Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The delegates of `Abdul Qais came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "The pagans of the tribe of Mudar intervene between you and us therefore we cannot come to you except in the Holy months. So please order us to do something good (Religious deeds) by which we may enter Paradise (by acting on them) and we may inform our people whom we have left behind to observe it." The Prophet (ﷺ) said, "I order you to do four things and forbid you from four things: I order you to believe in Allah. Do you know what is meant by belief in Allah? It is to testify that none has the right to be worshipped except Allah, to offer prayers perfectly, to give Zakat, and to give Al-Khumus (one-fifth of the war booty) (in Allah's Cause). And I forbid you four things, (i.e., Do not drink alcoholic drinks) Ad-Dubba, An- Naqir, (pitched water skins), Az-Zuruf, Al-Muzaffat and Al--Hantam (names of utensils used for the preparation of alcoholic drinks)." (See Hadith No. 50, Vol. 1)
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ‘ ان سے ابو عاصم نے بیان کیا ‘ ان سے قرہ بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے ابوجمرہ ضبعی نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ
قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ کے پاس آیا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے مشرکین حائل ہیں اور ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں ہی آ سکتے ہیں ۔ اس لیے آپ کچھ ایسے جامع احکام ہمیں بتا دیجئیے کہ اگر ہم ان پر عمل کریں تو جنت میں جائیں اور ان کی طرف ان لوگوں کو دعوت دیں جو ہمارے پیچھے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار کاموں کا حکم دیتا ہوں اور چار کاموں سے روکتا ہوں ۔ میں تمہیں ایمان باللہ کا حکم دیتا ہوں ۔ تمہیں معلوم ہے کہ ایمان باللہ کیا ہے ؟ اس کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینے اور غنیمت میں سے پانچواں حصہ دینے کا حکم دیتا ہوں اور تمہیں چار کاموں سے روکتا ہوں ۔ یہ کہ کدو کے برتن اور لکڑی کے کریدے ہوئے برتن اور روغنی برتنوں اور سبز لاکھی برتنوں میں مت پیا کرو ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The painter of these pictures will be punished on the Day of Resurrection, and it will be said to them, Make alive what you have created.' "
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ ان سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے بیان کیا ‘ ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان تصویروں کو بنانے والوں پر قیامت میں عذاب ہو گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو بنایا ہے اسے زندہ بھی کر کے دکھاؤ ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "The painters of these pictures will be punished on the Day of Resurrection, and it will be said to them, 'Make alive what you have created."
ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا ‘ ان سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان تصویروں کو بنانے والوں پر قیامت میں عذاب ہو گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو بنایا ہے اسے زندہ بھی کرو ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Allah said, 'Who are most unjust than those who try to create something like My creation? I challenge them to create even a smallest ant, a wheat grain or a barley grain.' "
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ ان سے ابن فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے عمارہ نے ‘ ان سے ابو زرعہ نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر حد سے تجاوز کرنے والا اور کون ہے جو میری مخلوق کی طرح مخلوق بنا تا ہے ۔ ذرا وہ چنے کا دانہ پیدا کر کے تو دیکھیں یا گیہوں کا ایک دانہ یا جو کا ایک دانہ پیدا کر کے تو دیکھیں ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, 'The example of a believer who recites the Qur'an is that of a citron (a citrus fruit) which is good in taste and good in smell. And the believer who does not recite the Qur'an is like a date which has a good taste but no smell. And the example of an impious person who recites the Qur'an is that of Ar-Rihana (an aromatic plant) which smells good but is bitter in taste. And the example of an impious person who does not recite the Qur'an is that of a colocynth which is bitter in taste and has no smell."
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ترنج کی سی ہے کہ اس کا مزہ بھی اچھا اور اس کی خوشبو بھی عمدہ ہے اور وہ مومن جو نہیں پڑھتا کھجور کی طرح ہے کہ اس کا مزہ تو اچھا ہے لیکن اس میں خوشبو نہیں اور اس فاسق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے مردہ کی طرح ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہے لیکن ا سکا مزہ کڑوا ہے اور جو فاسق قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن کی سی ہے کہ اس کا مزہ بھی کڑوا ہے اور کوئی خوشبو بھی نہیں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Some people asked the Prophet (ﷺ) regarding the soothsayers. He said, "They are nothing." They said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Some of their talks come true." The Prophet (ﷺ) said, "That word which happens to be true is what a Jinn snatches away by stealth (from the Heaven) and pours it in the ears of his friend (the foreteller) with a sound like the cackling of a hen. The soothsayers then mix with that word, one hundred lies."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا اور مجھ سے احمد بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا مجھ کو یحییٰ بن عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے عروہ بن زبیر سے سنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ
کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے متعلق سوال کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی کسی بات کا اعتبار نہیں ۔ ایک صاحب نے کہا کہ یا رسول اللہ ! یہ لوگ بعض ایسی باتیں بیان کرتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں ۔ بیان کیا کہ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صحیح بات وہ ہے جسے شیطان فرشتوں سے سن کر یاد رکھ لیتا ہے اور پھر اسے مرغی کے کٹ کٹ کرنے کی طرح ( کاہنوں ) کے کانوں میں ڈال دیتا ہے اور یہ اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا تے ہیں ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "There will emerge from the East some people who will recite the Qur'an but it will not exceed their throats and who will go out of (renounce) the religion (Islam) as an arrow passes through the game, and they will never come back to it unless the arrow, comes back to the middle of the bow (by itself) (i.e., impossible). The people asked, "What will their signs be?" He said, "Their sign will be the habit of shaving (of their beards and their heads). (Fath-ul-Bari, Page 322, Vol. 17th)
ہم سے ابو النعمان محمد بن فضل سدوسی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے مہدی بن میمون ازدی نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے محمد بن سیرین سے سنا ‘ ان سے معبد بن سیرین نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ مشرق کی طرف سے نکلیں گے اور قرآن پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ یہ لوگ دین سے اس طرح دور پھینک دئیے جائیں گے جیسے تیر پھینک دیا جاتا ہے ۔ پھر یہ لوگ کبھی دین میں نہیں واپس آ سکتے ۔ یہاں تک کہ تیرا پنی جگہ ۔ ( خود ) واپس آ جائے ۔ پوچھا گیا کہ ان کی علامت کیا ہو گی ؟ تو فرمایا کہ ان کی علامت سر منڈوانا ہو گی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "(There are) two words which are dear to the Beneficent (Allah) and very light (easy) for the tongue (to say), but very heavy in weight in the balance. They are: ''Subhan Allah wa-bi hamdihi'' and ''Subhan Allah Al-`Azim." (see Hadith 6682).
ہم سے احمد بن اشکاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے ‘ ان سے عمارہ بن قعقاع نے ‘ انہوں نے ابو زرعہ سے ‘ انہوں نے حضرت ابوہریر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو کلمے ایسے ہیں جو اللہ تبارک وتعالیٰ کو بہت ہی پسند ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں اور قیامت کے دن اعمال کے ترازو میں بوجھل اور باوزن ہوں گے ۔ وہ کلمات مبارکہ یہ ہیں سبحان الله وبحمده ، سبحان الله العظيم ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr:
Abu Bakr As-Siddiq said to the Prophet (ﷺ) "O Allah's Messenger (ﷺ)! Teach me an invocation with which I may invoke Allah in my prayers." The Prophet (ﷺ) said, "Say: O Allah! I have wronged my soul very much (oppressed myself), and none forgives the sins but You; so please bestow Your Forgiveness upon me. No doubt, You are the Oft-Forgiving, Most Merciful."
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ کو عمرو نے خبر دی ‘ انہیں یزید نے ‘ انہیں ابو الخیر نے ‘ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ ! مجھے ایسی دعا سکھائیے جو میں اپنی نماز میں کیا کروں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پڑھا کرو ” اے اللہ ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے سوا گناہوں کو اور کوئی نہیں بخشتا ۔ پس میرے گناہ اپنے پاس سے بخش دے ۔ بلاشبہ تو بڑا مغفرت کرنے والا ‘ بڑا رحم کرنے والا ہے ۔ “
Narrated `Ata` bin Yazid added:
Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ who was present with Abu Huraira رضی اللہ عنہ, did not deny whatever the latter said, but when Abu Huraira رضی اللہ عنہ said that Allah had said, "That is for you and its equal as well," Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ said, "And ten times as much, O Abu Huraira!" Abu Huraira رضی اللہ عنہ said, "I do not remember, except his saying, 'That is for you and its equal as well.'" Abu Sa`id Al-Khudri then said, "I testify that I remember the Prophet (ﷺ) saying, 'That is for you, and ten times as much.' " Abu Huraira رضی اللہ عنہ then added, "That man will be the last person of the people of Paradise to enter Paradise."
عطابن یزید نے بیان کیا کہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے ۔ ان کی حدیث کا کوئی حصہ رد نہیں کرتے تھے ۔ البتہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کہے گا کہ ” یہ رور انہیں جیسی تمہیں اور ملیں گی “ تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کے دس گنا ملیں گی اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے یاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی ارشاد ہے کہ ” یہ اور انہیں جیسی اور “ اس پر ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے آپ کا یہ ارشاد کیا ہے کہ ” تمہیں یہ سب چیزیں ملیں گی اور اس سے دس گنا “ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ شخص جنت میں سب سے آخری داخل ہونے والا ہو گا ۔