Back to Sahih Bukhari

Medicine

كتاب الطب

Chapter 77

Hadith 5746
Sahih
حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي الرُّقْيَةِ ‏ "‏ تُرْبَةُ أَرْضِنَا، وَرِيقَةُ بَعْضِنَا، يُشْفَى سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Allah's Messenger (ﷺ) used to read in his Ruqya, "In the Name of Allah" The earth of our land and the saliva of some of us cure our patient with the permission of our Lord." with a slight shower of saliva) while treating with a Ruqya.

Urdu

مجھ سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن سعید نے ، انہیں عمرہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دم کرتے وقت یہ دعاپڑھا کرتے تھے ” ہماری زمین کی مٹی اور ہمارا بعض تھوک ہمارے رب کے حکم سے ہمارے مریض کو شفاء ہو ۔ “

Hadith 5747
Sahih
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفِثْ حِينَ يَسْتَيْقِظُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَيَتَعَوَّذْ مِنْ شَرِّهَا، فَإِنَّهَا لاَ تَضُرُّهُ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَإِنْ كُنْتُ لأَرَى الرُّؤْيَا أَثْقَلَ عَلَىَّ مِنَ الْجَبَلِ، فَمَا هُوَ إِلاَّ أَنْ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فَمَا أُبَالِيهَا‏.‏
English

Narrated Abu Qatada رضی اللہ عنہ :

I heard the Prophet (ﷺ) saying, "A good dream is from Allah, and a bad dream is from Satan. So if anyone of you sees (in a dream) something he dislikes, when he gets up he should blow thrice (on his left side) and seek refuge with Allah from its evil for then it will not harm him." Abu Salamah narrates: Since I heard this Hadith, I have not taken any notice of a dream heavier even than a mountain.

Urdu

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا کہ میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف سے سنا ، کہا کہ میں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے ، اور حلم ( برا خواب جس میں گھبراہٹ ہو ) شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اس لیے جب تم میں سے کوئی شخص کوئی ایسا خواب دیکھے جو براہو تو جاگتے ہی تین مرتبہ بائیں طرف تھو تھو کرے اور اس خواب کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگے ، اس طرح خواب کا اسے نقصان نہیں ہو گا اور ابوسلمہ نے کہا کہ پہلے بعض خواب مجھ پر پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہوتا تھا جب سے میں نے یہ حدیث سنی اور اس پر عمل کرنے لگا ، اب مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوتی ۔

Hadith 5748
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ نَفَثَ فِي كَفَّيْهِ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَبِالْمُعَوِّذَتَيْنِ جَمِيعًا، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ، وَمَا بَلَغَتْ يَدَاهُ مِنْ جَسَدِهِ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا اشْتَكَى كَانَ يَأْمُرُنِي أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ بِهِ‏.‏ قَالَ يُونُسُ كُنْتُ أَرَى ابْنَ شِهَابٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ إِذَا أَتَى إِلَى فِرَاشِهِ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Whenever Allah's Messenger (ﷺ) went to bed, he used to recite Surat-al-Ikhlas, Surat-al-Falaq and Surat-an- Nas and then blow on his palms and pass them over his face and those parts of his body that his hands could reach. And when he fell ill, he used to order me to do like that for him. Hadrat Aishah رضی اللہ عنہا said: When the prophet ﷺ got ill, he ﷺ commanded to do so. Younus narrates that he saw Ibn-e-Shihab doing so while going to his bedding.

Urdu

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ، ان سے یونس بن یزید ایلی نے ، ان سے ابن شہاب زہری نے ، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آرام فرمانے کے لیے لیٹتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں پر ” قل ھو اللہ احد “ اور ” قل اعوذ برب الناس اور الفلق “ سب پڑھ کر دم کرتے پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرہ پر اور جسم کے جس حصہ تک ہاتھ پہنچ پاتا پھیر تے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر جب آپ بیمار ہوتے تو آپ مجھے اسی طرح کرنے کا حکم دیتے تھے ۔ یونس نے بیان کیا کہ میں نے ابن شہاب کو بھی دیکھا کہ وہ جب اپنے بستر پر لیٹتے اسی طرح ان کو پڑھ کر دم کیا کرتے تھے ۔

Hadith 5749
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَهْطًا، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْطَلَقُوا فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا، حَتَّى نَزَلُوا بِحَىٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ، فَلُدِغَ سَيِّدُ ذَلِكَ الْحَىِّ، فَسَعَوْا لَهُ بِكُلِّ شَىْءٍ لاَ يَنْفَعُهُ شَىْءٌ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَوْ أَتَيْتُمْ هَؤُلاَءِ الرَّهْطَ الَّذِينَ قَدْ نَزَلُوا بِكُمْ، لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَىْءٌ‏.‏ فَأَتَوْهُمْ فَقَالُوا يَا أَيُّهَا الرَّهْطُ إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ، فَسَعَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَىْءٍ، لاَ يَنْفَعُهُ شَىْءٌ، فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَىْءٌ فَقَالَ بَعْضُهُمْ نَعَمْ، وَاللَّهِ إِنِّي لَرَاقٍ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَلَمْ تُضَيِّفُونَا، فَمَا أَنَا بِرَاقٍ لَكُمْ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلاً‏.‏ فَصَالَحُوهُمْ عَلَى قَطِيعٍ مِنَ الْغَنَمِ، فَانْطَلَقَ فَجَعَلَ يَتْفُلُ وَيَقْرَأُ ‏{‏الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏}‏ حَتَّى لَكَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ، فَانْطَلَقَ يَمْشِي مَا بِهِ قَلَبَةٌ‏.‏ قَالَ فَأَوْفَوْهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمُ اقْسِمُوا‏.‏ فَقَالَ الَّذِي رَقَى لاَ تَفْعَلُوا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَذْكُرَ لَهُ الَّذِي كَانَ، فَنَنْظُرَ مَا يَأْمُرُنَا‏.‏ فَقَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرُوا لَهُ فَقَالَ ‏"‏ وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ أَصَبْتُمُ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Sa`id رضی اللہ عنہ :

A group of the companions of Allah's Messenger (ﷺ) proceeded on a journey till they dismounted near one of the Arab tribes and requested them to entertain them as their guests, but they (the tribe people) refused to entertain them. Then the chief of that tribe was bitten by a snake (or stung by a scorpion) and he was given all sorts of treatment, but all in vain. Some of them said, "Will you go to the group (those travelers) who have dismounted near you and see if one of them has something useful?" They came to them and said, "O the group! Our leader has been bitten by a snake (or stung by a scorpion) and we have treated him with everything but nothing benefited him Has anyone of you anything useful?" One of them replied, "Yes, by Allah, I know how to treat with a Ruqya. But. by Allah, we wanted you to receive us as your guests but you refused. I will not treat your patient with a Ruqya till you fix for us something as wages." Consequently they agreed to give those travellers a flock of sheep. The man went with them (the people of the tribe) and started spitting (on the bite) and reciting Surat-al-Fatiha till the patient was healed and started walking as if he had not been sick. When the tribe people paid them their wages they had agreed upon, some of them (the Prophet's companions) said, "Distribute (the sheep)." But the one who treated with the Ruqya said, "Do not do that till we go to Allah's Apostle and mention to him what has happened, and see what he will order us." So they came to Allah's Messenger (ﷺ) and mentioned the story to him and he said, "How do you know that Surat-al-Fatiha is a Ruqya? You have done the right thing. Divide (what you have got) and assign for me a share with you."

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ، ان سے ابو بشر ( جعفر ) ان سے ابو المتوکل علی بن داؤد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ ( 300 نفر ) ایک سفر کے لیے روانہ ہوئے جسے انہیں طے کرنا تھا راستے میں انہوں نے عرب کے ایک قبیلہ میں پڑاؤ کیا اور چاہا کہ قبیلہ والے ان کی مہمانی کریں لیکن انہوں نے انکار کیا ، پھر اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا اسے اچھا کرنے کی ہر طرح کی کوشش انہوں نے کر ڈالی لیکن کسی سے کچھ فائدہ نہیں ہوا ۔ آخر انہیں میں سے کسی نے کہا کہ یہ لوگ جنہوں نے تمہارے قبیلہ میں پڑاؤ کر رکھا ہے ان کے پاس بھی چلو ، ممکن ہے ان میں سے کسی کے پاس کوئی منتر ہو ۔ چنانچہ وہ صحابہ کے پاس آئے اور کہا لوگو ! ہمارے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے ہم نے ہر طرح کی بہت کوشش اس کے لیے کر ڈالی لیکن کسی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا کیا تم لوگوں میں سے کس کے پاس اس کے لیے منترہے ؟ صحابہ میں سے ایک صاحب ( ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ ہاں واللہ میں جھاڑناجانتا ہوں لیکن ہم نے تم سے کہا تھا کہ ہماری مہمانی کرو ( ہم مسافر ہیں ) تو تم نے انکار کر دیا تھا اس لیے میں بھی اس وقت تک نہیں جھاڑوں گا جب تک تم میرے لیے اس کی مزدوری نہ ٹھہرا دو ۔ چنانچہ ان لوگوں نے کچھ بکریوں ( 30 ) پر معاملہ کر لیا ۔ اب یہ صحابی روانہ ہوئے ۔ یہ زمین پر تھوکتے جاتے اور الحمدللہ رب العالمین پڑھتے جاتے اس کی برکت سے وہ ایسا ہو گیا جیسے اس کی رسی کھل گئی ہو اور وہ اس طرح چلنے لگا جیسے اسے کوئی تکلیف ہی نہ رہی ہو ۔ بیان کیا کہ پھر وعدہ کے مطابق قبیلہ والوں نے ان صحابی کی مزدوری ( 30 بکریاں ) ادا کر دی بعض لوگوں نے کہا کہ ان کو تقسیم کر لو لیکن جنہوں نے جھاڑا تھا انہوں نے کہا کہ ابھی نہیں ، پہلے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں پوری صورت حال آپ کے سامنے بیان کر دیں پھر دیکھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں ۔ چنانچہ سب لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہو گیا تھا کہ اس سے دم کیا جا سکتا ہے ؟ تم نے اچھا کیا جاؤ ان کو تقسیم کر لو اور میرا بھی اپنے ساتھ ایک حصہ لگاؤ ۔

Hadith 5750
Sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعَوِّذُ بَعْضَهُمْ يَمْسَحُهُ بِيَمِينِهِ ‏ "‏ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا ‏"‏‏.‏ فَذَكَرْتُهُ لِمَنْصُورٍ فَحَدَّثَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِهِ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

The Prophet (ﷺ) used to treat some of his wives by passing his right hand over the place of ailment and used to say, "O Lord of the people! Remove the difficulty and bring about healing as You are the Healer. There is no healing but Your Healing, a healing that will leave no ailment." (Sufyan) narrated Mansur this Hadith, so he narrated me the same Hadith of Ibrahim from Masrooq and he from Hadrat Aishah رضی اللہ عنہا .

Urdu

ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے ، ان سے اعمش نے ، ان سے مسلم بن ابو الصبیح نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنے گھر کے ) بعض لوگوں پر دم کرتے وقت اپنا داہنا ہاتھ پھیر تے ( اور یہ دعا پڑھتے تھے ) ” تکلیف کو دور کر دے اے لوگوںکے رب ! اور شفاء دے ، تو ہی شفاء دینے والا ہے شفاء وہی ہے جو تیری طرف سے ہو ایسی شفاء کہ بیماری ذرا بھی باقی نہ رہ جائے ، ۔ “ ( سفیان نے کہا کہ پھر میں نے یہ منصور سے بیان کیا تو انہوں نے مجھ سے ابراہیم نخعی سے بیان کیا ، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس ہی کی طرح بیان کیا ۔

Hadith 5751
Sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْفِثُ عَلَى نَفْسِهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، فَلَمَّا ثَقُلَ كُنْتُ أَنَا أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِهِنَّ، فَأَمْسَحُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِبَرَكَتِهَا‏.‏ فَسَأَلْتُ ابْنَ شِهَابٍ كَيْفَ كَانَ يَنْفِثُ قَالَ يَنْفِثُ عَلَى يَدَيْهِ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

The Prophet, during his fatal ailment used to blow (on his hands and pass them) over his body while reciting the Mu'auwidhat (Surat-an-Nas and Surat-al-Falaq). When his disease got aggravated, I used to recite them for him and blow (on his hands) and let him pass his hands over his body because of its blessing. (Ma`mar asked Ibn Shihab: How did he use to do Nafth? He said: He used to blow on his hands and then pass them over his face.)

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن یوسف صنعانی نے بیان کیا ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں عروہ نے اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں معوذات پڑھ کر پھونکتے تھے پھر جب آپ کے لیے یہ دشوار ہو گیا تو میں آپ پردم کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی تھی ( معمر نے بیان کیا کہ ) پھر میں نے ابن شہاب سے سوال کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک مارتے پھر ان کو چہرے پر پھیر لیتے ۔

Hadith 5752
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَقَالَ ‏"‏ عُرِضَتْ عَلَىَّ الأُمَمُ فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلاَنِ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّهْطُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، وَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الأُفُقَ فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ أُمَّتِي، فَقِيلَ هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ‏.‏ ثُمَّ قِيلَ لِي انْظُرْ‏.‏ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الأُفُقَ فَقِيلَ لِي انْظُرْ هَكَذَا وَهَكَذَا‏.‏ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الأُفُقَ فَقِيلَ هَؤُلاَءِ أُمَّتُكَ، وَمَعَ هَؤُلاَءِ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ‏"‏‏.‏ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَلَمْ يُبَيَّنْ لَهُمْ، فَتَذَاكَرَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا أَمَّا نَحْنُ فَوُلِدْنَا فِي الشِّرْكِ، وَلَكِنَّا آمَنَّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَلَكِنْ هَؤُلاَءِ هُمْ أَبْنَاؤُنَا، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ هُمُ الَّذِينَ لاَ يَتَطَيَّرُونَ، وَلاَ يَسْتَرْقُونَ، وَلاَ يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ أَمِنْهُمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ أَمِنْهُمْ أَنَا فَقَالَ ‏"‏ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) once came out to us and said, "Some nations were displayed before me. A prophet would pass in front of me with one man, and another with two men, and another with a group of people. and another with nobody with him. Then I saw a great crowd covering the horizon and I wished that they were my followers, but it was said to me, 'This is Moses and his followers.' Then it was said to me, 'Look'' I looked and saw a big gathering with a large number of people covering the horizon. It was said, "Look this way and that way.' So I saw a big crowd covering the horizon. Then it was said to me, "These are your followers, and among them there are 70,000 who will enter Paradise without (being asked about their) accounts. " Then the people dispersed and the Prophet (ﷺ) did not tell who those 70,000 were. So the companions of the Prophet (ﷺ) started talking about that and some of them said, "As regards us, we were born in the era of heathenism, but then we believed in Allah and His Apostle . We think however, that these (70,000) are our offspring." That talk reached the Prophet (ﷺ) who said, "These (70,000) are the people who do not draw an evil omen from (birds) and do not get treated by branding themselves and do not treat with Ruqya, but put their trust (only) in their Lord." then 'Ukasha bin Muhsin got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Am I one of those (70,000)?" The Prophet (ﷺ) said, "Yes." Then another person got up and said, "Am I one of them?" The Prophet (ﷺ) said, " 'Ukasha has anticipated you."

Urdu

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے حصین بن نمیر نے بیان کیا ، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ ( خواب میں ) مجھ پر تمام امتیں پیش کی گئیں ۔ بعض نبی گزرتے اور ان کے ساتھ ( ان کی اتباع کرنے والا ) صرف ایک ہوتا ۔ بعض گزرتے اور ان کے ساتھ دو ہوتے بعض کے ساتھ پوری جماعت ہوتی اور بعض کے ساتھ کوئی بھی نہ ہوتا پھر میں نے ایک بڑی جماعت دیکھی جس سے آسمان کا کنارہ ڈھک گیا تھا میں سمجھا کہ یہ میری ہی امت ہو گی لیکن مجھ سے کہا گیا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت کے لوگ ہیں پھر مجھ سے کہا کہ دیکھو میں نے ایک بہت بڑی جماعت دیکھی جس نے آسمانوں کا کنارہ ڈھانپ لیا ہے ۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ادھر دیکھو ، ادھر دیکھو ، میں نے دیکھا کہ بہت سی جماعتیں ہیں جو تمام افق پر محیط تھیں ۔ کہا گیا کہ یہ تمہاری امت ہے اور اس میں سے ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بے حساب جنت میں داخل کئے جائیں گے پھر صحابہ مختلف جگہوں میں اٹھ کر چلے گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپس میں اس کے متعلق مذاکرہ کیا اور کہا کہ ہماری پیدائش تو شرک میں ہوئی تھی البتہ بعد میں ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے لیکن یہ ستر ہزار ہمارے بیٹے ہوں گے جو پیدائش ہی سے مسلمان ہیں ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ یہ ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بد فالی نہیں کرتے ، نہ منترسے جھاڑ پھونک کراتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ یہ سن کر حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ فرمایا کہ ہاں ۔ ایک دوسرے صاحب حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ تم سے بازی لے گئے کہ تم سے پہلے عکاشہ کے لیے جو ہونا تھا ہو چکا ۔

Hadith 5753
Sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَالشُّؤْمُ فِي ثَلاَثٍ فِي الْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ، وَالدَّابَّةِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "There is neither 'Adwa (no contagious disease is conveyed to others without Allah's permission) nor Tiyara, but an evil omen may be in three a woman, a house or an animal."

Urdu

مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے ، کہا کہ ہم سے یونس بن یزید ایلی نے ، ان سے سالم نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امراض میں چھوت چھات کی اور بد شگونی کی کوئی اصل نہیں اور اگر نحوست ہوتی تو یہ صرف تین چیزوں میں ہوتی ہے ۔ عورت میں ، گھر میں اورگھوڑے میں ۔

Hadith 5754
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ طِيَرَةَ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا وَمَا الْفَأْلُ قَالَ ‏"‏ الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "There is no Tiyara, and the best omen is the Fal." They asked, "What is the Fal?" He said, "A good word that one of you hears (and takes as a good omen).

Urdu

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بد شگونی کی کوئی اصل نہیں البتہ نیک فال لینا کچھ برا نہیں ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا نیک فال کیا چیز ہے ؟ فرمایا کوئی ایسی بات سننا ۔

Hadith 5755
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ طِيَرَةَ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَمَا الْفَأْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "There is no Tiyara and the best omen is the Fal," Somebody said, "What is the Fal, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "A good word that one of you hears (and takes as a good omen).

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بد شگونی کی کوئی اصل نہیں اور اس میں بہتر فال نیک ہے ۔ لوگوں نے پوچھا کہ نیک فال کیا ہے یا رسول اللہ ! فرمایا کلمہ صالحہ ( نیک بات ) جو تم میں سے کوئی سنے ۔

Hadith 5756
Sahih
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الصَّالِحُ، الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "No 'Adwa (no contagious disease is conveyed to others without Allah's permission), nor Tiyara, but I like the good Fal, i.e., the good word."

Urdu

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوت لگ جانے کی کوئی اصل نہیں اور نہ بد شگونی کی کوئی اصل ہے اور مجھے اچھی فال پسند ہے یعنی کوئی کلمہ خیر اور نیک بات جو کسی کے منہ سے سنی جائے ( جیسا کہ اوپر بیان ہوا ) ۔

Hadith 5757
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ عَدْوَى، وَلاَ طِيَرَةَ، وَلاَ هَامَةَ، وَلاَ صَفَرَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "There is no 'Adwa, nor Tiyara, nor Hama, nor Safar."

Urdu

ہم سے محمد بن حکم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو ابو حصین ( عثمان بن عاصم اسدی ) نے خبر دی ، انہیں ابوصالح ذکوان نے اور انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوت لگ جانا بد شگونی یا الو یا صفر کی نحوست یہ کوئی چیز نہیں ہے ۔

Hadith 5758
Sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ اقْتَتَلَتَا، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَأَصَابَ بَطْنَهَا وَهْىَ حَامِلٌ، فَقَتَلَتْ وَلَدَهَا الَّذِي فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَضَى أَنَّ دِيَةَ مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، فَقَالَ وَلِيُّ الْمَرْأَةِ الَّتِي غَرِمَتْ كَيْفَ أَغْرَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لاَ شَرِبَ، وَلاَ أَكَلَ، وَلاَ نَطَقَ، وَلاَ اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) gave his verdict about two ladies of the Hudhail tribe who had fought each other and one of them had hit the other with a stone. The stone hit her `Abdomen and as she was pregnant, the blow killed the child in her womb. They both filed their case with the Prophet (ﷺ) and he judged that the blood money for what was in her womb. was a slave or a female slave. The guardian of the lady who was fined said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall I be fined for a creature that has neither drunk nor eaten, neither spoke nor cried? A case like that should be nullified." On that the Prophet (ﷺ) said, "This is one of the brothers of soothsayers.

Urdu

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں کے بارے میں جنہوں نے جھگڑا کیا تھا یہاں تک کہ ان میں سے ایک عورت ( ام عطیف بنت مروح ) نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا ( جس کا نام ملیکہ بنت عویمر تھا ) وہ پتھر عورت کے پیٹ میں جا کر لگا ۔ یہ عورت حاملہ تھی اس لیے اس کے پیٹ کا بچہ ( پتھر کی چوٹ سے ) مرگیا ۔ یہ معاملہ دونوں فریق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ نے فیصلہ کیا کہ عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت ایک غلام یا باندی آزاد کرنا ہے جس عورت پر تاوان واجب ہوا تھا اس کے ولی ( حمل بن مالک بن نابغہ ) نے کہا یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! میں ایسی چیز کی دیت کیسے دے دوں جس نے کھایا نہ پیا نہ بولا اور نہ ولادت کے وقت اس کی آواز ہی سنائی دی ؟ ایسی صورت میں تو کچھ بھی دیت نہیں ہو سکتی ۔ آپ نے اس پر فرمایا کہ یہ شخص تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے ۔

Hadith 5759, 5760
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ‏.‏ وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي الْجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ‏.‏ فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لاَ أَكَلَ، وَلاَ شَرِبَ، وَلاَ نَطَقَ، وَلاَ اسْتَهَلَّ، وَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Two ladies (had a fight) and one of them hit the other with a stone on the `Abdomen and caused her to abort. The Prophet (ﷺ) judged that the victim be given either a slave or a female slave (as blood-money). Narrated Ibn Shihab: Sa`id bin Al-Musayyab said, "Allah's Messenger (ﷺ) judged that in case of child killed in the womb of its mother, the offender should give the mother a slave or a female slave in recompense The offender said, How can I be fined for killing one who neither ate nor drank, neither spoke nor cried: a case like that should be denied ' On that Allah's Messenger (ﷺ) said 'He is one of the brothers of the foretellers

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے حضرت امام مالک نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

دو عورتیں تھیں, ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا جس سے اس کے پیٹ کا حمل گر گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں ایک غلام یا باندی کا دیت میں دیئے جانے کا فیصلہ کیا ۔ اور ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے حضرت سعید بن مسیب نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین جسے اس کی ماں کے پیٹ میں مار ڈالا گیا ہو ، کی دیت کے طور پر ایک غلام یا ایک باندی دیئے جانے کا فیصلہ کیا تھا جسے دیت دینی تھی اس نے کہا کہ ایسے بچہ کی دیت آخر کیوں دوں جس نے نہ کھایا ، نہ پیا ، نہ بولا اور نہ ولادت کے وقت ہی آوازنکالی ؟ ایسی صورت میں تو دیت نہیں ہو سکتی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے ۔

Hadith 5761
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ‏.‏
English

Narrated Abu Mas`ud رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) forbade the utilization of the price of a dog, the earnings of prostitute and the earnings of a foreteller.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ابن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ، زنا کی اجرت اور کاہن کی کہا نت کی وجہ سے ملنے والے ہدیہ سے منع فرمایا ہے ۔

Hadith 5762
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاسٌ عَنِ الْكُهَّانِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لَيْسَ بِشَىْءٍ ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَا أَحْيَانًا بِشَىْءٍ فَيَكُونُ حَقًّا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ، يَخْطَفُهَا مِنَ الْجِنِّيِّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ، فَيَخْلِطُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ عَلِيٌّ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مُرْسَلٌ، الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ‏.‏ ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ أَسْنَدَهُ بَعْدَهُ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Some people asked Allah's Messenger (ﷺ) about the fore-tellers He said. ' They are nothing" They said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Sometimes they tell us of a thing which turns out to be true." Allah's Messenger (ﷺ) said, "A Jinn snatches that true word and pours it Into the ear of his friend (the fore-teller) (as one puts something into a bottle) The foreteller then mixes with that word one hundred lies." Ali bin Abdullah states that he thought that Abdur Razzaqhas reported the phrase ''Al-Kalimatu Minal Haqq'' in a Mursal way but then I knew that he has reported it in a Musnad way.

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں یحییٰ بن عروہ بن زبیر نے ، انہیں عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے متعلق پوچھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی کوئی بنیاد نہیں ۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! بعض اوقات وہ ہمیں ایسی چیزیں بھی بتاتے ہیں جو صحیح ہو جاتی ہیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کلمہ حق ہوتا ہے ۔ اسے کاہن کسی جنی سے سن لیتا ہے وہ جنی اپنے دوست کاہن کے کان میں ڈال جاتا ہے اور پھر یہ کاہن اس کے ساتھ سوجھوٹ ملا کر بیان کرتے ہیں ۔ علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ عبدالرزاق اس کلمہ تلک الکلمۃ من الحق کو مرسلاً روایت کرتے تھے پھر انہوں نے کہا مجھ کو یہ خبر پہنچی کہ عبدالرزاق اس کے بعد اس کو مسنداً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے ۔

Hadith 5763
Sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ، حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّىْءَ وَمَا فَعَلَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهْوَ عِنْدِي لَكِنَّهُ دَعَا وَدَعَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ، أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، أَتَانِي رَجُلاَنِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَىَّ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ فَقَالَ مَطْبُوبٌ‏.‏ قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ‏.‏ قَالَ فِي أَىِّ شَىْءٍ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ، وَجُفِّ طَلْعِ نَخْلَةٍ ذَكَرٍ‏.‏ قَالَ وَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ ‏"‏‏.‏ فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ فَقَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ كَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، أَوْ كَأَنَّ رُءُوسَ نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ أَسْتَخْرِجُهُ قَالَ ‏"‏ قَدْ عَافَانِي اللَّهُ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَى النَّاسِ فِيهِ شَرًّا ‏"‏‏.‏ فَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ‏.‏ تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ وَأَبُو ضَمْرَةَ وَابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامٍ‏.‏ وَقَالَ اللَّيْثُ وَابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامٍ فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ‏.‏ يُقَالُ الْمُشَاطَةُ مَا يَخْرُجُ مِنَ الشَّعَرِ إِذَا مُشِطَ، وَالْمُشَاقَةُ مِنْ مُشَاقَةِ الْكَتَّانِ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

A man called Labid bin al-A'sam from the tribe of Bani Zaraiq worked magic on Allah's Messenger (ﷺ) till Allah's Messenger (ﷺ) started imagining that he had done a thing that he had not really done. One day or one night he was with us, he invoked Allah and invoked for a long period, and then said, "O `Aisha! Do you know that Allah has instructed me concerning the matter I have asked him about? Two men came to me and one of them sat near my head and the other near my feet. One of them said to his companion, "What is the disease of this man?" The other replied, "He is under the effect of magic.' The first one asked, 'Who has worked the magic on him?' The other replied, "Labid bin Al-A'sam.' The first one asked, 'What material did he use?' The other replied, 'A comb and the hairs stuck to it and the skin of pollen of a male date palm.' The first one asked, 'Where is that?' The other replied, '(That is) in the well of Dharwan;' " So Allah's Messenger (ﷺ) along with some of his companions went there and came back saying, "O `Aisha, the color of its water is like the infusion of Henna leaves. The tops of the date-palm trees near it are like the heads of the devils." I asked. "O Allah's Messenger (ﷺ)? Why did you not show it (to the people)?" He said, "Since Allah cured me, I disliked to let evil spread among the people." Then he ordered that the well be filled up with earth. Similarly, Abu Osamah, Abu Damrah and Ibn-e-Abi Zinad reported from Hisham bin Urwah. Laith and Ibn-e-Oyainah reporting from Hisham said: On comb and the hair shed by the comb. They say: '' Al-Mushatah'' are the hair which fall on combing and Al-Mushaqa is the cotton thread.

Urdu

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ اشعری نے بیان کیا ، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ، انہیں ہشام بن عروہ نے ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

بنی زریق کے ایک شخص یہودی لبید بن اعصم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کے متعلق خیال کرتے کہ آپ نے وہ کام کر لیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا ۔ ایک دن یا ( راوی نے بیان کیا کہ ) ایک رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف رکھتے تھے اورمسلسل دعا کر رہے تھے پھر آپ نے فرمایا عائشہ ! تمہیں معلوم ہے اللہ سے جو بات میں پوچھ رہا تھا ، اس نے اس کا جواب مجھے دے دیا ۔ میرے پاس دو ( فرشتے حضرت جبرائیل وحضرت میکائیل علیہما السلام ) آئے ۔ ایک میرے سر کی طرف کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی طرف ۔ ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے پوچھا ان صاحب کی بیماری کیا ہے ؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو ہوا ہے ۔ اسنے پوچھا کس نے جادو کیا ہے ؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے ۔ پوچھا کس چیز میں ؟ جواب دیا کہ کنگھے اور سر کے بال میں جو نر کھجور کے خوشے میں رکھے ہوئے ہیں ۔ سوال کیا اور یہ جادو ہے کہاں ؟ جواب دیا کہ زر وان کے کنویں میں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر اپنے چند صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے اور جب واپس آئے تو فرمایا عائشہ ! اس کا پانی ایسا ( سرخ ) تھا جیسے مہندی کا نچوڑ ہوتا ہے اور اس کے کھجور کے درختوں کے سر ( اوپر کا حصہ ) شیطان کے سروں کی طرح تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس جادو کو باہر کیوں نہیں کر دیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے عافیت دے دی اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اب میں خواہ مخواہ لوگوں میں اس برائی کو پھیلاؤ ں پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جادو کا سامان کنگھی بال خرما کا غلاف ہوتے ہیں اسی میں دفن کرا دیا ۔ عیسیٰ بن یونس کے ساتھ اس حدیث کو ابواسامہ اور ابو ضمرہ ( انس بن عیاض ) اورابن ابی الزناد تینوں نے ہشام سے یوں روایت کیا اور لیث بن مسور اور سفیان بن عیینہ نے ہشام سے یوں روایت کیا ہے ۔ ” فی مشط ومشاقۃ مشاطۃ “ اسے کہتے ہیں جوبال کنگھی کرنے میں نکلیں سر یا داڑھی کے اور مشاقہ روئی کے تار یعنی سوت کے تار کو کہتے ہیں ۔

Hadith 5764
Sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اجْتَنِبُوا الْمُوبِقَاتِ الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "Avoid the Mubiqat, i.e., shirk and witchcraft."

Urdu

مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ، ان سے ثور بن زید نے ، ان سے ابو الغیث نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تباہ کر دینے والی چیز اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اس سے بچو اور جادو کرنے کرانے سے بھی بچو ۔

Hadith 5765
Sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَنَا بِهِ ابْنُ جُرَيْجٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي آلُ، عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ، فَسَأَلْتُ هِشَامًا عَنْهُ فَحَدَّثَنَا عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُحِرَ حَتَّى كَانَ يَرَى أَنَّهُ يَأْتِي النِّسَاءَ وَلاَ يَأْتِيهِنَّ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَهَذَا أَشَدُّ مَا يَكُونُ مِنَ السِّحْرِ إِذَا كَانَ كَذَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ أَعَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، أَتَانِي رَجُلاَنِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَىَّ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلآخَرِ مَا بَالُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ‏.‏ قَالَ وَمَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ حَلِيفٌ لِيَهُودَ، كَانَ مُنَافِقًا‏.‏ قَالَ وَفِيمَ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ‏.‏ قَالَ وَأَيْنَ قَالَ فِي جُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ، تَحْتَ رَعُوفَةٍ، فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَأَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْبِئْرَ حَتَّى اسْتَخْرَجَهُ فَقَالَ ‏"‏ هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا، وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَاسْتُخْرِجَ، قَالَتْ فَقُلْتُ أَفَلاَ أَىْ تَنَشَّرْتَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَمَا وَاللَّهِ فَقَدْ شَفَانِي، وَأَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ شَرًّا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :

Magic was worked on Allah's Messenger (ﷺ) so that he used to think that he had sexual relations with his wives while he actually had not (Sufyan said: That is the hardest kind of magic as it has such an effect). Then one day he said, "O `Aisha do you know that Allah has instructed me concerning the matter I asked Him about? Two men came to me and one of them sat near my head and the other sat near my feet. The one near my head asked the other. What is wrong with this man?' The latter replied the is under the effect of magic The first one asked, Who has worked magic on him?' The other replied Labid bin Al-A'sam, a man from Bani Zuraiq who was an ally of the Jews and was a hypocrite.' The first one asked, What material did he use)?' The other replied, 'A comb and the hair stuck to it.' The first one asked, 'Where (is that)?' The other replied. 'In a skin of pollen of a male date palm tree kept under a stone in the well of Dharwan' '' So the Prophet (ﷺ) went to that well and took out those things and said "That was the well which was shown to me (in a dream) Its water looked like the infusion of Henna leaves and its date-palm trees looked like the heads of devils." The Prophet (ﷺ) added, "Then that thing was taken out' I said (to the Prophet (ﷺ) ) "Why do you not treat yourself with Nashra?" He said, "Allah has cured me; I dislike to let evil spread among my people."

Urdu

مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے سفیان بن عیینہ سے سنا ، کہا کہ سب سے پہلے یہ حدیث ہم سے ابن جریج نے بیان کی ، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھ سے یہ حدیث آل عروہ نے عروہ سے بیان کی ، اس لیے میں نے ( عروہ کے بیٹے ) ہشام سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ہم سے اپنے والد ( عروہ ) سے بیان کیا کہ ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا گیا تھا اور اس کا آپ پر یہ اثر ہوا تھاآپ کو خیال ہوتا کہ آپ نے ازواج مطہرات میں سے کسی کے ساتھ ہمبستری کی ہے حالانکہ آپ نے کی نہیں ہوتی ۔ سفیان ثوری نے بیان کیا کہ جادو کی یہ سب سے سخت قسم ہے جب اس کا یہ اثر ہو پھر آپ نے فرمایا عائشہ ! تمہیں معلوم ہے اللہ تعالیٰ سے جو بات میں نے پوچھی تھی اس کا جواب اس نے کب کا دے دیا ہے ۔ میرے پاس دو فرشتے آئے ایک میرے سر کے پاس کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس ۔ جو فرشتہ میرے سر کی طرف کھڑا تھا اس نے دوسرے سے کہا ان صاحب کا کیا حال ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا کہ ان پر جادو کر دیا گیا ہے ۔ پوچھا کہ کس نے ان پر جادو کیا ہے ؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے یہ یہودیوں کے حلیف بنی زریق کا ایک شخص تھا اور منافق تھا ۔ سوال کیا کہ کس چیز میں ان پر جادو کیا ہے ؟ جواب دیا کہ کنگھے اور بال میں ۔ پوچھا جادو ہے کہاں ؟ جواب دیا کہ نر کھجور کے خوشے میں جو زروان کے کنویں کے اندررکھے ہوئے پتھر کے نیچے دفن ہے ۔ بیان کیا کہ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر تشریف لے گئے اور جادو اندر سے نکالا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی وہ کنواں ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا اس کا پانی مہندی کے عرق جیسا رنگین تھا اور اس کے کھجور کے درختوں کے سر شیطانوں کے سروں جیسے تھے ۔ بیان کیا کہ پھر وہ جادو کنویں میں سے نکالا گیا عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے کہا آپ نے اس جادو کا توڑ کیوں نہیں کرایا ۔ فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے شفادی اب میں لوگوں میں ایک شور ہونا پسند نہیں کرتا ۔

Hadith 5766
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُحِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّىْءَ وَمَا فَعَلَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهْوَ عِنْدِي دَعَا اللَّهَ وَدَعَاهُ، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَشَعَرْتِ يَا عَائِشَةُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ جَاءَنِي رَجُلاَنِ، فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَىَّ، ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ‏.‏ قَالَ وَمَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ، الْيَهُودِيُّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ‏.‏ قَالَ فِيمَا ذَا قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ، وَجُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ‏.‏ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذِي أَرْوَانَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَذَهَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى الْبِئْرِ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا نَخْلٌ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَأَخْرَجْتَهُ قَالَ ‏"‏ لاَ، أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ وَشَفَانِي، وَخَشِيتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا ‏"‏‏.‏ وَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Magic was worked on Allah's Messenger (ﷺ) so that he began to imagine that he had done something although he had not. One day while he was with me, he invoked Allah and invoked for a long period and then said, "O `Aisha! Do you know that Allah has instructed me regarding the matter I asked Him about?" I asked, "What is that, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "Two men came to me; one of them sat near my head and the other sat near my feet. One of them asked his companion, 'What is the disease of this man?' The other replied, 'He is under the effect of magic.' The first one asked, 'Who has worked magic on him?" The other replied, 'Labid bin A'sam, a Jew from the tribe of Bani Zuraiq.' The (first one asked), 'With what has it been done?' The other replied, 'With a a comb and the hair stuck to it and a skin of the pollen of a male datepalm tree.' The first one asked, 'Where is it?' The other replied, 'In the well of Dharwan.' Then the Prophet (ﷺ) went along with some of his companions to that well and looked at that and there were date palms near to it. Then he returned to me and said, 'By Allah the water of that well was (red) like the infusion of Henna leaves and its date-palms were like the heads of devils" I said, O Allah's Messenger (ﷺ)! Did you take those materials out of the pollen skin?" He said, 'No! As for me Allah has healed me and cured me and I was afraid that (by Showing that to the people) I would spread evil among them when he ordered that the well be filled up with earth, and it was filled up with earth "

Urdu

ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا گیا تھا اور اس کا اثر یہ تھا کہ آپ کو خیال ہوتا کہ آپ کوئی چیز کر چکے ہیں حالانکہ وہ چیز نہ کی ہوتی ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف رکھتے تھے اورمسلسل دعائیں کر رہے تھے پھر فرمایا عائشہ ! تمہیں معلوم ہے اللہ تعالیٰ سے جو بات میں نے پوچھی تھی اس کا جواب اس نے مجھے دے دیا ہے ۔ میں نے عرض کی وہ کیا بات ہے یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا میرے پاس دو فرشتے ( حضرت جبرائیل و حضرت میکائیل علیہما السلام ) آئے اور ایک میرے سر کے پاس کھڑا ہو گیا اور دوسرا پاؤں کی طرف پھر ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا ان صاحب کی تکلیف کیا ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا کہ ان پر جادو کیا گیا ہے ۔ پوچھا کس نے ان پر جادو کیا ہے ؟ فرمایا بنی زریق کے لبید بن اعصم یہودی نے ، پوچھا کس چیز میں ؟ جواب دیا کہ کنگھے اور بال میں جو نر کھجور کے خوشے میں رکھا ہوا ہے ۔ پوچھا اور وہ جادو رکھا کہاں ہے ؟ جواب دیا کہ ذروان کے کنویں میں ۔ بیان کیا کہ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ اس کنویں پر تشریف لے گئے اور اسے دیکھاوہاں کھجور کے درخت بھی تھے پھر آپ واپس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے اور فرمایا اللہ کی قسم اس کا پانی مہندی کے عرق جیسا ( سرخ ) ہے اور اس کے کھجور کے درخت شیاطین کے سروں جیسے ہیں ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ کنگھی بال وغیرہ غلاف سے نکلوائے یا نہیں ۔ آپ نے فرمایا نہیں ، سن لے اللہ نے تو مجھ کو شفاء دے دی ، تندرست کر دیا اب میں ڈرا کہیں لوگوں میں ایک شور نہ پھیلے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سامان کے گاڑ دینے کا حکم دیا وہ گاڑ دیا گیا ۔