This hadith has been narrated on the authority of Bukair bin al-Ashajj with the same chain of transmitters.
مجھ سے یونس بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہاعمرو بن حارث نے بکیر بن اشج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی.
A'isha (رضی اللہ عنہا) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) heard the voices of altercation of two disputants at the door; both the voices were quite loud. The one demanded some remission and desired that the other one should show leniency to him, whereupon the (other one) was saying: By Allah will not do that. Then there came Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) to them and said: Where is he who swears by Allah that he would not do good? He said: Messenger of Allah, it is I. He may do as he desires.
مجھ سے ہمارے ایک سے زیادہ اصحاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، مجھ سے میرے بھائی نے، سلیمان سے، جو ابن بلال ہیں، یحییٰ کی سند سے بیان کیا۔ بن سعید، ابو الرجال محمد بن عبدالرحمٰن کی طرف سے، کہ ان کی والدہ ,عمرہ بنت عبدالرحمن ( بن عوف ) نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کے پاس جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی ، ان دونوں کی آوازیں بلند تھیں اور ان میں سے ایک دوسرے سے کچھ کمی کرنے کی اور کسی چیز میں نرمی کی درخواست کر رہا تھا اور وہ ( دوسرا ) کہہ رہا تھا : اللہ کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے پاس باہر تشریف لے گئے اور فرمانے لگے : " اللہ ( کے نام ) پر قسم اٹھانے والا کہاں ہے کہ وہ نیکی کا کام نہیں کرے گا؟ " اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں ہوں ، اس شخص کے لیے وی صورت ہے جو یہ پسند کرے ۔ ( وہ فورا اپنے بھائی کا مطالبہ مان گیا).
Abdullah bin Ka'ab bin Malik reported from his father:
He pressed in the mosque Ibn Abu Hadrad رضی اللہ عنہ for the payment of the debt that he owed to him during the lifetime of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). (In this altercation) their voices became loud, until Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) heard them, while he was in the house, so Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came out towards them, and he lifted the curtain of his apartment and he called upon Ka'b b. Malik and said: O Ka'b. He said: At thy beck and call, Allah's Messenger. He pointed out with the help of his hand to remit half of the loan due to him. Ka'b said: Allah's Messenger, I am ready to do that, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said (to Ibn Abu Hadrad): Stand up and make him the payment (of the rest).
ہم سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا عبداللہ بن وہب نے ہمیں خبر دی ، کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے عبداللہ بن کعب بن مالک نے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے خبر دی کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ، مسجد میں ، ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے قرض کا مطالبہ کیا جو ان کے ذمے تھا تو ان کی آوازیں بلند ہو گئیں ، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے اندر ان کی آوازیں سنیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف گئے یہاں تک کہ آپ نے اپنے حجرے کا پردہ ہٹایا اور کعب بن مالک کو آواز دی : " کعب! " انہوں نے عرض کی : حاضر ہوں ، اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنے ہاتھ سے انہیں اشارہ کیا کہ اپنے قرض کا آدھا حصہ معاف کر دو ۔ کعب نے کہا : اللہ کے رسول! کر دیا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوسرے سے ) فرمایا : " اٹھو اور اس کا قرض چکا دو.
Kab bin Malik رضی اللہ عنہ narrated that he asked Ibn Abi Hadard رضی اللہ عنہ to pay off a debt that he owed him.. a Hadith like that of Ibn Wahb (3984).
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا,عثمان بن عمر نے ہمیں خبر دی ، انہوں نے کہا : ہمیں یونس نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت کی کہ انہیں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ابن وہب کی حدیث کی طرح ہے.
Ka'b bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
He made a demand for the payment of the debt that Ibn Abu Hadrad رضی اللہ عنہ owed to him. This hadith is narrated through another chain of transmitters and (the words are): He had to get the loan from Abdullah bin Hadrad al-Aslami رضی اللہ عنہ . He met him and pressed him for payment. There was an altercation between them, until their voices became loud. There happened to pass by them Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he said: O Ka'b, and pointed out with his hand in such a way as he meant half. So he got half of what he (Ibn Abu Hadrad رضی اللہ عنہ ) owed to him and remitted the half.
مسلم نے کہا: لیث بن سعد نے بیان کیا، مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا,عبدالرحمٰن بن ہُرمز نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے اور انہوں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
ان کا کچھ مال عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ کے ذمے تھا ۔ وہ انہیں ملے تو کعب رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ لگ گئے ، ان کی باہم تکرار ہوئی حتی کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے پاس سے گزرا تو آپ نے فرمایا : " کعب! " پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ، گویا آپ فرما رہے تھے کہ آدھا لے لو ، چنانچہ انہوں نے اس مال میں سے جو اس ( ابن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ ) کے ذمے تھا ، آدھا لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا.
Abu Huraira (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who found his property intact with a person (who bought it but who later on) became insolvent (or a person who became insolvent), he (the seller) is entitled to get it more than anyone else. '
ہم سے احمد بن عبداللہ بن یونس نے بیان کیا,زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے خبر دی کہ انہیں عمر بن عبدالعزیز نے خبر دی ، انہیں ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ یا ( اس طرح کہا : ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے ۔ ۔ : " جس نے اپنا مال جوں کا توں اس شخص کے پاس پایا جو مفلس ہو چکا ہے ۔ ۔ یا اس انسان کے پاس جو مفلس ہو چکا ہے ۔ ۔ تو وہ دوسروں کی نسبت اس ( مال ) کا زیادہ حق دار ہے.
A hadith like that of Zubair (no. 3988) was narrated from Yahya bin Saeed with this chain. Ibn Rumh said in his report:
"Any man who becomes bnkrupt."
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشیم نے خبر دی ، ( اسی طرح ) قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح دونوں نے لیث بن سعد سے روایت کی اور ( اسی طرح ) ابوربیع اور یحییٰ بن حبیب حارثی نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی ۔ محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا : ہمیں عبدالوہاب ، یحییٰ بن سعید ( القطان ) اور حفص بن غیاث ، سب نے یحییٰ بن سعید سے ، اسی سند کے ساتھ زہیر کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، البتہ ان میں سے ابن رمح نے اپنی روایت میں کہا :
" جس کسی آدمی کو مفلس قرار دیا گیا ہو.
Abu Huraira (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying about a person who becomes insolvent and (the thing bought by him) is found intact with him, that belongs to one who sold it.
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن سلیمان نے جو ابن عکرمہ بن خالد المخزومی ہیں، انہوں نے ابن جریج کی سند سے بیان کیا, ابن ابی حسین نے مجھے حدیث بیان کی کہ انہیں ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے خبر دی کہ انہیں عمر بن عبدالعزیز نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کی ( روایت کردہ ) حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ( روایت کردہ ) حدیث بیان کی
انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں روایت کی جو کنگال ہو جائے ، جب اس کے پاس سامان ملے اور اس نے اس میں تصرف نہ کیا ہو ، ( فرمایا : ) " تو وہ اس کے مالک کا ہے ، جس نے اسے فروخت کیا تھا.
Abu Huraira (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When a man becomes insolvent (and the other) man (the seller) finds his commodity intact with him, he is more entitled to get it (than anyone else)
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا:شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہیں نے نضر بن انس سے ، انہوں نے بشیر بن نہیک سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی
آپ نے فرمایا : " جب کوئی آدمی مفلس ہو جائے اور کوئی آدمی ( اس کے پاس ) اپنا مال جوں کا توں پائے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے.
This hadith has been narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters (but with a change of these words):
He is more entitled to get it than any other creditor.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا,سعید اور ہشام دونوں نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند روایت کی اور کہا
" تو وہ ( دیگر ) قرض خواہوں کی نسبت اس ( مال ) کا زیادہ حقدار ہے ۔ "
Abu Huraira ( رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When a man becomes insolvent, and the other person (seller) finds his goods intact with him, he is more entitled to get them than anyone else.
مجھ سے محمد بن احمد بن ابی خلف اور حجاج بن الشعر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوسلمہ الخزاعی نے بیان کیا، حجاج نے کہا: منصور بن سلمہ، ہمیں سلیمان بن بلال نے خثیم بن کی سند سے خبر دی, عراک بن مالک نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب کوئی آدمی مفلس قرار دیا جائے اور ( کسی بیچنےوالے ) شخص کو اس کے ہاں اپنا سامان جوں کا توں مل جائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے ۔ "
Hudhaifa رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying The angels took away the soul of a person who had lived among people who were before you. They (the angels) said: Did you do anything good? He said: No. they said: Try to recall. He said: I used to lend to people and order my servants to give respite to one in straitened circumstances and give allowance to the solvent, for Allah, the Exalted and Majestic, said (to the angels): You should ignore (his failing).
ہم سے احمد بن عبداللہ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا,منصور نے ہمیں ربعی بن حراش سے حدیث بیان کی کہ حضرت حذیفہ ( بن یمان رضی اللہ عنہ ) نے انہیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کی روح کا فرشتوں نے استقبال کیا تو انہوں نے پوچھا : " کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ اس نے کہا : نہیں ، انہوں نے کہا : یاد کر ، اس نے کہا : میں ( دنیا میں ) لوگوں کے ساتھ قرض کا معاملہ کرتا تو اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ وہ تنگدست کو مہلت دیں اور خوشحال سے نرمی برتیں ۔ ( انہوں نے ) کہا : اللہ عزوجل نے فرمایا ہے : ( تم بھی ) اس کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو ۔
Hudhaifa رضی اللہ عنہ reported:
A person met his Lord (after death) and He said: What (good) did you do? He said: I did no good except this that I was a rich man, and I demanded from the people (the repayment of debt that I advanced to them). I, however, accepted that which the solvent gave and remitted (the debt) of the insolvent, whereupon He (the Lord) said: You should ignore (the faults) of My servant. Abu Mas'ud ( رضی اللہ عنہ) said: This is what I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying.
ہم سے علی بن حجر اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، اور یہ قول ابن حجر کا ہے، انہوں نے کہا: ہم سے جریر نے المغیرہ کی سند سے بیان کیا،نُعَیم بن ابی ہند نے ربعی بن حراش سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت حذیفہ اور حضرت ابومسعود ( انصاری ) رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا
ایک آدمی اللہ عزوجل کے حضور پیش ہوا تو اللہ نے پوچھا : " تو نے کیا عمل کیا؟ " اس نے کہا : میں نے کوئی نیکی نہیں کی ، سوائے اس کے کہ میں مالدار آدمی تھا ، میں لوگوں سے اس ( میں سے دیے ہوئے قرض ) کا مطالبہ کرتا تو مالدار سے خوش دلی سے قبول کرتا اور تنگ دست سے درگزر ( مزید مہلت دیتا یا نہ دے سکتا تو معاف ) کرتا ۔ فرمایا : " ( تم بھی ) میرے بندے سے درگزر کرو ۔ " ( یہ سن کر ) حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے ۔
Hudhaifa ( رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: A person died and he entered Paradise. It was said to him What (act) did you do? (Either he recalled it himself or he was made to recall), he said I used to enter into transactions with people and I gave respite to the insolvent and did not show any strictness in case of accepting a coin or demanding cash payment. (For these acts of his) he was granted pardon. Abu Mas'ud رضی اللہ عنہ said: I heard this from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سےعبدالملک بن عمیر نے ربعی بن حراش سے ، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ایک آدمی فوت ہوا اور جنت میں داخل ہوا تو اس سے کہا گیا : تو کیا عمل کرتا تھا؟ ۔ ۔ کہا : اس نے خود یاد کیا یا اسے یاد کرایا گیا ۔ ۔ اس نے کہا : ( اے میرے پروردگار! ) میں لوگوں سے ( قرض پر ) خرید و فروخت کرتا تھا ، تو میں تنگ دست کو مہلت دیتا اور سکہ اور نقدی وصول کرنے میں نرمی کرتا تھا ، تو اس کی مغفرت کر دی گئی " اس پر حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے بھی یہی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ۔
Hudhaifa (رضی اﷲ عنہ) reported:
A servant from amongst the servants of Allah was brought to Him whom Allah had endowed with riches. He (Allah) said to him: What (did you do) in the world? (They cannot conceal anything from Allah) He (the person) said: O my Lord, You endowed me with Your riches. I used to enter into transactions with people. It was my nature to be lenient to (my debtors). I showed leniency to the solvent and gave respite to the insolvent, whereupon Allah said: I have more right than you to do this to connive at My servant. 'Uqba bin 'Amir al-Juhani and Abu Mas'ud رضی اﷲ عنہ said: This is what we heard from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
ہم سے ابو سعید اشجج نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، ان سے سعد بن طارق نے، وہ رباعی بن حارث کی سند سے,حذیفہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے
ﷲ عزوجل کے پس اس کا ایک بندہ لایا گیا جس کو اس نے مال دیا تھا تو اﷲ تعالیٰ نے اس سے پوچھا تو نے دنیا میں کیا عمل کیا؟ اور اﷲ سے کچھ نہیں چھپا سکتے ۔ بندے نے کہا اے میرے مالک! تونے اپنامال مجھ کو دیا تھا میں لوگوں کے ہاتھ بیچتا تھا اور میری عادت تھی درگزر کرنے کی ( اور معاف کرنے کی ) تو میں آسانی کرتا تھا مالدار پر اور مہلت دیتا تھا نادار کو ۔ تب ﷲا نے فرمایا پھر میں تو زیادہ لائق ہوں معاف کرنے کے لیے تجھ سے ، درگزر کرو میرے بندے سے ۔ پھر عقبہ بن عامرجہنیؓ اور ابومسعود انصاری رضی اﷲ عنہ نے کہا ہم نے ایسا ہی سُنا ہے رسول اﷲ ﷺ کے منہ مبارک سے ۔
Abu Mas'ud (رضی اﷲ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: A person from people who lived before you was called to account (by Allah at the Day of Judgment) and no good was found in his account except this that lie being a rich man had (financial) dealings with people and had commanded his servants to show leniency to the straitened ones. Upon this Allah, the Exalted and Majestic, said: We have more right to this, so overlook (his faults).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابو کریب، اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا - اور تلفظ یحییٰ ہے - یحییٰ نے کہا۔ اس نے ہم سے بیان کیا اور دوسروں نے کہا کہ ہم سے ابو معاویہ نے الاعمش سے اور ایک بھائی کی سند سے بیان کیا,حضرت ابی مسعود رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے
رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے ایک شخص کا حساب ہوا تو اس کی کوئی نیکی نہ نکلی مگر اتنی کہ وہ لوگوں سے معاملہ کرتا تھا اور مالدار تھا تو اپنے غلاموں کو حکم کرتا نادار کو معاف کردینے کا ۔ تب اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہم زیادہ حق رکھتے ہیں معاف کرنے کا تجھ سے اور حکم دیا کہ معاف کرو اس کے گناہوں کو ۔
Abu Huraira (رضی اﷲ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There was a person who gave loans to the people and said to his men: When an insolvent comes to you show him leniency that Allah may overlook our (faults). So when he met Allah, He overlooked his faults (forgave him).
ہم سے منصور بن ابی مزاحم اور محمد بن جعفر بن زیاد نے بیان کیا - منصور نے کہا: ہم سے ابراہیم بن سعد نے، الزہری اور ابن ابن کثیر کی سند سے بیان کیا جعفر، ابراہیم، جو ابن سعد ہیں، نے ہمیں ابن شہاب کی سند سے اور عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ کی سند سے، ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے
رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا اور وہ اپنے نوکروں سے کہتا جو مفلس ہو اس کو معاف کردینا شاید اﷲ تعالیٰ اس کے بدلے ہم کو معاف کرے ۔ پھر وہ اﷲ تعالیٰ سے ملا اﷲ نے اس کو بخش دیا ۔ باب : حد لگانے سے گناہ مٹ جاتا ہے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say...: a similar report (as no. 3998).
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی کہ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے ۔ ۔ ۔ اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔
Abdullah bin Abu Qatada reported:
Abu Qatada (رضی اللہ عنہ) demanded (the payment of his debt) from his debtor but he disappeared; later on he found him and he said: I am hard up financially, whereupon he said: (Do you state it) by God? He said: By God. Upon this he (Qatada) said: I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who loves that Allah saves him from the torments of the Day of Resurrection should give respite to the insolvent or remit (his debt).
ہم سے ابو الہیثم خالد بن خدش بن عجلان نے بیان کیا,حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اور انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت کی کہ
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک قرض دار کو تلاش کیا تو وہ ان سے چھپ گیا ، پھر ( بعد میں ) انہوں نے اسے پا لیا تو اس نے کہا : میں تنگ دست ہوں ۔ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم؟ اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم! انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جسے یہ بات اچھی لگے کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی سختیوں سے نجات دے تو وہ تنگ دست کو سہولت دے یا اسے معاف کر دے ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters.
مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, جریر بن حازم نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ۔