Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanding the killing of dogs and the killing of the striped and the short-tailed snakes, for both of them affect the eyesight adversely and cause miscarriage. Zuhri said: We thought of their poison (the pernicious effects of these two). Allah, however, knows best. 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہ said: I did not spare any snake. I rather killed everyone that I saw. One day as I was pursuing a snake from amongst the snakes of the house, Zaid bin Khattab or Abu Lubaba رضی اللہ عنہ happened to pass by me and found me pursuing it. He said: 'Abdullah, wait. I said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded (us) to kill them, whereupon he said that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade the killing of the snakes of the houses.
ہم سے حاجب بن ولید نے بیان کیا، ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا، زبیدی نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے سالم بن عبد اللہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ ( آوارہ کتوں کو مار دینے کا حکم دیتے تھے ، آپ نے فر ما تے تھے : "" سانپوں اور کتوں کو ماردو اور سفید دھاریوں والے اور دم کٹے سانپ کو ( ضرور ) مارو ، وہ دونوں بصارت زائل کر دیتے ہیں اور ھاملہ عورتوں کا اسقاط کرادیتے ہیں ۔ "" زہری نے کہا : ہمارا خیال ہے یہ ان دونوں کے زہرکی بنا پر ہوتا ہے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے سے اور ان سے تابعین اور محدثین نے یہی مفہوم اخذ کیا ۔ یہی حقیقت ہے ) واللہ اعلم ۔ سالم نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرما یا : میں ایک عرصہ تک کسی بھی سانپ کو دیکھتا تو نہ چھوڑتا ۔ اسے مار دیتا ۔ ایک روز میں مدت سے گھر میں رہنے والے ایک سانپ کا پیچھا کررہا تھا کہ زید بن خطاب یا ابو لبابہ رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے تو کہنے لگے : عبداللہ !رک جاؤ ۔ میں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ماردینے کا حکم دیا ہے ، انھوں نے کہا : بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت سے گھروں میں رہنے والے سانپوں ( کے قتل ) سے روکا ہے ۔
It was narrated from Az-Zuhri with this chin of narrators (a hadith similar to no. 5826), except that he salih said:
"Until Abu lubada bin Abdul Mundhir and Zaid bin Khattab saw me and said: He forbade for killing those that live in houses. In the hadith of yunus (it says): "kill snakes," but he did not say: "The one with two strip and the short tailed one.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس معمر اور صالح سب نے ہمیں زہری سے ، اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی ، البتہ صالح نے کہا : یہاں تک کہ
ابو لبابہ بن عبد المنذر اور زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے س ( سانپ کا پیچھا کرتے ہو ئے ) دیکھا تودونوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت سے گھروں میں رہنے والے سانپوں سے روکا ہے ۔ اور یونس کی حدیث میں ہے " سانپوں کو قتل کرو " انھوں نے " دوسفید دھاریوں والے اور دم کٹے " کے الفا ظ نہیں کہے ۔
Nafi' reported:
Abu Lubaba رضی اللہ عنہ talked to Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ to open a door in his house which would bring them nearer to the mosque and they found a fresh slough of the snake, whereupon 'Abdullah رضی اللہ عنہ said: Find it out and kill it. Abu Lubaba رضی اللہ عنہ said: Don't kill them, for Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade the killing of the snakes found in houses.
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا اور ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا اور تلفظ ان کا ہے, لیث ( بن سعد ) نے نافع سے روایت کی کہ
حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بات کی کہ وہ ان کے لیے اپنے گھر ( کے احاطے ) میں ایک دروازہ کھول دیں جس سے وہ مسجد کے قریب آجا ئیں تو لڑکوں کو سانپ کی ایک کینچلی ملی ، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اس کو قتل مت کرو ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چھپے ہو ئے سانپوں کے مارنے سے منع فرمایا : ہے جو گھر وں کے اندر ہو تے ہیں ۔
Nafi' reported:
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ used to kill all types of snakes until Abu Lubaba bin 'Abdul-Mundhir Badri رضی اللہ عنہ reported that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had forbidden the killing of the snakes of the houses, and so he abstained from it.
ہم سے شیبان بن فروخ نے بیان کیا, جریر بن حازم نے کہا : ہمیں نافع نے حدیث سنا ئی کہا
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سانپوں کو مار ڈالتے تھے ، حتی کہ حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذربدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہم لوگوں کو یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مدت سے ) گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع فر ما یا ہے ۔ پھر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رک گئے ۔
Nafi' reported:
He heard Abu Lubaba رضی اللہ عنہ informing Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had forbidden the killing of domestic snakes.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے جو القطان ہیں، بیان کیا: عبید اللہ نے کہا , مجھے نافع نے بتا یا کہ
انھوں نے حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( گھریلو ) سانپوں کے مارنے سے منع فر ما یا ۔
Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Abu Lubaba رضی اللہ عنہ had informed him that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had forbidden the killing of the snakes found in the house.
ہم سے اسحاق بن موسیٰ الانصاری نے بیان کیا، ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا، نافع سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ
حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے انھیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو قتل کرنے سے منع فر ما یا : جو گھروں میں رہتے ہیں ۔
Nafi' reported:
Abu Lubaba bin 'Abdul-Mundhir al-Ansari رضی اللہ عنہ (first) lived in Quba. He then shifted to Medina and as he was in the company of 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہ opening a window for him, he suddenly saw a snake in the house. They (the inmates of the house) attempted to kill that. Thereupon Abu Lubaba رضی اللہ عنہ said: They had been forbidden to make an attempt to kill house snakes and they had been commanded to kill the snakes having small tails, small snakes and those having streaks over them, and it was said: Both of them affect the eyes and cause miscarriage to women.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، یعنی ثقفی نے، انہوں نے کہا: یحییٰ بن سعید کہہ رہے تھے , مجھے نافع نے خبر دی کہ
حضرت ابولبابہ بن عبدا لمنذرانصاری رضی اللہ عنہ اور ان کا گھر قبا ء میں تھا وہ مدینہ منورہ منتقل ہو گئے ۔ ایک دن حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ بیٹھے ہو ئے ( ان کی خاطر ) اپنا ایک دروازہ کھول رہے تھے کہ اچانک انھوں نے ایک سانپ دیکھا جو گھر آباد کرنے والے ( مدت سے گھروں میں رہنے والے ) سانپوں میں سے تھا ۔ گھروالوں نے اس کو قتل کرنا چا ہا تو حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ان کو ۔ ان کی مراد گھروں میں رہنے والے سانپوں سے تھے ۔ مارنے سے منع کیا گیا تھا ۔ اور دم کٹے اور دوسفید دھاریوں والے سانپوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ کہا گیا : یہی دو سانپ ہیں جو نظر چھین لیتے ہیں اور عورتوں کے ( پیٹ کے ) بچوں کو گرا دیتے ہیں ۔
Nafi' reported on the authority of his father:
'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہ saw one day (standing) near the ruin (of his house) the slough of a snake and said (to the people around him): Pursue this snake and kill it. Abu Lubaba Ansari رضی اللہ عنہ said: I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He forbade the killing of snakes found in the houses except the short-tailed snakes and those having streaks upon them, for both of them obliterate eyesight and affect that which is in the wombs of (pregnant) women.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جحضم نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا اور وہ ہمارے ساتھ ابن جعفر ہیں, عمر بن نافع نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا
ایک دن حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر کے گرے ہو ئے حصے کے قریب مو جو د تھے کہ انھوں نے اچانک سانپ کی ایک کینچلی دیکھی ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فر ما یا : اس سانپ کو تلا ش کر کے قتل کردو ۔ حضرت ابو لبابہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے ان سانپوں کو ، جو گھروں میں رہتے ہیں قتل کرنےسے منع فر ما یا ، سوائے دم کٹے اور دو سفید دھاریوں والے سانپوں کے کیونکہ یہی دوسانپ ہیں جو نظر کو زائل کر دیتے ہیں اور عورتوں کے حمل کو نقصان پہنچاتے ۔
Nafi' reported:
Abu Lubaba رضی اللہ عنہ happened to pass by Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ who lived in the fortified place near the house of 'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ and was busy in keeping his eyes upon a snake and killing it, the rest of the hadith is the same.
ہم سے ہارون بن سعید الایلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, اسامہ کو نافع نے حدیث سنا ئی کہ
حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے ، وہ اس قلعے نما حصے کے پاس تھا جووہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رہائش گا ہ کے قریب تھا ، وہ اس میں ایک سانپ کی تاک میں تھے ، جس طرح لیث بن سعد کی ( حدیث : 5828 ) ہے ۔
Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
We were with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in a cave when there was revealed to him (the Sura al-Mursalat, i.e. Sura lxxvii.: By those sent forth to spread goodness ) and we had just heard (it) from his lips that there appeared before us a snake. He said: Kill it. We hastened to kill it, but it slipped away from us, thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Allah saved it from your harm just as he saved you from its evil.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابو کریب اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا اور قول یہ ہے کہ یحییٰ نے کہا: یحییٰ, اور اسحاق, اس نے ہمیں خبر دی، اور باقی دو نے کہا:ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابرا ہیم سے ، انھوں نے اسود سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ( سورۃ ) ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا﴾نازل ہو ئی ، ہم اس سورت کو تازہ بہ تازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے حاصل کر ( سیکھ رہے تھے کہ اچانک ایک سانپ نکلا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس کو مار دو ۔ " ہم اس کو مارنے کے لیے جھپٹےتو وہ ہم سے آگے بھا گ گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ تعالیٰ نے اس کو تمھا رے ( ہاتھوں ) نقصان پہنچنےسے بچا لیا جس طرح تمھیں اس کے نقصان سے بچا لیا ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of al-A'mash with the same chain of transmitters.
ہم سے قتیبہ بن سعید اور عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: جریر اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded a Muhrim (one who is in the state of pilgrimage) to kill the snake at Mina.
ابو کریب نے کہا , ہمیں حفص نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں اعمش نے ابرا ہم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اسود سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں احرام والے ایک شخص کو سانپ مارنے کا حکم دیا ۔
Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
While we were with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in the cave, the rest of the hadith is the same as the one narrated above.
عمر بن حفص بن غیاث نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابرا ہیم نے اسود سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غار میں تھےجس طرح جریر اور ابو معاویہ کی حدیث ہے ۔
Abu as-Sa'ib, the freed slaved of Hisham bin Zuhra, said:
He visited Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ in his house, (and he further) said: I found him saying his prayer, so I sat down waiting for him to finish his prayer when I heard a stir in the bundles (of wood) lying in a comer of the house. I looked towards it and found a snake. I jumped up in order to kill it, but he (Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ ) made a gesture that I should sit down. So I sat down and as he finished (the prayer) he pointed to a room in the house and said: Do you see this room? I said: Yes. He said: There was a young man amongst us who had been newly wedded. We went with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (to participate in the Battle) of Trench when a young man in the midday used to seek permission from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) to return to his family. One day he sought permission from him and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (after granting him the permission) said to him: Carry your weapons with you for I fear the tribe of Quraiza (may harm you). The man carried the weapons and then came back and found his wife standing between the two doors. He bent towards her smitten by jealousy and made a dash towards her with a spear in order to stab her. She said: Keep your spear away and enter the house until you see that which has made me come out. He entered and found a big snake coiled on the bedding. He darted with the spear and pierced it and then went out having fixed it in the house, but the snake quivered and attacked him and no one knew which of them died first, the snake or the young man. We came to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and made a mention to him and said: Supplicate to Allah that that (man) may be brought back to life. Thereupon he said: Ask forgiveness for your companion and then said: There are in Medina jinns who have accepted Islam, so when you see any one of them, pronounce a warning to it for three days, and if they appear before you after that, then kill it for that is a devil.
مجھ سے ابو الطاہر احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا, امام مالک بن انس نے ، ابن افلح کے آزاد کردہ غلام صیفی سے روایت کی ، کہا : مجھے ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابو سائب نے بتایا کہ
وہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر گئے ۔ ابوسائب نے کہا کہ میں نے ان کو نماز میں پایا تو بیٹھ گیا ۔ میں نماز پڑھ چکنے کا منتظر تھا کہ اتنے میں ان لکڑیوں میں کچھ حرکت کی آواز آئی جو گھر کے کونے میں رکھی تھیں ۔ میں نے ادھر دیکھا تو ایک سانپ تھا ۔ میں اس کے مارنے کو دوڑا تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جا ۔ میں بیٹھ گیا جب نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے ایک کوٹھری دکھاتے ہوئے پوچھا کہ یہ کوٹھڑی دیکھتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں ، انہوں نے کہا کہ اس میں ہم لوگوں میں سے ایک جوان رہتا تھا ، جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق کی طرف نکلے ۔ وہ جوان دوپہر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر گھر آیا کرتا تھا ۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہتھیار لے کر جا کیونکہ مجھے بنی قریظہ کا ڈر ہے ( جنہوں نے دغابازی کی تھی اور موقع دیکھ کر مشرکوں کی طرف ہو گئے تھے ) ۔ اس شخص نے اپنے ہتھیار لے لئے ۔ جب اپنے گھر پر پہنچا تو اس نے اپنی بیوی کو دیکھا کہ دروازے کے دونوں پٹوں کے درمیان کھڑی ہے ۔ اس نے غیرت سے اپنا نیزہ اسے مارنے کو اٹھایا تو عورت نے کہا کہ اپنا نیزہ سنبھال اور اندر جا کر دیکھ تو معلوم ہو گا کہ میں کیوں نکلی ہوں ۔ وہ جوان اندر گیا تو دیکھا کہ ایک بڑا سانپ کنڈلی مارے ہوئے بچھونے پر بیٹھا ہے ۔ جوان نے اس پر نیزہ اٹھایا اور اسے نیزہ میں پرو لیا ، پھر نکلا اور نیزہ گھر میں گاڑ دیا ۔ وہ سانپ اس پر لوٹا اس کے بعد ہم نہیں جانتے کہ سانپ پہلے مرا یا جوان پہلے شہید ہوا ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا قصہ بیان کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ اس جوان کو پھر جلا دے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ساتھی کے لئے بخشش کی دعا کرو ۔ پھر فرمایا کہ مدینہ میں جن رہتے ہیں جو مسلمان ہو گئے ہیں ، پھر اگر تم سانپوں کو دیکھو تو تین دن تک ان کو خبردار کرو ، اگر تین دن کے بعد بھی نہ نکلیں تو ان کو مار ڈالو کہ وہ شیطان ہیں ( یعنی کافر جن ہیں یا شریر سانپ ہیں ) ۔
Asma' bin 'Ubaid reported:
A person who was called as-Sa'ib having said: We visited Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ . When we had been sitting (with him) we heard a stir under his bed. When we looked we found a big snake, the rest of the hadith is the same. And in this Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) is reported to have said: Verily in these houses there live aged (snakes), so when you see one of them, make life hard for it for three days, and if it goes away (well and good), otherwise kill it for (in that case) it would be a nonbeliever. And he (the Holy Prophet) said (to his Companions): Go and bury your companion (who had died by the snake bite).
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے وہب بن رافع نے بیان کیا, جریر بن حا زم نے کہا , میں نے اسماء بن عبید کو ایک آدمی سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا
جسے سائب کہا جا تا تھا ۔ وہ ہمارے نزدیک ابو سائب ہیں ۔ انھوں نے کہا : ہم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہو ئے ، ہم بیٹھے ہو ئے تھے جب ہم نے ان کی چار پا ئی کے نیچے ( کسی چیز کی ) حرکت کی آواز سنی ۔ ہم نے دیکھا تو وہ ایک سانپ تھا ، پھر انھوں نے پو رے واقعے سمیت صیفی سے امام مالک کی روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، اور اس میں کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ان گھروں میں کچھ مخلوق آباد ہے ۔ جب تم ان میں سے کو ئی چیز دیکھو تو تین دن تک ان پر تنگی کرو ( تا کہ وہ خود وہاں سے کہیں اور چلے جا ئیں ) اگر وہ پہلے جا ئیں ( تو ٹھیک ) ورنہ ان کو مار دوکیونکہ پھر وہ ( نہ جا نے والا ) کا فر ہے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر ما یا : " جاؤاور اپنے ساتھی کو دفن کردو ۔ "
Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger having said: There is a group of jinns in Medina who accepted Islam, so he who would see anything from these occupants should warn him three times; and if he appears after that, he should kill him for he is a satan.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا, ابن عجلا ن نے کہا : مجھے صیفی نے ابو سائب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا ؛ میں نے ان ( حضرت ابو خدری رضی اللہ عنہ ) کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مدینہ میں جنوں کی کچھ نفری رہتی ہے جو مسلمان ہو گئے ہیں جو شخص ان ( پرانے ) رہائشیوں میں سے کسی کو دیکھتے تو تین دن تک اسے ( جا نےکو ) کہتا رہے ۔ اس کے بعد اگر وہ اس کے سامنے نمودار ہو تو اسے قتل کر دے ، کیونکہ وہ شیطان ( ایمان نہ لا نے والا جن ) ہے ۔
Umm Sharik رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded her to kill geckos. This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abi Shaiba with a slight variation of wording.
ابو بکر بن ابی شیبہ عمر وناقد اسحٰق بن ابرا ہیم اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، اسحٰق نے کہا : ہمیں خبر دی جبکہ دیگر نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ، سفیان بن عیینہ نے عبد الحمید بن جبیربن شیبہ سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے ، انھوں نے ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں چھپکلیوں کو مارڈالنے کا حکم دیا ۔ ابن شعبہ کی روایت میں "" ( ان کا حکم دیا "" کے بجا ئے صرف ) "" حکم دیا "" ہے ۔
Umm Sharik رضی اللہ عنہا reported:
She consulted Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in regard to killing of geckos, and he commanded to kill them and Umm Sharik رضی اللہ عنہا is one of the women of Bani 'Amir bin Luwayy. This hadith has been reported through another chain of transmitters with the same meaning.
ابوطاہر نے کہا : ہمیں ابن وہب نے بتا یا کہا ، مجھے ابن جریج نے خبرد ۔ اور محمد بن احمد بن ابی خلف نے کہا : ہمیں روح نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی ۔ اور عبد بن حمید نے کہا : ہمیں محمد بن بکر نے بتا یا ، کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : مجھے عبد الحمید بن ام شریک رضی اللہ عنہا نے بتا یا کہ
انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپکلی کو مارنے کے متعلق آپ کا حکم پو چھا تو آپ نے اسے ماردینے کا حکم دیا ۔ ام شریک رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنو عامر بن لؤی کی ایک خاتون تھیں ( محمد بن احمد ) بن ابی خلف اور عبد بن حمید کی حدیث کے الفا ظ ایک ہیں اور ابن وہب کی حدیث اس سے قریب ہے ۔
Amir bin Sa'd رضی اللہ عنہ reported on the authority of his father:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded the killing of geckos, and he called them little noxious creatures.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے، زہری کی سند سے, عامر بن سعد نے اپنے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مار دینے کا حکم دیا اور اس کا نام چھوٹی فاسق رکھا ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said about the gecko as a noxious creature . Harmala made this addition that she said: I did not hear that he had commanded to kill them.
ابو طا ہر اور حرملہ نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، کہا : مجھے یو نس نے زہری سے ، انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو فویسق ( چھوٹی فاسق ) کہا حرملہ نے ( اپنی ) روایت میں یہ اضافہ کیا : ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو قتل کرنے کا حکم نہیں سنا ۔