Back to Sahih Bukhari

Divorce

كتاب الطلاق

Chapter 69

Hadith 5293
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَعِيرِهِ، وَكَانَ كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ، وَكَبَّرَ‏.‏ وَقَالَتْ زَيْنَبُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فُتِحَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ ‏"‏‏.‏ وَعَقَدَ تِسْعِينَ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) performed the Tawaf (around the Ka`ba while riding his camel, and every time he reached the corner (of the Black Stone) he pointed at it with his hand and said, "Allahu Akbar." (Zainab رضی اللہ عنہا said: The Prophet (ﷺ) said, "An opening has been made in the wall of Gog and Magog like this and this," forming the number 90 (with his thumb and index finger).

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعامر عبدالملک بن عمرو نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا ، ان سے خالد حذاء نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اپنے اونٹ پر سوار ہو کر کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی رکن کے پاس آتے تو اس کی طرف اشارہ کر کے تکبیر کہتے اور زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، یاجوج ماجوج کے دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے اور آپ نے اپنی انگلیوں سے نوے کا عدد بنایا ۔

Hadith 5294
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لاَ يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَسَأَلَ اللَّهَ خَيْرًا، إِلاَّ أَعْطَاهُ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ بِيَدِهِ، وَوَضَعَ أَنْمَلَتَهُ عَلَى بَطْنِ الْوُسْطَى وَالْخِنْصَرِ‏.‏ قُلْنَا يُزَهِّدُهَا‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Abul Qasim (the Prophet (ﷺ) ) said, "There is an hour (or a moment) of particular significance on Friday. If it happens that a Muslim is offering a prayer and invoking Allah for some good at that very moment, Allah will grant him his request." (The sub-narrator placed the top of his finger on the palm of the other hand between the middle finger and the little one.)

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، ان سے بشر بن مفضل نے بیان کیا ، ان سے سلمہ بن علقمہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے جو مسلمان بھی اس وقت کھڑا نماز پڑھے اور اللہ سے کوئی خیر مانگے تو اللہ اسے ضرور دے گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس ساعت کی وضاحت کرتے ہوئے ) اپنے دست مبارک سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو درمیانی انگلی اور چھوٹی انگلی کے بیچ میں رکھا جس سے ہم نے سمجھا کہ آپ اس ساعت کو بہت مختصر ہونے کو بتا رہے ہیں ۔

Hadith 5295
Sahih
وَقَالَ الأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ عَدَا يَهُودِيٌّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى جَارِيَةٍ، فَأَخَذَ أَوْضَاحًا كَانَتْ عَلَيْهَا وَرَضَخَ رَأْسَهَا، فَأَتَى بِهَا أَهْلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْىَ فِي آخِرِ رَمَقٍ، وَقَدْ أُصْمِتَتْ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ قَتَلَكِ فُلاَنٌ ‏"‏‏.‏ لِغَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لاَ، قَالَ فَقَالَ لِرَجُلٍ آخَرَ غَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ أَنْ لاَ، فَقَالَ ‏"‏ فَفُلاَنٌ ‏"‏‏.‏ لِقَاتِلِهَا فَأَشَارَتْ أَنْ نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

During the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) a Jew attacked a girl and took some silver ornaments she was wearing and crushed her head. Her relative brought her to the Prophet (ﷺ) while she was in her last breaths, and she was unable to speak. Allah's Messenger (ﷺ) asked her, "Who has hit you? So-and so?", mentioning somebody other than her murderer. She moved her head, indicating denial. The Prophet (ﷺ) mentioned another person other than the murderer, and she again moved her head indicating denial. Then he asked, "Was it so-and-so?", mentioning the name of her killer. She nodded, agreeing. Then Allah's Messenger (ﷺ); ordered that the head of that Jew be crushed between two stones.

Urdu

اور اویسی نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے شعبہ بن حجاج نے ، ان سے ہشام بن یزید نے ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک یہودی نے ایک لڑکی پر ظلم کیا ، اس کے چاندی کے زیورات جو وہ پہنے ہوئے تھی چھین لیے اور اس کا سر کچل دیا ۔ لڑکی کے گھر والے اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو اس کی زندگی کی بس آخری گھڑی باقی تھی اور وہ بول نہیں سکتی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس نے مارا ہے ؟ فلاں نے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ سے غیر متعلق آدمی کا نام لیا ۔ اس لیے اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں ۔ بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے شخص کا نام لیا اور وہ بھی اس واقعہ سے غیر متعلق تھا تو لڑکی نے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں ، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ فلاں نے تمہیں مارا ہے ؟ تو اس لڑکی نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؛ حکم دیا کہ اس یہودی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا جائے۔

Hadith 5296
Sahih
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الْفِتْنَةُ مِنْ هَا هُنَا ‏"‏‏.‏ وَأَشَارَ إِلَى الْمَشْرِقِ‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Afflictions will emerge from here," pointing towards the East.

Urdu

ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ فتنہ ادھر سے اٹھے گا اور آپ نے مشرق کی طرف اشارہ کیا ۔

Hadith 5297
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ لِرَجُلٍ ‏"‏ انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ فَاجْدَحْ ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ فَاجْدَحْ ‏"‏‏.‏ فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ فَقَالَ ‏"‏ إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin Abi A'ufa:

We were with Allah's Messenger (ﷺ) on a journey, and when the sun set, he said to a man, "Get down and prepare a drink of Sawiq for me." The man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Will you wait till it is evening?" Allah's Messenger (ﷺ) again said, "Get down and prepare a drink of Sawiq." The man said, "O Allah's Apostle! Will you wait till it is evening, for it is still daytime. " The Prophet (ﷺ) again said, "Get down and prepare a drink of Sawiq." So the third time the man got down and prepared a drink of sawiq for him. Allah's Messenger (ﷺ) drank thereof and pointed with his hand towards the East, saying, "When you see the night falling from this side, then a fasting person should break his fast."

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق شیبانی نے اور ان سے عبداللہ بن ابی اوفی نے بیان کیا کہ

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ جب سورج ڈوب گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی ( حضرت بلال رضی اللہ عنہ ) سے فرمایا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول ( کیونکہ آپ روزہ سے تھے ) انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر اندھیرا ہونے دیں تو بہتر ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اتر کر ستو گھول ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر آپ اور اندھیرا ہو لینے دیں تو بہتر ہے ، ابھی دن باقی ہے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتر و اور ستو گھول لو ۔ آخر تیسری مر تبہ کہنے پرانہوں نے اتر کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ستو گھولا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا ، پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات ادھر سے آ رہی ہے تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہیئے ۔

Hadith 5298
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ نِدَاءُ بِلاَلٍ ـ أَوْ قَالَ أَذَانُهُ ـ مِنْ سَحُورِهِ، فَإِنَّمَا يُنَادِي أَوْ قَالَ يُؤَذِّنُ لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ ‏"‏‏.‏ وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ كَأَنَّهُ يَعْنِي الصُّبْحَ أَوِ الْفَجْرَ، وَأَظْهَرَ يَزِيدُ يَدَيْهِ ثُمَّ مَدَّ إِحْدَاهُمَا مِنَ الأُخْرَى‏.‏
English

Narrated 'Abdullah bin رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "The call (or the Adhan) of Bila should not stop you from taking the Suhur-meals for Bilal calls (or pronounces the Adhan) so that the one who is offering the night prayer should take a rest, and he does not indicate the daybreak or dawn." The narrator, Yazid, described (how dawn breaks) by stretching out his hands and then separating them wide apart.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن سلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، ان سے سلیمان تیمی نے ، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تم میں سے کسی کو ( سحری کھانے سے ) بلال کی پکار نہ روکے ، یا آپ نے فرمایا کہ ” ان کی اذان “ کیونکہ وہ پکارتے ہیں ، یا فرمایا ، اذان دیتے ہیں تاکہ اس وقت نماز پڑھنے والا رک جائے ۔ اس کا اعلان سے یہ مقصود نہیں ہوتا کہ صبح صادق ہو گئی ۔ اس وقت یزید بن زریع نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے ( صبح کاذب کی صورت بتانے کے لیے ) پھر ایک ہاتھ کو دوسرے پر پھیلایا ( صبح صادق کی صورت کے اظہار کے لیے ) ۔

Hadith 5299
Sahih
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، مِنْ لَدُنْ ثَدْيَيْهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلاَ يُنْفِقُ شَيْئًا إِلاَّ مَادَّتْ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَأَمَّا الْبَخِيلُ فَلاَ يُرِيدُ يُنْفِقُ إِلاَّ لَزِمَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا، فَهْوَ يُوسِعُهَا فَلاَ تَتَّسِعُ ‏"‏‏.‏ وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ إِلَى حَلْقِهِ‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, The example of a miser and a generous person is like that of two persons wearing iron cloaks from the breast upto the neck When the generous person spends, the iron cloak enlarges and spread over his skin so much so that it covers his fingertips and obliterates his tracks. As for the miser, as soon as he thinks of spending every ring of the iron cloak sticks to its place (against his body) and he tries to expand it, but it does not expand. The Prophet (ﷺ) pointed with his hand towards his throat.

Urdu

اور لیث نے بیان کیا کہ ان سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بخیل اورسخی کی مثال دو آدمیوں جیسی ہے جن پرلو ہے کی دو زرہیں سینے سے گردن تک ہیں ۔ سخی جب بھی کوئی چیز خرچ کرتا ہے تو زرہ اس کے چمڑے پر ڈھیلی ہو جاتی ہے اور اس کے پاؤں کی انگلیوں تک پہنچ جاتی ہے ( اور پھیل کر اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ) اس کے نشان قدم کو مٹاتی چلتی ہے لیکن بخیل جب بھی خرچ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے ، وہ اسے ڈھیلا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ڈھیلا نہیں ہوتا ۔ اس وقت آپ نے اپنی انگلی سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا ۔

Hadith 5300
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو سَاعِدَةَ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ، فَقَبَضَ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ بَسَطَهُنَّ كَالرَّامِي بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "Shall I tell you of the best families among the Ansar?" They (the people) said, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said, "The best are Banu- An-Najjar, and after them are Banu `Abdil Ash-hal, and after them are Banu Al-Harith bin Al-Khazraj, and after them are Banu Sa`ida." The Prophet (ﷺ) then moved his hand by closing his fingers and then opening them like one throwing something, and then said, "Anyhow, there is good in all the families of the Ansar. "

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے اور انہوں نے انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ، بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں بتاؤں کہ قبیلہ انصار کا سب سے بہتر گھرانہ کو ن سا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ضرور بتائیے یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا کہ بنو نجار کا ۔ اس کے بعد ان کا مرتبہ ہے جو ان سے قریب ہیں یعنی بنو عبد الاشہل کا ، ان کے بعد وہ ہیں جو ان سے قریب ہیں ، بنی الحارث بن خزرج کا ۔ اس کے بعد وہ ہیں جو ان سے قریب ہیں ، بنو ساعد ہ کا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اپنی مٹھی بند کی ، پھر اسے اس طرح کھولا جیسے کوئی اپنے ہاتھ کی چیز کو پھینکتا ہے پھر فرمایا کہ انصار کے ہر گھرانہ میں خیر ہے ۔

Hadith 5301
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ سَمِعْتُهُ مِنْ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ أَوْ كَهَاتَيْنِ ‏"‏‏.‏ وَقَرَنَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى‏.‏
English

Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`idi رضی اللہ عنہ :

(a companion of Allah's Messenger (ﷺ)) Allah's Messenger (ﷺ), holding out his middle and index fingers, said, "My advent and the Hour's are like this (or like these)," namely, the period between his era and the Hour is like the distance between those two fingers, i.e., very short.

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ ابوحازم نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میری بعثت قیامت سے اتنی قریب ہے جیسے اس کی اس سے ( یعنی شہادت کی انگلی بیچ کی انگلی سے ) یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( راوی کو شک تھا ) کہ جیسے یہ دونوں انگلیاں ہیں اور آپ نے شہادت کی اور بیچ کی انگلیوں کو ملا کر بتایا ۔

Hadith 5302
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏‏.‏ يَعْنِي ثَلاَثِينَ، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏‏.‏ يَعْنِي تِسْعًا وَعِشْرِينَ يَقُولُ، مَرَّةً ثَلاَثِينَ وَمَرَّةً تِسْعًا وَعِشْرِينَ‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar:

The Prophet (holding out his ten fingers thrice), said, "The month is thus and thus and thus," namely thirty days. Then (holding out his ten fingers twice and then nine fingers), he said, "It may be thus and thus and thus," namely twenty nine days. He meant once thirty days and once twenty nine days.

Urdu

ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جبلہ بن سحیم نے بیان کیا ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مہینہ اتنے ، اتنے اور اتنے دنوں کا ہوتا ہے ۔ آپ کی مراد تیس دن سے تھی ۔ پھر فرمایا اور اتنے ، اتنے اور اتنے دنوں کا بھی ہوتا ہے ۔ آپ کا اشارہ انتیس دنوں کی طرف تھا ۔ ایک مرتبہ آپ نے تیس کی طرف اشارہ کیا اور دوسری مرتبہ انتیس کی طرف ۔

Hadith 5303
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ وَأَشَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ ‏ "‏ الإِيمَانُ هَا هُنَا ـ مَرَّتَيْنِ ـ أَلاَ وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Masud رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) pointed with his hand towards Yemen and said twice, "Faith is there," and then pointed towards the East, and said, "Verily, sternness and mercilessness are the qualities of those who are busy with their camels and pay no attention to their religion, where the two sides of the head of Satan will appear," namely, the tribes of Rabl'a and Muqar.

Urdu

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل نے ، ان سے قیس نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ بر کتیں ادھر ہیں ۔ دو مرتبہ ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ) ہاں اور سختی اور قساوت قلب ان کی کرخت آواز والوں میں ہے جہاں سے شیطان کی دونوں سینگیں طلوع ہوتی ہیں ۔ یعنی ربیعہ اور مضر میں ۔

Hadith 5304
Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا ‏"‏‏.‏ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، وَفَرَّجَ بَيْنَهُمَا شَيْئًا‏.‏
English

Narrated Sahl رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "I and the one who looks after an orphan will be like this in Paradise," showing his middle and index fingers and separating them.

Urdu

ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو عبدالعزیز بن ابی حازم نے خبر دی ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں اور یتیم کی پر ورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور ان دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ کھلی رکھی ۔

Hadith 5305
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ أَسْوَدُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا أَلْوَانُهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ حُمْرٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَنَّى ذَلِكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! A black child has been born for me." The Prophet asked him, "Have you got camels?" The man said, "Yes." The Prophet (ﷺ) asked him, "What color are they?" The man replied, "Red." The Prophet (ﷺ) said, "Is there a grey one among them?' The man replied, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "Whence comes that?" He said, "May be it is because of heredity." The Prophet (ﷺ) said, "May be your latest son has this color because of heredity."

Urdu

ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے یہاں تو کالا کلوٹا بچہ پیدا ہوا ہے ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس کچھ اونٹ بھی ہیں ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، ان کے رنگ کیسے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ سرخ رنگ کے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، ان میں کوئی سیاہی مائل سفید اونٹ بھی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر یہ کہاں سے آ گیا ؟ انہوں نے کہا کہ اپنی نسل کے کسی بہت پہلے کے اونٹ پر یہ پڑا ہو گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح تمہارا یہ لڑکا بھی اپنی نسل کے کسی دور کے رشتہ دار پر پڑا ہو گا ۔

Hadith 5306
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ قَذَفَ امْرَأَتَهُ فَأَحْلَفَهُمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا‏.‏
English

Narrated `Abdullah:

An Ansari man accused his wife (of committing illegal sexual intercourse). The Prophet (ﷺ) made both of them takes the oath of Lian, and separated them from each other (by divorce).

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ نے کہ

قبیلہ انصار کے ایک صحابی نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میاں بیوی سے قسم کھلوائی اور پھر دونوں میں جدائی کرا دی ۔

Hadith 5307
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ، فَجَاءَ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

Hilal bin Umaiyya accused his wife of illegal sexual intercourse and came to the Prophet (ﷺ) to bear witness (against her), (taking the oath of Lian). The Prophet (ﷺ) was saying, "Allah knows that either of you is a liar. Will anyone of you repent (to Allah)?" Then the lady got up and gave her witness.

Urdu

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن حسان نے ، کہا کہ ہم سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ

ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی ، پھر وہ آئے اور گواہی دی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا ، اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے ، تو کیا تم میں سے کوئی ( جو واقعی گناہ کا مرتکب ہوا ہو ) رجوع کرے گا ؟ اس کے بعد ان کی بیوی کھڑی ہوئیں اور انہوں نے گواہی دی ۔ اپنے بری ہونے کی ۔

Hadith 5308
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ‏.‏ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا‏.‏ فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لاَ أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا‏.‏ فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ سَهْلٌ فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلاَعُنِهِمَا قَالَ عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا‏.‏ فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ‏.‏
English

Narrated Uwaimir Al-Ajlani came to `Asim bin Ad Al-Ansari:

"O `Asim! Suppose a man saw another man with his wife, would he kill him whereupon you would kill him; or what should he do? Please, O `Asim, ask about this on my behalf." `Asim رضی اللہ عنہ asked Allah's Messenger (ﷺ) about it. Allah's Messenger (ﷺ), disliked that question and considered it disgraceful. What `Asim heard from Allah's Messenger (ﷺ) was hard on him. When `Asim رضی اللہ عنہ returned to his family, 'Uwaimir came to him and said, "O `Asim! What did Allah's Messenger (ﷺ). say to you?" `Asim رضی اللہ عنہ said to 'Uwaimir, "You never bring me any good. Allah's Messenger (ﷺ) disliked the problem which I asked him about." 'Uwaimir said, "By Allah, I will not give up this matter until I ask the Prophet (ﷺ) about it." So 'Uwaimir proceeded till he came to Allah's Messenger (ﷺ) in the midst of people, and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! If a man sees another man with his wife, would he kill him, whereupon you would kill him, or what should he do?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has revealed some decree as regards you and your wives case. Go and bring her." So they carried out the process of Lian while I was present among the people with Allah's Messenger (ﷺ). When they had finished their Lian, 'Uwaimir said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! If I should now keep her with me as a wife, then I have told a lie." So he divorced her thrice before Allah's Messenger (ﷺ) ordered him. (Ibn Shihab said: So divorce was the tradition for all those who were involved in a case of Lian.)

Urdu

ہم سے اسماعیل بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے اور انہیں سہل بن سعد ساعدی نے خبر دی کہ عویمر عجلانی ، عاصم بن عدی انصاری کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ

عاصم آپ کا کیاخیال ہے کہ ایک شخص اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے تو کیا اسے قتل کر دے گا لیکن پھر آپ لوگ اسے بھی قتل کر دیں گے ۔ آخر اسے کیا کرنا چاہیئے ؟ عاصم ، میرے لیے یہ مسئلہ پوچھ دو ۔ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا ۔ آنحضرت نے اس طرح کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور اظہار نا گواری کیا ۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا اس کا بہت اثر لیا ۔ پھر جب گھر واپس آئے تو عویمر ان کے پاس آئے اور پوچھا ۔ عاصم ! آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا ۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا ، عویمر تم نے میرے ساتھ اچھا معاملہ نہیں کیا ، جو مسئلہ تم نے پوچھا تھا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا ۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم جب تک میں یہ مسئلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم نہ کر لوں ، باز نہیں آؤں گا ۔ چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صحابہ کے درمیان میں موجود تھے ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کا اس شخص کے متعلق کیا ارشاد ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے ، کیا اسے قتل کر دے ؟ لیکن پھر آپ لوگ اسے ( قصاص ) میں قتل کر دیں گے ، تو پھر اسے کیا کرنا چاہیئے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں ابھی وحی نازل ہوئی ہے ۔ جاؤ اور اپنی بیوی کو لے کر آؤ ۔ سہل نے بیان کیا کہ پھر ان دونوں نے لعان کیا ۔ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت موجود تھا ۔ جب لعان سے فارغ ہوئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اگر اب بھی میں اسے ( اپنی بیوی کو ) اپنے ساتھ رکھتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹا ہوں ۔ چنانچہ انہوں نے انہیں تین طلاقیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی دے دیں ۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر لعان کرنے والوں کے لیے سنت طریقہ مقرر ہو گیا ۔

Hadith 5309
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ الْمُلاَعَنَةِ، وَعَنِ السُّنَّةِ، فِيهَا عَنْ حَدِيثِ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، أَيَقْتُلُهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي شَأْنِهِ مَا ذَكَرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ قَضَى اللَّهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَتَلاَعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا‏.‏ فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ فَرَغَا مِنَ التَّلاَعُنِ، فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ ذَاكَ تَفْرِيقٌ بَيْنَ كُلِّ مُتَلاَعِنَيْنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتِ السُّنَّةُ بَعْدَهُمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلاً، وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى لأُمِّهِ، قَالَ ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي مِيرَاثِهَا أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُ مِنْهَا مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ‏.‏ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلاَ أُرَاهَا إِلاَّ قَدْ صَدَقَتْ وَكَذَبَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ، فَلاَ أُرَاهُ إِلاَّ قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا ‏"‏‏.‏ فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى الْمَكْرُوهِ مِنْ ذَلِكَ‏.‏
English

Narrated Ibn Juraij:

Ibn Shihab informed me of Lian and the tradition related to it, referring to the narration of Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ , the brother of Bani Sa`idi He said, "An Ansari man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, 'O Allah's Apostle! If a man saw another man with his wife, should he kill him, or what should he do?' So Allah revealed concerning his affair what is mentioned in the Holy Qur'an about the affair of those involved in a case of Lian. The Prophet (ﷺ) said, 'Allah has given His verdict regarding you and your wife.' So they carried out Lian in the mosque while I was present there. When they had finished, the man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! If I should now keep her with me as a wife then I have told a lie about her. Then he divorced her thrice before Allah's Messenger (ﷺ) ordered him, when they had finished the Lian process. So he divorced her in front of the Prophet (ﷺ) ." Ibn Shihab added, "After their case, it became a tradition that a couple involved in a case of Lian should be separated by divorce. That lady was pregnant then, and later on her son was called by his mother's name. The tradition concerning their inheritance was that she would be his heir and he would inherit of her property the share Allah had prescribed for him." Ibn Shihab said that Sahl bin Sa`d As'Saidi رضی اللہ عنہ said that the Prophet (ﷺ) said (in the above narration), "If that lady delivers a small red child like a lizard, then the lady has spoken the truth and the man was a liar, but if she delivers a child with black eyes and huge lips, then her husband has spoken the truth." Then she delivered it in the shape one would dislike (as it proved her guilty).

Urdu

ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدالرزاق بن ہمام نے خبر دی ، انہیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ

مجھے ابن شہاب نے لعان کے بارے میں اور یہ کہ شریعت کی طرف سے اس کا سنت طریقہ کیا ہے ، خبر دی بنی ساعدہ کے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کے ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اس شخص کے متعلق آپ کا کیا ارشاد ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے ، کیا وہ اسے قتل کر دے یا اسے کیا کرنا چاہیئے ؟ انہیں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی وہ آیت نازل کی جس میں لعان کرنے والوں کے لیے تفصیلات بیان ہوئی ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ کر دیا ہے ۔ بیان کیا کہ پھر دونوں نے مسجد میں لعان کیا ، میں اس وقت وہاں موجود تھا ۔ جب دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو انصاری صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اگر اب بھی میں اسے اپنے نکاح میں رکھوں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے اس پر جھوٹی تہمت لگا ئی تھی ۔ چنانچہ لعان سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی انہیں تین طلاقیں دے دیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہی انہیں جدا کر دیا ۔ ( سہل نے یا ابن شہاب نے ) کہا کہ ہر لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان یہی جدائی کا سنت طریقہ مقرر ہوا ۔ ابن جریج نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ ان کے بعد شریعت کی طرف سے طریقہ یہ متعین ہوا کہ دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جایا کرے ۔ اور وہ عورت حاملہ تھی ۔ اور ان کا بیٹا اپنی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا ۔ بیان کیا کہ پھر ایسی عورت کے میراث کے بارے میں بھی یہ طریقہ شریعت کی طرف سے مقرر ہو گیا کہ بچہ اس کا وارث ہو گا اور وہ بچہ کی وارث ہو گی ۔ اس کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے وراثت کے سلسلہ میں فرض کیا ہے ۔ ابن جریج نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے ، اسی حدیث میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر ( لعان کرنے والی خاتون ) اس نے سرخ اور پستہ قد بچہ جنا جیسے وحرہ تو میں سمجھوں گا کہ عورت ہی سچی ہے اور اس کے شوہر نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے لیکن اگر کالا ، بڑی آنکھوں والا اور بڑے سرینوں والا بچہ جنا تو میں سمجھوں گا کہ شوہر نے اس کے متعلق سچ کہا تھا ۔ ( عورت جھوٹی ہے ) جب بچہ پیدا ہو تو وہ بری شکل کا تھا ( یعنی اس مرد کی صورت پر جس سے وہ بد نام ہوئی تھی ) ۔

Hadith 5310
Sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ التَّلاَعُنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلاً، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، فَقَالَ عَاصِمٌ مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلاَّ لِقَوْلِي، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبْطَ الشَّعَرِ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَ أَهْلِهِ خَدْلاً آدَمَ كَثِيرَ اللَّحْمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ بَيِّنْ ‏"‏‏.‏ فَجَاءَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ، فَلاَعَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا‏.‏ قَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ هِيَ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ لاَ تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الإِسْلاَمِ السُّوءَ قَالَ أَبُو صَالِحٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ خَدِلاً‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

"Once Lian was mentioned before the Prophet (ﷺ) whereupon `Asim bin Adi رضی اللہ عنہ said something and went away. Then a man from his tribe came to him, complaining that he had found a man with his wife. `Asim رضی اللہ عنہ said, 'I have not been put to task except for my statement (about Lian).' `Asim رضی اللہ عنہ took the man to the Prophet (ﷺ) and the man told him of the state in which he had found his wife. The man was pale, thin, and of lank hair, while the other man whom he claimed he had seen with his wife, was brown, fat and had much flesh on his calves. The Prophet (ﷺ) invoked, saying, 'O Allah! Reveal the truth.' So that lady delivered a child resembling the man whom her husband had mentioned he had found her with. The Prophet (ﷺ) then made them carry out Lian." Then a man from that gathering asked Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما , "Was she the same lady regarding which the Prophet (ﷺ) had said, 'If I were to stone to death someone without witness, I would have stoned this lady'?" Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said, "No, that was another lady who, though being a Muslim, used to arouse suspicion by her outright misbehavior. " Abu Sualih and Abdullah bin Yousuf narrates that this report contains the word ''خَدِلاً‏'' .

Urdu

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے ، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں لعان کا ذکر ہوا اور عاصم رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں کوئی بات کہی ( کہ میں اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھ لوں تو وہیں قتل کر دوں ) اور چلے گئے ، پھر ان کی قوم کے ایک صحابی ( عویمر ر ضی اللہ عنہ ) ان کے پاس آئے یہ شکایت لے کر کہ انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر مرد کو پایا ہے ۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے آج یہ ابتلا میری اسی بات کی وجہ سے ہوا ہے ( جو آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہی تھی ) پھر وہ انہیں لے کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ واقعہ بتایا جس میں ملوث اس صحابی نے اپنی کو پایا تھا ۔ یہ صاحب زرد رنگ ، کم گوشت والے ( پتلے دبلے ) اور سیدھے بال والے تھے اور جس کے متعلق انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ ( تنہائی میں ) پایا ، وہ گھٹے ہوئے جسم کا ، گندمی اور بھر ے گوشت والا تھا ، پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! اس معاملہ کو صاف کر دے ۔ چنانچہ اس عورت نے بچہ اسی مرد کی شکل کا جنا جس کے متعلق شوہر نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ پایا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میاں بیوی کے درمیان لعان کرایا ۔ ایک شاگرد نے مجلس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا یہی وہ عورت ہے جس کے متعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بلاشہادت کے سنگسار کر سکتا تو اس عورت کو سنگسار کرتا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں ( یہ جملہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس عورت کے متعلق فرمایا تھا جس کی بدکاری اسلام کے زمانہ میں کھل گئی تھی ۔ ابوصالح اور عبداللہ بن یوسف نے اس حدیث میں بجائے خدلا کے کسرہ کے ساتھ دال خدلا روایت کیا ہے لیکن معنی وہی ہے ۔

Hadith 5311
Sahih
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ فَقَالَ فَرَّقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ، وَقَالَ ‏"‏ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ‏"‏‏.‏ فَأَبَيَا‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبُ ‏"‏‏.‏ فَأَبَيَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ‏"‏ فَأَبَيَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا‏.‏ قَالَ أَيُّوبُ فَقَالَ لِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ إِنَّ فِي الْحَدِيثِ شَيْئًا لاَ أَرَاكَ تُحَدِّثُهُ قَالَ قَالَ الرَّجُلُ مَالِي قَالَ قِيلَ لاَ مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَقَدْ دَخَلْتَ بِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَهْوَ أَبْعَدُ مِنْكَ‏.‏
English

Narrated Sa`id bin Jubair:

I asked Ibn `Umar رضی اللہ عنہما , "(What is the verdict if) a man accuses his wife of illegal sexual intercourse?" Ibn `Umar رضی اللہ عنہما said, "The Prophet (ﷺ) separated (by divorce) the couple of Bani Al-Ajlan, and said, (to them), 'Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent?' But both of them refused. He again said, 'Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent?' But both of them refused. So he separated them by divorce." (Aiyub, a sub-narrator said: `Amr bin Dinar said to me, "There is something else in this Hadith which you have not mentioned. It goes thus: The man said, 'What about my money (i.e. the Mahr that I have given to my wife)?' It was said, 'You have no right to restore any money, for if you have spoken the truth (as regards the accusation), you have also consummated your marriage with her; and if you have told a lie, you are less rightful to have your money back.' ")

Urdu

ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو اسماعیل نے خبر دی ، انہیں ایوب نے ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ

میں نے حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کا حکم پوچھا جس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی ہو تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے میاں بیوی کے درمیان ایسی صورت میں جدائی کرا دی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے ، تو کیا تم میں سے ایک ( جو واقعی گناہ میں مبتلا ہو ) رجو ع کرے گا لیکن ان دونوں نے انکار کیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کر دی ۔ اور بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن دینار نے فرمایا کہ حدیث کے بعض اجزاء میرا خیال ہے کہ میں نے ابھی تم سے بیان نہیں کئے ہیں ۔ فرمایا کہ ان صاحب نے ( جنہوں نے لعان کیا تھا ) کہا کہ میرے مال کا کیا ہو گا ( جو میں نے مہر میں دیا تھا ) بیان کیا کہ اس پر ان سے کہا گیا کہ وہ مال ( جو عورت کو مہر میں دیا تھا ) اب تمہارا نہیں رہا ۔ اگر تم سچے ہو ( اس تہمت لگانے میں تب بھی کیونکہ ) تم اس عورت کے پاس تنہائی میں جا چکے ہو اور اگر تم جھوٹے ہو تب تو تم کو اور بھی مہر نہ ملنا چاہیئے ۔

Hadith 5312
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ،، فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلْمُتَلاَعِنَيْنِ ‏"‏ حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، لاَ سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ مَالِي قَالَ ‏"‏ لاَ مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا، فَهْوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا، فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرٍو‏.‏ وَقَالَ أَيُّوبُ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ لاَعَنَ امْرَأَتَهُ فَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ ـ وَفَرَّقَ سُفْيَانُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ـ فَرَّقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ، وَقَالَ ‏"‏ اللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ‏"‏‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرٍو وَأَيُّوبَ كَمَا أَخْبَرْتُكَ‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

Those who were involved in a case of Lien. He said, "The Prophet (ﷺ) said to those who were involved in a case of Lien, 'Your accounts are with Allah. One of you two is a liar, and you (the husband) have no right over her (she is divorced)." The man said, 'What about my property (Mahr) ?' The Prophet (ﷺ) said, 'You have no right to get back your property. If you have told the truth about her then your property was for the consummation of your marriage with her; and if you told a lie about her, then you are less rightful to get your property back.' " Sufyan, a sub-narrator said: I learned the Hadith from `Amr. Narrated Aiyub: I heard Sa`id bin Jubair saying, "I asked Ibn `Umar, 'If a man (accuses his wife for an illegal sexual intercourse and) carries out the process of Lian (what will happen)?' Ibn `Umar set two of his fingers apart. (Sufyan set his index finger and middle finger apart.) Ibn `Umar said, 'The Prophet (ﷺ) separated the couple of Bani Al-Ajlan by divorce and said thrice, "Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent (to Allah)?' " Sufyan says that he has narrated this Hadith to you as helearnt it from Amr bin Dinaar and Ayyub.

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ عمرو نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کرنے والوں کا حکم پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ

ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تمہارا حساب تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے ، تم میں سے ایک جھوٹا ہے ۔ اب تمہیں تمہاری بیوی پر کوئی اختیار نہیں ۔ ان صحابی نے عرض کیا کہ میرا مال واپس کرا دیجئیے ( جو مہر میں دیا گیا تھا ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب وہ تمہارا مال نہیں ہے ۔ اگر تم اس کے معاملہ میں سچے ہو تو تمہارا یہ مال اس کے بدلہ میں ختم ہو چکا کہ تم نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا تھا اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی پھر تو وہ تم سے بعید تر ہے ۔ سفیان نے بیان کیا کہ یہ حدیث میں نے عمرو سے یادکی اور ایوب نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا ، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جس نے اپنی بیوی سے لعان کیا ہو تو آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کیا ۔ سفیان نے اس اشارہ کو اپنی دوشہادت اور بیچ کی انگلیوں کو جداکر کے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنی عجلان کے میاں بیوی کے درمیان جدائی کرائی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے ، تو کیا وہ رجوع کر لے گا ؟ آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا ۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ سفیان بن عیینہ نے مجھ سے کہا ، میں نے یہ حدیث جیسے عمرو بن دینار اور ایوب سے سن کر یاد رکھی تھی ویسی ہی تجھ سے بیان کر دی ۔