Abu Huraira (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) deputed a person to collect revenue from Khaibar. He brought fine quality of dates, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Are all the dates of Khaibar like this)? He said: No. We got one sa' (of fine dates) for two sa's (of inferior dates), and (similarly) two sa's for three sa's. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Don't do that rather sell the inferior quality of dates for dirhams (money), and then buy the superior quality with the help of dirhams.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا امام مالک نے عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمن بن عوف سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو خیبر کو عامل مقرر کیا ، وہ آپ کے پاس جنیب ( عمدہ قسم کی ) کھجور لے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " کیا خیبر کی تمام کھجور اسی طرح کی ہے؟ " اس نے عرض کی : واللہ! یا رسول اللہ! نہیں ۔ ہم ( ملی جلی کھجور کے ) دو صاع کے عوض اس کا ایک صاع اور تین کے عوض دو صاع لیتے ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایسا نہ کرو ، ملی جلی کھجور کو درہموں کے عوض بیچ دو ، پھر درہموں سے جنیب ( عمدہ ) کھجور خرید لو ۔ "
Abu Sa'id رضی اللہ عنہ reported:
Bilal (رضی اللہ عنہ) came with fine quality of dates. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: From where (you have brought them)? Bilal رضی اللہ عنہ said: We had inferior quality of dates and I exchanged two sa's (of inferior quality) with one sa (of fine quality) as food for Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Woe! it is in fact usury; therefore, don't do that. But when you intend to buy dates (of superior quality), sell (the inferior quality) in a separate bargain and then buy (the superior quality). And in the hadith transmitted by Ibn Sahl there is no mention of whereupon .
اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں یحییٰ بن صالح وحاظی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں معاویہ بن سلام نے حدیث سنائی ۔ نیز محمد بن سہیل تمیمی اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی نے ۔ ۔ الفاظ دونوں کے یہی ہیں ۔ ۔ دونوں نے مجھے یحییٰ بن حسان سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں معاویہ بن سلام نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے عقبہ بن عبدالغافر سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے
حضرت بلال رضی اللہ عنہ برنی کھجور لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : "" یہ کہاں سے لائے ہو؟ "" تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمارے پاس ردی کھجور تھی ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کے لیے اُسے دو صاع کے عوض ( اِس کے ) ایک صاع سے بیچ دیا ۔ تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" مجھے افسوس ہوا! تو یہ عین سود ہے ، ایسا نہ کرو بلکہ جب تم کھجور خریدنا چاہو تو اسے ( ردی کھجور کو ) دوسری ( نقدی وغیرہ کے عوض کی گئی ) بیع کے ذریعے سے بیچ دو ، پھر اس ( کی قیمت ) سے ( دوسری قسم ) خرید لو ۔ "" ابن سہل نے اپنی حدیث میں "" اس وقت "" کے الفاظ بیان نہیں کیے.
Abu Sa'id ( رضی اللہ عنہ) reported:
Dates were brought to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and he said: These dates are not like our dates, whereupon a man said: We sold two sa's of our dates (in order to get) one sa', of these (fine dates), whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: That is interest; so return (these dates of fine quality), and get your (inferior dates) ; then sell our dates (for money) and buy for us (with the help of money) such (fine dates).
ہم سے سلمہ بن شبیب نے بیان کیا، ہم سے حسن بن عیان نے بیان کیا، ہم سے معقل نے بیان کیا، وہ ابو قزعہ الباہلی کی سند سے, ابونضرہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور لائی گئی تو آپ نے فرمایا : " یہ کھجور ہماری کھجور میں سے نہیں ۔ " اس پر ایک آدمی نے کہا : اللہ کے رسول! ہم نے اپنی کھجور کے دو صاع اس کھجور کے ایک صاع کے عوض بیچے ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ سود ہے ، اسے واپس کرو ، پھر ہماری کھجور ( نقدی کے عوض ) فروخت کرو اور ( اس کی قیمت سے ) ہمارے لیے یہ کھجور خریدو ۔ "
Abu Sa'id (رضی اللہ عنہ) reported:
We were given to eat, during the lifetime of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), dates of different qualities mixed together, and we used to sell two sa's of these for one sa, (of fine quality of dates). This reached Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), whereupon he said: There should be no exchange of two sa's of (inferior) dates for one sa (of fine dates) and two sa's of (inferior) wheat for one sa' of (fine) wheat. and one dirham for two dirharms.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے شیبان سے، یحییٰ سے، ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے, حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں ( ہمارے حصے میں ) عام کھجور دی جاتی تھی اور وہ ملی جلی کھجور ہوتی تھی تو ہم اس کے دو صاع کے عوض ایک صاع کا سودا کرتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا : " کھجور کے دو صاع ایک صاع کے عوض ( جائز ) نہیں ، گندم کے دو صاع ایک صاع کے عوض ( جائز ) نہیں اور نہ ایک درہم دو درہموں کے عوض ( جائز ہے ۔ ) "
Abu Nadra reported:
I asked Ibn Abbas ( رضی اللہ عنہ) about the conversion (of gold and silver for silver and gold). We said: Is it hand to hand exchange? I said: Yes. whereupon he said: There is no harm in it. I informed Abu Sa'id رضی اللہ عنہ about it, telling him that I had asked Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ about it and he said: Is it hand to hand exchange? I said: Yes, whereupon he said: There is no harm in it. He (the narrator) said, or he said like it: We will soon write to him, and he will not give you this fatwa (religious verdict). He said: By Allah, someone of the boy-servants of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) brought dates, but he refused to accept them (on the plea) that those did not seem to be of the dates of our land. He said: Something had happened to the dates of our land, or our dates. So I got these dates (in exchange by giving) excess (of the dates of our land), whereupon he said: You made an addition for getting the fine dates (in exchange) which tantamounts, to interest; don't do that (in future). Whenever you find some doubt (as regards the deteriorating quality of) your dates, sell them, and then buy the dates that you like.
مجھ سے عمرو الناقد نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، سعید الجریری کی سند سے،سعید جریری نے ابونضرہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دینار و درہم یا سونے چاندی کے تبادلے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : کہا یہ دست بدست ہے؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ، انہوں نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں ۔ میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو خبر دی ، میں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دینار و درہم یا سونے چاندی کے تبادلے کے بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے کہا تھا : کیا دست بدست ہے؟ میں نے جواب دیا تھا : ہاں ، تو انہوں نے کہا تھا : اس میں کوئی حرج نہیں ( انہوں نے ایک ہی جنس کی صورت میں مساوات کی شرط لگائے بغیر اسے علی الاطلاق جائز قرار دیا ۔ ) انہوں ( ابوسعید ) نے کہا : کیا انہوں نے یہ بات کہی ہے؟ ہم ان کی طرف لکھیں گے تو وہ تمہیں ( غیر مشروط جواز کا ) یہ فتویٰ نہیں دیں گے ۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام سے کوئی کھجوریں لے کر آیا تو آپ نے انہیں نہ پہچانا اور فرمایا : " ایسا لگتا ہے کہ یہ ہماری سرزمین کی کھجوروں میں سے نہیں ہیں ۔ " اس نے کہا : اس سال ہماری زمین کی کھجوروں میں ۔ ۔ یا ہماری کھجوروں میں ۔ ۔ کوئی چیز ( خرابی ) تھی ، میں نے یہ ( عمدہ کھجوریں ) لے لیں اور بدلے میں کچھ زیادہ دے دیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے دوگنا دیں ، تم نے سود کا لین دین کیا ، اس کے قریب ( بھی ) مت جاؤ ، جب تمہیں اپنی کھجور کے بارے میں کسی چیز ( نقص وغیرہ ) کا شک ہو تو اسے فروخت کرو ، پھر کھجور میں سے تم جو چاہتے ہو ( نقدی کے عوج ) خرید لو ۔ "
Abu Nadra reported:
I asked Ibn Umar and Ibn Abbas (رضی اللہ عنہ) about the conversion of gold with gold but they did not find any harm in that. I was sitting in the company of Abd Sa'id al-Khudri (رضی اللہ عنہ) and asked him about this exchange, and he said: Whatever is addition is an' interest. I refused to accept it on account of their statement (statement of Ibn 'Abbas and Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ ). He said: I am not narrating to you except what I heard from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). There came to him the owner of a date-palm with one sa' of fine dates, and the dates of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) were of that colour. Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: Where did you get these dates? I went with two sa's of (inferior dates) and bought one sa' of (these fine dates), for that is the prevailing price (of inferior dates) in the market and that is the price (of the fine quality of dates in the market), whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Woe be upon you! You have dealt in interest, when you decide to do it (i.e. exchange superior quality of dates for inferior quality); so you should sell your dates for another commodity (or currency) and then with the help of that commodity buy the dates you like. Abu Sa'ad رضی اللہ عنہ said: When dates are exchanged for dates (with different qualities) there is the possibility (of the element of) interest (creeping into that) or when gold is exchanged for gold having different qualities. I subsequently came to Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ and he forbade me (to do it), but I did not come to Ibn 'Abbas (رضی اللہ عنہ). He (the narrator) said: Abu as-Sahba' narrated to me: He asked Ibn Abbas (رضی اللہ عنہ) in Mecca, and he too disapproved of it.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلی نے بیان کیا, داود نے ہمیں ابونضرہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا
میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سونا چاندی کے تبادلے کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے اس میں کوئی حرج نہ دیکھا ۔ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو میں نے ان سے اس تبادلے کے بارے میں پوچھا ، تو انہوں نے کہا : ( ایک ہی جنس کے تبادلے میں ) جو اضافہ ہو گا وہ سود ہے ۔ میں نے ان دونوں کے قول کی بنا پر ( جس میں انہوں نے ایسی کوئی شرط نہ لگائی تھی ) اس بات کا انکار کیا تو انہوں نے کہا : میں تمہیں وہی حدیث بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ۔ آپ کے باغ کا نگران آپ کے پاس عمدہ کھجور کا ایک صاع لایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجور اس ( عام ) قسم کی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : "" یہ تمہارے پاس کہاں سے آئیں؟ "" اس نے کہا : میں ( اس کے ) دو صاع لے کر گیا اور ان کے عوض میں نے یہ ایک صاع خرید لی ، بازار میں اِس کا نرخ اتنا ہے اور اُس کا اتنا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پر افسوس! تم نے سود کا معاملہ کیا ، جب تم یہ ( عمدہ کھجور ) لینا چاہو تو اپنی کھجور کسی ( اور ) تجارتی چیز کے عوض فروخت کر دو ، پھر اپنی چیز سے جو کھجور چاہو ، خرید لو ۔ "" حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا : کھجور کے عوض کھجور ، زیادہ لائق ہے کہ سود ہو ، یا چاندی کے عوض چاندی؟ ( ابونضرہ نے ) کہا : میں اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے اس سے منع کیا اور میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس نہیں آیا ۔ کہا : مجھے ابوصبہاء نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے مکہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بھی اسے ناپسند کیا تھا ۔
Abu Salih reported:
I heard Abu Sa'id al-Khudri (رضی اللہ عنہ) said: Dinar (gold) for gold and dirham for dirham can be (exchanged) with equal for equal; but he who gives more or demands more in fact deals in interest. I said to him: Ibn 'Abbas (رضی اللہ عنہ) says otherwise, whereupon he said: I met Ibn 'Abbas (رضی اللہ عنہ) and said: Do you see what you say; have you heard it from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), or found it in the Book of Allah, the Glorious and Majestic? He said: I did not hear it from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). and I did not find it in the Book of Allah (Glorious and Majestic), but Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ narrated it to me that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: There can be an element of interest in credit.
مجھ سے محمد بن عباد، محمد بن حاتم اور ابن ابی عمر سب نے سفیان بن عیینہ کی سند سے بیان کیا، اور یہ قول ابن عباد کا ہے، انہوں نے کہا: انہوں نے ہم سے روایت کی۔ سفیان، عمرو کی طرف سے،ابوصالح سے روایت ہے ، انہوں نے کہا
میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم مثل بمثل ہو ، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا ، اس نے سود کا معاملہ کیا ۔ میں نے ان سے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ تو اس سے مختلف بات کہتے ہیں ، تو انہوں نے کہا : میں نے خود ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور کہا : آپ کی کیا رائے ہے ، یہ جو آپ کہتے ہیں کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا اللہ کی کتاب میں پائی ہے؟ تو انہوں نے کہا : نہ میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی نہ کتاب اللہ میں پائی ، بلکہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سود ادھار میں ہے.
Ubaidullah bin Abu Yazid heard Ibn 'Abbas (رضی اللہ عنہ) as saying: Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There can be an element of interest in credit (when the payment is not equal).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو الناقد، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے بیان کیا اور عمرو کا قول ہے: ہم سے انہوں نے بیان کیا اور دوسروں نے کہا : ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا , عبیداللہ بن ابی یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی
آپ نے فرمایا : " ( اگر جنسیں مختلف ہوں تو ) سود ادھار میں ہی ہے ۔ "
Ibn 'Abbas (رضی اللہ عنہ) reported on the authority of Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as having said this: There is no element of interest when the money or commodity is exchanged hand to hand.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا ہم سے بہز نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، طاوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( مختلف چیزوں کے تبادلے میں ) جو دست بدست ہو اس میں سود نہیں ہے ۔ "
Ata' bin Abu Rabah reported:
Abu Sa'id al-Khudri ( رضی اللہ عنہ) met Ibn 'Abbas (رضی اللہ عنہ) and said to him: What do you say in regard to the conversion (of commodities or money) did you hear it from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), or is it something which you found In Allah's Book, Majestic and Glorious? Thereupon Ibn Abbas ( رضی اللہ عنہ) said: I don't say that. So far at Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) is concerned, you know him better, and to far as the Book of Allah to concerned, I do not know it (more than you do), but 'Usama bin Zaid ( رضی اللہ عنہ) narrated to me Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as having said this: Beware, there can be an element of interest in credit.
ہم سے الحکم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے حقل نے بیان کیا، اوزاعی کی سند سے، انہوں نے کہا عطاء بن ابی رباح نے مجھے حدیث بیان کی کہ
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے کہا : بیع صَرف ( نقدی یا سونے چاندی کے تبادلے ) کے حوالے سے آپ کی اپنے قول کے بارے میں کیا رائے ہے ، کیا آپ نے یہ چیز رسول اللہ صؒی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا اللہ کی کتاب میں پائی ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ان میں سے کوئی بات نہیں کہتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم مجھ سے زیادہ جاننے والے ہو اور رہی اللہ کی کتاب تو میں ( اس میں ) اس بات کو نہیں جانتا ، البتہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " متنبہ رہو! سود ادھار میں ہی ہے ۔ "
Abdullah (bin Mas'ud) (رضی اللہ عنہ) said:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) cursed the one who accepted interest and the one who paid it I asked about the one who recorded it, and two witnesses to it. He (the narrator) said: We narrate what we have heard.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، اور یہ قول عثمان سے ہے اسحاق نے کہا: انہوں نے ہمیں خبر دی، اور عثمان نے کہا: ہم سے جریر نے بیان کیا۔ مغیرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: شباق نے ابراہیم سے پوچھا, علقمہ نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے پر لعنت کی ۔ کہا : میں نے پوچھا : اس کے لکھنے والے اور دونوں گواہوں پر بھی؟ انہوں نے کہا : ہم صرف وہ حدیث بیان کرتے ہیں جو ہم نے سنی ہے ۔
Jabir رضی اللہ عنہ said:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) cursed the accepter of interest and its payer, and one who records it, and the two witnesses, and he said: They are all equal.
ہم سے محمد بن صباح، زہیر بن حرب اور عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ہم سے ابو الزبیر نے بیان کیا, حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا : ( گناہ میں ) یہ سب برابر ہیں ۔
Nu'man bin Bashir ( رضی اللہ عنہ) reported:
I heard Allah's Messenger (ﷺ) as having said this (and Nu'man) pointed towards his ears with his fingers): What is lawful is evident and what is unlawful is evident, and in between them are the things doubtful which many people do not know. So he who guards against doubtful things keeps his religion and honour blameless, and he who indulges in doubtful things indulges in fact in unlawful things, just as a shepherd who pastures his animals round a preserve will soon pasture them in it. Beware, every king has a preserve, and the things God his declaced unlawful are His preserves. Beware, in the body there is a piece of flesh; if it is sound, the whole body is sound and if it is corrupt the whole body is corrupt, and hearken it is the heart.
عبداللہ بن نمیر ہمدانی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں زکریا نے شعبی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ( شعبی نے ) کہا
میں نے ان سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، ۔ ۔ اور حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا ۔ ۔ آپ فرما رہے تھے : " بلاشبہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہات ہیں لوگوں کی بڑی تعداد ان کو نہیں جانتی ، جو شبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا ، جیسے چرواہا ( جو ) چراگاہ کے اردگرد ( بکریاں ) چراتا ہے ، قریب ہے وہ اس ( چراگاہ ) میں چرنے لگیں ، دیکھو! ہر بادشاہ کی چراگاہ ہے ۔ دھیان رکھو! اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں ۔ سنو! جسم میں ایک ٹکڑا ہے ، اگر ٹھیک رہا تو سارا جسم ٹھیک رہا اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا ۔ سنو! وہ دل ہے ۔ " ( سوچ اور نیت سے ہر عمل کی درستی ہے یا خرابی ۔ )
This hadith has been narrated on the authority of Zakariya with the same chain of transmitters.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے زکریا سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی ۔
AI-Nu'man bin Bashir reported it from Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ). The hadith narrated by Zakariya is, however, more complete and lengthy than the other ones.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، وہ مطرف کی سند سے، ابی نے، فروہ ہمدانی نے، اور ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے یعقوب , یعنی ابن عبدالرحمن القاری , ابن عجلان کی سند سے، عبدالرحمٰن بن سعید کی سند پر، یہ سب الشعبی کی سند پر،النعمان بن بشیر کی سند سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے، اس حدیث کے ساتھ، سوائے اس کے کہ زکریا کی حدیث ان کی حدیث سے زیادہ مکمل اور زیادہ ہے۔
It was narrated from Amir Ash-Shabi that:
He heard An-Nu'man bin Bashir bin Sa'd, a Companion of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was heard delivering a sermon at Him and was saying: I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: The lawful is evident and the unlawful is evident, the rest of the hadith is the same as related by Zakariya.
ہم سے عبدالملک بن شعیب بن لیث بن سعد نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، مجھ سے میرے دادا نے بیان کیا، مجھ سے خالد بن یزید نے بیان کیا، مجھ سے سعید بن ابی نے بیان کیا۔ ہلال، عون بن عبداللہ کی سند پر، امیر الشعبی کی طرف سے
نعمان بن بشیر بن سعد سے روایت ہے, جو صحابی تھے رسول اﷲ ﷺ کے اور وہ خطبہ سناتے تھے لوگوں کو حمص میں ( ایک شہر کا نام ہے شام میں ) اور کہتے تھے میں نے سنا رسول اﷲ ﷺ سے آپ فرماتے تھے حلال کھلا ہوا ہے اور حرام کھلا ہوا ہے ۔ پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری ۔ یوشک ان یقع فیہ تک ۔
Jabir bin 'Abdullah (رضی اﷲ عنہ) reported:
He was travelling on his camel which had grown jaded, and he decided to let it off. When Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) met him and prayed for him and struck it, so it trotted as it had never trotted before. He said: Sell it to me for an 'uqaya. I said: No. He again said: Sell it to me. So I sold it to him for an 'uqaya, but made the stipulation that I should be allowed to ride back to my family. Then when I came to (my place) I took the camel to him and he paid me its price in ready money. I then went back and he sent: (someone) behind me (and as I came) he said: Do you see that I asked you to reduce price for buying your camel. Take your camel and your coins; these are yours.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، عامر کی سند سے, جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے وہ جارہے تھے
ایک اونٹ پر جو تھک گیا تھا انہوں نے چاہا اس کو آزاد کردینا ( یعنی چھوڑ دینا جنگل میں ) جابرؓ نے کہا رسول اﷲ ﷺ مجھ سے آن کر ملے او رمیرے لیے دعا کی اور اونٹ کو مارا پھر وہ ایسا چلا کہ وہ ایسا کبھی نہیں چلا تھا ( یہ آپ کا معجزہ تھا ) ۔ آپ نے فرمایا اس کو میرے ہاتھ بیچ ڈال ایک اوقیہ پر ( دوسری روایت میں پانچ اوقیہ ہیں اور ایک اوقیہ زیادہ دیا اور ایک روایت میں دو اوقیہ اور ایک درم یا دو درم ہیں اور ایک روایت میں سونے کا ایک اوقیہ اور ایک روایت میں چار دینار اور بخاری نے ایک روایت میں آٹھ سو درم اور ایک روایت میں بیس دینرا او رایک روایت میں چار اوقیہ نقل کیے ہیں ) ۔ میں نے کہا نہیں پھر آپ نے فرمایا اس کو میرے ہاتھ بیچ ڈال ۔ میں نے ایک اوقیہ پر آپ ﷺ کے ہاتھ بیچ ڈالا اور شرط کی اس پر سواری کی اپنے گھر تک ۔ جب میں اپنے گھر پہنچا تو اونٹ آپ کے پاس لے کر آیا آپ نے اس کی قیمت میرے حوالے کی ۔ میں لوتا پھر آپ نے مجھ کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا میں تجھ سے قیمت کم کراتا تھا تیرا اونٹ لینے کے لیے اپنا اونٹ لے جا او رروپیہ بھی تیرا ہے ۔
This hadith has been narrated on the authority of Jabir through another chain of transmitters.
اور ہم سے علی بن خشرم نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ یعنی ابن یونس نے بیان کیا، ہم سے زکریا نے بیان کیا، اور عامر کی سند سے، مجھ سے جابر بن عبداللہ نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ابن نمیر...
Jabir bin 'Abdullah (رضی اﷲ عنہ) reported:
I went on an expedition with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He overtook me and I was on a water-carrying camel who had grown tired and did not walk (trot). He (the Holy Prophet) said to me: What is the matter with your camel? I said: It is sick. He (the Holy Prophet) stepped behind and drove it and prayed for it, and then it always moved ahead of other camels. He (then) said: How do you find your camel? I said: It is, by the grace of your prayer, all right. He said: Would you sell this (camel) to me? I felt shy (to say him, No ) as we had no other camel for carrying water, but (later on) I said: Yes, and to I sold it to him on the condition that (I would be permitted) to ride it until I reached Madina. I said to him: Allah's Messenger, I am newly married, so I asked his permission (to go ahead of the caravan). He permitted me, and I reached Medina well in advance of other people, until I reached my destination. There my maternal uncle met me and asked me about the camel, and I told him what I had done with regard to it. He reproved me in this connection. He (Jabir) said: When I asked his permission (to go ahead of the caravan) Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) inquired of me whether I had married a virgin or a non-virgin. I said to him: I have married a non-virgin. He said: Why did you not marry a virgin who would have played with you and you would have played with her? I said to him: Allah's Messenger, my father died (or he fell as a martyr), and I have small sisters to (look after), so I did not like the idea that I should marry a woman who is like them and thus be not able to teach them manners and look after them properly. So I have married a non-virgin so that she should be able to look after them and teach them manners, When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to Medina, I went to him in the morning with the camel. He paid me its price and returned that (the camel) to me.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا - اور یہ لفظ عثمان کے لیے ہے - ہم سے اسحاق نے بیان کیا اور کہا کہ ہم سے عثمان جریر نے بیان کیا مغیرہ کی سند پر، شعبی کی سند پر، جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے
میں نے جہاد کیا رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ تو آپ مجھ سے ملے ( راہ میں ) اور میری سواری میں ایک اونٹ تھا پانی کا وہ تھک گیا تھا اور بالکل چل نہ سکتا تھا ۔ آپ نے پوچھا تیرے اونٹ کو کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کیا وہ بیمار ہے ۔ یہ سن کر جناب رسول اﷲ ﷺ پیچھے ہٹے اور اونٹ کو ڈانٹا اور اس کے لیے دعا کی پھر وہ ہمیشہ سب اونٹوں کے آگے ہی چلتا رہا ۔ آپ نے فرمایا اب تیرا اونٹ کیسا ہے؟ میں نے کا اچھا ہے آپ کی دعا کی برکت سے آپ نے فرمایا میرے ہاتھ بیچتا ہے مجھے شرم آئی اور ہمارے پاس او رکوئی اونٹ پانی لانے کے لیے نہ تھا آخر میں نے کہا ہاں بیچتا ہوں پھر میں نے اس اونٹ کو آپ ہاتھ بیچ ڈالا اس شرط سے کہ میں اس پر سواری کروں گا مدینے تک پھر میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ میں نوشہ ہوں ( یعنی ابھی میرا نکاح ہوا ہے ) مجھے اجازت دیجیے ( لوگوں سے پہلے مدینہ جانے کی ) ۔ آپ نے اجازت دی میں لوگوں سے آگے برھ کر مدینہ آپہنچا وہاں میرے ماموں ملے اور اونٹ کا حال پوچھا ۔ میں نے سب حال بیان کیا ۔ انہوں نے مجھ کو ملامت کی ( کہ ایک ہی اونٹ تھا تیرے پاس اور گھر والے بہت ہیں اس کو بھی تونے بیچ ڈالا اور اس کو یہ معلوم نہ تھا کہ خداوند کریم کو جابرؓ کا فائدہ منظور ہے ) ۔ جابرؓ نے کہاجب میں نے آپ سے اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا تونے کنواری سے شادی کی ہے یا نکاحی سے؟ میں نے کہا نکاحی سے ۔ آپ نے فرمایا کنواری سے کیوں نے کی وہ تجھ سے کھیلتی اور تو اس سے کھیلتا؟ میں نے عرض کی یا رسول اﷲ! میرا باپ مرگیا یا شہید ہوگیا میری کئی بہنہیں چھوڑ کر چھوٹی چھوٹی تو مجھے برا معلوم ہوا کہ میں شادی کرکے ایک اور لڑکی لاؤں ان کے برابر جو نہ ان کو ادب سکھائے اور نہ ان کو دبائے ۔ اس لیے میں نے ایک نکاحی سے شادی کی تاکہ ان کو دابے اور تمیز سکھائے ۔ جابرؓ نے کہا پھر جب رسول اﷲ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے میں اونٹ صبح ہی لے گیا آپ نے اس کی قیمت مجھ کو دی اور اونٹ بھی پھیر دیا ۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
We went from Mecca to Medina with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) when my camel fell ill, and the rest of the hadith is the same. (But it in also narrated in it: ) He (the Holy Prophet) said to me: Sell your camel to me. I said: No, but it is yours. He said: No. (it can't be), but sell it to me. I said: No, but, Allah's Messenger, it is yours. He said: No, it can't be, but sell it to me. I said: Then give me an 'uqaya of gold for I owe that to a person and then it would be yours. He (the Holy Prophet) said: I take it (for an 'uqiya of gold) and you reach Medina on it. As I reached Medina, Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to Bilal رضی اللہ عنہ : Give him an 'uqiya of gold and make some extra payment too. He (Jabir) said: He gave me an 'uqiya of gold and made an addition of a qirat. He (Jabir) said: The addition made by Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was with me (as a sacred trust for belssing) and lay with me in a pocket until the people of Syria took it on the Day of Harra.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، الاعمش کی سند سے, سالم بن ابی جعد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں مکہ ( کی جانب ) سے مدینہ آئے ، تو میرا اونٹ بیمار ہو گیا ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے ( ان سے ) مکمل قصے سمیت حدیث بیان کی ، اس میں ہے : پھر آپ نے مجھ سے فرمایا : " مجھے اپنا یہ اونٹ فروخت کر دو ۔ " میں نے کہا : نہیں ، بلکہ وہ ( ویسے ہی ) آپ ہی کا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ، بلکہ وہ مجھے فروخت کر دو ۔ " میں نے کہا : نہیں ، اے اللہ کے رسول! وہ آپ ہی کا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ، بلکہ اسے میرے یاتھ فروخت کر دو ۔ " میں نے کہا : ایک آدمی کا میرے ذمے سونے کا ایک اوقیہ ( تقریبا 29 گرام ) ہے ، اس کے عوض یہ آپ کا ہوا ۔ آپ نے فرمایا : " میں نے لے لیا ، تم اس پر مدینہ تک پہنچ جاؤ ۔ " کہا : جب میں مدینہ پہنچا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : " انہیں ایک اوقیہ سونا اور کچھ زیادہ بھی دو ۔ " کہا : انہوں نے مجھے ایک اوقیہ سونا دیا اور ایک قیراط زائد دیا ۔ کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ زائد عطیہ مجھ سے کبھی الگ نہ ہو گا ۔ کہا : تو وہ میری تھیلی میں رہا حتی کہ حرہ کی جنگ کے دن اہل شام نے اسے ( مجھ سے ) چھین لیا ۔