Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) separated (divorced) the wife from her husband who accused her for an illegal sexual intercourse, and made them take the oath of Lian .
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے نافع نے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کرا دی تھی جنہوں نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تھی اور دونوں سے قسم لی تھی ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) made an Ansari man and his wife carry out Lian, and then separated them by divorce.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے ، کہا مجھے نافع نے خبر دی اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
قبیلہ انصار کے ایک صاحب اور ان کی بیوی کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرایا تھا اور دونوں کے درمیان جدائی کرا دی تھی ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) made a man and his wife carry out Lian, and the husband repudiated her child. So the Prophet got them separated (by divorce) and decided that the child belonged to the mother only.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہ ہم سے مالک نے ، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کرایا تھا ، پھر ان صاحب نے اپنی بیوی کے لڑکے کا انکار کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی اور لڑکا عورت کو دے دیا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Those involved in a case of Lian were mentioned before Allah's Messenger (ﷺ) `Asim bin Adi رضی اللہ عنہ said something about that and then left. Later on a man from his tribe came to him and told him that he had found another man with his wife. On that `Asim رضی اللہ عنہ said, "I have not been put to task except for what I have said (about Lian)." `Asim رضی اللہ عنہ نtook the man to Allah's Messenger (ﷺ) and he told him of the state in which he found his wife. The man was pale, thin and lank-haired, while the other man whom he had found with his wife was brown, fat with thick calves and curly hair. Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Allah! Reveal the truth." Then the lady delivered a child resembling the man whom her husband had mentioned he had found with her. So Allah's Messenger (ﷺ) ordered them to carry out Lien. A man from that gathering said to Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما , "Was she the same lady regarding whom Allah's Messenger (ﷺ) said, 'If I were to stone to death someone without witnesses, I would have stoned this lady'?" Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said, "No, that was another lady who, though being a Muslim, used to arouse suspicion because of her outright misbehavior."
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن قاسم نے خبر دی ، انہیں قاسم بن محمد نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ، انہوں نے بیان کیا کہ
لعان کرنے والوں کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ہو اتو عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس پر ایک بات کہی ( کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پاؤں تو وہیں قتل کر ڈالوں ) پھر واپس آئے تو ان کی قوم کے ایک صاحب ان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر مرد کو پایا ہے ۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس معاملہ میں میرا یہ ابتلاء میری اس بات کی وجہ سے ہوا ہے ( جس کے کہنے کی جرات میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی تھی ) پھر وہ ان صاحب کو ساتھ لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صورت سے مطلع کیا جس میں انہوں نے اپنی بیوی کو پایا تھا ۔ یہ صاحب زرد رنگ ، کم گوشت والے اور سیدھے بالوں والے تھے اور وہ جسے انہوں نے اپنی بیوی کے پاس پایا تھا گندمی گھٹے جسم کا زرد ، بھرے گوشت والا تھا اس کے بال بہت زیادہ گھونگھریالے تھے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اے اللہ ! معاملہ صاف کر دے چنانچہ ان کی بیوی نے جو بچہ جنا وہ اسی شخص سے مشابہ تھا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کے پاس اسے پایا تھا ۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان لعان کرایا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شاگرد نے مجلس میں پوچھا ، کیا یہ وہی عورت ہے جس کے متعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بلاشہادت سنگسار کرتا تو اسے کرتا ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں ۔ یہ دوسری عورت تھی جو اسلام کے زمانہ میں اعلانیہ بدکاری کیا کرتی تھی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Rifa`a Al-Qurazi رضی اللہ عنہ married a lady and then divorced her whereupon she married another man. She came to the Prophet (ﷺ) and said that her new husband did not approach her, and that he was completely impotent. The Prophet (ﷺ) said (to her), "No (you cannot remarry your first husband) till you taste the second husband and he tastes you (i.e. till he consummates his marriage with you).
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوسری سند اور حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ) ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کیا ، پھر انہیں طلاق دے دی ، اس کے بعد ایک دوسرے صاحب نے ان خاتون سے نکاح کر لیا ، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے دوسرے شوہر کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ تو ان کے پاس آتے ہی نہیں اور یہ کہ ان کے پاس کپڑے کے پلو جیسا ہے ( انہوں نے پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کی خواہش ظاہر کی لیکن ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ۔ جب تک تم اس ( دوسرے شوہر ) کا مزا نہ چکھ لو اور یہ تمہارا مزا نہ چکھ لیں ۔
Narrated Um Salama (the wife of the Prophet):
A lady from Bani Aslam, called Subai'a, become a widow while she was pregnant. Abu As-Sanabil bin Ba'kak رضی اللہ عنہ demanded her hand in marriage, but she refused to marry him and said, "By Allah, I cannot marry him unless I have completed one of the two prescribed periods." About ten days later (after having delivered her child), she went to the Prophet (ﷺ) and he said (to her), "You can marry now."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے جعفربن ربیعہ نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے ، کہا کہ مجھے خبر دی ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہ زینب ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ
ایک خاتون جو اسلام لائی تھیں اور جن کا نام سبیعہ تھا ، اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھیں ، شوہر کا جب انتقال ہوا تو وہ حاملہ تھیں ۔ ابو سنان بن بعکک رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا لیکن انہوں نے نکاح کرنے سے انکار کیا ۔ ابو السنابل نے کہا کہ اللہ کی قسم ! جب تک عدت کی دو مدتوں میں سے لمبی نہ گزارلوں گی ، تمہارے لیے اس سے ( جس سے نکاح وہ کرنا چاہتی تھیں ) نکاح کرنا صحیح نہیں ہو گا ۔ پھر وہ ( وضع حمل کے بعد ) تقریباً دس دن تک رکی رہیں ۔ اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب نکاح کر لو ۔
Narrated Subai'a Al-Aslamiya:
The Prophet had given her the verdict. She said, "The Prophet, gave me his verdict that after I gave birth, I could marry."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، ان سے لیث نے ، ان سے یزید نے کہ ابن شہاب نے انہیں لکھا کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے اپنے والد ( عبداللہ بن عتبہ بن مسعود ) سے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ابن الارقم کو لکھا کہ سبیعہ اسلمیہ سے پوچھیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق کیا فتویٰ دیا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ جب میرے یہاں بچہ پیدا ہو گیا تو آنحضرت نے مجھے فتویٰ دیا کہ اب میں نکاح کر لوں ۔
Narrated Al-Miswer bin Makhrama:
Subai'a Al-Aslamiya gave birth to a child a few days after the death of her husband. She came to the Prophet and asked permission to remarry, and the Prophet (ﷺ) gave her permission, and she got married.
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے مسور بن مخرمہ نے کہ
سبیعہ اسلمیہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد چند دنوں تک حالت نفاس میں رہیں ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے نکاح کی اجازت مانگی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور انہوں نے نکاح کیا ۔
Narrated Qasim bin Muhammad and Sulaiman bin Yasar:
Yahya bin Sa`id bin Al-`As divorced the daughter of `Abdur-Rahman bin Al-Hakarn. `Abdur- Rahman took her to his house. On that `Aisha رضی اللہ عنہا sent a message to Marwan bin Al-Hakam who was the ruler of Medina, saying, "Fear Allah, and urge your brother) to return her to her house." Marwan (in Sulaiman's version) said, "Abdur-Rahman bin Al-Hakam did not obey me (or had a convincing argument)." (In Al-Qasim's versions Marwan said, "Have you not heard of the case of Fatima bint Qais?" Aisha رضی اللہ عنہا said, "The case of Fatima bint Qais رضی اللہ عنہا is not in your favor.' Marwan bin Al-Hakam said to `Aisha رضی اللہ عنہا , "The reason that made Fatima bint Qais go to her father's house is just applicable to the daughter of `Abdur-Rahman."
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ، ان سے قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار نے ، وہ دونوں بیان کرتے تھے کہ
یحییٰ بن سعید بن العاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی صاحبزادی ( عمرہ ) کو طلاق دے دی تھی اور ان کے باپ عبدالرحمٰن انہیں ان کے ( شوہر کے ) گھر سے لے آئے ( عدت کے ایام گزرنے سے پہلے ) عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے مروان بن حکم کے یہاں ، جو اس وقت مدینہ کا امیر تھا ، کہلوایا کہ اللہ سے ڈرو اور لڑکی کو اس کے گھر ( جہاں اسے طلاق ہوئی ہے ) پہنچا دو ، جیسا کہ سلیمان بن یسار کی حدیث میں ہے ۔ مروان نے اس کو جواب یہ دیا کہ لڑکی کے والد عبدالرحمٰن بن حکم نے میری بات نہیں مانی اور قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ ( مروان نے ام المؤمنین کو یہ جواب دیا کہ ) کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے معاملہ کا علم نہیں ہے ؟ ( انہوں نے بھی اپنے شوہر کے گھر عدت نہیں گزاری تھی ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ اگر تم فاطمہ کے واقعہ کا حوالہ نہ دیتے تب بھی تمہارا کچھ نہ بگڑ تا ( کیونکہ وہ تمہارے لیے دلیل نہیں بن سکتا ) مروان بن حکم نے اس پر کہا کہ اگر آپ کے نزدیک ( فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ان کے شوہر کے گھر سے منتقل کرنا ) ان کے اور ان کے شوہر کے رشتہ داری کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے تھا تو یہاں بھی یہی وجہ کافی ہے کہ دونوں ( میاں بیوی ) کے درمیان کشیدگی تھی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
"What is wrong with Fatima? Why doesn't she fear Allah?" by saying that a divorced lady is not entitled to be provided with residence and sustenance (by her husband).
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا
فاطمہ بنت قیس خدا سے ڈرتی نہیں ! ان کااشارہ ان کے اس قول کی طرف تھا ( کہ مطلقہ بائنہ کو ) نفقہ وسکنٰی دینا ضروری نہیں جو کہتی ہے کہ طلاق بائن جس عورت پر پڑے اسے مسکن اور خرچہ نہیں ملے گا ۔
Narrated `Urwa said to `Aisha رضی اللہ عنہا :
"Do you know so-and-so, the daughter of Al-Hakam? Her husband divorced her irrevocably and she left (her husband's house)." `Aisha رضی اللہ عنہا said, "What a bad thing she has done!" `Urwa said (to `Aisha رضی اللہ عنہا ), "Haven't you heard the statement of Fatima رضی اللہ عنہا ?" `Aisha replied, "It is not in her favor to mention." `Urwa added, `Aisha رضی اللہ عنہا reproached (Fatima رضی اللہ عنہا) severely and said, "Fatima رضی اللہ عنہا was in a lonely place, and she was prone to danger, so the Prophet (ﷺ) allowed her (to go out of her husband's house).
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے ، ان سے ان کے والد نے کہ عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ
آپ فلانہ ( عمرہ ) بنت حکم کا معاملہ نہیں دیکھتیں ۔ ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائنہ دے دی اور وہ وہاں سے نکل آئیں ( عدت گزارے بغیر ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جو کچھ اس نے کیا بہت برا کیا ۔ عروہ نے کہا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے متعلق نہیں سنا ۔ بتلایا کہ اس کے لیے اس حدیث کو ذکر کرنے میں کوئی خیرنہیں ہے اورابن ابی زناد نے ہشام سے یہ اضافہ کیا ہے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( عمرہ بنت حکم کے معاملہ پر ) اپنی شدید نا گواری کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ تو ایک اجاڑ جگہ میں تھیں اور اس کے چاروں طرف خوف اوروحشت برستی تھی ، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وہاں سے منتقل ہونے کی ) انہیں اجازت دے دی تھی ۔
Narrated `Urwa:
`Aisha رضی اللہ عنہا disapproved of what Fatima رضی اللہ عنہ used to say.
مجھ سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں عروہ نے کہ
عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ کی اس بات کا ( کہ مطلقہ بائنہ کو نفقہ وسکنٰی نہیں ملے گا ) انکار کیا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
When Allah's Messenger (ﷺ) decided to leave Mecca after the Hajj, he saw Safiyya رضی اللہ عنہا , sad and standing at the entrance of her tent. He said to her, "Aqr (or) Halq! You will detain us. Did you perform Tawaf-al- Ifada on the day of Nahr? She said, "Yes." He said, "Then you can depart."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے ، ان سے حکم بن عتبہ نے ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجۃ الوداع میں ) کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمہ کے دروازے پر غمگین کھڑی ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ” عقریٰ “ یا ( فرمایا راوی کو شک تھا ) ” حلقٰی “ معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمیں روک دوگی ، کیا تم نے قربانی کے دن طواف کر لیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی کہ جی ہاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو ۔
Narrated Al-Hasan:
Ma'qil gave his sister in marriage and later her husband divorced her once.
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی ، ان سے یونس بن عبید نے بیان کیا ، ان سے امام حسن بصری نے بیان کیا کہ
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن جمیلہ کا نکاح کیا ، پھر ( ان کے شوہر نے ) انہیں ایک طلاق دی ۔
Narrated Al-Hasan:
The sister of Ma'qil bin Yasar رضی اللہ عنہ was married to a man and then that man divorced her and remained away from her till her period of the 'Iddah expired. Then he demanded for her hand in marriage, but Ma'qil رضی اللہ عنہ got angry out of pride and haughtiness and said, "He kept away from her when he could still retain her, and now he demands her hand again?" So Ma'qil disagreed to remarry her to him. Then Allah revealed: 'When you have divorced women and they have fulfilled the term of their prescribed period, do not prevent them from marrying their (former) husbands.' (2.232) So the Prophet (ﷺ) sent for Ma'qil and recited to him (Allah's order) and consequently Ma'qil gave up his pride and haughtiness and yielded to Allah's order.
مجھ سے محمد بن مثنٰی نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے ، ان سے قتادہ نے ، کہا ہم سے امام حسن بصری نے بیان کیا کہ
معقل بن یساررضی اللہ عنہ کی بہن ایک آدمی کے نکاح میں تھیں ، پھر انہوں نے انہیں طلاق دے دی ، اس کے بعد انہوں نے تنہائی میں عدت گزاری ۔ عدت کے دن جب ختم ہو گئے تو ان کے پہلے شوہر نے ہی پھر معقل رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا ۔ معقل کو اس پر بڑی غیرت آئی ۔ انہوں نے کہا جب وہ عدت گزار رہی تھی تو اسے اس پر قدرت تھی ( کہ دوران عدت میں رجعت کر لیں لیکن ایسا نہیں کیا ) اور اب میرے پاس نکاح کا پیغام بھیجتا ہے ۔ چنانچہ وہ ان کے اور اپنی بہن کے درمیان میں حائل ہو گئے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” اور جب تم اپنی عورتوں کوطلاق دے چکو اور وہ اپنی مدت کو پہنچ چکیں تو تم انہیں مت روکو “ آخر آیت تک “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر یہ آیت سنائی تو انہوں نے ضد چھوڑ دی اور اللہ کے حکم کے سامنے جھک گئے ۔
Narrated Ibn `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہما :
He divorced his wife during her menses. Allah's Messenger (ﷺ) ordered him to take her back till she became clean, and when she got another period while she was with him, she should wait till she became clean again and only then, if he wanted to divorce her, he could do so before having sexual relations with her. And that is the period Allah has fixed for divorcing women. Whenever `Abdullah (bin `Umar رضی اللہ عنہما) was asked about that, he would say to the questioner, "If you divorced her thrice, she is no longer lawful for you unless she marries another man (and the other man divorces her in his turn).' Ibn `Umar رضی اللہ عنہما further said, 'Would that you (people) only give one or two divorces, because the Prophet (ﷺ) has ordered me so."
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے کہ
انہوں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تو اس وقت وہ حائضہ تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ رجعت کر لیں اور انہیں اس وقت تک اپنے ساتھ رکھیں جب تک وہ اس حیض سے پاک ہونے کے بعد پھر دوبارہ حائضہ نہ ہوں ۔ اس وقت بھی ان سے کوئی تعرض نہ کریں اور جب وہ اس حیض سے بھی پاک ہو جائیں تو اگر اس وقت انہیں طلاق دینے کا ارادہ ہو تو طہر میں اس سے پہلے کہ ان سے ہمبستری کریں ، طلاق دیں ۔ پس یہی وہ وقت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اگر اس کے ( مطلقہ ثلاثہ کے ) بارے میں سوال کیا جاتا تو سوال کرنے والے سے وہ کہتے کہ اگر تم نے تین طلاقیں دے دی ہیں تو پھر تمہاری بیوی تم پر حرام ہے ۔ یہاں تک کہ وہ تمہارے سوا دوسرے شوہر سے نکاح کرے ۔ غیر قتیبۃ ( ابو الجہم ) کے اس حدیث میں لیث سے یہ اضافہ کیا ہے کہ ( انہوں نے بیان کیا کہ ) مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاق دے دی ہو ۔ تو تم اسے دوبارہ اپنے نکاح میں لا سکتے ہو ) کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم دیا تھا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Ibn `Umar رضی اللہ عنہما divorced his wife while she was having her menses. `Umar رضی اللہ عنہما asked the Prophet (ﷺ) who said, "Order him (your son) to take her back, and then divorced her before her period of the 'Iddah has elapsed." I asked Ibn `Umar رضی اللہ عنہما , "Will that divorce (during the menses) be counted?" He replied, "If somebody behaves foolishly (will his foolishness be an excuse for his misbehavior)?"
ہم سے حجاج نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا ، کہا مجھ سے یونس بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ، اس وقت وہ حائضہ تھیں ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی بیوی سے رجوع کر لیں ، پھر جب طلاق کا صحیح وقت آئے تو طلاق دیں ( یونس بن جبیر نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ) میں نے پوچھا کہ کیا اس طلاق کا بھی شمار ہوا تھا ؟ انہوں نے بتلایا کہ اگر کوئی طلاق دینے والا شرع کے احکام بجا لانے سے عاجز ہو یا احمق بیوقوف ہو ( تو کیا طلاق نہیں پڑے گی ؟ ) ۔
Narrated Zainab رضی اللہ عنہا :
I went to Um Habiba رضی اللہ عنہا , the wife of the Prophet (ﷺ) when her father, Abu- Sufyan bin Herb رضی اللہ عنہا had died. Um ,Habiba asked for a perfume which contained yellow scent (Khaluq) or some other scent, and she first perfumed one of the girls with it and then rubbed her cheeks with it and said, "By Allah, I am not in need of perfume, but I have heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'It is not lawful for a lady who believes in Allah and the Last Day to mourn for a dead person for more than three days unless he is her husband for whom she should mourn for four months and ten days.'"
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے بیان کیا، وہ حمید بن نافع سے اور ان سے ابوسلمہ کی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا۔ حدیث میں ہے کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس وقت گئی جب ان کے والد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا ۔ ام حبیبہ نے خوشبو منگوائی جس میں خلوق خوشبو کی زردی یا کسی اور چیز کی ملاوٹ تھی ، پھر وہ خوشبو ایک لونڈی نے ان کو لگائی اور ام المؤمنین نے خود اپنے رخساروں پر اسے لگایا ۔ اس کے بعد کہا کہ واللہ ! مجھے خوشبو کے استعمال کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی کا سوگ منائے سوا شوہر کے ( کہ اس کا سوگ ) چار مہینے دس دن کا ہے ۔
Narrated Zainab رضی اللہ عنہا :
I want to Zainab bint Jahsh رضی اللہ عنہا when her brother died. She asked for perfume and used some of it and said, "By Allah, I am not in need of perfume, but I have heard Allah's Messenger (ﷺ) saying on the pulpit, 'It is not lawful for a lady who believes in Allah and the last day to mourn for more than three days except for her husband for whom she should mourn for four months and ten days.'"
حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس کے بعد
میں ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں اس وقت گئی جب ان کے بھائی کا انتقال ہوا ۔ انہوں نے بھی خوشبو منگوائی اور استعمال کیا کہا کہ واللہ ! مجھے خوشبو کے استعمال کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے سنا ہے کہ کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ، صرف شوہر کے لیے چار مہینے دس دن کا سوگ ہے ۔
Narrated Um Salama رضی اللہ عنہا :
A woman came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The husband of my daughter has died and she is suffering from an eye disease, can she apply kohl to her eye?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "No," twice or thrice. (Every time she repeated her question) he said, "No." Then Allah's Messenger (ﷺ) added, "It is just a matter of four months and ten days. In the Pre-Islamic Period of ignorance a widow among you should throw a globe of dung when one year has elapsed."
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بھی یہ کہتے سنا کہ
ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میری لڑکی کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے تو کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ نہیں ، دو تین مرتبہ ( آپ نے یہ فرمایا ) ہر مرتبہ یہ فرماتے تھے کہ نہیں ! پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ( شرعی عدت ) چار مہینے اور دس دن ہی کی ہے ۔ جاہلیت میں تو تمہیں سال بھر تک مینگنی پھینکنی پڑتی تھی ( جب کہیں عدت سے باہر ہوتی تھی ) ۔