A similar report (as no. 2462) was narrated from Al A'mash with this chain.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, عیسیٰ بن یو نس اور سفیان دو نوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters, but (these words) are not there:
They pass through the religion clean as the arrow passes through the prey.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر ایچ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہیں ابو کریب نے اور ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا کہ وہ دونوں اعمش سے جریر اور ابو معاویہ نے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور ان دو نوں کی حدیث میں
" دین میں سے تیز رفتاری کے ساتھ یوں نکلیں گے جس طرح تیر نشانہ لگے شکار سے تیزی سے نکل جاتا ہے کے الفا ظ نہیں ہیں ۔
Abida narrated from 'Ali رضی اللہ عنہ that he made a mention of the Khawarij (and in this connection) said:
There would be a person among them with a defective hand (or with a short hand) or a fleshy hand. If you were to exercise restraint, I would tell you what Allah has promised to those who would kill them on the order of Muhammad ( صلی اللہ علیہ وسلم ). I (the narrator) said to him: Did you hear it from Muhammad ( صلی اللہ علیہ وسلم )? He (Hadrat 'Ali) said: Yes, by the Lord of the Ka'bah; Yes, by the Lord of the Ka'bah; yes, by the Lord of the Ka'bah.
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدامی نے بیان کیا، ہم سے ابن الیہ اور حماد بن زید نے بیان کیا اور ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، اور ان سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہم سے اسماعیل بن اولیہ نے بیان کیا۔ایو ب نے محمد سے انھوں نے عبیدہ سے اور انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی انھوں نے خوارج کا ذکر کیا اور کہا
ان میں ایک آدمی ناقص چھوٹے یا زیادہ اور ہلتے ہو ئے گو شت کے ( جیسے ) ہاتھ والا ہو گا اگر تمھا رے اترا نے کا ڈر نہ ہو تا تو جو کچھ اللہ تعا لیٰ نے انھیں قتل کرنے والوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے وعدہ فر ما یا ہے وہ میں تمھیں بتا تا ۔ ( عبیدہ نے ) کہا میں نے عرض کی : کیا آپ نے یہ ( وعدہ برا راست ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؟ انھوں نے کہا : رب کعبہ کی قسم! ہاں رب کعبہ قسم !ہاں رب کعبہ کی قسم !ہاں
Abida said:
I will not narrate to you except what I heard from him (Hadrat 'Ali رضی اللہ عنہ ), and then he narrated from him." Then he narrated from 'Ali a hadith similar to that of Ayyub (no. 2464).
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان کی سند سےابن عون نے محمد سے اور انھوں نے عبیدہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا میں تمھیں صرف وہی بیان کروں گا جو میں نے ان ( علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا ہے پھر انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایو ب کی حدیث کی طرح مرفو ع حدیث بیان کی ۔
Zaid bin Wahb Juhani reported:
He was among the squadron which was under the command of Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ and which set out (to curb the activities) of the Khawarij. 'Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: O people, I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: There would arise from my Ummah a people who would recite the Qur'an, and your recital would seem insignificant as compared with their recital, your prayer as compared with their prayer, and your fast, as compared with their fast. They would recite the Qur'an thinking that it supports them, whereas it is an evidence against them. Their prayer does not get beyond their collar bone; they would swerve through Islam just as the arrow passes through the prey. If the squadron which is to encounter them were to know (what great boon) has been assured to them by their Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) they would completely rely upon this deed (alone and cease to do other good deeds), and their (that of the Khawarij) distinctive mark is that there would be (among them) a person whose wrist would be without the arm, and the end of his wrist would be fleshy like the nipple of the breast on which there would be white hair. You would be marching towards Muawiya and the people of Syria and you would leave them behind among your children and your property (to do harm). By Allah, I believe that these are the people (against whom you have been commanded to fight and get reward) for they have shed forbidden blood, and raided the animals of the people. So go forth in the name of Allah (to fight against them). Salama b. Kuhail mentioned that Zaid b. Wahb made me alight at every stage, till we crossed a bridge. 'Abdullah b. Wahb al-Rasibi was at the head of the Khawarij when we encountered them. He ('Abdullah) said to his army: Throw the spears and draw out your swords from their sheaths, for I fear that they would attack you as they attacked you on the day of Harura. They went back and threw their spears and drew out their swords, and people fought against them with spears and they were killed one after another. Only two persons were killed among the people (among the army led by 'Ali) on that day. 'Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: Find out from among them (the dead bodies of the Khawarij) (the maimed). They searched but did not find him. 'Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ then himself stood up and (walked) till he came to the people who had been killed one after another. He ('Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) said: Search them to the last, and then ('Ali's companions) found him (the dead body of the maimed) near the earth. He ('Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ) then pronounced Allahu Akbar (Allah is the Greatest) and then said, Allah told the Truth and His Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) conveyed it. Then there stood before him 'Abida Salmani who said: Commander of the Believers, by Allah, besides Whom there is no god but He, (tell me) whether you heard this hadith from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He said: Yes, by Allah, besides Whom there is no god but He. He asked him to take an oath thrice and he took the oath.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا, ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے بیان کیا، ہم سے عبدالملک بن ابی سلیمان نے بیان کیا, سلمہ بن کہیل نے کہا : مجھے زید بن وہب جہنی ؒ نے حدیث سنا ئی کہ
وہ اس لشکر میں شامل تھے جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا ( اور ) خوارج کی طرف روانہ ہوا تھا تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : لو گو !میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا : "" میری امت سے کچھ لو گ نکلیں گے وہ ( اس طرح ) قرآن پڑھیں گے کہ تمھا ری قراءت ان کی قراءت کے مقابلے میں کچھ نہ ہو گی اور نہ تمھا ری نمازوں کی ان کی نمازوں کے مقابلے میں کو ئی حیثیت ہو گی اور نہ ہی تمھا رے روزوں کی ان کے روزوں کے مقابلے میں کو ئی حیثیت ہو گی ۔ وہ قرآن پڑھیں گے اور خیال کریں گے وہ ان کے حق میں ہے حا لا نکہ وہ ان کے خلا ف ہو گا ان کی نماز ان کی ہنسلیوں سے آگے نہیں بڑھے گی وہ اس طرح تیزرفتا ری کے ساتھ اسلام سے نکل جا ئیں گے جس طرح تیر بہت تیزی سے شکا ر کے اندر سے نکل جا تا ہے ۔ : "" اگر وہ لشکر جو ان کو جا لے گا جا ن لے کہ ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ان کے بارے میں کیا فیصلہ ہوا ہے تو وہ عمل سے ( بے نیاز ہو کر صرف اسی عمل پر ) بھروسا کر لیں ۔ اس ( گروہ ) کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی ہو گا جس کا عضد ( بازو ، کندھے سے لے کر کہنی تک کا حصہ ) ہو گا کلا ئی نہیں ہو گی اس کے بازو کے سر ے پر پستان کی نو ک کی طرح ( کا نشان ) ہو گا جس پر سفید بال ہوں گے تو لو گ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اہل شام کی طرف جا رہے ہو اور ان ( لوگوں ) کو چھوڑرہے ہو جو تمھا رے بعد تمھا رے بچوں اور اموال پر آپڑیں گے اللہ کی قسم!مجھے امید ہے کہ وہی قوم ہے کیونکہ انھوں نے ( مسلمانوں کا ) حرمت والا خون بہا یا ہے اور لوگوں کے مویشیوں پر غارت گر ی کی ہے اللہ کا نا م لے کر ( ان کی طرف ) چلو ۔ سلمہ بن کہیل نے کہا : مجھے زید بن وہب نے ( ایک ایک ) منزل میں اتارا ( ہر منزل کے بارے میں تفصیل سے ) بتا یا حتیٰ کے بتا یا : ہم ایک پل پر سے گزرے پھر جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو اس روز خوارج کا سپہ سالار عبد اللہ بن وہب راسی تھا اس نے ان سے کہا : اپنے نیزے پھنیک دو اور اپنی تلواریں نیا موں سے نکا ل لو کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ وہ تمھا رے سامنے ( صلح کے لیے اللہ کا نا م ) پکا ریں گے جس طرح انھوں نے خروراء کے دن تمھا رے سامنے پکا را تھا تو انھوں نے لوٹ کر اپنے نیزے دو ر پھینک دیے اور تلواریں سونت لیں تو لو گ انھی نیزوں کے ساتھ ان پر پل پڑے اور وہ ایک دوسرے پر قتل ہو ئے ( ایک کے بعد دوسرا آتا اور قتل ہو کر پہلو ں پر گرتا ) اور اس روز ( علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ دینے والے ) لو گوں میں سے دو کے سوا کو ئی اور قتل نہ ہوا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ان میں ادھورے ہاتھ والے کو تلا ش کرو لو گوں نے بہت ڈھونڈا لیکن اس کو نہ پا سکے اس پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود اٹھے اور ان لو گوں کے پاس آئے جو قتل ہو کر ایک دوسرے پر گرے ہو ئے تھے آپ نے فر ما یا : ان کو ہٹاؤ تو انھوں نے اسے ( لا شوں کے نیچے ) زمین سے لگا ہوا پا یا ۔ آپ نے اللہ اکبر کہا پھر کہا : اللہ نے سچ فر ما یا اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اسی طرح ہم تک ) پہنچا دیا ۔ ( زید بن وہب نے ) کہا عبیدہ سلمانی کھڑے ہو کر آپ کے سامنے حاضر ہو ئے اور کہا اے امیر المومنین ! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کو ئی عبادت کے لا ئق نہیں !آپ نے واقعی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ تو انھوں نے کہا : ہاں اس اللہ کی قسم جس کے سوا کو ئی عبادت کے لا ئق نہیں !حتیٰ کہ اس نے آپ سے تین دفعہ قسم لی اور آپ اس کے سامنے حلف اٹھاتے رہے ۔
Ubaidullah bin Abu Rafi' رضی اللہ تعالیٰ عنہ , the freed slave of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), said:
When Haruria (the Khawarij) set out and as he was with 'Ali bin Abu Talib رضی اللہ تعالیٰ عنہ they said, There is no command but that of Allah. Upon this 'Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: The statement is true but it is intentionally applied (to support) a wrong (cause). The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) described their characteristics and I found these characteristics in them. They state the truth with their tongue, but it does not go beyond this part of their bodies (and the narrator pointed towards his throat). The most hateful among the creation of Allah is one black man among them (Khawarij). One of his hand is like the teat of a goat or the nipple of the breast. When 'Ali bin Abu Talib رضی اللہ تعالیٰ عنہ killed them, he said: Search (for his dead body). They searched for him, but they did not find it (his dead body). Upon this he said: Go (and search for him). By Allah, neither I have spoken a lie nor has the lie been spoken to me. 'Ali said this twice and thrice. They then found him (the dead body) in a rain. They brought (his dead) body till they placed it before him (Hadrat 'Ali). 'Ubaidullah said: And, I was present at (that place) when this happened and when 'Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ said about them. A person narrated to me from Ibn Hanain that he said: I saw that black man.
ابو طا ہر اور یو نس بن عبد الاعلی دو نوں نے کہا ہمیں عبد اللہ بن وہب نے خبر دی انھوں نے کہا مجھے عمرو بن حارث نے بکیر اشج سے خبردی انھوں نے بسر بن سعید سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلا م حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے عبید اللہ سے روایت کی کہ
جب حروریہ نے خروج کیا اور وہ ( عبیدہ اللہ ) حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا تو انھوں نے کہا حکومت اللہ کے سوا کسی کی نہیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ کلمہ حق ہے جس سے با طل مراد لیا گیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لو گوں کی صفات بیان کیں میں ان لو گو ں میں ان صفات کو خوب پہچا نتا ہوں ( آپ نے فر ما یا ) : "" وہ اپنی زبانوں سے حق بات کہیں گے اور وہ ( حق ) ان کی اس جگہ ۔ ۔ ۔ آپ نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا ۔ ۔ ۔ سے آگے نہیں بڑھے گا یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے اس کے ہا ں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہیں ان میں ایک سیاہ رنگ کا آدمی ہو گا اس کا ایک ہا تھ بکرکے تھن یا نوک پستان کی طرح ہو گا جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو قتل کیا ڈھونڈو ۔ لو گوں نے ڈھونڈا تو انھیں کچھ نہ ملا فر ما یا دوبارہ تلاش کرو اللہ کی قسم! میں نے جھوٹ نہیں بو لا اور نہ مجھے جھوٹ بتا یا گیا دو یا تین دفعہ ( یہی فقرہ ) کہا پھر انھوں نے اسے ایک کھنڈر میں پالیا تو وہ اسے لے آئے یہاں تک کہ اسے آپ کے سامنے رکھ دیا ۔ عبید اللہ نے کہا : میں بے ان کے اس معاملے میں اور ان کے متعلق حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات کے وقت حاضر تھا ۔ یو نس نے اپنی روا یت میں اضافہ کیا : بکیر نے کہا مجھے ( عبد اللہ ) بن حنین ( ہاشمی ) سے ایک آدمی نے حدیث بیان کی اس نے کہا میں نے بھی اس کا لے کو دیکھا تھا ۔
Abu Dharr رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Verily there would arise from my Ummah after me or soon after me a group (of people) who would recite the Qur'an, but it would not go beyond their throats, and they would pass clean through their religion just as the arrow passes through the prey, and they would never come back to it. They would be the worst among the creation and the creatures. Ibn Samit (one of the narrators) said: I met Rafi' bin 'Amr Ghifari, the brother of Al-Hakam Ghifari and I said: What is this hadith that I heard from Abu Dharr, i. e. so and so? and then I narrated that hadith to him and said: I heard it from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
ہم سے شیبان بن فروخ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن المغیرہ نے بیان کیا، ہم سے حمید بن ہلال نے بیان کیا،عبد اللہ بن صامت نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا بلا شبہ میرے بعد میری امت سے ۔ ۔ ۔ یا عنقریب میرے بعد میری امت سے ۔ ۔ ۔ ایک قوم ہو گی جو قرآن پڑھیں گے وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جا تا ہے پھر اس میں واپس نہیں آئیں گے ۔ وہ انسانوں اور مخلو قات میں بد ترین ہوں گے ۔ ابن صامت نے کہا : میں حکم غفا ری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملا ، میں نے کہا : ( یہ ) کیا حدیث ہے جو میں نے ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس طرح سنی ہے؟ اس کے بعد میں نے یہ حدیث بیان کی تو انھوں نے کہا میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ۔
Yusair bin 'Amr reported:
He inquired of Sahl bin Hunaif رضی اللہ تعالیٰ عنہ : Did you hear the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) making a mention of the Khawarij? He said: I heard him say (and he pointed with his hand towards the east) that these would be a people who would recite the Qur'an with their tongues and it would not go beyond their collar bones. They would pass clean through their religion just as the arrow passes through the prey.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, علی بن مسہر نے ( ابو اسحاق شیبانی سے اور انھوں نے یسر بن عمرو سے روایت کی انھوں نے کہا
میں نے سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوارج کا تذکرہکرتے ہو ئے سنا؟ انھوں نے کہا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا تھا ۔ ۔ ۔ اور آپ نے اپنے ہا تھ سے مشرق کی جا نب اشارہ کیا تھا ۔ ۔ ۔ ایک قوم ہو گی جو اپنی زبانوں سے قرآن مجید کی تلا وت کریں گے لیکن وہ ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے آگے نہیں جا ئے گا وہ دین سے اس طرح تیزی سے نکل جا ئیں گے جس طرح تیر شکا ر میں سے نکل جا تا ہے ۔
This hadith had been transmitted by Sulaiman Shaibani with the same chain of narrators (and the words are), There would arise out of (this group) many a group
ہم سے ابو کامل نے بیان کیا، انہوں نے کہا عبد الو حد نے کہا : ہمیں ( ابو اسحاق ) سلیما ن شیبانی نے اسی سند کے ساتھ ( مذکورہ ) حدیث بیان کی اور کہا " اس ( جا نب ) سے کچھ قومیں نکلیں گی ۔
Sahl bin Hunaif رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There would arise from the east a people with shaven heads.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق نے یزید کی سند سے بیان کیا، ابوبکر نے کہا: ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا, اعوام بن حو شب سے روایت ہے کہا ابو اسحاق شیبا نی نے سہیل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت کی فر ما یا : " ایک قوم مشرق کی طرف سر گرداں پھر ے گی ان کے سر منڈھے ہو ئے ہوں گے ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Hasan bin 'Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ took one of The dates of the sadaqa and put it in his mouth, whereupon the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Leave it, leave it, throw it; don't you know that we do not eat the sadaqa?
عبید اللہ بن معاذ عنبری نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا ہمیں شعبہ نے محمد بن زیاد سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہو ئے سنا کہ ہجرت
حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے لی اور اسے اپنے منہ میں ڈا ل لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " چھوڑو ، چھوڑو ، پھینک دو اسے کیا تم نہیں جا نتے کہ ہم صدقہ نہیں کھا تے ؟ "
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters (and the words of the Holy Prophet ﷺ) are:
Sadaqa is not permissible for us.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے روایت کی ہے, وکیع نے شعبہ سے اسی ( ؐذکورہ با لا ) سند کے ساتھ روایت کی اور
( " ہم صدقہ نہیں کھا تے " کے بجا ئے ) " ہمارے لیے صدقہ حلا ل نہیں " کہا ہے
It was narrated from Shobah with this chain(a similar hadith as no. 2473), as Ibn Muadh said:
"We do not consume chairy."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا محمد بن جعفر اور ابن ابی عدی دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ ( اسی طرح ) حدیث بیان کی جس طرح ابن معاذ نے کہا
" کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: I go back to my family and I find a date lying on my bed. I then take it up to eat it, but then I throw it away fearing that it may be a Sadaqa.
مجھ سے ہارون بن سعید الایلی نے بیان کیا، مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے عمرو نے بیان کیا کہ ابو ہریرہ کے موکل ابو یونس نے ان سےابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلا م ابو یو نس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فر ما یا : " میں اپنے گھر لوٹتا ہوں اور اپنے بستر پر ایک کھجور گری ہو ئی پا تا ہوں میں اسے کھا نے کے لیے اٹھا تا ہوں پھر ڈرتا ہوں کہ یہ صدقہ نہ ہو تو اسے پھینک دیتا ہوں ۔
It was narrated that Hammam bin Munabbih said: "This is what Abu Hurairah narrated Muhammad the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم )" And he quoted number of Ahadith including the following: And he said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I go back to my family and I find a date lying on my bed or in my house, and I take it up to eat it, but then I throw it away fearing that it may be a Sadaqa or from Sadaqa.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے عبد الرزاق بن ہمام نے بیان کیا، ہم سے معمر نے بیان کیا , ہمام بن منبہ نے کہا : یہ ( احادیث ) ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں محمدرسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں انھوں نے کچھ احادیث بیان کیں ان میں سے ( ایک حدیث یہ ) ہے اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ کی قسم! میں اپنے گھروالوں کے پاس لو ٹتا ہوں اور اپنے بستر پر ۔ ۔ ۔ یا اپنے گھر میں ۔ ۔ ایک کھجور گری ہوئی پا تا ہوں میں اسے کھا نے کے لیے اٹھا تا ہوں پھر میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ صدقہ ( نہ ) ہو ( یا صدقے میں سے نہ ہو ) تو میں اسے پھینک دیتا ہوں ۔ "
Anas bin Malik رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) found a date in the street and said: If it were not of sadaqa I would have eaten it.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا, سفیان نے منصور سے انھوں نے طلحہ بن مصرف سے اور انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کھجور ملی تو آپ نے فر ما یا : " اگر یہ ( امکا ن ) نہ ہو تا کہ یہ صدقے میں سے ہو سکتی ہے تو میں اسے کھا لیتا ۔
Anas bin Malik رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) found a date lying on the path and said: If it were not out of Sadaqa, I would have eaten it.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا, زائد ہ نے منصور اور انھوں نے طلحہ بن مصرف سے روایت کی انھوں نے کہا حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں ( پڑی ہو ئی ) ایک کھجور کے قریب سے گزرے تو فر ما یا : " اگر یہ ( امکا ن ) نہ ہو تا کہ یہ صدقے سے ہو گی تو میں اسے کھا لیتا ۔
Anas bin Malik رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) found a date and said: Were it not (that I fear) it may be part of sadaqa, I would have eaten it.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا , قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کھجور ملی تو آپ نے فر ما یا : " اگر یہ ( امکا ن ) نہ ہو تا کہ یہ صدقہ ہو گا تو میں اسے کھا لیتا.
Abdul-Muttalib bin Rabi'a bin al-Harith reported that Rabi'a bin al-Harith and Abbas bin Abdul-Muttalib رضی اللہ تعالیٰ عنہ gathered together and said:
By Allah, if we had sent these two young boys (i. e. I and Fadl bin 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and they had spoken to him, he would have appointed them (as the collectors) of these sadaqat; and they would (collect them) and pay (to the Holy Prophet) as other people (collectors) paid and would get a share as other people got it. As they were talking about it there came 'Ali bin Abu Talib رضی اللہ تعالیٰ عنہ and stood before them, and they made a mention of it to him. 'Ali bin Abu Talib رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: Don't do that; by Allah he (the Holy Prophet) would not do that (would not accept your request). Rabi'a bin Harith رضی اللہ تعالیٰ عنہ turned to him and said: By Allah, you are not doing so but out of jealousy that you nurse against us By Allah, you became the son-in-law of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) but we felt no jealousy against you (for this great privilege of yours). 'Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ then said: Send them (if you like). They set out and 'Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ lay on the bed. When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) offered the noon prayer. we went ahead of him to his apartment and stood near it till he came out. He took hold of our ears (out of love and affection) and then said: Give out what you have kept in your hearts. He then entered (the apartment) and we also went in and he (the Holy Prophet) was on that day (in the house of) Zainab bin jahsh رضی اللہ تعالیٰ عنہ . We urged each (of us) to speak. Then one of us thus spoke: Messenger of Allah, you are the best of humanity and the best to cement the ties of blood-relations. We have reached the-marriageable age. We have come (to you) so that you may appoint us (as collectors) of these sadaqat. and we would pay you just as thin people (other collectors) pay you, and get our share as others get it. He (the Holy Prophet) kept silence for a long time till we wished that we should speak with him (again), and Zainab رضی اللہ تعالیٰ عنہا pointied to us from behind the curtain not to talk (any more). He (the Holy Prophet) said; It does not become the family of Muhammad (to accept) sadaqat for they are the impurities of people. You call to me Mahmiya (and he was in charge of khums, i. e, of the one-fifth part that goes to the treasury out of the spoils of war), and Naufal bin Harith bin 'Abdul-Muttalib. They both came to him, and he (the Holy Prophet) said to Mahmiya رضی اللہ تعالیٰ عنہ : Marry your daughter to this young man (i. e. Fadl bin 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ), and he married her to him And he said to Naufal bin Harith رضی اللہ تعالیٰ عنہ : Marry your daughter to this young man (i e. 'Abdul-Muttalib bin Rabi'a, the narrator of this hadith) and he married her to me, and he said to Mahmiya رضی اللہ تعالیٰ عنہ : Pay so much mahr on behalf of both of them from this khums Zuhri, however. said: He did not determine (the amount of mahr).
مجھ سے عبداللہ بن محمد بن اسماء الضبعی نے بیان کیا، ہم سے جویریہ نے بیان کیا , امام مالک نے زہری سے روایت کی کہ عبد اللہ بن نو فل بن حارث بن عبد المطلب نے انھیں حدیث بیان کی کہ عبد المطلب بن ربیعہ بن حا رث ( بن عبد المطلب ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں حدیث بیان کی ، امھوں نے کہا ربیعہ بن حا رث اور عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکٹھے ہو ئے اور دونوں نے کہا
اللہ کی قسم! اگر ہم ان دو نوں لڑکوں کو ، ، انھوں نے ( یہ بات ) میرے اور فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں کہی ۔ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں اور یہ دو نوں آپ سے بات کریں اور آپ ان دونوں کو ان صدقات کی وصولی پر مقرر کر دیں جو کچھ ( دو سرے ) لو گ ( لا کر ) اداکرتے ہیں یہ دو نوں ادا کریں اور ان دو نوں کو بھی وہی کچھ ملے جو ( دوسرے ) لوگوں کو ملتا ہے ( رو کتنا اچھا ہو! ) وہ دو نوں اسی ( مشورے ) میں ( مشغول ) تھے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور ان کے پاس کھڑے ہو گئے ان دو نوں نے اس با ت کا ان کے سامنے ذکر کیا تو حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : آپ دونوں ایسا نہ کریں اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کا م کرنے والے نہیں اس پر ربیعہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے درپے ہو گئے اور کہا اللہ کی قسم !تم محض اس لیے ہمارے ساتھ ایسا کر رہے ہو تا کہ تم ہم پر اپنی بر تری جتاؤ اللہ کی قسم !تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ہو نے کا شرف حاصل ہوا تو ( اس موقع پر ) ہم نے تو تم پر بر تری نہیں جتا ئی تھی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تم ان دونوں کو بھیج دو ۔ وہ دو نو چلے گئے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( وہیں ) لیٹ گئے ( ابن ربیعہ نے ) کہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھا لی تو وہ دونوں آپ سے پہلے حجرے کے قریب پہنچ گئے اور کہا : ہم وہاں کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ جب آپ تشریف لا ئے تو ( اظہار اپنائیت کے طور پر ) ہمارے کا ن پکڑ لیے پھر فر ما یا : "" تم دو نوں کے دل میں جو کچھ ہے اسے نکا لو ( اس کا اظہار کرو ۔ ) پھر آپ اندر دا خل ہو ئے ہم بھی ساتھ ہی دا خل ہو گئے اس دن آپ زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تھے ہم نے گفتگو ایک دوسرے پر ڈالی ( ہر ایک نے چا ہا دوسرا بات کرے ) پھر ہم میں سے ایک نے گفتگو شروع کی کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ سب لوگوں سے بڑھ کر احسان کرنے والے اور سب لوگوں سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں ہم دو نوں نکاح کی عمر کو پہنچ گئے ہیں ہم اس لیے حاضر ہو ئے ہیں کہ آپ ہمیں بھی ان صدقات میں سے کچھ ( صدقات ) کی وصولی کے لیے مقرر فر ما دیں جس طرح لو گ لا کر ادا کرتے ہیں ہم بھی لا کر دیں گے اور جس طرح انھیں ملتا ہے ہمیں بھی ملے گا آپ خاصی دیرتک خاموش رہے حتیٰ کہ ہم نے دوبارہ ) گفتگو کرنے کا ارادہ کر لیا ۔ کہا تو حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا پردے کے پیچھے سے اشارا کرنے لگیں کہ تم دونوں ان ( ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے بات نہ کرو کہا : پھر ( کچھ دیر بعد ) آپ نے فر ما یا : "" آل محمد کے لیے صدقہ روانہیں ۔ یہ تو لوگوں ( کے مال ) کا میل کچل ہے محمية وہ خمس ( غنیمت کے پانچویں حصے ) پر مامور تھے ۔ ۔ ۔ اور نوفل بن حارث بن عبد المطلب کو میرے پاس بلا ؤ ۔ کہا وہ دونوں آپ کی خدمت میں حا ضر ہو ئے تو آپ نے محمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : "" اس لڑکے ( فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اپنی بیٹی کا نکا ح کر دو ۔ تو اس نے ان کا نکا ح کر دیا اور آپ نے نوفل بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا تم اس لڑکے سے اپنی بیٹی کی شادی کر دو ۔ میرے بارے میں ۔ تو اس نے میرا نکا ح کر دیا اور آپ نے محمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فر ما یا : "" خمس ( جو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا ) میں سے ان دونوں کا تنا اتنا حق مہر ادا کر دو ۔ زہری نے کہا اس ( عبد اللہ بن عبد اللہ ) نے حق مہر مجھے نہیں بتا یا ۔
Rabi'a bin Harith bin 'Abd al-Muttalib and Abbas bin 'Abdul-Muttalib رضی اللہ تعالیٰ عنہ said to Abdul-Muttalib bin Rabi'a and Fadl bin Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ :
Go to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and the rest of the hadith is the same (but with this addition): 'Ali spread his cloak and then lay down on it and said: I am the father of Hasan, and I am the chief. By Allah, I would not move from my place till your sons come back to you with the reply to that for which you sent them to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). And he then also said: Verily these sadaqat are the impurities of people, and they are not permissible for Muhammad ( صلی اللہ علیہ وسلم), and for the family of Muhammad. And he also said: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) also said to me: Call Mahmiya b. Jaz', and he was person from Banu Asad. and the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had appointed him as a collector of khums.
ہم سے ہارون بن معروف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے مجھ سے بیان کیا, یو نس بن یزید نے ابن شہاب سے اور انھوں نے عبد اللہ بن حارث بن نو فل ہا شمی سے روایت کی کہ حضرت عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب نے انھیں بتا یا کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب اور عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبد المطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا
تم دو نوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س جاؤ ۔ ۔ ۔ اور امام مالک ؒ کی ( مذکورہ بالا ) حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی چا در بچھا ئی اور اس پر لیٹ گئے اور کہا میں بات پر ڈٹ جا نے والا ابو حسن ہوں اللہ کی قسم !میں اپنی جگہ نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ تم دونوں کے بیٹے جس مقصدکے لیے انھیں بھیج رہے ہو اس کا جواب لے کر تمھا رے پاس واپس ( نہ آجا ئیں ۔ اور اس حدیث میں کہا : پھر آپ نے ہمیں فر ما یا : "" یہ صدقات لوگوں کا میل کچل ہیں اور یقیناً یہ محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلا ل نہیں اور یہ بھی کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا میرے پاس محمية بن جزکو بلاؤ ۔ وہ بنو اسد کا ایک فرد تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اموال خمس کے انتظامات کے لیے مقرر کیا تھا ۔