Ibn Mas'ud رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to me: The sign that you have been permitted to come in is that the curtain is raised or that you hear me speaking quietly until I forbid you.
ہم سے ابو کامل الجہدری اور قتیبہ بن سعید دونوں نے بیان کیا, عبد الوحد بن زیاد نے کہا , ہمیں حسن بن عبید اللہ نے حدیث بیان کی , کہا : ہمیں ابرا ہیم بن سوید نے حدیث سنائی کہا , میں نے عبد الرحمٰن بن یزید سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر ما یا : " تمھا رے لیے میرے پاس آنے کی یہی اجازت ہے کہ حجاب اٹھا دیا جا ئے اور تم میرے راز کی بات سن لو ، ( یہ اجازت اس وقت تک ہے ) حتی کہ میں تمھیں روک دوں ".
This hadith has been narrated on the authority of 'Ubaidullah with the same chain of transmitters.
اور ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، محمد بن عبداللہ بن نمیر نے اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا اور باقی دو نے کہا, عبد اللہ بن ادریس نے حسن بن عبید اللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Sauda (رضی اللہ عنہا) went out (in the fields) in order to answer the call of nature even after the time when veil had been prescribed for women. She had been a bulky lady, significant in height amongst the women, and she could not conceal herself from him who had known her. 'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ saw her and said: Sauda رضی اللہ عنہا, by Allah, you cannot conceal from us. Therefore, be careful when you go out. She ('A'isha رضی اللہ عنہا) said: She turned back. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was at that time in my house having his evening meal and there was a bone in his hand. She (Sauda) cline and said: Allah's Messenger. I went out and 'Umar رضی اللہ عنہ said to me so and so. She ('A'isha رضی اللہ عنہا) reported: There came the revelation to him and then it was over; the bone was then in his hand and he had not thrown it and he said: Permission has been granted to you that you may go out for your needs.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے ہشام سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا
پردہ ہم پرلاگو ہوجانےکےبعد حضرت سودہ رضی اللہ عنہا قضائے حاجت کے لیے باہر نکلیں ، حضرت سودہ رضی اللہ عنہا جسامت میں بڑی تھیں ، جسمانی طور پر عورتوں سے اونچی ( نظر آتی ) تھیں ۔ جوشخص انہیں جانتا ہو ( پردے کے باوجود ) اس کے لیے مخفی نہیں رہتی تھی ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں دیکھ کر کہا : سودہ رضی اللہ عنہا !اللہ کی قسم!آپ ہم سے پوشیدہ نہیں رہ سکتیں اس لیے دیکھ لیجئے آپ کیسے باہر نکلا کریں گی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( یہ سنتے ہی ) الٹے پاؤں لوٹ آئیں اور ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے ۔ آپ کے دست مبارک میں گوشت والی ایک ہڈی تھی وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں باہر نکلی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے اس اس طرح کہا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اسی وقت اللہ تعا لیٰ نے آپ پر وحی نازل فر ما ئی ، پھر آپ سے وحی کی کیفیت زائل ہو گئی ، ہڈی اسی طرح آپ کے ہاتھ میں تھی ، آپ نے اسے رکھا نہیں تھا ، آپ نے فر ما یا : تم سب ( امہات المومنین ) کو اجازت دے دی گئی ہے کہ تم ضرورت کے لیے باہر جا سکتی ہو ۔ "" ابوبکر ( ابن ابی شیبہ ) کی روایت میں ہے : "" ان کا جسم عورتوں سے اونچاتھا "" ابو بکر نے اپنی حدیث ( کی سند ) میں یہ اضافہ کیا : تو ہشام نے کہا : آپ کا مقصود قضائے حاجت کے لیے جا نے سے تھا ۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters, and the words are:
She (Sauda) was a woman who looked to be significant amongst the people (so far as the bulk of her) body was concerned. The rest of the hadith is the same.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, ابن نمیر نے کہا : ہشام نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا
وہ ایسی خاتون تھیں کہ ان کاجسم لوگوں سے اونچا ( نظر آتا ) تھا ۔ ( یہ بھی ) کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کا کھانا تناول فرمارہے تھے ۔
It was narrated from Hisham with this chain of narrators.
مجھ سے سوید بن سعید نے بیان کیا, علی بن مسہر نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
The wives of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to go out in the cover of night when they went to open fields (in the outskirts of Medina) for easing themselves. 'Umar b Khattab used to say: Allah's Messenger, ask your ladies to observe veil, but Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not do that. So there went out Sauda رضی اللہ عنہا , daughter of Zarn'a, the wife of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), during one of the nights when it was dark. She was a tall statured lady. 'Umar رضی اللہ عنہا called her saying: Sauda, we recognise you. (He did this with the hope that the verses pertaining to veil would be revealed.) 'A'isha رضی اللہ عنہا said: Allah, the Exalted and Glorious, then revealed the verses pertaining to veil.
ہم سے عبدالملک بن شعیب بن لیث نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے میرے دادا کی سند سے بیان کیا, عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ بن زبیر سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج جب رات کو قضائے حاجت کے لئے باہر نکلتیں تو "" المناصع "" کی طرف جاتی تھیں ، وہ دور ایک کھلی ، بڑی جگہ ہے ۔ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کرتے رہتے تھے کہ آپ اپنی ازواج کو پردہ کرائیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کسی حکمت کی بنا پر ) ایسا نہیں کرتے تھے ، پھر ایک رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عشاء کے وقت ( قضائے حاجت کے لئے ) باہرنکلیں ، وہ دراز قدخاتون تھیں ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس حرص میں کہ حجاب نازل ہوجائے ، پکار کر ان سے کہا : سودہ! ہم نے آپ کو پہچان لیا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اس پر اللہ تعالیٰ نے حجاب نازل فرمادیا ۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters.
ہم سے عمرو الناقد نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے بیان کیا, صالح نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Behold, no person should spend the night with a married woman, but only in case he is married to her or he is her Mahram.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ اور علی بن حجر نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا اور ابن حجر نے کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا, ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سنو! کوئی شخص کسی شادی شدہ عورت کے پاس رات کو نہ رہے ، الا یہ کہ اس کا خاوند ہو یا محرم ( غیر شادی شدہ عورت کے پاس رہنا اورزیادہ سختی سے ممنوع ہے ۔
`Uqba bin `Amir رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Beware of getting, into the houses and meeting women (in seclusion). A person from the Ansar said: Allah's Messenger, what about husband's brother, whereupon he ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Husband's brother is like death.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا , ہمیں لیث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی ، انھوں نے ابو الخیر سے ، انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تم ( اجنبی ) عورتوں کے ہاں جانے سے بچو ۔ انصار میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! دیور/جیٹھ کے متعلق آپ کا کیاخیال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " دیور/جیٹھ تو موت ہے ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Yazid bin Abi Habib with the same chain of transmitters.
ابو الطاہر نے مجھے بتایا, عبداللہ بن وہب نے عمرو بن حارث ، لیث بن سعد اور حیوہ بن شریح وغیرہ سے روایت کی کہ یزید بن ابی حبیب نے انھیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ۔
Ibn Wahb reported:
I heard Laith bin Said as saying: Al-Hamv means the brother of husband or like it from amongst the relatives of the husband, for example, cousin, etc.
ابو الطاہر نے مجھے بتایا, ابن وہب نے کہا
میں نے لیث بن سعد سے سنا ، کہہ رہے تھے : حمو ( دیور/جیٹھ ) خاوند کابھائی ہے یا خاوند کے رشتہ داروں میں اس جیسا رشتہ رکھنے والا ، مثلاً : اس کا چچا زاد وغیرہ ۔
Abdullah bin 'Amr bin al-'As رضی اللہ عنہ reported:
Some persons from Banu Hisham entered the house of Asma' daughter of 'Umais رضی اللہ عنہا when Abu Bakr رضی اللہ عنہ also entered (and she was at that time his wife). He (Abu Bakr رضی اللہ عنہ) saw it and disapproved of it and he made a mention of that to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: I did not see but good only (in my wife). Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Verily Allah has made her immune from all this. Then Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stood on the pulpit and said: After this day no man should enter the house of another person in his absence, but only when he is accompanied by one person or two persons.
ہم سے ہارون بن معروف نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو نے بیان کیا۔ مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن وہب نے عمرو بن حارث کی سند سے بیان کیا کہ ان سے بکر بن سویدہ نے بیان کیا, عبدالرحمن بن جبیر نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے انھیں حدیث سنائی کہ
بنو ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے گھر گئے ، پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے ، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اس وقت ان کے نکاح میں تھیں ۔ انھوں نے ان لوگوں کو دیکھا تو انھیں ناگوارگزرا ۔ انھوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ، ساتھ ہی کہا : میں نے خیر کے سواکچھ نہیں دیکھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے ( بھی ) انھیں ( حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو ) اس سے بری قرار دیا ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا؛ " آج کے بعد کوئی شخص کسی ایسی عورت کے پا س نہ جائے جس کا خاوند گھر پر نہ ہو ، الا یہ کہ اس کے ساتھ ایک یا دو لوگ ہوں ۔ "
Anas رضی اللہ عنہ reported:
When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was in the company of one of his wives a person happened to pass by them. He called him and when he came, he said to him: 0 so and so, she was my such and such wife. Thereupon he said, Allah's Messenger, if I were to doubt at all, I would have entertained no doubt about you at least. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Verily Satan circulates in the body like blood.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا, ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( گھرسے باہر ) اپنی ایک اہلیہ کے ساتھ تھے ، آپ کے پا س سے ایک شخص گزرا تو آپ نے اسے بلالیا ، جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا؛ " اے فلاں!یہ میری فلاں بیوی ہے ۔ " اس شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کسی کے بارے میں گمان کرتا بھی تو آپ کے بارے میں تو نہیں کرسکتا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے ۔ "
Safiyya daughter of Huyyay رضی اللہ عنہا (the wife of Allah's Apostle):
The prophet (ﷺ) was observing I'tikaf and I came to visit him one night. I spoke to him, then I got up to go back, and he got up with me to send me back" Her home was in the house of Usamah bin Zaid رضی اللہ عنہ . Two man of the Ansar passed by, nd when they saw the prophet ﷺ they hurried up. The prophet ﷺ said: "Wait, this is Safiyya bint Huyayy." They said: "Subhan Allah, O Messenger of Allah ﷺ!" He said: "The shaitan flows through man like blood, nd I was afraid that he might instil some evil (or something) in your hearts."
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور عبد بن حمید نے بیان کیا، اور وہ الفاظ میں قریب تھے، کہتے ہیں: ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا, معمر نے زہری سے ، انھوں نے علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے حضرت صفیہ بنت حی ( ام الومنین رضی اللہ عنہا ) سے روایت کی ، کہا
ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے ، میں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کو آئی ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں ، پھر میں لوٹ جانے کو کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے پہنچا دینے کو میرے ساتھ کھڑے ہوئے اور میرا گھر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی مکان میں تھا ۔ راہ میں انصار کے دو آدمی ملے جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ جلدی جلدی چلنے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہرو ، یہ صفیہ بنت حیی ہے ۔ وہ دونوں بولے کہ سبحان اللہ یا رسول اللہ! ( یعنی ہم بھلا آپ پر کوئی بدگمانی کر سکتے ہیں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے بدن میں خون کی طرح پھرتا ہے اور میں ڈرا کہ کہیں تمہارے دل میں برا خیال نہ ڈالے ( اور اس کی وجہ سے تم تباہ ہو ) ۔
This hadith has been reported on the authority of Safiyya رضی اللہ عنہا , the wife of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), through another chain of transmitters (and the words) are:
She went to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) to visit him as he was observing I'tikaf in the mosque during Ramadan. She talked with him for some time and then stood up to go back and Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stood up in order to bid her good-bye. The rest of the hadith is the same except with the variation of the words that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Satan penetrates in man like the penetration of blood (in every part of body).
مجھ سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی نے بیان کیا , شعیب نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے علی بن حسین نے بتایا کہ انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ
وہ رمضان کے آخری عشرے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کے دوران مسجد میں آپ سے ملنے آئیں ، انھوں نے گھڑی بھر آپ سے بات کی ، پھر واپسی کے لئے کھڑی ہوگئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو واپس چھوڑنے کےلیے کھڑی ہوگئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو واپس چھوڑنے کے لئے کھڑے ہوگئے ۔ اس کے بعد ( شعیب نے ) معمر کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شیطان انسان کے اندر وہاں پہنچتا ہے جہاں خون پہنچتاہے ۔ انھوں نے " دوڑتا ہوا " نہیں کہا ۔
Abu Waqid al-Laith رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was sitting in the mosque along wish tome people when there came to him three persons; two of them stepped forward to the direction of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and one of them went away. The two stood by the side of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and one of them found a space in his circle and he sat in that; and the other one sat behind him and the third one went away. When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had finished his work, he said. Should I not inform you about these three persons? One of them sought refuge with Allah and Allah gave him refuge and the second one felt shy and Allah showed kindness to has shyness (and so he was accommodated in that meeting), and the last one reverted and Allah turned away His attention from him.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, امام مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سےروایت کی کہ عقیل بن ابی طالب کے آذاد کردہ غلام ابو مرہ نے انھیں حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، اتنے میں تین آدمی آئے ، دو تو سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ایک چلا گیا ۔ وہ دو جو آئے ان میں سے ایک نے مجلس میں جگہ خالی پائی تو وہ وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا لوگوں کے پیچھے بیٹھا اور تیسرا تو پیٹھ پھیر کر چل دیا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا کیا میں تم سے تین آدمیوں کا حال نہ کہوں؟ ایک نے تو اللہ کے پاس ٹھکانہ لیا تو اللہ نے اس کو جگہ دی اور دوسرے نے ( لوگوں میں گھسنے کی ) شرم کی تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور تیسرے نے منہ پھیرا تو اللہ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا ۔
This hadith has been reported on the authority of Ishaq bin 'Abdullah bin Talha with the same chain of transmitters.
ہم سے احمد بن المنذر نے بیان کیا، ہم سے عبد الصمد نے بیان کیا، کہا ہم سے حرب نے بیان کیا، اور وہ ہم سے ابن شداد نے بیان کیا، مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، ہم سے حبان نے بیان کیا۔ ابان نے ہم سب کو بتایا, یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا کہ اسحٰق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے انھیں اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) having said: None of you should make another one stand in the meeting and then occupy his place.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, لیث نے نا فع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فر ما یا : تم میں سے کو ئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھا ئے کہ پھر وہاں ( خود ) بیٹھ جائے "
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: No person should ask another person to stand at his place and then he should himself sit there, but he should simply say: Make room and accommodate.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابی نے بیان کیا، ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا۔ وہ القطان ہیں اور ہم سے ابن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا، یعنی ثقفی نے، ان سب سے عبید اللہ نے بیان کیا اور ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا۔ اور ہم سے اس کا لفظ محمد بن بشر، ابو اسامہ اور ابن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا:عبید اللہ نے نا فع سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : کو ئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے نہ اٹھا ئے کہ پھر وہاں بیٹھ جائے " ، بلکہ کھلے ہو کر بیٹھو اور وسعت پیدا کرو ۔
A hadith like that of Al-laith (no. 5683) was narrated from Ibn Umar رضی اللہ عنہ , from the prophet ﷺ, but they did not mention in the hadith (the words):
Rather accommodate on other and make room ". In the Hadith of Ibn Juraij it adds: "I said: On Friday and at other time.'"
ابو ربیع اور الکامل نے کہا : ہمیں حماد نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں ایوب نے حدیث سنائی ۔ یحییٰ بن حبیب نے کہا : ہمیں روح نے حدیث سنائی ، محمد را فع نے کہا : ہمیں عبد الرزاق نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( روح اور عبدالرزاق ) نے ابن جریج سے روایت کی ، محمد بن رافع نے کہا : ہمیں ابن ابی فدیک نے حدیث بیان کی ، کہا : ضحاک بن عثمان نے خبر دی ، ان سب ( ایوب ابن جریج اور ضحاک بن عثمان ) نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیث کی حدیث کے مانند روایت کی ، انھوں نے اس حدیث میں
" بلکہ کھلے ہو کر بیٹھو اور وسعت پیدا کرو " کے الفاظ بیان نہیں کیے اور ( ابن رافع نے ) ابن جریج کی حدیث میں یہ اضا فہ کیا : میں نے ان ( ابن بن جریج ) سے پو چھا : جمعہ کے دن ؟ " انھوں نے کہا : جمعہ میں اس اور اس کے علاوہ بھی ۔