Back to Sahih Muslim

The Book Of Jihad And Expeditions

كتاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ

Chapter 33

Hadith 4680
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ اتَّخَذَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ خِنْجَرًا، فَكَانَ مَعَهَا، فَرَآهَا أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذِهِ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا الْخِنْجَرُ؟» قَالَتْ: اتَّخَذْتُهُ إِنْ: دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، بَقَرْتُ بِهِ بَطْنَهُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِنَّ اللهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ.
English

It has been narrated on the authority of Anas رضی اللہ عنہ :

On the Day of Hunain. Umm Sulaim رضی اللہ عنہا took out a dagger she had in her possession. Abu Talha رضی اللہ عنہ saw her and said: Messenger of Allah, this is Umm Sulaim رضی اللہ عنہا . She is holding a dagger. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) asked (her): What for are you holding this dagger? She said: I took it up so that I may tear open the belly of a polytheist who comes near me. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) began to smile (at these words). She said: Messenger of Allah, kill all those people-other than us-whom thou hast declared to be free (on the day of the Conquest of Mecca). (They embraced Islam because) they were defeated at your hands (and as such their Islam is not dependable). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: Umm Sulaim. God is sufficient (against the mischief of the polytheists) and He will be kind to us (so you need not carry this dagger).

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا, ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ

حنین کے دن حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک خنجر ( اپنے پاس رکھ ) لیا ، وہ ان کے ساتھ تھا ، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ لیا تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول! یہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ہیں ، ان کے پاس ایک خنجر ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : یہ خنجر کیسا ہے؟ " انہوں نے کہا : میں نے یہ اس لیے لیا ہے کہ اگر مشرکوں میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ چاک کر دوں گی ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے ۔ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہمارے بعد دائرہ اسلام میں شامل ہونے والے ، جنہیں ( فتح مکہ کے دن ) معافی دی گئی تھی ( حنین کے دن ) آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے ، انہیں قتل کروا دیجئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ام سلیم! بلاشبہ اللہ تعالیٰ کافی ہو گیا ( ان کا بھاگنا جنگ ہارنے کا باعث نہ بنا ) اور اس نے احسان فرمایا ( کہ ہمیں فتح عطا کر دی).

Hadith 4681
Sahih
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي قِصَّةِ أُمِّ سُلَيْمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ ثَابِتٍ.
English

A Hadith like that of Thabit (no.4680) was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ concerning the story of Umm Sulaim nd the prophet ﷺ.

Urdu

ہم سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، ہم سے بہز نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے ( اپنے چچا ) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ( اپنی دادی ) ام سلیم رضی اللہ عنہا کے واقعے کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت کی حدیث کے مانند روایت کی.

Hadith 4682
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مَعَهُ إِذَا غَزَا، فَيَسْقِينَ الْمَاءَ، وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى.
English

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ who said:

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) allowed Umm Sulaim رضی اللہ عنہا and some other women of the Ansar to accompany him when he went to war; they would give water (to the soldiers) and would treat the wounded.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے جعفر بن سلیمان نے ثابت کی سند سے بیان کیا, حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ کرتے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا اور انصار کی کچھ دوسری عورتوں کو ساتھ لے جا کر جنگ کرتے ، وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں.

Hadith 4683
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ أَبُو مَعْمَرٍ الْمِنْقَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَوِّبٌ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ»، قَالَ: «وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلًا رَامِيًا، شَدِيدَ النَّزْعِ، وَكَسَرَ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا»، قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ الْجَعْبَةُ مِنَ النَّبْلِ، فَيَقُولُ: انْثُرْهَا لِأَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: وَيُشْرِفُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى الْقَوْمِ، فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، لَا تُشْرِفْ، لَا يُصِبْكَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ، نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ ، قَالَ: «وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ، أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا، تَنْقُلَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا، ثُمَّ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِهِمْ، ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآَنِهَا، ثُمَّ تَجِيئَانِ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَيْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلَاثًا مِنَ النُّعَاسِ.
English

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ who said:

On the Day of Uhud some of the people, being defeated, left the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), but Abu Talha رضی اللہ عنہ stood before him covering him with a shield. Abu Talha رضی اللہ عنہ was a powerful archer who broke two or three bows that day. When a man would pass by carrying a quiver containing arrows, he would say: Spare them for Abu Talha. Whenever the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) raised his head to look at the people, Abu Talha رضی اللہ عنہ would say: Prophet of Allah, may my father and my mother be thy ransom, do not raise your head lest you be struck by an arrow shot by the enemy. My neck is before your neck. The narrator said: I saw `A'isha bint Abu Bakr رضی اللہ عنہا and Umm Sulaim رضی اللہ عنہا . Both of them had tucked up their garments, so I could see the anklets on their feet. They were carrying water-skins on their backs and would pour water into the mouths of the people. They would then go back (to the well), would fill them again and would return to pour water into the mouths of the soldiers. (On this day), Abu Talha's sword dropped down from his hands twice or thrice because of drowsiness.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمرو نے جو ابو معمر المنقری ہیں، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا, عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا

جب اُحد کا دن تھا ، لوگوں میں سے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پسپا ہو گئے اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ڈھال کے ساتھ آڑ کیے ہوئے تھے ۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ انتہائی قوت سے تیر چلانے والے تیر انداز تھے ، انہوں نے اس دن دو یا تین کمانیں توڑیں ۔ کہا : کوئی شخص اپنے ساتھ تیروں کا ترکش لیے ہوئے گزرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : " اسے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے آگے پھیلا دو ۔ " کہا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کا جائزہ لینے کے لیے جھانک کر دیکھتے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے : اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان! جھانک کر نہ دیکھیں ، کہیں دشمن کے تیروں میں سے کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے ۔ میرا سینہ آپ کے سینہ کے آگے ڈھال بنا ہوا ہے ۔ کہا : میں نے حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دیکھا ، ان دونوں نے اپنے کپڑے سمیٹے ہوئے تھے ، میں ان کی پنڈلیوں کے پازیب دیکھ رہا تھا ، وہ اپنی کمر پر مشکیزے لے کر آتی تھیں ، ( زخمیوں کو پانی پلاتے پلاتے ) ان کے منہ میں ان ( مشکوں ) کو خالی کرتیں تھیں ، پھر واپس ہو کر انہیں بھرتی تھیں ، پھر آتیں اور انہیں لوگوں کے منہ میں فارغ کرتی تھیں ۔ اس دن اونگھ ( جانے ) کی بنا پر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں سے دو یا تین مرتبہ تلوار گری ۔ ( شدید تکان اور بے خوابی کے عالم میں بھی وہ ڈھال بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے رہے).

Hadith 4684
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ، كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ، عَنْ خَمْسِ خِلَالٍ، فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْلَا أَنْ أَكْتُمَ عِلْمًا مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ، كَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ: أَمَّا بَعْدُ، فَأَخْبِرْنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ وَهَلْ كَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ؟ وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ وَعَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَقَدْ كَانَ يَغْزُو بِهِنَّ، فَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى، وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَأَمَّا بِسَهْمٍ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ، فَلَا تَقْتُلِ الصِّبْيَانَ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ فَلَعَمْرِي، إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ، ضَعِيفُ الْعَطَاءِ مِنْهَا، فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ؟ وَإِنَّا كُنَّا نَقُولُ: هُوَ لَنَا، فَأَبَى عَلَيْنَا قَوْمُنَا ذَاكَ.
English

It has been narrated on the authority of Yazid bin Hurmuz:

Najda wrote to Ibn Abbas رضی اللہ عنہ inquiring of him five things. Ibn Abbas said: If I had not the fear of committing (sin) for concealing the knowledge I would not have written to him. Najda wrote to him saying (after praising the Almighty and invoking blessings on the Prophet): Tell me whether the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took women to participate with him in Jihad; (if he did), whether he allotted them a regular share from the booty; whether he killed the children of (the enemy in the war), how long an orphan would be entitled to consideration as such, and for whom the Khums (fifth part of the booty) was booty. Ibn Abbas رضی اللہ عنہ wrote to him: You have written asking me whether the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took women with him to participate in Jihad. He did take them to the battle and sometimes he fought along with them. They would treat the wounded and were given a reward from the booty, but he did not assign any regular share for them. And the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not kill the children of the enemy, so you should not kill the children. Also you have written to me asking me when the orphanhood of an orphan comes to an end. By my life, if a man has become bearded but is still incapable of getting his due from others or fulfilling his obligation towards them, (he is yet an orphan to be treated as such), but when he can look after his interests like grown-up people, he is no longer an orphan. And you have written to me inquiring about Khums as to whom it is meant for. (In this connection) we (the kinsmen of the Messenger of Allah ﷺ) used to say: It is for us, but those people (i.e. Banu Umayya) have denied it to us.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا, سلیمان بن بلال نے ہمیں جعفر بن محمد سے ، انہوں نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے یزید بن ہرمز سے روایت کی کہ ( معروف خارجی سردار )

نجدہ ( بن عامر حنفی ) نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پانچ باتیں دریافت کرنے کے لیے خط لکھا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں علم چھپا رہا ہوں تو میں اسے جواب نہ لکھتا ۔ نجدہ نے انہیں لکھا تھا : امابعد! مجھے بتائیے : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے مدد لیتے ہوئے جنگ کرتے تھے؟ کیا آپ غنیمت میں ان کا حصہ رکھتے تھے؟ کیا آپ بچوں کو قتل کرتے تھے؟ اور یہ کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ اس نے خمس کے بارے میں ( بھی پوچھا کہ ) وہ کس کا حق ہے؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف ( جواب ) لکھا : تم نے مجھ سے دریافت کرنے کے لیے لکھا تھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے مدد لیتے ہوئے جنگ کرتے تھے؟ بلاشبہ آپ ان سے جنگ میں مدد لیتے تھے اور وہ زخمیوں کو مرہم لگایا کرتی تھیں اور انہیں غنیمت ( کے مال ) سے معمولی سا عطیہ دیا جاتا تھا ، رہا ( غنیمت کا باقاعدہ ) حصہ تو وہ آپ نے ان کے لیے نہیں نکالا ، اور یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے ، لہذا تم بھی بچوں کو قتل نہ کیا کرو ۔ اور تم نے مجھ سے دریافت کرنے کے لیے لکھا تھا : یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ مجھے اپنی عمر ( کے مالک ) کی قسم! کسی آدمی کی داڑھی نکل آتی ہے جبکہ ابھی وہ اپنے لیے حق لینے میں اور اپنی طرف سے حق دینے میں کمزور ہوتا ہے ، جب وہ اپنے لیے ٹھیک طرح سے حقوق لے سکے جس طرح لوگ لیتے ہیں تو اس کی یتیمی ختم ہو جائے گی ۔ اور تم نے مجھ سے خمس کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے لکھا تھا کہ وہ کس کا حق ہے؟ تو ہم کہتے تھے : وہ ہمارا حق ہے ، لیکن ہماری قوم نے ہماری یہ بات ماننے سے انکار کر دیا.

Hadith 4685
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كِلَاهُمَا عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، يَسْأَلُهُ عَنْ خِلَالٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ حَاتِمٍ: وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ، فَلَا تَقْتُلِ الصِّبْيَانَ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الصَّبِيِّ الَّذِي قَتَلَ ، وَزَادَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ حَاتِمٍ، وَتُمَيِّزَ الْمُؤْمِنَ، فَتَقْتُلَ الْكَافِرَ، وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ.
English

It was narrated from Yazid bin Hurmuz said:

"Najd wrote to Ibn Abbas and asked him about some things... A hadith like that of Sulaiman bin bilal (no. 4684), except that in the hadith of Hatim it says: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used not to kill the children, so thou shouldst not kill them unless you could know what Khadir had known about the child he killed, or you could distinguish between a child who would grow up to he a believer (and a child who would grow up to be a non-believer), so that you killed the (prospective) non-believer and left the (prospective) believer aside.

Urdu

ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم دونوں نے ہمیں حاتم بن اسماعیل سے حدیث بیان کی ، انہوں نے جعفر بن محمد سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے یزید بن ہرمز سے روایت کی کہ

نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو ان سے کچھ باتیں پوچھنے کے لیے خط لکھا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) سلیمان بن بلال کی حدیث کے مانند ہے ، مگر حاتم کی حدیث میں ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقینا بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے ، لہذا تم بھی بچوں کو قتل نہ کرو ، الا یہ کہ تمہیں بھی اسی طرح علم حاصل ہو جائے جس طرح خضر کو اس بچے کے بارے میں علم ہوا تھا جسے انہوں نے قتل کیا تھا ۔ اسحاق نے حاتم سے روایت کردہ اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : ( الا یہ کہ ) تم ( بچوں میں سے ) مومن کا امتیاز کر لو تو کافر کو قتل کر دینا اور مومن کو چھوڑ دینا ( یہ دونوں باتیں کسی انسان کے بس میں نہیں جب تک اللہ تعالیٰ نہ بتائے.

Hadith 4686
Sahih
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ، عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ، هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا؟ وَعَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ؟ وَعَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ؟ وَعَنْ ذَوِي الْقُرْبَى مَنْ هُمْ؟ فَقَالَ لِيَزِيدَ: اكْتُبْ إِلَيْهِ، فَلَوْلَا أَنْ يَقَعَ فِي أُحْمُوقَةٍ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ، اكْتُبْ: «إِنَّكَ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ، هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا شَيْءٌ؟ وَإِنَّهُ لَيْسَ لَهُمَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْهُمْ، وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَى مِنَ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ؟ وَإِنَّهُ لَا يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ حَتَّى يَبْلُغَ وَيُؤْنَسَ مِنْهُ رُشْدٌ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ ذَوِي الْقُرْبَى مَنْ هُمْ؟ وَإِنَّا زَعَمْنَا أَنَّا هُمْ، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا.
English

It has been narrated on the authority of Yazid bin Hurmuz who said:

Najda bin 'Amir al-Haruri wrote to Ibn Abbas رضی اللہ عنہ asking him about the slave and the woman as to whether they would get a share from the booty (it they participated in Jihad) ; about the killing of (enemy) children (in war) ; about the orphan as to when his orphanhood comes to an end; about kinsmen (of the Holy Prophet) as to who they are. He said to Yazid: Write to him. (If he were not likely to fall into folly, I would not have written to him.) Write: You have written asking about the woman and the slave whether they would get a share of the booty if they participated in Jihad. (You should know that) there is nothing of the sort for them except that they will be given a prize. And you have written asking me about the killing of the enemy children in war. (You should understand that) the Messenger of Allah (may peare be upon him) did not kill them. and thou shouldst not kill them unless thou knew what the companion of Moses (i. e. Khadir) knew about the boy he had killed. And you have written asking me about the orphan as to when the period of his orphanhood comes to an end, so that the sobriquet of orphan is dropped from him. (In this regard, you should know that) the sobriquet orphan will not be dropped from him until he attains maturity of body and mind. And you have written asking me about the close relatives (of the Holy Prophet) as to who they are. We think that it is we, but our people have denied us this (position and its concomitant privileges).

Urdu

ہمیں ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے اسماعیل بن امیہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید مقبری سے اور انہوں نے یزید بن ہرمز سے روایت کی ، انہوں نے کہا

نجدہ بن عامر حروری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا ، وہ ان سے اس غلام اور عورت کے بارے میں پوچھ رہا تھا جو جنگ میں شریک ہوتے ہیں ، کیا وہ غنیمت کی تقسیم میں ( بھی ) شریک ہوں گے؟ اور بچوں کے قتل کرنے کے بارے میں ( پوچھا ) اور یتیم کے بارے میں کہ اس سے یتیمی کب ختم ہوتی ہے اور ذوی القربیٰ کے بارے میں کہ وہ کون لوگ ہیں؟ تو انہوں نے یزید سے کہا : اس کی طرف لکھو اور اگر ڈر نہ ہوتا کہ وہ کسی حماقت میں پڑ جائے گا تو میں اس کی طرف جواب نہ لکھتا ، ( اسے ) لکھو : تم نے مجھے اس عورت اور غلام کے بارے دریافت کرنے کے لیے خط لکھا تھا جو جنگ میں شریک ہوتے ہیں : کیا وہ غنیمت کی تقسیم میں شریک ہوں گے؟ " حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں کے لیے کچھ نہیں ہے ، الا یہ کہ انہیں کچھ عطیہ دے دیا جائے اور تم نے مجھ سے بچوں کو قتل کرنے کے بارے میں پوچھنے کے لیے لکھا تھا ، بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل نہیں کیا اور تم بھی انہیں قتل مت کرو ، الا یہ کہ تمہیں ان بچوں کے بارے میں وہ بات معلوم ہو جائے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی ( خضر ) کو اس بچے کے بارے میں معلوم ہو گئی جسے انہوں نے قتل کیا تھا ۔ اور تم نے مجھ سے یتیم کے بارے میں پوچھنے کے لیے لکھا تھا کہ اس سے یتیم کا لقب کب ختم ہو گا؟ تو حقیقت یہ ہے کہ اس سے یتیم کا لقب ختم نہیں ہوتا حتی کہ وہ بالغ ہو جائے اور اس کی بلوغت ( سمجھداری کی عمر کو پہنچنے ) کے بارے پتہ چلنے لگے ۔ اور تم نے مجھ سے ذوی القربیٰ کے بارے میں پوچھنے کے لیے لکھا تھا کہ وہ کون ہیں؟ ہمارا خیال تھا کہ وہ ہم لوگ ہی ہیں ۔ تو ہماری قوم نے ہماری یہ بات ماننے سے انکار کر دیا.

Hadith 4687
Sahih
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ. قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِطُولِهِ.
English

It was narrated that Yazid bin Hurmuz said: Najdah wrote to Ibn Abbas..." and he quoted a similar Hadith (no. 4684). Abu Ishaq said: 'Abdur Rehman bin Bishr narrated: Sufyan narrated this Hadith, in full.

Urdu

عبدالرحمن بن بشر عبدی نے ہمیں یہی حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اسماعیل بن امیہ نے سعید بن ابی سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے یزید بن ہرمز سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ۔ ابواسحاق نے کہا : مجھے عبدالرحمن بن بشر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے پوری یہی حدیث بیان کی.

Hadith 4688
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ، وَحِينَ كَتَبَ جَوَابَهُ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللهِ لَوْلَا أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ نَتْنٍ يَقَعُ فِيهِ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ، وَلَا نُعْمَةَ عَيْنٍ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ: «إِنَّكَ سَأَلْتَ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى الَّذِي ذَكَرَ اللهُ مَنْ هُمْ؟ وَإِنَّا كُنَّا نَرَى أَنَّ قَرَابَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ نَحْنُ، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا، وَسَأَلْتَ عَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ؟ وَإِنَّهُ إِذَا بَلَغَ النِّكَاحَ، وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدٌ، وَدُفِعَ إِلَيْهِ مَالُهُ، فَقَدِ انْقَضَى يُتْمُهُ، وَسَأَلْتَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِكِينَ أَحَدًا؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ مِنْهُمْ أَحَدًا، وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا، إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الْغُلَامِ حِينَ قَتَلَهُ، وَسَأَلْتَ عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ هَلْ كَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ؟ فَإِنَّهُمْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ سَهْمٌ مَعْلُومٌ، إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ.
English

It has been narrated on the authority of Yazid bin Hurmuz who said:

Najda wrote to Ibn Abbas رضی اللہ عنہ . I was sitting in the company of Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ when he read his letter and wrote its reply. Ibn Abbas رضی اللہ عنہ said: Were it not for preventing him from falling into wickedness. I would not have replied to his letter, may he never be joyful. He wrote in reply to him referring to the share of the close relatives (of the Holy Prophet) (from the booty) whom God has mentioned. (I have to tell you that) we thought we were the close relatives of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌), but our people have refused to recognize us as such. You have asked about the orphan as to when his orphanhood comes to an end. (I have to say that) when he reaches the age of marriage, attains maturity of mind, and his property is returned to him, then he is no longer an orphan. You have inquired whether the Messenger of Allah (may peace be upo him) used to kill anyone from the children of the polytheists in the war. (You should know that) the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used not to kill any one of their children, and you (too) should not kill any one of them, except when you knew about them what Khadir had known about the boy whom he killed. And you have inquired whether there is a fixed share of the booty for women and slaves when they participate in a battle. (I have to tell you that) there is no fixed share for them except that they will be given some reward from the spoils of war.

Urdu

ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر بن حازم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے قیس رضی اللہ عنہ کو یزید بن ہرمز کی سند سے کہتے سنا۔ مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، اور اس کا تلفظ، انہوں نے کہا: ہم سے بہز نے بیان کیا، ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا, قیس بن سعد نے مجھے یزید بن ہرمز سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا

نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا تو میں اس وقت ، جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کا خط پڑھا اور اس کا جواب لکھا ، ان کے پاس حاضر تھا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! اگر یہ ( خیال ) نہ ہوتا کہ ( غالبا ) میں اسے کسی قبیح عمل میں پڑ جانے سے روک لوں گا تو اسے جواب نہ لکھتا ، یہ اس کی آنکھوں کی خوشی کے لیے نہیں ۔ کہا : تو انہوں نے اس کی طرف لکھا : تم نے ذوی القربیٰ کے حصے کے بارے میں پوچھا تھا ، جس کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ کون ہین؟ تو ہمارا خیال یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار ہمی لوگ ہیں ( لیکن ) ہماری قوم نے ہماری بات ماننے سے انکار کر دیا ۔ اور تم نے یتیم کے بارے میں پوچھا تھا ، اس کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ تو جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے ، اس کے سمجھدار ہو جانے کا پتہ چلنے لگے اور اس کا مال اس کے حوالے کیا جا سکے تو اس سے یتیمی ختم ہو جائے گی ۔ اور تم نے پوچھا تھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے بچوں میں سے کسی کو قتل کرتے تھے؟ تو بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی ایک کو بھی قتل نہیں کرتے تھے اور تم بھی ان میں سے کسی کو قتل مت کرنا ، الا یہ کہ ان کے بارے میں تم کو بھی اسی بات کا علم ہو جائے جس کا اس بچے کے بارے میں خضر علیہ السلام کو علم ہوا جب انہوں نے اسے قتل کیا تھا ۔ اور تم نے عورت اور غلام کے بارے میں پوچھا کہ جب وہ جنگ میں شریک ہوں تو کیا ان کو بھی مقررہ حصہ ملے گا؟ واقعہ یہ ہے کہ ان کا کوئی مقررہ حصہ نہیں ، ہاں یہ کہ لوگوں کی غنیمتوں میں سے انہیں کچھ عطیہ دے دیا جائے.

Hadith 4689
Sahih
وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يُتِمَّ الْقِصَّةَ كَإِتْمَامِ مَنْ ذَكَرْنَا حَدِيثَهُمْ.
English

It was narrated that Yazid bin Hurmuz said: 'Najdah wrote to Ibn Abbas رضی اللہ عنہ ..." and he mention part of the Hadith but he did not narrate it in full, like the Hadith we have mention above.

Urdu

مجھ سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زیدہ نے بیان کیا، ہم سے سلیمان العمش نے بیان کیا, مختار بن صیفی نے یزید بن ہرمز سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا اور ان کی طرح پورا واقعہ بیان نہیں کیا جن کی احادیث ہم نے ( اوپر ) بیان کی ہیں.

Hadith 4690
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ: «غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ، فَأَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ، وَأُدَاوِي الْجَرْحَى، وَأَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى.
English

It has been narrated on the authority of Umm 'Atiyya, the Ansarite رضی اللہ عنہا , who said:

I took part with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ) in seven battles. I would stay behind in the camp of men, cook their food, treat the wounded and nurse the sick.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, عبدالرحیم بن سلیمان نے ہمیں ہشام ( بن حسان ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حفصہ بنت سیرین سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوئی ، میں پیچھے ان کے خیموں میں رہتی تھی ، ان کے لیے کھانا تیار کرتی ، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی اور مریضوں کی دیکھ بھال کرتی تھی.

Hadith 4691
Sahih
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
English

A similar tradition has been narrated on the authority of Hisham bin Hassan through a different chain of transmitters.

Urdu

عمرو الناقد نے ہمیں بتایا, یزید بن ہارون نے ہشام بن حسان سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی.

Hadith 4692
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ، خَرَجَ يَسْتَسْقِي بِالنَّاسِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اسْتَسْقَى، قَالَ: فَلَقِيتُ يَوْمَئِذٍ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، وَقَالَ: لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ غَيْرُ رَجُلٍ - أَوْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ رَجُلٌ - قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: كَمْ غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «تِسْعَ عَشْرَةَ»، فَقُلْتُ: كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ؟ قَالَ: «سَبْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً»، قَالَ: فَقُلْتُ: فَمَا أَوَّلُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا؟ قَالَ: «ذَاتُ الْعُسَيْرِ أَوِ الْعُشَيْرِ.
English

It has been narrated on the authority of Abu Ishaq:

'Abdullah bin Yazid went (out of the city) with people for offering Istisqa ' prayer (for rainfall). He offered two rak'ahs. Then he prayed for rain. That day I met Zaid bin Arqam رضی اللہ عنہ . There was only one man between me and him (at that time). I asked him: How many military expeditions did the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) undertake? He said: Nineteen expeditions. I asked him: On how many expeditions did you accompany him? He said: On seventeen expeditions. I asked: Which was the first expedition he led? He answered: Dhat-ul-Usair or 'Ushair.

Urdu

ہم سے محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، اور یہ قول ابن المثنیٰ کا ہے، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، شعبہ نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی کہ ( ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوفہ کے امیر )

عبداللہ بن یزید ( بن حصین ) لوگوں کے ساتھ بارش کی دعا مانگنے کے لیے نکلے تو انہوں نے دو رکعتیں پڑھیں ، پھر بارش کی دعا کی ۔ کہا : اس دن میری ملاقات حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ہوئی ۔ کہا : میرے اور ان کے درمیان ایک آدمی کے سوا کوئی نہ تھا یا ( کہا : ) میرے اور ان کے درمیان ( بس ) ایک آدمی تھا تو میں نے ان سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی جنگیں کیں؟ انہوں نے کہا : انیس ( 19 ) ۔ تو میں نے پوچھا : آپ نے ان کے ساتھ کتنی جنگیں لڑیں؟ انہوں نے کہا : سترہ جنگیں ۔ میں نے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا؟ انہوں نے کہا : ذات العسیر یا ذات العشیر.

Hadith 4693
Sahih
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، سَمِعَهُ مِنْهُ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً، وَحَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً لَمْ يَحُجَّ غَيْرَهَا، حَجَّةَ الْوَدَاعِ.
English

It has been narrated on the authority of Zaid bin Arqam رضی اللہ عنہ :

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) fought nineteen battles and after the Migration performed only one Pilgrimage called Hajjat-ul-Wada'.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا, زہیر نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوے کیے اور ہجرت کے بعد آپ نے صرف ایک حج کلیا ، اس کے سوا کوئی حج نہیں کیا ، وہ حجۃ الوداع تھا.

Hadith 4694
Sahih
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: «غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً»، قَالَ جَابِرٌ: «لَمْ أَشْهَدْ بَدْرًا، وَلَا أُحُدًا مَنَعَنِي أَبِي، فَلَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللهِ يَوْمَ أُحُدٍ، لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ قَطُّ.
English

It has been reported on the authority of Abu Zubair who heard Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ say:

I fought in the company of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) nineteen battles. Jabir رضی اللہ عنہ said: I did not participate in the Battle of Badr and the Battle of Uhud. My father prevented me (from participating in these battles as my age was tender). After `Abdullah رضی اللہ عنہ (my father) was killed on the Day of Uhud, I never lagged behind the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) and joined every battle (he fought).

Urdu

ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، ہم سے ابو الزبیر نے بیان کیا, حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انیس غزوات میں شرکت کی ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں بدر اور احد میں شریک نہیں ہوا ، مجھے میرے والد نے روک دیا تھا ، جب ( میرے والد ) عبداللہ رضی اللہ عنہ اُحد کے دن شہید ہو گئے تو ( اس کے بعد ) میں کسی بھی غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کرنے سے پیچھے نہیں رہا.

Hadith 4695
Sahih
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً، قَاتَلَ فِي ثَمَانٍ مِنْهُنَّ»، وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ: مِنْهُنَّ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ.
English

It has been narrated on the authority of Buraida (who heard the tradition from his father):

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) conducted nineteen military campaigns and he (actually) fought in eight of them.

Urdu

ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں زید بن حباب نے حدیث بیان کی ، نیز سعید بن محمد جرمی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابوتمیلہ نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( زید اور ابوتمیلہ ) نے کہا : ہمیں حسین بن واقد نے عبداللہ بن بریدہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوے کیے ، آپ نے ان میں سے آٹھ میں لڑائی کی ۔ ابوبکر نے "" منهن "" ( ان میں سے ) روایت نہیں کیا اور انہوں نے اپنی حدیث میں کہا : مجھے عبداللہ بن بریدہ نے حدیث بیان کی.

Hadith 4696
Sahih
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: «غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَةً.
English

It has been narrated by Buraida who heard it from his father:

He joined the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in sixteen military campaigns.

Urdu

مجھ سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا, کہمس نے ابن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ

انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ غزوات میں شرکت کی.

Hadith 4697
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَةَ، يَقُولُ: «غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ الْبُعُوثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ، مَرَّةً عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ، وَمَرَّةً عَلَيْنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ.
English

It has been narrated on the authority of Salama who said:

I joined seven military expeditions led by the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) himself, and nine expeditions which he sent out once under Abu Bakr رضی اللہ عنہ and once under Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ.

Urdu

ہمیں محمد بن عباد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حاتم بن اسماعیل نے یزید بن ابی عبید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت سلمہ ( بن اکوع رضی اللہ عنہ ) سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں جنگ کی اور میں ان دستوں کے ساتھ ، جنہیں آپ روانہ فرماتے تھے ، نو غزوات میں نکلا ۔ ایک بار ہمارے امیر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور ایک بار حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ۔ ( سابقہ حدیث میں بیان کردہ تعداد صحیح تر ہے)

Hadith 4698
Sahih
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي كِلْتَيْهِمَا: سَبْعَ غَزَوَاتٍ.
English

Hatim narrated it with this chain a narration (a Hadith similar to no. 4697), except that he said:

According to this version both these types of expeditions were seven in number.

Urdu

قتیبہ بن سعید نے حاتم سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی

مگر انہوں نے دونوں جگہ سات غزوات کہے.

Hadith 4699
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ»، قَالَ: «فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا، فَنَقِبَتْ قَدَمَايَ، وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي، فَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ، فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ لِمَا كُنَّا نُعَصِّبُ عَلَى أَرْجُلِنَا مِنَ الْخِرَقِ»، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا الْحَدِيثِ، ثُمَّ كَرِهَ ذَلِكَ، قَالَ: كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَزَادَنِي غَيْرُ بُرَيْدٍ وَاللهُ يُجْزِي بِهِ.
English

It has been narrated on the authority of Abu Musa (Ash'ari) رضی اللہ عنہ who said:

We set out on an expedition with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌). We were six in number and had (with us) only one camel which we rode turn by turn Our feet were injured. My feet were so badly injured that my nails dropped off. We covered our feet with rags. so this expedition was called Dhat-ur-Riqa' (i.e. the expedition of rags) because we bandaged our feet with rags (on that day). Abu Burda said: Abu Musa رضی اللہ عنہ narrated this tradition, and then disliked repeating it as he did not want to give any publicity to what he did in a noble cause Abu Usama said: Narrators other than Abu Buraida have added to the version of the words: God will reward it.

Urdu

ہم سے ابو عامر عبداللہ بن براد اشعری اور محمد بن علاء الحمدانی نے بیان کیا اور یہ الفاظ ابو عامر کا ہے، انہوں نے کہا: ابواسامہ نے ہمیں بریدہ بن ابی بردہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے ، ہم چھ افراد تھے ، ہم سب کے لیے اونٹ ایک ( ہی ) تھا ، ہم اس پر باری باری سوار ہوتے تھے ۔ کہا : ہمارے پیروں میں سوراخ ہو گئے ، میرے دونوں پاؤں بھی زخمی ہو گئے اور میرے ناخن گر گئے ، ہم اپنے پاؤں پر پرانے کپڑوں کے ٹکڑے باندھا کرتے تھے ، اسی وجہ سے تو اس غزوے کا نام ذات الرقاع ( دھجیوں والا غزوہ ) پڑ گیا کیونکہ ہم اپنے پیروں پر پھٹے پرانے کپڑوں کی دھجیاں باندھا کرتے تھے ۔ ابوبردہ نے کہا : حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ، پھر اسے ( بیان کرنے ) کو ناپسند کیا جیسے وہ یہ بات ناپسند کرتے ہوں کہ ان کے عمل کا کوئی ایسا پہلو ہو جس کی انہوں نے تشہیر کی ہو ۔ ابواسامہ نے کہا : بریدہ کے علاوہ کسی اور نے مجھے مزید یہ بات بتائی : اور اللہ اس کی جزا دے.