It has been reported on the authority of Hudbaifa bin al-Yaman رضی اللہ عنہ who said:
Nothing prevented me from being present at! he Battle of Badr except this incident. I came out with my father Husail (to participate in the Battle), but we were caught by the disbelievers of Quraish. They said: (Do) you intend to go to Muhammad? We said: We do not intend to go to him, but we wish to go (back) to Medina. So they took from us a covenant in the name of God that we would turn back to Medina and would not fight on the side of Muhammad ( صلی اللہ علیہ وسلم ). So, we came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and related the incident to him. He said: Both, of you proceed (to Medina); we will fulfil the covenant made with them and seek God's help against them.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، ان سے ولید بن جمعہ نے بیان کیا، ہم سے ابو طفیل نے بیان کیا، وہ حذیفہ بن الیمان انہوں نے کہ
مجھے بدر کی گواہی سے کسی چیز نے نہیں روکا سوائے اس کے کہ میں اور میرے والس حسیل رضی اللہ عنہ ( جو یمان کے لقب سے معروف تھے ) دونوں نکلے تو ہمیں کفار قریش نے پکڑ لیا اور کہا : تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا چاہتے ہو؟ ہم نے کہا : ان کے پاس جانا نہیں چاہتے ، ہم تو صرف مدینہ منورہ جانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے ہم سے اللہ کے نام پر یہ عہد اور میثاق لیا کہ ہم مدینہ جائیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جنگ نہیں کریں گے ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو یہ خبر دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم دونوں لوٹ جاؤ ، ہم ان سے کیا ہوا عہد پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں گے.
It has been narrated by Ibrahim al-Taimi on the authority of his father who said:
We were sitting in the company of Hudhaifa رضی اللہ عنہ . A man said: If I were in the time of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), I would have fought by his side and would have striven hard for his causes. Hudhaifa رضی اللہ عنہ said: You might have done that, (but you should not make a flourish of your enthusiasm). I was with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on the night of the Battle of Abzib and we were gripped by a violent wind and severe cold. The Messenger of Allah (may peace be him) said: Hark, the man who (goes reconnoitring and) brings me the news of the enemy shall be ranked with me on the Day of Judgment by Allah (the Glorious and Exalted). We all kept quiet and none of us responed to him. (Again) he said: Hark, a man who (goes reconnoitring and) brings me the news of the enemy shall be ranked with me on the Day of Judgment by Allah (the Glorious and Exalted). We kept quiet and none of us responded to him. He again said: Hark, a man who (goes reconnoitring and) brings me the news of the enemy shall be ranked with me on the Day of Judgtuent by Allah (the Glorious and Exalted) Then he said: Get up Hudhaifa, bring me the news of the enemy. When he called me by name I had no alternative but to get up. He said: Go and bring me information about the enemy, and do nothing that may provoke them against me. When I left him, I felt warm as if I were walking in a heated bath untill I reached them. I saw Abu Sufyan warming his back against fire I put an arrow in the middle of the bow. intending to shoot at him, when I recalled the words of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) Do not provoke them against me. Had I shot at him, I would have hit him. But I returned and (felt warm as if) I were walking in a heated bath (hammam). Presenting myself before him, I gave him information about the enemy. When I had done so, I began to feel cold, so the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) wrapped me in a blanket that he had in excess to his own requirement and with which he used to cover himself while saying his prayers. So I continued to sleep until it was morning. When it was morning he said: Get up, O heavy sleeper.
ہم سے زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم نے جریر کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے جریر نے اعمش کی سند سے بیان کیا, ابراہیم تیمی کے والد ( یزید بن شریک ) سے روایت ہے ، انہوں نے کہا
ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ، ایک آدمی نے کہا : اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کو پا لیتا تو آپ کی معیت میں جہاد کرتا اور خوب لڑتا ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم ایسا کرتے؟ میں نے غزوہ احزاب کی رات ہم سب کو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہمیں تیز ہوا اور سردی نے اپنی گرفت میں لے رکھا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا کوئی ایسا مرد ہے جو مجھے ( اس ) قوم ( کے اندر ) کی خبر لا دے؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو میرے ساتھ رکھے! " ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : " کوئی شخص ہے جو میرے پاس ان لوگوں کی خبر لے آئے؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو میرے ساتھ رکھے! " ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے کوئی جواب نہ دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : " ہے کوئی شخص جو ان لوگوں کی خبر لا دے؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو میری رفاقت عطا فرمائے! " ہم خاموش رہے ، ہم میں سے کسی نے کوئی جواب نہ دیا ، آپ نے فرمایا : " حذیفہ! کھڑے ہو جاؤ اور تم مجھے ان کی خبر لا کے دو ۔ " جب آپ نے میرا نام لے کر بلایا تو میں نے اُٹھنے کے سوا کئی چارہ نہ پایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جاؤ ان لوگوں کی خبریں مجھے لا دو اور انہیں میرے خلاف بھڑکا نہ دینا ۔ " ( کوئی ایسی بات یا حرکت نہ کرنا کہ تم پکڑے جاؤ ، اور وہ میرے خلاف بھڑک اٹھیں ) جب میں آپ کے پاس سے گیا تو میری حالت یہ ہو گئی جیسے میں حمام میں چل رہا ہوں ، ( پسینے میں نہایا ہوا تھا ) یہاں تک کہ میں ان کے پاس پہنچا ، میں نے دیکھا کہ ابوسفیان اپنی پشت آگ سے سینک رہا ہے ، میں نے تیر کو کمان کی وسط میں رکھا اور اس کو نشانہ بنا دینا چاہا ، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آ گیا کہ " انہیں میرے خلاف بھڑکا نہ دینا " ( کہ جنگ اور تیز ہو جائے ) اگر میں اس وقت تیر چلا دیتا تو وہ نشانہ بن جاتا ، میں لوٹا تو ( مجھے ایسے لگ رہا تھا ) جیسے میں حمام میں چل رہا ہوں ، پھر جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کو ان لوگوں کی ( ساری ) خبربتائی اور میں فارغ ہوا تو مجھے ٹھنڈ لگنے لگی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( اپنی اس ) عبا کا بچا ہوا حصہ اوڑھا دیا جو آپ ( کے جسم اطہر ) پر تھی ، آپ اس میں نماز پڑھ رہے تھے ۔ میں ( اس کو اوڈھ کر ) صبح تک سوتا رہا ، جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا : " اے خوب سونے والے! اُٹھ جاو.
It has been reported on the authority of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
(when the enemy got the upper hand) on the day of the Battle of Uhud, the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was left with only seven men from the Ansar and two men from the Quraish. When the enemy advanced towards him and overwhelmed him, he said: Whoso turns them away from us will attain Paradise or will be my Companion in Paradise. A man from the Ansar came forward and fought (the enemy) until he was killed. The enemy advanced and overwhelmed him again and he repeated the words: Whoso turns them away, from us will attain Paradise or will be my Companion in Paradise. A man from the Ansar came forward and fought until he was killed. This state continued until the seven Ansar were killed (one after the other). Now, the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to his two Companions: We have not done justice to our Companions.
ہم سے حداب بن خالد الازدی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، علی بن زید اور ثابت البنانی نے, حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
جنگ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، انصار کے سات اور قریش کے دو آدمیوں ( سعد بن ابی وقاص اور طلحہ بن عبیداللہ تیمی رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ ( لشکر سے الگ کر کے ) تنہا کر دیے گئے ، جب انہوں نے آپ کو گھیر لیا تو آپ نے فرمایا : " ان کو ہم سے کون ہٹائے گا؟ اس کے لیے جنت ہے ، یا ( فرمایا : ) وہ جنت میں میرا رفیق ہو گا ۔ " تو انصار میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور اس وقت تک لڑتا رہا ، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا ، انہوں نے پھر سے آپ کو گھیر لیا ، آپ نے فرمایا : " انہیں کون ہم سے دور ہٹائے گا؟ اس کے لیے جنت ہے ، یا ( فرمایا : ) وہ جنت میں میرا رفیق ہو گا ۔ " پھر انصار میں سے ایک شخص آگے بڑھا وہ لڑا حتی کہ شہید ہو گیا ، پھر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا حتی کہ وہ ساتوں انصاری شہید ہو گئے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ( ان قریشی ) ساتھیوں سے فرمایا : " ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا.
It has been narrated on the authority of Abd-ul-'Aziz bin Abu Hazim, who learnt from his father (Abu Hazim):
The latter heard it from Sahl bin Sa'd رضی اللہ عنہ who was asked about the injury which the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) got on the day of the Battle of Uhud. He said: The face of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was injured, his front teeth were damaged and his helmet was crushed. Fatima رضی اللہ عنہا , the daughter of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), was washing the blood (from his head), and 'Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ was pouring water on it from a shield. When Fatima رضی اللہ عنہا saw that the bleeding had increased on account of (pouring) water (on the wound), she took a piece of mat and burnt it until it was reduced to ashes. She put the ashes on the wound and the bleeding stopped.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن نے بیان کیا, ابوحازم کے بیٹے عبدالعزیز نے اپنے والد سے بیان کیا کہ
انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے جنگ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے متعلق سوال کیا جا رہا تھا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی ہو گیا تھا اور سامنے ( ثنایا کے ساتھ ) کا ایک دانت ( رباعی ) ٹوٹ گیا تھا اور خود سر مبارک پر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاجزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ( آپ کے چہرے سے ) خود دھو رہی تھیں اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ڈھال سے اس ( زخم ) پر پانی ڈال رہے تھے ، جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا کہ پانی ڈالنے سے خون نکلنے میں اضافہ ہو رہا ہے تو انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا وہ راکھ ہو گیا ، پھر اس کو زخم پر لگا دیا تو خون رک گیا.
It has been reported on the authority of Abu Hazim who heard from Sahl bin Sa'd رضی اللہ عنہ :
The latter was asked about the injury of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He said: By God, I know the person who washed the wound of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), who poured water on it and with what the wound was treated. Then Sahl narrated the same tradition as has been narrated by 'Abdul-'Aziz except that he added the words: And his face was injured and replaced the word Hushimat by Kusirat (i.e. it was broken).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, یعقوب بن عبدالرحمن القاری نے ابوحازم سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا
ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کے متعلق سوال کیا جا رہا تھا ، انہوں نے کہا : سنو! اللہ کی قسم! مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زخم کون دھو رہا تھا اور پانی کون ڈال رہا تھا اور آپ کے زخم پر کون سی دوائی لگائی گئی ، پھر عبدالعزیز کی حدیث کی طرح بیان کیا ، مگر انہوں نے یہ اضافہ کیا : اور آپ کا چہرہ انور زخمی ہو گیا اور ۔ ۔ ( خود ) ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ۔ ۔ کی جگہ " ٹوٹ گیا " کہا.
This hadith was narrated from Sahl bin Sa'd رضی اللہ عنہ ( a similar hadith to no. 4642) from the prophet ﷺ. In the Hadith of Ibn Abi Hilal (it say):
His face was injured. And in the Hadith of Ibn Mutarrif it say: His face was wounded.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے روایت کی ہے, ابن عیینہ ، سعید بن ابی ہلال اور محمد بن مطرف ، ان سب نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، ابن ابی ہلال کی حدیث میں ہے
" آپ کا چہرہ مبارک نشانہ بنایا گیا " اور ابن مطرف کی حدیث میں ہے : " آپ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا.
It has been narrated on the authority of Anas رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had his front teeth damaged on the day of the Battle of Uhud, and got a wound on his head. He was wiping the blood (from his face) and was saying: How will these people attain salvation who have wounded their Prophet and broken his tooth while he called them towards God? At this time, God, the Exalted and Glorious, revealed the Verse: Thou hast no authority (iii. 127).
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے، ثابت کی سند سے, حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
جنگ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ( ثنائیہ کے ساتھ والا ) رباعی دانت ٹوٹ گیا اور آپ کے سر اقدس میں زخم لگا ، آپ اپنے سر سے خون پونچھتے تھے اور فرماتے تھے : " وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کے سر میں زخم لگایا اور اس کا رباعی کا دانت توڑ دیا ، اور وہ انہیں اللہ کی طرف بلا رہا تھا ۔ " اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : " اس معاملے میں آپ کے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں ( کہ وہ اللہ ان کی طرف توجہ فرمائے یا ان کو عذاب دے کہ وہ ظالم ہیں.
It has been narrated on the authority of 'Abdullah رضی اللہ عنہ who said:
It appeared to me as if I saw the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (and heard him) relate the story of a Prophet who had been beaten by his people, was wiping the blood from his face and was saying. My Lord, forgive my people, for they do not know.
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
جیسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں ، آپ انبیاء میں سے ایک نبی کا واقعہ بیان فرما رہے تھے جنہیں ان کی قوم نے مارا ، وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہے تھے اور ( یہ ) فرما رہے تھے : " اے اللہ! میری قوم کو معاف کر دے ، وہ نہیں جانتے ( کہ وہ کیا کر رہے ہیں).
It was narrated from Al-Amash with this chain (a hadith similar to no. 4645), except that he said:
He wiped the blood from his forehead.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں وکیع اور محمد بن بشر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت بیان کی ، اس میں انہوں نے یہ کہا
تو وہ ( نبی علیہ السلام ) اپنی پیشانی سے خون پونچھتے جاتے تھے.
It has been narrated by Hammam bin Munabbih who said:
This is what has been related to us by Abu Huraira رضی اللہ عنہ from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). (With this introduction) he narrated a number of traditions. One of these was that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Great is the wrath of Allah upon a people who have done this to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and he was at that time pointing to his front teeth. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) also said: Great is the wrath of Allah upon a person who has been killed by the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in the way of Allah, the Exalted and Glorious.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا, ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، کہا
یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انہوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس قوم پر اللہ کا غضب شدید ہو گیا جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا " آپ اس وقت اپنے رباعی دانت کی طرف اشارہ فرما رہے تھے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ اس شخص پر سخت غضب ناک ہوتا ہے جس کو اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں ( جہاد کرتے ہوئے ) قتل کر دے.
It has been narrated on the authority of Ibn Mas'ud رضی اللہ عنہ who said:
While the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was saying his prayer near the Ka'ba and Abu Jahl with his companions was sitting (near by), Abu Jahl said, referring to the she-camel that had been slaughtered the previous day: Who will rise to fetch the foetus of the she-camel of so and so, and place it between the shoulders of Muhammad when he goes down in prostration (a posture in prayer). The one most accursed among the people got up, brought the foetus and, when the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) went down in prostration, placed it between his shoulders. Then they laughed at him and some of them leaned upon the others with laughter. And I stood looking. If I had the power, I would have thrown it away from the back of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). The Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had bent down his head in prostration and did not raise it, until a man went (to his house) and informed (his daughter) Fatima رضی اللہ عنہا, who was a young girl (at that time) (about this ugly incident). She came and removed (the filthy thing) from him. Then she turned towards them rebuking them (the mischief-mongers). When the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had finished his prayer, he invoked God's imprecations upon them in a loud voice. When he prayed, he prayed thrice, and when he asked for God's blessings, he asked thrice. Then he said thrice: O Allah, it is for Thee to deal with the Quraish. When they heard his voice, laughter vanished from them and they feared his malediction. Then he said: O God, it is for Thee to deal with Abu Jahl bin Hisham, 'Utba bin Rabi'a, Shaiba bin Rabi'a. Walid bin Uqba, Umayya bin Khalaf, Uqba bin Abu Mu'ait (and he mentioned the name of the seventh person. which I did not remember). By One Who sent Muhammad with truth, I saw (all) those he had named lying slain on the Day of Badr. Their dead bodies were dragged to be thrown into a pit near the battlefield. Abu Ishaq had said that the name of Walid bin 'Uqba has been wrongly mentioned in this tradition.
ہم سے عبداللہ بن عمر بن محمد بن ابان الجعفی نے بیان کیا، ان سے عبد الرحیم نے، یعنی ہم سے ابن سلیمان نے بیان کیا, زکریا ( بن ابی زائدہ ) نے ابواسحاق سے ، انہوں نے عمرو بن میمون اودی سے ، انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے ، ابوجہل اور اس کے ساتھی بھی بیٹھے ہوئے تھے ، اور ایک دن پہلے ایک اونٹنی ذبح ہوئی تھی ۔ ابوجہل نے کہا : تم میں سے کون اٹھ کر بنی فلاں کے محلے سے اونٹنی کی بچے والی جھلی ( بچہ دانی ) لائے گا اور محمد سجدے میں جائیں تو اس کو ان کے کندھوں کے درمیان رکھ دے گا؟ قوم کا سب سے بدبخت شخص ( عقبہ بن ابی معیط ) اٹھا اور اس کو لے آیا ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اس نے وہ جھلی آپ کے کندھوں کے درمیان رکھ دیا ، پھر وہ آپس میں خوب ہنسے اور ایک دورے پر گرنے لگے ۔ میں کھڑا ہوا دیکھ رہا تھا ، کاش! مجھے کچھ بھی تحفظ حاصل ہوتا تو میں اس جھلی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت سے اٹھا کر پھینک دیتا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے ۔ اپنا سر مبارک نہیں اٹھا رہے تھے ، حتی کہ ایک شخص نے جا کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر دی ، وہ آئیں ، حالانکہ وہ اس وقت کم سن بچی تھیں ، انہوں نے وہ جھلی اٹھا کر آپ سے دور پھینکی ۔ پھر وہ ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئیں اور انہیں سخت سست کہا ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپ نے بآزاو بلند ان کے خلاف دعا کی ، آپ جب کوئی دعا کرتے تھے تو تین مرتبہ دہراتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کچھ مانگتے تو تین بار مانگتے تھے ، پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا : "" اے اللہ! قریش پر گرفت فرما ۔ "" جب قریش نے آپ کی آواز سنی تو ان کی ہنسی جاتی رہی اور وہ آپ کی بددعا سے خوف زدہ ہو گئے ۔ آپ نے پھر بددعا فرمائی : اے اللہ! ابوجہل بن ہشام پر گرفت فرما اور عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ولید بن عقبہ ، امیہ بن خلف ، عقبہ بن ابی معیط پر گرفت فرما ۔ "" ۔ ۔ ( ابواسحاق نے کہا : ) انہوں ( عمرو بن میمون ) نے ساتویں شخص کا نام بھی لیا تھا لیکن وہ مجھے یاد نہیں رہا ( بعد ازاں ابواسحاق کو ساتویں شخص عمارہ بن ولید کا نام یاد آ گیا تھا ، صحیح البخاری ، حدیث : 520 ) ۔ ۔ ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : ) اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! جن کا آپ نے نام لیا تھا میں نے بدر کے دن ان کو مقتول پڑے دیکھا ، پھر ان سب کو گھسیٹ کر کنویں ، بدر کے کنویں کی طرف لے جایا گیا اور انہیں اس میں ڈال دیا گیا ۔ ابواسحاق نے کہا : اس حدیث میں ولید بن عقبہ ( کا نام ) غلط ہے ۔ ( صحیح ولید بن عتبہ ہے)
It has been narrated by Abdullah (bin Mas'ud) رضی اللہ عنہ who said:
When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was lying postrate in prayer and around him were some people from the Quraish, 'Uqba bin Abu Mu'ait brought the foetus of a she-camel and threw it on the back of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He did not raise his head until Fatima رضی اللہ عنہا arrived, removed it from his back and cured him who had done that (ugly act). He said: O Allah, it is for Thee to deal with the chiefs of the Quraish. Abu Jahl bin Hisham, 'Utba bin Rabi'a. Uqba bin Abu Mu'ait, Shaiba bin Rabi'a, Umayya bin Khalaf or Ubayy bin Khalaf (Shu'ba, one of the narrator of this tradition is in doubt about the exact person). I saw that all were slain in the Battle of Badr and their dead bodies were thrown into a well, except that of Umayya or Ubayy which was cut into pieces and was thrown into the well.
ہم سے محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے بیان کیا، اور یہ قول ابن المثنیٰ کا ہے، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، شعبہ نے کہا : میں نے ابو اسحاق سے سنا ، وہ عمرو بن میمون سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
( ایک بار ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے اور آپ کے گرد قریش کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط ایک ذبح کی ہوئی اونٹنی کی بچے والی جھلی لے کر آیا اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر پھینک دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سجدے سے ) سر نہ اٹھایا ، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور اس جھلی کو آپ کی پشت سے اٹھایا اور جن لوگوں نے یہ حرکت کی تھی ان کو بددعا دی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کے بارے میں ) فرمایا : " اے اللہ! قریش کے اس گروہ پر گرفت فرما ، ابوجہل بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، عقبہ بن ابی معیط اور امیہ بن خلف یا اُبی بن خلف ۔ ۔ شعبہ کو شک ہے ۔ ۔ پر گرفت فرما! " ( حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے ان کو دیکھا ، وہ جنگ بدر کے دن قتل کیے گئے اور ان کو کنویں میں ڈال دیا گیا ، البتہ امیہ بن خلف یا اُبی بن خلف کے جوڑ جوڑ کٹ چکے تھے ، اسے ( گھسیٹ کر ) کنویں میں نہیں ڈالا جا سکا.
Abu Ishaq has narrated a similar tradition through a different chain of transmitters and has added:
He (the Messenger of Allah) loved to repeat the supplication thrice. He was saying: O Allah, it is for Thee to deal with the Quraish (repeating these words thrice). And among the Quraish, he mentioned (the names of) al-Walid bin 'Utba and Umayya bin Khalaf. (The narrator says there is no doubt about the names of these persons but he has forgotten the name of the seventh man).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا, سفیان نے ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ
آپ تین بار ( دعا کرنا ) پسند فرماتے تھے ، اور آپ نے تین بار فرمایا : " اے اللہ! قریش پر گرفت فرما ، اے اللہ! قریش پر گرف فرما ، اے اللہ! قریش پر گرفت فرمااور اس میں ولید بن عتبہ اور امیہ بن خلف کا نام لیا ( ابی بن خلف اور امیہ بن خلف کے ناموں میں ) شک نہیں کیا ، ابواسحاق نے کہا : ساتواں شخص میں بھول گیا.
It has been narrated on the authority of 'Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) turned his face towards the Ka'ba and invoked God's imprecations upon six men of the Quraish, amorig whom were Abu Jahl. Umayya bin Khalaf, Utba bin Rabi'a, Shaiba bin Rabi'a and 'Uqba bin Abu Mu'ait I swear by God that I saw them lying slain in the battlefield of Badr. It being a hot day, their complexion had changed (showing signs of decay).
مجھ سے سلمہ بن شبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بن ا عین نے بیان کیا, زہیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابواسحاق نے عمرو بن میمون سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے قریش کے چھ آدمیوں کے خلاف بد دعا کی ، ان میں ابوجہل ، امیہ بھی خلف ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط تھے ۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں : میں نے ان کو بدر ( کے میدان ) میں اوندھے پڑے ہوئے دیکھا ، دھوپ نے ان ( کے لاشوں ) کو متغیر کر دیا تھا اور وہ ایک گرم دن تھا.
It has been narrated on the authority of `A'isha رضی اللہ عنہا, the wife of the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ):
Who said to the Messenger of Allah (ﷺ): Messenger of Allah ﷺ, has there come upon you a day more terrible than the day of Uhud. He said: I have experienced from thy people and the hardest treatment I met from them was what I received from them on the day of `Aqaba. I betook myself to Ibn `Abd Yalil b. `Abd Kulal with the purpose of inviting him to Islam, but he did not respond to me as I desired. So I departed with signs of (deep) distress on my face. I did not recover until I reached Qarn al-Tha`alib. Where I raised my head, lo! near me was a cloud which had cast its shadow on me. I looked and lo! there was in it the angel Jibril who called out to me and said: God, the Honored and Glorious, has heard what thy people have said to thee, and how they have reacted to thy call. And He has sent to thee the angel in charge of the mountains so that thou mayest order him what thou wishest (him to do) with regard to them. The angel in charge of the mountains (then) called out to me, greeted me and said: Muhammad, God has listened to what thy people have said to thee. I am the angel in charge of the mountains, and thy Lord has sent me to thee so that thou mayest order me what thou wishest. If thou wishest that I should bring together the two mountains that stand opposite to each other at the extremities of Mecca to crush them in between, (I would do that). But the Messenger of Allah (may peace he upon him) said to him: I rather hope that God will produce from their descendants such persons as will worship Allah, the One, and will not ascribe partners to Him.
مجھ سے ابو الطاہر احمد بن عمرو بن سرح، حرملہ بن یحییٰ اور عمرو بن سواد العامری نے بیان کیا اور ان کا قول بھی اسی طرح ہے۔ انہوں نے کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے یونس نے بیان کیا، ابن شہاب کی سند سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا, نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا آپ پر کوئی ایسا دن بھی آیا جو اُھد کے دن سے زیادہ شدید ہو؟ آپ نے فرمایا : " مجھے تمہاری قوم سے بہت تکلیف پہنچی ، جب میں خود کو ابن عبد یالیل بن عبد کلال کے سامنے لے گیا ( یعنی اس کو دعوتِ اسلام دی ) لیکن جو میں چاہتا تھا اس نے میری بات نہ مانی ، میں غمزدہ ہو کر چل پڑا اور قرن ثعالب پر پہنچ کر ہی میری حالت بہتر ہوئی ، میں نے سر اٹھایا تو مجھے ایک بادل نظر آیا ، اس نے مجھ پر سایہ کیا ہوا تھا ، میں نے دیکھا تو اس میں جبرائیل علیہ السلام تھے ، انہوں نے مجھے آواز دے کر کہا : اللہ عزوجل نے جو کچھ آپ نے اپنی قوم سے کہا وہ اور انہوں نے جو آپ کو جواب دیا وہ سب سن لیا ، اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ ان کفار کے متعلق اس کو جو چاہیں حکم دیں ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی اور سلام کیا ، پھر کہا : اے محمد! اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی طرف سے آپ کو دیا گیا جواب سن لیا ، میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں اور مجھے آپ کے رب نے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں ، اگر آپ چاہیں تو میں ان دونوں سنگلاخ پہاڑوں کو ا ( ٹھا کر ) ان کے اوپر رکھ دوں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : بلکہ میں یہ امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ایسے لوگ نکالے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے.
It has been narrated on the authority of Jundub bin Sufyan رضی اللہ عنہ who said:
A finger of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was wounded in one of the encounters He said: Thou art just a little finger which has bled, and what thou hast experienced is in the cause of Allah.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, ابوعوانہ نے اسود بن قیس سے ، انہوں نے حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
ان جنگوں میں سے ایک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی خون آلود ہو گئی تو آپ نے فرمایا : "" تو ایک انگلی ہی ہے جو زخمی ہوئی اور تو نے جو تکلیف اٹھائی وہ اللہ کی راہ میں ہے.
It has been narrated on the authority of Aswad bin Qais who said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was in a cave (or raid) when his finger was hurt.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے روایت کی ہے, ابن عیینہ نے اسود بن قیس سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لشکر میں تھے اور ( وہاں ) آپ کی انگلی زخمی ہو گئی.
It has been narrated on the authority of Aswad bin Qais who heard Jundub رضی اللہ عنہ saying:
Gabriel delayed his visit to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) The polytheists began to say that Muhammad has been forsaken. At this Allah, the Glorious and Exalted, revealed: Wa'dd hd wa'l-laili iza saja, ma wadda'ka Rabbuka wa' ma qala [By the glorious morning light, and by the night when it is still: thy Lord has not forsaken thee, nor is He displeased].
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, سفیان بن اسود بن قیس سے روایت کی کہ انہوں نے جندب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ
ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام کی آمد میں تاخیر ہو گئی ، مشرکین کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو الوداع کہہ دیا گیا ۔ تو اللہ عزوجل نے یہ نازل فرمایا : " قسم ہے دھوپ چڑھتے وقت کی ، اور قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے! ( اے نبی! ) آپ نے رب نے نہ آپ کو رخصت کیا اور نہ بیزار ہوا.
It has been narrated on the authority of Aswad bin Qais who said: I heard Jundub bin Sufyan رضی اللہ عنہ say:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) fell ill and did not wake up for two or three nights (for prayers) A woman came to him and said: Muhammad, I hope that your satan has left you. I haven't seen him approach you for two or three nights. The narrator says: At this, Allah, the Glorious and Exalted, revealed: By the Glorious......
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن رافع نے بیان کیا، اور ابن رافع نے کہا: انہوں نے ہمیں خبر دی، اور ابن رافع نے کہا: انہوں نے بیان کیا۔ یحییٰ بن آدم، زہیر نے اسود بن قیس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور دو یا تین راتیں اٹھ نہ سکے تو ایک عورت آپ کے پاس آئی اور کہنے لگی : اے محمد! مجھے لگتا ہے کہ آپ کے شیطان نے آپ کو چھوڑ دیا ہے ، میں نے دو یا تین راتوں سے اسے آپ کے قریب آتے نہیں دیکھا ۔ کہا : اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : " قسم ہے دھوپ چڑھتے وقت کی اور رات کی جب وہ چھا جائے! ( اے نبی! ) آپ کے رب نے نہ آپ کو رخصت کیا اور نہ وہ بیزار ہوا.
This hadith has been narrated on the authority of Aswad bin Qais with the same chain of transmitters.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، شعبہ اور سفیان ( ثوری ) نے اسود بن قیس سے اسی سند کے ساتھ ان دونوں کی حدیث کی طرح بیان کی.