Back to Sahih Muslim

The Book Of Jihad And Expeditions

كتاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ

Chapter 33

Hadith 4599
Sahih
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: قَالَ أَبِي: فَأَخْبَرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.
English

It has been narrated on the authority of Hisham (who learnt it from his father):

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said (to Sa'd): You have adjudged their case with the judgment of God. the Exalted and Glorified.

Urdu

ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میرے والد نے کہا: تو مجھے خبر ملی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے ان کے بارے میں اللہ عزوجل کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے.

Hadith 4600
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَعْدًا، قَالَ وَتَحَجَّرَ كَلْمُهُ لِلْبُرْءِ، فَقَالَ: «اللهُمَّ، إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنْ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَ فِيكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْرَجُوهُ، اللهُمَّ، فَإِنْ كَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْءٌ، فَأَبْقِنِي أُجَاهِدْهُمْ فِيكَ، اللهُمَّ، فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، فَإِنْ كُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَافْجُرْهَا، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِيهَا»، فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ، فَلَمْ يَرُعْهُمْ وَفِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ إِلَّا وَالدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا: يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ، فَإِذَا سَعْدٌ جُرْحُهُ يَغِذُّ دَمًا، فَمَاتَ مِنْهَا.
English

It has been narrated on the authority of 'A'isha رضی اللہ عنہا :

Sa'd's رضی اللہ عنہ wound became dry and was going to heal when he prayed: O God, surely Thou knowest that nothing is dearer to me than that I should fight for Thy cause against the people who disbeliever Your Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and turned him out (from his native place). If anything yet remains to be decided from the war against the Quraish, spare my life so that I may fight against them in Thy cause. O Lord, I think Thou hast ended the war between us and them. If Thou hast done so, open my wound (so that it may discharge) and cause my death thereby. So the wound begin to bleed from the front part of his neck. The people were not scared except when the blood flowed towards them, and in the mosque along with Sa'd's رضی اللہ عنہ tent was the tent of Banu Ghifar. They said: O people of the tent, what is it that is coming to us from you? Lo! it was Sa'd's رضی اللہ عنہ wound that was bleeding and he died thereof.

Urdu

ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, ابن نمیر نے ہشام سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ

حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ، جب ان کا زخم بھر رہا تھا ، ( تو دعا کرتے ہوئے ) کہا : اے اللہ! تو جانتا ہے کہ مجھے تیرے راستے میں ، اس قوم کے خلاف جہاد سے بڑھ کر کسی کے خلاف جہاد کرنا محبوب نہیں جنہوں نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور نکالا ۔ اگر قریش کی جنگ کا کوئی حصہ باقی ہے تو مجھے زندہ رکھ تاکہ میں تیرے راستے میں ان سے جہاد کروں ۔ اے اللہ! میرا خیال ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی ختم کر دی ہے ۔ اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی واقعی ختم کر دی ہے تو اس ( زخم ) کو پھاڑ دے اور مجھے اسی میں موت عطا فرما ، چنانچہ ان کی ہنسلی سے خون بہنے لگا ، لوگوں کو ۔ ۔ اور مسجد میں ان کے ساتھ بنو غفار کا خیمہ تھا ۔ ۔ اس خون نے ہی خوفزدہ کیا جو ان کی طرف بہہ رہا تھا ۔ انہوں نے پوچھا : اے خیمے والو! یہ کیا ہے جو تمہاری جانب سے ہماری طرف آ رہا ہے؟ تو وہ سعد رضی اللہ عنہ کا زخم تھا جس سے مسلسل خوب بہہ رہا ہے ، چنانچہ وہ اسی ( کیفیت ) میں فوت ہو گئے.

Hadith 4601
Sahih
وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَانْفَجَرَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَمَا زَالَ يَسِيلُ حَتَّى مَاتَ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ: فَذَاكَ حِينَ يَقُولُ الشَّاعِرُ [البحر الوافر] أَلَا يَا سَعْدُ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ ... فَمَا فَعَلَتْ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ لَعَمْرُكَ إِنَّ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ ... غَدَاةَ تَحَمَّلُوا لَهُوَ الصَّبُورُ تَرَكْتُمْ قِدْرَكُمْ لَا شَيْءَ فِيهَا ... وَقِدْرُ الْقَوْمِ حَامِيَةٌ تَفُورُ وَقَدْ قَالَ الْكَرِيمُ أَبُو حُبَابٍ ... أَقِيمُوا قَيْنُقَاعُ وَلَا تَسِيرُوا وَقَدْ كَانُوا بِبَلْدَتِهِمْ ثِقَالًا ... كَمَا ثَقُلَتْ بِمَيْطَانَ الصُّخُورُ.
English

This tradition has been narrated by Hisham through the same chain of transmitters with a little difference in the wording. He said:

(His wound) began to bleed that very night and it continued to bleed until he died. He has made the addition that it was then that (a non-believing) poet said: Hark, O Sa'd, Sa'd of Banu Mu'adh, What have the Quraiaa and Nadir done? By thy life! Sa'd bin Mu'adh>br> Was steadfast on the morn they departed. You have left your cooking-pot empty, While the cooking-pot of the people is hot and boiling. Abu Hubab the nobleman has said, O Qainuqa', do not depart. They were weighty in their country just aa rocks are weighty in Maitan.

Urdu

ہم سے علی بن الحسن بن سلیمان الکوفی نے بیان کیا, عبدہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے کہا : اسی رات سے خوب بہنے لگا اور مسلسل بہتا رہا حتی کہ وہ وفات پا گئے ۔ اور انہوں نے حدیث میں یہ اضافہ کیا ، کہا

یہی وقت ہے جب ( ایک کافر ) شاعر کہتا ہے : اے سعد! بنو معاذ کے ( گھرانے کے ) سعد! وہ کیا تھا جو بنو قریظہ نے کیا اور ( وہ کیا تھا جو ) بنونضیر نے کیا؟ تمہاری زندگی کی قسم! بنو معاذ کا سعد ، جس صبح ان لوگوں نے سزا برداشت کی ، خوب صبر کرنے والا تھا ۔ تم ( اوس کے ) لوگوں نے اپنی ہڈیاں اس طرح چھوڑیں کہ ان میں کچھ باقی نہ بچا تھا جبکہ قوم ( بنو خزرج ) کی ہانڈیاں گرم تھیں ، ابل رہی تھیں ( انہوں نے اپنے حلیف بنو نضیر کا ساتھ دیا تھا ۔ ) ایک کریم انسان ابوحباب ( رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول ) نے کہا تھا : ( بنو ) قینقاع! مقیم رہو ، مت جاو ۔ وہ لوگ اپنے شہر میں بہت وزن رکھتے تھے ( باوقعت تھے ) جس طرح جبلِ میطان کی چٹانیں بہت وزن رکھتی ہیں.

Hadith 4602
Sahih
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: نَادَى فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ انْصَرَفَ عَنِ الْأَحْزَابِ «أَنْ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ»، فَتَخَوَّفَ نَاسٌ فَوْتَ الْوَقْتِ، فَصَلَّوْا دُونَ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَقَالَ آخَرُونَ: لَا نُصَلِّي إِلَّا حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ فَاتَنَا الْوَقْتُ، قَالَ: فَمَا عَنَّفَ وَاحِدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ.
English

It has been narrated on the authority of Abdullah رضی اللہ عنہ who said:

On the day he returned from the Battle of Ahzab, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) made for us an announcement that nobody would say his Zuhr prayer but in the quarters of Banu Quraiza (Some) people, being afraid that the time for prayer would expire, said their prayers before reaching the street of Banu Quraiza. The others said: We will not say our prayer except where the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) has ordered us to say it even if the time expires. When he learned of the difference in the view of the two groups of the people, the Messenger of Allah (ﷺ) did not blame anyone from the two groups.

Urdu

مجھ سے عبداللہ بن محمد بن اسماء الضعبی نے بیان کیا، ہم سے جویریہ بن اسماء نے نافع کی سند سے بیان کیا, حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے ، انہوں نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، جس روز آپ جنگِ احزاب سے لوٹےہم میں منادی کرائی کہ کوئی شخص بنو قریظہ کے سوا کہیں اور نمازِ ظہر ادا نہ کرے ۔ کچھ لوگوں کو وقت نکل جانے کا خوف محسوس ہوا تو انہوں نے بنو قریظہ ( پہنچنے ) سے پہلے ہی نماز پڑھ لی ، جبکہ دوسروں نے کہا : چاہے وقت ختم ہو جائے ہم وہیں نماز پڑھیں گے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔ کہا : تو آپ نے فریقین میں سے کسی کو بھی ملامت نہ کی.

Hadith 4603
Sahih
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ، مِنْ مَكَّةَ، الْمَدِينَةَ قَدِمُوا وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ، وَكَانَ الْأَنْصَارُ أَهْلَ الْأَرْضِ وَالْعَقَارِ، فَقَاسَمَهُمُ الْأَنْصَارُ عَلَى أَنْ أَعْطَوْهُمْ أَنْصَافَ ثِمَارِ أَمْوَالِهِمْ، كُلَّ عَامٍ، وَيَكْفُونَهُمُ الْعَمَلَ وَالْمَئُونَةَ، وَكَانَتْ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهِيَ تُدْعَى أُمَّ سُلَيْمٍ، وَكَانَتْ أُمُّ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، كَانَ أَخًا لِأَنَسٍ لِأُمِّهِ، وَكَانَتْ أَعْطَتْ أُمُّ أَنَسٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِذَاقًا لَهَا، فَأَعْطَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ، مَوْلَاتَهُ، أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ مِنْ قِتَالِ أَهْلِ خَيْبَرَ، وَانْصَرَفَ إِلَى الْمَدِينَةِ، رَدَّ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى الْأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمُ الَّتِي كَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ، قَالَ: فَرَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّي عِذَاقَهَا، وَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَكَانَهُنَّ مِنْ حَائِطِهِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ مِنْ شَأْنِ أُمِّ أَيْمَنَ أُمِّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهَا كَانَتْ وَصِيفَةً لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَكَانَتْ مِنَ الْحَبَشَةِ، فَلَمَّا وَلَدَتْ آمِنَةُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا تُوُفِّيَ أَبُوهُ، فَكَانَتْ أُمُّ أَيْمَنَ تَحْضُنُهُ حَتَّى كَبِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْتَقَهَا، ثُمَّ أَنْكَحَهَا زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، ثُمَّ تُوُفِّيَتْ بَعْدَ مَا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةِ أَشْهُرٍ.
English

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ who said:

When the Muhajirs migrated from Mecca to Medina; they came (in a state that) they had not anything (i.e. money) in their hands, while the Ansar possessed lands and date palms. They divided their properties with the Muhajirs. The Ansar divided and gave them on the condition that they would give half the fruit from the orchards every year, and the Muhajirs would recompense them by working with them and putting in labor. The mother of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ was called Umm Sulaim رضی اللہ عنہا and she was also the mother of 'Abdullah bin Talha who was a brother of Anas رضی اللہ عنہ from his mother's side. The mother of Anas رضی اللہ عنہ had given the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) her date-palms. He bestowed them upon Umm Aiman, the slave-girl who had been freed by him and was the mother of Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ . When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) had finished the war with the people of Khaibar and returned to Medina, the Muhajirs returned to the Ansar all the gifts which they had given them out of the fruits. (Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said: ) The Messenger of. Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) returned to my mother her date-palms and gave to Umm Aiman رضی اللہ عنہا instead of them date-palms from his orchard. Ibn Shihab says that Umm Aiman رضی اللہ عنہا was the mother of Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ who was the slave-girl of 'Abdullah bin 'Abdul-Muttalib and hailed from Abyssinia. When Amina gave birth to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) after the death of his father, Umm Aiman رضی اللہ عنہا used to nurse him until he grew up. He (later on) freed her and married her to Zaid bin Haritha رضی اللہ عنہ . She died five months after the death of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).

Urdu

مجھ سے ابو الطاہر اور حرملہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے بیان کیا, ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا

جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو اس حالت میں آئے کہ ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا ، جبکہ انصار زمین اور جائدادوں والے تھے ۔ تو انصار نے ان کے ساتھ اس طرح حصہ داری کی کہ وہ انہیں ہر سال اپنے اموال کی پیداوار کا آدھا حصہ دیں گے اور یہ ( مہاجرین ) انہیں محنت و مشقت سے بے نیاز کر دیں گے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ، جو ام سلیم کہلاتی تھیں اور عبداللہ بن ابی طلحہ جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے مادری بھائی تھے ، کی بھی والدہ تھیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ( انہی ) والدہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے اپنے کچھ درخت دیے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اپنی آزاد کردہ کنیز ، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ ، ام ایمن رضی اللہ عنہا کو عنایت کر دیے تھے ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل خیبر کے خلاف جنگ سے فارغ ہوئے اور مدینہ واپس آئے تو مہاجرین نے انصار کو ان کے وہ عطیے واپس کر دیے جو انہوں نے انہیں اپنے پھلوں ( کھیتوں باغوں ) میں سے دیے تھے ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری والدہ کو ان کے کھجور کے درخت واپس کر دیے اور ام ایمن رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جگہ اپنے باغ میں سے ( ایک حصہ ) عطا فرما دیا ۔ ابن شہاب نے کہا : اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے حالات یہ ہیں کہ وہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد گرامی ) عبداللہ بن عبدالمطلب کی کنیز تھیں ، اور وہ حبشہ سے تھیں ، اپنے والد کی وفات کے بعد جب حضرت آمنہ کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی تو ام ایمن رضی اللہ عنہا آپ کو گود میں اٹھاتیں اور آپ کی پرورش میں شریک رہیں یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہو گئے تو آپ نے انہیں آزاد کر دیا ، پھر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کرا دیا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پانچ ماہ بعد فوت ہو گئیں.

Hadith 4604
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ، كُلُّهُمْ عَنِ الْمُعْتَمِرِ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا، - وَقَالَ حَامِدٌ، وَابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى أَنَّ الرَّجُلَ - كَانَ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ مِنْ أَرْضِهِ حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ، فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِ مَا كَانَ أَعْطَاهُ، قَالَ أَنَسٌ: وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْأَلَهُ مَا كَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ، وَكَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِيهِنَّ، فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي، وَقَالَتْ: وَاللهِ، لَا نُعْطِيكَاهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُمَّ أَيْمَنَ، اتْرُكِيهِ وَلَكِ كَذَا وَكَذَا»، وَتَقُولُ: كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَجَعَلَ يَقُولُ: كَذَا حَتَّى أَعْطَاهَا عَشْرَةَ أَمْثَالِهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ عَشَرَةِ أَمْثَالِهِ.
English

It has been narrated by Anas رضی اللہ عنہ that (after his migration to Medina):

A person placed at the Prophet's ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) disposal some date-palms growing on his land until the lands of Quraiza and Nadir were conquered. Then he began to return to him whatever he had received. (In this connection) my people told me to approach the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) and ask from him what his people had given him or a portion thereof, but the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had bestowed those trees upon Umm Aiman رضی اللہ عنہا. So I came to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he gave hem (back) to me. Umm Aiman رضی اللہ عنہا (also) came (at this time). She put the cloth round my neck and said: No, by Allah, we will not give to, you what he has granted to me. The Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: Umm Aiman رضی اللہ عنہا , let him have them and for you are such and such trees instead. But she said: By Allah, there is no god besides Him. No, never! The Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) continued saying: (You will get) such and such. until he had granted her ten times or nearly ten times more (than the original gift).

Urdu

ابوبکر بن ابی شیبہ ، حامد بن عمر بکراوی اور محمد بن عبدالاعلیٰ قیسی ، سب نے معتمر سے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں ۔ ہمیں معتمر بن سلیمان تیمی نے اپنے والد کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ

کوئی آدمی ۔ ۔ جبکہ حامد اور عبدالاعلیٰ نے کہا : کوئی مخصوص آدمی ۔ ۔ اپنی زمین سے کھجوروں کے کچھ درخت ( فقرائے مہاجرین کی خبر گیری کے لیے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص کر دیتا تھا ، حتی کہ قریظہ اور بنونضیر آپ کے لیے فتح ہو گئے تو اس کے بعد جو کسی نے آپ کو دیا تھا ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرنا شروع کر دیا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے گھر والوں نے مجھ سے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ سے وہ سب یا اس کا کچھ حصہ مانگوں ، جو ان کے گھر والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا ۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے وہ سب کا سب مجھے دے دیا ، اس پر ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں ، میرے گلے میں کپڑا ڈالا اور کہنے لگیں : اللہ کی قسم! ہم وہ ( درخت ) تمہیں نہیں دیں گے ، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہمیں دے چکے ہیں ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ام ایمان! اسے چھوڑ دو ، اتنا اتنا تمہارا ہوا وہ کہتی تہیں : ہرگز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! اور آپ اسی طرح فرماتے رہے حتی کہ آپ نے اسے دس گنا یا تقریبا دس گنا عطا فرما دیا.

Hadith 4605
Sahih
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: أَصَبْتُ جِرَابًا مِنْ شَحْمٍ، يَوْمَ خَيْبَرَ، قَالَ: فَالْتَزَمْتُهُ، فَقُلْتُ: لَا أُعْطِي الْيَوْمَ أَحَدًا مِنْ هَذَا شَيْئًا، قَالَ: «فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَسِّمًا.
English

It has been narrated on the authority of Abdullah bin Mughaffal:

Who said I found a bag containing fat on the day of the Battle of Khaibar. I caught hold of it and said: I will not give anything today from it to anybody. Then I turned round and saw that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was smiling (at my words).

Urdu

ہم سے شیبان بن فروخ نے بیان کیا, ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حمید بن ہلال نے عبداللہ بن مغفل سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا

خیبر کے دن مجھے چربی کا ( بھرا ہوا ) چمڑے کا ایک تھیلا ملا ۔ کہا : میں نے اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا اور کہا : آج کے دن میں اس میں سے کسی کو کچھ نہیں دوں گا ۔ کہا : میں نے مڑ کر دیکھاتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے.

Hadith 4606
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، يَقُولُ: رُمِيَ إِلَيْنَا جِرَابٌ فِيهِ طَعَامٌ، وَشَحْمٌ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَوَثَبْتُ لِآخُذَهُ، قَالَ: فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ‘وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ، وَلَمْ يَذْكُرِ الطَّعَامَ.
English

'Abdullah bin Mughaffal رضی اللہ عنہ said:

A bag containing food and fat was thrown to us. I kept forward to catch it. Then I turned round and saw (to my surprise) the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) and I felt ashamed of my act in his presence. Shu'ba narrated it with this chain (a hadith similar to no. 4604), except that he said: A leader bag full of fats, and he did not mention food.

Urdu

ہم سے محمد بن بشار العبدی نے بیان کیا, بہز بن اسد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے حمید بن ہلال نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کو یہ بتاتے ہوئے سنا

خیبر کے دن ہماری طرف چمڑے کا ایک تھیلا پھینکا گیا جس میں کھانا اور چربی تھی ، میں اسے پکڑنے کے لیے جھپٹا ۔ کہا : میں نے مڑ کر دیکھا تو ( پیچھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے ۔ تو مجھے آپ سے بہت حیا آئی ۔ ابوداود نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے "" چربی کا ( بھرا ہوا ) تھیلا "" کہا ، کھانے کا ذکر نہیں کیا.

Hadith 4607
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ، أَخْبَرَهُ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيهِ، قَالَ: انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّامِ [ص:1394] إِذْ جِيءَ بِكِتَابٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ يَعْنِي عَظِيمَ الرُّومِ، قَالَ: وَكَانَ دَحْيَةُ الْكَلْبِيُّ جَاءَ بِهِ، فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى إِلَى هِرَقْلَ، فَقَالَ هِرَقْلُ: هَلْ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ، فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَقُلْتُ: أَنَا، فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِي خَلْفِي، ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهِ، فَقَالَ لَهُ: قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: وَايْمُ اللهِ، لَوْلَا مَخَافَةُ أَنْ يُؤْثَرَ عَلَيَّ الْكَذِبُ لَكَذَبْتُ، ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: سَلْهُ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ، قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: وَمَنْ يَتَّبِعُهُ؟ أَشْرَافُ النَّاسِ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ، قَالَ: أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، بَلْ يَزِيدُونَ، قَالَ: هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: تَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالًا يُصِيبُ مِنَّا وَنُصِيبُ مِنْهُ، قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قُلْتُ: لَا، وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا [ص:1395]، قَالَ: فَوَاللهِ مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ، قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُ إِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ حَسَبِهِ، فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو حَسَبٍ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ، فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ قُلْتُ رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ، وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعِهِ أَضُعَفَاؤُهُمْ أَمْ أَشْرَافُهُمْ، فَقُلْتَ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ يَذْهَبَ فَيَكْذِبَ عَلَى اللهِ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَهُ سَخْطَةً لَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ إِذَا خَالَطَ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَزِيدُونَ أَوْ يَنْقُصُونَ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّكُمْ قَدْ قَاتَلْتُمُوهُ فَتَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالًا يَنَالُ مِنْكُمْ وَتَنَالُونَ مِنْهُ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَغْدِرُ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ لَا يَغْدِرُ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ: لَو قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قُلْتُ رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: بِمَ يَأْمُرُكُمْ؟ قُلْتُ: يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ، قَالَ: إِنْ يَكُنْ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًّا فَإِنَّهُ نَبِيٌّ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ، وَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّهُ مِنْكُمْ، وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَأَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ، وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ [ص:1396]، قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، وَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ، وَ {يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابا مِنْ دُونِ اللهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ}» فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ عِنْدَهُ وَكَثُرَ اللَّغْطُ، وَأَمَرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا، قَالَ، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا: لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ، إِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا بِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ، حَتَّى أَدْخَلَ اللهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ.
English

It has been narrated on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہ who learnt the tradition personally from Abu Safyan رضی اللہ عنہ :

The latter said: I went out (on a mercantile venture) during the period (of truce) between me and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌). While I was in Syria, the letter of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) was handed over to Hiraql (Ceasar), the Emperor of Rome (who was on a visit to Jerusalem at that time). The letter was brought by Dihya Kalbi رضی اللہ عنہ who delivered it to the governor of Busra The governor passed it on to Hiraql, (On receiving the letter), he said: Is there anyone from the people of this man who thinks that he is a prophet. People said: Yes. So, I was called along with a few others from the Quraish. We were admitted to Hiraql and he seated us before him. He asked: Which of you has closer kinship with the man who thinks that he is a prophet? Abu Sufyan said: I. So they seated me in front of him and stated my companions behind me. Then, he called his interpreter and said to him: Tell them that I am going to ask this fellow (i. e. Abu Sufyan) about the man who thinks that he is a prophet. It he tells me a lie, then refute him. Abu Sufyan told (the narrator): By God, if there was not the fear that falsehood would be imputed to me I would have lied. (Then) Hiraqi said to his interpreter: Inquire from him about his ancestry, I said: He is of good ancestry among us. He asked: Has there been a king among his ancestors? I said: No. He asked: Did you accuse him of falsehood before he proclaimed his prophethood? I said: No. He asked: Who are his follower people of high status or low status? I said: (They are) of low status. He asked: Are they increasing in number or decreasing? I said. No. they are rather increasing. He asked: Does anyone give up his religion, being dissatisfied with it, after having embraced it? I said: No. He asked: Have you been at war with him? I said: Yes. He asked: How did you fare in that war? I said: The war between us and him has been wavering like a bucket, up at one turn and down at the other (i. e. the victory has been shared between us and him by turns). Sometimes he suffered loss at our hands and sometimes we suffered loss at his (hand). He asked: Has he (ever) violated his covenant? I said: No. but we have recently concluded a peace treaty with him for a petiod and we do not know what he is going to do about it. (Abu Sufyin said on oath that he could not interpolate in this dialogue anything from himself more than these words ) He asked: Did anyone make the proclamation (Of prophethood) before him? I said: No. He (now) said to his interpreter: Tell him, I asked him about his ancestry and he had replied that he had the best ancestry. This is the case with Prophets; they are the descendants of the noblest among their people (Addressing Abu Sufyan), he continued: I asked you if there had been a king among his ancestors. You said that there had been none. If there had been a king among his ancestors, I would have said that he was a man demanding his ancestral kingdom. I asked you about his followers whether they were people of high or low status, and you said that they were of rather low status. Such are the followers of the Prophets. I asked you whether you used to accuse him of falsehood before he proclaimed his prophethood, and you said that you did not. So I have understood that when he did not allow himself to tell a lie about the poeple, he would never go to the length of forging a falsehood about Allah. I asked you whether anyone renounced his religion being dissatisfied with it after he had embraced it, and you replied in the negative. Faith is like this when it enters the depth of the heart (it perpetuates them). I asked you whether his followers were increasing or decreasing. You said they were increasing. Faith is like this until it reaches its consummation. I asked you whether you had been at war with him, and you replied that you had been and that the victory between you and him had been shared by turns, sometimes he suffering loss at your hand and sometimes you suffering lost at his. This is how the Prophets are tried before the final victory its theirs. I asked you whether he (ever) violated his covenant, and you said that he did not. This is how the Prophets behave. They never violate (their covenants). I asked you whether anyone before him had proclaimed the same thing, and you replied in the negative. I said: If anyone had made the same proclamation before, I would have thought that he was a man following what had been proclaimed before. (Then) he asked: What does he enjoin upon you? I said: He exhorts us to offer Salat, to pay Zakat, to show due regard to kinship and to practise chastity. He said: It what you have told about him is true, he is certainly a Prophet. I knew that he was to appear but I did not think that he would be from among you. If I knew that I would be able to reach him. I would love to meet him; and it I had been with him. I would have washed his feet (out of reverence). His dominion would certainly extend to this place which is under my feet. Then he called for the letter of the Messenger of Allah (may pface be upon him) and read it. The letter ran as follows: In the name of Allah, Most Gracious and Most Merciful. From Muhammad, the Messenger of Allah, to Hiraql, the Emperor of the Romans. Peace be upon him who follows the guidance. After this, I extend to you the invitation to accept Islam. Embrace Islam and you will be safe. Accept Islam, God will give you double the reward. And if you turn away, upon you will be the sin of your subjects. O People of the Book, come to the word that is common between us that we should worship none other than Allah, should not ascribe any partner to Him and some of us should not take their fellows as Lords other than Allah. If they turn away, you should say that we testify to our being Muslims [iii. 64]. When he hid finished the reading of the letter, noise and confused clamour was raise around him, and he ordered us to leave. Accordingly, we left. (Addressing my companions) while we were coming out (of the place). I said: Ibn Abu Kabsha (referring sarcastically to the Holy Prophet) has come to wield a great power. Lo! (even) the king of the Romans is afraid of him. I continued to believe that the authority of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) would triumph until God imbued me with (the spirit of) Islam.

Urdu

ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظَلی، ابن ابی عمر، محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے بیان کیا اور ابن رافع نے کہا: رافع: اور ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، اور باقی دو نے کہا: ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں روبرو بتایا ، کہا

( معاہدہ صلح کی ) اس مدت کے دوران میں جو میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان تھی ، میں سفر پر گیا ۔ کہا : اس اثنا میں ، جب میں شام میں تھا ، ہر قل ، یعنی شامِ روم کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک خط لایا گیا ۔ کہا : اسے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ لے کر آئے اور حاکم بُصریٰ کے حوالے کیا ، بصریٰ کے حاکم نے وہ ہرقل تک پہنچا دیا تو ہرقل نے کہا : کیا اس شخص کی قوم میں سے ، جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے ، کوئی شخص یہاں موجود ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ کہا : تو قریش کے کچھ افراد سمیت مجھے بلایا گیا ، ہم ہرقل کے پاس آئے تو اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا اور پوچھا : تم میں سے نسب میں اس آدمی کے سب سے زیادہ قریب کون ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ ابوسفیان نے کہا : میں نے جواب دیا : میں ہوں ۔ تو ان لوگوں نے مجھے ان کے سامنے بٹھا دیا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا ، پھر اس نے اپنے ترجمان کو بلایا اور اس سے کہا : ان سے کہہ دو : میں اس آدمی سے اس شخص کے بارے میں پوچھنے لگا ہوں جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے ، اگر یہ میرے سامنے جھوٹ بولے تو تم لوگ اس کی تکذیب کر دینا ۔ کہا : ابوسفیان نے کہا : اللہ کی قسم! اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ میری طرف جھوٹ کی نسبت کی جائے گی تو میں جھوٹ بولتا ۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا : اس سے پوچھو : تم میں اس کا حسب ( خاندان ) کیسا ہے؟ کہا : میں نے جواب دیا : وہ ہم میں حسب والا ہے ۔ اس نے پوچھا : کیا اس کے آباء و اجداد میں سے کوئی بادشاہ بھی تھا؟ میں نے جواب دیا : نہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا اس نے ( نبوت کے حوالے سے ) کو کہا ، اس کے کہنے سے پہلے تم اس پر جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے تھے؟ میں نے جواب دیا : نہیں ۔ اس نے پوچھا : اس کے پیروکار کون لوگ ہیں؟ بڑے لوگ ہیں یا کمزور لوگ ہیں؟ میں نے جواب دیا : بلکہ کمزور لوگ ہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ کہا : میں نے جواب دیا : نہیں ، بلکہ وہ بڑھ رہے ہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا ان میں سے کوئی اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد اسے ناپسند کرتے ہوئے مرتد بھی ہوتا ہے؟ میں نے جواب دیا : نہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا تم نے اس سے جنگ بھی کی ہے؟ میں نے جواب دیا : ہاں ۔ اس نے پوچھا : تو تمہاری اس سے جنگ کیسی رہی؟ میں نے جواب دیا : ہمارے اور اس کے درمیان جنگ کنویں کے ڈول کی طرح ہے ، وہ ہمیں نقصان پہنچاتا ہے اور ہم اسے نقصان پہنچاتے ہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا وہ بدعہدی کرتا ہے؟ میں نے جواب دیا : نہیں ، ہم اس کی جانب سے ( کی گئی ) صلح کے زمانے میں ہیں ، ہمیں معلوم نہیں ، وہ اس میں کیا کرے گا ۔ کہا : اللہ کی قسم! اس ایک کلمے کے سوا اس میں کوئی اور بات ملانا میرے لیے ممکن نہ ہوا ۔ اس نے پوچھا : کیا اس سے پہلے کسی نے وہ بات کہی ہے؟ میں نے جواب دیا : نہیں ۔ اس نے اپنے ترجمان سے کہا : ان سے کہو : میں نے تم سے اس کے حسب کے بارے میں پوچھا تو تم نے کہا کہ وہ تم میں ( اونچے ) حسب والا ہے ۔ رسول اسی طرح ہوتے ہیں ، اپنی قوم کے اعلیٰ خاندانوں میں بھیجے جاتے ہیں ۔ اور میں نے پوچھا : کیا اس کے آباء و اجداد میں کوئی بادشاہ تھا؟ تو تم نے دعویٰ کیا : نہیں ، میں نے ( دل میں ) کہا : اگر اس کے آباء و اجداد میں کوئی بادشاہ ہوتا تو میں کہتا : وہ آدمی اپنے آباء کی بادشاہت حاصل کرنا چاہتا ہے اور میں نے تم سے اس کے پیروکاروں کے بارے میں پوچھا : وہ کمزور لوگ ہیں یا اشراف ہیں؟ تو تم نے کہا : بلکہ وہ کمزور لوگ ہیں ، رسولوں کے پیروکار وہی لوگ ہوتے ہیں ۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ جو وہ کہتا ہے اس سے پہلے تم اس پر جھوٹ کا الزام لگاتے تھے تو تم نے کہا : نہیں ، اس طرح میں جان گیا کہ یہ ممکن نہیں کہ وہ لوگوں پر تو جھوٹ نہ بولے مگر اللہ پر جھوٹ باندھنے لگے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا : کیا اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی اس سے ناراض ہو کر اس کے دین سے نکلا ہے؟ تو تم نے کہا : نہیں ، ایمان جب دلوں میں رچ بس جاتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا : کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ تو تم نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں ، ایمان ایسا ہی ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ مکمل ہو جاتا ہے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا : کیا تم نے اس سے لڑائی کی؟ تو تم نے کہا کہ ( ہاں ) تم نے اس سے لڑائی کی ہے اور تمہارے اور اس کے درمیان جنگ ڈول کی طرح ہے ، وہ تم میں سے لوگوں کو قتل کرتا ہے اور تم اس کے لوگوں میں سے قتل کرتے ہو ، رسول اسی طرح ہوتے ہیں ، انہیں آزمایا جاتا ہے ، پھر انجام انہی کے حق میں ہوتا ہے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا : کیا وہ عہد شکنی کرتا ہے؟ تو تم نے کہا کہ وہ عہد شکنی نہیں کرتا اور رسول اسی طرح ہوتے ہیں ، وہ بدعہدی نہیں کرتے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا : کیا اس سے پہلے کسی نے یہ بات کہی ( کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟ ) تو تم نے کہا : نہیں ، میں نے ( دل میں ) کہا : اگر کسی نے اس سے پہلے یہ بات کہی ہوتی تو میں کہتا : یہ آدمی وہی بات کہنا چاہتا ہے جو اس سے پہلے کہی جا چکی ہے ۔ کہا : پھر اس نے پوچھا : وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے؟ میں نے جواب دیا : وہ ہمیں نماز ، زکاۃ ، صلہ رحمی اور پاکبازی کا حکم دیتا ہے ۔ اس نے کہا : اگر تم جو اس کے بارے میں کہتے ہو ، سچ ہے ، تو بلاشبہ وہ نبی ہے اور میں جانتا تھا کہ اس کا ظہور ہونے والا ہے لیکن میں یہ نہیں سمجھتا تھا کہ وہ تم میں سے ہو گا ، اور اگر مجھے علم ہو جائے کہ میں ان تک پہنچ سکتا ہوں تو میں ان سے ملنے کو محبوب رکھوں ۔ اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو میں ان کے پاؤں دھوتا اور ان کی حکومت اس زمین تک پہنچ کر رہے گی جو میرے قدموں کے نیچے ہے ۔ کہا : پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور اسے پڑھا تو اس میں ( لکھا ) تھا : اللہ کے نام سے جو بہت زیادہ رحم کرنے والا ، ہمیشہ مہربانی کرنے والا ہے ، اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شاہ ، روم ہرقل کے نام ، اس پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کا اتباع کیا ، اس کے بعد ، میں تمہیں اسلام کے بلاوے کے ساتھ دعوت دیتا ہوں ، اسلام قبول کر لو ، سلامتی پا لو گے ، اسلام قبول کر لو ، اللہ تمہیں دو بار اجر دے گا اور اگر تم نے منہ موڑ لیا تو کسانوں ( عام لوگوں ) کا گناہ ( جو تمہارے پیچھے چلتے ہیں ) تم پر ہو گا ۔ اور "" اے اہل کتاب! اس بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان ایک جیسی ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں ، ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے ، پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہہ دیں ، ( تم ) گواہ رہو کہ ہم فرماں بردار ( اسلام قبول کرنے والے ) ہیں ۔ "" جب وہ خط پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے پاس آوازیں بلند ہونے لگیں اور شور بڑھ گیا ، اس نے ہمارے بارے میں حکم دیا تو ہمیں باہر بھیج دیا گیا ۔ کہا : جب ہم باہر نکلے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا : ابوکبشہ کے بیٹے کا معاملہ تو بہت بڑا ہو گیا ہے ، اس سے تو بنو اصفر ( اہل روم ) کا بادشاہ بھی خوف کھاتا ہے ۔ کہا : اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں مجھے ہمیشہ یقین رہا کہ وہ غالب آئیں گے ، یہاں تک کہ اللہ نے مجھ میں اوپر سے ( غالب کر کے ) اسلام داخل کر دیا.

Hadith 4608
Sahih
وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، وَكَانَ قَيْصَرُ لَمَّا كَشَفَ اللهُ عَنْهُ جُنُودَ فَارِسَ مَشَى مِنْ حِمْصَ إِلَى إِيلِيَاءَ شُكْرًا لِمَا أَبْلَاهُ اللهُ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: «مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللهِ وَرَسُولِهِ»، وَقَالَ: «إِثْمَ الْيَرِيسِيِّينَ»، وَقَالَ: «بِدَاعِيَةِ الْإِسْلَامِ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters but with the addition:

When Allah inflicted defeat on the armies of Persia, Caesar moved from Hims to Aelia (Bait al-Maqdis) for thanking Allah as He granted him victory. In this hadith these words occur: From Muhammad, servant of Allah and His Messenger, and said: The sin of your followers, and also said the words: to the call of Islam .

Urdu

ہم سے حسن حلوانی اور عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا: ہم سے یعقوب نے جو ابراہیم بن سعد کے بیٹے ہیں، بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا, صالح نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور حدیث میں یہ اضافہ کیا

جب اللہ نے قیصر ( کے سر پر سے ) فارس کے لشکروں کو ہتا دیا تو وہ اس نعمت کا شکر ادا کرنے کے لیے ، جو اللہ نے اس پر کی تھی ، پیدل چل کر حمص سے ایلیاء گیا ، اور انہوں نے حدیث میں ( یوں ) کہا : " اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے ۔ " اور انہوں نے ( اریسین کے بجائے یاء کے ساتھ ) یریسین اور " اسلام کی طرف بلانے والے کلمے کے ساتھ ( دعوت دیتا ہوں ) " کے الفاظ کہے.

Hadith 4609
Sahih
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى كِسْرَى، وَإِلَى قَيْصَرَ، وَإِلَى النَّجَاشِيِّ، وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ تَعَالَى»، وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
English

It has been narrated on the authority of Anas رضی اللہ عنہ :

The Prophet of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) wrote to Chosroes (King of Persia), Caesar (Emperor of Rome), Negus (King of Abyssinia) and every (other) despot inviting them to Allah, the Exalted. And this Negus was not the one for whom the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said the funeral prayers.

Urdu

مجھ سے یوسف بن حماد المعنی نے کہا, عبدالاعلیٰ نے ہمیں سعید ( بن ابی عروبہ ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ ، قیصر ، نجاشی اور ہر متکبر بادشاہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہوئے خطوط لکھ بھیجے ، اور اس سے وہ نجاشی مراد نہیں جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ ( اس کے بعد والے نجاشی کی طرف خط لکھا)

Hadith 4610
Sahih
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرُّزِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُلْ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
English

The tradition has been narrated on the authority of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ (the same narrator) through a different chain of transmitters, but this version does not mention:

And he was not the Negus for whom the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said the funeral prayers.

Urdu

اور ہم سے محمد بن عبداللہ الرازی نے بیان کیا, عبدالوہاب بن عطاء نے سعید سے ، انہوں نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ، اور انہوں نے یہ نہیں کہا

اور یہ نجاشی وہ نہیں تھا جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی تھی.

Hadith 4611
Sahih
وحَدَّثَنِيهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
English

It was narrated from Qatadah, from Anas رضی اللہ عنہ (a similar report as no. 4609), but he did not say:

That was not the Negus for whom the prophet ﷺ offered the funeral prayer ( similar report as no. 4609).

Urdu

مجھ سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا، میرے والد نے مجھ سے کہا, خالد بن قیس نے قتادہ سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور انہوں نے بھی یہ ذکر نہیں کیا

یہ نجاشی وہ نہیں تھا جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی تھی.

Hadith 4612
Sahih
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: قَالَ عَبَّاسٌ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَلَزِمْتُ أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُفَارِقْهُ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نُفَاثَةَ الْجُذَامِيُّ، فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ، قَالَ عَبَّاسٌ: وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا إِرَادَةَ أَنْ لَا تُسْرِعَ، وَأَبُو سُفْيَانَ آخِذٌ بِرِكَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْ عَبَّاسُ، نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ»، فَقَالَ عَبَّاسٌ: وَكَانَ رَجُلًا صَيِّتًا، فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي: أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ؟ قَالَ: فَوَاللهِ، لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلَادِهَا، فَقَالُوا: يَا لَبَّيْكَ، يَا لَبَّيْكَ، قَالَ: فَاقْتَتَلُوا وَالْكُفَّارَ، وَالدَّعْوَةُ فِي الْأَنْصَارِ يَقُولُونَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: ثُمَّ قُصِرَتِ الدَّعْوَةُ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، فَقَالُوا: يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ» قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ، ثُمَّ قَالَ: «انْهَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ» قَالَ: فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَى هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَى، قَالَ: فَوَاللهِ، مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلًا، وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا.
English

It has been narrated on the authority of 'Abbas رضی اللہ عنہ who said:

I was in the company of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) on the Day of Hunain. I and Abu Sufyan bin Harith bin 'Abdul-Muttalib رضی اللہ عنہ stuck to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) and we did not separate from him. And the Messenger of Allah (may place be upon him) was riding on his white mule which had been presented to him by Farwa bin Nufitha al-Judhami. When the Muslims had an encounter with the disbelievers, the Muslims fled, falling back, but the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) began to spur his mule towards the disbelievers. I was holding the bridle of the mule of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) checking it from going very fast, and Abu Sufyan رضی اللہ عنہ was holding the stirrup of the (mule of the) Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌), who said: Abbas رضی اللہ عنہ , call out to the people of al-Samura. Abbas رضی اللہ عنہ (who was a man with a loud voice) called out at the top of the voice: Where are the people of Samura? (Abbas رضی اللہ عنہ said: ) And by God, when they heard my voice, they came back (to us) as cows come back to their calves, and said: We are present, we are present! 'Abbas رضی اللہ عنہ said: They began to fight the infidels. Then there was a call to The Ansar. Those (who called out to them) shouted: O ye party of the Ansar! O party of the Ansar! Banu al-Harith b. al-Khazraj were the last to be called. Those (who called out to them) shouted: O Banu Al-Harith bin al-Khazraj! O Banu Harith bin al-Khazraj! And the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) who was riding on his mule looked at their fight with his neck stretched forward and he said: This is the time when the fight is raging hot. Then the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took (some) pebbles and threw them in the face of the infidels. Then he said: By the Lord of Muhammad, the infidels are defeated. 'Abbas رضی اللہ عنہ said: I went round and saw that the battle was in the same condition in which I had seen it. By Allah, it remained in the same condition until he threw the pebbles. I continued to watch until I found that their force had been spent out and they began to retreat.

Urdu

مجھ سے ابو الطاہر احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے کثیر بن عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا

حنین کے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا ، میں اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ، آپ سے جدا نہ ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر ( سوار ) تھے جو فرقہ بن نُفاثہ جذامی نے آپ کو تحفے میں دیا تھا ۔ جب مسلمانوں اور کفار کا آمنا سامنا ہوا تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگے ، ( مگر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر کو ایڑ لگا کر ، کفار کی جانب بڑھنے لگے ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھا ، میں چاہتا تھا کہ وہ تیزی سے ( آگے ) نہ بڑھے اور ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب کو پکڑا ہوا تھا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عباس! کیکر کے درخت ( کے نیچے بیعت کرنے ) والوں کو آواز دو ۔ " حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : ۔ ۔ اور وہ بلند آواز والے تھے ۔ ۔ میں نے اپنی بلند ترین آواز سے پکار کر کہا : کیکر کے درخت والے کہاں ہیں؟ کہا : اللہ کی قسم! میری آواز سن کر ان کا پلٹنا اس طرح تھا جیسے گائے اپنے بچوں کی ( آواز سن کر ان کی ) طرف پلٹتی ہے ۔ اور وہ ( جواب میں ) کہنے لگے : حاضر ہیں! حاضر ہیں! کہا : تو وہ کفار سے بھڑ گئے ، پھر انصار میں بلاوا دیا گیا ( بلاوا دینے والے ) کہتے تھے : اے انصار کی جماعت! اے انصار کی جماعت! پھر اس ندا کو بنی حارث بن خزرج تک محدود کر دیا گیا اور انہوں نے کہا : اے بنو حارث بن خزرج! اے بنو حارث بن خزرج! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خچر پر بیٹھے ہوئے ، گردن کو آگے کر کے دیکھنے والے کی طرح ، ان کی لڑائی کا جائزہ لیا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ گھڑی ہے کہ ( لڑائی کا ) تنور گرم ہوا ہے ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں پکڑیں اور انہیں کافروں کے چہروں پر مارا ، پھر فرمایا : " محمد کے پروردگار کی قسم! وہ شکست کھا گئے ۔ " کہا : میں دیکھنے لگا تو میرے خیال کے مطابق لڑائی اسی طرح جاری تھی ۔ کہا : اللہ کی قسم! پھر یہی ہوا کہ جونہی آپ نے ان کی طرف کنکریاں پھینکیں تو میں دیکھ رہا تھا کہ ان کی دھار کند ہو گئی ہے اور ان کا معاملہ پیچھے جانے کا ہے.

Hadith 4613
Sahih
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَرْوَةُ بْنُ نُعَامَةَ الْجُذَامِيُّ، وَقَالَ: «انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ»، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ حَتَّى هَزَمَهُمُ اللهُ، قَالَ: وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ خَلْفَهُمْ عَلَى بَغْلَتِهِ.
English

A similar report (as no.4612) was narrated from Az-Zuhri with this chain except that he said:

They have been defeated, by Lord of the Ka'ba, they have been defeated, by Lord of the Ka'ba. And there is at the end the addition of the words: Until Allah defeated them (and I imagine) as if I saw the Prophet of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) chasing them on his mule.

Urdu

ہم سے اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے بیان کیا، یہ سب عبدالرزاق کی سند سے ہیں, معمر نے ہمیں زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح خبر دی ، البتہ انہوں نے فروہ بن ( نفاثہ کی جگہ ) نعامہ جذامی ( صحیح نفاثہ ہی ہے ) کہا اور کہا

"" رب کعبہ کی قسم! وہ شکست کھا گئے ۔ رب کعبہ کی قسم! وہ شکست کھا گئے ۔ "" اور انہوں نے حدیث میں یہ اضافہ کیا : یہاں تک کہ اللہ نے انہیں شکست دے دی ۔ کہا : ایسے لگتا ہے کہ میں ( اب بھی ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ان کے پیچھے اپنے خچر کو ایڑ لگا رہے ہیں.

Hadith 4614
Sahih
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ يُونُسَ، وَحَدِيثَ مَعْمَرٍ أَكْثَرُ مِنْهُ وَأَتَمُّ.
English

Abbas رضی اللہ عنہ reported:

I was with Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on the Day of Hunain. The rest of the hadith is the same but with this variation that the hadith transmitted by Yonus and Ma'mar is more detailed and complete.

Urdu

ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا, سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے کثیر بن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے خبر دی ، انہوں نے کہا

حنین کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا ۔ ۔ ۔ اور ( آگے باقی ماندہ ) حدیث بیان کی ، البتہ یونس اور معمر کی حدیث ان ( سفیان ) کی حدیث سے زیادہ لمبی اور زیادہ مکمل ہے.

Hadith 4615
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ: يَا أَبَا عُمَارَةَ، أَفَرَرْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ؟ قَالَ: لَا وَاللهِ، مَا وَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنَّهُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ، وَأَخِفَّاؤُهُمْ حُسَّرًا، لَيْسَ عَلَيْهِمْ سِلَاحٌ - أَوْ كَثِيرُ سِلَاحٍ -، فَلَقُوا قَوْمًا رُمَاةً لَا يَكَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ، جَمْعَ هَوَازِنَ وَبَنِي نَصْرٍ، فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا مَا يَكَادُونَ يُخْطِئُونَ، فَأَقْبَلُوا هُنَاكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُودُ بِهِ، فَنَزَلَ فَاسْتَنْصَرَ، وَقَالَ: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ»، ثُمَّ صَفَّهُمْ.
English

It has been narrated on the authority of Abu Ishaq who said:

A man asked Bara' (bin 'Azib) رضی اللہ عنہ : Did you run away on the Day of Hunain. O, Abu Umira? He said: No, by Allah, The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not turn his back; (what actually happened was that) some young men from among his companions, who were hasty and who were either without any arms or did not have abundant arms, advanced and met a party of archers (who were so good shots) that their arrows never missed the mark. This party (of archers) belonged to Banu Hawazin and Banu Nadir. They shot at the advancing young men and their arrows were not likely to miss their targets. So these young men turned to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) while he was riding on his white mule and Abu Sufyan bin al-Harith bin 'Abdul-Muttalib رضی اللہ عنہ was leading him. (At this) he got down from his mule, invoked God's help, and called out: I am the Prophet. This is no untruth. I am the son of 'Abdul-Muttalib. Then he deployed his men into battle array.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا, ابوخیثمہ نے ہمیں ابواسحاق سے خبر دی ، انہوں نے کہا

ایک آدمی نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے کہا ابوعمارہ! کیا آپ لوگ حنین کے دن بھاگے تھے؟ انہوں نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخ تک نہیں پھیرا ، البتہ آپ کے ساتھیوں میں سے چند نوجوان اور جلد باز ( جنگ کے لیے ) نہتے نکلے تھے جن ( کے جسم ) پر اسلحہ یا بڑا اسلحہ نہیں تھا ، تو ان کی مڈبھیڑ ایسی تیر انداز قوم سے ہوئی جن کا کوئی تیر ( زمین ) پر نہ گرتا تھا ، ( نشانے پر لگتا تھا ) وہ بنو ہوازن اور بنو نضر کے جتھے تھے ، انہوں نے ان ( نوجوانوں ) کو اس طرح سے تیروں سے چھیدنا شروع کیا کہ کوئی نشانہ خطا نہ جاتا تھا ، پھر وہ لوگ وہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب بڑھے ، آپ اپنے سفید خچر پر تھے اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اسے چلا رہے تھے ، آپ نیچے اترے ( اللہ سے ) مدد مانگی اور فرمایا : "" میں نبی ہوں ، یہ جھوٹ نہیں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں "" پھر آپ نے ( نئے سرے سے ) ان کی صف بندی کی ( اور پانسہ پلٹ گیا).

Hadith 4616
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الْبَرَاءِ، فَقَالَ: أَكُنْتُمْ وَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَا أَبَا عُمَارَةَ؟ فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا وَلَّى، وَلَكِنَّهُ انْطَلَقَ أَخِفَّاءُ مِنَ النَّاسِ، وَحُسَّرٌ إِلَى هَذَا الْحَيِّ مِنْ هَوَازِنَ، وَهُمْ قَوْمٌ رُمَاةٌ، فَرَمَوْهُمْ بِرِشْقٍ مِنْ نَبْلٍ كَأَنَّهَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ، فَانْكَشَفُوا، فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ يَقُودُ بِهِ بَغْلَتَهُ، فَنَزَلَ وَدَعَا وَاسْتَنْصَرَ، وَهُوَ يَقُولُ: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ، اللهُمَّ نَزِّلْ نَصْرَكَ»، قَالَ الْبَرَاءُ: «كُنَّا وَاللهِ إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَتَّقِي بِهِ، وَإِنَّ الشُّجَاعَ مِنَّا لَلَّذِي يُحَاذِي بِهِ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
English

It has been narrated (through a different chain of transmitters) by Abu Ishaq:

A person said to Bara' (bin 'Azib) رضی اللہ عنہ : Abu Umara, did you flee on the Day of Hunain? He replied: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not retreat. (What actually happened was that some hasty young men who were either inadequately armed or were unarmed met a group of men from Banu Hawazin and Banu Nadir who happened to be (excellent) archers. The latter shot at them a volley of arrows that did not miss. The people turned to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). Abu Sufyan bin Harith رضی اللہ عنہ was leading his mule. So he got down, prayed and invoked God's help. He said: I am the Prophet. This is no untruth. I am the son of Abd al-Muttalib. O God, descend Thy help. Bara' رضی اللہ عنہ continued: When the battle grew fierce. we, by God. would seek protection by his side, and the bravest among us was he who confronted the onslaught and it was the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).

Urdu

ہم سے احمد بن جنب المصیصی نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا, زکریا نے ابواسحاق سے روایت کی ، انہوں نے کہا

ایک آدمی حضرت براء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور پوچھا : ابوعمارہ! کیا آپ لوگ حنین کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے؟ تو انہوں نے کہا : میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے رخ تک نہیں پھیرا ، کچھ جلد باز لوگ اور نہتے ہوازن کے اس قبیلے کی طرف بڑھے ، وہ تیر انداز لوگ تھے ، انہوں نے ان ( نوجوانوں ) پر اس طرح یکبارگی اکٹھے تیر پھینکے جیسے وہ تڈی دل ہوں ۔ اس پر وہ بکھر گئے ، اور وہ ( ہوازن کے ) لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے ، ابوسفیان ( بن حارث ) رضی اللہ عنہ آپ کے خچر کو پکڑ کر چلا رہے تھے ، تو آپ نیچے اترے ، دعا کی اور ( اللہ سے ) مدد مانگی ، آپ فرما رہے تھے : "" میں نبی ہوں ، یہ جھوٹ نہیں ، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۔ اے اللہ! اپنی مدد نازل فرما ۔ "" حضرت براء رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! جب لڑائی شدت اختیار کر جاتی تو ہم آپ کی اوٹ لیتے تھے اور ہم میں سے بہادر وہ ہوتا جو آپ کے ، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قدم ملا کر کھڑا ہوتا.

Hadith 4617
Sahih
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ، أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ؟ فَقَالَ الْبَرَاءُ: وَلَكِنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ، وَكَانَتْ هَوَازِنُ يَوْمَئِذٍ رُمَاةً، وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمِ انْكَشَفُوا، فَأَكْبَبْنَا عَلَى الْغَنَائِمِ، فَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ، وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا، وَهُوَ يَقُولُ: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ.
English

It was narrator that Abu Ishaq said:

I heard from Bara' رضی اللہ عنہ who was asked by a man from the Qais tribe: Did you run away from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on the Day of Hunain? Bara' رضی اللہ عنہ said: But the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not run away. On that day Banu Hawzzin took part in the battle as archers (on the side of the disbelievers). When we attacked them, they retreated and we fell upon the booty; (they rallied) and advanced towards us with arrows. (At that time) I saw the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) riding on his white mule and Abu Sufyan bin al-Harith رضی اللہ عنہ was holding its bridle. He (the Messenger of Allah was saying: I am the Prophet. This is no untruth. I am a descendant of 'Abdul-Muttalib.

Urdu

ہم سے محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، اور یہ قول ابن المثنیٰ کا ہے، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، شعبہ نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا

میں نے ( اس وقت ) حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا جب ( قبیلہ ) قیس کے ایک آدمی نے ان سے پوچھا : کیا آپ لوگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگے تھے؟ تو حضرت براء رضی اللہ عنہ نے کہا : لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بھاگے تھے ، اس زمانے میں ہوازن کے لوگ ( ماہر ) تیر انداز تھے ، جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ بکھر گئے ، پھر ہم غنیمتوں کی طرف متوجہ ہو گئے تو وہ تیروں کے ساتھ ہمارے سامنے آ گئے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سفید خچر پر دیکھا ، ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اس کی باگ تھامے ہوئے تھے اور آپ فرما رہے تھے : "" میں نبی ہوں ، یہ جھوٹ نہیں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں.

Hadith 4618
Sahih
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: قَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عُمَارَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ أَقَلُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ، وَهَؤُلَاءِ أَتَمُّ حَدِيثًا.
English

Abu Ishaq narrated:

A man said to Al-Bara' رضی اللہ عنہ : O Abu Umarah... and he narrated the same hadith (as no. 4616), but it was less complete than their Hadith.

Urdu

مجھ سے زہیر بن حرب، محمد بن المثنیٰ اور ابوبکر بن خلاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا, سفیان سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے ابواسحاق نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا

ایک آدمی نے ان سے پوچھا : ابوعمارہ! ۔ ۔ اور ( آگے ) حدیث بیان کی ، ان کی حدیث ان سب ( ابوخیثمہ ، زکریا اور شعبہ ) کی حدیث سے ( تفصیلات میں ) کم ہے اور ان سب کی حدیث زیادہ مکمل ہے.