Alqama reported:
While I was walking with 'Abdullah at Mina, 'Uthman رضی اللہ عنہ happened to meet him. He stopped there and began to talk with him. Uthman said to him: Abu 'Abdul-Rahman, should we not marry you to a young girl who may recall to you some of the past of your bygone days; thereupon he said: If you say so, Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم) said: O young men, those among you who can support a wife should marry, for it restrains eyes from casting (evil glances). and preserves one from immorality; but those who cannot should devote themselves to fasting for it is a means of controlling sexual desire.
یحییٰ بن یحییٰ التمیمی، ابوبکر بن ابی شیبہ اور محمد بن علاء الحمدانی نے ہم سے روایت کی ہے, ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے خبر دی ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے علقمہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیدل چل رہا تا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی ، وہ کھڑے ہو کر ان سے باتیں کرنے لگے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اِن سے کہا : ابوعبدالرحمٰن! کیا ہم کسی نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی نہ کرا دیں ، شاید وہ آپ کو آپ کا وہی زمانہ یاد کرا دے جو گزر چکا ہے؟ کہا : تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر آپ نے یہ بات کہی ہے تو ( اس سے پہلے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا : " اے جوانوں کے گروہ! تم میں سے جو کوئی شادی کی استطاعت رکھتا ہو وہ شادی کر لے ، یہ نگاہ کو زیادہ جھکانے والی اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والی ہے اور جو استطاعت نہیں رکھتا تو وہ روزے کو لازم کر لے ، یہ اس کے لیے خواہش کو قابو میں کرنے کا ذریعہ ہے.
Alqama reported:
While I was going along with 'Abdullah bin Ma'sud (رضی اللہ عنہ) in Mina, 'Uthman bin 'Affan (رضی اللہ عنہ) happened to meet him and said: Come here, Abu 'Abdul-Rahman (kunya of Abdullah bin Mas'ud), and he isolated him (from me), and when 'Abdullah (bin Mas'ud) رضی اللہ عنہ saw that there was no need (for this privacy), he said to me: 'Alqama, come on, and so I went there. (Then) 'Uthman رضی اللہ عنہ said to him: Abu Abdul-Rahman, should we not marry you to a virgin girl that your past may be recalled to your mind? 'Abdullah رضی اللہ عنہ said: If you say so, the rest of the hadith is the same as narrated above.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے علقمہ سے روایت کی ، کہا
میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیدل چل رہا تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان سے ملے تو انہوں نے کہا : ابوعبدالرحمٰن! ( میرے ساتھ ) آئیں ۔ کہا : وہ انہیں تنہائی میں لے گئے ۔ جب عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ انہیں اس ( تنہائی ) کی ضرورت نہیں ، تو انہوں نے مجھے بلا لیا ۔ ( کہا : ) علقمہ آ جاؤ! میں آ گیا ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : ابوعبدالرحمٰن! کیا ہم کسی کنواری لڑکی سے آپ کی شادی نہ کرا دیں ، شاید یہ آپ کے دل کی اسی کیفیت کو لوٹا دے جو آپ ( عہد جوانی ) میں محسوس کرتے تھے؟ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اگر آپ نے یہ بات کہی ہے ۔ ۔ ۔ پھر ابومعاویہ کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
Abdullah (bin Mas'ud) ( رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to us: O young men, those among you who can support a wife should marry, for it restrains eyes (from casting evil glances) and preserves one from immorality; but he who cannot afford It should observe fast for it is a means of controlling the sexual desire.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : " اے جوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ شادی کر لے ، یہ نگاہوں کو جھکانے اور شرمنگاہ کی حفاظت کرنے میں ( دوسری چیزوں کی نسبت ) بڑھ کر ہے ، اور جو استطاعت نہ پائے ، وہ خود پر روزے کو لازم کر لے ، یہ اس کے لیے اس کی خواہش کو قطع کرنے والا ہے.
Abu al-Rahman bin Yazid said:
I and my uncle 'Alqama and al-Aswad went to 'Abdullah bin Mas'ud (رضی اللہ عنہ). He (the narrator further) said: I was at that time young, and he narrated a hadith which it seemed he narrated for me that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said like one transmitted by Mu'awiya, and further added: I lost no time in marrying.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید ( بن قیس ) سے روایت کی ، کہا
میں ، میرے چچا علقمہ ( بن قیس ) اور ( میرے بھائی ) اسود ( بن یزید بن قیس ) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ کہا : میں ان دنوں جوان تھا ۔ انہوں نے ایک حدیث بیان کی ، مجھے یوں لگتا ہے کہ وہ انہوں نے میری وجہ سے بیان کی ۔ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ابومعاویہ کی حدیث کے مانند ہے ۔ اور ( یہ ) اضافہ کیا ، کہا : اس کے بعد میں نے زیادہ عرصہ توقف کیے بغیر شادی کر لی.
Abdul-Rahman bin Yazid reported on the authority of Abdullah رضی اللہ عنہ :
We went to him, and I was the youngest of all (of us), but he did not mention: I lost no time in marrying.
مجھ سے عبداللہ بن سعید الاشج نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ( عبدالرحمن بن یزید نے ) کہا
ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ، میں سب سے کم عمر تھا ، آگے انہی کی حدیث کے مانند ہے ، ( مگر ) انہوں نے یہ نہیں کہا : " اس کے بعد میں نے زیادہ عرصہ توقف کیے بغیر شادی کر لی.
Anas (رضی اللہ عنہ) reported:
Some of the Companions of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) asked his (the Prophet's) wives about the acts that he performed in private. Someone among them (among his Companions) said: I will not marry women; someone among them said: I will not eat meat; and someone among them said: I will not lie down in bed. He (the Holy Prophet) praised Allah and glorified Him, and said: What has happened to these people that they say so and so, whereas I observe prayer and sleep too; I observe fast and suspend observing them; I marry women also? And he who turns away from my Sunnah, he has no relation with Me.
مجھ سے ابوبکر بن نافع العبدی نے بیان کیا، ہم سے بہز نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے ثابت کی سند سے بیان کیا،حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواج مطہرات سے آپ کی تنہائی کے معمولات کے بارے میں سوال کیا ، پھر ان میں سے کسی نے کہا : میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا ، کسی نے کہا : میں گوشت نہیں کھاؤں گا ، اور کسی نے کہا : میں بستر پر نہیں سوؤں گا ۔ ( آپ کو پتہ چلا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد کی ، اس کی ثنا بیان کی اور فرمایا : " لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے اس اس طرح سے کہا ہے ۔ لیکن میں تو نماز پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں ، روزے رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ، جس نے میری سنت سے رغبت ہٹا لی وہ مجھ سے نہیں.
Sa'd bin Abi Waqqas (رضی اللہ عنہ) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) rejected (the idea) of Uthman bin Muz'un رضی اللہ عنہ living in celibacy (saying): And if he (the Holy Prophet ﷺ) had given me permission We would have got ourselves castrated.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا اور ہم سے ابو کریب محمد بن العلاء نے بیان کیا، اور اس کا قول یہ ہے: ہم سے ابن المبارک نے بیان کیا, معمر نے زہری سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن معظون رضی اللہ عنہ کی ( طرف سے ) نکاح کو ترک کر کے عبادت میں مشغولیت ( کے ارادے ) کو مسترد فرما دیا ۔ اگر آپ انہیں اجازت دے دیتے تو ہم سب خود کو خصی کر لیتے.
Sa'id bin al-Musayyib reported:
I heard Sa'd (bin Abi Waqqas) saying that the idea of 'Uthman bin Maz'un رضی اللہ عنہ for living in celibacy was rejected (by the Holy Prophet ﷺ), and if he had been given permission they would have got themselves castrated.
مجھ سے ابو عمران محمد بن جعفر بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا ابراھیم بن سعد نے ہمیں ابن شہاب زہری سے حدیث بیان کی انہو ں نے سعید بن مسیب سے روایت کی ‘ انہوں نے کہا کہ
میں نے سعد سے سنا وہ کہہ رہے تھے ’’عثمان بن معظون رضی اللہ عنہ کے ترک نکاح کو ( ارادے کو ) رسول اللہ ﷺ کی طرف سے رد کر دیا گیا ‘ اگر انہیں اجازت مل جاتی تو ہم سب خصی ہو جاتے.
Sa'id bin al Musayyib heard Sa'd bin Abi Waqqas (رضی اللہ عنہ) saying:
Uthman bin Maz'un رضی اللہ عنہ decided to live in celibacy, but Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم) forbade him to do so, and if he had permitted him, we would have got ourselves castrated.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے حوین بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا،عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
عثمان بن معضون رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ ( عبادے کے لئے نکاح اور گھرداری سے ) الگ ہو جائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا ، اگر آپ انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم سب خصی ہو جاتے.
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw a woman, and so he came to his wife, Zainab رضی اللہ عنہا , as she was tanning a leather and had sexual intercourse with her. He then went to his Companions and told them: The woman advances and retires in the shape of a devil, so when one of you sees a woman, he should come to his wife, for that will repel what he feels in his heart.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیاہشام بن ابی عبداللہ نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
ایک عورت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑ گئی تو آپ اپنی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ۔ وہ اپنے لیے ایک چمڑے کو رنگ رہی تھیں ، آپ نے ( گھر میں ) اپنی ضرورت پوری فرمائی ، پھر اپنے صحابہ کی طرف تشریف لے گئے ، اور فرمایا : " بلاشبہ ( فتنے میں ڈالنے کے حوالے سے ) عورت شیطان کی صورت میں سامنے آتی ہے اور شیطان ہی کی صورت میں مڑکر واپس جاتی ہے ۔ تم میں سے کوئی جب کسی عورت کو دیکھے تو وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے ، بلاشبہ یہ چیز اس خواہش کو ہتا دے گی جو اس کے دل میں ( پیدا ہوئی ) ہے ، "
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw a woman; and the rest of the hadith was narrated but (with this exception) that he said he came to his wife Zainab رضی اللہ عنہا , who was tanning a (piece of) leather, and he made no mention of: She retires in the shape of satan.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے عبد الصمد بن عبد الوارث نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا حرب بن ابوعالیہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابوزبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک عورت پر پڑ گئی ۔ ۔ ۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا ، البتہ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے جبکہ وہ چمڑے کو رنگ رہی تھیں ۔ اور یہ نہیں کہا : " وہ شیطان کی صورت میں واپس آ جاتی ہے.
Jabir رضی اللہ عنہ heard Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say:
When a woman fascinates any one of you and she captivates his heart, he should go to his wife and have an intercourse with her, for it would repel what he feels.
مجھ سے سلمہ بن شبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بن عیان نے بیان کیا,معقل نے ابوزبیر سے روایت کی ، کہا : حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا
" جب تم میں سے کسی کو ، کوئی عورت اچھی لگے ، اور اس کے دل میں جاگزیں ہو جائے تو وہ اپنی بیوی کا رخ کرے اور اس سے صحبت کرے ، بلاشبہ یہ ( عمل ) اس کیفیت کو دور کر دے گا جو اس کے دل میں ( پیدا ہوئی ) ہے."
Abdullah (bin Mas'ud) رضی اللہ عنہ reported:
We were on an expedition with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and we had no women with us. We said: Should we not have ourselves castrated? He (the Holy Prophet) forbade us to do so He then granted us permission that we should contract temporary marriage for a stipulated period giving her a garment, and 'Abdullah رضی اللہ عنہ then recited this verse: 'Those who believe do not make unlawful the good things which Allah has made lawful for you, and do not transgress. Allah does not like transgressors (al-Qur'an, v. 87).
محمد بن عبداللہ بن نمیر ہمدانی نے کہا : میرے والد نے اور وکیع اور ابن بشیر نے ہمیں اسماعیل سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قیس سے روایت کی ، کہا : میں نے عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہاد کرتے تھے اور ہمارے پاس عورتیں نہیں ہوتی تھیں ، تو ہم نے ( آپ سے ) دریافت کیا : کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ آپ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا ، پھر آپ نے ہمیں رخصت دی کہ ہم کسی عورت سے ایک کپڑے ( یا ضرورت کی کسی اور چیز ) کے عوض مقررہ وقت تک نکاح کر لیں ، پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ( یہ آیت ) تلاوت کی : " اے لوگو جو ایمان لائے! وہ پاکیزہ چیزیں حرام مت ٹھہراؤ جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں اور حد سے نہ بڑھو ، بے شک اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا.
This hadith has been narrated on the authority of Jarir with the same chain of transmitters and he also recited this (above-mentioned verse) to us, but he did not say that 'Abdullah رضی اللہ عنہ recited it.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا, جریر نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ ، اسی کے مانند حدیث بیان کی اور کہا : " پھر انہوں نے ہمارے سامنے یہ آیت پڑھی ۔ " انہوں نے ( نام لے کر " عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پڑھی " نہیں کہا.
This hadith has been narrated on the authority of Isma'il with the same chain of transmitters (and the words are):
We were young, so we said: Allah's Messenger, should we not have ourselves castrated? But he (the narrator) did not say; We were on an expedition.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں وکیع نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، اور کہا
ہم سب نوجوان تھے تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ اور انہوں نے نغزو ( ہم جہاد کرتے تھے ) کے الفاظ نہیں کہے.
Jabir bin 'Abdullah and Salama bin al-Akwa' رضی اللہ عنہم said:
There came to us the proclaimer of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) has granted you permission to benefit yourselves, i. e. to contract temporary marriage with women.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا, شعبہ نے ہمیں عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حسن بن محمد سے سنا ، وہ جابر بن عبداللہ اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہم سے حدیث بیان کر رہے تھے ، ان دونوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک منادی کرنے والا ہمارے پاس آیا اور اعلان کیا : بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں استمتاع ( فائدہ اٹھانے ) ، یعنی عورتوں سے ( نکاح ) متعہ کرنے کی اجازت دی ہے.
Salama bin al Akwa' and Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہم reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to us and permitted us to contract temporary marriage.
مجھ سے امیہ بن بسطام العیشی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید نے بیان کیا، یعنی ابن زرعی نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیاروح بن قاسم نے ہمیں عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حسن بن محمد سے ، انہوں نے سلمہ بن اکوع اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ( اعلان کی صورت میں آپ کا پیغام آیا ) اور ہمیں متعہ کی اجازت دی.
Ibn Uraij reported: 'Ata' said:
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ came to perform 'Umra, and we came to his abode, and the people asked him about different things, and then they made a mention of temporary marriage, whereupon he said: Yes, we had been benefiting ourselves by this temporary marriage during the lifetime of the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and during the time of Abu Bakr and 'Umar رضی اللہ عنہما .
ہم سے الحسن الحلوانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے کہا عطاء نے کہا
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ عمرے کے لیے آئے تو ہم ان کی رہائش گاہ پر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ، لوگوں نے ان سے مختلف چیزوں کے بارے میں پوچھا ، پھر لوگوں نے متعے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا : ہاں ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں متعہ کیا.
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
We contracted temporary marriage giving a handful of (tales or flour as a dower during the lifetime of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and durnig the time of Abu Bakr رضی اللہ عنہ until 'Umar رضی اللہ عنہ forbade it in the case of 'Amr bin Huraith.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے ابوزبیر نے خبر دی ، کہا : میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک مٹھی کھجور اور آٹے کے عوض چند دنوں کے لئے متعہ کرتے تھے ، حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عمرو بن حُریث کے واقعے ( کے دوران ) میں اس سے منع کر دیا.
Abu Nadra reported:
While I was in the company of Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ , a person came to him and said that Ibn 'Abbas and Ibn Zubair رضی اللہ عنہم differed on the two types of Mut'as (Tamattu' of Hajj 1846 and Tamattu' with women), whereupon Jabir رضی اللہ عنہ said: We used to do these two during the lifetime of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Umar رضی اللہ عنہ then forbade us to do them, and so we did not revert to them.
ہم سے حمید بن عمر البکراوی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبد الواحد یعنی ابن زیاد نے عاصم کی سند سے بیان کیا, ابونضرہ سے روایت ہے ، کہا
میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ان کے پاس ایک آنے والا ( ملاقاتی ) آیا اور کہنے لگا : حضرت ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم نے دونوں متعتوں ( حج تمتع اور نکاح متعہ ) کے بارے میں اختلاف کیا ہے ۔ تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں وہ دونوں کام کیے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے منع کر دیا ، پھر ہم نے دوبارہ ان کا رخ نہیں کیا.