Narrated Rafi` bin Khadij:
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "Fever is from the heat of Hell, so abate fever with water."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید بن مسروق نے بیان کیا ، ان سے عبایہ بن رفاعہ نے ، ان سے ان کے دادا رافع بن خدیج نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کہ بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے پس اسے پانی سے ٹھنڈا کر لیا کرو ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Some people from the tribes of `Ukl and `Uraina came to Allah's Messenger (ﷺ) and embraced Islam and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We are owners of livestock and have never been farmers," and they found the climate of Medina unsuitable for them. So Allah's Messenger (ﷺ) ordered that they be given some camels and a shepherd, and ordered them to go out with those camels and drink their milk and urine. So they set out, but when they reached a place called Al-Harra, they reverted to disbelief after their conversion to Islam, killed the shepherd and drove away the camels. When this news reached the Prophet (ﷺ) he sent in their pursuit (and they were caught and brought). The Prophet (ﷺ) ordered that their eyes be branded with heated iron bars and their hands be cut off, and they were left at Al-Harra till they died in that state.
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
قبیلہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اوراسلام کے بارے میں گفتگو کی ۔ انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے نبی ! ہم مویشی والے ہیں ہم لوگ اہل مدینہ کی طرح کاشتکار نہیں ہیں ۔ مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تھی ، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ نے ان کے لیے چند اونٹوں اور ایک چرواہے کا حکم دیا اور آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ ان اونٹوں کے ساتھ باہر چلے جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں ۔ وہ لوگ چلے گئے لیکن حرہ کے نزدیک پہنچ کر وہ اسلام سے مرتد ہو گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر ڈالا اور اونٹوں کولے کر بھاگ پڑے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ملی تو آپ نے ان کی تلاش میں آدمی دوڑائے پھر آپ نے ان کے متعلق حکم دیا اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی ، ان کے ہاتھ کاٹ دئے گئے اور حرہ کے کنارے انہیں چھوڑ دیا گیا ، وہ اسی حالت میں مر گئے ۔
Narrated Sa`d رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "If you hear of an outbreak of plague in a land, do not enter it; but if the plague breaks out in a place while you are in it, do not leave that place." I (Habib bin Abi Thabit) said: Have you (Ibrahim bin Sa`d) heard him (Hadrat Osama رضی اللہ عنہ ) reporting from Hadrat Sa`d رضی اللہ عنہ but he has not disapproved it? He said: yes!
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے کہا کہ مجھے حبیب بن ابی ثابت نے خبر دی ، کہا کہ میں نے ابراہیم بن سعد سے سنا ، کہا کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم سن لو کہ کسی جگہ طاعون کی وبا پھیل رہی ہے تو وہاں مت جاؤ لیکن جب کسی جگہ یہ وبا پھوٹ پڑے اور تم وہیں موجود ہو تو اس جگہ سے نکلو بھی مت ( حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا کہ میں نے ابراہیم بن سعد سے ) کہا تم نے خود یہ حدیث اسامہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے کہ انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اور انہوں نے اس کا انکار نہیں کیا ؟ فرمایا کہ ہاں ۔
Narrated `Abdullah bin `Abbas رضی اللہ عنہما :
`Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ departed for Sham and when he reached Sargh, the commanders of the (Muslim) army, Abu 'Ubaida bin Al-Jarrah رضی اللہ عنہ and his companions met him and told him that an epidemic had broken out in Sham. `Umar رضی اللہ عنہ said, "Call for me the early emigrants." So `Umar رضی اللہ عنہ called them, consulted them and informed them that an epidemic had broken out in Sham. Those people differed in their opinions. Some of them said, "We have come out for a purpose and we do not think that it is proper to give it up," while others said (to `Umar رضی اللہ عنہ), "You have along with you. other people and the companions of Allah's Messenger (ﷺ) so do not advise that we take them to this epidemic." `Umar رضی اللہ عنہ said to them, "Leave me now." Then he said, "Call the Ansar for me." I called them and he consulted them and they followed the way of the emigrants and differed as they did. He then said to them, Leave me now," and added, "Call for me the old people of Quraish who emigrated in the year of the Conquest of Mecca." I called them and they gave a unanimous opinion saying, "We advise that you should return with the people and do not take them to that (place) of epidemic." So `Umar رضی اللہ عنہ made an announcement, "I will ride back to Medina in the morning, so you should do the same." Abu 'Ubaida bin Al-Jarrah said (to `Umar رضی اللہ عنہ), "Are you running away from what Allah had ordained?" `Umar رضی اللہ عنہ said, "Would that someone else had said such a thing, O Abu 'Ubaida! Yes, we are running from what Allah had ordained to what Allah has ordained. Don't you agree that if you had camels that went down a valley having two places, one green and the other dry, you would graze them on the green one only if Allah had ordained that, and you would graze them on the dry one only if Allah had ordained that?" At that time `Abdur-Rahman bin `Auf رضی اللہ عنہ, who had been absent because of some job, came and said, "I have some knowledge about this. I have heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'If you hear about it (an outbreak of plague) in a land, do not go to it; but if plague breaks out in a country where you are staying, do not run away from it.' " `Umar رضی اللہ عنہ thanked Allah and returned to Medina.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب نے ، انہیں عبداللہ بن عبداللہ بن حارث بن نوفل نے اور انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام تشریف لے جا رہے تھے جب آپ مقام سرغ پر پہنچے تو آپ کی ملاقات فوجوں کے امراء حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں سے ہوئی ۔ ان لوگوں نے امیرالمؤمنین کو بتایا کہ طاعون کی وبا شام میں پھوٹ پڑی ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے پاس مہاجرین اولین کو بلا لاؤ ۔ آپ انہیں بلا لائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا اور انہیں بتایا کہ شام میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے ، مہاجرین اولین کی رائیں مختلف ہو گئیں ۔ بعض لوگوں نے کہا کہ صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی باقی ماندہ جماعت آپ کے ساتھ ہے اور یہ مناسب نہیں ہے کہ آپ انہیں اس وبا میں ڈال دیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اچھا اب آپ لوگ تشریف لے جائیں پھر فرمایا کہ انصار کو بلاؤ ۔ میں انصار کو بلا کر لایا آپ نے ان سے بھی مشورہ کیا اور انہوں نے بھی مہاجرین کی طرح اختلاف کیا کوئی کہنے لگا چلو ، کوئی کہنے لگا لوٹ جاؤ ۔ امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ اب آپ لوگ بھی تشریف لے جائیں پھر فرمایا کہ یہاں پر جو قریش کے بڑے بوڑھے ہیں جو فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کر کے مدینہ آئے تھے انہیں بلا لاؤ ، میں انہیں بلا کر لایا ۔ ان لوگوں میں کوئی اختلاف رائے پیدا نہیں ہوا سب نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ آپ لوگوں کو ساتھ لے کر واپس لوٹ چلیں اور وبائی ملک میں لوگوں کو نہ لے کر جائیں ۔ یہ سنتے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کرا دیا کہ میں صبح کو اونٹ پر سوار ہو کر واپس مدینہ منورہ لوٹ جاؤں گا تم لوگ بھی واپس چلو ۔ صبح کو ایسا ہی ہوا حضرت ابوعبیدہ ابن جراح رضی اللہ عنہ نے کہا کیا اللہ کی تقدیر سے فرار اختیار کیا جائے گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کاش ! یہ بات کسی اورنے کہی ہوتی ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے فرار اختیار کر رہے ہیں لیکن اللہ ہی کی تقدیر کی طرف ۔ کیا تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم انہیں لے کر کسی ایسی وادی میں جاؤ جس کے دو کنارے ہوں ایک سرسبز شاداب اور دوسرا خشک ۔ کیا یہ واقعہ نہیں کہ اگر تم سرسبز کنارے پر چراؤ گے تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہو گا ۔ اور خشک کنارے پر چراؤ گے تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہی ہو گا ۔ بیان کیا کہ پھر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ آ گئے وہ اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے اس وقت موجود نہیں تھے انہوں نے بتایا کہ میرے پاس مسئلہ سے متعلق ایک ” علم “ ہے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا کہ جب تم کسی سرزمین میں ( وبا کے متعلق ) سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب ایسی جگہ وبا آ جائے جہاں تم خود موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو ۔ راوی نے بیان کیا کہ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور پھر واپس ہو گئے ۔
Narrated `Abdullah bin 'Amir:
`Umar رضی اللہ عنہ went to Sham and when he reached Sargh, he got the news that an epidemic (of plague) had broken out in Sham. `Abdur-Rahman bin `Auf رضی اللہ عنہ told him that Allah's Messenger (ﷺ) said, "If you hear that it (plague) has broken out in a land, do not go to it; but if it breaks out in a land where you are present, do not go out escaping from it."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں عبداللہ بن عامر نے کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کے لیے روانہ ہوئے جب مقام سرغ میں پہنچے تو آپ کو خبر ملی کہ شام میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے ۔ پھر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم وبا کے متعلق سنو کہ وہ کسی جگہ ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی ایسی جگہ وبا پھوٹ پڑے جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے بھی مت بھاگو ۔ ( وبا میں طاعون ہیضہ وغیرہ سب داخل ہیں ۔ )
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Neither Messiah (Ad-Dajjal) nor plague will enter Medina."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں نعیم مجمر نے اور انہوں نے کہا ہم سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ میں دجال داخل نہیں ہو سکے گا اور نہ طاعون آ سکے گا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Of which disease did Yahya die? i said: Of plague. He thereupon, said that Allah's Messenger (ﷺ) said, "(Death from) plague is martyrdom for every Muslim."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عاصم نے بیان کیا ، کہا مجھ سے حفصہ بنت سیرین نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ
یحییٰ بن سیرین کاکس بیماری میں انتقال ہوا تھا ۔ میں نے کہا کہ طاعون میں ۔ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طاعون ہر مسلمان کے لیے شہادت ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "He (a Muslim) who dies of an abdominal disease is a martyr, and he who dies of plague is a martyr."
ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے سمی نے ، ان سے ابوصالح نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پیٹ کی بیماری میں یعنی ہیضہ سے مرنے والا شہید ہے اور طاعون کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے ۔
Narrated `Aisha (the wife of the Prophet) رضی اللہ عنہا :
She asked Allah's Messenger (ﷺ) about plague, and Allah's Messenger (ﷺ) informed her saying, "Plague was a punishment which Allah used to send on whom He wished, but Allah made it a blessing for the believers. None (among the believers) remains patient in a land in which plague has broken out and considers that nothing will befall him except what Allah has ordained for him, but that Allah will grant him a reward similar to that of a martyr." Similarly, Nadr has reported from Daud.
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو حبان نے خبر دی ، کہا ہم سے داؤد بن ابی الفرت نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے ، ان سے یحییٰ بن عمر نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ
آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق پوچھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک عذاب تھا اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا اس پر اس کو بھیجتا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مومنین ( امت محمدیہ کے لیے ) رحمت بنا دیا اب کوئی بھی اللہ کا بندہ اگر صبر کے ساتھ اس شہر میں ٹھہرا رہے جہاں طاعون پھوٹ پڑا ہو اوریقین رکھتا ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے اس کے سوا اس کو اور کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا اور پھر طاعون میں اس کا انتقال ہو جائے تو اسے شہید جیسا ثواب ملے گا ۔ حبان بن حلال کے ساتھ اس حدیث کو نضر بن شمیل نے بھی داؤد سے روایت کیا ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
During the Prophet's fatal illness, he used to recite the Mu'auwidhat (Surat An-Nas and Surat Al- Falaq) and then blow his breath over his body. When his illness was aggravated, I used to recite those two Suras and blow my breath over him and make him rub his body with his own hand for its blessings." (Ma`mar asked Az-Zuhri: How did the Prophet (ﷺ) use to blow? Az-Zuhri said: He used to blow on his hands and then passed them over his face.)
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی ، انہیں معمر نے ، انہیں زہری نے ، انہیں عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں اپنے اوپر معوذات ( سورۃ الفلق اور الناس ) کا دم کیا کرتے تھے ۔ پھر جب آپ کے لیے دشوار ہو گیا تو میں ان کادم آپ پر کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاہاتھ آپ کے جسم مبارک پر بھی پھیر لیتی تھی ۔ پھر میں نے اس کے متعلق پوچھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کرتے تھے ، انہوں نے بتایا کہ اپنے ہاتھ پر دم کر کے ہاتھ کو چہرے پر پھیرا کرتے تھے ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
Some of the companions of the Prophet (ﷺ) came across a tribe amongst the tribes of the Arabs, and that tribe did not entertain them. While they were in that state, the chief of that tribe was bitten by a snake (or stung by a scorpion). They said, (to the companions of the Prophet (ﷺ) ), "Have you got any medicine with you or anybody who can treat with Ruqya?" The Prophet's companions said, "You refuse to entertain us, so we will not treat (your chief) unless you pay us for it." So they agreed to pay them a flock of sheep. One of them (the Prophet's companions) started reciting Surat-al-Fatiha and gathering his saliva and spitting it (at the snake-bite). The patient got cured and his people presented the sheep to them, but they said, "We will not take it unless we ask the Prophet (whether it is lawful)." When they asked him, he smiled and said, "How do you know that Surat-al-Fatiha is a Ruqya? Take it (flock of sheep) and assign a share for me."
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے ، ان سے شعبہ نے ، ان سے ابو بشر نے ، ان سے ابو المتوکل نے ، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ در حالت سفر عرب کے ایک قبیلہ پر گزر ے ۔ قبیلہ والوں نے ان کی ضیافت نہیں کی کچھ دیر بعد اس قبیلہ کے سردار کوبچھو نے کاٹ لیا ، اب قبیلہ والوں نے ان صحابہ سے کہا کہ آپ لوگوں کے پاس کوئی دوا یا کوئی جھاڑنے والا ہے ۔ صحابہ نے کہا کہ تم لوگوں نے ہمیں مہمان نہیں بنایا اور اب ہم اس وقت تک دم نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے اس کی مزدوری نہ مقرر کر دو ۔ چنانچہ ان لوگوں نے چند بکریاں دینی منظورکر لیں پھر ( ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ) سورۃ الفاتحہ پڑھنے لگے اور اس پر دم کرنے میں منہ کا تھوک بھی اس جگہ پر ڈالنے لگے ۔ اس سے وہ شخص اچھا ہو گیا ۔ چنانچہ قبیلہ والے بکریاں لے کر آئے لیکن صحابہ نے کہا کہ جب تک ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لیں یہ بکریاں نہیں لے سکتے پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ مسکرائے اور فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہو گیا تھا کہ سورۃ الفاتحہ سے دم بھی کیا جا سکتا ہے ، ان بکریوں کو لے لو اور اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Some of the companions of the Prophet (ﷺ) passed by some people staying at a place where there was water, and one of those people had been stung by a scorpion. A man from those staying near the water, came and said to the companions of the Prophet, "Is there anyone among you who can do Ruqya as near the water there is a person who has been stung by a scorpion." So one of the Prophet's companions went to him and recited Surat-al-Fatiha for a sheep as his fees. The patient got cured and the man brought the sheep to his companions who disliked that and said, "You have taken wages for reciting Allah's Book." When they arrived at Medina, they said, ' O Allah's Messenger (ﷺ)! (This person) has taken wages for reciting Allah's Book" On that Allah's Messenger (ﷺ) said, "You are most entitled to take wages for doing a Ruqya with Allah's Book."
ہم سے سیدان بن مضارب ابو محمد باہلی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو معشر یوسف بن یزید البراء نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن اخنس ابو مالک نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
چند صحابہ ایک پانی سے گزرے جس کے پاس کے قبیلہ میں بچھو کا کاٹا ہوا ( لدیغ یا سلیم راوی کو ان دونوں الفاظ کے متعلق شبہ تھا ) ایک شخص تھا ۔ قبیلہ کا ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کیا آپ لوگوں میں کوئی دم جھاڑ کرنے والا ہے ۔ ہمارے قبیلہ میں ایک شخص کو بچھو نے کاٹ لیا ہے چنانچہ صحابہ کی اس جماعت میں سے ایک صحابی اس شخص کے ساتھ گئے اور چند بکریوں کی شرط کے ساتھ اس شخص پر سورۃ الفاتحہ پڑھی ، اس سے وہ اچھا ہو گیا وہ صاحب شرط کے مطابق بکریاں اپنے ساتھیوں کے پاس لائے تو انہوں نے اسے قبول کر لینا پسند نہیں کیا اور کہا کہ اللہ کی کتاب پر تم نے اجرت لے لی ۔ آخر جب سب لوگ مدینہ آئے تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! ان صاحب نے اللہ کی کتاب پر اجرت لے لی ہے ۔ آپ نے فرمایا جن چیزوں پر تم اجرت لے سکتے ہو ان میں سے زیادہ اس کی مستحق اللہ کی کتاب ہی ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) ordered me or somebody else to do Ruqya (if there was danger) from an evil eye.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے معبد بن خالد نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے عبداللہ بن شداد سے سنا ، ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا یا ( آپ نے اس طرح بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ) حکم دیا کہ نظر بد لگ جانے پر معوذتین سے دم کر لیا جائے ۔
Narrated Um Salama رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) saw in her house a girl whose face had a black spot. He said. "She is under the effect of an evil eye; so treat her with a Ruqya." Oqail, Zuhri, Urwah bin Zubair also reported it from the prophet ﷺ. Similarly Abdullah bin Saalim has reported from Zubaidi.
ہم سے محمد بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن وہب بن عطیہ دمشقی نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن ولید زبیدی نے بیان کیا ، کہا ہم کو زہری نے خبر دی ، انہیں عروہ بن زبیر نے ، انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے پر ( نظر بد لگنے کی وجہ سے ) کالے دھبے پڑ گئے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر دم کرا دو کیونکہ اسے نظر بد لگ گئی ہے ۔ اور عقیل نے کہا ان سے زہری نے ، انہیں عروہ نے خبر دی اور انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مر سلاً روایت کیا ہے ۔ محمد بن حرب کے ساتھ اس حدیث کو عبداللہ بن سالم نے بھی زبیدی سے روایت کیا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The effect of an evil eye is a fact." And he prohibited tattooing.
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، ان سے معمر نے ، ان سے ہمام نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نظر بد لگناحق ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم پر گودنے سے منع فرمایا ۔
Narrated Al-Aswad:
I asked `Aisha رضی اللہ عنہا about treating poisonous stings (a snake-bite or a scorpion sting) with a Ruqya. She said, "The Prophet (ﷺ) allowed the treatment of poisonous sting with Ruqya."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن اسود نے اور ان کے والد نے بیان کیا کہ
میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے زہریلے جانور کے کاٹنے میں جھاڑ نے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہر زہریلے جانور کے کاٹنے میں جھاڑنے کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے ۔
Narrated `Abdul `Aziz:
Thabit and I went to Anas bin Malik رضی اللہ عنہ . Thabit said, "O Abu Hamza! I am sick." On that Anas رضی اللہ عنہ said, "Shall I treat you with the Ruqya of Allah's Messenger (ﷺ)?" Thabit said, "Yes," Anas رضی اللہ عنہ recited, "O Allah! The Lord of the people, the Remover of trouble! (Please) cure (Heal) (this patient), for You are the Healer. None brings about healing but You; a healing that will leave behind no ailment."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا ، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا کہ
میں اور ثابت بنانی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ثابت نے کہا ابوحمزہ ! ( حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ) میری طبیعت خراب ہو گئی ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا پھر کیوں نہ میں تم پر وہ دعا پڑھ کر دم کر دوں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے ، ثابت نے کہا کہ ضرور کیجئے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس پر یہ دعا پڑھ کر دم کیا ۔ ” اے اللہ ! لوگوں کے رب ! تکلیف کو دور کر دینے والے ! شفاء عطا فرما ، تو ہی شفاء دینے والا ہے تیرے سوا کوئی شفاء دینے والا نہیں ، ایسی شفاء عطا فرما کہ بیماری بالکل باقی نہ رہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) used to treat some of his wives by passing his right hand over the place of ailment and used to say, "O Allah, the Lord of the people! Remove the trouble and heal the patient, for You are the Healer. No healing is of any avail but Yours; healing that will leave behind no ailment." Similarly Sufyan, Mansur, Ibrahim, Mansrooq reported from Hadrat Aishah رضی اللہ عنہا .
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے سلیمان اعمش نے ، ان سے مسلم بن صبیح نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے بعض ( بیماروں ) پر یہ دعا پڑھ کر دم کرتے اور اپنا داہنا ہاتھ پھیر تے اور یہ دعا پڑھتے ۔ ” اے اللہ ! لوگوں کے پالنے والے ! تکلیف کو دور کر دے اسے شفاء دیدے تو ہی شفاء دینے والا ہے ۔ تیری شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں ۔ ایسی شفاء ( دے ) کہ کسی قسم کی بیماری باقی نہ رہ جائے ۔ “ سفیان ثوری نے بیان کیا کہ میں نے یہ دعا منصور بن معتمر کے سامنے بیان کی تو انہوں نے مجھ سے یہ ابراہیم نخعی سے بیان کی ، ان سے مسروق نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی طرح بیان کی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) used to treat with a Ruqya saying, "O the Lord of the people! Remove the trouble The cure is in Your Hands, and there is none except You who can remove it (the disease) . "
مجھ سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، انہیں ان کے والد نے خبر دی اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دم کیا کرتے تھے اور یہ دعا پڑھتے تھے ” تکلیف کو دور کر دے اورلوگوں کے پالنہار ! تیرے ہی ہاتھ میں شفاء ہے ، تیرے سوا تکلیف کو دور کرنے والا کوئی اور نہیں ہے ۔ “
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) used to say to the patient, "In the Name of Allah The earth of our land and the saliva of some of us cure our patient."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبد ربہ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے عمرہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے لیے ( کلمے کی انگلی زمین پر لگا کر ) یہ دعا پڑھتے تھے ۔ ” اللہ کے نام کی مدد سے ہماری زمین کی مٹی ہم میں سے کسی کے تھوک کے ساتھ تاکہ ہمارا مریض شفاء پائے ہمارے رب کے حکم سے ۔ “