It was narrated from Aisha رضی اللہ عنہا , that:
The Messenger of Allah (ﷺ) told Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead the people in prayer. She said: The Prophet was in front of Abu Bakr رضی اللہ عنہ and he prayed sitting down, and Abu Bakr رضی اللہ عنہ was leading the people in prayer, and the people were behind Abu Bakr رضی اللہ عنہ.
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوداؤد نے بیان کیا، کہا: ہم کو شعبہ نے خبر دی، وہ موسیٰ بن ابی عائشہ رضی اللہ عنہ سے کہ میں نے عبید اللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا:ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آگے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھے۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) led us in Zuhr prayer and Abu Bakr رضی اللہ عنہ was behind him. When the Messenger of Allah (ﷺ) said the Takbir, Abu Bakr رضی اللہ عنہ said the Takbir so that the people could hear.
ہم سے عبید اللہ بن فضالہ بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن بن حمید الراویسی نے اپنے والد سے اور ابو الزبیر کی سند سے , جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ اکبر کہتے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی اللہ اکبر کہتے، وہ ہمیں ( آپ کی تکبیر ) سنا رہے تھے۔
It was narrated that Al-Aswad and 'Alqamah said:
We entered upon 'Abdullah رضی اللہ عنہ at midday and he said: 'There will be rulers who would be distracted from praying on time, so pray on time.' Then he stood up and prayed between him and I, and said: 'This is what I saw the Messenger of Allah (ﷺ) do. '
ہم سے محمد بن عبید الکوفی نے محمد بن فضیل کی سند سے، ہارون بن عنترہ کی سند سے، عبدالرحمٰن بن اسود کی سند سے, اسود اور علقمہ دونوں کہتے ہیں کہ
ہم دوپہر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا: عنقریب امراء نماز کے وقت سے غافل ہو جائیں گے، تو تم لوگ نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کرنا، پھر وہ اٹھے اور میرے اور ان کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھائی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ۔
Buraidah bin Sufyin bin Farwah Al-Aslami narrated that a slave of his grandfather who was called Mas'Od said:
The Messenger of Allah (ﷺ) and Abu Bakr رضی اللہ عنہ passed by me and Abu Bakr رضی اللہ عنہ said to me: '0 Mas'ud, go to Abu Tamim' - meaning the man from whom he had been freed - 'and tell him to give us a camel so that we could ride, and let him send us some food and a guide to show us the way.' So I went to my former master and told him the same, and he sent with me a camel and vessels of milk, and I brought them via a secret route. Then the time for prayer came and the Messenger of Allah (ﷺ) stood up and prayed, and Abu Bakr رضی اللہ عنہ stood to his right. I had come to know about Islam and I was with them, so I came and stood behind them. So the Messenger of Allah (ﷺ) pushed Abu Bakr رضی اللہ عنہ on the chest (to make him move backward) and we stood behind him. Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai)said: (This) Buraidah is not a reliable narrator of Hadith.
ہم سے عبدہ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زید بن الحباب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے افلہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے بریدہ بن سفیان بن فروہ اسلمی نے اپنے دادا مسعود نامی غلام کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا
میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ گزرے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: مسعود! تم ابوتمیم یعنی اپنے مالک کے پاس جاؤ، اور ان سے کہو کہ وہ ہمیں سواری کے لیے ایک اونٹ دے دیں، اور ہمارے لیے کچھ زاد راہ اور ایک رہبر بھیج دیں جو ہماری رہنمائی کرے، تو میں نے اپنے مالک کے پاس آ کر انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے میرے ساتھ ایک اونٹ اور ایک کُپّا دودھ بھیجا، میں انہیں لے کر خفیہ راستوں سے چھپ چھپا کر چلا تاکہ کافروں کو پتہ نہ چل سکے، جب نماز کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے دائیں طرف کھڑے ہوئے، ان دونوں کے ساتھ رہ کر میں نے اسلام سیکھ لیا تھا، تو میں آ کر ان دونوں کے پیچھے کھڑا ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سینے پر ہاتھ رکھ کر انہیں پیچھے کی طرف ہٹایا، تو ( وہ آ کر ہم سے مل گئے اور ) ہم دونوں آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ بریدہ بن سفیان حدیث میں قوی نہیں ہیں۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ , that:
His grandmother Mulaikah invited the Messenger of Allah (ﷺ) to come and eat some food that she had prepared for him. Then he said: Get up and I will lead you in prayer. Anas رضی اللہ عنہ said: So I got up and brought a reed mat of ours that had turned black from long use, and spreaded some water on it. The Messenger of Allah (ﷺ) stood and the orphan and I stood in a row behind him, and the old woman stood behind us, and he led us in praying two Rak'ahs, then he left.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے مالک کی سند سے اور اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ان کی دادی ملیکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر مدعو کیا جسے انہوں نے آپ کے لیے تیار کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ کھایا، پھر فرمایا: اٹھو تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں اٹھ کر اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا جو کافی دنوں سے پڑی رہنے کی وجہ سے کالی ہو گئی تھی، میں نے اس پر پانی چھڑکا، اور اسے آپ کے پاس لا کر بچھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، اور بڑھیا ہمارے پیچھے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر واپس تشریف لے گئے۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon us and the only people present were myself, my mother, the orphan and Umm Harh, my maternal aunt. He said: 'Stand up and I will lead you in prayer.' It was not the time for a (prescribed) prayer. And he led us in prayer.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے سلیمان بن المغیرہ کی سند سے ثابت کی سند سے خبر دی, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، اور اس وقت وہاں صرف میں، میری ماں، ایک یتیم، اور میری خالہ ام حرام تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھو تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں ، ( یہ کسی نماز کا وقت نہ تھا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
He and the Messenger of Allah (ﷺ) and his mother, and his maternal aunt (were together). The Messenger of Allah (ﷺ) prayed, and he told Anas رضی اللہ عنہ to stand on his right and his mother and maternal aunt behind them.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا: میں نے عبداللہ بن مختار کو موسیٰ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، اور ان کی ماں اور ان کی خالہ تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، آپ نے انس رضی اللہ عنہ کو اپنی دائیں جانب کھڑا کیا، اور ان کی ماں اور خالہ دونوں کو اپنے اور انس رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا کیا۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم said:
It was narrated that Ibn 'Abbas said: I prayed beside the Prophet (ﷺ) and Ayesha رضی اللہ عنہا was behind us praying with us, and I was beside the Prophet (ﷺ) praying with him.
ہم سے محمد بن اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا کہ ابن جریج نے کہا: مجھ سے زیاد نے بیان کیا کہ عبد قیس کے آزاد کردہ غلام قزعہ نے ان سے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس کے آزاد کردہ غلام عکرمہ کو یہ کہتے سنا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں نماز پڑھی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے ساتھ ہمارے پیچھے نماز پڑھ رہی تھیں، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) led me and a woman from my family in prayer. He made me to stand on his right and the woman to stand behind us.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے، عبداللہ بن مختار کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور میرے گھر کی ایک عورت کو نماز پڑھائی، تو آپ نے مجھے اپنی داہنی جانب کھڑا کیا، اور عورت ہمارے پیچھے تھی۔
It was narrated that Ibn Abbas رضی اللہ عنہم said:
I stayed overnight with my maternal aunt Maimunah رضی اللہ عنہا , and the Messenger of Allah (ﷺ) got up to pray at night. I stood on his left, so he did this to me: He took me by the head and made me stand on his right.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن علیہ نے ایوب کی سند سے، عبداللہ بن سعید بن جبیر نے اپنے والد سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ اس طرح کیا یعنی آپ نے میرا سر پکڑ کر مجھے اپنی داہنی جانب کھڑا کر لیا۔
It was narrated that Abu Mas'ud رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to gently pat our shoulders (to make sure the row was straight) at the time of prayer, and he-would say:'Keep (the rows) straight; do not differ from one another lest your hearts would be afflicted with discord. Let those who are mature and wise stand closest to me, then those who are next to them, then those who are next to them. ' Abu Mas'ud رضی اللہ عنہ said: Today, there is much disharmony among you. ,Abu 'Abdur-Rabin (An-Nasai)said: (One of the narrators) Abu Ma'mar's name is 'Abdullah bin Sakhbarah.
ہم سے ہناد بن السری نے ابو معاویہ کی سند سے، العمش کی سند سے، عمیرہ بن عمیر کی سند سے، ابو معمر کی سند سے, ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ( صف بندی کے وقت ) ہمارے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے، اور فرماتے: تم آگے پیچھے نہ کھڑے ہو کہ تمہارے دلوں میں پھوٹ پڑ جائے، اور تم میں سے ہوش مند اور باشعور لوگ مجھ سے قریب رہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ( اس وصف میں ) ان سے قریب ہو ، ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی بنا پر تم میں آج اختلافات زیادہ ہیں۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ابومعمر کا نام عبداللہ بن سخبرہ ہے۔
It was narrated that Qais bin 'Ubad said:
While I was in the Masjid in the first row, a man pulled me from behind and moved me aside, and took my place. By Allah, I could not focus on my prayer, then when he left I saw that it was Ubayy bin Ka'b رضی اللہ عنہ . He said: 'O boy, may Allah protect you from harm. This is what the Prophet instructed us to do, to stand directly behind him.' Then he (Ubayy) turned to face the Qiblah and said: 'Doomed are Ah1 Al-'Uqd, by the Lord of the Ka'bah! - three times. 'Then he said: 'By Allah, I am not sad for them, but I am sad for the people whom they have misled.' I said: '0 Abu Ya'qub, what do you mean by Ah1 Al-'Uqd?' He said: 'The rulers. '
ہم سے محمد بن عمر بن علی بن مقدم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یوسف بن یعقوب نے بیان کیا، کہا: مجھ سے التیمی نے ابومجلز کی سند سے بیان کیا, قیس بن عباد کہتے ہیں کہ
میں مسجد میں اگلی صف میں تھا کہ اسی دوران مجھے میرے پیچھے سے ایک شخص نے زور سے کھینچا، اور مجھے ہٹا کر میری جگہ خود کھڑا ہو گیا، تو قسم اللہ کی غصہ کے مارے مجھے اپنی نماز کا ہوش نہیں رہا، جب وہ ( سلام پھیر کر ) پلٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں تو انہوں نے مجھے مخاطب کر کے کہا: اے نوجوان! اللہ تجھے رنج و مصیبت سے بچائے! حقیقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا میثاق ( عہد ) ہے کہ ہم ان سے قریب رہیں، پھر وہ قبلہ رخ ہوئے، اور انہوں نے تین بار کہا: رب کعبہ کی قسم! تباہ ہو گئے اہل عقد، پھر انہوں نے کہا: لیکن ہمیں ان پر غم نہیں ہے، بلکہ غم ان پر ہے جو بھٹک گئے ہیں، میں نے پوچھا: اے ابو یعقوب! اہل عقد سے آپ کا کیا مطلب؟ تو انہوں نے کہا: امراء ( حکام ) مراد ہیں۔
Abu Salamah bin 'Abdur Rahman narrated that he heard Abu Hurairah رضی اللہ عنہ say:
The Iqamah for prayer was said, and we stood up and the rows were straightened, before the Messenger of Allah (ﷺ) came out to us. Then the Messenger of Allah (ﷺ) came to us and stood in the place where he prayed, before he said the Takbir he paused and said to us: 'Stay where you are.' So we stayed there, waiting for him, until he came out to us; he had performed Ghusl and his head was dripping with water. Then he said the Takbir and prayed.
ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا: ہم کو ابن وہب نے یونس کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو ہم کھڑے ہوئے، اور صفیں اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلیں درست کر لی گئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے یہاں تک کہ جب آپ اپنی نماز پڑھانے کی جگہ پر آ کر کھڑے ہو گئے تو اس سے پہلے کہ کے آپ تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہیں ہماری طرف پلٹے، اور فرمایا: تم لوگ اپنی جگہوں پہ رہو ، تو ہم برابر کھڑے آپ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ہماری طرف آئے، آپ غسل کئے ہوئے تھے، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، تو آپ نے تکبیر ( تحریمہ ) کہی، اور صلاۃ پڑھائی۔
It was narrated that An-Numan bin Bashir رضی اللہ عنہم said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to straighten the rows like shaft of an arrow is straightened before the head is attached to it. He saw a man whose chest was sticking out from the row. I saw the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Make your rows straight or Allah will cause your faces to be deformed.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہمیں ابو الاحوص نے سماک کی سند سے خبر دی, نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیں درست فرماتے تھے جیسے تیر درست کئے جاتے ہیں، آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا تھا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم اپنی صفیں ضرور درست کر لیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فر مادے گا ۔
It was narrated that Al-Bara bin Azib رضی اللہ عنہم said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to go between the rows from one side to another, patting our shoulders and chests and saying: 'Do not make your rows ragged or your hearts will be filled with enmity toward one another.' And he used to say: 'Allah and His angels send Salah upon the front rows. '
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو الاحوص نے منصور کی سند سے، طلحہ بن مصرف کی سند سے، عبدالرحمٰن بن عوسجہ کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کندھوں اور سینوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے صفوں کے بیچ میں سے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جاتے، اور فرماتے: اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں نیز فرماتے: اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں ۔
It was narrated that Abu Mas'ad Al-Ansari رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to gently pat our shoulders (to make sure the row was straight) at the time of prayer, and he would say: 'Keep (the rows) straight; do not differ from one another lest your hearts should suffer from discord. Let those who are mature and wise stand closest to me, then those who are next to them, then those who are next to them. '
ہم سے بشر بن خالد العسکری نے بیان کیا، کہا: ہم سے غندر نے شعبہ کی سند سے، سلیمان کی سند سے، عمارہ بن عمیر کی سند سے، ابو معمر نے, ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مونڈھوں پہ ہاتھ پھیرتے اور فرماتے: صفیں سیدھی رکھو، اختلاف نہ کرو ۲؎ ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف پیدا ہو جائے گا، اور تم میں سے جو ہوش مند اور باشعور ہوں مجھ سے قریب رہیں، پھر ( اس وصف میں ) وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں ۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) used to say: Make your rows straight, make your rows straight, make your rows straight. By the One in Whose Hand is my soul! I can see you behind me as I can see you in front of me.
ہم سے ابوبکر بن نافع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بہز بن اسد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن سلمہ نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: برابر ہو جاؤ، برابر ہو جاؤ، برابر ہو جاؤ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح تمہیں اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں ۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) turned to face us when he stood up to pray, before he said the Takbir and said: 'Make your rows straight and come close to one another, for I can see you behind my back.'
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، انہیں اسماعیل نے حمید کی سند سے خبر دی, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ہماری طرف متوجہ ہوتے، اور اللہ اکبر کہنے سے پہلے فرماتے: تم اپنی صفیں درست کر لو، اور سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہو جاؤ، کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔
Anas رضی اللہ عنہ narrated that:
The Prophet (ﷺ) said: Make your rows solid and close together, and keep your necks in line. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad! I can see the shaitan entering through the gaps in the rows as if they are small sheep.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن المبارک المخرمی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو ہشام نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابان نے بیان کیا، کہا: ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا: قتادہ کہتے ہیں کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی صفیں سیسہ پلائی دیوار کی طرح درست کر لو، اور انہیں ایک دوسرے کے نزدیک رکھو، اور گردنیں ایک دوسرے کے بالمقابل رکھو کیونکہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں شیاطین کو صف کے درمیان ۱؎ گھستے ہوئے دیکھتا ہوں جیسے وہ بکری کے کالے بچے ہوں ۔
It was narrated that Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us and said:'Will you not form rows as the angels form rows before their Lord? They said: 'How do the angels form rows before their lord? He said: 'They complete the first row and fill the gaps in the rows. '
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے الفضیل بن عیاض نے الاعمش کی سند سے، مسیب بن رافع نے تمیم بن طرفہ کی سند سے بیان کیا, جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: کیا تم لوگ صف نہیں باندھو گے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس باندھتے ہیں ، لوگوں نے پوچھا: فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صف باندھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں، پھر وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔