Rafi' bin Khadij رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The Messenger of Allah; ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gave to Abu Sufyan bin Harb رضی اللہ تعالیٰ عنہ and Safwan. bin Umayya and 'Uyaina bin Hisn and Aqra' bin Habis, i.e. to every one of these persons, one hundred camels, and gave to 'Abbas bin Mirdas رضی اللہ تعالیٰ عنہ less than this number. Upon this 'Abbas bin Mirdis said: You allot the share of my booty and that of my horse between 'Uyaina and Aqra'. Both Uyaina and Aqra' are in no way more eminent than Mirdas (my father) in the assembly. I am in no way inferior to any one of these persons. And he who is let down today would not be elevated. He (the narrator) said: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) then completed one hundred camels for him.
محمد بن ابی عمر مکی نے کہا : سفیان ( بن عینیہ ) نے ہمیں عمر بن سعید بن مسروق سےحدیث بیان کی ، انہوں نےاپنے والد ( سعید بن مسروق ) سے ، انھوں نے عبایہ بن رفاعہ سے اور انھوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان بن حرب ، صفوان بن امیہ ، عینیہ بن حصین اور اقرع بن جابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے ہر ایک کو سو سو اونٹ دیئے اور عباس بن مرداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس سے کم دیے تو عباس بن مرد اس نے ( اشعار میں ) کہا : کیا آپ میری اور میرے گھوڑے عبید کی غنیمت عینیہ ( بن حصین بن حذیفہ بن بدر سید بن غطفان ) اور اقرع ( بن حابس رئیس تمیم ) کے درمیان قرار دیتے ہیں ، حالانکہ ( عینیہ کے پردادا ) بدر اور ( اقرع کے والد ) حابس کسی ( بڑوں کے ) مجمع میں ( میرے والد ) سے فوقیت نہیں رکھتے تھے اور میں ان دونوں میں سے کسی سے کم نہیں ہوں اور جس کو پست قراردیا جائے گا اس کو بلند نہیں کیا جاسکے گا ۔ کہا : اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھی سو پورے کردیے ۔
This hadith has been narrated by Sa'id bin Masruq with the same chain of transmitters (with the words): The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) distributed the spoils of Hunain, and he (the Holy Prophet) gave one hundred camels to Abu Sufyan bin Harb رضی اللہ تعالیٰ عنہ. The rest of the hadith is the same, but with this addition: He bestowed upon Alqama bin 'Ulatha رضی اللہ تعالیٰ عنہ one hundred (camels).
احمد بن عبدہ ضبی نے کہا : ہمیں ) سفیان ( بن عینیہ نے عمر بن سعید بن مسروق سے اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے غنائم تقیسم کیے تو ابو سفیان بن حرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سواونٹ دیے ۔ ۔ ۔ اورپچھلی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علقمہ بن علاثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی سو اونٹ دیئے ۔
This hadith has been narrated by Sa'id with the same chain of transmitters, but no mention has been made of Alqama bin 'Ulatha, nor of safwin bin Umayya, and he did not mention the verse in his hadith.
مخلد بن خالد شعیری نے کہا : ہمیں سفیان ( بن عینیہ ) نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے عمر بن سعید نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور اس میں نہ علقمہ بن علاثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کیا نہ صفوان بن امیہ کا اور نہ اپنی حدیث میں اشعار ہی ذکر کیے ۔
Abdullah bin Zaid رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) conquered Hunain he distributed the booty, and he bestowed upon those whose hearts it was intended to win. It was conveyed to him (the Holy Prophet) that the Ansar cherished a desire that they should be given (that very portion) which the people (of Quraish) had got. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stood up and, after having praised Allah and lauded Him, addressed them thus: O people of Ansar, did I not find you erring and Allah guided you aright through me, and (in the state of) being destitute and Allah made you free from want through me, and in a state of disunity and Allah united you through me, and they (the Ansar) said: Allah and His Messenger are most benevolent. He (again) said: Why do you not answer me? They said: Allah and His Messenger are the most benevolent. He said, If you wish you should say so and so, and the event (should take) such and such course (and in this connection he made a mention) of so many things. 'Amr is under the impression that he has not been able to remember them. He (the Holy Prophet) further said: Don't you feel happy (over this state of affairs) that the people should go away with goats and camels, and you go to your places along with the Messenger of Allah? The Ansar are inner garments (more close to me) and (other) people are outer garments. Had there not been migration, I would have been a man from among the Ansar. If the people were to tread a valley or a narrow path, I would tread the valley (chosen) by the Ansar or narrow path (trodden) by them. And you would soon find after me preferences (over you in getting material benefits). So you should show patience till you meet me at the Haud (Kauthar).
ہم سے سریج بن یونس نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، یحییٰ بن عمارہ نے عباد بن تمیم سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین فتح کیا ، غنائم تقسیم کیے تو جن کی تالیف قلب مقصودتھی ان کو ( بہت زیادہ ) عطافرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی کہ انصار بھی اتنا لیناچاہتے ہیں جتنا دوسرے لوگوں کو ملا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کو خطاب فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " ا ے گروہ انصار!کیا میں نے تم کو گمراہ نہیں پایا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمھیں ہدایت نصیب فرمائی!اور تمھیں محتاج وضرورت مند نہ پایا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے زریعے سےتمھیں غنی کردیا!کیا تمھیں منتشر نہ پایا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمھیں متحد کردیا! " ان سب نے کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی بڑھ کر احسان فرمانے والے ہیں ۔ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم مجھے جواب نہیں دو گے؟ " انھوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ احسان کرنے والے ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم بھی ، اگرچاہو توکہہ سکتے ہو ایساتھا ایساتھا اور معاملہ ایسے ہوا ، ایسےہوا " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں گنوائیں ، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارےپاس اس حالت میں آئے کہ آپ کو جھٹلایا گیا تھا ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلاچھوڑ دیاگیاتھا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیاگیاتھا ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھکانہ مہیاکیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ذمہ داریوں کابوجھ تھا ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مواسات کی ) عمرو ( بن یحییٰ ) کا خیال ہے وہ انھیں یاد نہیں رکھ سکے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " کیا تم اس پر راضی نہیں ہوتے کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ا پنے ساتھ لے کر گھروں کو جاؤ؟انصار قریب تر ہیں اور لوگ ان کے بعد ہیں ( شعار وہ کپڑے جو سب سے پہلے جسم پر پہنے جاتے ہیں ، دثار وہ کپڑے جو بعد میں اوڑھے جاتے ہیں ) اور اگر ہجرت ( کا فرق ) نہ ہوتا تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور ان کی گھاٹی میں چلوں گا ، بلاشبہ تم میرے بعد ( خود پر دوسروں کو ) ترجیح ملتی پاؤگے تو صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھے حوض پر آملو ۔ "
Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
On the day of Hunain, the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) showed preference (to some) people in the distribution of the spoils. He bestowed on Aqra' bin Habis رضی اللہ تعالیٰ عنہ one hundred camels, and bestowed an equal (number) upon 'Uyaina, and bestowed on people among the elites of Arabia, and preferred them (to others) on that day, in the distribution (of spoils). Upon this a person said: By Allah, neither justice has been done in this distribution (of spoils), nor has the pleasure of Allah been sought in it. I (the narrator ) said: By Allah, I will certainly inform the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about it. I came to him and informed him about what he had said. The colour of his (the Prophet's) face changed red like blood and he then said: Who would do justice, if Allah and His Messenger do not do justice? He further said: May Allah have mercy upon Moses; he was tormented more than this, but he showed patience. I said: Never would I convey him (the Holy Prophet) after this (unpleasant) narration.
ہم سے زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا, منصور نے ابو وائل ( شقیق ) سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
جب حنین کی جنگ ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ( مال غنیمت کی ) تقسیم میں ترجیح دی ۔ آپ نے اقرع بن حابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ دیے ، عینیہ کو بھی اتنے ہی ( اونٹ ) دیے اور عرب کے دوسرے اشراف کو بھی عطا کیا اور اس دن ( مال غنیمت کی ) تقسیم میں نہ عدل کیا گیا اور نہ اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھاگیا ہے ۔ کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : اللہ کی قسم!میں ( اس بات سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور آگاہ کروں گا ، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کی اطلاع دی جو اس نے کہی تھی ۔ ( غصے سے ) آپ کا چہرہ مبارک متغیر ہوا یہاں تک کہ وہ سرخ رنگ کی طرح ہوگیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے تو پھر کون عدل کرے گا! "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے!انھیں اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تو انھوں نے صبر کیا ۔ "" ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نےدل میں سوچا آئندہ کبھی ( اس قسم کی ) کوئی بات آپ کے سامنے پیش نہیں کروں گا ۔
Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) distributed spoils (of war). Upon this a person said: This is a distribution In which the pleasure of Allah has not been sought. I came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and informed him in an undertone. He (the Holy Prophet) was deeply angry at this and his face became red till I wished that I had not made a mention of it to him. He (the Holy Prophet) then said: Moses was tormented more than this, but he showed patience.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حفص بن غیث نے بیان کیا، ان کی سند سے, اعمش نے ( ابو وائل ) شقیق سے اور ا نھوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ( مال ) تقسیم کیا توع ایک آدمی نے کہا : اس تقسیم میں اللہ کی رضا کو پیش نظر نہیں رکھا گیا ۔ کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور چپکے چپکے سے آپ کو بتادیا ، اس سے آپ انتہائی غصے میں آگئے ، آپ کاچہرہ سرخ ہوگیا حتیٰ کہ میں نے خواہش کی ، کاش!یہ بات میں آپ کو نہ بتاتا ، کہا : پھر آپ نے فرمایا : " موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تو انھوں نے صبر کیا ۔ "
Jabir bin Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
A person came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) at Jirana on his way back from Hunain, and there was in the clothes of Bilal رضی اللہ تعالیٰ عنہ some silver. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) took a handful out of that and bestowed it upon the people. He (the person who had met the Prophet at Ji'rana) said to him: Muhammad, do justice. He (the Holy Prophet) said: Woe be upon thee, who would do justice if I do not do justice, and you would be very unfortunate and a loser if I do not do justice. Upon this Umar bin Khattab رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: Permit me to kill this hypocrite. Upon this he (the Holy Prophet) said: May there be protection of Allah! People would say that I kill my companions. This man and his companions would recite the Qur'an but it would not go beyond their throat, and they swerve from it just as the arrow goes through the prey.
ہم سے محمد بن رومح بن المہاجر نے بیان کیا, لیث نے یحییٰ بن سعید سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے ابو زبیر سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
حنین سے واپسی کے وقت جعرانہ میں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں چاندی تھی اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مٹھی بھر بھر کے لوگوں کو دے رہے تھے ۔ تو اس نے کہا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) عدل کیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تیرے لئے ویل ( ہلاکت یاجہنم ) ہو!اگر میں عدل نہیں کررہا تو کون عدل کرے گا؟ اگر میں عدل نہیں کررہا تو میں ناکام ہوگیا اور خسارے میں پڑ گیا ۔ " اس پر حضر ت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کو قتل کردوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( میں اس بات سے ) اللہ کی پناہ ( مانگتا ہوں ) !کہ لوگ ایسی باتیں کریں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں ۔ یہ شک یہ اور اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے ، وہ ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گا ، ( یہ لوگ ) اس طرح اس ( دین اسلام ) سے نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے ( آگے ) نکل جاتا ہے ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ through another chain of transmitters.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا, عبدالوہاب ثقفی نے کہا : میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، نیز قرہ بن خالد نے بھی ابو زبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غنیمتیں تقسیم فرمارہے تھے ۔ ۔ ۔ اور ( مذکورہ بالا حدیث کے مانند ) حدیث بیان کی ۔
Abu Said Khudri رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
'Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ sent some gold alloyed with dust to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) distributed that among four men, al-Aqra bin Habis Hanzali and Uyaina bin Badr al-Fazari and 'Alqama bin 'Ulatha al-'Amiri رضی اللہ تعالیٰ عنہ , then to one person of the tribe of Kilab and to Zaid al-Khair al-Ta'l, and then to one person of the tribe of Nabhan. Upon this the people of Quraish felt angry and said: He (the Holy Prophet) gave to the chiefs of Najd and ignored us. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I have done it with a view to conciliating between them. Then there came a person with thick beard, prominent cheeks, deep sunken eyes and protruding forehead and shaven head. He said: Muhammad, fear Allah. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: If I disobey Allah, who would then obey Him? Have I not been (sent as the) most trustworthy among the people of the world? But you do not repose trust in me. That person then went back. A person among the people then sought permission (from the Holy Prophet) for his murder. According to some, it was Khalid bin Walid رضی اللہ تعالیٰ عنہ who sought the permission. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), said: From this very person's posterity there would arise people who would recite the Qur'an, but it would not go beyond their throat; they would kill the followers of Islam and would spare the idol-worshippers. They would glance through the teachings of Islam so hurriedly just as the arrow passes through the pray. If I were to ever find them I would kill them like 'Ad.
ہم سے ہناد بن سری نے بیان کیا، ہم سے ابو الاحواص نے بیان کیا, سعید بن مسروق نے عبدالرحمن بن ابی نعم سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب یمن میں تھے تو انھوں نےکچھ سونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا جو اپنی مٹی کے اندر ہی تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار افراد : اقرع بن حابس حنظلی ، عینیہ ( بن حصین بن حذیفہ ) بن بدر فزاری ، علقمہ بن علاثہ عامری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اس کے بعد ( آگے بڑے قبیلے ) بنو کلاب ( بن ربیعہ بن عامر ) کا ایک فرد تھا اور زید الخیر طائی جو اس کے بعد ( آگے بنوطے کی ذیلی شاخ ) بن نہہمان کا ایک فرد تھا ، میں تقسیم فرمادیا ، کہا : اس پر قریش ناراض ہوگئے اور کہنےلگے : کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نجدی سرداروں کو عطا کریں گے اور ہمیں چھوڑدیں گے؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ کام میں نے ان کی تالیف قلب کی خاطر کیا ہے ۔ " اتنے میں گھنی داڑھی ، ابھرے ہوئے رخساروں ، دھنسی ہوئی آنکھوں ، نکلی ہوئی پیشانی ، منڈھے ہوئے سر والا ایک شخص آیا اور کہا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ سے ڈریں!تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میں اس کی نافرمانی کروں گاتو اس کی فرمانبرداری کون کرے گا!وہ تو مجھے تمام روئے زمین کے لوگوں پر امین سمجھتا ہے اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ " پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چل دیا ، لوگوں میں سے ایک شخص نے اس کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی ۔ ۔ ۔ بیان کرنے والے سمجھتے ہیں کہ وہ خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کی اصل ( جس قبیلے سے اس کا اپنا تعلق ہے ) سے ایسی قوم ہوگی جو قرآن پڑھے گی لیکن وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اتر ےگا ۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑدیں گے ۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانہ بنائے جانے والے شکار سے نکل جاتا ہے ، اگر میں نے ان کو پالیاتو میں ہر صورت انھیں اس طرح قتل کروں گا جس طرح ( عذاب بھیج کر ) قوم عاد کو قتل کیا گیا ۔
Abu Said al-Khudri رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
'Ali bin Abu Talib sent to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) from Yemen some gold alloyed with clay in a leather bag dyed in the leaves of Mimosa flava. He distributed it among four men. 'Uyaina bin Hisna, Aqra' bin Habis and Zaid al-Khail, and the fourth one was either Alqama bin 'Ulatha or 'Amir bin Tufail. A person from among his (Prophet's) Companions said: We had a better claim to this (wealth) than these (persons). This (remark) reached the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) upon which he said: Will you not trust me, whereas I am a trustee of Him Who is in the heaven? The news come to me from the heaven morning and evening. Then there stood up a person with deep sunken eyes, prominent cheek bones, and elevated forehead, thick beard, shaven head, tucked up loincloth, and he said: Messenger of Allah, fear Allah. He (the Holy Prophet) said: Woe to thee. Do I not deserve most to fear Allah amongst the people of the earth? That man then returned. Khalid b. Walid then said: Messenger of Allah, should I not strike his neck? Upon this he (the Holy Prophet) said: Perhaps he may be observing the prayer. Khalid said: How many observers of prayer are there who profess with their tongue what is not in their heart? Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I have not been commanded to pierce through the hearts of people, nor to split their bellies (insides). He again looked at him and he was going back. Upon this he (the Holy Prophet) said: There would arise a people from the progeny of this (man) who would recite the Qur'an glibly, but it would not go beyond their throats; they would (hurriedly) pass through (the teachings of their) religion just as the arrow passes through the prey. I conceive that he (the Holy Prophet) also said this: If I find them I would certainly kill them as were killed the (people of) Thamud.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, عبدالواحد نے عمارہ بن قعقاع سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا : ہمیں عبدالرحمن بن نعیم نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ
حضرت علی بن ابی طالب نے یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رنگے ہوئے ( دباغت شدہ ) چمڑے میں ( خام ) سونے کا ایک ٹکڑا بھیجاجسے مٹی سے الگ نہیں کیاگیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار افراد : عینیہ بن حصن ، اقرع بن حابس ، زید الخیل اور چوتھے فرد علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل کے درمیان تقسیم کردیا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ایک آدمی نے کہا : ہم اس ( عطیے ) کے ان لوگوں کی نسبت زیادہ حق دار تھے ۔ کہا : یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟حالانکہ میں اس کا امین ہوں جو آسمان میں ہے ، میرے پاس صبح وشام آسمان کی خبر آتی ہے ۔ " ( ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : گھنی داڑھی ، ابھرے ہوئے رخساروں ، دھنسی ہوئی آنکھوں ، نکلی ہوئی پیشانی ، منڈھے ہوئے سر والا اور پنڈلی تک اٹھے تہبند والا ایک شخص کھڑا ہوا ، اس نے کہا : اےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے ڈریئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تجھ پر افسوس ، کیا میں تمام اہل زمین سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے کا حقدار نہیں ہوں! " پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چل دیا ۔ توخالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ نماز پڑھتا ہو ۔ " خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : کتنے ہی نمازی ہیں جو زبان سے ( وہ بات ) کہتے ہیں ( کلمہ پڑھتے ہیں ) جو ان کے دلوں میں نہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ لوگوں کے دلوں میں سوراخ کروں اور نہ یہ کہ ان کے پیٹ چاک کروں ۔ " پھر جب وہ پشت پھیر کر جارہاتھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا : " یہ حقیقت ہے کہ اس کی اصل سے ایسے لوگ نکلیں گے جو اللہ کی کتاب کو بڑی تراوٹ سے پڑھیں گے ( لیکن ) لیکن وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گی ، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر نشانہ بنائے جانے والے شکار سے نکلتا ہے ۔ " ( ابو سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میر اخیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میں نے ان کو پالیا تو انھیں اس طرح قتل کروں گا جس طرح ثمود قتل ہوئے تھے ۔ "
This hadith has been narrated through another chain of transmitters and (the narrator) made a mention of elevated forehead, but he made no mention of tucked-up loin cloth and made this addition:
There stood up 'Umar bin Khattab رضی اللہ تعالیٰ عنہ , and said: Should I not strike his neck? Upon this he said: No. Then he turned away, and Khalid the Sword of Allah stood up against him, and said: Prophet of Allah. shall I not strike off his neck? He said, No, and then said: A people would rise from his progeny who would recite the Book of Allah glibly and fluently. 'Umar said: I think he (the Holy Prophet) also said this: If I find them I would certainly kill them like Thamud.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا جریر نے عمارہ بن قعقاع سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، انھوں نے علقمہ بن علاثہ کاذکر کیا اور عامر بن طفیل کا ذکر نہیں کیا ۔ نیز ناتي الجبهة ( نکلی ہوئی پیشانی والا ) کہا اور ( عبدالواحد کی طرح ناشز ( ابھری ہوئی پیشانی والا ) نہیں کہا اور ان الفاظ کا اضافہ کیاکہ
عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ۔ " کہا : پھر وہ پیٹھ پھیر کر چل پڑا تو خالد سیف اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اس کی گردن نہ اڑادوں؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " نہیں ۔ " پھر فرمایا : " حقیقت یہ ہے کہ عنقریب اس کی اصل سے ایسے لوگ نکلیں گے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب نرمی اور تراوٹ سے پڑھیں گے ۔ " ( جریر نے ) کہا : عمارہ نے کہا : میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میں نے ان کو پالیا تو ان کو اسی طرح قتل کروں گا جس طرح ثمود قتل ہوئے ۔
It was narrated from Umarah bin Al-Qaqa with this chian (a similar hadith as no. 2452) and he said: "...between four men: Zaid Al-Khail, Al Aqra bin' bin Habis, 'Uyaynah or Amr bin At-tufail." And he said: "...between four men: A high forehead," like the report of Abdul-Wahid. And he said: 'There will emerge from the progeny of this men people who.." but he did not say: "If live to see them then I will certainly kill them like the killing of Thamud."
عمارہ بن قعقاع کے ایک دوسرے شاگرد ابن فضیل نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی اور کہا : ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خام سونا ) چار افراد : زید الخیل ، اقرع بن حابس ، عینیہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل میں ( تقسیم کیا ۔ ) اور عبدالواحدکی روایت کی طرح " ابھری ہوئی پیشانی والا " کہا اور انھوں نے " اس کی اصل سے ( جس سے اس کا تعلق ہے ) ایک قوم نکلے گی " کے الفاظ بیان کیے اورلئن ادركت لاقتلنهم قتل ثمود ( اگر میں نے ان کو پالیاتو ان کو اس طرح قتل کروں گا جس طرح ثمود قتل ہوئے ) کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔
Abu Salama and 'Ata' bin Yasar came to Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ تعالیٰ عنہ and asked him about Haruriya, saying:
Did you hear the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) making a mention of them? He (Abu Sai'd al-Khudri) said: I don't know who the Haruriya are, but I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There would arise in this nation (and he did not say out of them ) a people and you would hold insignificant your prayers as compared with their prayers. And they would recite the Qur'an which would not go beyond their throats and would swerve through the religion (as blank) just as a (swift) arrow passes through the prey. The archer looks at his arrow, at its iron head and glances at its end (which he held) in the tip of his fingers to see whether it had any stain of blood.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے یحییٰ بن سعید کو یہ کہتے ہوئے سنا: انہوں نے مجھ سے بیان کیا محمد بن ابراہیم نے ابو سلمہ اورعطاء بن یسار سے روایت کی کہ وہ دونوں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اوران سے حروریہ کے بارے میں دریافت کیا
کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا تذکرہ کرتے ہوئے سناتھا؟انھوں نے کہا : حروریہ کوتو میں نہیں جانتا ، البتہ میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے یہ سنا ہے؛ " اس امت میں ایک قوم نکلے گی ۔ آپ نے " اس امت میں سے " نہیں کہا ۔ تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں سے ہیچ سمجھو گے ، وہ قرآن پڑھیں گے اور وہ ان کے حلق ۔ ۔ ۔ یا ان کے گلے ۔ ۔ ۔ سے نیچے نہیں اترے گا ۔ وہ اس طرح دین سے نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کیے ہوئے جانور سے نکل جاتا ہے اور تیر انداز اپنے تیر کی لکڑی کو ، اس کے پھل کو ، اسکی تانت کو دیکھتا ہے اور اس کے پچھلے حصے ( سوفار یا چٹکی ) کے بارے میں شک میں مبتلا ہوتا ہے کے کہا اس کے ساتھ ( شکار کے ) خون میں کچھ لگا ہے ۔ " ( تیر تیزی سے نکل جائے تو اس پر خون وغیرہ زیادہ نہیں لگتا ۔ اسی طرح تیزی کے ساتھ دین سے نکلنے والے پردین کا کوئی اثر باقی نہیں رہتا ۔ )
Abu Sai'd al-Khudri رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
When we were in the company of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he was distributing the spoils of war, there came to him Dhul-Khuwasira, one of Banu Tamim. He said: Messenger of Allah, do justice. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Woe be upon thee! Who would do justice, if I do not do justice? You would be unsuccessful and incurring a loss, if I do not do justice. Upon this Umar bin Khattab رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: Messenger of Allah, permit me to strike off his neck. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Leave him, for he has friends (who would outwardly look to be so religious and pious) that everyone among you would consider his prayer insignificant as compared with their prayer, and his fast as compared with their fasts. They would recite the Qur'an but it would not go beyond their collar-bones. They would pass through (the teachings of Islam so hurriedly) just as the arrow passes through the prey. He would look at its Iron head, but would not find anything ticking) there. He would then see at the lowest end, but would not find anything sticking there. He would then see at its grip but would not find anything sticking to it. He would then see at its feathers and he would find nothing sticking to them (as the arrow would pass so quickly that nothing would stick to it) neither excrement nor blood. They would be recognised by the presence of a black man among them whose upper arms would be like a woman's breast, or like a piece of meat as it quivers, and they would come forth at the time when there is dissension among the people. Abu Sai'd رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: I testify to the fact that I heard it from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and I testify to the fact that 'Ali bin Abu Talib رضی اللہ تعالیٰ عنہ fought against them and I was with him. He gave orders about that man who was sought for, and when he was brought in, and when I looked at him, he was exactly as the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had described him.
مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے بیان کیا, ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمان اورضحاک ہمدانی نے خبر دی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرتھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ مال تقسیم فرمارہے تھے کہ اسی اثناء میں آپ کے پاس ذوالخویصرہ جو بنو تمیم کا ایک فرد تھا ، آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !عدل کیجئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تیری ہلاکت ( کا سامان ہو ) !اگر میں عدل نہیں کرو گاتو کون عدل کرے گا؟ اگر میں عدل نہیں کررہا تو میں ناکام ہوگیا اور خسارے میں پڑ گیا ۔ "" ( یا اگر میں نے عدل نہ کیا تو تم ن اکام رہو گے اور خسارے میں ہوں گے ) اس پر حضر ت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کو قتل کردوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اے چھوڑ دو ، اس کے کچھ ساتھی ہوں گے ۔ تمھارا کوئی فرد اپنی نماز کو ان کی نماز اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے سامنے ہیچ سمجھے گا ، یہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کی ہنسلیوں سے نیچے نہیں اترے گا ۔ اسلام سے اس طرح نکلیں گے جیسے تیر نشانہ بنائے گئے شکار سے نکلتاہے ۔ اس کے پھل ( یا پیکان ) کو دیکھا جائے تو اس میں کچھ نہیں پایا جاتا ، پھر اس کے سو فار کو دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں پایا جاتا ، پھر اس کے پر کو دیکھا جائے تو اس میں کچھ نہیں پایا جاتا ، وہ ( تیر ) گوبر اور خون سے آگے نکل گیا ( لیکن اس پر لگا کچھ بھی نہیں ) ، ان کی نشانی ایک سیاہ فام مرد ہے ، اس کے دونوں مونڈھوں میں سے ایک مونڈھا عورت کے پستان کی طرح یا گوشت کے ہلتے ہوئے ٹکڑے کی طرح ہوگا ۔ وہ لوگوں ( مسلمانوں ) کے باہمی اختلاف کے وقت ( نمودار ) ہوں گے ۔ "" ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کےخلاف جنگ کی ، میں ان کے ساتھ تھا ۔ انھوں نے اس آدمی ( کو تلاش کرنے ) کے بارے میں حکم دیا ، اسے تلاش کیا گیا تو وہ مل گیا ، اس ( کی لاش ) کو لایا گیا تو میں نے اس کو اسی طرح دیکھا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تعارف کرایاتھا ۔
Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ تعالیٰ عنہ said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) made a mention of a sect that would be among his Ummah which would emerge out of the dissension of the people. Their distinctive mark would be shaven heads. They would be the worst creatures or the worst of the creatures. The group who would be nearer to the truth out of the two would kill them. The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gave an example (to give their description) or he said: A man throws an arrow at the prey (or he said at the target), and sees at its iron head, but finds no sign (of blood there), or he sees at the lowest end, but would not see or find any sign (of blood there). He would then see into the grip but would not find (anything) sticking to it. Abu Sai'd رضی اللہ تعالیٰ عنہ then said: People of Iraq. it is you who have killed them.
مجھ سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا,سلیمان بن ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کا تذکرہ فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہوں گے ، وہ لوگوں میں افتراق کے وقت سے نکلیں گے ، ان کی نشانی سر منڈانا ہوگی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ مخلوق کے بدترین لوگ ۔ یا مخلوق کے بدترین لوگوں میں سے ہوں گے ، ان کو دو گروہوں میں سے وہ ( گروہ ) قتل کرے گا جو حق کے قریب تر ہوگا ۔ " آپ نے ان کی مثال بیان کی یا بات ارشاد فرمائی : " انسان شکار کو ۔ ۔ ۔ یا فرمایا : نشانے کو ۔ تیر مارتا ہے وہ پھل کو دیکھتا ہے تو اسے ( خون کا ) نشان نظر نہیں آتا ( جس سے بصیرت حاصل ہوجائے کہ شکار کو لگا ہے ) ، پیکان اور پر کے درمیانی حصے کو دیکھتا ہے تو کوئی نشان نظر نہیں آتا ، وہ سوفار ( پچھلے حصے ) کو دیکھتا ہے تو کوئی نشان نہیں دیکھتا ۔ " حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اے اہل عراق!تم ہی نے ان کو ( حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معیت میں ) قتل کیا ہے ۔
Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: A group would secede itself (from the Ummah) when there would be dissension among the Muslims. Out of the two groups who would be nearer the truth would kill them.
ہم سے شیبان بن فروخ نے بیان کیا, قاسم بن فضل حدانی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم سے ابو نضرہ نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمانوں میں افتراق کے وقت تیزی سے ( اپنے ہدف کے اندر سے ) نکل جانےو الا ایک گروہ نکلے گا دو جماعتوں میں سے جو جماعت حق سے زیادہ تعلق رکھنے والی ہوگی ، ( وہی ) اسے قتل کرے گی ۔ "
Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There would be two groups in my Ummah, and there would emerge another group (seceding itself from both of them), and the party nearer to the truth among the two would kill them (the group of the Khawarij).
ہم سے ابو الربیع الزہرانی اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، قتیبہ نے کہا کہ ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا, قتادہ نے ابو نضر ہ سے اور انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میری امت کے دو گروہ ہوں گے ان دونوں کےدرمیان سے ، دین میں سے تیزی سے باہر ہوجانے والے نکلیں گے ، انھیں وہ گروہ قتل کرے گا جو دونوں گروہوں میں سے زیادہ حق کے لائق ہوگا ۔ "
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ تعالیٰ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: A group will secede at a time of division among the people, and they will be killed by the group that is closer to the truth.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا داود نے ابونضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لوگوں میں گروہ بندی کےوقت دین میں سے تیزی سے نکل جانے والا ایک فرقہ تیزی سے نکلے گا ۔ ان کے قتل کی ذمہ داری دونوں جماعتوں میں سے حق سے زیادہ تعلق رکھنےوالی جماعت پوری کرے گی ۔ "
Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that a group (Khawarij) would emerge from the different parties (the party of Hadrat 'Ali and the party of Amir Mu'awiya), the group nearer the truth between the two would kill them.
مجھ سے عبید اللہ القوایری نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبداللہ بن الزبیر نے بیان کیا، ہم سے سفیان ثابت نے بیان کیا, ضحاک مشرقی نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ایک حدیث میں روایت کی جس میں آپ نے اس قوم کا تذکرہ فرمایا جو ( امت کے ) مختلف گروہوں میں بٹنے کے وقت نکلے گی ، ان کو دونوں گروہوں میں سے حق سے قریب تر گروہ قتل کرے گا ۔
Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ said:
Whenever I narrate to you anything from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) believe it to be absolutely true as falling from the sky is dearer to me than that of attributing anything to him (the Holy Prophet) which he never said. When I talk to you of anything which is between me and you (there might creep some error in it) for battle is an outwitting. I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There would arise at the end of the age a people who would be young in age and immature in thought, but they would talk (in such a manner) as if their words are the best among the creatures. They would recite the Qur'an, but it would not go beyond their throats, and they would pass through the religion as an arrow goes through the prey. So when you meet them, kill them, for in their killing you would get a reward with Allah on the Day of Judgement.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر اور عبداللہ بن سعید الاشجع نے بیان کیا، وکیع کی سند سے، ہم سے الا شج نے بیان کیا, وکیع نے حدیث بیان کی کہا اعمش نے ہمیں خیثمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سوید بن غفلہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا
جب میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنا ؤں تو یہ با ت کہ میں آسمان سے گرپڑوں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں آپ کی طرف کو ئی ایسی با ت منسوب کروں جو آپ نے نہیں فر ما ئی ۔ اورجب میں تم سے اس معاملے میں با ت کروں جو میرے اور تمھا رے درمیان ہے ( تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے استشہاد کر سکتا ہوں کہ ) جنگ ایک چال ہے ( لیکن ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( بصراحت یہ ) فر ما تے ہو ئے سنا : " عنقریب ( خلا فت راشدہ کے ) آخری زمانے میں ایک قوم نکلے گی وہ لو گ کم عمر اور کم عقل ہو ں گے ( بظاہر ) مخلوق کی سب سے بہترین با ت کہیں گے قرآن پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا دین کے اندر سے اس طرح تیزی سے نکل جا ئیں گے جس طرح تیرتیزی سے شکار کے اندر سے نکل جا تا ہے جب تمھا را ان سے سامنا ہو تو ان کو قتل کر دینا جس نے ان کو قتل کیا اس کے لیے یقیناً قیامت کے دن اللہ کے ہاں اجر ہے ۔