Narrated Zainab رضی اللہ عنہا :
"What does 'throwing a globe of dung when one year had elapsed' mean?" Zainab said, "When a lady was bereaved of her husband, she would live in a wretched small room and put on the worst clothes she had and would not touch any scent till one year had elapsed. Then she would bring an animal, e.g. a donkey, a sheep or a bird and rub her body against it. The animal against which she would rub her body would scarcely survive. Only then she would come out of her room, whereupon she would be given a globe of dung which she would throw away and then she would use the scent she liked or the like." Imam Malik was asked: What is meant by '' تَفْتَضُّ بِهِ ''? He replied: She rubbed that animal with her body.
حمید نے بیان کیا کہ میں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ
اس کا کیا مطلب ہے کہ ” سال بھر تک مینگنی پھینکنی پڑتی تھی ؟ “ انہوں نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک نہایت تنگ وتاریک کو ٹھڑی میں داخل ہو جاتی ۔ سب سے برے کپڑے پہنتی اور خوشبو کا استعمال ترک کر دیتی ۔ یہاں تک کہ اسی حالت میں ایک سال گزر جاتا پھر کسی چوپائے گدھے یا بکری یا پرندہ کو اس کے پاس لایا جاتا اور وہ عدت سے باہر آنے کے لیے اس پر ہاتھ پھیرتی ۔ ایسا کم ہوتا تھا کہ وہ کسی جانور پر ہاتھ پھیر دے اور وہ مر نہ جائے ۔ اس کے بعد وہ نکالی جاتی اور اسے مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی ۔ اب وہ خوشبو وغیرہ کوئی بھی چیز استعمال کر سکتی تھی ۔ امام مالک سے پوچھا گیا کہ ” تفتض بہ “ کا کیا مطلب ہے تو آپ نے فرمایا وہ اس جانور کو اپنے جسم سے چھوتی تھی ۔
Narrated Um Salama رضی اللہ عنہا :
A woman was bereaved of her husband and her relatives worried about her eyes (which were diseased). They came to Allah's Messenger (ﷺ), and asked him to allow them to treat her eyes with kohl, but he said, "She should not apply kohl to her eyes. (In the Pre-Islamic period of Ignorance) a widowed woman among you would stay in the worst of her clothes (or the worst part of her house) and when a year had elapsed, if a dog passed by her, she would throw a globe of dung, Nay, (she cannot use kohl) till four months and ten days have elapsed."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، کہا ہم سے حمید بن نافع نے ، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ سے کہ
ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا ، اس کے بعد اس کی آنکھ میں تکلیف ہوئی تو اس کے گھر والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے سرمہ لگانے کی اجازت مانگی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سرمہ ( زمانہ عدت میں ) نہ لگاؤ ۔ ( زمانہ جاہلیت میں ) تمہیں بدترین کپڑے میں وقت گزارنا پڑتا تھا ، یا ( راوی کو شک تھا کہ یہ فرمایا کہ ) بدترین گھر میں وقت ( عدت ) گزارنا پڑتا تھا ۔ جب اس طرح ایک سال پورا ہو جاتا تو اس کے پاس سے کتا گزرتا اور وہ اس پر مینگنی پھینکتی ( جب عدت سے باہر آتی ) پس سرمہ نہ لگاؤ ۔ یہاں تک کہ چار مہینے دس دن گزر جائیں.
Narrated Um Habiba:
The Prophet (ﷺ) said, "It is not lawful for a Muslim woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for more than three days, except for her husband, for whom she should mourn for four months and ten days."
اور میں نے زینب بنت ام سلمہ سے سنا، وہ ام حبیبہ سے بیان کرتی تھیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو۔ اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی ( کی وفات ) کا سوگ تین دن سے زیادہ منائے سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن ہیں۔
Narrated Um 'Atiyya رضی اللہ عنہا :
We were forbidden to mourn for more than three days except for a husband.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے بشر نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلمہ بنت علقمہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سیرین نے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ہمیں منع کیا گیا ہے کہ شوہر کے سوا کسی کا سوگ تین دن سے زیادہ منائیں ۔
Narrated Um 'Atiyya رضی اللہ عنہا :
We were forbidden to mourn for more than three days for a dead person, except for a husband, for whom a wife should mourn for four months and ten days (while in the mourning period) we were not allowed to put kohl in our eyes, nor perfume our-selves, nor wear dyed clothes, except a garment of 'Asb (special clothes made in Yemen). But it was permissible for us that when one of us became clean from her menses and took a bath, she could use a piece of a certain kind of incense. And it was forbidden for us to follow funeral processions.
مجھ سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے حفصہ نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ہمیں اس سے منع کیا گیا کہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ منائیں سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن کی عدت تھی ۔ اس عرصہ میں ہم نہ سرمہ لگا تے نہ خوشبو استعمال کرتے اور نہ رنگا کپڑا پہنتے تھے ۔ البتہ وہ کپڑا اس سے الگ تھا جس کا ( دھاگا ) بننے سے پہلے ہی رنگ دیا گیا ہو ۔ ہمیں اس کی اجازت تھی کہ اگر کوئی حیض کے بعد غسل کرے تو اس وقت اظفار کا تھوڑا سا عود استعمال کر لے اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے کی بھی ممانعت تھی ۔
Narrated Um 'Atiyya رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said, "It is not lawful for a lady who believes in Allah and the Last Day, to mourn for more than three days for a dead person, except for her husband, in which case she should neither put kohl in her eyes, nor perfume herself, nor wear dyed clothes, except a garment of 'Asb"
ہم سے فضل بن دکین نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالسلام بن حرب نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن حسان نے ، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ کسی کا سوگ منائے سوا شوہر کے وہ اس کے سوگ میں نہ سرمہ لگائے نہ رنگا ہوا کپڑا پہنے مگر یمن کا دھاری دار کپڑا ( جو بننے سے پہلے ہی رنگا گیا ہو )
Narrated Um 'Atiyya:
The Prophet said, She should not use perfume except when she becomes clean from her menses whereupon she can use Qust, and Azfar (two kinds of incense).
امام بخاری کے شیخ انصاری نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ، کہا ہم سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ( کسی میت پر ) خاوند کے سوا تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے اور ( فرمایا کہ ) خوشبو کا استعمال نہ کرے ، سوا طہر کے وقت جب حیض سے پاک ہو تو تھوڑا سا عود ( قسط ) اور ( مقام ) اظفار ( کی خوشبو استعمال کر سکتی ہے ). ابوعبداللہ ( حضرت امام بخاری ) کہتے ہیں کہ ” قسط “ اور ” الکست “ ایک ہی چیز ہیں ، جیسے ” کافور “ اور ” قافور “ دونوں ایک ہیں ۔
Narrated Mujahid:
(regarding the Verse): 'If any of you dies and leaves wives behind,' That was the period of the 'Iddah which the widow was obliged to spend in the house of the late husband. Then Allah revealed: And those of you who die and leave wives should bequeath for their wives a year's maintenance and residence without turning them out, but if they leave, there is no blame on you for what they do of themselves, provided it is honorable (i.e. lawful marriage) (2.240) Mujahid said: Allah has ordered that a widow has the right to stay for seven months and twenty days with her husband's relatives through her husband's will and testament so that she will complete the period of one year (of 'Iddah). But the widow has the right to stay that extra period or go out of her husband's house as is indicated by the statement of Allah: 'But if they leave there is no blame on you,... ' (2.240) Ibn `Abbas said: The above Verse has cancelled the order of spending the period of the 'Iddah at her late husband's house, and so she could spend her period of the 'Iddah wherever she likes. And Allah says: 'Without turning them out.' 'Ata said: If she would, she could spend her period of the 'Iddah at her husband's house, and live there according to her (husband's) will and testament, and if she would, she could go out (of her husband's house) as Allah says: 'There is no blame on you for what they do of themselves.' (2.240) 'Ata added: Then the Verses of inheritance were revealed and the order of residence (for the widow) was cancelled, and she could spend her period of the 'Iddah wherever she would like, and she was no longer entitled to be accommodated by her husband's family.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی ، کہا ہم سے شبل بن عباد نے ، ان سے ابن ابی نجیح نے اور ان سے مجاہد نے
آیت کریمہ ” والذین یتوفون “ الخ ، یعنی اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں ۔ “ کے متعلق کہا کہ یہ عدت جو شوہر کے گھر والوں کے پاس گزاری جاتی تھی ، پہلے واجب تھی ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ” والذین یتوفون منکم “ الخ ، یعنی ” اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں ( ان پر لازم ہے کہ ) اپنی بیویوں کے حق میں نفع اٹھانے کی وصیت کر جائیں کہ وہ ایک سال تک ( گھر سے ) نہ نکالی جائیں لیکن اگر وہ ( خود ) نکل جائیں تو کوئی گناہ تم پر نہیں ۔ “ اس باب میں جسے وہ ( بیویاں ) اپنے بارے میں دستور کے مطابق کریں ۔ مجاہد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی بیوہ کے لیے سات مہینے بیس دن سال بھر میں سے وصیت قرار دی ۔ اگر وہ چاہے تو شوہر کی وصیت کے مطابق وہیں ٹھہر ی رہے اور اگر چاہے ( چار مہینے دس دن کی عدت ) پوری کر کے وہاں سے چلی جائے ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ” غیر اخراج “ تک یعنی انہیں نکالا نہ جائے ۔ البتہ اگر وہ خود چلی جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں “ کا یہی منشا ہے ۔ پس عدت تو جیسی کہ پہلی تھی ، اب بھی اس پر واجب ہے ۔ ابن ابی نجیح نے اسے مجاہد سے بیان کیا اور عطاء نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس پہلی آیت نے بیوہ کو خاوند کے گھر میں عدت گزارنے کے حکم کو منسوخ کر دیا ، اس لیے اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے اور ( اسی طرح اس آیت نے ) اللہ تعالیٰ کے ارشاد ” غیر اخراج “ یعنی ” انہیں نکالا نہ جائے “ ( کو بھی منسوخ کر دیا ہے ) عطاء نے کہا کہ اگر وہ چاہے تو اپنے ( شوہر کے ) گھر والوں کے یہاں ہی عدت گزارے اور وصیت کے مطابق قیام کرے اور اگر چاہے وہاں سے چلی آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔ فلیس علیکم جناح الخ ، یعنی ” پس تم پر اس کا کوئی گناہ نہیں ، جو وہ اپنی مرضی کے مطابق کریں “ عطاء نے کہا کہ اس کے بعد میراث کا حکم نازل ہوا اور اس نے مکان کے حکم کو منسوخ کر دیا ۔ پس وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے اور اس کے لیے ( شوہر کی طرف سے ) مکان کا انتظام نہیں ہو گا ۔
Narrated Zainab bint Um Salama رضی اللہ عنہما :
When Um Habiba bint Abi Sufyan was informed of her father's death, she asked for perfume and rubbed it over her arms and said, "I am not in need of perfume, but I have heard the Prophet (ﷺ) saying, "It is not lawful for a lady who believes in Allah and the Last Day to mourn for more than three days except for her husband for whom the (mourning) period is four months and ten days."
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے بیان کیا ، ان سے حمید بن نافع نے بیان ، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
جب ان کے والد کی وفات کی خبر پہنچی تو انہوں نے خوشبو منگوائی اور اپنے دونوں بازؤں پر لگائی پھر کہا کہ مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو عورت اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن ہیں ۔
Narrated Abu Mas`udرضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) prohibited taking the price of a dog, the earnings of a soothsayer and the money earned by prostitution.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ، کاہن کی کمائی اور زانیہ عورت کے زنا کی کمائی کھانے سے منع فرمایا ۔
Narrated Abu Juhaifa:
The Prophet (ﷺ) cursed the lady who practices tattooing and the one who gets herself tattooed, and one who eats (takes) Riba' (usury) and the one who gives it. And he prohibited taking the price of a dog, and the money earned by prostitution, and cursed the makers of pictures.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ، کہا ہم سے عون بن ابی جحیفہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گود نے والی اور گدوانے والی ، سود کھانے والے اور کھلانے والے پر لعنت بھیجی اور آپ نے کتے کی قیمت اور زانیہ کی کمائی کھانے سے منع فرمایا اور تصویر بنانے والوں پر لعنت کی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) forbade taking the earnings of a slave girl by prostitution.
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں محمد بن جحادہ نے ، انہیں ابوحازم نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی زنا کی کمائی سے منع فرمایا ۔
Narrated Sa`id bin Jubair:
I said to Ibn `Umar رضی اللہ عنہما , "If a man accuses his wife of illegal sexual intercourse (what is the judgment)?" He said, "Allah's Prophet separated the couple of Bani 'Ajlan (when the husband accused his wife for an illegal sexual intercourse). The Prophet (ﷺ) said, 'Allah knows that one of you two IS a liar; so will one of you repent?' But they refused. He then again said, 'Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent?' But they refused, whereupon he separated them by divorce." Aiyub (a subnarrator) said: `Amr bin Dinar said to me, "In the narration there is something which I do not see you mentioning, i.e. the husband said, "What about my money (Mahr)?' The Prophet (ﷺ) said, "You are not entitled to take back money, for if you told the truth you have already entered upon her (and consummated your marriage with her) and if you are a liar then you are less entitled to take it back.
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی ، انہیں ایوب سختیانی نے اور ان سے سعید بن کبیر نے بیان کیا کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی ہو تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان قبیلہ کے میاں بیوی میں جدائی کرا دی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے ، تو کیا وہ رجوع کرے گا ؟ لیکن دونوں نے انکار کیا ، آپ نے دوبارہ فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے اسے جو تم میں سے ایک جھوٹا ہے وہ توبہ کرتا ہے یا نہیں ؟ لیکن دونوں نے پھر توبہ سے انکار کیا ۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی ۔ ایوب نے بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن دینار نے کہا کہ یہاں حدیث میں ایک چیز اورہے میں نے تمہیں اسے بیان کرتے نہیں دیکھا ۔ وہ یہ ہے کہ ( تہمت لگانے والے ) شوہر نے کہا تھا کہ میرا مال ( مہر ) دلوا دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ تمہارا مال ہی نہیں رہا ۔ اگر تم سچے بھی ہو تو تم اس سے خلوت کر چکے ہوا اور اگر جھوٹے ہو تب تو تم کو بطریق اولیٰ کچھ نہ ملنا چاہیئے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said to those who were involved in a case of Lian, "Your accounts are with Allah. One of you two is a liar. You (husband) have right on her (wife)." The husband said, "My money, O Allah's Apostle!" The Prophet (ﷺ) said, "You are not entitled to take back any money. If you have told the truth, the Mahr that you paid, was for having sexual relations with her lawfully; and if you are a liar, then you are less entitled to get it back."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی سے فرمایا کہ تمہارا حساب اللہ کے یہاں ہو گا ۔ تم میں سے ایک تو یقیناً جھوٹا ہے ۔ تمہارے یعنی ( شوہر کے ) لیے اسے ( بیوی کو ) حاصل کرنے کا اب کوئی راستہ نہیں ہے ۔ شوہر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرا مال ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب وہ تمہارا مال نہیں رہا ۔ اگر تم نے اس کے متعلق سچ کہا تھا تو وہ اس کے بدلہ میں ہے کہ تم نے اس کی شرمگاہ اپنے لئے حلال کی تھی اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی تب تو اور زیادہ تجھ کو کچھ نہ ملنا چاہیئے ۔
Narrated Sahl and Abu Usaid رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) married Umaima bint Sharahil, and when she was brought to him, he stretched his hand towards her. It seemed that she disliked that, whereupon the Prophet (ﷺ) ordered Abu Usaid to prepare her and to provide her with two white linen dresses.
اور حسین بن الولید نیساپوری نے بیان کیا کہ ان سے عبدالرحمٰن نے ، ان سے عباس بن سہل نے ، ان سے ان کے والد ( سہل بن سعد ) اور ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیمہ بنت شراحیل سے نکاح کیا تھا ، پھر جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں لائی گئیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے اس نے ناپسند کیا ۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابواسید رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ان کا سامان کر دیں اور رازقیہ کے دو کپڑے انہیں پہننے کے لیے دے دیں ۔