Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has ninety-nine Names, one-hundred less one; and he who memorized them all by heart will enter Paradise." To count something means to know it by heart.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ۔ جو انہیں یاد کر لے گا وہ جنت میں جائے گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "When anyone of you goes to bed, he should dust it off thrice with the edge of his garment, and say: O Lord in Your name, I place my side and raise it up. If you capture my soul, pardon it; and if you release it, proptect it as You guard Your upright bondsmen. Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ has reported it from the prophet ﷺ with some addition. Zuhair, Abu Damrah and Ismail bin Zakariyya, Obaidullah, Saeed his father, Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported from the prophet ﷺ. Hadrat Abu Hurairah has reported it from the prophet ﷺ.
ہم سے عبد العزیز بن عبداللہ بن بیان کیا ‘ کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے سعید ابن ابی سعیدمقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے بستر پر جائے تو اسے چاہئے کہ اسے اپنے کپڑے کے کنارے سے تین مرتبہ صاف کر لے اور یہ دعا پڑھے ” اے میرے رب ! تیرا نام لے کر میں اپنی کروٹ رکھتا ہوں اور تیرے نام ہی کے ساتھ اسے اٹھاؤں گا ۔ اگر تو نے میری جان کو باقی رکھا تو اسے معاف کرنا اور اگر اسے ( اپنی طرف سوتے ہی میں ) اٹھا لیا تو اس کی حفاظت اس طرح کرنا جس طرح تو اپنے نیکوکار بندوں کی حفاظت کرتا ہے ۔ “ اس روایت کی متابعت یحییٰ اور بشر بن الفضل نے عبیداللہ سے کی ہے ۔ ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور زہیر ‘ ابو ضمرہ اور اسماعیل بن زکریا نے عبیداللہ سے یہ اضافہ کیا کہ ان سے سعید نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اس کی روایت ابن عجلان نے کی ‘ ان سے سعید نے ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔ اس کی متابعت محمد بن عبدالرحمٰن الداوردی اور اسامہ بن حفص نے کی ۔
Narrated Hudhaifah رضی اللہ عنہ :
When the Prophet (ﷺ) went to bed, he used to say, O Allah! In your name, In Your name, I die and live; and on awaking, he would say: All praise is due to Allah Who has resurrected us after causing us to die and to Him We will return.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ’ ان سے عبدالملک بن عمیر نے ‘ ان سے ربعی بن حراش نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹنے جاتے تو یہ دعا کرتے ” اے اللہ ! تیرے نام کے ساتھ زندہ ہوں اور اسی کے ساتھ مروں گا “ اور جب صبح ہوتی تو یہ دعا کرتے ” تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے اس کے بعد زندہ کیا کہ ہم مر چکے تھے اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے ۔ “
Narrated Abu Dharr رضی اللہ عنہ :
When the Prophet (ﷺ) went to bed at night, he used to say: In your name, I live and die, and on awaking, he ﷺ would say: All praise is due to Allah Who has resurrected us after causing us to die and to Him we have to return.
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا ‘کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا ‘ ان سے منصور نے ‘ ان سے ربعی بن حراش نے ‘ ان سے خرشہ بن الحر نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں لیٹنے جاتے تو کہتے ” ہم تیرے ہی نام سے مریں گے اور اسی سے زندہ ہوں گے “ اور جب بیدار ہوتے تو کہتے ” تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف جانا ہے ۔ “
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, When anyone of you intends to approach his wife, he should invoke: In the name of Allah, O Allah! keep us secured from the Satan and keep him secured from the Satan what you will bestow on us. If any baby has been destined for them thereby, the Satan will never be able to harm them.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے منصور نے ‘ ان سے سالم نے ‘ ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھ لے ” شروع اللہ کے نام سے ‘ اے اللہ ! ہمیں شیطان سے دور رکھنا اور تو جو ہمیں بچہ عطا کرے اسے بھی شیطان سے دور رکھنا “ تو اگر اسی صحبت میں ان دونوں سے کوئی بچہ نصیب ہوا تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔
Narrated `Adi bin Hatim رضی اللہ عنہ :
I asked the Prophet, "I send off (for a game) my trained hunting dogs; (what is your verdict concerning the game they hunt?" He said, "If you send off your trained hunting dogs and mention the Name of Allah, then, if they catch some game, eat (thereof). And if you hit the game with a mi'rad (a hunting tool) and it wounds it, you can eat (it).
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے منصور نے ‘ ان سے ابراہیم نے ‘ ان سے ہمام نے ‘ ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار کے لیے چھوڑ تا ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم سدھائے ہوئے کتے چھوڑو اور ان کے ساتھ اللہ کا نام بھی لے لو ‘ پھر وہ کوئی شکار پکڑیں اور اسے کھائیں نہیں تو تم اسے کھا سکتے ہو اور جب شکار پر بن پھال کے تیر یعنی لکڑی سے کوئی شکار مارے لیکن وہ نوک سے لگ کر جانور کا گوشت چیر دے تو ایسا شکار بھی کھاؤ ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The people said to the Prophet (ﷺ) , "O Allah's Messenger (ﷺ)! Here are people who have recently embraced Islam and they bring meat, and we do not know whether they had mentioned Allah's Name while slaughtering the animals or not." The Prophet (ﷺ) said, "You should mention Allah's Name and eat."
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابوخالد احمر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے ہشام بن عروہ سنا ‘ وہ اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے بیان کرتے تھے کہ ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! وہاں کے قبیلے ابھی حال ہی میں اسلام لائے اور وہ ہمیں گوشت لا کر دیتے ہیں ۔ ہمیں یقین نہیں ہوتا کہ ذبح کرتے وقت انہوں نے اللہ کا نام بھی لیا تھا یا نہیں ( تو کیا ہم اسے کھا سکتے ہیں ؟ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس پر اللہ کا نام لے کر اسے کھا لیا کرو ۔ اس روایت کی متابعت محمد بن عبدالرحمٰن دراور دی اور اسامہ بن حفص نے کی ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) slaughtered two rams as sacrifice and mentioned Allah's Name and said, "Allahu-Akbar" while slaughtering).
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کی قربانی کی اور ذبح کرتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر پڑھا ۔
Narrated Jundab رضی اللہ عنہ :
He witnessed the Prophet (ﷺ) on the Day of Nahr. The Prophet (ﷺ) offered prayer and then delivered a sermon saying, "Whoever slaughtered his sacrifice before offering prayer, should slaughter another animal in place of the first; and whoever has not yet slaughtered any, should slaughter a sacrifice and mention Allah's Name while doing so."
ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسود بن قیس نے اور ان سے جندب رضی اللہ عنہ نے کہ
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو موجود تھے آپ نے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا جس نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا تو اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح ابھی نہ کیا ہو تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "Do not swear by your fathers; and whoever wants to swear should swear by Allah."
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ورقاء نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اپنے باب دادوں کی قسم نہ کھایا کرو ۔ اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہو تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) sent ten persons to bring the enemy's secrets and Khubaib Al-Ansari رضی اللہ عنہ was one of them. 'Ubaidullah bin 'Iyad told me that the daughter of Al-Harith told him that when they gathered (to kill Khubaib Al Ansari رضی اللہ عنہ ) he asked for a razor to clean his pubic region, and when they had taken him outside the sanctuary of Mecca in order to kill him, he said in verse, "I don't care if I am killed as a Muslim, on any side (of my body) I may be killed in Allah's Cause; for that is for the sake of Allah's very Self; and if He will, He will bestow His Blessings upon the torn pieces of my body." Then Ibn Al-Harith killed him, and the Prophet (ﷺ) informed his companions of the death of those (ten men) on the very day they were killed.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی نے خبر دی جو بنی زہرہ کے حلیف تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں تھے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عضل اور قارہ والوں کی درخواست پر ورس اکابر صحابہ کو جن میں خبیب رضی اللہ عنہ بھی تھے ‘ان کے ہاں بھیجا ۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے خبر دی کہ حارث کی صاحبزادی زینب نے انہیں بتایا کہ جب لوگ خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے آمادہ ہوئے ( اور قید میں تھے ) تو اسی زمانے میں انہوں نے ان سے صفائی کرنے کے لیے استرہ لیا تھا ‘ جب وہ لوگ خبیب رضی اللہ عنہ کو حرم سے باہر قتل کرنے لے گئے تو انہوں نے یہ اشعار کہے ۔ ” اور جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے اس کی پروا نہیں کہ مجھے کس پہلو پر قتل کیا جائے گا اور میرا یہ مرنا اللہ کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے گا تو میرے ٹکڑے ٹکڑے کئے ہوئے اعضاء پر برکت نازل کرے گا ۔ “ پھر ابن الحارث نے انہیں قتل کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اس حادثہ کی اطلاع اسی دن دی جس دن یہ حضرات شہید کئے گئے تھے ۔
Narrated `Abdullah:
The Prophet (ﷺ) said, "There is none having a greater sense of Ghira than Allah, and for that reason He has forbidden shameful deeds and sins (illegal sexual intercourse etc.) And there is none who likes to be praised more than Allah does." (See Hadith No. 147, Vol. 7)
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ ان سے شقیق نے اور ان سے عبداللہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ کوئی بھی اللہ سے زیادہ غیرت مند نہیں اور اسی لیے اس نے فواحش کو حرام قرار دیا ہے اور اللہ سے زیادہ کوئی تعریف پسند کرنے والا نہیں ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "When Allah created the Creation, He wrote in His Book--and He wrote (that) about Himself, and it is placed with Him on the Throne--'Verily My Mercy overcomes My Anger.'"
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے صالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی کتاب میں اسے لکھا ‘ اس نے اپنی ذات کے متعلق بھی لکھا اور یہ اب بھی عرش پر لکھا ہوا موجود ہے کہ ” میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے “
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Allah says: 'I am just as My slave thinks I am, (i.e. I am able to do for him what he thinks I can do for him) and I am with him if He remembers Me. If he remembers Me in himself, I too, remember him in Myself; and if he remembers Me in a group of people, I remember him in a group that is better than they; and if he comes one span nearer to Me, I go one cubit nearer to him; and if he comes one cubit nearer to Me, I go a distance of two outstretched arms nearer to him; and if he comes to Me walking, I go to him running.' "
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمارے والد نے ‘ کہا ہم سے اعمش نے ‘ کہا میں نے ابوصالح سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں اور جب وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور جب وہ مجھے مجلس میں یاد کرتا ہے تو اسے اس سے بہتر فرشتوں کی مجلس میں اسے یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب آتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب آتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آ جاتا ہوں ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ :
when this Verse:--'Say (O Muhammad!): He has Power to send torments on you from above,' (6.65) was revealed; The Prophet (ﷺ) said, "I take refuge with Your Face." Allah revealed:-- '..or from underneath your feet.' (6.65) The Prophet (ﷺ) then said, "I seek refuge with Your Face!" Then Allah revealed:--'...or confuse you in party-strife.' (6.65) Oh that, the Prophet (ﷺ) said, "This is easier."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” آپ کہہ دیجئیے کہ وہ قادر ہے اس پر کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب نازل کرے “ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ” میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ “ پھر آیت کے یہ الفاظ نازل ہوئے جن کا ترجمہ یہ ہے کہ ” وہ تمہارے اوپر سے تم پر عذاب نازل کرے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب آ جائے ۔ “ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہ دعا کی کہ میں تیرے منہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی جن کا ترجمہ یہ ہے ” یا تمہیں فرقہ بندی میں مبتلا کر دے ( کہ یہ بھی عذاب کی قسم ہے ) “ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آسان ہے بہ نسبت اگلے عذابوں کے ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
Ad-Dajjal was mentioned in the presence of the Prophet. The Prophet (ﷺ) said, "Allah is not hidden from you; He is not one-eyed," and pointed with his hand towards his eye, adding, "While Al-Masih Ad- Dajjal is blind in the right eye and his eye looks like a protruding grape."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دجال کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ کانا نہیں ہے اور آپ نے ہاتھ سے اپنی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اور دجال مسیح کی دائیں آنکھ کانی ہو گی ۔ جیسے اس کی آنکھ پر انگور کا ایک اٹھا ہوا دانہ ہو ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Allah did not send any prophet but that he warned his nation of the one-eyed liar (Ad-Dajjal). He is one-eyed while your Lord is not one-eyed, The word 'Kafir' (unbeliever) is written between his two eyes."
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو قتادہ نے خبر دی ‘ کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا اور ان سے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے جتنے نبی بھیجے ان سب نے جھوٹے کانے دجال سے اپنی قوم کو ڈرا یا ۔ وہ دجال کانا ہو گا اور تمہارے رب ( آنکھوں والا ہے ) کانا نہیں ہے ۔ اس دجال کی دو نوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا ہو گا لفظ کافر ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
During the battle with Bani Al-Mustaliq they (Muslims) captured some females and intended to have sexual relation with them without impregnating them. So they asked the Prophet (ﷺ) about coitus interrupt us. The Prophet (ﷺ) said, "It is better that you should not do it, for Allah has written whom He is going to create till the Day of Resurrection." Qaza'a said, "I heard Abu Sa`id رضی اللہ عنہ saying that the Prophet (ﷺ) said, 'No soul is ordained to be created but Allah will create it."
ہم سے اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عفان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے بیان کیا ‘ ان سے ابن محیریز نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ
غزوہ بنو المصطلق میں انہیں باندیاں غنیمت میں ملیں تو انہوں نے چاہا کہ ان سے ہمبستر ی کریں لیکن حمل نہ ٹھہرے ۔ چنانچہ لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم عزل بھی کرو تو کوئی قباحت نہیں مگر قیامت تک جس جان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے پیدا ہونا لکھ دیا ہے وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی ( اس لیے تمہارا عزل کرنا بیکار ہے ۔ موجودہ جبری نسل بندی کا جواز اس سے نکالنا بالکل غلط ہے ۔ اور مجاہد نے قزعہ سے بیان کیا کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بھی جان جو پیدا ہوتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ ضرور اسے پیدا کر کے رہے گا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Allah will gather the believers on the Day of Resurrection in the same way (as they are gathered in this life), and they will say, 'Let us ask someone to intercede for us with our Lord that He may relieve us from this place of ours.' Then they will go to Adam and say, 'O Adam! Don't you see the people (people's condition)? Allah created you with His Own Hands and ordered His angels to prostrate before you, and taught you the names of all the things. Please intercede for us with our Lord so that He may relieve us from this place of ours.' Adam will say, 'I am not fit for this undertaking' and mention to them the mistakes he had committed, and add, "But you d better go to Noah as he was the first Apostle sent by Allah to the people of the Earth.' They will go to Noah who will reply, 'I am not fit for this undertaking,' and mention the mistake which he made, and add, 'But you'd better go to Abraham, Khalil Ar-Rahman.' They will go to Abraham who will reply, 'I am not fit for this undertaking,' and mention to them the mistakes he made, and add, 'But you'd better go to Moses, a slave whom Allah gave the Torah and to whom He spoke directly' They will go to Moses who will reply, 'I am not fit for this undertaking,' and mention to them the mistakes he made, and add, 'You'd better go to Jesus, Allah's slave and His Apostle and His Word (Be: And it was) and a soul created by Him.' They will go to Jesus who will say, 'I am not fit for this undertaking, but you'd better go to Muhammad whose sins of the past and the future had been forgiven (by Allah).' So they will come to me and I will ask the permission of my Lord, and I will be permitted (to present myself) before Him. When I see my Lord, I will fall down in (prostration) before Him and He will leave me (in prostration) as long as He wishes, and then it will be said to me, 'O Muhammad! Raise your head and speak, for you will be listened to; and ask, for you will be granted (your request); and intercede, for your intercession will be accepted.' I will then raise my head and praise my Lord with certain praises which He has taught me, and then I will intercede. Allah will allow me to intercede (for a certain kind of people) and will fix a limit whom I will admit into Paradise. I will come back again, and when I see my Lord (again), I will fall down in prostration before Him, and He will leave me (in prostration) as long as He wishes, and then He will say, 'O Muhammad! Raise your head and speak, for you will be listened to; and ask, for you will be granted (your request); and intercede, for your intercession will be accepted.' I will then praise my Lord with certain praises which He has taught me, and then I will intercede. Allah will allow me to intercede (for a certain kind of people) and will fix a limit to whom I will admit into Paradise, I will return again, and when I see my Lord, I will fall down (in prostration) and He will leave me (in prostration) as long as He wishes, and then He will say, 'O Muhammad! Raise your head and speak, for you will be listened to, and ask, for you will be granted (your request); and intercede, for your intercession will be accepted.' I will then praise my Lord with certain praises which He has taught me, and then I will intercede. Allah will allow me to intercede (for a certain kind of people) and will fix a limit to whom I will admit into Paradise. I will come back and say, 'O my Lord! None remains in Hell (Fire) but those whom Qur'an has imprisoned therein and for whom eternity in Hell (Fire) has become inevitable.' " The Prophet (ﷺ) added, "There will come out of Hell (Fire) everyone who says: 'La ilaha illal-lah,' and has in his heart good equal to the weight of a barley grain. Then there will come out of Hell (Fire) everyone who says: ' La ilaha illal-lah,' and has in his heart good equal to the weight of a wheat grain. Then there will come out of Hell (Fire) everyone who says: 'La ilaha illal-lah,' and has in his heart good equal to the weight of an atom (or a smallest ant).
مجھ سے معاذبن فضالہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے ، انہوں نے قتادہ بن دعامہ سے ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ نے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسی طرح جیسے ہم دنیا میں جمع ہوتے ہیں ، مومنوں کو اکٹھا کرے گا ( وہ گرمی وغیرہ سے پریشان ہو کر ) کہیں گے کاش ہم کسی کی سفارش اپنے مالک کے پاس لے جاتے تاکہ ہمیں اپنی اس حالت آرام ملتا ۔ چنانچہ سب مل کر آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے ۔ ان سے کہیں گے آدم ! آپ جوگوں کا حال نہیں دیکھتے کس بلا میں گرفتار ہیں ۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ( خاص ) اپنے ہاتھ سے بنایا اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور ہر چیز کے نام آپ کو بتلائے ( ہر لغت میں بولنا بات کرنا سکھلایا ) کچھ سفارش کیجئے تاکہ ہم لوگوں کو اس جگہ سے نجات ہو کر آرام ملے ۔ کہیں گے میں اس لائق نہیں ، ان کو وہ گناہ یاد آ جائے گا جو انہوں نے کیا تھا ( ممنوع درخت میں سے کھانا ) مگر تم لوگ ایسا کرو نوح علیہ السلام پیغمبر کے پاس جاؤ وہ پہلے پیغمبر ہیں جن اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف بھیجا تھا ۔ آخر وہ لوگ سب نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے ، وہ بھی یہی جواب دیں گے ، میں اس لائق نہیں اپنی خطا جو انہوں نے ( دنیا میں ) کی تھی یاد کریں گے ۔ کہیں گے تم لوگ ایسا کرو ابراہیم پیغمبر کے پاس جاؤ جو اللہ کے خلیل ہیں ( ان کے پاس جائیں گے ) وہ بھی اپنی خطائیں یاد کر کے کہیں گے میں اس لائق نہیں تم موسیٰ علیہ السلام پیغمبر کے پاس جاؤ اللہ نے ان کو توراۃ عنائت فرمائی ، ان سے بول کر باتیں کیں ۔ یہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی یہی کہیں گے میں اس لائق نہیں اپنی خطا جوانہوں نے دنیا میں کی تھی یاد کریں گے مگر تم ایسا کرو عیسیٰ پیغمبر کے پاس جاؤ وہ اللہ کے بندے ، اس کے رسول ، اس کے خاص کلمہ اور خاص روح ہیں ۔ یہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ کہیں گے میں اس لائق نہیں تم ایسا کرو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ وہ اللہ کے ایسے بندے ہیں جن کی اگلی پچھلی خطائیں سب بخش دی گئی ہیں ۔ آخر یہ سب لوگ جمع ہو کر میرے پاس آئیں گے ۔ میں چلوں گا اور اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت مانگوں گا ، مجھ کو اجازت ملے گی ۔ میں اپنے پروردگار کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا اور جب تک اس کو منظور ہے وہ مجھ کو سجدے ہی میں پڑا رہنے دے گا ۔ اس کے بعد حکم ہو گا ” محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاؤ اور عرض کرو تمہاری عرض سنی جائے گی تمہاری درخواست منظور ہو گی ، تمہاری سفارش مقبول ہو گی اس وقت میں اپنے مالک کی ایسی ایسی تعریفیں کروں گا جو وہ مجھ کو سکھا چکا ہے ۔ ( یا سکھلائے گا ) پھر لوگوں کی سفارش شروع کر دوں گا ۔ سفارش کی ایک حد مقرر کر دی جائے گی ۔ میں ان کو بہشت میں لے جاؤں گا ، پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس حاضر ہوں گا اور اس کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا جب تک پروردگار چاہے گا مجھ کو سجدے میں پڑا رہنے دے گا ۔ اس کے بعد ارشاد ہو گا ” محمد اپنا سر اٹھاؤ جو تم کہو گے سنا جائے گا اور سفارش کرو گے تو قبول ہو گی پھر میں اپنے پروردگار کی ایسی تعریفیں کروں گا جو اللہ نے مجھ کو سکھلائیں ( یا سکھلائے گا ) اس کے بعد سفارش کر دوں گا لیکن سفارش کی ایک حد مقرر کر دی جائے گی ۔ میں ان کو بہشت میں لے جاؤں گا پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس حاضر ہوں گا اس کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا جب تک پروردگار چائے گا مجھ کو سجدے میں پڑا رہنے دیے گا ۔ اس کے بعد ارشاد ہو گا محمد اپنا سر اٹھاؤ جو تم کہو گے سنا جائے گا اور سفارش کرو گے تو قبول ہو گی پھر میں اپنے پروردگار کی ایسی تعریفیں کروں گا جو اللہ نے مجھ کو سکھلائیں ( یا سکھلائے گا ) اس کے بعد سفارش شروع کر دوں گا لیکن سفارش کی ایک حد مقرر کر دی جائے گی ۔ میں ان کو بہشت میں لے جاؤں گا پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس حاضر ہوں گا ۔ عرض کروں گا یا پاک پروردگار ! اب تو دوزخ میں ایسے ہی لوگ رہ گئے ہیں جو قرآن کے بموجب دوزخ ہی میں ہمیشہ رہنے کے لائق ہیں ( یعنی کافر اور مشرک ) انس رضی اللہ عنہ نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، دوزخ سے وہ لوگ نکال لیے جائیں گے جنہوں نے ( دنیا میں ) لا الہٰ الا اللہ کہا ہو گا اور ان کے دل میں ایک جو برابر ایمان ہو گا پھر وہ لوگ بھی نکال لیے جائیں گے جنہوں نے لا الہٰ الا اللہ کہا ہو گا اور ان کے دل میں گیہوں برابر ایمان ہو گا ۔ ( گیہوں جو سے چھوٹا ہوتا ہے ) پھر وہ بھی نکال لیے جائیں گے جنہوں نے لا الہٰ الا اللہ کہا ہو گا اور ان کے دل میں چیونٹی برابر ( یا بھنگے برابر ) ایمان ہو گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah's Hand is full, and (its fullness) is not affected by the continuous spending, day and night." He also said, "Do you see what He has spent since He created the Heavens and the Earth? Yet all that has not decreased what is in His Hand." He also said, "His Throne is over the water and in His other Hand is the balance (of Justice) and He raises and lowers (whomever He will)." (See Hadith No. 206, Vol. 6)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کی کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا ہم سے ابو الزنادنے بیان کیا ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے ۔ اسے رات دن کی بخشش بھی کم نہیں کرتی ۔ آپ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب اس نے آسمان و زمین پیدا کئے ہیں اس نے کتنا خرچ کیا ہے اس نے بھی اس میں کوئی کمی نہیں پیدا کی جو اس کے ہاتھ میں ہے اور فرمایا کہ اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازوہے ۔ جسے وہ جھکاتا اور اٹھاتا رہتا ہے ۔