Back to Sahih Bukhari

Oneness, Uniqueness of Allah (Tawheed)

كتاب التوحيد

Chapter 99

Hadith 7536
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ الْهَرَوِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ، قَالَ ‏ "‏ إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ إِلَىَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَإِذَا أَتَانِي مَشْيًا أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "My Lord says, 'If My slave comes nearer to me for a span, I go nearer to him for a cubit; and if he comes nearer to Me for a cubit, I go nearer to him for the span of outstretched arms; and if he comes to Me walking, I go to him running.' "

Urdu

مجھ سے محمد بن عبد الرحیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوزید بن ربیع ہروی نے ‘ کہا ہم سے شعبہ نے ‘ ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے روایت کیا کہ اللہ پاک فرماتا ہے کہ جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس سے قریب ہوتا ہوں اور جب بندہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور جب وہ میرے پاس پیدل چل کر آتا ہے تو میں دوڑ کر آ جاتا ہوں ۔

Hadith 7537
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ـ رُبَّمَا ذَكَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا أَوْ بُوعًا ‏"‏‏.‏ وَقَالَ مُعْتَمِرٌ سَمِعْتُ أَبِي، سَمِعْتُ أَنَسًا، ‏{‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏}‏ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ، عَزَّ وَجَلَّ‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Perhaps the Prophet (ﷺ) mentioned the following (as Allah's Saying): "If My slave comes nearer to Me for a span, I go nearer to him for a cubit; and if he comes nearer to Me for a cubit; I go nearer to him for the span of outstretched arms. Motamir states that he heard it from his father, he from Hadrat Anas رضی اللہ عنہ that the prophet ﷺ reports it from his Lord.

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ نے ‘ ان سے تمیمی نے ‘ ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوہریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ) جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور جب وہ ایک ہاتھ قریب آتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں ۔ اور معتمر نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا ‘ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے تھے ۔

Hadith 7538
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّكُمْ، قَالَ ‏ "‏ لِكُلِّ عَمَلٍ كَفَّارَةٌ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلَخَلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said that your Lord said, "Every (sinful) deed can be expiated; and the fast is for Me, so I will give the reward for it; and the smell which comes out of the mouth of a fasting person, is better in Allah's Sight than the smell of musk." (See Hadith No. 584)

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابویرہ رضی اللہ عنہ سے سنا‘

ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ‘ اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ پروردگار نے فرمایا ہر گناہ کا ایک کفارہ ہے ( جس سے وہ گناہ معاف ہو جاتا ہے ) اور روز خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بڑھ کر ہے ۔

Hadith 7539
Sahih
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ،‏.‏ وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ قَالَ ‏ "‏ لاَ يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ إِنَّهُ خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى ‏"‏‏.‏ وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said that his Lord said: "It does not befit a slave that he should say that he is better than Jonah (Yunus) bin Matta him to his father.

Urdu

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے ( دوسری سند ) اور امام بخاری نے کہا کہ مجھ سے خلفیہ بن خیاط نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ ان سے سعید نے ‘ ان سے قتادہ نے ‘ ان سے ابو العالیہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے روایت کیا پروردگار نے فرمایا کہ کسی بندے کے لئے مناسب نہیں کہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اور آپ نے یونس کو ان کے باپ کی طرف نسبت دی ۔

Hadith 7540
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ، أَوْ مِنْ سُورَةِ الْفَتْحِ ـ قَالَ ـ فَرَجَّعَ فِيهَا ـ قَالَ ـ ثُمَّ قَرَأَ مُعَاوِيَةُ يَحْكِي قِرَاءَةَ ابْنِ مُغَفَّلٍ وَقَالَ ‏ "‏ لَوْلاَ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيْكُمْ لَرَجَّعْتُ كَمَا رَجَّعَ ابْنُ مُغَفَّلٍ ‏"‏‏.‏ يَحْكِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ كَيْفَ كَانَ تَرْجِيعُهُ قَالَ آ آ آ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin Al-Maghaffal Al-Muzani رضی اللہ عنہ :

"I saw Allah's Messenger (ﷺ) on the day of the Conquest of Mecca, riding his she-camel and reciting Surat-al-Fath (48) or part of Surat-al-Fath. He recited it in a vibrating and pleasant voice. Then Mu'awiya recited as `Abdullah bin Mughaffal had done and said, "Were I not afraid that the people would crowd around me, I would surely recite in a vibrating pleasant voice as Ibn Mughaffal did, imitating the Prophet." I asked Muawiya, "How did he recite in that tone?" He said thrice, "A, A , A."

Urdu

ہم سے احمد بن ابی سریح نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شبابہ نے خبر دی ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ان سے معاویہ بن قرہ نے ‘ ان سے عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی ایک اونٹنی پر سوار تھے اور سورۃ الفتح پڑھ رہے تھے یا سورۃ الفتح میں سے کچھ آیات پڑھ رہے تھے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ نے اس میں ترجیع کی ۔ شعبہ نے کہا یہ حدیث بیان کر کے معاویہ نے اس طرح آواز دہرا کر قرآت کی جیسے عبداللہ بن مغفل کیا کرتے تھے اور معاویہ نے کہا اگر مجھ کو اس کا خیال نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے پاس جمع ہو کر ہجوم کریں گے تو میں اسی طرح آواز دہرا کر قرآت کرتا جس طرح عبداللہ بن مغفل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح آواز دہرانے کو نقل کیا تھا ۔ شعبہ نے کہا میں نے معاویہ سے پوچھا ابن مغفل کیوں کر آواز دہراتے تھے ؟ انہوں نے کہا آآآ تین تین بار مد کے ساتھ آواز دہراتے تھے ۔

Hadith 7541
Sahih
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، أَنَّ هِرَقْلَ، دَعَا تَرْجُمَانَهُ، ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَهُ ‏"‏ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ، وَ‏{‏يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ‏}‏‏"‏ الآيَةَ‏.‏
English

Narrated Abu Sufyan bin Harb:

Heraclius called for his translator and then asked for the letter of the Prophet (ﷺ), and the former read it (thus): "In the Name of Allah, the Most Gracious, the Merciful. (This letter is) from Muhammad bin 'Abdullah, to Heraclius. "...O people of the Scripture (Jews and Christians): Come to a word that is just between us and you that we worship none but Allah..." (V.3:64)

Urdu

اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے ابوسفیان بن حرب نے خبر دی کہ

ہرقل نے اپنے ترجمان کو بلایا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور اسے پڑھا ۔ شروع اللہ کے نام سے جو بہت نہایت رحم کرنے والا بڑا مہربان ہے ۔ اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہرقل کی جانب ۔ پھر یہ آیت لکھی تھی کہ اے کتاب والو ! اس بات پر آ جاؤ جو ہم میں تم میں یکساں مانی جاتی ہے آخر آیت تک ۔

Hadith 7542
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ، وَيُفَسِّرُونَهَا بِالْعَرَبِيَّةِ لأَهْلِ الإِسْلاَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ، وَلاَ تُكَذِّبُوهُمْ وَ‏{‏قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ‏}‏ الآيَةَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The people of the Scripture used to read the Torah in Hebrew and explain it to the Muslims in Arabic. Then Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not believe the people of the Scripture, and do not disbelieve them, but say, 'We believe in Allah and whatever has been revealed...' (3.84)

Urdu

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا ‘ انہیں علی بن مبارک نے خبر دی ‘ انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے ‘ انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

اہل کتاب توریت کو عبرانی میں پڑھتے اور مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی میں کرتے تھے ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نہ اہل کتاب کی تصدیق کرو اور نہ اس کی تکذیب ‘ بلکہ کہو کہ ہم اللہ اور اس کی تمام نازل کی ہوئی کتابوں پر ایمان لائے ۔ الآیہ ۔

Hadith 7543
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ زَنَيَا فَقَالَ لِلْيَهُودِ ‏"‏ مَا تَصْنَعُونَ بِهِمَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا نُسَخِّمُ وُجُوهَهُمَا وَنُخْزِيهِمَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ ‏{‏فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ‏}‏ ‏"‏‏.‏ فَجَاءُوا فَقَالُوا لِرَجُلٍ مِمَّنْ يَرْضَوْنَ يَا أَعْوَرُ اقْرَأْ‏.‏ فَقَرَأَ حَتَّى انْتَهَى عَلَى مَوْضِعٍ مِنْهَا فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْفَعْ يَدَكَ ‏"‏‏.‏ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهِ آيَةُ الرَّجْمِ تَلُوحُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ عَلَيْهِمَا الرَّجْمَ‏.‏ وَلَكِنَّا نُكَاتِمُهُ بَيْنَنَا‏.‏ فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُجِمَا، فَرَأَيْتُهُ يُجَانِئُ عَلَيْهَا الْحِجَارَةَ‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

A Jew and Jewess were brought to the Prophet (ﷺ) on a charge of committing an illegal sexual intercourse. The Prophet (ﷺ) asked the Jews, "What do you (usually) do with them?" They said, "We blacken their faces and disgrace them." He said, "Bring here the Torah and recite it, if you are truthful." They (fetched it and) came and asked a one-eyed man to recite. He went on reciting till he reached a portion on which he put his hand. The Prophet (ﷺ) said, "Lift up your hand!" He lifted his hand up and behold, there appeared the verse of Ar-Rajm (stoning of the adulterers to death). Then he said, "O Muhammad! They should be stoned to death but we conceal this Divine Law among ourselves." Then the Prophet (ﷺ) ordered that the two sinners be stoned to death and, and they were stoned to death, and I saw the man protecting the woman from the stones. (See Hadith No. 809, Vol. 8)

Urdu

ہم سے مسدد بن مسر ہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور عورت لائے گئے ‘ جنہوں نے زنا کیا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے پوچھا کہ تم ان کے ساتھ کیا کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ہم ان کا منہ کالا کر کے انہیں رسوا کرتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر توریت لاؤ اور اس کی تلاوت کرو اگر تم سچے ہو چنانچہ وہ ( توریت ) لائے اور ایک شخص سے جس پر وہ مطمئن تھے کہا کہ اے اعور ! پڑھو ۔ چنانچہ اس نے پڑھا اور جب اس کے ایک مقام پر پہنچا تو اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا ہاتھ اٹھاؤ ‘ جب اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس میں آیت رجم بالکل واضح طور پر موجود تھی ‘اس نے کہا ۔ اے محمد ! ان پر رجم کا حکم تو واقعی ہے لیکن ہم اسے آپس میں چھپاتے ہیں ۔ چنانچہ دونوں رجم کئے گئے میں نے دیکھا کہ مرد عورت کو پتھر سے بچانے کے لئے اس پر جھکا پڑتا تھا ۔

Hadith 7544
Sahih
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَىْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

He heard the Prophet (ﷺ) saying, "Allah does not listen to anything as He listens to the recitation of the Qur'an by a Prophet who recites it in attractive audible sweet sounding voice."

Urdu

ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی حازم نے بیان کیا ‘ ان سے یزید نے بیان کیا ان سے محمد بن ابراہیم نے ‘ ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے اچھی آواز سے پڑھنے پر نبی کے قرآن مجید کو سنتا ہے ۔

Hadith 7545
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا ـ وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ ـ قَالَتْ فَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي، وَأَنَا حِينَئِذٍ أَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ يُبَرِّئُنِي، وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ يُنْزِلُ فِي شَأْنِي وَحْيًا يُتْلَى، وَلَشَأْنِي فِي نَفْسِي كَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ‏}‏ الْعَشْرَ الآيَاتِ كُلَّهَا‏.‏
English

Narrated Abdullah:

`Aisha رضی اللہ عنہا (when the slanderers said what they said about her): I went to my bed knowing at that time that I was innocent and that Allah would reveal my innocence, but by Allah, I never thought that Allah would reveal in my favor a revelation which would be recited, for I considered myself too unimportant to be talked about by Allah in the Divine Revelation that was to be recited. So Allah revealed the ten Verses (of Surat-an-Nur). 'Those who brought a false charge........' (24.11-20)

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ انہیں عروہ بن زبیر ‘ سعید بن مسیب ‘ علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی

عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات کے سلسلہ میں جب تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور ان راویوں میں سے ہر ایک نے واقعہ کا ایک ایک حصہ بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا پھر میں روتے روتے اپنے بستر پر لیٹ گئی اور مجھے یقین تھا کہ جب میں اس تہمت سے بری ہوں تو اللہ تعالیٰ میری برات کرے گا ‘ لیکن واللہ ! اس کا مجھے گمان بھی نہ تھا کہ میرے بارے میں قرآن کی آیات نازل ہوں گی جن کی قیامت تک تلاوت کی جائے گی اور میرے خیال میں میری حیثیت اس سے بہت کم تھی کہ اللہ میرے بارے میں پاک کلام نازل فرمائے جس کی تلاوت ہو اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیت نازل کی ” بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے تہمت لگائی “ پوری دس آیتوں تک ۔

Hadith 7546
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، أُرَاهُ عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ ‏{‏وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ‏}‏ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا أَوْ قِرَاءَةً مِنْهُ‏.‏
English

Narrated Al-Bara':

I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat at-Tin waz Zaitun (By the Fig and the Olive) in the `Isha' prayer and I have never heard anybody with a better voice or recitation than his.

Urdu

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے مسعر نے ‘ ان سے عدی بن ثابت نے ‘ میرا یقین ہے کہ انہوں نے براء بن عازب سے نقل کیا ‘ انہوں نے کہا کہ

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ عشاء کی نماز میں والتین والزیتون پڑھ رہے تھے ۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہترین آواز سے قرآن پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں سنا ۔

Hadith 7547
Sahih
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُتَوَارِيًا بِمَكَّةَ، وَكَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ، فَإِذَا سَمِعَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا‏}‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) was hiding himself in Mecca and used to recite the (Qur'an) in a loud voice. When the pagans heard him they would abuse the Qur'an and the one who brought it, so Allah said to His Prophet: 'Neither say your prayer aloud, nor say it in a low tone.' (17.110)

Urdu

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ‘ ان سے ابو بشر نے بیان کیا ‘ ا ن سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں چھپ کر تبلیغ کرتے تھے تو قرآن بلند آواز سے پڑھتے ۔ مشرکین جب سنتے تو قرآن کو برا بھلا کہتے اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ ” اپنی نماز میں نہ آواز بلند کرو اور نہ بہت پست ۔ “

Hadith 7548
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَهُ ‏ "‏ إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ، فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ لِلصَّلاَةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ، فَإِنَّهُ لاَ يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلاَ إِنْسٌ وَلاَ شَىْءٌ، إِلاَّ شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :

"I have notice that you like sheep and the desert, so when you are looking after your sheep or when you are in the desert and want to pronounce the Adhan, raise your voice, for no Jinn, human being or any other things hear the Mu`adh-dhin's voice but will be a witness for him on the Day of Resurrection." Abu Sa`id رضی اللہ عنہ added, "I heard this from Allah's Messenger (ﷺ)."

Urdu

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم مجھ سے امام مالک نے بیان کا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے ان سے کہا

میرا خیال ہے کہ تم بکریوں کو اور جنگل کو پسند کرتے ہو ۔ پس جب تم اپنی بکریوں میں یا جنگل میں ہو اور نماز کے لیے اذان دو تو بلند آواز کے ساتھ دو کیونکہ مؤذن کی آواز جہاں تک بھی پہنچے گی اور اسے جن و انس اور دوسری جو چیزیں بھی سنیں گی وہ قیامت کے دن اس کی گواہی دیں گی ۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔

Hadith 7549
Sahih
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

The Prophet (ﷺ) used to recite the Qur'an with his head in my lap while I used to be in my periods (having menses).

Urdu

ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے منصور نے ‘ ان سے ان کی والدہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی قرآن پڑھتے تھے جب آپ کا سرمبارک میری گود میں ہوتا اور میں حالت حیض میں ہوتی ۔

Hadith 7550
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ، حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا، سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَاءَتِهِ، فَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلاَةِ، فَتَصَبَّرْتُ حَتَّى سَلَّمَ، فَلَبَبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَقُلْتُ مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ قَالَ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ كَذَبْتَ، أَقْرَأَنِيهَا عَلَى غَيْرِ مَا قَرَأْتَ‏.‏ فَانْطَلَقْتُ بِهِ أَقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَرْسِلْهُ، اقْرَأْ يَا هِشَامُ ‏"‏‏.‏ فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَذَلِكَ أُنْزِلَتْ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اقْرَأْ يَا عُمَرُ ‏"‏‏.‏ فَقَرَأْتُ الَّتِي أَقْرَأَنِي فَقَالَ ‏"‏ كَذَلِكَ أُنْزِلَتْ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ :

I heard Hisham bin Hakim رضی اللہ عنہ reciting Surat-al-Furqan during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ), I listened to his recitation and noticed that he was reciting in a way that Allah's Messenger (ﷺ) had not taught me. I was about to jump over him while He was still in prayer, but I waited patiently and when he finished his prayer, I put my sheet round his neck (and pulled him) and said, "Who has taught you this Sura which I have heard you reciting?" Hisham said, "Allah's Messenger (ﷺ) taught it to me." I said, "You are telling a lie, for he taught it to me in a way different from the way you have recited it!" Then I started leading (dragged) him to Allah's Messenger (ﷺ) and said (to the Prophet), " I have heard this man reciting Surat-al- Furqan in a way that you have not taught me." The Prophet (ﷺ) said: "(O `Umar) release him! Recite, O Hisham." Hisham recited in the way I heard him reciting. Allah's Messenger (ﷺ) said, "It was revealed like this." Then Allah's Messenger (ﷺ) said, "Recite, O `Umar!" I recited in the way he had taught me, whereupon he said, "It was revealed like this," and added, "The Qur'an has been revealed to be recited in seven different ways, so recite of it whichever is easy for you ." (See Hadith No. 514, Vol. 6)

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا ‘ ان سے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبد القاری نے ‘ ان دونوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ

میں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورۃ الفرقان پڑھتے سنا ۔ میں نے دیکھا کہ وہ قرآن مجید بہت سے ایسے طریقوں سے پڑھ رہے تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں پڑھائے تھے ۔ قریب تھا کہ نماز ہی میں ان پر میں ہلہ کر دوں لیکن میں نے صبر سے کام لیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی گردن میں اپنی چادر کا پھندا لگا دیا اور ان سے کہا تمہیں یہ سورت اس طرح کس نے پڑھائی جسے میں نے ابھی تم سے سنا ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے ۔ میں نے کہا تم جھوٹے ہو ‘ مجھے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مختلف قرآت سکھائی ہے جو تم پڑ ھ رہے تھے ۔ چنانچہ میں انہیں کھینچتا ہوا آنحضرت کے پاس لے گیا اور عرض کیا کہ میں نے اس شخص کو سورۃ الفرقان اس طرح پڑھتے سنا جو آپ نے مجھے نہیں سکھائی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو ۔ ہشام ! تم پڑھ کر سناؤ ۔ انہوں نے وہی قرآت پڑھی جو میں ان سے سن چکا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی ہے ۔ اے عمر ! اب تم پڑھو ! میں نے اس قرآت کے مطابق پڑھا جو آپ نے مجھے سکھائی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح بھی نازل ہوئی ہے ۔ یہ قرآن عرب کی سات بولیوں پر اتارا گیا ہے ۔ پس تمہیں جس قرآت میں سہولت ہو پڑھو ۔

Hadith 7551
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ يَزِيدُ حَدَّثَنِي مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيمَا يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ قَالَ ‏ "‏ كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Imran رضی اللہ عنہ :

I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Why should a doer (people) try to do good deeds?' The Prophet (ﷺ) said, "Everybody will find easy to do such deeds as will lead him to his destined place for which he has been created.'

Urdu

ہم سے ابو معمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوہاب نے ‘ ان سے یزید نے کہ مجھ سے مطرف بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمران رضی اللہ عنہ نے کہ

میں نے کہا یا رسول اللہ ! پھر عمل کرنے والے کس لیے عمل کرتے ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص کے لیے اس عمل میں آسانی پیدا کر دی گئی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔

Hadith 7552
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالأَعْمَشِ، سَمِعَا سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ فِي جِنَازَةٍ فَأَخَذَ عُودًا فَجَعَلَ يَنْكُتُ فِي الأَرْضِ فَقَالَ ‏"‏ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ أَوْ مِنَ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا أَلاَ نَتَّكِلُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ ‏{‏فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى‏}‏ ‏"‏‏.‏ الآيَةَ‏.‏
English

Narrated `Ali رضی اللہ عنہ :

While the Prophet (ﷺ) was in a funeral procession, he took a stick and started scraping the earth with it and said, "There is none of you but has his place assigned either in Hell or in Paradise." They (the people) said, "Shall we not depend upon that (and give up doing any deeds)?' He said, " Carry on doing (good deeds) for everybody will find it easy to do such deeds as will lead him to his destined place for which he has been created ." (And then the Prophet (ﷺ) recited the Verse):-- 'As for him who gives (in charity) and keeps his duty to Allah...' (92.5)

Urdu

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے منصور اور اعمش نے ‘ انہوں نے سعدبن عبیدہ سے سنا ‘ انہوں نے ابوعبدالرحمن اسلمیٰ سے اور انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے پھر آپ نے ایک لکڑی لی اور اس سے زمین کرید نے لگے ۔ پھر فرمایا تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا ٹھکانہ جہنم میں یا جنت میں لکھا نہ جا چکا ہو ۔ صحابہ نے کہا پھر ہم اسی پر بھروسہ نہ کر لیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص کے لیے اس عمل میں آسانی پیدا کر دی گئی جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی کہ جس شخص نے بخشش کی اور تقویٰ اختیار کیا ۔ آخر آیت تک ۔

Hadith 7553
Sahih
وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ كِتَابًا عِنْدَهُ غَلَبَتْ ـ أَوْ قَالَ سَبَقَتْ ـ رَحْمَتِي غَضَبِي‏.‏ فَهْوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "Before Allah created the creations, He wrote a Book (wherein He has written): My Mercy has preceded my Anger." and that (Book) is written with Him over the Throne."

Urdu

مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا ‘ کہا میں نے اپنے والد سلیمان سے سنا ‘ انہوں نے قتادہ سے ‘ انہوں نے ابورافع سے ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ‘ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ‘

آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جب خلقت کا پیدا کرنا ٹھہرا چکا ( یا جب خلقت پیدا کر چکا ) تو اس نے عرش کے اوپر اپنے پاس ایک کتاب لکھ کر رکھی اس میں یوں ہے میری رحمت میرے غصے پر غالب ہے یامیرے غصے سے آگے بڑھ چکی ہے ۔

Hadith 7554
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي‏.‏ فَهْوَ مَكْتُوبٌ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :

I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying: "Before Allah created the creations, He wrote a Book (wherein He has written): "My Mercy has preceded my Anger.' And that is written with Him over the Throne." (see Hadith 3194)

Urdu

مجھ سے محمد بن غالب نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن اسماعیل بصریٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے اپنے والد سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابورافع نے حدیث بیان کی ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ایک تحریر لکھی کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھ کر ہے ۔ چنانچہ یہ اس کے پاس عرش کے اوپر لکھا ہوا ہے ۔

Hadith 7555
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَىِّ مِنْ جُرْمٍ وَبَيْنَ الأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ، فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ الطَّعَامُ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ كَأَنَّهُ مِنَ الْمَوَالِي، فَدَعَاهُ إِلَيْهِ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ لاَ آكُلُهُ‏.‏ فَقَالَ هَلُمَّ فَلأُحَدِّثْكَ عَنْ ذَاكَ، إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي نَفَرٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ قَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ ‏"‏‏.‏ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِنَهْبِ إِبِلٍ فَسَأَلَ عَنَّا فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ النَّفَرُ الأَشْعَرِيُّونَ ‏"‏‏.‏ فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، ثُمَّ انْطَلَقْنَا قُلْنَا مَا صَنَعْنَا حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَحْمِلُنَا، وَمَا عِنْدَهُ مَا يَحْمِلُنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا، تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمِينَهُ، وَاللَّهِ لاَ نُفْلِحُ أَبَدًا، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ فَقَالَ ‏"‏ لَسْتُ أَنَا أَحْمِلُكُمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، إِنِّي وَاللَّهِ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَتَحَلَّلْتُهَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Zahdam:

There were good relations and brotherhood between this tribe of Jurm and the Ash`ariyyin. Once, while we were sitting with Abu Musa Al-Ash`ari رضی اللہ عنہ , there was brought to him a meal which contained chicken meat, and there was sitting beside him, a man from the tribe of Bani Taimul-lah who looked like one of the Mawali. Abu Musa رضی اللہ عنہ invited the man to eat but the man said, "I have seen chicken eating some dirty things, and I have taken an oath not to eat chicken." Abu Musa رضی اللہ عنہ said to him, "Come along, let me tell you something in this regard. Once I went to the Prophet (ﷺ) with a few men from Ash`ariyyin and we asked him for mounts. The Prophet (ﷺ) said, By Allah, I will not mount you on anything; besides I do not have anything to mount you on.' Then a few camels from the war booty were brought to the Prophet, and he asked about us, saying, 'Where are the group of Ash`ariyyin?' So he ordered for five fat camels to be given to us and then we set out. We said, 'What have we done? Allah's Messenger (ﷺ) took an oath that he would not give us anything to ride and that he had nothing for us to ride, yet he provided us with mounts. We made Allah's Messenger (ﷺ) forget his oath! By Allah, we will never be successful.' So we returned to him and reminded him of his oath. He said, 'I have not provided you with the mount, but Allah has done so. By Allah, I may take an oath to do something, but on finding something else which is better, I do that which is better and make the expiation for my oath.' "

Urdu

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالوہاب نے ‘ کہا ہم سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے ابوقلابہ اور قاسم تمیمی نے ‘ ان سے زہدم نے بیان کیا کہ

اس قبیلہ جرم اور اشعریوں میں محبت اور بھائی چارہ کا معاملہ تھا ۔ ایک مرتبہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ان کے پاس کھانا لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت بھی تھا ۔ ان کے ہاں ایک بنی تیم اللہ کا بھی شخص تھا ۔ غالباً وہ عرب کے غلام لوگوں میں سے تھا ۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے پاس بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا ہے اور اسی وقت سے قسم کھا لی کہ اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ سنو ! میں تم سے اس کے متعلق ایک حدیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کرتا ہوں ۔ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اشعریوں کے کچھ افراد کو لے کر حاضر ہوا اور ہم نے آپ سے سواری مانگی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ ! میں تمہارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتا ‘ نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جسے میں تمہیں سواری کے لیے دوں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال غنیمت میں سے کچھ اونٹ آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے متعلق پوچھا کہ اشعری لوگ کہاں ہیں ؟ چنانچہ آپ نے ہمیں پانچ عمدہ اونٹ دینے کا حکم دیا ۔ ہم انہیں لے کر چلے تو ہم نے اپنے عمل کے متعلق سوچا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا ئی تھی کہ ہمیں سواری کے لیے کوئی جانور نہیں دیں گے اور نہ آپ کے پاس کوئی ایسا جانور ہے جو ہمیں سواری کے لیے دیں ۔ ہم نے سوچا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قسم بھول گئے ہیں واللہ ! ہم کبھی فلاح نہیں پا سکتے ۔ ہم واپس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ سے صورت حال کے متعلق پوچھا ۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں یہ سواری نہیں دے رہا ہوں بلکہ اللہ دے رہا ہے ۔ واللہ ! میں اگر کوئی قسم کھا لیتا ہوں اور پھر اس کے خلاف میں دیکھتا ہوں تو میں وہی کرتا ہوجس میں بھلائی ہوتی ہے اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں ۔