Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent an expedition to Najd and Ibn Umar was also among the troops, and their share (of the spoils) came to twelve camels and they were given one camel over and above that. and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not make any change in it.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث ایچ نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، لیث نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک دستہ بھیجا ، ان میں ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ان کے حصے بارہ بارہ اونٹ تک پہنچ گئے اور اس کے علاوہ انہیں ایک ایک اونٹ زائد ( بھی ) ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( فیصلے ) کو تبدیل نہیں کیا.
It has been narrated by Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent an expedition to Najd, and I (also) went with the troops. We got camels and goats as spoils of war, and our share amounted to twelve camels per head, and the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gave an extra camel to each of us.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, علی بن مسہر اور عبدالرحیم بن سلیمان نے عبیداللہ بن عمر سے ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی جانب ایک دستہ بھیجا ، میں بھی اس میں گیا ۔ ہمیں اونٹ اور بکریاں ملیں تو ہمارے حصے بارہ بارہ اونٹوں تک پہنچ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایک اونٹ زائد بھی دیا.
This hadith has been narrated on the authority of 'Ubaidullah with the same chain of transmitters.
ہم سے زہیر بن حرب اور محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا جب کہ وہٰ قطان نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی.
I wrote to Nafi' asking him about Nafl (spoils of war) and be wrote to me that Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ was among that expedition. (The rest of the hadith is the same.)
ہم سے ابو الربیع اور ابو کامل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد نے بیان کیا، ایوب نے ہمیں حدیث بیان کی ، اور ( ایک دوسری سند سے ) ابن عون نے کہا : میں نے غنیمت کے بارے میں پوچھنے کے لیے نافع کی طرف خط لکھا ، انہوں نے مجھے جواب بھی لکھا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ دستے میں تھے ۔ ۔ ۔ ، نیز موسیٰ اور اسامہ بن زید نے بھی حدیث بیان کی ، ان سب ( ایوب ، ابن عون ، موسیٰ اور اسامہ ) نے نافع سے اسی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی.
A hadith has been narrated by Salim who learnt it from his father and said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gave us an extra (camel) besides our share of Khums; (and in this extra share) I got a Sharif (and a Sharif is a big old camel).
ہم سے سریج بن یونس اور عمرو الناقد نے بیان کیا اور لفظ سوریج ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن رجاء نے یونس سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خمس سے ہمارے حصے کے سوا اضافی بھی دیا تو مجھے ایک شارف ملا ۔ ۔ اور شارف سے مراد پختہ عمر کا ( مضبوط ) اونٹ ہے.
Ibn Shihab reported:
It reached me through Ibn Umar رضی اللہ عنہ that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gave a share of spoils to the troop. The rest of the hadith is the same.
ہم سے ہناد بن السری نے بیان کیا, ہم سے ابن المبارک نے بیان کیا، اور مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، یہ دونوں یونس کی سند پر، ابن شہاب کی سند پر، انہوں نے کہا
مجھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث پہنچی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستے کو زائد دیا ۔ ۔ ابن رجاء کی حدیث کی طرح.
It has been narrated on the authority of Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to give (from the spoils of war) to small troops seat on expeditions something more than the due share of each fighter in a large force. And Khums (one-fifth of the total spoils) was to be reserved (for Allah and His Apostle) in all cases.
ہم سے عبد الملک بن شعیب بن لیث نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، وہ میرے دادا کی سند سے, عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات عام لشکر کی تقسیم سے ہٹ کر بعض دستوں کو ، جنہیں آپ روانہ فرماتے تھے ، خصوصی طور پر ان کے لیے زائد عطیات دیتے تھے ، اور خمس ان سب مہموں میں واجب تھا.
It was narrated that Abu Muhammad Al-Ansari, who was a companion of Abu Qatadah رضی اللہ عنہ , said: Abu Qatadah رضی اللہ عنہ said.... and he narrated the same Hadith as no. 4568).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی نے بیان کیا، ہشیم نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے اور انہوں نے ابومحمد انصاری سے روایت کی اور وہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشیں تھے ، انہوں نے کہا : حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ۔ ۔ اور انہوں ( ابومحمد ) نے حدیث بیان کی.
Abu Muhammad, the freed slave of Abu Qatada رضی اللہ عنہ reported on the authority of Abu Qatda and narrated the hadith.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, لیث نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے ، انہوں نے ابومحمد ( المعروف بہ ) مولیٰ ابوقتادہ سے روایت کی کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ۔ ۔ اور حدیث بیان کی.
Abu Qatada رضی اللہ عنہ reported:
We accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) on an expedition in the year of the Battle of Hunain. When we encountered the enemy, (some of the Muslims turned back (in fear). I saw that a man from the polytheists overpowered one of the Muslims. I turned round and attacked him from behind giving a blow between his neck and shoulder. He turned towards me and grappled with me in such a way that I began to see death staring me in the face. Then death overtook him and left me alone. I joined 'Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ who was saying: What has happened to the people (that they are retreating)? I said: It is the Decree of Allah. Then the people returned. (The battle ended in a victory for the Muslims) and the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sat down (to distribute the spoils of war). He said: One who has killed an enemy and can bring evidence to prove it will get his belongings. So I stood up and said: Who will give evidence for me? Then I sat down. Then he (the Holy Prophet ﷺ) said like this. I stood up (again) and said: Who will bear witness for me? He (the Holy Prophet ﷺ) made the same observation the third time, and I stood up (once again). Now the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: What has happened to you, O Abu Qatada? Then I related the (whole) story, to him. At this, one of the people said: He has told the truth. Messenger of Allah 1 The belongings of the enemy killed by him are with me. Persuade him to forgo his right (in my favour). (Objecting to this proposal) Abu Bakr رضی اللہ عنہ said: BY Allah, this will not happen. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) will not like to deprive one of the lions from among the lions of Allah who fight in the cause of Allah and His Messenger and give thee his share of the booty. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: He (Abu Bakr رضی اللہ عنہ ) has told the truth, and so give the belongings to him (Abu Qatada). So he gave them to me. I sold the armour (which was a part of my share of the booty) and bought with the sale proceeds a garden in the street of Banu Salama. This was the first property I acquired after embracing Islam. In a version of the hadith narrated by Laith, the words uttered by Abu Bakr رضی اللہ عنہ are: No, never! He will not give it to a fox from the Quraish leaving aside a lion from the lions of Allah among.... And the hadith is closed with the words: The first property I acquired.
ہم سے ابو الطاہر اور حرملہ نے بیان کیا اور ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا امام مالک بن انس کہتے ہیں : مجھے یحییٰ بن سعید نے عمر بن کثیر بن افلح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابومحمد سے اور انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
حنین کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، جب ( دشمن سے ) ہمارا سامنا ہوا تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچی ۔ کہا : میں نے مشرکوں میں سے ایک آدمی دیکھا جو مسلمانوں کے ایک آدمی پر غالب آ گیا تھا ، میں گھوم کر اس کی طرف بڑھا حتی کہ اس کے پیچھے آ گیا اور اس کی گردن کے پٹھے پر وار کیا ، وہ ( اسے چھوڑ کر ) میری طرف بڑھا اور مجھے اس زور سے دبایا کہ مجھے اس ( دبانے ) سے موت کی بو محسوس ہونے لگی ، پھر اس کو موت نے آ لیا تو اس نے مجھے چھوڑ دیا ، اس کے بعد میری حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے پوچھا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ میں نے کہا : اللہ کا حکم ہے ۔ پھر لوگ واپس پلٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا : "" جس نے کسی کو قتل کیا ، ( اور ) اس کے پاس اس کی کوئی دلیل ( نشانی وغیرہ ) ہو تو اس ( مقتول ) سے چھینا ہوا سامان اسی کا ہو گا ۔ "" کہا : تو میں کھڑا ہوا اور کہا : میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا ۔ پھر آپ نے اسی طرح ارشاد فرمایا ۔ کہا : تو میں کھڑا ہوا اور کہا : میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا ۔ پھر آپ نے تیسری بار یہی فرمایا ۔ کہا : میں پھر کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ابوقتادہ! تمہارا کیا معاملہ ہے؟ "" تو میں نے آپ کو یہ واقعہ سنایا ۔ اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول! اس نے سچ کہا ہے ۔ اس مقتول کا چھینا ہوا سامان میرے پاس ہے ، آپ انہیں ان کے حق سے ( دستبردار ہونے پر ) مطمئن کر دیجیے ۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر سے ، جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑائی کرتا ہے ، نہیں چاہیں گے کہ وہ اپنے مقتول کا چھینا ہوا سامان تمہیں دے دیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" انہوں نے سچ کہا : وہ انہی کو دے دو ۔ "" تو اس نے ( وہ سامان ) مجھے دے دیا ، کہا : میں نے ( اسی سامان میں سے ) زرہ فروخت کی اور اس ( کی قیمت ) سے ( اپنی ) بنو سلمہ ( کی آبادی ) میں ایک باغ خرید لیا ۔ وہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام ( کے زمانے ) میں بنایا ۔ لیث کی حدیث میں ہے : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہرگز نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ کر قریش کے ایک چھوٹے سے لگڑ بگھے کو عطا نہیں کریں گے ۔ لیث کی حدیث میں ہے : ( انہوں نے کہا ) وہ پہلا مال تھا جو میں نے بنایا.
It has been narrated on the authority of 'Abdul-Rahman bin Auf رضی اللہ عنہ who said:
While I was standing in the battle array on the Day of Badr, I looked towards my right and my left, and found myself between two boys from the Ansar quite young in age. I wished I were between stronger persons. One of them made a sign to me and. said: Uncle, do you recognize Abu Jahl? 1 said: Yes. What do you want to do with him, O my nephew? He said: I have been told that he abuses the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). By Allah, in Whose Hand is my life, if I see him (I will grapple with him) and will not leave him until one of us who is destined to die earlier is killed. The narrator said: I wondered at this. Then the other made a sign to me and said similar words. Soon after I saw Abu Jahl. He was moving about among men. I said to the two boys: Don't you see? He is the man you were inquiring about. (As soon as they heard this), they dashed towards him, struck him with their swords until he was killed. Then they returned to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and informed him (to this effect). He asked: Which of you has killed him? Each one of them said: I have killed him. He said: Have you wiped your swords? They said: No. He examined their swords and said: Both of you have killed him. He then decided that the belongings of Abu Jahl he handed over to Mu'adh bin Amr bni al-Jamuh رضی اللہ عنہ . And the two boys were Mu'adh bin Amr bin Jawth and Mu'adh bin Afra رضی اللہ عنہم .
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے بیان کیا، کہا ہم سے یوسف بن الماجشون نے، صالح بن ابراہیم کی سند سے, حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا
بدر کے دن جب میں صف میں کھڑا تھا ، میں نے اپنی دائیں اور بائیں طرف نظر دوڑائی تو میں انصار کے دو لڑکوں کے درمیان میں کھڑا تھا ، ان کی عمریں کم تھیں ، میں نے آرزو کی ، کاش! میں ان دونوں کی نسبت زیادہ طاقتور آدمیوں کے درمیان ہوتا ، ( اتنے میں ) ان میں سے ایک نے مجھے ہاتھ لگا کر متوجہ کیا اور کہا : چچا! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ کہا : میں نے کہا : ہاں ، بھتیجے! تمہیں اس سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا : مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتا ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا وجوداس وقت تک اس کے وجود سے الگ نہیں ہو گا یہاں تک کہ ہم میں سے جلد تر مرنے والے کو موت آ جائے ۔ کہا : میں نے اس پر تعجب کیا تو دوسرے نے مجھے متوجہ کیا اور وہی بات کہی ، کہا : پھر زیادہ دیر نہ گزری کہ میری نظر ابوجہل پر پڑی ، وہ لوگوں میں گھوم رہا تھا ۔ تو میں نے ( ان دونوں سے ) کہا : تم دیکھ نہیں رہے؟ یہ ہے تمہارا ( مطلوبہ ) بندہ جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے ۔ کہا : وہ دونوں یکدم اس کی طرف لپکے اور اس پر اپنی تلواریں برسا دیں حتی کہ اسے قتل کر دیا ، پھر پلٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ نے پوچھا : " تم دونوں میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے؟ " ان دونوں میں سے ہر ایک نے جواب دیا : میں نے اسے قتل کیا ہے ۔ آپ نے پوچھا : " کیا تم دونوں نے اپنی تلواریں صاف کر لی ہیں؟ " انہوں نے کہا : نہیں ۔ آپ نے دونوں تلواریں دیکھیں اور فرمایا : " تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے ۔ " اور اس کے سازوسامان کا فیصلہ آپ نے عاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کے حق میں دیا ۔ اور وہ دونوں جوان معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہم تھے.
Auf bin Malik رضی اللہ عنہ has narrated:
A man from the Himyar tribe killed an enemy and wanted to take the booty. Khalid bin Walid رضی اللہ عنہ , who was the commander over them, forbade, him. 'Auf bin Malik رضی اللہ عنہ (the narrator) came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and informed him (to this effect). The latter asked Khalid: What prevented you from giving the booty to him? Khalid رضی اللہ عنہ said: I thought it was too much. He (the Holy Prophet) said: Hand it over to him. Now when Khalid رضی اللہ عنہ by Auf رضی اللہ عنہ , the latter pulled him by his cloak and said (by way of chafing him): Hasn't the same thing happened what I reported to you from the Messenger of Allah (may peace he upon him)? When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) heard it. he was angry (and said): Khalid, don't give him, Khalid, don't give him. Are you going to desert the commanders appointed by roe? Your similitude and theirs is like a person who took camels and sheep for grazing. He grazed them and when it was time for them to have a drink, he brought them to a pool. So they drank from it, drinking away its clear water and leaving the turbid water below So the clear water (i.e. the best reward) is for you and the turbid water (i.e. blame) is for them.
مجھ سے ابو الطاہر احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا, معاویہ بن صالح نے عبدالرحمن بن جبیر سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
حمیر کے ایک آدمی نے دشمن کے ایک آدمی کو قتل کر دیا اور اس کا سلب ( مقتول کا سازوسامان ) لینا چاہا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں منع کر دیا اور وہ ان پر امیر تھے ، چنانچہ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ ( اپنے حمیری ساتھی کی حمایت کے لیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو بتایا تو آپ نے خالد رضی اللہ عنہ سے پوچھا : " تمہیں اس کے مقتول کا سامان اسے دینے سے کیا امر مانع ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : اللہ کے رسول! میں نے اسے زیادہ سمجھا ۔ آپ نے فرمایا : " وہ ( سامان ) ان کے حوالے کر دو ۔ " اس کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ حضرت عوف رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان کی چادر کھینچی اور کہا : کیا میں نے پورا کر دیا جو میں نے آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کہا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سن لی تو آپ کو غصہ آ گیا اور فرمایا : " خالد! اسے مت دو ، خالد! اسے مت دو ۔ کیا تم میرے ( مقرر کیے ہوئے ) امیروں کو میرے لیے چھوڑ سکتے ہو ( کہ میں اصلاح کروں ، تم طعن و تشنیع نہ کرو! ) تمہاری اور ان کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جسے اونٹوں یا بکریوں کا چرواہا بنایا گیا ، اس نے انہیں چرایا ، پھر ان کو پانی پلانے کے وقت کا انتظار کیا اور انہیں حوض پر لے گیا ، انہوں نے اس میں سے پینا شروع کیا تو انہوں نے اس کا صاف پانی پی لیا اور گدلا چھوڑ دیا تو صاف پانی تمہارے لیے ہے اور گدلا ان کا.
It has been narrated on the authority of Auf bin Malik al-Ashja'i رضی اللہ عنہ who said:
I joined the expedition that marched under Zaid bin Haritha رضی اللہ عنہ to Muta, and I received reinforcement from the Yemen. (After this introduction), the narrator narrated the tradition that had gone before except that in his version Auf رضی اللہ عنہ was reported to have said (to Khalid): Khalid, didn't you know that the Messenger of Allah (way peace be upon him) had decided In favour of giving the booty (sized from an enemy) to one who killed him? He (Khalid) said: Yes. but I thought it was too much.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، صفوان بن عمرو نے عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں غزوہ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جانے والوں کے ساتھ روانہ ہوا ، یمن سے مدد کے لیے آنے والا ایک آدمی بھی میرا رفیق سفر ہوا ۔ ۔ ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی طرح حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے حدیث میں کہا : عوف رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے کہا : خالد! کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلب ( مقتول کے سازوسامان ) کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا تھا؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں! لیکن میں نے اسے زیادہ خیال کیا.
It has been reported by Salama bin al-Akwa' رضی اللہ عنہ :
We fought the Battle of Hawazin along with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). (One day) when we were having our breakfast with the Messenger of Allah (may peace he upon him), a man came riding a red camel. He made it kneel down, extracted a strip of leather from its girth and tethered the camel with it. Then he began to take food with the people and look (curiously around). We were in a poor condition as some of us were on foot (being without any riding animals). All of a sudden, he left us hurriedy, came to his camel, untethered it, made it kneel down, mounted it and urged the beast which ran off with him. A man on a brown she-camel chased him (taking him for a spy). Salama رضی اللہ عنہ (the narrator) said: I followed on foot. I ran on until I was near the thigh of the she-camel. I advanced further until I was near the haunches of the camel. I advanced still further until I caught hold of the nose string of the camel. I made it kneel down. As soon as it placed its knee on the ground, I drew my sword and struck at the head, of the rider who fell down. I brought the camel driving it along with the man's baggage and weapons. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came forward to meet me and the people were with him. He asked: Who has killed the man? The people said: Ibn Akwa' رضی اللہ عنہ . He said: Everything of the man is for him (Ibn Akwa').
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن یونس الحنفی نے بیان کیا، کہا ہم سے عکرمہ بن عمار نے بیان کیا, ایاس بن سلمہ نے کہا : مجھے میرے والد حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں حنین کی جنگ لڑی ، اس دوران میں ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کا کھانا کھا رہے تھے کہ سرخ اونٹ پر ایک آدمی آیا ، اسے بٹھایا ، پھر اس نے اپنے پٹکے سے چمڑے کی ایک رسی نکالی اور اس سے اونٹ کو باندھ دیا ، پھر وہ لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے آگے بڑھا اور جائزہ لینے لگا ، ہم میں کمزوری اور ہماری سواریوں میں دبلا پن موجود تھا ، ہم میں کچھ پیدل بھی تھے ، اچانک وہ دوڑتا ہوا نکلا ، اپنے اونٹ کے پاس آیا ، اس کی رسی کھولی ، پھر اسے بٹھایا ، اس پر سوار ہوا اور اسے اٹھایا تو وہ ( اونٹ ) اسے لے کر دوڑ پڑا ۔ ( یہ دیکھ کر ) خاکستری رنگ کی اونٹنی پر ایک آدمی اس کے پیچھے لگ گیا ۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں بھی دوڑتا ہوا نکلا ، میں ( پیچھا کرنے والے مسلمان کی ) اونٹنی کے پچھلے حصے کے پاس پہنچ گیا ، پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ اونٹ کے پچھلے حصے کے پاس پہنچ گیا ، پھر میں آگے بڑھا حتی کہ میں نے اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور اسے بٹھا دیا ، جب اس نے اپنا گھٹنا زمین پر رکھا تو میں نے اپنی تلوار نکالی اور اس شخص کے سر پر وار کیا تو وہ ( گردن سے ) الگ ہو گیا ، پھر میں اونٹ کو نکیل سے چلاتا ہوا لے آیا ، اس پر اس کا پالان اور ( سوار کا ) اسلحہ بھی تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سمیت میرا استقبال کیا اور پوچھا : "" اس آدمی کو کس نے قتل کیا؟ "" لوگوں نے کہا : ابن اکوع رضی اللہ عنہ نے ۔ آپ نے فرمایا : "" اس کا چھینا ہوا سازوسامان اسی کا ہے.
It has been narrated on the authority of Salama (bin al-Akwa') رضی اللہ عنہ who said:
We fought against the Fazara, and Abu Bakr رضی اللہ عنہ was the commander over us. He had been appointed by the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). When we were only at an hour's distance from the water of the enemy, Abu Bakr رضی اللہ عنہ ordered us to attack. We made a halt during the last part of the night to rest and then we attacked from all sides and reached their watering-place where a battle was fought. Some of the enemies were killed and some were taken prisoners. I saw a group of persons that consisted of women and children. I was afraid lest they should reach the mountain before me, so I shot an arrow between them and the mountain. When they saw the arrow, they stopped. So I brought them, driving them along. Among them was a woman from Banu Fazara. She was wearing a leather coat. With her was her daughter who was one of the prettiest girls in Arabia. I drove them along until I brought them to Abu Bakr رضی اللہ عنہ who bestowed that girl upon me as a prize. So we arrived in Medina. I had not yet disrobed her when the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) met me in the street and said: Give me that girl, O Salama. I said: Messenger of Allah, she has fascinated me. I had not yet disrobed her. When on the next day the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) again met me in the street, he said: O Salama, give me that girl, may God bless your father. I said: She is for you, Messenger of Allah! By Allah. I have not yet disrobed her. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent her to the people of Mecca, and surrendered her as ransom for a number of Muslims who had been kept as prisoners at Mecca.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے عکرمہ بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہا
ہم نے بنوفزارہ سے جنگ لڑی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے سربراہ تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمارا امیر بنایا تھا ، جب ہمارے اور چشمے کے درمیان ایک گھڑی کی مسافت رہ گئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا اور رات کے آخری حصے میں ہم اتر پڑے ، پھر انہوں نے دھاوا بول دیا اور پانی پر پہنچ گئے ، میں نے ان لوگوں کی ایک قطار سی دیکھی ، اس میں عورتیں اور بچے تھے ، مجھے خدشہ محسوس ہوا کہ وہ مجھ سے پہلے پہاڑ تک پہنچ جائیں گے ، چنانچہ میں نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان ایک تیر پھینکا ، جب انہوں نے تیر دیکھا تو ٹھہر گئے ( انہیں یقین ہو گیا کہ وہ تیر کا نشانہ بنیں گے ) ، میں انہیں ہانکتا ہوا لے آیا ، ان میں بنوفزارہ کی ایک عورت تھی ، اس ( کے جسم ) پر رنگے ہوئے چمڑے کی چادر تھی ۔ ۔ قَشع ، چمڑے کی بنی ہوئی چادر ہوتی ہے ۔ ۔ اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جو عرب کی حسین ترین لڑکیوں میں سے تھی ۔ میں نے انہیں آگے لگایا حتی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا ، انہوں نے اس کی بیٹی مجھے انعام میں دے دی ۔ ہم مدینہ آئے اور میں نے ( ابھی تک ) اس کا کپڑا نہیں کھولا تھا کہ بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی ، آپ نے فرمایا : " سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کر دو ۔ " میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! وہ مجھے بہت اچھی لگی ہے اور ( ابھی تک ) میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں کھولا ، پھر اگلے دن بازار ( ہی ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا : " سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کر دو ، اللہ تمہارے باپ کو برکت دے! " میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! وہ آپ کے لیے ہے ۔ اللہ کی قسم! میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں کھولا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مکہ بھیج دیا اور اس کے بدلے مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کو چھڑا لیا جو مکہ میں قید کیے گئے تھے.
It has been narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: If you come to a township (which has surrendered without a formal war) and stay therein, you have a share (that will be in the form of an award) in (the properties obtained from) it. If a township disobeys Allah and His Messenger (and actually fights against the Muslims) one-fifth of the booty seized therefrom is for Allah and His Apostle and the rest is for you.
ہم سے احمد بن حنبل اور محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے بیان کیا, ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انہوں نے چند احادیث ذکر کیں ، ان میں سے یہ بھی تھی اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگ جس بستی میں آؤ اور اس میں قیام کرو ( بغیر جنگ کے تمہاری تحویل میں آ جائے ) تو اس میں تمہارے لیے ( دوسرے مسلمانوں کی طرح ایک ) حصہ ہے اور جس بستی نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ( اور تم نے لڑ کر اسے حاصل کیا ) تو اس کا خمس اللہ اور اس کے رسول کا حصہ ہے ، پھر وہ ( باقی سب ) تمہارا ہے.
It has been narrated on the authority of Umar رضی اللہ عنہ , who said:
The properties abandoned by Banu Nadir were the ones which Allah bestowed upon His Apostle for which no expedition was undertaken either with cavalry or camelry. These properties were particularly meant for the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He would meet the annual expenditure of his family from the income thereof, and would spend what remained for purchasing horses and weapons as preparation for Jihad.
قتیبہ بن سعید ، محمد بن عباد ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں ۔ اسحاق نے کہا کہ ہمیں خبر دی ، جبکہ دوسروں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی سفیان نے عمرو سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے مالک بن اوس سے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
بنونضیر کے اموال ان اموال میں سے تھے جو اللہ نے اپنے رسول کو ( بطور فے ) عطا کیے جس پر مسلمانوں نے نہ گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ ۔ تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھے ۔ آپ ( ان میں سے ) اپنے اہل و عیال کے لیے ایک سال کا خرچ لیتے اور جو بچ جاتا اسے اللہ کی راہ میں ( جہاد کی ) تیاری کے لیے جنگی سواریوں اور اسلحے پر لگا دیتے.
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی.
It is reported by Zuhri that this tradition was narrated to him by Malik bin Aus who said:
Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ sent for me and I came to him when the day had advanced. I found him in his house sitting on his bare bed-stead, reclining on a leather pillow. He said (to me): Malik, some people of your tribe have hastened to me (with a request for help). I have ordered a little money for them. Take it and distribute it among them. I said: I wish you had ordered somebody else to do this job. He said: Malik, take it (and do what you have been told). At this moment (his man-servant) Yarfa' came in and said: Commander of the Faithful, what do you say about Uthman, Abdul-Rahman bin 'Auf, Zubair and Sa'd رضی اللہ عنہم (who have come to seek an audience with you)? He said: Yes, and permitted them. so they entered. Then he (Yarfa') came again and said: What do you say about 'Ali and Abbas رضی اللہ عنہما (who are present at the door)? He said: Yes, and permitted them to enter. Abbas رضی اللہ عنہ said: Commander of the Faithful, decide (the dispute) between me and this sinful, treacherous, dishonest liar. The people (who were present) also said: Yes. Commander of the Faithful, do decide (the dispute) and have mercy on them. Malik bin Aus said: I could well imagine that they had sent them in advance for this purpose (by 'Ali and Abbas رضی اللہ عنہ). 'Umar رضی اللہ عنہ said: Wait and be patient. I adjure you by Allah by Whose order the heavens and the earth are sustained, don't you know that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: We (prophets) do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity ? They said: Yes. Then he turned to Abbas رضی اللہ عنہ and 'Ali رضی اللہ عنہ and said: I adjure you both by Allah by Whose order the heavens and earth are sustained, don't you know that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: We do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity ? They (too) said: Yes. (Then) Umar رضی اللہ عنہ said: Allah, the Glorious and Exalted, had done to His Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) a special favor that He has not done to anyone else except him. He quoted the Qur'anic verse: What Allah has bestowed upon His Apostle from (the properties) of the people of township is for Allah and His Messenger . The narrator said: I do not know whether he also recited the previous verse or not. Umar رضی اللہ عنہ continued: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) distributed among you the properties abandoned by Banu Nadir. By Allah, he never preferred himself over you and never appropriated anything to your exclusion. (After a fair distribution in this way) this property was left over. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) would meet from its income his annual expenditure, and what remained would be deposited in the Bait-ul-Mal. (Continuing further) he said: I adjure you by Allah by Whose order the heavens and the earth are sustained. Do you know this? They said: Yes. Then he adjured Abbas and 'All as he had adjured the other persons and asked: Do you both know this? They said: Yes. He said: When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) passed away, Abu Bakr رضی اللہ عنہ said: I am the successor of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Both of you came to demand your shares from the property (left behind by the Messenger of Allah). (Referring to Hadrat 'Abbas رضی اللہ عنہ), he said: You demanded your share from the property of your nephew, and he (referring to 'Ali) demanded a share on behalf of his wife from the property of her father. Abu Bakr (رضی اللہ عنہ) said: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had said: We do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity. So both of you thought him to be a liar, sinful, treacherous and dishonest. And Allah knows that he was true, virtuous, well-guided and a follower of truth. When Abu Bakr رضی اللہ عنہ passed away and (I have become) the successor of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and Abu Bakr (رضی اللہ عنہ), you thought me to be a liar, sinful, treacherous and dishonest. And Allah knows that I am true, virtuous, well-guided and a follower of truth. I became the guardian of this property. Then you as well as he came to me. Both of you have come and your purpose is identical. You said: Entrust the property to us. I said: If you wish that I should entrust it to you, it will be on the condition that both of you will undertake to abide by a pledge made with Allah that you will use it in the same way as the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used it. So both of you got it. He said: Wasn't it like this? They said: Yes. He said: Then you have (again) come to me with the request that I should adjudge between you. No, by Allah. I will not give any other judgment except this until the arrival of the Doomsday. If you are unable to hold the property on this condition, return it to me.
مجھ سے عبداللہ بن محمد بن اسماء الضبعی نے بیان کیا، ہم سے جویریہ نے بیان کیا، امام مالک نے زہری سے روایت کی کہ انہیں مالک بن اوس نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے میری طرف قاصد بھیجا ، دن چڑھ چکا تھا کہ میں ان کے پاس پہنچا ۔ کہا : میں نے ان کو ان کے گھر میں اپنی چارپائی پر بیٹھے ہوئے پایا ، انہوں نے اپنا جسم کھجور سے بنے ہوئے بان کے ساتھ لگایا ہوا تھا اور چمڑے کے تکیے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی ، تو انہوں نے مجھ سے کہا : اے مال ( مالک ) ! تمہاری قوم میں سے کچھ خاندان لپکتے ہوئے آئے تھے تو میں نے ان کے لیے تھوڑا سا عطیہ دینے کا حکم دیا ہے ، اسے لو اور ان میں تقسیم کر دو ۔ کہا : میں نے کہا : اگر آپ میرے سوا کسی اور کو اس کا حکم دے دیں ( تو کیسا رہے؟ ) انہوں نے کہا : اے مال! تم لے لو ۔ کہا : ( اتنے میں ان کے مولیٰ ) یرفا ان کے پاس آئے اور کہنے لگے : امیر المومنین! کیا آپ کو عثمان ، عبدالرحمن بن عوف ، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم ( کے ساتھ ملنے ) میں دلچسپی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ تو اس نے ان کو اجازت دی ۔ وہ اندر آ گئے ، وہ پھر آیا اور کہنے لگا : کیا آپ کو عباس اور علی رضی اللہ عنہما ( کے ساتھ ملنے ) میں دلچسپی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ تو اس نے ان دونوں کو بھی اجازت دے دی ۔ تو عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : امیر المومنین! میرے اور اس جھوٹے ، گناہ گار ، عہد شکن اور خائن کے درمیان فیصلہ کر دیں ۔ کہا : اس پر ان لوگوں نے کہا : ہاں ، امیر المومنین! ان کے درمیان فیصلہ کر کے ان کو ( جھگڑے کے عذاب سے ) راحت دلا دیں ۔ ۔ مالک بن اوس نے کہا : میرا خیال ہے کہ انہوں نے ان لوگوں کو اسی غرض سے اپنے آگے بھیجا تھا ۔ ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم دونوں رکو ، میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " ہمارا کوئی وارث نہیں بنے گا ، ہم جو چھوڑیں گے وہ صدقہ ہو گا " ؟ ان سب نے کہا : ہاں ۔ پھر وہ حضرت عباس اور علی رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : میں تم دونوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں! کیا تم دونوں جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " تمہارا کوئی وارث نہیں ہو گا ، ہم جو کچھ چھوڑیں گے ، صدقہ ہو گا " ؟ ان دونوں نے کہا : ہاں ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خاص چیز عطا کی تھی جو اس نے آپ کے علاوہ کسی کے لیے مخصوص نہیں کی تھی ، اس نے فرمایا ہے : " جو کچھ بھی اللہ نے ان بستیوں والوں کی طرف سے اپنے رسول پر لوٹایا وہ اللہ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے " ۔ ۔ مجھے پتہ نہیں کہ انہوں نے اس سے پہلے والی آیت بھی پڑھی یا نہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کے اموال تم سب میں تقسیم کر دیے ، اللہ کی قسم! آپ نے ( اپنی ذات کو ) تم پر ترجیح نہیں دی اور نہ تمہیں چھوڑ کر وہ مال لیا ، حتی کہ یہ مال باقی بچ گیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنے سال بھر کا خرچ لیتے ، پھر جو باقی بچ جاتا اسے ( بیت المال کے ) مال کے مطابق ( عام لوگوں کے فائدے کے لیے ) استعمال کرتے ۔ انہوں نے پھر کہا : میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں! کیا تم یہ بات جانتے ہو؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ پھر انہوں نے عباس اور علی رضی اللہ عنہ کو وہی قسم دی جو باقی لوگوں کو دی تھی ( اور کہا ) : کیا تم دونوں یہ بات جانتے ہو؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ پھر کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشیں ہوں تو آپ دونوں آئے ، آپ اپنے بھتیجے کی وراثت مانگ رہے تھے اور یہ اپنی بیوی کی ان کے والد کی طرف سے وراثت مانگ رہے تھے ۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " ہمارا کوئی وارث نہیں ہو گا ، ہم جو چھوڑیں گے ، صدقہ ہے ۔ " تو تم نے انہیں جھوٹا ، گناہ گار ، عہد شکن اور خائن خیال کیا تھا اور اللہ جانتا ہے وہ سچے ، نیکوکار ، راست رَو اور حق کے پیروکار تھے ۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جانشیں بنا تو تم نے مجھے جھوٹا ، گناہ گار ، عہد شکن اور خائن خیال کیا اور اللہ جانتا ہے کہ میں سچا ، نیکوکار ، راست رَو اور حق کی پیروی کرنے والا ہوں ، میں اس کا منتظم بنا ، پھر تم اور یہ میرے پاس آئے ، تم دونوں اکٹھے ہو اور تمہارا معاملہ بھی ایک ہے ۔ تم نے کہا : یہ ( اموال ) ہمارے سپرد کر دو ۔ میں نے کہا : اگر تم چاہو تو میں اس شرط پر یہ تم دونوں کے حوالے کر دیتا ہوں کہ تم دونوں پر اللہ کے عہد کی پاسداری لازمی ہو گی ، تم بھی اس میں وہی کرو گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے تو تم نے اس شرط پر اسے لے لیا ۔ انہوں نے پوچھا : کیا ایسا ہی ہے؟ ان دونوں نے جواب دیا ۔ ہاں ۔ انہوں نے کہا : پھر تم ( اب ) دونوں میرے پاس آئے ہو کہ میں تم دونوں کے درمیان فیصلہ کروں ۔ نہیں ، اللہ کی قسم! میں قیامت کے قائم ہونے تک تمہارے درمیان اس کے سوا اور فیصلہ نہیں کروں گا ۔ اگر تم اس کے انتظام سے عاجز ہو تو وہ مال مجھے واپس کر دو.
It was narrated that Malik bin Aws bin Hadthan said:
'Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ sent for me and said: Some families from your tribe have come to me (then follows the foregoing hadith) by Malik with the difference that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) would spend on his family for a year. And sometimes Ma'mar said: He would retain sustenance for his family for a year, and what was left of that he spent in the cause of Allah, the Majestic and Exalted.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انہوں نے بیان کیا اور باقی دو نے کہا: ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے مالک بن اوس بن حدثان سے روایت کی ، انہوں نے کہا
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا اور کہا : تمہاری قوم میں سے کچھ گھرانوں کے لوگ آئے تھے ۔ ۔ مالک کی حدیث کی طرح ، البتہ انہوں نے اس میں کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے سال بھر اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے ۔ اور ( حدیث بیان کرتے ہوئے ) بسا اوقات معمر نے کہا : آپ اس سے اپنے گھر والوں کی سال بھر کی کم از کم خوراک الگ کر لیتے ، پھر جو بچتا اسے اللہ کے مال ( بیت المال ) کے مصارف پر لگاتے.