Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) was cupped on his head for an ailment he was suffering from while he was in a state of Ihram, at a water place called Lahy-e-Jamal. Hadrat Ikrimah has reported from Hadrat Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما further said: Allah s Apostle was cupped on his head for unilateral headache while he was in a state of Ihram.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن حسان نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر میں پچھنا لگوایا ( یہ پچھنا آپ نے سر کے ) درد کی وجہ سے لگوایا تھا جو لحی جمل نامی پانی کے گھاٹ پر آپ کو ہو گیا تھا ۔اور محمد بن سواء نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام بن حسان نے خبر دی ، انہیں عکرمہ نے اور انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں اپنے سر میں پچھنا لگوایا ۔ آدھے سر کے درد کی وجہ سے جو آپ کو ہو گیا تھا ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
I heard the Prophet (ﷺ) saying, "If there is any good in your medicines, then it is in a gulp of honey, a cupping operation, or branding (cauterization), but I do not like to be (cauterized) branded.
ہم سے اسماعیل بن ابان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عاصم بن عمر نے بیان کیا ، ان سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا کہ اگر تمہاری دوائیوں میں کوئی بھلائی ہے تو شہد کے شربت میں ہے اور پچھنا لگوانے میں ہے اور آگ سے داغنے میں ہے لیکن میں آگ سے داغ کر علاج کو پسند نہیں کرتا ۔
Narrated Ka`b bin Ujrah رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) came to me during the period of Al-Hudaibiya, while I was lighting fire underneath a cooking pot and lice were falling down my head. He said, "Do your lice hurt your?" I said, "Yes." He said, "Shave your head and fast for three days or feed six poor persons or slaughter a sheep as a sacrifice:" Ayyub, the transmitter, says: I have not remembered the sequence of these acts.
ہم سے مسددنے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے مجاہد سے سنا ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوویں میرے سر سے گر رہی تھی ( اور میں احرام باندھے ہوئے تھا ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا سر کی یہ جوویں تمہیں تکلیف پہنچاتی ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں ۔ فرمایا کہ پھر سر منڈوالے اور ( کفارہ کے طور پر ) تین دن کے روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلایا ایک قربانی کر دے ۔ ایوب نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ ( ان تین چیزوں میں سے ) کس کا ذکر سب سے پہلے کیا تھا ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "If there is any healing in your medicines then it is a cupping operation, or branding (cauterization), but I do not like to be (cauterized) branded."
ہم سے ابو الولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن سلیمان بن غسیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن عمر بن قتادہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، ان سے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری دواؤں میں شفاء ہے تو پچھنا لگوانے اور آگ سے داغنے میں ہے لیکن آگ سے داغ کر علاج کو میں پسند نہیں کرتا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Nations were displayed before me; one or two prophets would pass by along with a few followers. A prophet would pass by accompanied by nobody. Then a big crowd of people passed in front of me and I asked, Who are they Are they my followers?" It was said, 'No. It is Moses and his followers It was said to me, 'Look at the horizon.'' Behold! There was a multitude of people filling the horizon. Then it was said to me, 'Look there and there about the stretching sky! Behold! There was a multitude filling the horizon,' It was said to me, 'This is your nation out of whom seventy thousand shall enter Paradise without reckoning.' "Then the Prophet (ﷺ) entered his house without telling his companions who they (the 70,000) were. So the people started talking about the issue and said, "It is we who have believed in Allah and followed His Apostle; therefore those people are either ourselves or our children who are born m the Islamic era, for we were born in the Pre-lslamic Period of Ignorance.'' When the Prophet (ﷺ) heard of that, he came out and said. "Those people are those who do not treat themselves with Ruqya, nor do they believe in bad or good omen (from birds etc.) nor do they get themselves branded (Cauterized). but they put their trust (only) in their Lord " On that 'Ukasha bin Muhsin said. "Am I one of them, O Allah's Messenger (ﷺ)?' The Prophet (ﷺ) said, "Yes." Then another person got up and said, "Am I one of them?" The Prophet (ﷺ) said, 'Ukasha has anticipated you."
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نظر بد اورزہریلے جانور کے کاٹ کھانے کے سوا اور کسی چیز پر جھاڑ پھونک صحیح نہیں ۔ ( حصین نے بیان کیا کہ ) پھر میں نے اس کا ذکر سعید بن جبیر سے کیا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے سامنے تمام امتیں پیش کی گئیں ایک ایک دو دونبی اور ان کے ساتھ ان کے ماننے والے گزرتے رہے اور بعض نبی ایسے بھی تھے کہ ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا آخر میرے سامنے ایک بڑی بھاری جماعت آئی ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں ، کیایہ میری امت کے لوگ ہیں ؟ کہا گیا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے پھر کہا گیا کہ کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا کہ ایک بہت ہی عظیم جماعت ہے جو کناروں پر چھائی ہوئی ہے پھر مجھ سے کہا گیا کہ ادھر دیکھو ادھر دیکھو آسمان کے مختلف کناروں میں میں نے دیکھا کہ جماعت ہے جو تمام افق پر چھائی ہوئی ہے ۔ کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور اس میں سے ستر ہزار حساب کے بغیر جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے ۔ اس کے بعد آپ ( اپنے حجرہ میں ) تشریف لے گئے اور کچھ تفصیل نہیں فرمائی لوگ ان جنتیوں کے بارے میں بحث کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور اس کے رسول کی اتباع کی ہے ، اس لیے ہم ہی ( صحابہ ) وہ لوگ ہیں یا ہماری وہ اولاد ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئے کیونکہ ہم جاہلیت میں پیدا ہوئے تھے ۔ یہ باتیں جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئیں تو آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے ، فال نہیں دیکھتے اور داغ کر علاج نہیں کرتے بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ اس پر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ۔ اس کے بعد دوسرے صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! میں بھی ان میں ہوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ تم سے بازی لے گئے ۔
Narrated Um Salama رضی اللہ عنہا :
The husband of a lady died and her eyes became sore and the people mentioned her story to the Prophet They asked him whether it was permissible for her to use kohl as her eyes were exposed to danger. He said, "Previously, when one of you was bereaved by a husband she would stay in her dirty clothes in a bad unhealthy house (for one year), and when a dog passed by, she would throw a globe of dung. No, (she should observe the prescribed period Idda) for four months and ten days.'
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعیدقطان نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھ سے حمید بن نافع نے بیان کیا ، ان سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اور ان سے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ
ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا ( زمانہ عدت میں ) اس عورت کی آنکھ دکھنے لگی تو لوگوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ۔ ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سرمہ کا ذکر کیا اور یہ کہ ( اگر سرمہ آنکھ میں نہ لگایا تو ) ان کی آنکھ کے متعلق خطرہ ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( زمانہ جاہلیت میں ) عدت گزارنے والی تم عورتوں کے اپنے گھر میں سب سے بد تر کپڑے میں پڑا رہنا پڑتا تھا یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) اپنے کپڑوں میں گھر کے سب سے بد تر حصہ میں پڑا رہنا پڑتا تھا پھر جب کوئی کتا گزرتا تو اس پروہ مینگنی پھینک کر مارتی ( تب عدت سے باہر ہوتی ) پس چار مہینے دس دن تک سرمہ نہ لگاؤ ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "(There is) no 'Adwa (no contagious disease is conveyed without Allah's permission). nor is there any bad omen (from birds), nor is there any Hamah, nor is there any bad omen in the month of Safar, and one should run away from the leper as one runs away from a lion."
اور عفان بن مسلم ( امام بخاری کے شیخ ) نے کہا ( ان کو ابونعیم نے وصل کیا ) ہے کہ ہم سے سلیم بن حیان نے بیان کیا ، ان سے سعید بن میناء نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوت لگنا ، بدشگونی لینا ، الو کا منحوس ہونا اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب لغو خیالات ہیں البتہ جذامی شخص سے ایسے بھاگتاہے جیسے کہ شیر سے بھاگتا ہے ۔
Narrated Sa`id bin Zaid رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Truffles are like Manna (i.e. they grow naturally without man's care) and their water heals eye diseases." Shobah, Hakam bin Otaibah, Hasan Al-Oraniyya, Amr bin Huraith, Hadrat Saeed bin Zaid reported the same from the prophet ﷺ. Shobah says: When Hakam (bin Otaibah) told me this Hadith of Abdul Malik, I did not disapprove it.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالملک بن عمیر نے کہا کہ میں نے عمرو بن حریث سے سنا ، کہا کہ میں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھنبی من میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لیے شفاء ہے ۔ اسی سند سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھے حکم بن عتیبہ نے خبر دی ، انہیں حسن بن عبداللہ عرنی نے ، انہیں عمرو بن حریث نے اور انہیں سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حدیث بیان کی ، شعبہ نے کہا کہ جب حکم نے بھی مجھ سے یہ حدیث بیان کر دی تو پھر عبدالملک بن عمیر کی روایت پر مجھکو اعتماد ہو گیا کیونکہ عبدالملک کا حافظہ آخر میں بگڑ گیا تھا شعبہ کو صرف اس کی روایت پر بھروسہ نہ رہا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما and `Aisha رضی اللہ عنہا :
Abu Bakr رضی اللہ عنہ kissed (the forehead of) the Prophet (ﷺ) when he was dead.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعش مبارک کو بوسہ دیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے تھے۔
Narrated Um Qais:
I went to Allah's Messenger (ﷺ) along with a a son of mine whose palate and tonsils I had pressed with my finger as a treatment for a (throat and tonsil) disease. The Prophet (ﷺ) said, "Why do you pain your children by pressing their throats! Use Ud Al-Hindi (certain Indian incense) for it cures seven diseases, one of which is pleurisy. It is used as a snuff for treating throat and tonsil disease and it is inserted into one side of the mouth of one suffering from pleurisy." So, I (Sufyan) heard Zuhri say: He narrated to us only two diseases and did not express five. I (Ali bin Abdullah) said to Sufyan that Mamar said: Aalaqtu Alaihi. He said he had not remembered for it is "Aalaqtu Unhu" which I have learnt hearing from the mouth of Zuhri. And Sufyan narrated the condition of the boy in the way his throat was pressed with the fingers, and Sufyan inserted the finger in his throat to display in this way the throat of the boy was pressed with the finger and he did not say: Aaliqu Unhu Shaiun.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ، ان سے زہری نے ، کہا مجھ کوعبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور انہیں ام قیس رضی اللہ عنہا نے کہ
میں اپنے ایک لڑکے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ میں نے اس کی ناک میں بتی ڈالی تھی ، اس کا حلق دبایا تھا چونکہ اس کو گلے کی بیماری ہو گئی تھی آپ نے فرمایاتم اپنے بچوں کو انگلی سے حلق دبا کر کیوںتکلیف دیتی ہو یہ عود ہندی لو اس میں سات بیماریوں کی شفاء ہے ان میں ایک ذات الجنب ( پسلی کا ورم بھی ہے ) اگر حلق کی بیماری ہو تو اس کو ناک میں ڈالو اگر ذات الجنب ہو تو حلق میں ڈالو ( لدود کرو ) سفیان کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بیماریوں کو تو بیان کیا باقی پانچ بیماریوں کو بیان نہیں فرمایا ، علی بن عبداللہ مدینی نے کہا میں نے سفیان سے کہا ، معمر توزہری سے یوں نقل کرتا ہے ” اعلقت عنہ “ انہوں نے کہا کہ معمر نے یاد نہیں رکھا ۔ مجھے یادہے زہری نے یوں کہا تھاا ” اعلقت علیہ “ اورسفیان نے اس تحنیک کو بیان کیا جو بچہ کو پیدائش کے وقت کی جاتی ہے سفیان نے انگلی حلق میں ڈال کر اپنے کو لے کو انگلی سے اٹھایا تو سفیان نے اعلاق کا معنی بچے کے حلق میں انگلی ڈال کرتالو کو اٹھایا انہوں نے یہ نہیں کہا ” اعلقوا عنہ شیئا “ ۔
Narrated `Aisha (the wife of the Prophet) رضی اللہ عنہا :
When the health of Allah's Messenger (ﷺ) deteriorated and his condition became serious, he asked the permission of all his wives to allow him to be treated In my house, and they allowed him. He came out, supported by two men and his legs were dragging on the ground between `Abbas and another man. (The sub-narrator told Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما who said: Do you know who was the other man whom `Aisha did not mention? The sub-narrator said: No. Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said: It was `Ali.) `Aisha رضی اللہ عنہا added: When the Prophet entered my house and his disease became aggravated, he said, "Pour on me seven water skins full of water (the tying ribbons of which had not been untied) so that I may give some advice to the people." So we made him sit in a tub belonging to Hafsa رضی اللہ عنہا, the wife of the Prophet (ﷺ) and started pouring water on him from those water skins till he waved us to stop. Then he went out to the people and led them in prayer and delivered a speech before them.
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کوعبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو معمر اوریونس نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
جب ( مرض الموت میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چلنا پھرنا دشوار ہو گیا اور آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو آپ نے بیماری کے دن میرے گھر میں گزارنے کی اجازت اپنی دوسری بیویوں سے مانگی جب اجازت مل گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دواشخاص حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ایک صاحب کے درمیاں ان کا سہارا لے کر باہر تشرےف لائے ، آپ کے مبارک قدم زمین پر گھسٹ رہے تھے ۔ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا تمہیں معلوم ہے وہ دوسرے صاحب کون تھے جن کا عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں بتایا ، میں نے کہا کہ نہیں کہا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ان کے حجرے میں داخل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ آپ کا مرض بڑھ گیا تھا کہ مجھ پر سات مشک ڈالو جو پانی سے لبریز ہوں ۔ شاید میں لوگوں کو کچھ نصیحت کر سکوں ۔ بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نے ایک لگن میں بٹھایا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کا تھا اور آپ پر حکم کے مطابق مشکوں سے پانی ڈالنے لگے آخر آپ نے ہمیں اشارہ کیا کہ بس ہو چکا ۔ بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے مجمع میں گئے ، انہیں نماز پڑھائی اور انہیں خطاب فرمایا ۔
Narrated Um Qais:
Having associated with with Asad Khuzaimah and one of those women who first of all emigrated and took an oath of allegiance to the prophet ﷺ, and she is Hadrat Ukkashah's sisiter. She said that she took to Allah's Messenger (ﷺ) one of her sons whose palate and tonsils she had pressed because he had throat trouble. The Prophet (ﷺ) said, "Why do you pain your children by getting the palate pressed like that? Use the Ud Al-Hindi (certain Indian incense) for it cures seven diseases one of which is pleurisy." Oud-e-Hindi means Kust. Younus and Ishaq bin Rashid reports '' Allaqat Alaihi'' from Zuhri.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ ام قیس بنت محصن اسدیہ نے انہیں خبر دی ،
ان کا تعلق قبیلہ خزیمہ کی شاخ بن اسد سے تھا وہ ان ابتدائی مہاجرات میں سے تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ۔ آپ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں ( انہوں نے بیان کیا کہ ) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئیں ۔ انہوں نے اپنے لڑکے کے عذرہ کا علاج تالو دبا کرکیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر تم عورتیں کیوں اپنی اولاد کو یوں تالو دبا کر تکلیف پہنچاتی ہو ۔ تمہیں چاہیئے کہ اس مرض میں عود ہندی کا استعمال کیا کروکیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے ۔ ان میں ایک ذات الجنب کی بیماری بھی ہے ( عود ہندی سے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کست تھی یہی عود ہندی ہے ۔ اوریونس اور اسحاق بن راشد نے بیان کیا اور ان سے زہری نے اس روایت میں بجائے اعلقت علیہ کے علقت علیہ نقل کیا ہے ۔
Narrated Abu Sa`id رضی اللہ عنہ :
A man came to the prophet and said, 'My brother has got loose motions. The Prophet (ﷺ) said, Let him drink honey." The man again (came) and said, 'I made him drink (honey) but that made him worse.' The Prophet (ﷺ) said, 'Allah has said the Truth, and the `Abdomen of your brother has told a lie." Nadr has reported likewise from Shobah.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے ابو المتوکل نے اور ان سے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے بھائی کو دست آ رہے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں شہد پلاؤ ۔ انہوں نے پلایا اور پھر واپس آ کر کہا کہ میں نے انہیں شہد پلایا لیکن ان کے دستوں میں کوئی کمی نہیں ہوئی ۔ آپ نے اس پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے ( آخر شہد ہی سے اسے شفاء ہوئی ) محمد بن جعفر کے ساتھ اس حدیث کو نضر بن شمیل نے بھی شعبہ سے روایت کیا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, 'There is no 'Adwa (no disease is conveyed from the sick to the healthy without Allah's permission), nor Safar, nor Hama." A bedouin stood up and said, "Then what about my camels? They are like deer on the sand, but when a mangy camel comes and mixes with them, they all get infected with mangy." The Prophet (ﷺ) said, "Then who conveyed the (mange) disease to the first one?" Zuhri, too, has reported it from Abu Salamah and Sinan bin Sinan.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے صالح نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن وغیرہ نے خبر دی اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امراض میں چھوت چھات صفر اور الو کی نحو ست کی کوئی اصل نہیں اس پر ایک اعرابی بولا کہ کہ یا رسول اللہ ! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہو گیا کہ وہ جب تک ریگستان میں رہتے ہیں تو ہر نوں کی طرح ( صاف اور خوب چکنے ) رہتے ہیں پھر ان میں ایک خارش والا اونٹ آ جاتا ہے اور ان میں گھس کر انہیں بھی خارش لگا جاتا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا لیکن یہ بتاؤ کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی ؟ اس کی روایت زہری نے ابوسلمہ اور حضرت سنان بن سنان کے واسطہ سے کی ہے ۔
Narrated Ukkashah bin Mihsan رضی اللہ عنہ :
She took to Allah's Messenger (ﷺ) one of her sons whose palate and tonsils she had pressed to treat a throat trouble. The Prophet (ﷺ) said, "Be afraid of Allah! Why do you pain your children by having their tonsils pressed like that? Use the Ud Al-Hindi (a certain Indian incense) for it cures seven diseases, one of which is pleurisy." Al- Kust means Al-Qust and it is used in both ways.
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو عتاب بن بشیر نے خبر دی ، انہیں اسحاق نے ، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ ام قیس بنت محصن جو پہلے پہل ہجرت کرنے والی عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی اور وہ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں ، خبر دی کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئیں ۔ انہوں نے اس بچے کا کوا گرنے میں تالو دبا کر علاج کیا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو کہ تم اپنی اولاد کو اس طرح تالو دبا کر تکلیف پہنچاتی ہو عود ہندی ( کوٹ ) اس میں استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں کے لیے شفاء ہے جن میں سے ایک نمونیہ بھی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عود ہندی سے کست تھی جسے قسط بھی کہتے ہیں یہ بھی ایک لغت ہے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) allowed one of the Ansar families to treat persons who have taken poison and also who are suffering from ear ailment with Ruqya. Anas رضی اللہ عنہ added: I got myself branded cauterized) for pleurisy, when Allah's Messenger (ﷺ) was still alive. Abu Talha, Anas bin An-Nadr and Zaid bin Thabit witnessed that, and it was Abu Talha رضی اللہ عنہ who branded (cauterized) me.
ہم سے عارم نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا کہ ایوب سختیانی کے سامنے ابوقلابہ کی لکھی ہوئی احادیث پڑھی گئیں ان میں وہ احادیث بھی تھیں جنہیں ( ایوب نے ابوقلابہ سے ) بیان کیا تھا اور وہ بھی تھیں جو ان کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تھیں ۔ ان لکھی ہوئی احادیث کے ذخیرہ میں انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی تھی کہ ابوطلحہ اور انس بن نضر نے انس رضی اللہ عنہم کو داغ لگا کر ان کا علاج کیا تھا یا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خود اپنے ہاتھ سے داغا تھا ۔ اور عباد بن منصور نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں جھاڑنے کی اجازت دی تھی تو انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ذات الجنب کی بیماری میں مجھے داغا گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور اس وقت ابوطلحہ ، انس بن نضر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے داغا تھا ۔
Narrated Sahl bin Saud As-Sa`idi رضی اللہ عنہ :
When the helmet broke on the head of the Prophet (ﷺ) and his face became covered with blood and his incisor tooth broke (i.e. during the battle of Uhud), `Ali رضی اللہ عنہ used to bring water in his shield while Fatima رضی اللہ عنہا was washing the blood off his face. When Fatima رضی اللہ عنہا saw that the bleeding increased because of the water, she took a mat (of palm leaves), burnt it, and stuck it (the burnt ashes) on the wound of Allah's Apostle, whereupon the bleeding stopped.
مجھ سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے بیان کیا ، اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر ( احد کے دن ) خود ٹوٹ گیا آپ کا مبارک چہرہ خون آلود ہو گیا اور سامنے کے دانت ٹوٹ گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ ڈھال بھربھر کر پانی لاتے تھے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے چہرہ مبارک سے خون دھو رہی تھیں ۔ پھر جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خون پانی سے بھی زیادہ آ رہا ہے تو انہوں نے ایک بوریا جلا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں پر لگایا اور اس سے خون رکا ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
"The Prophet (ﷺ) said, 'Fever is from the heat of Hell, so put it out (cool it) with water.' " Nafi` added: `Abdullah رضی اللہ عنہما used to say, "O Allah! Relieve us from the punishment," (when he suffered from fever).
مجھ سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے پس اس کی گرمی کو پانی سے بجھاؤ ۔ نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ( کو جب بخار آتا تو ) یوں دعا کرتے کہ ” اللہ ! ہم سے اس عذاب کو دور کر دے ۔ “
Narrated Fatima bint Al-Mundhir:
Whenever a lady suffering from fever was brought to Asma' bint Abu Bakr رضی اللہ عنہما , she used to invoke Allah for her and then sprinkle some water on her body, at the chest and say, "Allah's Messenger (ﷺ) used to order us to abate fever with water."
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ان سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے بیان کیا ، ان سے فاطمہ بنت منذر نے بیان کیا کہ
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کے ہاں جب کوئی بخار میں مبتلا عورت لائی جاتی تھی تو وہ اس کے لیے دعا کرتیں اور اس کے گریبان میں پانی ڈالتیں وہ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ بخار کو پانی سے ٹھنڈا کریں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said, "Fever is from the heat of Hell, so abate fever with water."
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا ، کہا کہ میرے والد نے مجھ کو خبر دی اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے اس لیے اسے پانی سے ٹھنڈا کرو ۔