A hadith like this has been narrated on the authority of Nafi' with the same chain of transmitters.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا عبدالوہاب نے ہمیں کہا کہ میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے : مجھے نافع نے اسی سند سے اسی کے مانند خبر دی.
Yahya bin Sa'id reported this hadith with the same chain of transmitters but with this change:
'Ariyya implies that date-palm trees should be donated to the people and then they sell it with a measure of dry dates.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ہشیم نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ خبر دی ، البتہ انہوں نے کہا
عریہ سے وہ کھجور کا درخت مراد ہے جو لوگوں کو ( بطور عطیہ ) دیا جاتا ہے ۔ وہ ( درخت پر لگے پھل کو ) اندازے کے بقدر خشک کھجوروں کے عوض فروخت کر دیتے ہیں.
Zaid bin Thabit (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gave concession in case of al-'ariyya transactions (for exchanging dates) for dates with measure. Yahya said: 'Ariyya implies that a person should buy fresh dates on the tree for his family to eat against a measure of dry dates.
ہم سے محمد بن روم بن المہاجر نے بیان کیا,لیث نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کو ( اس سے حاصل ہونے والی ) خشک کھجور کی مقدار کے اندازے سے فروخت کرنے کی اجازت دی ۔ یحییٰ نے کہا : عریہ یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے گھر والوں کی خوراک کے لیے کھجور کا تازہ پھل ( اس سے حاصل ہونے والی ) خشک کھجور کے اندازے کے عوض خرید لے ۔ ( یہ تعریف تازہ پھل لینے والے کے نقطہ نظر سے ہے ۔ مفہوم ایک ہی ہے.
Zaid bin Thabit ( رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) granting concession in case of 'ariyya transactions and that implies selling of (dry dates for fresh dates) according to a measure.
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا میں رخصت دی کہ اس ( کے پھل ) کا اندازہ کرتے ہوئے اسے کھجور کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض فروخت کر دیا جائے.
Ubaidullah reported this hadith with a slight change of words on the same authority (as quoted above).
ہم سے ابن المثنی نے بیان کیا, یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث روایت کی ، اور ( فروخت کر دیا جائے کی بجائے ) " حاصل کر لیا جائے " کے الفاظ بیان کیے.
It was narrated from Nafi with this chain:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) granted concession in case of 'ariyya transactions (for exchange of the same commodity) with measure.
ہم سے ابو الربیع اور ابو کامل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد نے بیان کیا، اور ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان دونوں سے ایوب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی بیع میں اس کے اندازے کی مقدار ( کے حساب سے لین دین ) کی اجازت دی.
Bashair bin Yasir reported:
On the authority of some of the Companions of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) among the members of his family among whom one was Sahl bin Abu Hathma رضی اللہ عنہ that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade buying of fresh dates against dry dates and that it is Riba and this is Muzabana, but he made an exemption of 'ariyya (donations) of a tree or two in which case the members of a family sell dry dates and buy fresh dates for eating them.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعنبی نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے بُشیر بن یسار سے
انہوں نے اپنے گھرانے سے تعلق رکھنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ سے ، جن میں سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں ، روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( درخت پر لگے ) پھل کو خشک کھجور کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا ۔ اور آپ نے فرمایا : " یہ سود ہے ، یہی ( بیع ) مزابنہ ( کھجور کے درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک کھجور کے عوض فروخت کرنا ) ہے ۔ " ہاں ، البتہ آپ نے عریہ کو بیچنے یا خریدنے کی اجازت دی ( عَرِیہ یہ ہے ) کہ کوئی خاندان ایک دو کھجور کے درخت ( جو بطور عطیہ دے گئے ) ان سے حاصل ہونے والی خشک کھجور کے اندازے کے مطابق لے لیں تاکہ وہ اس کا تازہ پھل کھائیں ( اور جنہیں درخت دیے گئے ہیں ، انہیں خشک کھجور دے دیں.
Bushair bin Yasar reported on the authority of some of the Companion of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ):
He exempted the transactions, of 'ariyya (from the direct exchange of one kind) after measuring the dry dates (in exchange for fresh dates).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, لیث نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی ، انہوں نے بُشیر بن یسار سے اور انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ( بعض ) صحابہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کو ( اس سے حاصل ہونے ولی ) خشک کھجور کی مقدار کے اندازے سے فروخت کرنے کی اجازت دی.
Bushair bin Yasir reported on the authority of some of the Companions of Allah's Messenger (ﷺ) from among the members of his family:
He forbade (the direct exchange of a commodity having different qualities) but with the change that Ishaq and Ibn al-Muthanna used the word Zabn in place ot Riba and Ibn Abu 'Umar used the word Riba (interest).
محمد بن مثنیٰ ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر سب نے ( عبدالوہاب ) ثقفی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے : مجھے بشیر بن یسار نے اپنے خاندان سے تعلق رکھنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب سے خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔ آگے یحییٰ سے سلیمان بن بلال کی حدیث ( 3887 ) کے مانند حدیث ذکر کی ۔ لیکن اسحاق اور ابن مثنیٰ نے لفظ ربا کی بجائے لفظ زبن ( مزابنہ ) استعمال کیا ہے ، تاہم ابن ابی عمر نے رِبا ہی کہا.
A hadith like this has been narrated on the authority of Sahl bin Abu Hathma رضی اللہ عنہ .
ہم سے عمرو ناقد اور ابن نمیر نے بیان کیا، کہا سفیان بن عیینہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے بشیر بن یسار سے ، انہوں نے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ ۔ انہی ( سلیمان ، لیث اور ثقفی ) کی حدیث کے ہم معنی.
Sahl bin Abu Hathma رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) having forbidden Muzabana, i.e. exchange of fresh dates with dry dates. except in case of those to whom donations of some trees have been made. It is for them that concession has been given.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور حسن حلوانی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو اسامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا, ولید بن کثیر نے کہا : مجھے بنو حارثہ کے مولیٰ بشیر بن یسار نے حدیث بیان کی کہ رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ دونوں نے اسے حدیث بیان کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ ، یعنی تازہ کھجور کی خشک کھجور کے عوض بیع سے منع فرمایا ، سوائے عرایا والوں کے کیونکہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی.
Abu Huraira (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) having given exemption of 'ariyya transactions measuring less than five wasqs or up to five wasqs (the narrator Dawud is in doubt whether it was five or less than five).
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے بیان کیا, یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک سے پوچھا : کیا آپ کو داود بن حصین نے ابن ابی احمد کے آزاد کردہ غلام ابوسفیان ( وہب ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کو پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک اندازے سے بیچنے کی رخصت دی ہے؟ ۔ ۔ ( امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : ) شک داود کو ہے کہ انہوں ( ابوسفیان ) نے پانچ وسق کہا یا پانچ وسق سے کم کہا ۔ ۔ تو انہوں ( امام مالک ) نے جواب دیا : ہاں.
Ibn Umar (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) having forbidden Muzabana, and Muzabana implies the selling of fresh dates for dry dates by measuring them out and the selling of raisins by measure for grapes.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ سے مراد ( کھجور کے تازہ ) پھل کو خشک کھجور کی ماپی ( یا تولی ہوئی ) مقدار کے عوض اور انگور کو منقیٰ کی ماپی ( یا تولی ہوئی ) مقدار کے عوض فروخت کرنا ہے.
Abdullah (bin Umar رضی اللہ عنہ ) reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade Muzabana, i.e. buying of fresh dates (on) the trees for dry dates by measure, and the buying of grapes for raisins by measure and the selling of field of corn for corn by measure.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے انہوں نےمحمد بن بشیر نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) نے انہیں خبر دی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ، اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے تازہ پھل کو خشک کھجور کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے اور انگور کو منقیٰ کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے اور ( خوشیوں میں ) گندم کی کھیتی کو ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے.
A hadith like this has been narrated on the authority of 'Ubaidullah with the same chain of transmitters.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, ابن ابی زائدہ نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی.
Ibn 'Umar (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) having forbidden Muzabana, and Muzabana is the selling of dry dates by measure for fresh dates and the selling of raisins by measure for grapes and selling of all Ports of fruits on the basis of calculation.
مجھ سے یحییٰ بن معین، ہارون بن عبداللہ اور حسین بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا:ابو اسامہ نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ۔ اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے ( تازہ ) پھل کو خشک کھجور کے ماپ کی مقررہ مقدار کے عوض اور انگور کو منقیٰ کے ماپ کی مقررہ مقدار کے عوض فروخت کیا جائے اور کسی بھی پھل کو اندازے کی بنیاد پر ( اسی طرح ) فروخت کرنے سے منع فرمایا.
Ibn 'Umar (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) having forbidden Muzabana, and Muzabana implies the selling of dry dates for fresh dates on the tree with a definite measure (making it clear) that in case it increases, it belongs to me and if it is less, it is my responsibility.
مجھ سے علی بن حجر السعدی اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا:اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور پر جو پھل لگا ہوا ہے اسے ماپ کی مقررہ مقدار کے ساتھ خشک کھجور کے عوض بیچا جائے کہ اگر بڑھ گیا تو میرا اور اگر کم ہو گیا تو اس کی ذمہ داری بھی مجھ پر ہو گی.
A hadith like this has been transmitted on the authority of Ayyub.
ہم سے ابو الربیع اور ابو کامل نے بیان کیا، کہا: حماد نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی.
Abdullah (bin Umar) (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) having forbidden Mazabana, and it implies that one should sell the fresh fruits of his orchard (for dry fruits) or, if it is fresh dates, for dry dates with a measure, or if it is grapes for raisins or if it is corn in the field for dry corn with a measure He (the Holy Prophet ﷺ) in fact forbade all such transactions. Qutaiba has narrated it with a slight variation of words.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رُمح نے لیث سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ( مزابنہ یہ ہے ) کہ کوئی آدمی اپنے باغ کا پھل اگر کھجور ہو تو خشک کھجور کے مقررہ ماپ کے عوض فروخت کرے اور اگر انگور ہو تو منقیٰ کے مقررہ ماپ کے عوض فروخت کرے اور اگر کھیتی ہو تو غلے کے مقررہ ماپ کے عوض اسے فروخت کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب ( سودوں ) سے منع فرمایا ۔ قتیبہ کی روایت میں ( وان كان زرعا "" اور اگر کھیتی ہو "" کے بجائے ) "" یا کھیتی ہو "" کے الفاظ ہیں ۔
This hadith has been narrated on the authority of Nafi with another chain of transmitters.
مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس ، ضحاک اور موسیٰ بن عقبہ سب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ ان ( عبیداللہ ، ایوب اور لیث ) کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی.