Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Two men came from the East and addressed the people who wondered at their eloquent speeches On that Allah's Messenger (ﷺ) said. Some eloquent speech is as effective as magic.'
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں زید بن اسلم نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
دو آدمی پورب کی طرف ( ملک عراق ) سے ( سنہ 9ھ میں ) مدینہ آئے اور لوگوں کو خطاب کیا لوگ ان کی تقریر سے بہت متاثر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض تقریریں بھی جادو بھری ہوتی ہیں یا یہ فرمایا کہ بعض تقریر جادو ہوتی ہیں ۔
Narrated Sa`d رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "If somebody takes some `Ajwa dates every morning, he will not be affected by poison or magic on that day till night." (Another narrator said seven dates).
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے مروان بن معاویہ فزاری نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہاشم بن ہاشم بن عقبہ نے خبر دی ، کہا ہم کو عامر بن سعد نے خبر دی اور ان سے ان کے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص روزانہ چند عجوہ کھجوریں کھا لیا کرے اسے اس دن رات تک زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ۔ علی بن عبداللہ مدینی کے سوا دوسرے راوی نے بیان کیا کہ ” سات کھجوریں “ کھا لیا کرے ۔
Narrated Sa`d رضی اللہ عنہ :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "If Somebody takes seven 'Ajwa dates in the morning, neither magic nor poison will hurt him that day."
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو ابواسامہ حماد بن اسامہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم نے بیان کیاکہ میں نے عامر بن سعد سے سنا ، انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کہ جس شخص نے صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھالیں اس دن اسے نہ زہر نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ جادو ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, 'No 'Adwa (i.e. no contagious disease is conveyed to others without Allah's permission); nor (any evil omen in the month of) Safar; nor Hama" A bedouin said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What about the camels which, when on the sand (desert) look like deers, but when a mangy camel mixes with them they all get infected with mange?" On that Allah s Apostle said, "Then who conveyed the (mange) disease to the first (mangy) camel?"
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے ، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوت لگ جانا ، صفر کی نحوست اور الو کی نحوست کوئی چیز نہیں ۔ ایک دیہاتی نے کہا کہ یا رسول اللہ ! پھر اس اونٹ کے متعلق کیا کہا جائے گا جو ریگستان میں ہرن کی طرح صاف چمکدار ہوتا ہے لیکن خارش والا اونٹ اسے مل جاتا ہے اور اسے بھی خارش لگا دیتا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی ؟
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said: Do not let the diseased camel mix up with the healthy and Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ disapproved the first Hadith. We submitted: You did not narrate: There is no contagious disease? He, thereupon, said something in Ethiopian language. Abu Salamah states that he did not find him forgetting anything except this one.
اور ابوسلمہ سے روایت ہے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اپنے بیمار اونٹوں کو کسی کے صحت مند اونٹوں میں نہ لے جائے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پہلی حدیث کا انکار کیا ۔ ہم نے ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ) عرض کیا کہ آپ ہی نے ہم سے یہ حدیث نہیں بیان کی ہے کہ چھوت یہ نہیں ہوتا پھر وہ ( غصہ میں ) حبشی زبان بولنے لگے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ اس حدیث کے سوا میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اور کوئی حدیث بھولتے نہیں دیکھا ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "there is neither 'Adwa nor Tiyara, and an evil omen is only in three: a horse, a woman and a house."
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، ان سے یونس بن یزید نے ، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ اور حمزہ نے خبر دی اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوت لگ جانے کی کوئی حقیقت نہیں ہے بد شگونی کی کوئی اصل نہیں ۔ ( اگر ممکن ہوتی تو ) نحوست تین چیزوں میں ہوتی ۔ گھوڑے میں عورت میں اور گھر میں ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "No 'Adwa."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت کی کوئی حقیقت نہیں۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "No 'Adwa nor Tiyara; but I like Fal." They said, "What is the Fal?" He said, "A good word."
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن جعفر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوت لگنا کوئی چیز نہیں ہے اور بد شگونی نہیں ہے البتہ نیک فال مجھے پسند ہے ۔ صحابی نے عرض کیا نیک فال کیا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھی بات منہ سے نکالنا یا کسی سے سن لینا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
When Khaibar was conquered, Allah's Messenger (ﷺ) was presented with a poisoned (roasted) sheep. Allah's Apostle said, "Collect for me all the Jews present in this area." (When they were gathered) Allah's Apostle said to them, "I am going to ask you about something; will you tell me the truth?" They replied, "Yes, O Abal-Qasim!" Allah's Messenger (ﷺ) said to them, "Who is your father?" They said, "Our father is so-and-so." Allah's Messenger (ﷺ) said, "You have told a lie. for your father is so-and-so," They said, "No doubt, you have said the truth and done the correct thing." He again said to them, "If I ask you about something; will you tell me the truth?" They replied, "Yes, O Abal-Qasim! And if we should tell a lie you will know it as you have known it regarding our father," Allah's Messenger (ﷺ) then asked, "Who are the people of the (Hell) Fire?" They replied, "We will remain in the (Hell) Fire for a while and then you (Muslims) will replace us in it" Allah's Messenger (ﷺ) said to them. ''You will abide in it with ignominy. By Allah, we shall never replace you in it at all." Then he asked them again, "If I ask you something, will you tell me the truth?" They replied, "Yes." He asked. "Have you put the poison in this roasted sheep?" They replied, "Yes," He asked, "What made you do that?" They replied, "We intended to learn if you were a liar in which case we would be relieved from you, and if you were a prophet then it would not harm you."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے ، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے بیان کیا کہ
جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری ہدیہ میں پیش کی گئی ( ایک یہودی عورت زینب بنت حرث نے پیش کی تھی ) جس میں زہر بھرا ہوا تھا ، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں پر جتنے یہودی ہیں انہیں میرے پاس جمع کرو ۔ چنانچہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع کئے گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے ایک بات پوچھو ں گا کیا تم مجھے صحیح صحیح بات بتا دو گے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اے ابوالقاسم ! پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا پردادا کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ فلاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جھوٹ کہتے ہو تمہارا پردادا تو فلاں ہے ۔ اس پر وہ بولے کہ آپ نے سچ فرمایا درست فرمایا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں گا تو تم مجھے سچ سچ بتا دوگے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اے ابوالقاسم ! اور اگر ہم جھوٹ بولیں بھی تو آپ ہمارا جھوٹ پکڑ لیں گے جیسا کہ ابھی ہمارے پردادا کے متعلق آپ نے ہمارا جھوٹ پکڑ لیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوزخ والے کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ کچھ دن کے لیے تو ہم اس میں رہیں گے پھر آپ لوگ ہماری جگہ لے لیں گے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو گے ، واللہ ! ہم اس میں تمہاری جگہ کبھی نہیں لیں گے ۔ آپ نے پھر ان سے دریافت فرمایا کیا اگر میں تم سے ایک بات پوچھوں تو تم مجھے اس کے متعلق صحیح صحیح بتا دو گے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا ، انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہیں اس کام پر کس جذبہ نے آمادہ کیا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ جھوٹے ہوں گے تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی اور اگرسچے ہوں گے تو آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever purposely throws himself from a mountain and kills himself, will be in the (Hell) Fire falling down into it and abiding therein perpetually forever; and whoever drinks poison and kills himself with it, he will be carrying his poison in his hand and drinking it in the (Hell) Fire wherein he will abide eternally forever; and whoever kills himself with an iron weapon, will be carrying that weapon in his hand and stabbing his `Abdomen with it in the (Hell) Fire wherein he will abide eternally forever."
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے ذکوان سے سنا ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے پہاڑ سے اپنے آپ کو گرا کر خودکشی کر لی وہ جہنم کی آگ میں ہو گا اور اس میں ہمیشہ پڑا رہے گا اور جس نے زہر پی کر خودکشی کر لی وہ زہر اس کے ساتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں وہ اسے اسی طرح ہمیشہ پیتا رہے گا اور جس نے لوہے کے کسی ہتھیار سے خودکشی کر لی تو اس کا ہتھیار اس کے ساتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے وہ اسے اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا ۔
Narrated Sa`d:
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "Whoever takes seven 'Ajwa dates in the morning will not be effected by magic or poison on that day."
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو احمد بن بشیر ابوبکرنے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو ہاشم بن ہاشم نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عامر بن سعد نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لے اسے اس دن زہر نقصان پہنچا سکے گا اور نہ جادو ۔
Narrated Abu Tha`laba Al-Khushani رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) forbade the eating of wild animals having fangs. (Az-Zuhri said: I did not hear this narration except when I went to Sham.)
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے ابو ادریس خولانی نے اور ان سے ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت سے کھانے والے درندہ جانور ( کے گوشت ) سے منع فرمایا ۔ زہری نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث اس وقت تک نہیں سنی جب تک شام نہیں آیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If a fly falls in the vessel of any of you, let him dip all of it (into the vessel) and then throw it away, for in one of its wings there is a disease and in the other there is healing (antidote for it) i e. the treatment for that disease."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے بنی تمیم کے مولیٰ عتبہ بن مسلم نے بیان کیا ، ان سے بنی زریق کے مولیٰ عبید بن حنین نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مکھی تم میں سے کسی کے برتن میں پڑ جائے تو پوری مکھی کو برتن میں ڈبو دے اور پھر اسے نکال کر پھینک دے کیونکہ اس کے ایک پر میں شفاء ہے اور دوسرے میں بیماری ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
c
اور محمد بن سواء نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام بن حسان نے خبر دی ، انہیں عکرمہ نے اور انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں اپنے سر میں پچھنا لگوایا ۔ آدھے سر کے درد کی وجہ سے جو آپ کو ہو گیا تھا ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
We put medicine in one side of his mouth but he started waving us not to insert the medicine into his mouth. We said, "He dislikes the medicine as a patient usually does." But when he came to his senses he said, "Did I not forbid you to put medicine (by force) in the side of my mouth?" We said, "We thought it was just because a patient usually dislikes medicine." He said, "None of those who are in the house but will be forced to take medicine in the side of his mouth while I am watching, except Al-`Abbas رضی اللہ عنہ , for he had not witnessed your deed."
( عبیداللہ نے ) بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا
ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض ( وفات ) میں دوا آپ کے منہ میں ڈالی تو آپ نے ہمیں اشارہ کیا کہ دو ا منہ میں نہ ڈالو ہم نے خیال کیا کہ مریض کو دوا سے جو نفرت ہوتی ہے اس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منع فرما رہے ہیں پھر جب آپ کو ہوش ہوا تو آپ نے فرمایا کیوں میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا کہ دوا میرے منہ میں نہ ڈالو ۔ ہم نے عرض کیا کہ یہ شاید آپ نے مریض کی دوا سے طبعی نفرت کی وجہ سے فرمایا ہو گا ۔ اس پرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب گھر میں جتنے لوگ اس وقت موجود ہیں سب کے منہ میں دوا ڈالی جائے اور میں دیکھتا رہوں گا ، البتہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا جائے کیونکہ وہ میرے منہ میں ڈالتے وقت موجود نہ تھے ، بعد میں آئے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The cattle suffering from a disease should not be mixed up with healthy cattle (or said "Do not put a patient with a healthy person as a precaution.")."
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مریض اونٹوں والا اپنے اونٹ تندرست اونٹوں والے کے اونٹ میں نہ چھوڑے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "No 'Adwa." A bedouin got up and said, "Don't you see how camels on the sand look like deer but when a mangy camel mixes with them, they all get infected with mange?" On that the Prophet (ﷺ) said, "Then who conveyed the (mange) disease to the first camel?"
اور زہری سے روایت ہے ، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے سنان بن ابی سنان دؤلی نے خبر دی اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت کوئی چیز نہیں ہے ۔ اس پر ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر پوچھا آپ نے دیکھا ہو گا کہ ایک اونٹ ریگستان میں ہرن جیسا صاف رہتا ہے لیکن جب وہی ایک خارش والے اونٹ کے پاس آ جاتا ہے تو اسے بھی خارش ہو جاتی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی ۔
Narrated Ibn Shihab;
I asked, "May we perform the ablution with the milk of she-asses or drink it, or drink the bile of wild animals or urine of camels?" He replied, "The Muslims used to treat themselves with that and did not see any harm in it. As for the milk of she-asses, we have learnt that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the eating of their meat, but we have not received any information whether drinking of their milk is allowed or forbidden." As for the bile of wild animals, Ibn Shihab said, "Abu Idris Al-Khaulani رضی اللہ عنہ told me that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the eating of the flesh of every wild beast having fangs . "
اور لیث نے زیادہ کیا ہے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب زہری نے ، کہ
میں نے پوچھا کیا ہم ( دواکے طور پر ) گدھی کے دودھ سے وضو کر سکتے ہیں یا اسے پی سکتے ہیں یا درندہ جانوروں کے پتے استعمال کر سکتے ہیں یا اونٹ کا پیشاب پی سکتے ہیں ۔ ابو ادریس نے کہا کہ مسلمان اونٹ کے پیشاب کو دوا کے طور پر استعمال کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ۔ البتہ گدھی کے دودھ کے بارے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گوشت سے منع فرمایا تھا ۔ اس کے دودھ کے متعلق ہمیں کوئی حکم یا ممانعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم نہیں ہے ۔ البتہ درندوں کے پتے کے متعلق جو ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے ابو ادریس خولانی نے خبر دی اور انہیں ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت والے شکاری درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے ۔