The above hadith is likewise narrated through another chain of transmission on the authority of Abi Qilabah.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے بیان کیا, عبدالوہاب ثقفی نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کی طرح روایت بیان کی ۔
Ubida bin al-Simit ( رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Gold is to be paid for by gold, silver by silver, wheat by wheat, barley by barley, dates by dates, and salt by salt, like for like and equal for equal, payment being made hand to hand. If these classes differ, then sell as you wish if payment is made hand to hand.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو الناقد اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا اور یہ قول ابن ابی شیبہ نے کہا,خالد حذاء نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے ابواشعث سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سونے کے عوض سونا ، چاندی کے عوض چاندی ، گندم کے عوض گندم ، جو کے عوض جو ، کھجور کے عوض کھجور اور نمک کے عوض نمک ( کا لین دین ) مثل بمثل ، یکساں ، برابر برابر اور نقد بنقد ہے ۔ جب اصناف مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیع کرو بشرطیکہ وہ دست بدست ہو ۔ "
Abu Sa'id al-Khudri (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Gold is to be paid for by gold, silver by silver, wheat by wheat, barley by barley, dates by dates, salt by salt, like by like, payment being made hand to hand. He who made an addition to it, or asked for an addition, in fact dealt in usury. The receiver and the giver are equally guilty.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا,اسماعیل بن مسلم عبدی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابومتوکل ناجی نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سونے کے عوض سونا ، چاندی کے عوض چاندی ، گندم کے عوض گندم ، جو کے عوض جو ، کھجور کے عوض کھجور اور نمک کے عوض نمک ( کی بیع ) مثل بمثل ( ایک جیسی ) ہاتھوں ہاتھ ہو ۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا لین دین کیا ، اس میں لینے والا اور دینے والا برابر ہیں ۔ "
It was narrated that Abu Saeed al-Khudri (رضی اللہ عنہ) said:
"The Messenger of Allah ﷺ said: 'Gold for gold, like for like...." a similar hadith (as no. 4064).
ہم سے عمرو الناقد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا،سلیمان ربعی نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں ابومتوکل ناجی نے حضترت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سونے کے عوض سونے ( کی بیع ) برابر مثل بمثل ( ایک جیسی ) ہے ۔ ۔ ۔ " ( آگے ) سابقہ حدیث کے مانند بیان کیا ۔
Abu Huraira (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Dates are to be paid for by dates, wheat by wheat, barley by barley, salt by salt, like for like, payment being made on the spot. He who made an addition or demanded an addition, in fact, dealt in usury except in case where their classes differ.
ہم سے ابو کریب محمد بن العلاء اور واصل بن عبد العلا نے بیان کیا، انہوں نے کہا: فضیل کے بیٹے ( محمد ) نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کھجور کے عوض کھجور ، گندم کے عوض گندم ، جو کے عوض جو اور نمک کے عوض نمک ( کی بیع ) مثل بمثل ( ایک جیسی ) دست بدست ہو ۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا ( لین دین ) کیا ، الا یہ کہ ان کی اجناس الگ الگ ہوں ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Fudail bin Ghazwan with the same chain of transmitters, but he made no mention of (payment being) made on the spot.
ابو سعید اشج نے مجھ سے کہا,محاربی نے فضیل بن گزوان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے " دست بدست " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
Abu Huraira ( رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Gold is to be paid for by gold with equal weight, like for like, and silver is to be paid for by silver with equal weight, like for like. He who made an addition to it or demanded an addition dealt in usury.
ہم سے ابو کریب اور واصل بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن فضیل نے اپنے والد سے بیان کیا،ابن ابی نُعیم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سونے کے عوض سونے کی بیع ہم وزن اور مثل بمثل ( ایک جیسی ) ہے اور چاندی کے عوض چاندی ہم وزن اور مثل بمثل ہے ۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو وہ سود ہے ۔ "
Abu Huraira (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Let dinar be exchanged for dinar, with no addition on either side and dirham be exchanged for dirham with no addition on either side.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القنبی نے بیان کیا, سلیمان بن ہلال نے ہمیں موسیٰ بن ابی تمیم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دینار سے دینار کی بیع میں ان کے درمیان اضافہ ( جائز ) نہیں اور درہم سے درہم کے تبادلے میں ان کے درمیان اضافہ ( جائز ) نہیں ۔ "
Musa bin Abi Tamim narrated a similar report (as Hadith no. 4069) with this chain.
مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے موسیٰ بن ابی تمیم نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Abu Minhal reported:
My partner sold silver to be paid in the (Hajj) season or (in the days of) Hajj. He (my partner) came to me and informed me, and I said to him: Such transaction is not desirable. He said: I sold it in the market (on loan) but nobody objected to this. I went to al-Bara' bin 'Azib رضی اللہ عنہ and asked him, and he said: Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to Medina and we made such transaction, whereupon he said: In case the payment is made on the spot, there is no harm in it, and in case (it is 'sold) on loan, it is usury. You better go to Zaid bin Arqam رضی اللہ عنہ , for he is a greater trader than I; so I went to him and asked him, and he said like it.
ہم سے محمد بن حاتم بن میمون نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا,عمرو ( بن دینار ) نے ابومنہال سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میرے ایک شریک نے موسم ( حج کے موسم ) تک یا حج تک چاندی ادھار فروخت کی ، وہ میرے پاس آیا اور مجھے بتایا تو میں نے کہا : یہ معاملہ درست نہیں ۔ اس نے کہا : میں نے وہ بازار میں فروخت کی ہے اور اسے کسی نے میرے سامنے ناقابل قبول قرار نہیں دیا ۔ اس پر میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور ہم یہ بیع کیا کرتے تھے تو آپ نے فرمایا : " جو دست بدست ہے اس میں کوئی حرج نہیں اور جو ادھار ہے وہ سود ہے ۔ " زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان کا کاروبار مجھ سے وسیع ہے ، چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی اسی کے مانند کہا ۔
Habib reported that he heard Abu Minhal as saying:
I asked al-Bara' bin Azib رضی اللہ عنہ about the exchange of (gold for silver or vice versa), whereupon he said: you better ask Zaid bin Arqam رضی اللہ عنہ for he knows more than I. So I asked Zaid but he said: You better ask al-Bara' for he knows more than I. Then both of them said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade the sale of silver for gold when payment is to be made in future.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ الانبری نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا, حبیب سے روایت ہے کہ انہوں نے ابومنہال سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے دینار کی درہم سے یا سونے کی چاندی سے بیع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : زید بن ارقم سے پوچھو ، وہ زیادہ جاننے والے ہیں ، چنانچہ میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا : براء سے پوچھو ، وہ زیادہ جاننے والے ہیں ، پھر دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے عوض چاندی کی ادھار بیع سے منع فرمایا ۔
Abdul-Rahman bin Abi Bakra reported on the authority of his father:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade the sale of gold for gold, and silver for silver except equal for equal, and commanded us to buy silver for gold as we desired and buy gold for silver as we desired. A person asked him (about the nature of payment), whereupon he said: It is to be made on the spot. This is what I heard (from Allah's Messenger (ﷺ).
ابو الربیع العتکی نے ہمیں بتایا, عباد بن عوام نے کہا : یحییٰ بن ابی اسحاق نے ہمیں خبر دی ، انہوں نے کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے عوض چاندی اور سونے کے عوض سونے کی بیع سے منع فرمایا ، الا یہ کہ برابر برابر ہو اور آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سونے کے عوض چاندی جیسے چاہیں خریدیں اور چاندی کے عوض سونا جیسے چاہیں خریدیں ۔ کہا : اس پر ایک آدمی نے ان سے سوال کیا اور کہا : دست بدست؟ تو انہوں نے کہا : میں نے اسی طرح سنا ہے ۔
same as above Abdul-Rahman bin Abu Bakra رضی اللہ عنہ said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) prohibited us. The rest of the hadith is the same.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، ہم سے معاویہ نے بیان کیا, یحییٰ بن ابی کثیر نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے روایت کی کہ انہیں عبدالرحمن بن ابی بکرہ نے بتایا کہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے مانند ہے ۔
Fadala bin Ubaid al-Ansari رضی اللہ عنہ reported:
A necklace having gold and gems in it was brought to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in Khaibar and it was one of the spoils of war and was put to sale. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The gold used in it should be separated, and then Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) further said: (Sell) gold for gold with equal weight.
مجھ سے ابو الطاہر احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے ابو ہانی الخولانی نے بیان کیا، انہوں نے سنا, علی بن رباح لخمی نے کہا : میں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ، جبکہ آپ خیبر میں تھے ، ایک ہار لایا گیا ، اس میں نگینے تھے اور سونا تھا اور وہ ان غنائم میں سے تھا جو فروخت کی جا رہی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سونے کے بارے میں حکم دیا جو ہار میں تھا ، تو اکیلے اسی کو الگ کر دیا گیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے ( جو لین دین کر رہے تھے ) فرمایا : " سونے کے عوض سونا برابر برابر وزن کا ( خریدو اور بیچو ۔ ) "
Fadila bin 'Ubaid (رضی اللہ عنہ) reported:
I bought on the day (of the Victory of Khaibar) a necklace for twelve dinars (gold coins). It was made of gold studded with gems. I separated (gold from gems) in it, and found (gold) of more (worth) than twelve dinars. I made a mention of it to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), whereupon he said: It should not be sold unless it is separated.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, لیث نے ہمیں ابوشجاع سعید بن یزید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے خالد بن ابی عمران سے ، انہوں نے حنش صنعانی سے اور انہوں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں نے خیبر کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا ، اس میں سونا اور نگینے تھے ۔ میں نے انہیں الگ الگ کیا تو مجھے اس میں بارہ دینار سے زیادہ مل گئے ، میں نے اس بات کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : " اسے الگ الگ کرنے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے ۔ "
A hadith like this is narrated on the authority of Sa'id bin Yazid with the same chain of transmitters.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابن مبارک نے سعید بن یزید سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ۔
Fadala bin 'Ubaid رضی اللہ عنہ reported:
We were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) on the day (of the Victory of) Khaibar, and made transaction with the Jews for the 'uqiya of gold for the dinars or three (gold coins), whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Do not sell gold for gold but for equal weight
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ابن ابی جعفر کی سند سے, جلاح ابوکثیر سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے حنش صنعانی نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
خیبر کے دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہم یہود کے ساتھ دو یا تین دیناروں کے عوض ایک اوقیہ سونے کی بیع کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سونے کے عوض سونے کی بیع نہ کرو مگر برابر برابر وزن کے ساتھ ۔ "
Hanash reported:
We were along with Fadala bin Ubaid (رضی اللہ عنہ) in an expedition. There fell to my and my friend's lot a necklace made of gold, silver and jewels. I decided to buy that. I asked Fadala bin 'Ubaid رضی اللہ عنہ , whereupon he said: Separate its gold and place it in one pan (of the balance) and place your gold in the other pan, and do not receive but equal for equal, for I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who believes in Allah and the Hereafter should not take but equal for equal.
مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے قرہ بن عبدالرحمٰن المعافیری، عمرو بن الحارث اور دوسرے لوگوں سے بیان کیا, عامر بن یحییٰ معافری نے حنش سے خبر دی کہ انہوں نے کہا
ہم ایک غزوے میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، میرے اور میرے ساتھیوں کے حصے میں ایک ہار آیا جس میں سونا ، چاندی اور جواہر تھے ۔ میں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا ، چنانچہ میں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا : اس کا سونا اتار لو اور اسے ایک پلڑے میں رکھو اور اپنا سونا دوسرے پلڑے میں رکھو ، پھر برابر برابر کے سوا نہ لو ( کیونکہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ فرما رہے تھے : " جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ( اس طرح کی بیع میں ) مثل بمثل ( یکساں ) کے سوا ہرگز نہ لے ۔ "
Ma'mar bin Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
He sent his slave with a sa' of wheat and said to him: Sell it, and then buy with it barley. The slave went away and he got a sa' (of barley) and a part of sa' over and above that. When he came to Ma'mar he informed him about that, whereupon Ma'mar said to him: Why did you do that? Go back and return that, and do not accept but weight, for weight, for I used to hear from Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Wheat for wheat and like for like. He (one of the narrators) said: Our food in those days consisted of barley. It was said to him (Ma'mar) that (wheat) is not like that (barley). He replied: I am afraid these may not be similar
ہم سے ہارون بن معروف نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے عمرو کی سند سے بیان کیا۔ ابن حارث کہ ابو الندر, بُسر بن سعید نے معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
انہوں نے گندم کا ایک صاع دے کر اپنا غلام بھیجا اور کہا : اسے بیچ دو ، پھر اس ( کی قیمت ) سے جو خرید لاؤ ۔ غلام گیا اور ( گندم کے صاع کے عوض ) ایک صاع اور صاع سے کچھ زیادہ ( جو ) لے آیا ، جب وہ معمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہیں یہ بات بتائی ، تو حضرت معمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : تم نے یہ کام کیوں کیا؟ جاؤ اور اسے واپس کرو اور مثل بمثل کے سوا کچھ نہ لو ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتے تھا ، آپ فرماتے تھے : " غلے کے عوض غلے کی بیع مثل بمثل ہے ۔ " کہا : ان دنوں ہماری خوراک جَو کی تھی ۔ ان سے کہا گیا : وہ تو اس ( گندم ) کی مثل نہیں ہے ۔ ( یعنی دو الگ جنسیں ہیں ، اس لیے تفاضل جائز ہے ۔ ) انہوں نے کہا : مجھے خدشہ ہے کہ وہ اس کے مشابہ ہو گی ۔
Abu Huraira and Abu Sa'id al-Khudri ( رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) deputed a person from Banu 'Adi al-Ansari to collect revenue from Khaibar. He came with a fine quality of dates, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: Are all the dates of Khaibar like this? He said: Allah's Messenger, it is not so. We buy one sa' of (fine quality of dates) for two sa's out of total output (including even the inferior quality of dates), whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Don't do that, but like for like, or sell this (the inferior quality and receive the price) and then buy with the price of that, and that would make up the measure.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قَنعب نے بیان کیا,سلیمان بن بلال نے ہمیں عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمن سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عدی سے تعلق رکھنے والے ایک انصاری کو بھیجا اور اسے خیبر کا عامل مقرر کیا ، وہ جنیب ( عمدہ قسم کی ) کھجور لے کر آیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " کیا خیبر کی تمام کھجور اسی طرح کی ہے؟ اس نے عرض کی : اللہ کے رسول! واللہ! نہیں ۔ ہم ملی جلی کھجور کے دو صاع کے عوض ( عمدہ کھجور کا ) ایک صاع خریدتے ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایسا نہ کرو بلکہ مثل بمثل ( یکساں خریدو بیچو ) یا پھر اسے بیچ دو اور اس کی قیمت سے دوسری قسم خرید لو ، اسی طرح وزن ( کے ذریعے سے لین دین کرنا ہو تو بھی برابر ہونا ضروری ) ہے ۔ "