Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: None should make one'& brother stand and then sit at his place (and it was common with) Ibn Umar رضی اللہ عنہ that when any person stood in the company (with a view to making room for him) he did not sit there.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, عبد الا علیٰ نے معمر سے ، انھوں نے زہری سے ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص اپنے بھا ئی کو اس جگہ سے نہ اٹھا ئےکہ پھر اس کی جگہ پر بیٹھ جائے ۔ " ( سالم نے کہا ) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ طریق تھا کہ کو ئی شخص ان کے لیے ( خود بھی ) اپنی جگہ سے اٹھتا تو وہ اس کی جگہ پر نہ بیٹھتے تھے ۔
This hadith hilt been reported on the authority of Ma'mar with the same chain of transmitters.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا, عبد الرزاق نے کہا , معمر نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی ۔
Jabir reported:
Allah's Apostle (ﷺ) as saying: None amongst you should make his brother stand on Friday (during the congregational prayer) and then occupy his-place. but he should only say to him (Accommodate me).
ہم سے سلمہ بن شبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بن عیان نے بیان کیا، کہا ہم سے معقل نے بیان کیا اور وہ ابن عبید اللہ ہیں, ابو زبیر نے حضرت جا بر رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص جمعے کے دن اپنے بھا ئی کو کھڑا نہ کرے کہ پھر دوسری طرف سے آکر اس کی جگہ پر خود بیٹھ جائے ، بلکہ ( جوآئے وہ ) کہے " جگہ کشادہ کردو ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When anyone amongst you stands up, and in the Hadith Abu 'Awina, the words are: He who stands in his place and (goes away) and then comes back to it, he his the greatest right (to occupy that).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, ابو عوانہ اور عبد العزیز بن محمد دونوں نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب تم میں سے کو ئی شخص کھڑا ہو " اور ابوعوانہ کی حدیث میں ہے " جب تم میں سے کو ئی شخص اپنی جگہ سے کھڑا ہو ۔ پھر اس جگہ لوٹ آئے تو وہی اس ( جگہ ) کا زیادہ حقدارہے ۔ ۔ "
Umm Salama رضی اللہ عنہا reported:
She had a eunuch (as a slave) in her house. Allah's Messenger (ﷺ) was once in the house that he (the eunuch) said to the brother of Umm Salama رضی اللہ عنہا : Abdullah bin Abi Umayya. If Allah grants you victory in Ta'if on the next day, I will show you the daughter of Ghailan for she has four folds (upon her body) on the front side of her stomach and eight folds on the back. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) heard this and he said: Such (people) should not visit you.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا اور ہم سے ابو کریب نے بیان کیا: ہم سے کریب، ابو معاویہ نے ہشام کی سند سے بیان کیا اور ہم سے ابو کریب نے بھی بیان کیا، اور ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا, اس کے والد , زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
ایک مخنث ان کے ہاں مو جو دتھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر پر تھے وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بھا ئی سے کہنے لگا : عبد اللہ بن ابی امیہ! اگر کل ( کلاں کو ) اللہ تعا لیٰ تم لو گوں کو طا ئف پر فتح عطا فر ما ئے تو میں تمھیں غیلا ن کی بیٹی ( بادیہ بنت غیلا ن ) کا پتہ بتا ؤں گا وہ چار سلوٹوں کے ساتھ سامنے آتی ہے ( سامنے سے جسم پر چار سلوٹیں پڑتی ہیں ) اور آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیر کر جا تی ہے ۔ ۔ ( انتہائی فربہ جسم کی ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن لی تو آپ نے فر ما یا : " یہ ( مخنث ) تمھا رے ہاں داخل نہ ہو ا کریں ۔
A'isha رضی اللہ عنہ reported:
A eunuch used to come to the wives of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and they did not And anything objectionable in his visit considering him to be a male without any sexual desire. Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) one day came as he was sitting with some of his wives and he was busy in describing the bodily characteristics of a lady and saying: As the comes in front tour folds appear on her front side and as she turns her back eight folds appear on the back side. Thereupon Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I me that he knows these things; do not, therefore. allow him to cater. She ( A'isha رضی اللہ عنہا ) said: Then they began to observe veil from him.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، معمر کی سند سے، وہ زہری کی سند سے, عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس ایک مخنث آیا کرتا تھا اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہا اسے جنسی معاملا ت سے بے بہر ہ سمجھا کرتی تھیں ۔ فرما یا : " ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا اور وہ آپ کی ایک اہلیہ کے ہاں بیٹھا ہوا ایک عورت کی تعریف کررہا تھا وہ کہنے لگا : جب وہ آتی ہے تو چار سلوٹوں کے ساتھ آتی ہے اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیرتی ہے ۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ جو کچھ یہاں ہے اسے سب پتہ ہے ، یہ لوگ تمھا رے پاس نہ آیا کریں ۔ " " تو انھوں ( امہات المومنین رضی اللہ عنہا ) نے اس سے پردہ کر لیا ۔
Asma' daughter of Abu Bakr رضی اللہ عنہا reported:
The was married to Zubair رضی اللہ عنہ . He had neither land nor wealth nor slave nor anything else like it except a bom. She further said: I grazed his horse. provided fodder to it and looked after it, and ground dates for his camel. Besides this, I grazed the camel, made arrangements for providing it with water and patched up the leather bucket and kneaded the flour. But I was not proficient in baking the bread, so my female neighbours used to bake bread for me and they were sincere women. She further said: I was carrying on my head the stones of the dates from the land of Zubair رضی اللہ عنہ which Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had endowed him and it was at a distance of two miles (from Medina). She add: As I was one day carrying the atones of dates upon my head I happened to meet Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) along with a group of his Companions. He called me and said (to the camel) to sit down so that he should make cite ride behind him. (I told my husband: ) I felt shy and remembered your jealousy, whereupon he said: By Allah. the carrying of the stone dates upon your bead is more severe a burden than riding with him. She said: (I led the life of hardship) until Abu Bakr رضی اللہ عنہ sent afterwards a female servant who took upon herself the responsibility of looking after the horse and I felt as it she had emancipated me.
ہم سے محمد بن العلاء ابو کریب ہمدانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا, ہشام کے والد ( عروہ ) نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے ( حضرت اسماء رضی اللہ عنہا ) نے کہا
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے نکا ح کیا تو ان کے پاس ایک گھوڑے کے سوانہ کچھ مال تھا ، نہ غلام تھا ، نہ کو ئی اور چیز تھی ۔ ان کے گھوڑے کو میں ہی چارا ڈالتی تھی ان کی طرف سے اس کی ساری ذمہ داری میں سنبھا لتی ۔ اس کی نگہداشت کرتی ان کے پانی لا نے والے اونٹ کے لیے کھجور کی گٹھلیاں توڑتی اور اسے کھلا تی میں ہی ( اس پر ) پانی لا تی میں ہی ان کا پانی کا ڈول سیتی آٹا گوندھتی ، میں اچھی طرح روٹی نہیں بنا سکتی تھی تو انصار کی خواتین میں سے میری ہمسائیاں میرے لیے روٹی بنا دیتیں ، وہ سچی ( دوستی والی ) عورتیں تھیں ، انھوں نے ( اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زمین کا جو ٹکڑا عطا فرما یا تھا وہاں سے اپنے سر پر گٹھلیاں رکھ کر لا تی یہ ( زمین ) تقریباً دو تہائی فرسخ ( تقریباً 3.35کلو میٹر ) کی مسافت پر تھی ۔ کہا : ایک دن میں آرہی تھی گٹھلیاں میرے سر پر تھیں تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کچھ لو گ آپ کے ساتھ تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا یا ، پھر آواز سے اونٹ کو بٹھا نے لگے تا کہ ( گٹھلیوں کا بوجھ درمیان میں رکھتے ہو ئے ) مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیں ۔ انھوں نے ( حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مخاطب کرتے ہو ئے ) کہا : مجھے شرم آئی مجھے تمھا ری غیرت بھی معلوم تھی تو انھوں ( زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : اللہ جا نتا ہے کہ تمھارا اپنے سر پر گٹھلیوں کا بوجھ اٹھا نا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ سخت ہے ۔ کہا : ( یہی کیفیت رہی ) یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرے پاس ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ حدیث : 5693 ۔ ) ایک کنیز بھجوادی اور اس نے مجھ سے گھوڑے کی ذمہ داری لے لی ۔ ( مجھے ایسے لگا ) جیسے انھوں نے مجھے ( غلا می سے ) آزاد کرا دیا ہے ۔
Asma' رضی اللہ عنہا reported:
I performed the household duties of Zubair رضی اللہ عنہ and he had a horse; I used to look after it. Nothing was more burdensome for me than looking after the horse I used to bring grass for it and looked after it, then I got a servant as Allah's Apustle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had some prisoners of war in his possession. He gave me a female servant. She (the female servant) then began to look after the horse and thus relieved me of this burden. A person came and he said: Mother of 'Abdullah, I am a destitute person and I intend that I should start business under the shadow of your house. I (Asma' رضی اللہ عنہا) said: If I grant you permission, Zubair رضی اللہ عنہ may not agree to that, so you come and make a demand of it when Zubair رضی اللہ عنہ is also present there. He came accordingly find said: Mother of 'Abdullah. I am a destitute person. I intend to start t mall business in the shadow of your house. I said: Is there not in Medina (any place for starting the business) except my house? Zubair رضی اللہ عنہ said: Why is it that you prohibit the destitute man to start business here? So he started business and he (earned so much) that we sold our slave-girl to him There came Zubair رضی اللہ عنہ to me while the money was in my lap. He said: Give this to me. I said: (I intend) to spend it as charity.
ہم سے محمد بن عبید الغبری نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ایوب کی سند سے, ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
میں گھر کی خدمات سر انجام دےکر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی خدمت کرتی تھی ، ان کا ایک گھوڑاتھا ، میں اس کی دیکھ بھال کرتی تھی ، میرے لیے گھر کی خدمات میں سے گھوڑے کی نگہداشت سے بڑھ کر کوئی اورخدمت زیادہ سخت نہ تھی ۔ میں اس کے لئے چارہ لاتی ، اس کی ہرضرورت کا خیال رکھتی اور اس کی نگہداشت کرتی ، کہا : پھر انھیں ایک خادمہ مل گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو آپ نے ان کے لئے ایک خادمہ عطا کردی ۔ کہا : اس نے مجھ سے گھوڑے کی نگہداشت ( کی ذمہ داری ) سنبھال لی اور مجھ سے بہت بڑا بوجھ ہٹا لیا ۔ میرے پاس ایک آدمی آیا اور کہا : ام عبداللہ! میں ایک فقیر آدمی ہوں : میرا دل چاہتاہے ہے کہ میں آپ کے گھر کے سائے میں ( بیٹھ کرسودا ) بیچ لیاکروں ۔ انھوں نے کہا : اگر میں نے تمھیں اجازت دے دی تو زبیر رضی اللہ عنہ انکار کردیں گے ۔ جب زبیر رضی اللہ عنہ موجود ہوں تو ( اس وقت ) آکر مجھ سے اجازت مانگنا ، پھر وہ شخص ( حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں ) آیا اور کہا : ام عبداللہ! میں ایک فقیرآدمی ہوں اور چاہتاہوں کہ میں آپ کے گھر کے سائے میں ( بیٹھ کر کچھ ) بیچ لیاکروں ، انھوں ( حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے جواب دیا : مدینے میں تمھارے لئے میرے گھر کے سوا اور کوئی گھر نہیں ہے ؟تو حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : تمھیں کیا ہوا ہے ، ایک فقیر آدمی کو سودا بیچنے سے روک رہی ہو؟وہ بیچنے لگا ، یہاں تک کہ اس نے کافی کمائی کرلی ، میں نے وہ خادمہ اسے بیچ دی ۔ زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اند رآئے تو اس خادمہ کی قیمت میری گود میں پڑی تھی ، انھوں نے کہا ، یہ مجھے ہبہ کردو ۔ تو انھوں نے کہا : میں اس کو صدقہ کرچکی ہوں ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When there are three (persons), two should not converse secretly between themselves to the exclusion of the (third) one.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا: میں نے پڑھا, مالک نےنافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تین شخص ( موجود ) ہوں تو ایک کو چھوڑ کر دو آدمی آ پس میں سرگوشی نہ کریں ۔ "
This hadith has been reported on the authority of lbn 'Umar رضی اللہ عنہ through two different chains of transmitters.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن بشر اور ابن نمیر نے بیان کیا، ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن نمیر نے بیان کیا۔ المثنیٰ اور عبید اللہ بن سعید نے کہا: یحییٰ نے جو ابن سعید ہیں، ہم سب کو بیان کیا, عبیداللہ ، لیث بن اسعد ، ایوب ( سختیانی ) اور ایوب بن موسیٰ ان سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔
Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: If you are three, two amongst you should not converse secretly between yourselves to the exclusion of the other (third one), until some other people join him (and dispel his loneliness), for it may hurt his feelings.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ہناد بن السری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو الاحواص نے بیان کیا, منصور نے ابو وائل ( شقیق ) سے ، انھوں نے عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم تین لوگ ( ایک ساتھ ) ہوتو ایک کو چھوڑ کردو آدمی باہم سرگوشی نہ کریں ، یہاں تک کہ تم بہت سے لوگوں میں مل جاؤ ، کہیں ایسا نہ ہوکہ یہ ( دوکی سرگوشی ) اسے غمزدہ کردے ۔ "
Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: If you are three, two should not converse secretly to the exclusion of your companion for that hurts his feelings.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر اور ابو کریب نے بیان کیا اور تلفظ یحییٰ نے کہا کہ ہمیں یحییٰ نے خبر دی۔ اور دوسروں نے کہا, ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے شقیق سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جب تم تین لوگ ہوتو اپنے ساتھی کو چھوڑ کر دو آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ چیز اس کو غم زدہ کردے گی ۔ "
This hadith has been reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters.
اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, عیسیٰ بن یونس اورسفیان دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ( حدیث بیان کی ۔ )
A'isha (the wife of Allah's Apostle) رضی اللہ عنہا said:
When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) fell ill, Gabriel used to recite this: In the name of Allah, may He cure you from all kinds of illnesses and safeguard you from the evil of a jealous one when he feels jealous and from the evil influence of eye.
ہم سے محمد بن ابی عمر المکی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز الدراوردی نے بیان کیا، وہ یزید کی سند سے جو عبداللہ بن اسامہ بن الحاد کے بیٹے ہیں۔ محمد بن ابراہیم، ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کی سند سے, نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انھوں نے کہا
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تو جبریل علیہ السلام آپ کو دم کرتے ، وہ کہتے : " اللہ کے نام سے ، وہ آپ کو بچائے اور ہر بیماری سے شفا دے اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے اورنظر لگانے والی ہر آنکھ کے شرسے ( آپ کومحفوظ رکھے ۔ ) "
Abu Sa'id رضی اللہ عنہ reported:
Gabriel came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Muhammad, have you fallen ill? Thereupon he said: Yes. He (Gabriel) said: In the name of Allah I exorcise you from everything and safeguard you from every evil that may harm you and from the eye of a jealous one. Allah would cure you and I invoke the name of Allah for you.
ہم سے بشر بن ہلال الصوف نے بیان کیا، ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا, ابونضرہ نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : اے محمد!کیا آپ بیمار ہوگئے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ۔ " حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ کلمات کہے : " میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتاہوں ، ہر چیز سے ( حفاظت کے لئے ) جو آپ کو تکلیف دے ، ہر نفس اور ہر حسد کرنے والی آنکھ کے شر سے ، اللہ آپ کو شفا دے ، میں اللہ کے نام سے آ پ کو دم کر تا ہوں ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported so many abidith from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The influence of an evil eye is a fact.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ر وایت کیں ، انھوں نے متعدد احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نظر حق ( ثابت شدہ بات ) ہے ۔ "
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The influence of an evil eye is a fact; if anything would precede the destiny it would be the influence of an evil eye, and when you are asked to take bath (as a cure) from the influence of an evil eye, you should take bath.
اور ہم سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی، حجاج بن الشاعر اور احمد بن خراش نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اس نے بیان کیا اور باقی دو نے کہا کہ ہم سے بیان کیا۔ مسلم بن ابراہیم نے کہا: ہم سے وہیب نے ابن طاؤس کی سند سے، اپنے والد کی سند سے، ابن کی سند سے, حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آ پ نے فرمایا : " نظر حق ( ثابت شدہ بات ) ہے ، اگر کوئی ایسی چیز ہوتی جو تقدیر پر سبقت لے جاسکتی تو نظرسبقت ہے جاتی ۔ اور جب ( نظر بد کے علاج کےلیے ) تم سے غسل کرنے کے لئے کہا جائے تو غسل کرلو ۔ "
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
A Jew from among the Jews of Banu Zuraiq who was called Labid bin al-A'sam cast a spell upon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) with the result that he (under the influence of the spell) felt that he had been doing something whereas in fact he had not been doing that. (This state of affairs lasted) until one day or during one night Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) made supplication (to dispel its effects). He again made a supplication and he again did this and said to 'A'isha رضی اللہ عنہا : Do you know that Allah has told me what I had asked Him? There came to me two men and one amongst them sat near my head and the other one near my feet and he who sat near my head said to one who sat near my feet or one who sat near my feet said to one who sat near my head: What is the trouble with the man? He said: The spell has affected him. He said: Who has cast that? He (the other one) said: It was Labid b. A'sam (who has done it). He said: What is the thing by which he transmitted its effect? He said: By the comb and by the hair stuck to the comb and the spathe of the date-palm. He said: Where is that? He replied: In the well of Dhi Arwan. She said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent some of the persons from among his Companions there and then said: 'A'isha رضی اللہ عنہا , by Allah, its water was yellow like henna and its trees were like heads of the devils. She said that she asked Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as to why he did not burn that. He said: No, Allah has cured me and I do not like that I should induce people to commit any high-handedness in regard (to one another), but I only commanded that it should be buried.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, ابن نمیر نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بنی زریق کے ایک یہودی لبید بن اعصم نے جادو کیا ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آتا کہ میں یہ کام کر رہا ہوں حالانکہ وہ کام کرتے نہ تھے ۔ ایک دن یا ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ، پھر دعا کی ، پھر فرمایا کہ اے عائشہ! تجھے معلوم ہوا کہ اللہ جل جلالہ نے مجھے وہ بتلا دیا جو میں نے اس سے پوچھا؟ ۔ میرے پاس دو آدمی آئے ، ایک میرے سر کے پاس بیٹھا اور دوسرا پاؤں کے پاس ( وہ دونوں فرشتے تھے ) جو سر کے پاس بیٹھا تھا ، اس نے دوسرے سے کہا جو پاؤں کے پاس بیٹھا تھا اس نے سر کے پاس بیٹھے ہوئے سے کہا کہ اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ وہ بولا کہ اس پر جادو ہوا ہے ۔ اس نے کہا کہ کس نے جادو کیا ہے؟ وہ بولا کہ لبید بن اعصم نے ۔ پھر اس نے کہا کہ کس میں جادو کیا ہے؟ وہ بولا کہ کنگھی میں اور ان بالوں میں جو کنگھی سے جھڑے اور نر کھجور کے گابھے کے ریشے میں ۔ اس نے کہا کہ یہ کہاں رکھا ہے؟ وہ بولا کہ ذی اروان کے کنوئیں میں ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند اصحاب کے ساتھ اس کنوئیں پر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! اللہ کی قسم اس کنوئیں کا پانی ایسا تھا جیسے مہندی کا زلال اور وہاں کے کھجور کے درخت ایسے تھے جیسے شیطانوں کے سر ۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جلا کیوں نہیں دیا؟ ( یعنی وہ جو بال وغیرہ نکلے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تو اللہ نے ٹھیک کر دیا ، اب مجھے لوگوں میں فساد بھڑکانا برا معلوم ہوا ، پس میں نے حکم دیا اور وہ دفن کر دیا گیا ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was affected with a spell, the rest of the hadith is the same but with this variation of wording: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) went to the well and looked towards it and there were trees of date-palm near it. I ('A'isha رضی اللہ عنہا) said: I asked Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) to bring it out, and 1 did not say: Why did not you burn it? And there is no mention of these words: I commanded (to bury them and they buried.
ابو کریب نے کہا , ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی ، کہا ، ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نےحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا ۔ اسکے بعد ابو کریب نے واقعے کی تفصیلات سمیت ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کی طرف تشریف لئے گئے ، اسے دیکھا ، اس کنویں پر کھجور کے درخت تھے ( جنھیں کسی زمانے میں کنویں کے پانی سےسیراب کیاجاتا ہوگا ) انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اسے نکالیں ( اور جلادیں ) ابو کریب نے : " آپ نے اسے جلا کیوں نہ دیا؟ " کے الفاظ نہیں کہے اور یہ الفاظ ( بھی ) بیان نہیں کیے؛ " میں نے اس کے بار ے میں حکم دیا تو اس کو پاٹ دیاگیا ۔ "
Anas رضی اللہ عنہ reported:
A Jewess came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) with poisoned mutton and he took of that what had been brought to him (Allah's Messenger ﷺ). (When the effect of this poison were felt by him) he called for her and asked her about that, whereupon she said: I had determined to kill you. Thereupon he said: Allah will never give you the power to do it. He (the narrator) said that they (the Companion's of the Holy Prophet ﷺ) said: Should we not kill her? Thereupon he said: No. He (Anas رضی اللہ عنہ) said: I felt (the affects of this poison) on the uvula of Allah's Messenger.
ہم سے یحییٰ بن حبیب الحارثی نے بیان کیا, خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
ایک یہودی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود ( پکی ہوئی ) بکری لے کر آئی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ ( گوشت کھایا ) ( آپ کو اس کے زہر آلود ہونے کاپتہ چل گیا ) تو اس عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایاگیا ، آپ نے اس عورت سے اس ( زہر ) کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا : ( نعوذ باللہ! ) میں آپ کو قتل کرنا چاہتی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ تمھیں اس بات پر تسلط ( اختیار ) دے دے ۔ " انھوں ( انس رضی اللہ عنہ ) نےکہا : یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( تمھیں ) مجھ پر ( تسلط دے دے ۔ ) " انھوں ( انس رضی اللہ عنہ ) نے کہا : صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : کیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " نہیں ۔ " انھوں ( انس رضی اللہ عنہ ) نے کہا : تو میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےدہن مبارک کے اندرونی حصے میں اسکے اثرات کو پہچانتاہوں ۔