Abu Huraira ( رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When a woman spends the night away from the bed of her husband, the angels curse her until morning.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا اور یہ قول ابن المثنیٰ کا ہے، انہوں نے کہا محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے قتادہ سے سنا وہ زرارہ بن اوفیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی
آپ نے فرمایا : " جب کوئی عورت ( بلا عذر ) اپنے شوہر کے بستر کو چھوڑ کر رات گزارتی ہے ، تو فرشتے اس کے صبح کرنے تک اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں.
Shobah narrated it with this chain of transmitters (with a slight variation):
He said: Until she comes back.
مجھ سے یحییٰ بن حبیب نے بیان کیا, خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ، اور کہا
" یہاں تک کہ وہ ( اس کے بستر پر ) لوٹ آئے.
Abu Huraira (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: By Him in Whose Hand is my life, when a man calls his wife to his bed, and she does not respond, the One Who is in the heaven is displeased with her until he (her husband) is pleased with her.
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان نے بیان کیا, یزید بن کیسان نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی مرد نہیں جو اپنی بیوی کو اس کے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کرے مگر وہ جو آسمان میں ہے اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ( شوہر ) اس سے راضی ہو جائے.
Abu Huraira ( رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger (ﷺ) as saying: When a man invites his wife to his bed and she does not come, and he (the husband) spends the sight being angry with her, the angels curse her until morning.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، اور ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، مجھ سے ابو سعید اشجع نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا - اور قول ان کا ہے - ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سب نےاعمش نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے ، وہ نہ آئے اور وہ ( شوہر ) اس پر ناراضی کی حالت میں رات گزارے تو اس کے صبح کرنے تک فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں ۔ "" باب 21 : بیوی کا راز افشا کرنا حرام ہے.
Abu Sa'id al-Khudri ( رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger (ﷺ) said: The most wicked among the people in the eye of Allah on the Day of judgment is the men who goes to his wife and she comes to him, and then he divulges her secret.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, مروان بن معاویہ نے عمر بن حمزہ عمری سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن سعد نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن ، اللہ کے ہاں لوگوں میں مرتبے کے اعتبار سے بدترین وہ آدمی ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس خلوت میں جاتا ہے اور وہ اس کے پاس خلوت میں آتی ہے پھر وہ ( آدمی ) اس کا راز افشا کر دیتا ہے.
Abu Sirma al-Khudri (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The most important of the trusts in the sight of Allah on the Day of judgment is that a man goes to his wife and she goes to him (and the breach of this trust is) that he should divulge her secret Ibn Numair narrates this hadith with a slight change of wording.
محمد بن عبداللہ بن نمیر اور ابوکریب نے کہا : ہمیں ابواسامہ نے عمر بن حمزہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن سعد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں امانت کے حوالے سے سب سے بڑے ( سنگین ) معاملات میں سے اس آدمی ( کا معاملہ ) ہو گا جو خلوت میں بیوی کے پاس جائے اور وہ اس کے پاس آئے ، پھر وہ اس ( بیوی ) کا راز افشا کر دے ۔ " ابن نمیر نے کہا : سب سے بڑا ( سنگین ) معاملہ ۔ " ( یہ بڑی خیانت ہے).
Abu Sirma said to Abu Sa'id al Khadri (رضی اللہ عنہ):
O Abu Sa'id, did you hear Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) mentioning al-'azl? He said: Yes, and added: We went out with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on the expedition to the Bi'l-Mustaliq and took captive some excellent Arab women; and we desired them, for we were suffering from the absence of our wives, (but at the same time) we also desired ransom for them. So we decided to have sexual intercourse with them but by observing 'azl (Withdrawing the male sexual organ before emission of semen to avoid-conception). But we said: We are doing an act whereas Allah's Messenger is amongst us; why not ask him? So we asked Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and he said: It does not matter if you do not do it, for every soul that is to be born up to the Day of Resurrection will be born.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید اور علی بن حجر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے مجھ سے بیان کیا ربیعہ نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے خبر دی ، انہوں نے ابن مُحَریز سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں اور ابوصرمہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر ہوئے ، ابوصرمہ نے ان سے سوال کیا اور کہا
ابوسعید! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزل کا ذکر کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا : ہاں ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بنی مصطلق کے خلاف جنگ کی اور عرب کی چنیدہ عورتیں بطور غنیمت حاصل کیں ، ہمیں ( اپنی عورتوں سے ) دور رہتے ہوئے کافی مدت ہو چکی تھی ، اور ہم ( ان عورتوں کے ) فدیے کی بھی رغبت رکھتے تھے ، ہم نے ارادہ کیا کہ ( ان عورتوں سے ) فائدہ اٹھائیں اور عزل کر لیں ، ہم نے کہا : ہم یہ کام کریں بھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہوں تو ان سے سوال بھی نہ کریں! چنانچہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم ( عزل ) نہ بھی کرو تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا کیونکہ اللہ نے قیامت کے دن تک ( پیدا ) ہونے والی جس جان کی پیدائش لکھ دی ہے ، وہ ضرور پیدا ہو گی.
A hadith like this has been narrated on the authority of Habban with the same chain of transmitters (but with this alteration) that he said:
Allah has ordained whom he has to create until the Day of judgment.
مجھ سے ان کے خادم محمد بن الفراج نے بیان کیا,مجھ سے بنو ہاشم کے مؤکل محمد بن الفراج نے بیان کیا، ہم سے محمد بن الزبرقان نے بیان کیا, موسیٰ بن عقبہ نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے اسی سند کے ساتھ ربیعہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، مگر انہوں نے کہا : " اللہ نے ( پہلے ہی ) لکھ دیا ہے کہ
وہ قیامت کے دن تک کس کو پیدا کرنے والا ہے.
Abu Sa'id al-Khudri (رضی اللہ عنہ) reported:
We took women captives, and we wanted to do 'azl with them. We then asked Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about it, and he said to us: Verily you do it, verily you do it, verily you do it, but the soul which has to be born until the Day of judg- ment must be born.
مجھ سے عبداللہ بن محمد بن اسماء الضبعی نے بیان کیا، ہم سے جویریہ نے بیان کیا، مالک رضی اللہ عنہ سے, زہری نے ابن محریز سے اور انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے ان ( ابن محریز ) کو خبر دی
ہمیں لونڈیاں حاصل ہوئیں تو ( ان کے ساتھ ) ہم عزل کرتے تھے ، پھر ہم نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے ہمیں فرمایا : " ( کیا ) تم ایسا کرتے ہو؟ تم ایسا کرتے ہو؟ ( واقعی ) تم ایسا کرتے ہو؟ کوئی جان نہیں جو قیامت تک پیدا ہونے والی ہو مگر وہ پیدا ہو کر رہے گی.
It was narrated that from Anas bin sireen:
Abu Sa'id al-Khudri (رضی اللہ عنہ) (was asked if he had heard it himself), to which he said: Yes. (I heard) Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There is no harm if you do not practise it, for it (the birth of the child) is something ordained (by Allah).
ہم سے نصر بن علی الجہدمی نے بیان کیا, بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں شعبہ نے انس بن سیرین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے معبد بن سیرین سے ، انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ( انس بن سیرین نے ) کہا
میں نے ان ( معبد ) سے پوچھا : آپ نے یہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے خود سنا ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں! انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہیں اس بات کا کوئی نقصان نہیں کہ تم ( ایسا ) نہ کرو ، یہ تو صرف تقدیر ہے ( جو تم عزل کرو یا نہ کرو ، بہرصورت پوری ہو کر رہے گی.
A similar reported was narrated from Anas bin Sireen with this chain, except that in their hadith it says: "From the prophet who said concerning 'Azl: It does not matter if you do not do it, for it is only the Divine Decree (that decides).'" According to the report of Bahz, Shubah said: ''I said to him: Did you hear it from Abu Saeed رضی اللہ عنہ ?' He said: 'yes'"
ہم سے محمد بن المثنی اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا:محمد بن جعفر ، خالد بن حارث ، عبدالرحمٰن بن مہدی اور بہز ، سب نے کہا : ہمیں شعبہ نے انس بن سیرین سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، مگر ان کی حدیث میں ( اس طرح ) ہے : انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے عزل کے بارے میں فرمایا : "" ( اس میں ) کوئی حرج نہیں کہ تم یہ کام نہ کرو ، یہ تو بس تقدیر ( کا معاملہ ) ہے ۔ "" بہز کی روایت میں ہے ، شعبہ نے کہا : میں نے ان سے پوچھا : کیاآپ نے یہ حدیث ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنی؟ انہوں نے کہا : ہاں
Abu Sa'id al-Khudri ( رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was asked about 'azl, whereupon he said: There is no harm if you do not do that, for it (the birth of the child) is something ordained. Muhammad (one of the narrators) said: (The words) La 'alaykum (there is no harm) implies its Prohibition.
مجھ سے ابو الربیع الزہرانی اور ابو کامل الجہدری نے بیان کیا، اور یہ لفظ ابو کامل کا ہے، انہوں نے کہا: ہم سے حماد، جو ابن زید ہیں، نے بیان کیا, ایوب نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن بشر بن مسعود سے روایت کی ، اسے پیچھے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تک لے گئے ( ان سے روایت کی ) ، انہوں نے کہا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : " تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم یہ کام نہ کرو ، یہ تو بس تقدیر ( کا معاملہ ) ہے ۔ " محمد ( بن سیرین ) نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول : ( لا عليكم ) " اس بات کا تم پر کوئی حرج نہیں " ممانعت کے زیادہ قریب ہے.
Abu Sa'id al-Khudri (رضی اللہ عنہ) reported:
Mention was made of 'azl in the presence of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم) whereupon he said: Why do you practise it? They said: There is a man whose wife has to suckle the child, and if that person has a sexual intercourse with her (she may conceive) which he does not like, and there is another person who has a slave-girl and he has a sexual intercourse with her, but he does not like her to have conception so that she may not become Umm Walad, whereupon he (the Holy Prophet) said: There is no harm if you do not do that, for that (the birth of the child) is something pre- ordained. Ibn 'Aun said: I made a mention of this hadith to Hasan, and he said: By Allah, (it seems) as if there is upbraiding in it (for 'azl).
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا معاذ بن معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن عون نے محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن بشر انصاری سے روایت کی ، اور اس حدیث کو پیچھے لے گئے اور اسے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا ، انہوں نے کہا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عزل کا تذکرہ کیا گیا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ( اس سے ) تمہارا مقصود کیا ہے؟ "" صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا : کسی آدمی کی بیوی ہے ( بچے کو ) دودھ پلا رہی ہوتی ہے ، وہ اس سے مباشرت کرتا ہے اور ناپسند کرتا ہے کہ وہ اس سے حاملہ ہو ۔ اور کسی شخص کی لونڈی ہے وہ اس سے مباشرت کرتا ہے اور ناپسند کرتا ہے کہ وہ اس سے حاملہ ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کوئی حرج نہیں کہ تم ایسا نہ کرو ، یہ ( بچے کا پیدا ہونا یا نہ ہونا ) تو تقدیر کا معاملہ ہے ۔ "" ابن عون نے کہا : میں نے یہ حدیث حسن ( بصری ) کو سنائی تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم! یہ تو گویا ڈانٹ ہے.
Ibn 'Aun reported:
I reported to Muhammad on the authority of Ibrahim the hadith reported by 'Abdul-Rahmann bin Bishr (the hadith concerning 'azl), whereupon he said: That (hadith) Abd ul-Rahman bin Bishr had narrated to me (also).
مجھ سے حجاج بن الشاعر نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا, حماد بن زید نے ابن عون سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حماد ( بن سیرین ) کو ابراہیم کے واسطے سے عبدالرحمٰن بن بشر کی حدیث ، یعنی عزل کی حدیث سنائی تو انہوں نے کہا : عبدالرحمٰن بن بشر نے خود مجھے بھی یہ حدیث بیان کی.
Ma'bad bin Sirin said to Abu Sa'id ( رضی اللہ عنہ):
Did you hear Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) making a mention of something in regard to al-'azl? Thereupon he said: Yes. The rest (of the hadith is the same)
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد العلا نے بیان کیا،ہشام نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے معبد بن سیرین سے روایت کی ، کہا ہم نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے عرض کی
کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزل کے بارے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ آگے انہوں نے القدر ( یہ تو تقدیر ہے ) تک ابن عون کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی.
Abu Sa'id al-Khudri ( رضی اللہ عنہ) reported:
Mention was made about al-'azl in the presence of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), whereupon he said: Why any one of you practises it? (He did not say: One of you should not do it), for there is no created soul, whose creator is not Allah.
ہم سے عبید اللہ بن عمر القواری اور احمد بن عبدہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو انہوں نے خبر دی، اور عبید اللہ نے کہا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا۔ ابن ابی نجیح کی روایت سے، مجاہد کی سند سے،قزعہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص ایسا کیوں کرتا ہے؟ ۔ ۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا : تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے ۔ حقیقت یہ ہے پیدا ہونے والی کوئی جان نہیں مگر اللہ اسے پیدا کرنے والا ہے ۔ ( وہ اسے ضرور پیدا کرے گا.
Abu Sa'id al-Khudri (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was asked about 'azl, whereupon he said: The child does not come from all the liquid (sermen) and when Allah intends to create anything nothing can prevent it (from coming into existence).
مجھ سے ہارون بن سعید الایلی نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا عبداللہ بن وہب نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے معاویہ بن صالح نے علی بن ابو طلحہ سے خبر دی ، انہوں نے ابو وداک سے ، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں ( ابووداک ) نے ان سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا ، آپ نے فرمایا : "" ہر پانی ( منی کے قطرے ) سے بچہ پیدا نہیں ہوتا ، اور جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ فرما لیتا ہے تو اسے کوئی چیز روک نہیں سکتی ۔ "" ( زید بن حباب نے معاویہ سے ، باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی.
A similar report (as no. 3554) was narrated from Abu Saeed Al-Khudri رضی اللہ عنہ , from the prophet ﷺ.
مجھ سے احمد بن المنذر البصری نے بیان کیا، ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا، ہم سے معاویہ نے بیان کیا، مجھ سے علی بن ابی طلحہ الہاشمی نے بیان کیا، میرے والد سے۔ الوادق، ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ س کی سند سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے، اسی طرح کی مثال کے ساتھ۔
Jabir (رضی اللہ عنہ) reported:
A man came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: I have a slave-girl who is our servant and she carries water for us and I have intercourse with her, but I do not want her to conceive. He said: Practise 'azl, if you so like, but what is decreed for her will come to her. The person stayed back (for some time) and then came and said: The girl has become pregnant, whereupon he said: I told you what was decreed for her would come to her.
ہم سے احمد بن عبداللہ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الزبیر نے بیان کیا، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہ
ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، اور کہا : میرے پاس میری ایک لونڈی ہے ، میں اس سے عزل کرتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک یہ ( عزل ) ایسی کسی چیز کو نہیں روک سکتا جس کا اللہ نے ارادہ کیا ہو ۔ " کہا : وہ شخص ( دوبارہ ) حاضرِ خدمت ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! وہ لونڈی جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا ، حاملہ ہو گئی ہے ۔ تو اس نے کہا:" میں نے تم سے کہا تھا کہ جو اس کا مقدر تھا وہ اس کے پاس آئے گا۔
Jabir bin 'Abdullah (رضی اللہ عنہ) reported:
A person asked Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying: I have a slave-girl and I practise 'azl with her, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: This cannot prevent that which Allah has decreed. The person then came (after some time) and said: Messenger of Allah, the slave-girl about whom I talked to you has conceived, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I am the servant of Allah and His Messenger.
ہم سے سعید بن عمرو اشعثی نے بیان کیا, سفیان بن عیینہ نے ہمیں سعید بن حسان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ بن عیاض سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، اور کہا : میرے پاس میری ایک لونڈی ہے ، میں اس سے عزل کرتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک یہ ( عزل ) ایسی کسی چیز کو نہیں روک سکتا جس کا اللہ نے ارادہ کیا ہو ۔ " کہا : وہ شخص ( دوبارہ ) حاضرِ خدمت ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! وہ لونڈی جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا ، حاملہ ہو گئی ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں ۔ ( میں جو کہتا ہوں اللہ کی طرف سے کہتا ہوں).