms for her, but for us it is a present."
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے ، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے ، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
بریرہ رضی اللہ عنہا سے دین کے تین مسئلے معلوم ہو گئے ۔ اول یہ کہ انہیں آزاد کیا گیا اور پھر ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا ( کہ چاہیں ان کے نکاح میں رہیں ورنہ الگ ہو جائیں ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انہیں کے بارے میں ) فرمایا کہ ” ولاء “ اسی سے قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے اور ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو ایک ہانڈی میں گوشت پکایا جا رہا تھا ، پھر کھانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے روٹی اور گھر کا سالن پیش کیا گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو دیکھا کہ ہانڈی میں گوشت بھی پک رہا ہے ؟ عرض کیا گیا کہ جی ہاں لیکن وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لئے بریرہ کی طرف سے تحفہ ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
I saw him as a slave, (namely, Barira's husband).
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ اور ہمام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
میں نے انہیں غلام دیکھا تھا ۔ آپ کی مراد بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ( مغیث ) سے تھی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
That was Mughith, the slave of Bani so-and-so, i.e., Barira's husband as if I am now looking at him following her (Barira رضی اللہ عنہا ) along the streets of Medina.
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
یہ مغیث بنی فلاں کے غلام تھے ۔ آپ کا اشارہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کی طرف تھا ۔ گویا اس وقت بھی میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ مدینہ کی گلیوں میں وہ بریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے پیچھے روتے پھر رہے ہیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Barira's husband was a black slave called Mughith, the slave of Bani so-and-so-- as if I am seeing him now, walking behind her along the streets of Medina.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
بریرہ رضی اللہ عنہ کے شوہر ایک حبشی غلام تھے ۔ ان کا مغیث نام تھا ، وہ بنی فلاں کے غلام تھے ۔ جیسے وہ منظر اب بھی میری آنکھوں میں ہے کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے پھر رہے ہیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Barira's husband was a slave called Mughith, as if I am seeing him now, going behind Barira and weeping with his tears flowing down his beard. The Prophet (ﷺ) said to `Abbas رضی اللہ عنہ , "O `Abbas ! are you not astonished at the love of Mughith for Barira رضی اللہ عنہ and the hatred of Barira رضی اللہ عنہ for Mughith?" The Prophet (ﷺ) then said to Barira رضی اللہ عنہ , "Why don't you return to him?" She said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Do you order me to do so?" He said, "No, I only intercede for him." She said, "I am not in need of him."
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی ، کہا ہم سے خالد حذاء نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
بریرہ رضی اللہ عنہ کے شوہر غلام تھے اور ان کا نام مغیث تھا ۔ گویا میں اس وقت اس کو دیکھ رہا ہوں جب وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے روتے ہوئے پھر رہے تھے اور آنسوؤں سے ان کی ڈاڑھی تر ہو رہی تھی ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا ، عباس ! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر حیرت نہیں ہوئی ؟ آخر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کاش ! تم اس کے بارے میں اپنا فیصلہ بدل دیتیں ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے اس کا حکم فرما رہے ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں صرف سفارش کر رہا ہوں ۔ انہوں نے اس پر کہا کہ مجھے مغیث کے پاس رہنے کی خواہش نہیں ہے ۔
Narrated Al-Aswad:
Aisha رضی اللہ عنہا intended to buy Barira رضی اللہ عنہ , but her masters stipulated that her wala wound be for them. Aisha رضی اللہ عنہا mentioned that to the Prophet (ﷺ) who said (to `Aisha رضی اللہ عنہا ), "Buy and manumit her, for the wala is for the one who manumits." Once some me; was brought to the Prophet (ﷺ) and was said, "This meat was given in charity to Barira رضی اللہ عنہا . " The Prophet (ﷺ) said, "It an object of charity for Barira رضی اللہ عنہا and present for us." Narrated Adam: Shu`ba relate the same Hadith and added: Barira رضی اللہ عنہا was given the option regarding her husband.
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں حکم نے ، انہیں ابراہیم نخعی سے اور وہ اسود سے کہ
عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہ کو خریدنے کا ارادہ کیا لیکن ان کے مالکوں نے کہا کہ وہ اسی شرط پر انہیں بیچ سکتے ہیں کہ بریرہ کا ترکہ ہم لیں اور ان کے ساتھ ولاء ( آزادی کے بعد ) انہیں سے قائم ہو ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ انہیں خریدکر آزاد کر دو ترکہ تو اسی کو ملے گا جو لونڈی غلام کو آزاد کرے اور ولاء بھی اسی کے ساتھ قائم ہو سکتی ہے جو آزاد کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوشت لایا گیا پھر کہا کہ یہ گوشت بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ کیا گیا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ان کا تحفہ ہے ۔
Narrated Nafi`:
Whenever Ibn `Umar رضی اللہ عنہما was asked about marrying a Christian lady or a Jewess, he would say: "Allah has made it unlawful for the believers to marry ladies who ascribe partners in worship to Allah, and I do not know of a greater thing, as regards to ascribing partners in worship, etc. to Allah, than that a lady should say that Jesus is her Lord although he is just one of Allah's slaves."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے نافع نے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اگر یہودی یا انصاری عورتوں سے نکاح کے متعلق سوال کیا جاتا تو وہ کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرک عورتوں سے نکاح مومنوں کے لیے حرام قرار دیا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا شرک ہو گا کہ ایک عورت یہ کہے کہ اس کے رب حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں حالانکہ وہ اللہ کے مقبول بندوں میں سے ایک مقبول بندے ہیں ۔
Narrated Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما :
The pagans were of two kinds as regards their relationship to the Prophet and the Believers. Some of them were those with whom the Prophet was at war and used to fight against, and they used to fight him; the others were those with whom the Prophet (ﷺ) made a treaty, and neither did the Prophet (ﷺ) fight them, nor did they fight him. If a lady from the first group of pagans emigrated towards the Muslims, her hand would not be asked in marriage unless she got the menses and then became clean. When she became clean, it would be lawful for her to get married, and if her husband emigrated too before she got married, then she would be returned to him. If any slave or female slave emigrated from them to the Muslims, then they would be considered free persons (not slaves) and they would have the same rights as given to other emigrants. The narrator then mentioned about the pagans involved with the Muslims in a treaty, the same as occurs in Mujahid's narration. If a male slave or a female slave emigrated from such pagans as had made a treaty with the Muslims, they would not be returned, but their prices would be paid (to the pagans).
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی ، انہیں ابن جریج نے کہ عطاء راسانی نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کے لیے مشرکین دو طرح کے تھے ۔ ایک تو مشرکین لڑائی کرنے والوں سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنگ کرتے تھے اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے تھے ۔ دوسرے عہد و پیمان کرنے والے مشرکین کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنگ نہیں کرتے تھے اور نہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے تھے اور جب اہل کتاب حرب کی کوئی عورت ( اسلام قبول کرنے کے بعد ) ہجرت کر کے ( مدینہ منورہ ) آتی تو انہیں اس وقت تک پیغام نکاح نہ دیا جاتا یہاں تک کہ انہیں حیض آتا اور پھر وہ اس سے پاک ہوتیں ، پھر جب وہ پاک ہو جاتیں تو ان سے نکاح جائز ہو جاتا ، پھر اگر ان کے شوہر بھی ، ان کے کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لینے سے پہلے ہجرت کر کے آ جاتے تو یہ انہیں کو ملتیں اور اگر مشرکین میں سے کوئی غلام یا لونڈی مسلمان ہو کر ہجرت کرتی تو وہ آزاد سمجھے جاتے اور ان کے وہی حقوق ہوتے جو تمام مہاجرین کے تھے ۔ پھر عطاء نے معاہد مشرکین کے سلسلے میں مجاہد کی حدیث کی طرح سے صورت حال بیان کی کہ اگر معاہد مشرکین کی کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آجاتی تو انہیں ان کے مالک مشرکین کو واپس نہیں کیا جاتا تھا ۔ البتہ جو ان کی قیمت ہوتی وہ واپس کر دی جاتی تھی ۔
Narrated Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما :
Qariba, The daughter of Abi Umaiyya, was the wife of 'Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ . 'Umar divorced her and then Mu'awiyya bin Abi Sufyan رضی اللہ عنہ married her. Similarly, Um Al-Hakam, the daughter of Abi Sufyan was the wife of 'Iyad bin Ghanm Al-Fihri. He divorced her and then 'Abdullah bin 'Uthman Al-Thaqafi married her.
اور عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ
قریبہ بنت ابی امیہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ( مشرکین سے نکاح کی مخالفت کی آیت کے بعد ) انہیں طلاق دے دی تو معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کر لیا اور ام الحکم بنت ابی سفیان عیاض بن غنم فہری کے نکاح میں تھیں ، اس وقت اس نے انہیں طلاق دے دی ( اور وہ مدینہ ہجرت کر کے آ گئیں ) اورعبداللہ بن عثمان ثقفی نے ان سے نکاح کیا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا (the wife of the Prophet) :
When believing women came to the Prophet (ﷺ) as emigrants, he used to test them in accordance with the order of Allah. 'O you who believe! When believing women come to you as emigrants, examine them . . .' (60.10) So if anyone of those believing women accepted the above mentioned conditions, she accepted the conditions of faith. When they agreed on those conditions and confessed that with their tongues, Allah's Messenger (ﷺ) would say to them, "Go, I have accepted your oath of allegiance (for Islam). By Allah, and hand of Allah's Messenger (ﷺ) never touched the hand of any woman, but he only used to take their pledge of allegiance orally. By Allah, Allah's Messenger (ﷺ) did not take the pledge of allegiance of the women except in accordance with what Allah had ordered him. When he accepted their pledge of allegiance he would say to them, "I have accepted your oath of allegiance."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے اور ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ ابن وہب نے بیان کیا ، ان سے یونس نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
مومن عورتیں جب ہجرت کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی تھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آزماتے تھے بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے کہ ” اے وہ لوگو ! جو ایمان لے آئے ہو ، جب مومن عورتیں تمہارے پاس ہجرت کر کے آئیں تو انہیں آزماؤ آخر آیت تک ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ان ( ہجرت کرنے والی ) مومن عورتوں میں سے جو اس شرط کا اقرار کر لیتی ( جس کا ذکر اسی سورۃ الممتحنہ میں ہے کہ ” اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گی ) تو وہ آزمائش میں پوری سمجھی جا تی تھی ۔ چنانچہ جب وہ اس کا اپنی زبان سے اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے کہ اب جاؤ میں نے تم سے عہد لے لیا ہے ۔ ہرگز نہیں ! واللہ ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے ( بیعت لیتے وقت ) کسی عورت کا ہاتھ کبھی نہیں چھوا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے صرف زبان سے ( بیعت لیتے تھے ) واللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے صرف انہیں چیزوں کا عہد لیا جن کااللہ نے آپ کو حکم دیا تھا ۔ بیعت لینے کے بعد آپ ان سے فرماتے کہ میں نے تم سے عہد لے لیا ہے ۔ یہ آپ صرف زبان سے کہتے کہ میں نے تم سے بیعت لے لی ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) took an oath that he would abstain from his wives, and at that time his leg had been sprained (dislocated). So he stayed in the Mashruba (an attic room) of his for 29 days. Then he came down, and they (the people) said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You took an oath to abstain from your wives for one month." He said, "The month is of twenty nine days."
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، ان سے ان کے بھائی عبدالحمید نے ، ان سے سلیمان بن بلال نے ، ان سے حمید طویل نے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء کیا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی ۔ اس لیے آپ نے اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام فرمایا ، پھر آپ وہاں سے اترے ۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔
Narrated Nafi`:
Ibn `Umar رضی اللہ عنہما used to say about the Ila (which Allah defined (in the Holy Book), "If the period of Ila expires, then the husband has either to retain his wife in a handsome manner or to divorce her as Allah has ordered."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے نافع نے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما اس ایلاء کے بارے میں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ، فرماتے تھے کہ مدت پوری ہونے کے بعد کسی کے لیے جائز نہیں ، سوا اس کے کہ قاعدہ کے مطابق ( اپنی بیوی کو ) اپنے پاس ہی روک لے یا پھر طلاق دے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
"When the period of four months has expired, the husband should be put in prison so that he should divorce his wife, but the divorce does not occur unless the husband himself declares it. This has been mentioned by `Uthman, `Ali, Abu Ad-Darda, `Aisha and twelve other companions of the Prophet (ﷺ) ."
مجھ سے اسماعیل نے بیان کہا کہ ان سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
جب چار مہینے گذر جائیں تو اسے قاضی کے سامنے پیش کیا جائے گا ، یہاں تک کہ وہ طلاق دیدے ، اور طلاق اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک طلاق دی نہ جائے ، اور حضرت عثمان ، علی ، ابودرداء اور عائشہ اور بارہ دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم سے بھی ایسا ہی منقول ہے ۔
Narrated Yazid (the Maula of Munba'ith):
The Prophet (ﷺ) was asked regarding the case of a lost sheep. He said, "You should take it, because it is for you, or for your brother, or for the wolf." Then he was asked about a lost camel. He got angry and his face became red and he said (to the questioner), "You have nothing to do with it; it has its feet and its water container with it; it can go on drinking water and eating trees till its owner meets it." And then the Prophet (ﷺ) was asked about a Luqata (money found by somebody). He said, "Remember and recognize its tying material and its container, and make public announcement about it for one year. If somebody comes and identifies it (then give it to him), otherwise add it to your property." Sufyan says that he met Rabiah says: I have remembered nothing saves this. Then, I said: Has Yazeed, the slave freed by Munbaith, reported this Hadith about a lost thing from Hadrat Zaid bin Khalid? He replied: Yes! Yahya, Rabiah, Yazeed, the slave freed by Munbaith, reported it from Hadrat Zaid bin Khalid . Sufyan narrates: I met Rabiah and inquired of him about it.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے کہا ، ان سے سفیان بن عیینہ نے ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے منبعث کے مولیٰ یزید نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھوئی ہوئی بکری کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو ، کیونکہ یا وہ تمہاری ہو گی ( اگر ایک سال تک اعلان کے بعداس کا مالک نہ ملا ) ۔ تمہارے کسی بھائی کی ہو گی یا پھر بھیڑ یے کی ہو گی ( اگر انہی جنگلوں میں پھرتی رہی ) اور انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کھوئے ہوئے اونٹ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ غصہ ہو گئے اور غصہ کی وجہ سے آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے اور آپ نے فرمایا ، تمہیں اس سے کیا غرض ! اس کے پاس ( مضبوط ) کھر ہیں ( جس کی وجہ سے چلنے میں اسے کوئی دشواری نہیں ہو گی ) اس کے پاس مشکیزہ ہے جس سے وہ پانی پیتا رہے گا اور درخت کے پتے کھاتا رہے گا ، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پالے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کی رسی کا ( جس سے وہ بندھا ہو ) اور اس کے ظرف کا ( جس میں وہ رکھا ہو ) اعلان کرو اور اس کا ایک سال تک اعلان کرو ، پھر اگر کوئی ایسا شخص آ جائے جو اسے پہچانتا ہو ( اور اس کا مالک ہو تو اسے دے دو ) ورنہ اسے اپنے مال کے ساتھ ملا لو ۔ سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ پھر میں ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے ملا اور مجھے ان سے اس کے سوا اور کوئی چیز محفوظ نہیں ہے ۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ گم شدہ چیزوں کے بارے میں منبعث کے مولیٰ یزید کی حدیث کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ کیا وہ زید بن خالد سے منقول ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں ( سفیان نے بیان کیا کہ ہاں ) یحییٰ نے بیان کیا کہ ربیعہ نے منبعث کے مولیٰ یزید سے بیان کیا ، ان سے زید بن خالد نے ۔ سفیان نے بیان کیا کہ پھر میں نے ربیعہ سے ملاقات کی اور ان سے اس کے متعلق پوچھا ۔