Abu Musa رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The honest Muslim trustee who spends (sometimes he said who gives ) what he is commanded to do and he gives that in full with his heart overflowing with cheerfulness and he gives it to one to whom he is ordered, he is one of the givers of charity.
ہم سے ابو بکر بن ابی شیبہ، ابو عامر اشعری، ابن نمیر اور ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے ابو عامر نے بیان کیا اور ہم سے اسامہ برید نے اپنے دادا ابو بردہ سے بیان کیا , حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک ایک مسلمان امانت دار خازن ( خزانچی ) جو دیئے گئے حکم پر عمل کرتا ہے ۔ ( یا فرمایا : ادا کرتا ہے ) اسے خوش دلی کے ساتھ پورے کا پورا ( بلکہ ) وافر ، اس شخص کو ادا کردیتا ہے جس کے بارے میں اسے حکم دیا گیا ہے تو وہ ( خازن بھی ) ۔ ۔ ۔ دو صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے ۔ "
A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When a woman gives in charity some of the food in her house, without causing any damage, there is reward for her for whatever she has given, and a reward for her husband for what he earned. The same applies to the trustee. In no respect does the one diminish the reward of the other.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, جریر نے منصور سے ، انھوں نے شقیق سے ، انھوں نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب عورت اجاڑے بغیر اپنے گھر کے کھانے سے خرچ کرتی ہے تو اسے خرچ کرنے کی وجہ سے اجر ملے گا اور اس کے خاوند کو اس کے کمانے کی وجہ سے اپنا اجر ملے گا اور خزانچی کے لئے بھی اسی طرح ( اجر ) ہے ۔ یہ ایک دوسرے کے اجر میں کوئی کمی نہیں کرتے ۔ "
This hadith has been narrated by Mansur with the same chain of transmitters (with this alteration of words): from the food of her husband .
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا فضیل بن عیاض نے منصور سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کے مانند ) روایت کی اور انھوں نے ( " اپنے گھر کے کھانے میں سے " کے بجائے ) من طعام زوجها ( اپنے خاوند کے کھانے میں سے ) کے الفاظ کہے ۔
A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When a woman spends (something as Sadaqa) out of the household of her husband without causing any damage, there is a reward for her and for him too like it for whatever he earned, and for her (for the wife) because of her spending (for the sake of Allah), and for the trustee also (there is a reward like it), without any reduction from their rewards.
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شقیق سے ، انھوں نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب عورت اجاڑے بغیر اپنے خاوند کے گھر سے ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرتی ہے تو اس کے لئے اس کااجر ہے اور اس ( خاوند ) کے لئے بھی اس کے کمانے کی وجہ سے ویسا ہی اجر ہے اور اس عورت کے لئے اس کے خرچ کرنے کی وجہ سے اور خزانچی کے لئے بھی اس جیسا ( اجر ) ہے ، ان ( سب لوگوں ) کے اجر میں کچھ کمی کئے بغیر ۔ "
This hadith has been narrated by A'mash with the same chain of transmitters.
ابن نمیر نے کہا : ہمیں میرے والد اور با معاویہ نے اعمش سے اسی ( مذکورہ بالا ) سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیا ن کی ۔
Umair رضی اللہ تعالیٰ عنہ , the freed slave of Abi'l-Lahm reported:
I was the slave (of Abi'l-Lahm). I asked the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) if I could give some charity out of my master's wealth. He said: Yes, and the reward is half and half between you two.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر اور زہیر بن حرب نے حفص بن غیث کی سند سے بیان کیا، کہا: ہم سے حفص نے روایت کی ہے, محمد بن زید نے آبی اللحم ( غفاری ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میں غلام تھا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کیا میں اپنے آقاؤں کے مال میں سے کچھ صدقہ کرسکتا ہوں؟آپ نے فرمایا : " ہاں ، اوراجر تم دونوں کےدرمیان آدھاآدھا ( برابر برابر ) ہوگا ۔ "
Umair رضی اللہ تعالیٰ عنہ , the freed slave of Abi'l-Lahm رضی اللہ تعالیٰ عنہ said:
My master commanded me to cut some meat in strips; (as I was doing it) a poor man came to me and I gave him some of it to eat. My master came to know of that, and he beat me. I came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and narrated it to him. He (the Holy Prophet) summoned him and said: Why did you beat him? He (Abi'l-Lahm) said: He gives away my food without being commanded to do so. Upon this he (the Holy Prophet) said: The reward would be shared by you two.
اور ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، حاتم نے، یعنی ہم سے ابن اسماعیل نے بیان کیا, یزید بن ابی عبید نے کہا : میں نے آبی اللحم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا
مجھے میرے آقا نے گوشت کے ٹکڑے کرکے خشک کرنے کا حکم دیا ، میرے پاس ایک مسکین آگیا تو میں نے اس میں سے کچھ کھلا دیا ۔ میرے آقا کو اس کا پتہ چل گیا ۔ تو انھوں نے مجھے مارا ۔ اس پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی ۔ آپ نے اسے بلا کر پوچھا : " تم نے اسے کیوں مارا؟ " اس نے کہا : میرے حکم کے بغیر میراکھانا ( دوسروں کو ) دیتا ہے ۔ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " اجر تم دونوں کے درمیان ہوگا ۔ " ( تم دونوں کو ملے گا )
Hammam bin Munabbih said:
These are some of the a hadith of Muhammad. the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), transmitted to us on the authority of Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ . So he narrated one hadith out of them (as this): The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: No woman should observe fast when her spouse is present (in the house) but with his permission. And she should not admit any (mahram) in his house, while he (her husband) is present, but with his permission. And whatever she spends from his earnings without his sanction, for him is half the reward.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے بیان کیا , ہمام بن منبہ سے ر وایت ہے ، کہا
یہ وہ احادیث ہیں جو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ، پھر انھوں نے کچھ احادیث ذکر کیں ، ان میں سے یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں ( نفلی ) روزہ نہ رکھے مگر جب اس کی اجازت ہو اور اس کے گھر میں اس ک موجودگی میں ( اپنے کسی محرم کو بھی ) اس کی اجازت کے بغیر نہ آنے دےاور اس ( عورت ) نے اس کے حکم کے بغیر اس کی کمائی سے جو کچھ خرچ کیا تو یقیناً اس کا آدھا اجر اس ( خاوند ) کے لئے ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: If anyone contributes a pair of anything for the sake of Allah, he would be invited to enter Paradise (with these words): O servant of Allah, it is good (for you). Those who engage in prayer will he invited to enter by the gate of prayer; those who take part in Jihad will be invited to enter by the gate of Jihad; those who give charity will be invited to enter by the gate of charity; and those who observe fast will be invited to enter by the gate ar-Rayyan. Abu Bakr Siddiq said: Messenger of Allah, is it necessary that a person be invited through one of these gates? Will anyone be invited to enter by all those gates? The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Yes, and I hope you will be one of them.
مجھ سے ابو الطاہر اور ہرملہ بن یحییٰ التجیبی نے بیان کیا، اور یہ قول ابو الطاہر کا ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمان سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے اللہ کی راہ میں دو دو چیزیں خرچ کیں اسے جنت میں آواز دی جائے گی کے اے اللہ کے بندے!یہ ( دروازہ ) بہت اچھا ہے ۔ ( کیونکہ وہ دوسرے میں سے جانے کا حقدار بھی ہوگا ) جو نماز پڑھنے والوں میں سے ہوگا ، اسے نماز کے دروازے سے پکارا جائے گا ، جو جہاد کرنے والوں میں سے ہوگا ، اسے جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا ، جو صدقہ دینے والوں میں سے ہوگا ، اسے صدقے والے دروازے سے پکارا جائے گا ، اور جو روزہ داروں میں سے ہوگا ، اسے باب ریان ( سیرابی کے دروازے ) سے پکارا جائے گا ۔ " ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کسی انسان کو ان تمام دروازوں سے پکارے جان کی ضرورت تو نہیں ہے لیکن کیا کوئی ایسا بھی ( خوش نصیب ) ہوگا جسے ان تمام دروازوں سے بلا یا جائے گا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ، اور مجھے امید ہے تم انھی میں سے ہوگے ۔ "
This hadith has been narrated by Zuhri through another chain of transmitters.
مجھ سے عمرو ناقد، الحسن الحلوانی اور عبد بن حمید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے یعقوب نے، جو ابراہیم بن سعد کے بیٹے ہیں، بیان کیا، ہم سے میرے والد نےصالح اور معمر دونوں نے زہری سے یونس کی مذکورہ بالا سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیا ن کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who spent pairs for the sake of Allah, the guardians of Paradise would call him, (in fact) every guardian of the door (of Paradise would welcome him saying): O, so and so, come on. Upon this Abu Bakr said: Messenger of Allah, (it means) there would be no distress on this person. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said. I hope you would be among them.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ بن الزبیر نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان ح نے بیان کیا، اور مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، اور اس کا قول یہ ہے کہ ہم سے شبابہ نے بیان کیا، مجھ سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے یحییٰ بن ابی کثیر کی سند سےابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہےکہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے اللہ کی راہ میں جوڑا جوڑا خرچ کیا ، اسے جنت کے پہرے دار بلائیں گے ، دروازے کے تمام پہر ے دار ( کہیں گے : ) اے فلاں!آجاؤ ۔ " اس پر ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ایسے فرد کو کسی قسم ( کے نقصان ) کا اندیشہ نہیں ہوگا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے امید ہے کہ تم انھی میں سے ہو گے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Who fasted among you today? Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہ replied: I did. He (the Prophet again) said: Who among you followed a bier today? Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہ replied: I did. He (the Prophet again) said: Who among you fed a poor man today? Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہ replied: I did. He (again) said: Who among you visited an invalid today? Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: I did. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Anyone in whom (these good deeds) are combined will certainly enter paradise.
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مروان نے بیان کیا، یعنی الفزاری نے، یزید کی سند سے اور وہ ابن کیسان نے، ابو حازم اشجعی نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آج تم میں سے روزے دار کون ہے؟ " ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آج تم میں سے جنازے کے ساتھ کون گیا؟ " ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں ، آپ نے پوچھا : " آج تم میں سے کسی نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟ " ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : میں نے ، آپ نے پوچھا : " تو آج تم میں سے کسی بیمار کی تیمار داری کس نے کی؟ " ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی انسان میں یہ نیکیاں جمع نہیں ہوتیں مگر وہ یقیناً جنت میں داخل ہوتاہے ۔ "
Asma', daughter of Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to me: Spend, and do not calculate, or otherwise Allah would also calculate in your case.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, حفص بن غیا ث نے ہشام سے انھوں نے فا طمہ بنت منذر سے اور انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں کہا : کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر ما یا : " ( مال کو ) خرچ ۔ ۔ ۔ یا ہر طرف پھیلاؤ یا ( پانی کی طرح ) بہاؤ ۔ ۔ ۔ اور گنو نہیں ورنہ اللہ بھی تمھیں گن گن کر دے گا ۔
Asma' رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:
Allah's Messenger (ﷺ) as saying (to her): Spend and do not calculate, (for) Allah would calculate in your case; and do not hoard, otherwise Allah would be withholding from you.
ہم سے عمرو ناقد، زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا, محمد بن خازم نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے عبادبن حمزہ اور فا طمہ بنت منذر حدیث بیان کی اور انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( مال کو ) ہر طرف خرچ کرو ۔ ۔ یا ( پانی کی طرح بہاؤ یا خرچ کرو ۔ ۔ ۔ اور شمار نہ کرو ورنہ اللہ بھی تمھیں شمار کر کر کے دے گا اور سنبھا ل کر نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تم سے سنبھا ل کر رکھے گا ۔
This hadith has been narrated on the authority of Asma' رضی اللہ تعالیٰ عنہ through another chain of transmitters.
محمد بن بشر نے کہا : ہمیں ہشا م نے عبا د بن حمزہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت اسما رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا ۔ ۔ ۔ ان ( مذکورہ با لا راویوں ) کی حدیث کے ما نند ۔
Asma' daughter of Abu Bak رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
She came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Apostle of Allah, I have nothing with me, but only, that which is given to me by Zubair (for household expenses). Is there any sin for me if I spend out of that which is given to me (by Zabair)? Upon this he (the Holy Prophet) said: Spend according to your means; and do not hoard, for Allah will withhold from you.
اور مجھ سے محمد بن حاتم اور ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ابن جریج نے کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عباد بن عبد اللہ بن زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ضر ہو ئیں اور عرض کی ، اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !جو کچھ زبیر مجھے دے اس کے سوا میرے پا س کو ئی چیز نہیں ہو تی تو کیا مجھ پر کو ئی گنا ہ تو نہیں کہ جو وہ مجھے دے اس میں سے تھوڑا سا صدقہ کر دوں ؟آپ نے فر ما یا : اپنی طا قت کے مطا بق تھوڑا بھی خرچ کرو اور برتن میں سنبھا ل کر نہ رکھو ورنہ اللہ تعا لیٰ بھی تم سے سنبھا ل کر رکھے گا ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: O Muslim women, none of you should consider even a sheep's trotter too insignificant to give to her neighbour.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے سعید بن ابی سعید کی سند سے بیان کیا۔ اس کے والد کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فر ما یا کرتے تھے : " اے مسلما ن عورتو! کو ئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے ( تحفےکو ) حقیر نہ سمجھے چا ہے وہ بکری کا ایک کھر ہو ۔ ( جو میسر ہے بھیج دو )
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had said: Seven are (the persons) whom Allah would give protection with His Shade on the Day when there would be no shade but that of Him (i. e. on the Day of Judgment, and they are): a just ruler, a youth who grew up with the worship of Allah; a person whose heart is attached to the mosques; two persons who love and meet each other and depart from each other for the sake of Allah; a man whom a beautiful woman of high rank seduces (for illicit relation), but he (rejects this offer by saying): I fear Allah ; a person who gives charity and conceals it (to such an extent) that the right hand does not know what the left has given: and a person who remembered Allah in privacy and his eyes shed tears.
مجھ سے زہیر بن حرب اور محمد بن المثنی نے یحییٰ القطان کی سند سے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا, عبید اللہ سے روایت ہے کہا : مجھے خبیب بن عبد الرحمٰن نے حفص بن عاصم سے خبردی انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سات قسم کے لو گو ں کو اللہ تعا لیٰ اس دن اپنے سائے میں سایہ مہیا کرے گا جس دن کے سائے کے سوا کو ئی سایہ نہیں ہو گا عدل کرنے والا حکمران اور وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت کے ساتھ پروان چڑھا اور وہ آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہواہے اور ایسے دو آدمی جنھوں نے اللہ کی خا طر ایک دوسرے سے محبت کی اسی پر اکٹھے ہو ئے اور اسی پر جدا ہو ئے اور ایسا آدمی جسے مرتبے اور حسن والی عورت نے ( گناہ کی ) دعوت دی تو اس ( آدمی ) نے کہا : میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ آدمی جس نے چھپا کر صدقہ کیا حتیٰ کہ اس کا با یا ں ہا تھ جو کچھ خرچ کر رہا ہے اسے دایاں نہیں جا نتا اور وہ آدمی جس نے تنہا ئی میں اللہ کو یا د کیا تو اس کی آنکھیں بہنے لگیں-
This hadith has been narrated, on the authority, of Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ (with this change of words):
A person whose heart is attached to the mosque when he goes out of it till he returns to it.
اور ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہ ا مام ما لک نے خبیب بن عبد الرحمٰن سے انھوں نے حفص بن عاصم سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ ۔ ۔ یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ ۔ ۔ سے روایت ک ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) جس طرح عبید اللہ کی حدیث ہے اور انھوں نے ( ایسا آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہے کے بجا ئے ) کہا
رجل معلق بالمسجد اذا خرج منه حتي يعود اليه " وہ آدمی جب مسجد سے نکلتا ہے تو اسی کے ساتھ معلق رہتا ہے یہاں تک کہ اس میں لوٹ آئے ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
There came a person to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Messenger of Allah, which charity is the best? Upon this he said: That you should give charity (in a state when you are) healthy and close-fisted, one haunted by the fear of poverty, hoping to become rich (charity in such a state of health and mind is the best). And you must not defer (charity to such a length) that you are about to die and would he saying: This is for so and so, and this is for so and so. Lo, it has already come into (the possession of so and so).
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، جریر نے عمارہ بن قعقاع سے انھوں نے ابو زرعہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ا نھوں نے کہا
ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ضر ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کو ن سا صدقہ ( اجر میں ) بڑا ہے؟آپ نے فر ما یا : " تم ( اس وقت ) صدقہ کرو جب تم تند رست ہو اور مال کی خواہش رکھتے ہو فقر سے ڈرتے ہو اور تونگری کی امید رکھتے ہو اور اس قدر تا خیر نہ کرو کہ جب ( تمھا ری جا ن ) حلق تک پہنچ جائے ( پھر ) تم کہو : اتنا فلا ں کا ہے اور اتنا فلا ں کا ۔ اب تو وہ فلا ں ( وارث ) کا ہو ہی چکا ہے ۔