Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "On the Day of Resurrection, Allah will grasp the whole Earth by His Hand, and all the Heavens in His right, and then He will say, 'I am the King.' Saeed has reported it from Maalik. Hadrat Ibn-e-Umer رضی اللہ عنہا has reported from the prophet ﷺ likewise. "Abu Huraira رضی اللہ عنہ said, "Allah's Messenger (ﷺ) said," Allah will grasp the Earth...' "
ہم سے مقدم بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے چچا قاسم بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں ہو گا ، پھر کہے گا کہ میں بادشاہ ہوں ۔ اس کی روایت سعید نے مالک سے کی ۔اور عمر بن حمزہ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں نے سالم سے سنا ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث ۔ ابوالیمان نے بیان کیا ، انہیں شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں ابوسلمہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اللہ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا ۔
Narrated `Abdullah:
A Jew came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Muhammad! Allah will hold the heavens on a Finger, and the mountains on a Finger, and the trees on a Finger, and all the creation on a Finger, and then He will say, 'I am the King.' " On that Allah's Messenger (ﷺ) smiled till his premolar teeth became visible, and then recited:-- 'No just estimate have they made of Allah such as due to him....(39.67) `Abdullah رضی اللہ عنہ added: Allah's Apostle smiled (at the Jew's statement) expressing his wonder and belief in what was said.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا اس نے یحییٰ بن سعید سے سنا ‘ انہوں نے سفیان سے ‘ انہوں نے کہا ہم سے منصور اور سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے ابراہیم نے بیان کیا ‘ ان سے عبیدہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ نے بیان کیا کہ
ایک یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا اور زمین کو بھی ایک انگلی پر اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر اور درختوں کو ایک انگلی پر اور مخلوقات کو ایک انگلی پر ‘ پھر فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادئیے یہاں تک کہ آپ کے آگے کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے ۔ پھر سورۃ الانعام کی یہ آیت پڑھی ” وما قدرو اللہ حق قدرہ “ یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ اس روایت میں فضیل بن عیاض نے منصور سے اضافہ کیا ‘ ان سے ابراہیم نے ‘ ان سے عبیدہ نے ‘ ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تعجب کی وجہ سے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنس دیئے ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
A man from the people of the scripture came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Abal-Qasim! Allah will hold the Heavens upon a Finger, and the Earth on a Finger and the land on a Finger, and all the creation on a Finger, and will say, 'I am the King! I am the King!' " I saw the Prophet (after hearing that), smiling till his premolar teeth became visible, and he then recited: -- 'No just estimate have they made of Allah such as due to him... (39.67)
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابراہیم سے سنا ‘ کہا کہ میں نے علقمہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
اہل کتاب میں سے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اے ابوالقاسم ! اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا ‘ زمین کو ایک انگلی پر روک لے گا ‘ درخت اور مٹی کو ایک انگلی پر روک لے گا اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر روک لے گا اور پھر فرمائے گا کہ میں ” بادشاہ ہوں ‘ میں باد شاہ ہوں “ ۔ میں نے آنحصرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس پر ہنس دئیے ۔ یہاں تک کہ آپ کے دانت دکھائی دینے لگے ‘ پھر یہ آیت پڑھی ” وما قدرو اللہ حق قدرہ “
Narrated Al-Mughira رضی اللہ عنہ :
Sa`d bin 'Ubada رضی اللہ عنہ said, "If I saw a man with my wife, I would strike him (behead him) with the blade of my sword." This news reached Allah's Messenger (ﷺ) who then said, "You people are astonished at Sa`d's Ghira. By Allah, I have more Ghira than he, and Allah has more Ghira than I, and because of Allah's Ghira, He has made unlawful Shameful deeds and sins (illegal sexual intercourse etc.) done in open and in secret. And there is none who likes that the people should repent to Him and beg His pardon than Allah, and for this reason He sent the warners and the givers of good news. And there is none who likes to be praised more than Allah does, and for this reason, Allah promised to grant Paradise (to the doers of good)." `Abdul Malik said, "No person has more Ghira than Allah."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالملک نے بیان کیا ‘ ان سے مغیرہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد نے اور ان سے مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھوں تو سیدھی تلوار سے اس کی گردن مار دوں پھر یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا کیا تمہیں سعد کی غیرت پر حیرت ہے ؟ بلاشبہ میں ان سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے اور اللہ نے غیرت ہی کی وجہ سے فواحش کو حرام کیا ہے ۔ چاہے وہ ظاہر میں ہوں یا چھپ کر اور معذرت اللہ سے زیادہ کسی کو پسند نہیں ‘ اسی لئے اس نے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بھیجے اور تعریف اللہ سے زیادہ کسی کو پسند نہیں ۔ اسی وجہ سے اس نے جنت کا وعدہ کیا ہے ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said to a man, "Have you got anything of the Qur'an?" The man said, "Yes, such-andsuch Sura, and such-and-such Sura," naming the Suras.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ’کہا ہم کو مالک نے خبر دی ‘ انہیں ابو حاز م نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب سے پوچھا کیا آپ کو قرآن میں سے کچھ شے یاد ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں فلاں فلاں سورتیں انہوں نے ان کے نام بتائے ۔
Narrated `Imran bin Hussain رضی اللہ عنہما :
While I was with the Prophet (ﷺ) , some people from Bani Tamim came to him. The Prophet (ﷺ) said, "O Bani Tamim! Accept the good news!" They said, "You have given us the good news; now give us (something)." (After a while) some Yemenites entered, and he said to them, "O the people of Yemen! Accept the good news, as Bani Tamim have refused it. " They said, "We accept it, for we have come to you to learn the Religion. So we ask you what the beginning of this universe was." The Prophet (ﷺ) said "There was Allah and nothing else before Him and His Throne was over the water, and He then created the Heavens and the Earth and wrote everything in the Book." Then a man came to me and said, 'O `Imran! Follow your she-camel for it has run away!" So I set out seeking it, and behold, it was beyond the mirage! By Allah, I wished that it (my she-camel) had gone but that I had not left (the gathering). "
ہم سے عبد ان نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحمزہ نے ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے جامع بن شداد نے ‘ ان سے صفوان بن محرز نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ آپ کے پاس بنو تمیم کے کچھ لوگ آئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بنو تمیم ! بشارت قبول کرو ۔ انہوں نے اس پر کہا کہ آپ نے ہمیں بشارت دے دی ‘اب ہمیں بخشش بھی دیجئیے ۔ پھر آپ کے پاس یمن کے کچھ لوگ پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ اے اہل یمن ! بنو تمیم نے بشارت نہیں قبول کی تم اسے قبول کرو ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قبول کر لی ۔ ہم آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور تاکہ آپ سے اس دنیا کی ابتداء کے متعلق پوچھیں کہ کس طرح تھی ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تھا اور کوئی چیز نہیں تھی اور اللہ کا عرش پانی پر تھا ۔ پھر اس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور لوح محفوظ میں ہر چیز لکھ دی ( عمران بیان کرتے ہیں کہ ) مجھے ایک شخص نے آ کر خبر دی کہ عمران اپنی اونٹنی کی خبر لو ‘ وہ بھاگ گئی ہے ۔ چنانچہ میں اس کی تلاش میں نکلا ۔ میں نے دیکھا کہ میرے اور اس کے درمیان ریت کا چٹیل میدان حائل ہے اور خدا کی قسم میری تمنا تھی کہ وہ چلی ہی گئی ہوتی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں سے نہ اٹھا ہوتا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The Right (Hand) of Allah Is full, and (Its fullness) is not affected by the continuous spending night and day. Do you see what He has spent since He created the Heavens and the Earth? Yet all that has not decreased what is in His Right Hand. His Throne is over the water and in His other Hand is the Bounty or the Power to bring about death, and He raises some people and brings others down." (See Hadith No. 508)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے اسے کوئی خرچ کم نہیں کرتا جو دن ورات وہ کرتا رہتا ہے کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب سے زمین و آسمان کواس نے پیدا کیا ہے کتنا خرچ کر دیا ہے ۔ اس سارے خرچ نے اس میں کوئی کمی نہیں کی جو اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے جسے وہ اٹھا تا اور جھکا تا رہے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Zaid bin Haritha رضی اللہ عنہ came to the Prophet (ﷺ) complaining about his wife. The Prophet (ﷺ) kept on saying (to him), "Be afraid of Allah and keep your wife." Aisha رضی اللہ عنہا said, "If Allah's Messenger (ﷺ) were to conceal anything (of the Qur'an he would have concealed this Verse." Zainab رضی اللہ عنہ used to boast before the wives of the Prophet (ﷺ) and used to say, "You were given in marriage by your families, while I was married (to the Prophet) by Allah from over seven Heavens." And Thabit رضی اللہ عنہ recited, "The Verse:-- 'But (O Muhammad) you did hide in your heart that which Allah was about to make manifest, you did fear the people,' (33.37) was revealed in connection with Zainab and Zaid bin Haritha رضی اللہ عنہ ."
ہم سے احمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن ابی بکر المقدمی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ( اپنی بیوی کی ) شکایت کرنے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رکھو ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات کو چھپانے والے ہوتے تو اسے ضرور چھپاتے ۔ بیان کیا کہ چنانچہ زینب رضی اللہ عنہ تمام ازواج مطہرات پر فخر سے کہتی تھی کہ تم لوگوں کی تمہارے گھر والوں نے شادی کی ۔ اور میری اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے شادی کی اور ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت ” اور آپ اس چیز کو اپنے دل میں چھپاتے ہیں جسے اللہ ظاہر کرنے والا ہے “ زینب اور زید بن حارث رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Verse of Al-Hijab (veiling of women) was revealed in connection with Zainab bint Jahsh رضی اللہ عنہا . (On the day of her marriage with him) the Prophet (ﷺ) gave a wedding banquet with bread and meat; and she used to boast before other wives of the Prophet (ﷺ) and used to say, "Allah married me (to the Prophet (ﷺ) in the Heavens."
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے عیسیٰ بن طہمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ
پردہ کی آیت ام المؤمنین زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کے بار ے میں نازل ہوئی اور اس دن آپ نے روٹی اور گوشت کے ولیمہ کی دعوت دی اور زینب رضی اللہ عنہا تمام ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ میرا نکاح اللہ نے آسمان پر کرایا تھا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "When Allah had finished His creation, He wrote over his Throne: 'My Mercy preceded My Anger.'
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق پیدا کی تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غصہ سے بڑھ کر ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever believes in Allah and His Apostle offers prayers perfectly and fasts (the month of) Ramadan then it is incumbent upon Allah to admit him into Paradise, whether he emigrates for Allah's cause or stays in the land where he was born." They (the companions of the Prophet) said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Should we not inform the people of that?" He said, "There are one-hundred degrees in Paradise which Allah has prepared for those who carry on Jihad in His Cause. The distance between every two degrees is like the distance between the sky and the Earth, so if you ask Allah for anything, ask Him for the Firdaus, for it is the last part of Paradise and the highest part of Paradise, and at its top there is the Throne of Beneficent, and from it gush forth the rivers of Paradise."
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے محمد بن فلیح نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے ہلال نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ اور اس کے رسول پر ایما ن لایا ‘ نماز قائم کی ‘ رمضان کے روزے رکھے تو اللہ پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے ۔ خواہ اس نے ہجرت کی ہو یا وہیں مقیم رہا ہو جہاں اس کی پیدائش ہوئی تھی ۔ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ہم اس کی اطلاع لوگوں کو نہ دے دیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے ‘ ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے ۔ پس جب تم اللہ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ درمیانہ درجے کی جنت ہے اور بلند ترین اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں ۔
Narrated Abu Dharr رضی اللہ عنہ :
I entered the mosque while Allah's Messenger (ﷺ) was sitting there. When the sun had set, the Prophet (ﷺ) said, "O Abu Dharr! Do you know where this (sun) goes?" I said, "Allah and His Apostle know best." He said, "It goes and asks permission to prostrate, and it is allowed, and (one day) it, as if being ordered to return whence it came, then it will rise from the west." Then the Prophet (ﷺ) recited, "That: "And the sun runs on its fixed course (for a term decreed)," (36.38) as it is recited by `Abdullah رضی اللہ عنہ .
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے اور ان سے ابراہیم تیمی نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ‘ پھر جب سورج غروب ہوا تو آپ نے فرمایا اے ابوذر رضی اللہ عنہ ! کیا تمہیں معلوم ہے یہ کہاں جاتا ہے ؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کی اللہ اور اس کی رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔ فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور سجدہ کی اجازت چاہتا ہے پھر اسے اجازت دی جاتی ہے اور گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ واپس وہاں جاؤ جہاں سے آئے ہو ۔ چنانچہ وہ مغرب کی طرف سے طلوع ہوتا ہے ‘ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی ” ذلک مستقر لھا “ عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرآت یوں ہی ہے ۔
Narrated Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ :
Abu Bakr رضی اللہ عنہ sent for me, so I collected the Qur'an till I found the last part of Surat-at-Tauba with Abi Khuza`ima Al-Ansari رضی اللہ عنہ and did not find it with anybody else. (The Verses are): -- 'Verily, there has come to you an Apostle (Muhammad) from amongst yourselves..(till the end of Surat Bara'a) (i.e., at- Tauba).' (9.128-129) Yunus also narrated as above.
ہم سے موسیٰ بن ابراہیم نے بیان کیا ‘انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے عبید بن سباق نے بیان کیا اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ۔ اور لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے ابن سباق نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا ‘ پھر میں نے قرآن کی تلاش کی اور سورۃ التوبہ کی آخری آیت ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائی ۔ یہ آیات مجھے کسی اور کے پاس نہیں ملی تھیں ۔ لقد جاء کم رسول من انفسکم ۔ سورۃ برات کے آخر تک ۔ ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ ان سے لیث نے بیان کیا اور ان سے یونس نے یہی بیان کیا کہ ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سورۃ التوبہ کی آخری آیات پائیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) used to say at the time of difficulty, There is no worthy of worship saves Allah, the knowing, the forbearing; there is no worthy of worship saves Allah, the Lord of the Great Throne; there is no worthy of worship saves Allah, the lord of the heavens, the earth and the Honoured throne.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ‘ ان سے سعید نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابو العالیہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا کرتے تھے ” اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بہت جاننے والا بڑا برد بار ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں جو آسمانوں کا رب ہے ‘ زمین کا رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے ۔ “
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The people will fall unconscious on the Day of Resurrection, then suddenly I will see Moses holding one of the pillars of the Throne." Abu Huraira رضی اللہ عنہ said: The Prophet (ﷺ) said, "I will be the first person to be resurrected and will see Moses holding the Throne." Hadrat Abu Salamah has reported from Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that the prophet ﷺ said: I will be the first one to be brought back to senses, so I will see Hadrat Musa holding the throne.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ قیامت کے دن سب لوگ بیہوش کر دئیے جائیں گے پھر میں سب سے پہلے ہوش میں آ کر موسیٰ علیہ السلام کو دیکھوں گا کہ وہ عرش کا ایک پا یہ پکڑے کھڑے ہوں گے ۔ اور ما جشون نے عبداللہ بن فضل سے روایت کی ‘ ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر میں سب سے پہلے اٹھنے والا ہوں گا اور دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کا پایہ تھامے ہوئے ہیں ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "(A group of) angels stay with you at night and (another group of) angels by daytime, and both groups gather at the time of the 'Asr and Fajr prayers. Then those angels who have stayed with you overnight, ascend (to Heaven) and Allah asks them (about you) ---- and He knows everything about you. "In what state did you leave My slaves?' The angels reply, 'When we left them, they were praying, and when we reached them they were praying.' "
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے ابوالزناد نے ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یکے بعد دیگرے تمہارے پاس رات اور دن کے فرشتے آتے رہتے ہیں اور یہ عصر اور فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں ، پھر وہ اوپر چڑھتے ہیں ۔ جنہوں نے رات تمہارے ساتھ گزاری ہوتی ہے ۔ پھر اللہ تمہارے بارے میں ان سے پوچھتا ہے حالانکہ اسے تمہاری خوب خبر ہے ۔ پوچھتا ہے کہ میرے بندوں کو تم نے کس حال میں چھوڑا ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس حال میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If somebody gives in charity something equal to a date from his honestly earned money ----for nothing ascends to Allah except good---- then Allah will take it in His Right (Hand) and bring it up for its owner as anyone of you brings up a baby horse, till it becomes like a mountain." Abu Huraira رضی اللہ عنہ said: The Prophet. said, "Nothing ascends to Allah except good."
اور خالد بن مخلد نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان نے بیان کیا ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ‘ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر بھی خیرات کی اور اللہ تک حلال کمائی ہی کی خیرات پہنچتی ہے ‘ تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول کر لیتا ہے اور خیرات کرنے والے کے لئے اسے اس طرح بڑھا تا رہتا ہے جیسے کوئی تم میں سے اپنے بچھیرے کی پرورش کرتا ہے ‘ یہاں تک کہ وہ پہاڑ برابر ہو جاتی ہے ۔ اور ورقاء نے اس حدیث کو عبداللہ بن دینار سے روایت کیا ‘ انہوں نے سعید بن یسار سے ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ‘ اس میں بھی یہ فقرہ ہے کہ اللہ کی طرف وہی خیرات چڑھتی ہے جو حلال کمائی میں سے ہو ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) used to say at the time of difficulty, "None has the right to be worshipped but Allah, the Majestic, the Most Forbearing. None has the right to be worshipped but Allah, the Lord of the Tremendous Throne. None has the right to be worshipped but Allah, the Lord of the Heavens and the Lord of the Honourable Throne. (See Hadith No. 357, Vol. 8)
ہم سے عبد الاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے سعید نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے ‘ ان سے ابو العالیہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پریشانی کے وقت کرتے تھے ” کوئی معبود اللہ کے سوا نہیں جو عظیم ہے اور بردبار ہے ۔ کوئی معبود اللہ کے سوا نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے ۔ کوئی معبود اللہ کے سوا نہیں جو آسمانوں کا رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
Some gold was sent to the prophet ﷺ which he distributed among four men. Hadrat Abu Saeed Khudri رضی اللہ عنہ said: When `Ali رضی اللہ عنہ was in Yemen, he sent some gold in its ore to the Prophet. The Prophet (ﷺ) distributed it among Al-Aqra' bin H`Abis Al-Hanzali who belonged to Bani Mujashi, 'Uyaina bin Badr Al-Fazari, 'Alqama bin 'Ulatha Al-`Amiri, who belonged to the Bani Kilab tribe and Zaid AI-Khail at-Ta'i who belonged to Bani Nabhan. So the Quraish and the Ansar became angry and said, "He gives to the chiefs of Najd and leaves us!" The Prophet (ﷺ) said, "I just wanted to attract and unite their hearts (make them firm in Islam)." Then there came a man with sunken eyes, bulging forehead, thick beard, fat raised cheeks, and clean-shaven head, and said, "O Muhammad! Be afraid of Allah! " The Prophet (ﷺ) said, "Who would obey Allah if I disobeyed Him? (Allah). He trusts me over the people of the earth, but you do not trust me?" A man from the people (present then), who, I think, was Khalid bin Al- Walid رضی اللہ عنہ , asked for permission to kill him, but the Prophet (ﷺ) prevented him. When the man went away, the Prophet said, "Out of the offspring of this man, there will be people who will recite the Qur'an but it will not go beyond their throats, and they will go out of Islam as an arrow goes out through the game, and they will kill the Muslims and leave the idolators. Should I live till they appear, I would kill them as the Killing of the nation of 'Ad."
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی نعم یا ابو نعم نے ۔ ۔ ۔ قبیصہ کو شک تھا ۔ ۔ ۔ اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ سونا بھیجا گیا تو آپ نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا ۔ اور مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ انہیں سفیان نے خبر دی ‘انہیں ان کے والد نے ‘ انہیں ابن ابی نعم نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے کچھ سونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اقرع بن حابس حنظی ‘ عیینہ بن بدری فزاری ‘ علقمہ بن علاثہ العامری اور زید الخیل الطائی میں تقسیم کر دیا ۔ اس پر قریش اور انصار کو غصہ آ گیا اور انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نجد کے رئیسوں کو تو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک مصلحت کے لئے ان کا دل بہلا تا ہوں ۔ پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں ‘ پیشانی ابھری ہوئی تھی ‘ داڑھی گھنی تھی ‘ دونوں کلے پھولے ہوئے تھے اور سر گٹھا ہوا تھا اس مردود نے کہا اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے ڈر ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں بھی اس کی نافرمانی کروں گا تو پھر کون اس کی اطاعت کرے گا ؟ اس نے مجھے زمین پر امین بنایا ہے اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے ۔ پھر حاضرین میں سے ایک صحابی حضرت خالد رضی اللہ عنہ یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل کی اجازت چاہی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔ پھر جب وہ جانے لگا تو آپ نے فرمایا کہ اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کے صرف لفظ پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ‘ وہ اسلام سے اس طرح نکال کر پھینک دئیے جائیں گے جس طرح تیر شکار ی جانور میں سے پار نکل جاتا ہے ‘ وہ اہل اسلام کو ( کافر کہہ کر قتل کریں اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے اگر میں نے ان کا دور پایا تو انہیں قوم عاد کی طرح نیست و نابود کر دوں گا ۔
Narrated Abu Dharr رضی اللہ عنہ :
I asked the Prophet (ﷺ) regarding the Verse:--'And the sun runs on its fixed course for a term decreed for it.' (36.28) He said, "Its fixed course is underneath Allah's Throne."
ہم سے عیاش بن الولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے ابراہیم تیمی نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت ” والشمس تجری لمستقرھا “ کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے ۔